Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 33
Ayra by Aneeta
تھوڑی دیر میں وہ کھانا لے کر ا چکا تھا۔
ٹرے اس کے سامنے رکھتے اس نے چیئر گھسیٹ کر اگے کی۔۔۔۔۔۔
اس نے وائٹ لوز شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
بھاگی کیوں تھی اب یہ بتاؤ۔۔۔۔
اس نے تسلی سے بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
کیا میں کھانا کھا لوں ۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر کھانے کو اور پھر اسے دیکھا ۔۔۔۔
اخل نے بھی ایک نظر کھانے کو پھر اسے دیکھا اور ٹانگیں بیڈ پہ چڑھا کر چیئر کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ کے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
اس کے ڈر کی وجہ سے اس نے تقریبا ضرورت سے زیادہ کھانا کھا لیا تھا۔اور پھر بھی کھانے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھی تقریبا ایک گھنٹہ گزر چکا تھا ایک نظر اسے دیکھتی پھر کھانا شروع کر دیتی۔۔۔۔۔
اخل سمجھ چکا تھا وہ بھی اخل میلان تھا ۔۔۔۔۔۔۔
بس ہو گیا تمہارا اس نے ٹرے اٹھا کر سائیڈ پر رکھی۔۔
اب بتاؤ کیوں بھاگی تھی۔۔۔۔۔
اس نے ٹانگیں سیدھی کی ۔۔۔۔۔
مجھے ایمن نے کہا تھا۔۔۔۔
او نیا جھوٹ اٹھ کر بیڈ پہ بیٹھا اس کے سامنے۔۔۔۔۔
وہ تمہیں کیوں بھاگنے کا مشورہ دے گی۔۔
تو تمہیں برا لگ رہا ہے کہ میں نے اس کا نام لیا۔
ہاں ہونے والی وائف ہے میری تم اس پہ الزام نہیں لگا سکتی۔۔۔۔
تو تمہاری ہونے والی وائف نے میری بہت انسلٹ کی تھی۔
اور مجھے کچھ پیسے بھی افر کیے تھے تاکہ میں دفع ہو جاؤں۔لیکن تمہیں ان باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے تم نے تو خود پوری شاپ کے سامنے میری انسلٹ کی۔
میں کسی دوسرے سے کیا شکایت کروں۔۔۔۔۔
تمہاری جھوٹی کہانی میں مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں اگر دوبارہ ایسی کوئی حرکت کی نا تو سٹور میں بند کر دوں گا سانس بھی نہیں لینے دوں گا۔۔
وہ ایک دم سے اٹھا اور اسے دونوں بازوں سے اٹھا کر تھوڑا اوپر کیا اور اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر کہا تھا اس نے۔۔۔
تمہاری حالت پے ترس کھا کر تمہیں چھوڑ رہا ہوں۔
ورنہ وہ حشر کرنا تھا کہ ساری زندگی یاد رکھتی۔اس نے زور سے بیڈ پہ گرایا تھا ا سے۔۔۔۔
ائرہ نے ساتھ ہی پیٹ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
منہ سے کہنا چاہتی تھی کہ وہ غلام نہیں ہے اس کی۔
پر وہ غصے سے بے قابو ہو جاتا اور پھر سے مارتا۔۔۔۔
لیکن اس کا غصہ ابھی بھی بےقابو ہی تھا اس نے سامنے پڑے لیمپ کو زور سے ہاتھ مارا تھا اس کی ایک نوک اس کے شولڈر پر چب گئی تھی۔۔۔۔
ساتھ ہی خون بہنا شروع ہو گیا تھا اس نے اس پہ ہاتھ رکھ کر غصے سے ائرہ کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
اور اس کے دیکھتے ہی اس نے بلینکٹ کو منہ کے اوپر کر لیا تھا۔۔۔۔
تاکہ اس کی شامت نہ ائے ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے زور سے بیڈ کو ہٹ کیا اور اپنی شرٹ چینج کر کے اپنی سائیڈ پے اگیا اس نے مرہم بھی نہیں لگائی تھی بس خون کو روکا تھا۔۔۔۔۔۔
ائرہ کی بے حسی پہ اسے افسوس تھا۔۔۔۔۔۔۔
