Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 15

Ayra by Aneeta

میرا سالا کیا کر رہا ہے اج کا کل۔۔۔۔

کبھ نہ ہونے والا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے دل میں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے اپنا روم لاک کیا اور اتے ہی اس سے سوال کیا۔۔۔

اس نے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا اور شرٹ کے اوپر والے بٹن کھولیں۔۔۔۔۔

تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔۔

ملیحہ نے حیرانگی سے اخل کی طرف دیکھا۔۔۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔

ملیحہ کو جان کے لالے پڑ گئے تھے کہ کہیں اس کو کچھ پتہ تو نہیں لگا۔۔۔۔۔۔

وہ صوفے پر بیٹھا ہی تھا کہ ملیحہ اس کے پاس ائی۔۔۔

کتنے دن ہو گئے ہم نے اچھا ٹائم سپینڈ نہیں کیا۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اخل کے گلے میں ہار بنا کے ڈالے۔۔۔۔۔

جو پوچھا ہے وہ بتاؤ اس کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے اس نے رخ دوسری طرف کیا۔۔۔۔۔۔

وہ افس ہوتے ہیں مجھے کیا پتہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔

تم یہ سوال مجھ سے کیوں کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھی اور اس کے کمرے میں پڑی ایک چھوٹی سی فرج کے۔پاس گئی۔۔۔۔

وہ اس میں وائن رکھتا تھا اس کی سبھی گرل فرینڈز جانتی تھی۔۔۔

پر ائرہ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔

اخل خود اگے بڑھ اور سب سے تیز وائن کی بوتل باہر نکالی۔۔۔

وہ اس کے منہ سے سچ نکلوانا چاہتا تھا۔۔۔۔

اس نے دو پیک بنائے ایک اسے دیا اور ایک خود پیا۔۔۔

دروازہ وہ لاک کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ ٹن ہو چکی تھی۔۔ ۔

اخل بھی تھوڑا نشے میں جا چکا تھا لیکن اسے اپنا مشن یاد تھا۔۔۔۔

ائی لو یو سو مچ اس نے باہے اس کی گردن میں ڈالی۔۔۔

ائی لو یو ٹو اخل نے اس کے ہونٹوں کو قید کرتے ہوئے کہا۔۔

اور شدت سے بھرپور لمس چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔۔

تمہارا بھائی ائرہ کی انفارمیشن کیوں اکٹھی کر رہا ہے۔۔۔۔

اس نے کاندھے سے اس کی شرٹ سر کاتے ہوئے پوچھا ۔۔۔

وہ پسند کرتا ہے اسے۔۔۔۔۔۔

اور اسے پانے کے لیے سب کچھ کرے گا۔۔۔

وہ لڑکی تمہیں مجھ سے دور نہیں کر سکتی۔۔۔۔

اخل کو شدید غصہ ایا تھا۔۔

پر وہ نشے میں پوری طرح سے ٹن ہو چکا تھا۔۔۔۔۔

اس نے دو تین سوال پوچھے تھے لیکن ملیحہ پوری طرح سے ٹن ہو چکی تھی۔وہ جواب دیے بغیر اس کے لبوں پہ جھکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

____

یہ ابھی تک نہیں اٹھا۔۔۔۔

کیا اسے افس نہیں جانا۔۔۔

ائرہ کو تقریبا اٹھے ہوئے کافی ٹائم ہو گیا تھا۔۔۔

وہ ٹہلتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔۔۔

میرا موبائل اسے موبائل کی ٹینشن تھی جو ابھی بھی اس کے پاس تھا۔۔۔

تھوڑی دیر میں اس کے روم کے پاس ائی اس نے دروازہ لاک کیا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

وہ بالکل بھی نہیں جانتی تھی کہ ملیحہ بھی ہے۔۔۔

اس نے دوسری دفعہ لاک کرنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ملیحہ نے دروازہ کھول دیا وہ اچھے سے جانتی تھی کہ ائرہ ہی ہوگی۔۔۔۔۔

وہ اسے جیلس کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

ملیحہ۔۔۔۔

ائرہ بالکل بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کمرے میں ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔

ایم سوری مجھے نہیں پتہ تھا۔۔۔۔۔

مجھے موبائل لینا تھا میرا وہ اخل کے پاس ہے۔۔۔۔

اسے سچ میں اچھا نہیں لگا تھا ایسے منہ اٹھا کے ا جانا۔۔

ارے شرمندگی کی کیا بات ہے۔۔۔۔

اجاؤ اندر ۔۔

وہ اسے اندر کا ماحول دکھانا چاہتی تھی۔وہ دکھانا چاہتی تھی کہ وہ اس کے کتنا قریب ہے۔۔۔۔۔۔

