Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 19
Ayra by Aneeta
تھوڑی دیر میں وہ لڑکیاں دروازہ بند کر کے باہر جا چکی تھی۔
سامنے ٹیبل پہ وائن کی بوتل پڑی تھی ساتھ میں دو گلاس۔
اور ساتھ ہی جگ میں جوس اور کچھ فروٹس پڑے تھے۔۔۔۔۔
ائرہ ڈری سہمی جا کر کمرے کے ایک کونے میں کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
ذہن میں عجیب وسوسے تھے۔۔۔۔
وہ احتجاج کرے بھی تو کیسے وہ خود ہی ائی تھی۔۔۔۔
دونوں سائیڈ سے فراک کو مٹھیوں میں جکڑا ہوا تھا اس نے۔۔۔
اسے اپنی عزت بہن کی عزت سے زیادہ عزیز نہیں تھی۔
وہ اسے اس گندی دنیا میں نہیں لانا چاہتی تھی۔۔
اس نے ماں بن کر اس کی پرورش کی تھی۔۔۔۔۔
ماں کے جانے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔اس کے قدموں کی اہٹ وہ ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے اس کے دل پہ چل رہے ہو۔۔۔۔
قدموں کی ٹھک ٹھک کے ساتھ ہی اس کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہونا شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔
کمرے میں اتے ہی اس نے دو گلاس بڑے۔ائرہ کو اندازہ تھا کہ وہ وائن بڑ رہا ہے۔۔۔
وہ اور ڈر گئی تھی۔۔۔
اس کا دل بری طرح کانپ رہا تھا دعائیں مانگ رہی تھی۔۔۔۔
یا اللہ مدد کر۔۔۔۔۔
گلاس بڑھتے ہی وہ اس کی طرف بڑا ۔۔۔۔
ائرہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
میں کچھ نہیں کرو گی۔دل کی بات زبان تک ائی۔۔۔۔
وہ پیچھے پلٹی ہی تھی۔۔۔۔۔
کہ سامنے والے منظر نے اسے حیران کر دیا۔۔۔۔۔۔
وہ اخل تھا۔۔۔۔۔۔
اخل وہ ایک دم سے اگے ائی۔۔۔۔
محروج کا انتظار تھا کیا۔۔۔۔۔۔
وہ مسکرایا تھا۔۔۔۔۔
اس سے ملنے کے لیے اب تمہیں دوزخ کا رخ کرنا پڑے گا۔۔۔
جوس کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے اس نے کہا چہرہ بلش کر رہا تھا۔ہلکا سا ڈمپل رونما ہو رہا تھا چہرے پہ۔۔
تم۔۔۔۔۔۔۔اس نے جوس کا گلاس اس کے ہاتھ سے لیا اور بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔جو تھوڑے ہی فاصلے پہ پڑا تھا۔
اتنا لا پروا سمجھاتی ہو۔۔۔۔۔
جوس کا ایک شپ لیتے ہوئے وہ اس سنگل صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
وہ بھی اپنے معاملے میں۔۔۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے ایک اور شپ لیا جوس کا۔۔۔۔
ائرہ کو تو جسے نئی زندگی مل گئی ہو ۔۔۔۔۔
تم نے کیا کیا اس کے ساتھ۔۔۔۔۔
کیوں دکھ ہو رہا ہے اتنی رومینٹک نائٹ خراب کر دی۔
اس نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
لفظ کو کھینچتے ہوئے وہ سائیڈ ٹیبل پر بیٹھنے لگی تھی۔۔
کیونکہ وہاں اور کوئی جگہ نہیں تھے بیٹھنے کی صوفے پہ ا خل تھا ۔۔۔۔۔۔
کے اخل نے اس کو پکڑا اور گلاس ٹیبل پہ رکھا۔۔۔۔
مجھے یہاں جوس رکھنا ہے تم یہاں بیٹھو نا۔اخل نے اسے صوفے کی نکر پہ بٹھایا۔۔۔۔
جو صرف ایک بہانہ تھا اسے پاس بٹھانے کا۔۔۔
نہ۔۔۔۔۔نہیں یہ کیا کر رہے ہو۔اس نے احتجاج کرتے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کیا اس پہ۔۔۔۔۔۔۔
ارے۔۔۔۔۔۔اخل نے بھی زبردستی بٹھانے کی پوری کوشش کی تھی۔۔۔۔