رات اپنے تیسرے پہر میں ڈل چکی تھی۔۔
ائرہ تو گہری نیند سو چکی تھی جب کہ وہ کروٹیں بدلتا رات گزار رہا تھا۔۔۔۔
ائرہ نے کروٹ بدلی اور اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پہ رکھا تھا۔
جیسے اگلے ہی لمحے اس نے اپنے ہاتھ میں قید کر لیا تھا۔
وہ اس کے بہت قریب ا چکی تھی۔اس کے بالوں کو پیچھے کر کے اس نے سر پہ بوسہ دیا تھا۔۔۔
کہ ہلچل محسوس کرتے اس نے اپنا سر اٹھا کر اس کے شولڈر پہ رکھا زخم والی جگہ پر۔۔۔
اس نے درد سے انکھوں کو بند کیا۔۔۔۔
پر اب درد شدت اختیار کر گیا تھا۔
ائرہ۔۔۔۔۔
اس نے شائستگی سے پکارا۔۔۔
ہمممممممم۔۔۔۔
ذرا سی انکھیں کھول کر اس نے دیکھا اس کی طرف۔۔۔
پلو پے سر رکھو۔۔۔۔۔۔
ہم۔ممم۔
یہ کہتے اس نے کروٹ بدلی۔اس کے سر اٹھانے سے بھی اسے تکلیف ہوئی تھی پر وہ پی گیا۔۔۔۔۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس نے پھر سر وہیں رکھ دیا تھا۔جب تک برداشت کر سکتا تھا اس نے برداشت کیا۔۔۔
اور اب درد شدت اختیار کر گیا تھا۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
کچھ نہیں اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔اور اس کے بالوں سے کھیلنے لگا درد شدید تھا لیکن اس کی نیند خراب نہیں کر سکتا تھا اب۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے بھی میدان حالی دیکھ کر پورا قبضہ جما لیا تھا۔۔۔
ٹھنڈ بہت زیادہ تھی تو اسے وہیں سکون مل رہا تھا۔۔۔۔۔۔
____
وہ میرا فون نہیں اٹھا رہا اور اپ شادی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔۔
بابا نے کہا تھا کہ وہ میلان انکل سے بات کریں گے۔۔۔
کیا حک بات کی ہے انہوں نے اسے مجھے سوری بولنا چاہیے تھا۔۔۔
موم لیکن وہ تو مجھے ہی اگنور کر رہا ہے۔۔۔
ایمن وسیم کو ایٹیٹیوڈ دکھا رہا ہے۔۔۔۔
کس کے پیچھے اس دو ٹکے کی لڑکی کے پیچھے۔۔۔۔
وہ ایک لمبی سی تقریر کر کر صوفے پر بیٹھی تھی موبائل کو اس نے ایک طرف پھینکا تھا۔۔۔۔
گون سٹائل میں نائٹی پہنی تھی اس نے۔۔۔۔۔
بیٹی تم ذرا ٹھنڈے دماغ سے کام لو۔۔۔۔
تم خود اس کی جگہ بنا رہی ہو فریدہ اس کے پاس ا کر بیٹھی تھی۔۔۔۔
وہ لڑکی اج نہیں تو کل دفع ہو جائے گی۔۔۔۔
ہم نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں ہے وہ تو خود اسے ڈیورس دے رہا ہے۔۔۔
لیکن اگر اس نے اسے ڈیورس نہ دی تو تمہارے ڈیڈ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے نہیں بیٹھیں گے۔۔۔
اخل میلان کی دلہن صرف تم ہوگی اور صرف اور صرف تم۔۔۔
اگر وہ اخل کی زندگی سے نہ نکلی تو اسے دنیا سے نکلنا پڑے گا۔۔۔
فریدہ کی باتیں ایمن پہ گہرا اثر چھوڑ رہی تھی۔۔۔۔
وہ تھوڑا مطمن ہوئی تھی لیکن غصہ ابھی بھی چہرے پہ تھا۔
____
ائرہ کی انکھ تقریبا صبح اٹھ بجے کھلی تھی۔۔۔
اس نے جیسے ہی خود کو اس کے سینے پہ پایا۔۔
وہ پزل ہوئی لیکن ساتھ ہی اٹھنے لگی تھی کہ اس نے ہاتھوں پہ گرفت مضبوط کی۔۔۔
کہا۔۔۔۔۔
رات کو جو تنگ کیا ہے اس کا حساب تو دیتی جاؤ۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
وہ بولی ہی تھی کہ وہ اس کے اوپر سایہ بنا چکا تھا۔۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو وہ پریشان ہوئی۔۔۔۔۔۔