اس کے بہت اصرار کرنے پر وہ اندر ائی تھی۔۔۔۔۔۔

اخل فریش ہو کے نکلا ہی تھا۔۔۔

کمرے میں وائن پڑی تھی۔چیزیں بکھری ہوئی تھی۔۔۔

اخل اچھا خاصا شرمندہ ہوا تھا۔۔۔

وہ نظریں اس سے چرا رہا تھا۔اس نے وعدہ کیا تھا اس سے کہ وہ نہیں ٹچ کرے گا وائن کو کبھی۔۔ ۔

اور اس سے زیادہ شرمندہ تو ائرہ ہوئی تھی اس طرح ان کے کمرے میں انے سے۔۔۔

پر اسے غصہ بھی تھا۔۔۔۔۔۔

میرا موبائل اس نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔۔

ہاں موبائل۔۔۔۔۔

اس نے ڈرا سے موبائل نکال کر اسے دیا۔۔۔

ملیحہ کو تو وہ جوتی کی نوک پر رکھتا تھا۔..

اسے اس کی کیا پرواہ تھی۔اور ابھی کے لیے وہ اچھا خاصا غصہ تھا اس پہ۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی چاہتا تو اسے باہر نکال سکتا تھا۔۔۔۔۔

لیکن پھر ائرہ کو کیا ایکسپلین کرتا۔کہ وہ تو اسے بگڑا ہوا ہی سمجھتی۔۔۔۔

ناشتہ کیا۔۔۔۔۔

موبائل اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔۔

لہجے میں فکر واضح تھی۔۔۔۔

ہاں کر لیا۔۔۔

اس نے جلدی سے موبائل لیا اور باہر کی طرف بھاگی۔۔۔

اخل نے غصے بڑی نگاہ سے ملیحہ کو دیکھا۔۔۔

کس کی اجازت سے تم نے دروازہ کھولا تھا۔۔۔۔۔

مسئلہ کیا ہے تمہارا۔۔۔۔۔

رات والی بارے بھی اس کے دماغ میں تھی ۔۔ ۔۔

وہ اچھے سے سمجھ چکا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر دروازہ کھولا ہے۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے قریب جا رہا تھا اور وہ جا کر دیوار کے ساتھ لگی۔۔۔۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہاری بات کا کیوں نہ کھولتی میں دروازہ

وہ سب جانتی ہے ہمارے ریلیشن کے بارے میں۔ ۔۔

اخل کو شدید غصہ تھا۔۔۔۔۔

یہاں سے دفع ہو جاؤ ابھی اور اسی وقت دفع ہو جاؤ۔۔۔۔

اس بات کا کیا مطلب ہے تم نے رات میرے ساتھ گزاری ہے۔

اور اب۔۔۔۔۔۔

میں نے زبردستی نہیں کی تم سے اپنی مرضی سے سب تم نے۔۔۔۔۔

دیکھو ابھی میرا دماغ بہت خراب ہے یہاں سے جاؤ۔۔۔

ملیحہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔پھر صوفے سے اپنا ٹاپ اٹھایا۔اور اسے پہنا۔۔۔۔۔

اس کی انکھ میں انسو تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تھوڑی دیر میں اس کے کمرے کو چھوڑ چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

پر وہ شدید غصے میں اور غم میں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

_____

ایسے نہیں جانا چاہیے تھاائرہ تمہیں۔۔۔۔۔۔

اخل پتہ نہیں کیا سوچے گا میرے بارے میں میں تو اس کے سر پہ ہی سوار ہو گئی۔۔۔۔۔۔

پر اس نے بھی جھوتا وعدہ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ خود سے ہی باتیں کیے جا رہی تھی۔۔۔۔۔

اسے قدموں کی اہٹ سنائی دی تو اس نے پیچھے دیکھا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

وہ جو لون میں چیئر پر بیٹھی تھی اٹھتے ہوئے اس کے پاس ائی۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔ائرہ نے دونوں ہاتھ اس کے بازو پہ رکھے۔۔۔