کہ اسی افرا تفری میں وہ جوس کا گلاس نیچے گر گیا۔۔۔
ائرہ اب اس کے مقابل کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔
تم اس سے زیادہ گھٹیا ہو۔
یہ کیا کیا تم نے پینا تھا مجھے۔۔۔
اخل نے زمین پہ دیکھتے ہوئے کہا جہاں پہ جوس بکھرا ہوا تھا۔۔۔۔
اب مجھے یہ پینی پڑے گی۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے وائن کی بوتل اٹھائی۔۔۔۔۔
اخل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اس کے ہاتھ سے لینا چاہی لیکن پھر سے اس کی قربت کے ڈر سے وہ دور ہوئی۔۔۔
دیکھو تمہاری غلطی ہے اچھا بھلا پی رہا تھا جوس۔۔۔۔
پتہ ہے کتنی مشکلوں سے میں نے چوز کیا تھا دونوں میں سے جوس۔میں اس کو اگنور نہیں کر سکتا اس نے دہمے لہجے میں کہا تھا اور وائن کی بوتل اس کے اگے لہرائی۔۔۔۔
اخل۔ ۔۔
تم نے مجھ سے کچھ وعدہ کیا تھا۔۔۔
ہاں یار یاد ہے وعدہ ایک شپ سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
تم نہیں پیو گے تمہیں میری قسم۔۔۔
قسمیں دیتی اور پھر ایکسپلین کرنے سے بھی ڈرتی ہو۔۔۔۔
اس نے وائن کی بوتل کو رکھ دیا تھا۔۔۔۔
اور پتہ ہے
محروج کا قصور نہیں ہے تم خوبصورت اتنی ہو کہ کوئی کسی حد تک بھی جا سکتا ہے۔۔۔
اس نے ائرہ کو گھوڑ تے ہوئے کہا تھا۔۔۔
وہ اس ڈریس میں اور بھی خوبصورت لگ رہے تھی۔۔۔۔۔
ائرہ بولتے بولتے چپ ہوئی تھی اور اسے گھورنے لگی تھی۔
______
تم یہاں کیسے ائے تمہیں کیسے پتہ۔۔
(اخل تھوڑی ہی دیر بعد اپنے کمرے سے نکل کے باہر ایا ائرہ کے کمرے میں گیا تو وہاں پہ اس کا موبائل پڑا تھا
اس نے اس کمینے کے میسج پڑھے تھے۔اور پھر ائرہ کے پہنچنے سے پہلے ہی اس لوکیشن پر پہنچا وہ لڑکیاں بھی اخل نے کام کے لیے رکھی تھی)
تاکہ وہ اسے تیاری میں مصروف رکھے اور وہ اتنی دیر میں اس کا کام تمام کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کیسے پتہ۔۔۔۔
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا تھا اب غصہ رونما ہوا تھا۔۔۔
اگر موبائل گھر پہ نہ چھوڑ کے جاتی تو مجھے تو کچھ پتہ ہی نہ چلتا۔۔۔
اور وہ بے غیرت۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
تم ایسی بے وقوفی کیسے کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے کمرے سے باہر پھینکا تھا۔۔۔
اتنے زور سے۔۔۔۔
اور پھر بال بھی کھینچے تھے۔میں کیسے یقین کرتی کہ تم میری مدد کرو گے۔اور میں بتانے ہی ائی تھی۔
اخل کو اب خود پر بھی غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
_$$$$$
ائرہ اپ فون کیوں نہیں اٹھا رہی۔
مجھے ایسے نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔۔۔
پتہ نہیں وہ کیا سلوک کر رہا ہوگا۔۔۔۔
اسد موبائل ہاتھ میں لیے تیز تیز ٹہل رہا تھا۔۔۔
میں صبح ہوتے ہی جاؤں گا۔۔۔
اتنی رات کو مناسب نہیں لگتا۔۔۔
وہ دل کو سمجھاتے ہوئے کبھی ایک کونے تو کبھی دوسرے کونے میں جاتا۔۔۔۔۔
ائرہ اس کے دل میں اتر چکی تھی۔۔۔۔
____
تھوڑی دیر میں وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔۔
وہ جو لیپ ٹاپ کے ساتھ لگا تھا ڈرائنگ روم میں ائرہ نے کافی کا کپ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اخل نے ایک نظر کافی کے کپ کو دیکھا پھر اسے دیکھا۔۔۔
قتل کیا ہے تمہارے لیے میں نے۔۔۔۔۔
اور تم کافی کے کپ سے تھینک یو بول رہی ہو۔۔۔۔
کچھ ڈفرنٹ کرو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اس کی مہربانیوں کو۔
کیا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اس نے خود سے ہی سوال کیا تھا۔۔۔
نہیں نہیں ایسا نہیں ہے۔۔۔
ائرہ تمہاری زندگی تمہارے سامنے ہے۔۔۔۔
اخل کا یہ پیار کا کھیل مجھے بری طرح سے تباہ کر دے گا۔
میں اور لڑکیوں جیسی نہیں ہوں جن کے پاس جینے کے لیے بہت سی وجہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔
میرے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔۔۔۔
لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ میں کوئی جھوٹی غلط فہمی دل میں پالوں۔اپنی تکلیفوں کو کم کرنے کے لیے۔۔۔
اور ویسے بھی میری جیسی لڑکی کے ساتھ وہ کبھی بھی نہیں رہ سکو گے۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے ساتھ ہوں کہاں کھو گئی۔۔۔۔
کہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔
کچھ مانگا ہے میں نے۔۔۔۔
تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے کیا ڈفرنٹ کروں۔۔۔۔
اس نے کافی کا کپ ٹیبل ر رکھا۔۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
اگر پولیس کو پتہ لگ گیا۔۔۔
اس نے بے چینی سے پوچھا تھا۔۔۔
اس کی موت ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہوئی ہے۔
تم نے مجھے تھوڑا کم کھلاڑی سمجھا ہے۔۔۔
اور ملیحہ اس نے اگلا سوال کیا۔۔۔۔
میرا اور اس کا بریک اپ ہو گیا بتا چکا ہوں۔۔۔
اسے تھوڑی تسلی ہوئی تھی کیونکہ وہ بہت پریشان تھی کہ اگر پولیس کو پتہ لگ گیا۔
تو اب کون ہے تمہاری گرل فرینڈ۔۔۔
اخل نے ہنستے ہوئے اسے اوپر سے لے کے نیچے تک دیکھا تھا۔۔
تمہیں اتنی بے چینی کیوں ہو رہی ہے۔۔۔
اخل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔وہ صوفے پہ گر گئی تھی بالکل اس کے ساتھ۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
ڈھونڈ رہا ہوں کسی کو کوئی تمہارے جیسی ہو۔۔۔
یونیک سی۔
پولائٹ۔اس نے اس کے بال پیچھے کیے۔
ڈیسنٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن بس ایک چیز کی کمی ہے۔اس لیے تمہیں چانس نہیں دے رہا۔۔۔
کون سی اس نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
رومینٹک۔۔۔۔۔
تو مچ رومینٹک چاہیے۔۔۔۔
وہ اس کے بہت قریب تھا۔۔۔
اس کے بالوں سے کھیلتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
تم تو رومانس سے بہت دور بھاگتی ہو ۔۔۔
ائرہ جو اس کی باتوں میں مگن تھی اب اسے احساس ہوا کہ وہ اس کے بہت قریب ہے۔۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے کیا۔۔۔۔
ویسے ائرہ تم بھی مجھے اپنے فیوچر لائف پارٹنر کے بارے میں بتا سکتی ہو۔۔۔۔
کہ تم اس میں کیا دیکھتی ہو۔۔۔
کیا پتہ میں کسی ایسے لڑکے کو جانتا ہوں۔۔
اس کی بات کاٹتے ہوئے اس نے فورا سے جواب دینا مناسب سمجھا۔