اپنی جان سے کرایہ وصول کر رہا ہوں ساری رات بازو پہ برداشت کرنے کا۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
اس کے بولنے سے پہلے ہی وہ اس کی کان کی لو پہ اپنے لب رکھ چکا تھا۔۔۔
وہاں سے ہوتے ہوتے وہ گردن پہ ایا تھا۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں ا رہی تھی کہ وہ روکے تو روکے کیسے۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔
ناشتے پہ انتظار کر رہے ہوں گے پلیز۔۔۔
اس سے ٹیسٹی ناشتہ کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔
ائرہ نے وہی رات والی میکسی پہنی تھی۔۔۔۔
وہ اس کی شہ رگ چھوڑتے ہوئے۔۔۔۔
اس کی شرٹ سرکانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
کیا پہنا ہے یار اس نے ایک جھٹکے میں بازو کھینچا تو وہ پھٹ چکا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔اخل۔ ۔۔
اسے ڈر لگنے لگا تھا اب ۔۔۔۔۔
کل سے نائٹی پہن کے سونا اس نے دوسری طرف سے بھی ایسے ہی کھینچا تھا۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
فلحال مصروف ہے تمہارا اخل ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے اس کے اوپر سے اٹھا اور اپنی شرٹ اتار کر ایک طرف پھینکی۔۔۔۔۔۔
ائرہ تو سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کبھی ڈیورس کی بات کرتا ہے اور کبھی۔
لیکن وہ اسے اچھے سے جانتی تھی۔کہ وہ کتنا کی کریکٹر لیس ہے
تم یہ نہیں کر سکتے وہ پھر سے جھکنے ہی بولا تھا کہ اس نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔۔۔
نہ تو پہلے پوچھا تھا اور نہ اب پوچھنے کا ارادہ رکھتا ہوں اس نے ہاتھوں کو پیچھے جھٹکا۔۔۔۔
ایک ہی ایک تو لگل وائف ہو یار۔۔۔
تمہارے چکر میں باقیوں کو بھی چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔
اور ایک جھٹکے میں اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا
مممممم۔۔اخل۔وہ سانسیں بحال کرتی مشکل سے بولی تھی۔۔۔۔
تم مجھے ڈیورس دینے والے ہو نا تو پھر یہ سب۔۔۔۔۔۔
جتنے سوال اتنی چمیاں خود بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا کے اسے گود میں بٹھا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ شدت سے بھرپور لمس اس کے ہونٹوں پہ چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔
ائرہ کا دل اب تیزی سے درکنے لگا تھا وہ بے قابو ہو رہا تھا۔۔۔
اخل اس کی شدتیں بڑھتی تو وہ بھی احتجاج بڑھا دیتی تھی۔۔۔۔
اسے سانسیں رکتے ہوئے محسوس ہوئی کہ اچانک دروازے پہ کسی نے دستک دی۔۔۔۔۔
اخل کی شدتوں میں کوئی کمی نہیں ائی تھی۔۔۔
وہ ہونٹوں کو چھوڑتا تو گردن پہ جھکتا۔۔۔۔۔
نہ ہی وہ کھو لنے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن باہر جو تھا وہ دروازے کو مسلسل پٹاخ رہا تھا۔۔۔۔۔
اخل کو اب غصہ ا رہا تھا کہ ایسی جرات کر کون سکتا ہے۔
کیا مسئلہ ہے یار اس نے اسے پیچھے کیا تھا کیا۔۔۔
ہٹو چھوٹ گئی جان تمہاری اسے گود سے ہٹا کر وہ اٹھا تھا۔۔۔
شرٹ پہنی اس نے۔۔
بٹن بند کرتا ہوا دروازے کی طرف گیا۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے بھی میکسی ٹھیک کرتے ہو ئے خود کو بلینکٹ میں چھپا لیا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں سنائی نہیں دے رہا تھا اس نے دروازہ کھولا تو غصے میں تھا لیکن اگے میلان کامران تھا جو اس کا باپ تھا۔۔