اخل کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوری کس لیے ۔۔۔

اسے لگا تھا وہ حفا ہو گی ۔۔۔۔

مجھے ایسے نہیں انا چاہیے تھا۔۔۔۔۔

اخل اس سے کیا ایکسپلین کرے۔۔۔۔۔۔

وہ پزل تھا بہت زیادہ۔۔۔۔۔۔

ایسے نہیں ایکسیپٹ ہوگی سوری۔۔۔۔

تو پھر وہ چلتے ہوئے لون میں ایا اور صوفے پر بیٹھا وہ بھی چلتے چلتے اس کے پیچھے ائی اور اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔

اخل نے اسے ہاتھ سے اگے کیا۔۔۔

اخل نے وائٹ شرٹ میں پہنی تھی ۔۔

نیچے بلوچینز۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے بے بی پنک کلر کا شارٹ شارٹ فراک پہنا تھا۔۔۔۔

وہ اس کی قربت سے خوفزدہ نہیں ہوتی تھی وہ خوشی خوشی ہو گئی ۔۔۔

اب سزا کیا دوں تمہیں میں۔۔۔۔۔

اس نے غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔اور ہاتھ میں پکڑے گلاس کو ٹیبل پہ رکھا۔۔۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل بیٹھے ہوئے تھے رخ ایک دوسرے کی طرف تھا۔۔۔

ویسے میری غلط اتنی بڑی بھی نہیں ہے۔

اور۔۔۔۔

وہ چپ ہو گئی تھی۔۔۔

بولو اس نے پھر سے جوس کا گلاس اٹھایا۔۔

تم نے مجھ سے کچھ پرومس کیا تھا۔۔۔۔

وہ اچھے سے سمجھ گیا تھا اس کا اشارہ کس طرف ہے۔

کیا لیکن وہ انجان بنا رہا ۔۔۔۔۔۔

وائن تم نے پھر سے۔۔۔۔

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اخل نے اسے روکا۔۔

وہ ہ اس کے منہ سے وائن بھی نہیں سننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

اس نے جوس کا گلاس منہ کے ساتھ لگا لیا تھا۔تاکہ تھوڑی دیر سوچ سکے کہ اسے جواب کیا دینا ہے۔۔۔

وہ بھی سوچتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔

چلو ٹھیک ہے دونوں نے غلطی کی ہے پہلے میں سزا دیتا ہوں پھر تم دے لینا۔۔۔

وعدہ خلافی کو غلطی کہہ رہے ہو۔۔۔۔

اخل۔وہ تھوڑا افسردہ ہوئی۔۔۔۔۔۔

اوکے تو پہلے تم دے لو۔یار پر یہ برا سا منہ نہ بناؤ۔۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

وہ وائن والی بات پہ سچ میں حفا تھی۔پر اخل اسے ایسے اگنور کر رہا تھا تو اس نے بھی جانے دیا

تمہاری سزا یہ ہے اخل۔۔۔۔

وہ سوچ میں پڑ گئی تھی کہ اسے سزا کیا دے۔۔۔۔

ہممممممم۔۔

تمہاری سزا تم مجھے جاب کی اجازت دے دو۔۔۔

ائرہ۔یہ بات اس کے ذہن سے نکل گئی تھی۔ائرہ نے موقع کا اچھے سے فائد اٹھا لیا تھا۔۔۔۔

اخل کہ ذہن میں یہ بات نکل گئی تھی۔

اب وہ بری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔۔

دیکھو تمہیں ماننی پڑے گی۔

ائرہ تم بھی نہ۔۔

پر پھر یاد رکھنا میں اپنی باری بھی اچھے سے لوں گا۔ ۔

تو اس نے اس کی بات پہ حامی بھر لی۔۔۔۔۔۔۔

اب میری باری ائرہ۔۔۔۔۔

اس نے اس کا رخ پھر سے اپنی طرف کیا اور تھوڑا قریب کیا۔۔ ۔۔

ہاں اب تمہاری باری۔۔۔۔۔

وہ اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔اس کے پاس بس ایک ہی چانس تھا۔میں سوچ کے بتاؤں گا۔ ۔۔۔۔۔