لڑکیوں کی عزت کرنے والا۔۔۔
اخل سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔گلے کو صاف کیا۔۔۔
اس نے کبھی کسی لڑکی کو ہاتھ نہیں لگایا ہو۔۔۔
اس نے ہاتھ پشانی پہ ٹھکایا۔۔۔۔
گالیاں نہ نکالتا ہو۔
اس نے کل ہی تو نکالی تھی اس کے سامنے۔۔
شراب کو کبھی چھوا بھی نہ ہو۔۔۔۔
کبھی کسی عورت پہ ہاتھ نہ اٹھایا۔۔۔۔
اس کے بل گہرے ہوتے جا رہے تھے۔۔۔
ائرہ بھی منہ بنا کر کہہ رہی تھی جیسے اسی پہ وار کر رہی ہو۔۔
اور پارٹیوں پہ تو۔
اچھا بس بس۔۔۔۔
کوئی دیکھا تو بتا دوں گا وہ لیپ ٹاپ کو ہولڈ کرتے ہوئے اٹھا تھا۔۔۔
اور صرف رومانس ہی نہ سوجھے اسے ہر وقت۔
اور نہ ہی اپنی کسی دوست کو کھینچ کر اپنے قریب کرے۔۔۔
یا اس سے کس مانگے۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا بس کر دو نا سن لیا میں نے۔۔۔۔۔
وہ اخل کو اچھا خاصا الجھا چکی تھی۔۔۔۔۔
اس کے لفظ اس پر وار کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ کو اپنے کارنامے میں بہت فخر ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے لفظوں سے اسے لاجواب کر دیا تھا۔۔۔
وہ ماتھے پہ بل ڈالے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
_____
ایا بڑا پلائٹ ڈیسنٹ رومینٹک۔۔۔۔۔
ائرہ بھی منہ کے زاویے بناتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔
__
ساری زندگی سنگل رہنے کا ارادہ ہے اس کا۔۔۔۔۔
اخل کو اچھا خاصا بے چین کر۔ چکی تھی وہ۔۔۔۔۔
کیا مجھے ایسا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔
خود ہی پیچھے ائی گی میرا نام بھی اخل میلان ہے۔۔۔۔۔
______
میں ساری رات اپ کا فون ٹرائی کرتا رہا لیکن نہیں ملا۔۔۔
مجھے بہت پریشانی تھی۔۔۔۔
وہ صبح صبح ہی ا چکا تھا۔۔۔۔
اخل جو افس کے لیے تیار ہو کے اب نکلنے والا تھا ایک دم سے رکا۔۔۔
منہ سے سیٹی بجاتے ہوئے وہ ان کے پاس ایا۔۔۔۔
وہ اسے اچھا حاصہ بیست کرنے والا تھا۔ ۔۔۔
پر پھر ائرہ کی رات والی باتیں اس کے ذہن میں اگئی۔۔۔۔
اسد اپ بہت ریسپیکٹبل پرسن ہے۔۔۔۔۔
اپ لڑکیوں کی عزت کرتے ہیں اس نے منہ بناتے ہوئے اخل کی طرف دیکھا۔۔۔۔
اپ کو فکر تھی میری مجھے جان کر خوشی ہوئی۔۔۔۔
وہ اسے جیلس کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔
_
وہ پاس کھڑا دونوں کی باتیں سن رہا تھا دونوں ہاتھ اس نے کمر پہ ٹھکائے ہوئے تھے۔۔۔۔
گڈ مارننگ مسٹر اخل۔۔۔۔
گڈ مارننگ ٹو یو۔۔۔۔۔۔
اس نے افق نگاہ ائرہ پر ڈالی۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں ائرہ کافی بنانے کے لیے کچن میں گئی۔۔۔۔
اخل بھی اس کے پیچھے گیا تھا وہ کب سے انتظار کر رہا تھا اس کے اگے پیچھے ہونے کا۔۔۔۔۔۔
ویسے یہ تمہاری ڈیمانڈز پہ پورا اترےگا مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔
اخل نے کچن میں اتے ہی اس سے کہا۔۔۔۔
ائرہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ جیلس ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے وہ پورا اتر چکا ہے۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے اس بات کا وہ ایک دم غصے میں بولا۔۔۔۔