انہوں نے غصے سے کہا تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے وہ چہرے سے اندازہ لگا چکا تھا کہ کچھ بہت ہی برا ہوا ہے۔۔۔۔
کہاں ہے تمہاری وہ بے شرم بیوی ہے جس نے ہمارے خاندان کی ناک کٹوانے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اس نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔۔
اسے لے کر باہر اؤ خود پتہ لگ جائے گا کہ کیا ہوا ہے وہ غصے سے بولتے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
اخل نے سوالیہ نظروں سے پیچھے دیکھا اور پھر دروازے کو بند کر کے اس کی طرف ایا۔۔۔۔
کیا کیا ہے اب تم نے۔۔
اس گھر میں کچھ کرنے ضرورت ہی نہیں پڑتی بنا بات کے اپ کو سزا دی جاتی ہے۔۔۔۔
مجھے تو غلام بنا لیا ہے تم لوگوں نے ۔۔۔
جب دل کیا مارنا شروع کر دیا اور جب دل کیا تو وہ چپ ہو گئی تھی۔۔۔
فریش ہو کر اؤ باہر جانا ہے۔۔۔
یہ تقریریں بعد میں کرنا۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں وہ دونوں فریش ہو چکے تھے اور اب باہر ائے تھے۔۔۔
لیکن باہر کا ماحول دیکھ کر ہی اخل غصے سے پاگل ہو گیا تھا اسد ایا تھا ساتھ میں پولیس لے کر۔۔۔۔۔۔
پولیس کے دو انسپیکٹر تھے۔۔۔۔۔
ساتھ میں وہ افس سوٹ میں ملبوس۔۔۔۔۔
تمہاری جرات کیسے ہوئی وہ اگے بڑھا تھا اسے گریبان سے پکڑنے پر پولیس انسپیکٹر نے روکا۔۔۔
مسٹر اخل میلان۔۔۔۔۔۔
ہمیں کمپلین ملی ہے کہ اپ نے زبردستی نکاح کیا اور زبردستی لڑکی کو اپنے گھر میں قید کیا۔۔۔
ائرہ کو بشرا بیگم نے تھام لیا تھا۔۔۔
وہ پہلے سے ہی حالات کی سنجیدگی سے اگاہ تھی۔۔۔۔
ائرہ کو دیکھتے ہی اسد تھوڑا اگے ایا۔۔
کیونکہ اسے فکر تھی اس کی بہت زیادہ۔۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو ائرہ ۔۔۔
اخل نے غصے سے ائرہ کی طرف دیکھا۔
اور پھر نظروں کا رخ اسد کی طرف کیا۔
وہ ٹھیک ہے بس اب تمہاری ہڈیاں ٹوٹنے لگی ہیں میرے ہاتھوں اس نے گریبان سے پکڑ کر پنچ مارا تھا اس کے منہ پہ۔۔
میلان کامران بھی اگے بڑھا تھا اور پولیس انسپیکٹرز بھی۔۔۔
ائرہ تو اس معاملے میں پڑھنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔
پر جو ہو رہا تھا اس کے بعد کیا ہونا تھا وہ اس سے ڈر گئی تھی۔۔۔۔۔
اس نے گرین ال اوور میں سمپل سا سوٹ پہنا ہوا تھا۔۔
دوپٹے کو شال سٹائل میں کیا ہوا تھا۔۔۔۔
مس ائرہ کیا اپ کو زبردستی اس گھر میں رکھا گیا ہے۔۔
ائرہ نے بشرا بیگم کی طرف دیکھا جنہوں نے نہ میں سر ہلایا تھا۔۔
نہیں اس نے کہا ہے کہ یہ ڈیورس دے دے گا۔۔
ائرہ یہ تمہیں بیوقوف بنا رہا ہے اسے بولو ابھی ڈیورس دے۔
اس کا جملہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ اخل پھر اگے بڑھا تھا ۔۔
تو اس کا باپ لگتا ہے تو مجھے پہلے یہ بتا ۔۔۔
تو اس کا ہے کون۔۔۔۔۔
تجھے زندہ چھوڑنے کا پچھتاوا مجھے رہے گا اس نے گریبان سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ ٹھوکا تھا۔
پر مجھے پچھتاؤں کو دوھنا اتا ہے اس نے ایک پنچ مارا تھا۔
اسد نے بھی جواب دیا تھا پنچ سے اس سے پہلے کے بات اگے پہنچتی۔۔۔