وہ جو اس سے مانگنا چاہتا تھا اسے ڈر بھی تھا کہ وہ برا نہ مان جائے۔۔۔۔

کیوں ابھی کیا ہے۔۔۔۔۔۔

یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔

بہت جلدی ہے سزا لینے کی۔بہت سخت ہے میری سزا یاد رکھنا۔۔۔۔۔

لیکن فلحال کے لیے ادھر آؤ وہ اٹھا تھا اور اسے بھی ہاتھ سے کھڑا کیا تھا۔۔۔۔۔

کہاں۔۔۔۔

اؤ تو بتاتا ہوں وہ اپنے ساتھ اسے اندر لے کر گیا۔۔۔۔۔

کیا ہے میرے کمرے میں وہ اس کے کمرے میں لے کے ایا تھا۔۔۔۔

تمہیں اج کا دن یہیں گزارنا پڑے گا ۔۔۔

کیا یہ میری سزا ہے اس نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔۔

نہیں نہیں سزا اتنی ہلکی تھوڑی دوں گا۔۔۔۔

تو پھر میں اس روم میں کیوں رہوں گی سارا دن وہ ایک دم سے باہر ائی تھی۔۔۔

کہا نا یہی رہو گی اس نے پھر سے اسے لاک کر دیا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔

___

بھائی اخل کو شک ہو گیا ہے اپ کو میری بات پہ یقین کرنا چاہیے۔۔۔

اور اس لڑکی نے اسے اپنا دیوانہ بنا دیا ہے۔۔۔۔

میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی اس نے پاس پڑھے شیشے کے گلاسوں کو نیچے گریا۔۔۔۔

پلیز کسی بھی طرح اسے میرا کر دے۔۔۔

ہوا کیا ہے مجھے یہ بتاؤ مہروج چلایا تھا۔۔۔

تم نے ائرہ کو نہیں کہا کچھ۔۔۔۔

ہاں نہیں کہا میں نے کیونکہ جب میں گئی تھی وہ سو چکی تھی۔۔۔۔

اخل نے اسے اپنے ساتھ کیوں رکھا ہوا ہے۔۔۔

میں نہیں جانتی بس کسی بھی طرح اسے اخل کی زندگی سے دفع کرنا ہوگا آپ کو وہ روئے جا رہی تھی۔۔۔۔

اخل نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ کہتے کہتے رکی اور غصے سے کمرے میں چلی گئی

___

&&&&&&&&&&&

تقریبا دن سے رات ہو گئی تھی ائرہ اپنے کمرے میں ہی تھی۔

اخل نے اسے کمرے میں ہی کھانا وغیرہ دیا تھا لیکن اسے باہر نہیں نکلنے دیا تھا۔۔۔۔

اب تقریبا رات کے 10 بجے تھے جب وہ اس کے کمرے میں ایا تھا۔۔۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے وہ بیڈ سے اٹھی تھی۔۔۔۔۔

اس کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

تم نے سارا دن مجھے قید رکھا اور میری سزا بس یہی تھی اب اور کوئی سزا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔

مائی ڈیئر یہ سزا نہیں تھی۔۔۔۔۔

سزا تو پیار بھری ہوگی نہ۔۔۔۔

مطلب۔اسے سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔

اب باہر اؤ سرپرائز ہے۔مطلب بھی سمجھ دو گا ۔۔۔۔۔۔۔

سرپرائز اس نے حیرانگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔

اس نے اس کی انکھوں پہ کپڑا باندھا اور اسے باہر لے کے ایا۔

اس کے روم کے بالکل ساتھ والے روم میں ۔۔۔۔۔

اب اس نے اس کی انکھوں سے پٹی کھولی تھی۔۔۔۔۔

لیکن اگے کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گئی تھی۔۔۔۔۔

وہ روم پورا ڈیکوریٹ ہوا تھا۔۔۔۔۔

اخل نے کیکس وغیرہ بنانے کے لیے وہ روم اس کے لیے ڈکوریٹ کیا تھا۔۔۔۔

دنیا جہان کی ہر وہ چیز موجود تھی جو کیک بنانے میں استعمال ہوتی تھی۔اون میکرو اون۔ڈیکوریشن کے لیے ہر چیز۔ہر سائز کے سانچے۔اور ہر چیز پنک کلر میں تھی۔۔۔

۔دیواروں پہ کیکس ڈونرز کی پکس۔مڈ میں پنک کلر کا ہی ایک شیڈ بنایا تھا۔۔۔۔

ائرہ بیکس کے نام سے ڈبے تھے ان کے اوپر لوگو بنا تھا۔۔۔۔

دیوروں پہ بھی ائرہ بکس لکھا تھا۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔

اس نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

یہ تو خوابوں جیسا ہے۔۔۔۔۔

اس کی معصومیت پہ وہ ہنسا تھا۔۔۔

تم بھی پڑیوں سے کم نہیں۔۔۔۔

وہ اس کی قربت کو پتہ نہیں کیسے نظر انداز کر رہا تھا۔۔۔

اپنا اپ کھونے کا ڈر تھا اسے۔۔۔۔۔۔

تو کیسا لگا میرا چھوٹا سا سرپرائز۔۔ ۔۔

یہ چھوٹا نہیں یہ بہت بڑا ہے وہ اس سے دور ہوئی اور کمرے میں ٹہلنے لگی وہ ہر چیز کو ہاتھ لگا رہی تھی اور ہاتھ لگا کے دیکھ رہی تھی کہ کیا یہ سچ ہے یا سپنا ہے۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

تم جانتے ہو میں ہمیشہ سے خواب دیکھتی تھی۔۔۔۔

کہ میں ایک پروفیشنل بھکر بن جاؤ۔۔۔۔

میرے پاس بھی اوروں کی طرح لاگو ہو ایسے ڈبے ہوں وہ ہر چیز اسے اٹھا کر دکھا رہی تھی۔۔۔۔۔

اور ایسا کمرہ ہو۔۔۔۔۔

لیکن میں جانتی تھی یہ کبھی بھی پاسیبل نہیں ہے۔۔۔۔

ایسا کیوں۔

اگر پاسیبل نہیں ہوتا تو اللہ کبھی یہ خواب تمہارے دل و دماغ میں ہی نہیں ڈالتا۔۔۔۔۔

اور تم تو اس سے کہیں زیادہ ڈیزرو کرتی ہو۔۔۔۔

تھینک یو وہ پھر سے اس کے پاس ائی

میں کھانا لگاتا ہوں کھانا کھانے کے بعد تم اپنی سزا کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔

ایسی کون سے سزا ہے جو تم مجھے کھانا کھانے کے بعد دینے والے ہو۔۔۔

کیا میں تمہارے لیے کیک بناؤں۔

اب تم سزا سے بھاگ رہی ہو۔۔

نہیں نہ صبح سزا دینا۔اس نے اپنا رخ بدلا اور پھر سے چیزوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

یہ چیٹنگ میرے ساتھ نہیں چلے گی۔۔۔

اخل نے اسے بازؤ سے پکڑ کر اپنی طرف کیا۔۔

سب سے پہلے کھانا۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں ان دونوں نے کھانا کھایا اور وہ دونوں ٹی وی لانچ میں بیٹھے موی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

اخل کے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا۔ائرہ کے کہ بھی ہاتھ میں تھا لیکن پی نہیں رہی تھی۔۔۔۔

اب میری باری۔۔۔۔۔

اخل نے اسے یاد دلاتے ہوئے کافی کا ایک شپ لیا۔۔۔۔

وہ اس کے بازو پہ سر رکھ کے لیٹنے کے سٹائل میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

ہاں ۔۔۔اس نے بھی نارملی جواب دیا۔۔۔

مجھے۔۔۔۔

اخل تھوڑا رکا تھا۔۔۔۔۔

ایک نظر پھر اسے دیکھا۔۔۔۔

مجھے کس چاہیے۔۔۔۔

ائرہ جو کافی کا کپ ٹیبل پہ رکھنے کے لیے جھکی تھی۔ایک دم سیدھی ہوئی۔۔۔۔

ک۔۔کیا۔۔۔۔

کس۔اسے لگا شاید اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔ ۔

اخل نے بول تو دیا تھا پر اب اچھا خاصا پزل ہوا تھا۔۔۔۔

اس نے کافی کا ایک شپ لیا۔۔۔۔۔۔

ائی وانٹ کس ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پر ہمت کر کے اس نے پھر سے بولا۔وہ یہ موقع کیسے گروا سکتا تھا۔۔۔

اخل۔۔۔

ائرہ نے پاس پڑھا کشن زور سے اسے مارا۔۔۔۔۔

تمہارا یہ ٹھرک پن کب جائے گا۔۔۔۔۔

اب کوئی نہیں ملی تو میرے ساتھ شروع ہو گئے۔۔۔۔

اسے سچ میں کس چاہیے تھی۔۔۔۔۔۔

کیا فرینڈز کس نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔

نہیں۔

۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہے ۔۔۔۔۔

اب مجھے غصہ ا جائے گا۔۔۔۔۔۔

اس نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔

میں سونے جا رہی ہوں۔۔۔۔

ائرہ اس کی بات کو سیریس نہیں لے رہی تھی۔وہ اچھے سے جانتی تھی اس کے ٹھرک پن کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تم اپنی بات سے منکر رہی ہو۔ائرہ۔۔۔۔