وہ لڑکیوں کی عزت بھی کرتا ہے۔۔۔
اور ایسے لہجے میں مجھے تو نہیں لگتا کبھی اس نے کسی لڑکی سے بات کی ہوگی جیسے تم کر رہے ہو۔۔۔۔
ہٹو مجھے کپ اٹھانے ہیں وہ شیڈ کے اگے کھڑا تھا۔۔۔۔
اسے گھورتے ہوئے وہ ہٹا تھا۔۔۔۔
تمہیں دیر نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔
نہیں جا رہا جب تک وہ یہاں ہے تب تک تو نہیں جا رہا۔۔۔
اب اس کے کنٹرول سے باہر تھا اس نے منہ پہ کہہ دیا تھا۔
کیوں ایسا کیوں ہے۔۔
کہیں تم جیلس تو نہیں ہو رہے۔۔۔۔
اس کی بات سنتے ہی وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔۔
غصہ غائب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اسے بازو سے پکڑ کر اس نے دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔
یہ مجھے ہنٹ مت دیا کرو۔۔۔۔
بڑا ظالم ہوں میں اس معاملے میں۔۔۔۔۔
تم شدت برداشت نہیں کر پاؤ گی۔۔۔۔۔
اس نے اس کے دونوں ہاتھ دیوار کے ساتھ لگائے تھے۔
وہ جو اسے منہ پر جواب دے رہی تھی اب بری طرح سے پزل ہو چکی تھی اور ڈرنے لگی تھی۔
کیا کر رہے ہو اس نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔
ابھی لگائے ہی تھے کہ اس کے ذہن میں اس کی وہ بات گھومنے لگی۔کے لڑکیوں کو ٹچ نہ کریں۔۔۔۔۔
اس نے اگلے ہی لمحے اسے چھوڑا۔۔۔۔
بہت بدتمیز ہو تم۔۔۔۔۔
وہ لمبے لمبے سانس لے رہے تھی۔
اور اسے شکایت بڑی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
پتہ نہیں ان بے وقوف لڑکیوں کو تم میں کیا نظر اتا ہے۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتا اس کا موبائل بجنے لگا اس نے فورا سے اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا بشرا بیگم کی کال تھی۔۔۔۔۔
جی موم کیسی ہیں۔رسمی باتوں کے بعد اخل نے نوٹ کیا ائرہ اسے ہی نوٹس کر رہی ہیں۔۔۔
بشرا بیگم اس سے شادی کی بات کر رہی تھی کہ تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے۔۔۔
لڑکی۔۔۔۔۔۔
اس نے لفظ کھینچتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
اوکے اپ بھیجیں پکچر۔۔۔۔۔
تمہیں میں بتاتا ہوں مس ائرہ اس نے دل ہی دل میں کہا۔۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد فون بند ہوا تو ساتھ ہی میں اخل نے اپنا واٹس ایپ کھولا بشرا بیگم نے اسے ایک لڑکی کی تصویر بھیجی تھی۔۔۔۔
ذرا دیکھو ائرہ کیسی ہے یہ۔۔۔۔
وہ جو باتیں سن کر پہلے ہی کچھ اداس تھی اخل نے اپنا موبائل اس کی طرف کیا۔۔۔۔۔
پیاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس نے روکھا سا جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں پسند ہے۔۔۔۔۔اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
ہاں پیاری ہے نہ یار ۔۔۔۔۔۔۔
اوکے پھر کر لو۔۔۔۔۔۔
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تمہیں اچھا نہیں لگا۔۔۔۔
ائرہ غصے سے باہر چلی گئی تھی۔۔۔
اخل نے مسکراتے ہوئے موبائل پاکٹ میں ڈالا تھا۔۔۔۔۔۔
_____
مجھے کیوں برا لگ رہا ہے۔
۔۔۔۔
ائرہ کا سارا دھیان اس طرف تھا وہ کیک بنا رہی تھی۔۔
اسد کے لیے جو اسے ڈلیور کرنے تھے۔۔۔۔