پولیس کے بندوں نے دونوں کو پکڑ لیا تھا۔۔۔۔
پولیس انسپیکٹر میلان کامران نے غصے سے بلایا۔۔۔
سب سے پہلے تو اپ کی ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر میں گھسنے کی اپ جانتے ہیں نا اس کا انجام کیا ہوگا۔۔۔
اور دوسری بات یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے اچھا ہوگا کہ کوئی باہر کا بندہ اس میں دخل اندازی نہ کرے۔۔۔
جہاں تک مجھے خبریں ہیں اپ اپنے بیٹے کی دوسری شادی کر رہے ہیں وہ بھی اپنے بزنس پارٹنر وسیم کی بیٹی کے ساتھ تو کیا یہ جرم نہیں ہے۔۔
ائرہ ابھی بھی اس گھر میں کیا کر رہی ہے۔۔۔۔
اخل مشکل سے غصے کو کنٹرول کر رہا تھا۔۔۔
اسد۔۔۔۔
ائرہ یہ کہنے کے لیے اگے بڑھی تھی کہ وہ اپنے معاملات خود دیکھ لے گی۔
پر اس کے بولنے سے پہلے ہی اخل نے اسے بازو سے کھینچا اور کمرے کی طرف لے گیا۔۔۔
اسد نے روکنے کی پوری کوشش کی تھی لیکن میلان کمران نے پولیس انسپیکٹر سمیت سب کو گھر سے باہر نکال دیا تھا۔
اور پولیس انسپیکٹرز کو پیچھے سے فون اگیا تھا۔
اب وہ رک بھی نہیں سکتے تھے اور اسد اب بے بس تھا۔۔۔
اخل۔۔۔
یقین مانو میں اسے یہ کہنے لگی اس نے دروازہ بند کیا ہی تھا کہ اس نے بولنا شروع کر دیا۔۔۔
پر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے تھپڑ اس کے منہ پہ مارا تھا۔۔۔۔
ڈیورس کے پیپر ریڈی کروا رہا ہوں۔۔۔۔
اسی کے ساتھ دفع ہونا جہاں دفع ہونا ہے اس نے زور سے اسے پیچھے گرایا تھا۔۔۔۔۔۔
خود کو مشکل سے سنبھالا تھا اس نے پیٹ کو زمین پہ لگنے سے روکا تھا۔۔۔۔
اور وہیں لیٹ کر روزاڑ و قطار رونے لگی تھی۔۔۔۔۔۔
میلان کامران کو سنبھالتے بشر بیگم کو ائرہ کے ٹینشن تھی۔۔۔
وہ کمرے میں ائی تھی کہ اسے زمین پر لیٹا دیکھا۔۔
ائرہ وہ ایک دم سے اگے بڑھی اسے اٹھایا۔۔۔
اخل بھی باتھ روم سے باہر ا چکا تھا۔۔۔
تم نے پھر اس پہ ہاتھ اٹھایا بشرا بیگم اس کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
شدید غصہ میں تھی۔۔
مجھے اس سے ڈیورس لے کے دیں۔۔
ائرہ بھی اچھے سے جانتی تھی کہ اب ڈیورس نہیں ہو سکتی لیکن وہ اپنے بچے کے لیے کر رہی تھی کہ کہیں اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے غصے میں۔۔۔
مجھے اور نہیں رہنا یہاں پہ۔۔۔
ابھی بکواس کر کے گیا تھا نا کہ دے دوں گا۔۔۔
بشرا بیگم پہلے جو غصے سے اس کی طرف بڑھی تھی اب ڈیورس والی بات پہ اداس ہو گئی تھی۔۔۔
دے دے گا یہ ڈیورس۔۔۔۔
یہ تمہارے لائق ہی نہیں ہے۔۔۔
بس تم چپ کر جاؤ بسشر بیگم پھر سے اس کی طرف ائی اسے سہارا دے کر بیڈ پہ بٹھایا۔۔
میری جان بس چپ کر جاؤ انہوں نے اسے تھپکی دیتے ہوئے کہا اور پانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔۔
اخل وہی کھڑا دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے اس کی حالت کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔
تھپڑ تو اس نے ایک ہی مارا تھا پر اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے بہت مارے ہوں۔۔۔۔
کوئی دن نہیں جو سکون سے گزر جائے وہ یہ کہتا غصے سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
ایمن ڈرائنگ روم میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