اسد کے جاتے ہی اخل بھی نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
کرتا ہے تو کرتا رہے۔۔۔۔۔۔
میری طرف سے باڑ میں جائے۔۔
___
وہ جیلس ہو رہی ہے اس کا مطلب اس کے دل میں کچھ ہے۔
لیکن دل کی بات زبان پے کیسے لائی جائے وہ افس چیئر پہ بیٹھا اسے گول گول گھما رہا تھا۔
لیکن اسے جیسے لڑکے پسند ہے ویسا تو نہیں ہوں میں لیکن
اور وہ اسد کے کلوز ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔
لیکن اسد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
اب اسے بیچ میں نہیں انے دوں گا۔۔۔۔۔
اس نے افس سوٹ پہنا تھا۔۔۔۔
کچھ تو کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے جلس کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______
اپ کو پسند ائے میرے لیے یہی کافی ہے۔
اسد نے ویسے تو ان کاموں کے لیے اس نے ورکرز رکھے ہوئے تھے لیکن اج خود ائرہ کے پاس ارڈر ریسیو کرنے ایا تھا ۔۔
اپ بنائیں اور اچھا نہ بنے ایسا پوسیبل ہی نہیں ہے مس ائرہ۔۔۔
مجھے جیسا چاہیے تھا یہ ایگزیکٹ ویسا ہی ہے۔بلکہ میری ایکسپیکٹیشن سے زیادہ۔۔۔۔۔
تھینک یو سو مچ اس نے سرسری سا جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مس ائرہ اگر اپ کو برا نہ لگے تو کیا اج رات ہم کہیں ڈنر پہ چلیں۔۔۔۔
ڈنر وہ تھوڑا پزل ہوئی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ انکار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ کام کرتے تھی اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے حامی بڑی اور اسے انے کا کہا تھا اس نے اسے ریسٹورنٹ کا نام اور سب کچھ بتا دیا تھا۔
اس کے جانے کے تقریبا تھوڑی ٹائم بعد اخل گھر ایا تھا۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اتے ہی لیپ ٹاپ کو صوفے پر پھینکا تھا۔
تم کھانے پہ میرا انتظار تو نہیں کر رہی تھی۔
نہیں اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔جو ابھی بیکنگ روم سے باہر نکلی تھی۔
مجھے ڈنر باہر کرنا ہے۔
آیک لڑکی کے ساتھ۔
اس نے ائرہ کو انکھ ماری اور استین کے بٹن کھولنے لگا۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے۔ائرہ کا پہلے تو دل نہیں تھا اسد کے ساتھ جانے کا۔لیکن اس کی بات سننے کے بعد اب اسے خوشی تھی کہ اس نے اچھا کیا۔۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے اج کھانا بھی نہیں بنایا میں نے کیونکہ مجھے بھی اسد کے ساتھ جانا ہے۔
وہ جو کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا ایک دم سے پلٹا۔
کہاں جانا ہے اسد کے ساتھ۔۔۔۔
بتایا تو ہے ڈنر پہ جانا ہے وہ اپنا روخ بدلنا چاہتی تھی لیکن اخل نے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کیا۔۔۔
اج سیچرڈے ہے۔۔۔۔
ہمارا کل سنڈے کا پلان تھا۔
میرے ذہن سے نکل گیا تھا اور ابھی مجھے بہت بھوک لگی ہے جا کے کچن میں کھانا بناؤ۔۔۔۔
اور کھانا کچھ زیادہ بنانا مجھے بہت بھوک لگی ہے۔لہجے میں غصہ تھا شدید غصہ۔۔۔۔۔
تم کھانا ارڈر کر لو۔۔۔
ائرہ۔۔وہ غصے سے چلایا تھا۔۔۔۔۔
جو کہا ہے وہ کرو مجھے دوبارہ نہ کہنا پڑے۔۔۔۔۔۔۔