ملازمہ نے کچھ دیر پہلے کی کہانی اسے سنا دی تھی۔۔
اسے اب تسلی ہو گئی تھی کہ ائرہ کے تھوڑے دن ہیں اس گھر میں۔۔۔۔
مجھے تمہارا ہی انتظار تھا ایمن۔۔۔۔
اخل غصے سے اس کی طرف بڑا تھا۔۔۔۔
ایمن اندر سے شرمانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔
تمہیں بہت شوق ہے لوگوں کو بھگانے کا۔۔۔
ایمن کے چہرے کے ری ایکشن دیکھنے والے تھے ایک دم سے شوکڈ ہوئی تھی۔۔۔۔۔
وہ اس کے پاس ایا تو وہ بھی کھڑی ہو گئی۔۔
ک۔۔۔۔۔کیا مطلب؟
مطلب وہی ہے جو تم سمجھ گئی ہو۔۔۔۔
اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکا اس نے۔۔۔۔
میری بات کان کھول کر سن لو۔۔۔۔۔
ائندہ اس سے دور رہنا۔
اب کوئی شکایت ملی تو بخشوں گا نہیں۔
اسے شدید غصہ تھا جب ائرہ نے اسے بتایا کہ اس نے اسے پیسے افر کیے اور جانے کا کہا۔۔۔
اس کے سامنے تو اس نے ری ایکٹ نہیں کیا تھا۔۔۔
پر وہ ایمن سے ملنے کے لیے بے تاب تھا۔۔۔۔۔
ائرہ اس کی پراپرٹی تھی۔۔۔۔۔
کوئی دوسرا نکاح بھی ڈالے تو وہ جان لینے پہ اتا تھا۔۔۔۔
_____
اخل افس کے لیے ریڈی ہوا اور بنا ناشتے کیے افس چلا گیا ۔
ائرہ کو بھی اس نے اچھا خاصا اٹیٹوڈ دکھایا تھا۔۔۔
ریڈی ہوتے ہوئے اس کے سامنے نہ جانے کتنی چیزوں کو پٹاہا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔
_____
ایمن وہاں سے گھر چلی گئی تھی اس نے ساری بات اپنے باپ کو بتائی تھی کہ اس کی انسلٹ کی گئی ہے۔
وسیم نے ساری بات میلان کامران کو بتائی تھی۔۔۔
میلان کامران کو اب صبح والی حرکت پہ اور اس والی حرکت پہ شدید غصہ ا رہا تھا ائرہ پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ ایک منٹ بھی اسے برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
انہوں نے موبائل کو وہیں گرایا اور اس کے کمرے کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔۔
بشرا بیگم جو ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھی انہیں ایسے غصے میں جاتا دیکھ کر وہ بھی ان کے پیچھے ائی۔۔۔
میلان کہاں جا رہے ہیں کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔
اس مصیبت کو ختم کرنے جا رہا ہوں جو ہمارے سروں پہ سوار ہو گئی ہے۔۔۔
انہوں نے زور سے دروازہ کھولا تھا۔اخل نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ جو بالکنی میں کھڑی باہر کے نظارے لے رہی تھی۔۔۔
دروازہ زور سے کھلا تو ایک دم سے پیچھے چونکی۔۔۔
اسے لگا شاید پھر سے اخل ایا ہے پر میلان کامران تھا۔۔۔۔
اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہے اسے بازو سے کھینچتے وہ باہر لے کر ائے تھے۔۔
یہ اپ کیا کر رہے ہیں میلان چھوڑیں اسے۔۔۔۔
میں میں کہاں جاؤں گی۔۔
ہماری طرف سے جہنم میں جاؤ انہوں نے اسے زور سے باہر پھینکا تھا۔۔۔۔
اس کے پیٹ میں عجیب سا درد ہونا شروع ہو گیا تھا۔۔۔
اس کے ہاتھ پہ بھی خراشیں ا گئی تھی۔
اور ماتھے پہ بھی چوٹ لگی تھی زمین کے ساتھ لگنے سے ۔۔
اپ پاگل ہو گئے ہیں اپ جانتے ہیں۔اخل کو وہ کبھی معاف نہیں کرے گا اپ کو اس حرکت پہ۔۔۔۔۔۔
گارڈ اس نے زور سے چلایا ۔۔
اور بشرا بیگم کا ہاتھ اس نے پکڑا ہوا تھا تاکہ وہ اگے نہ بڑھے۔۔۔
اس کو اٹھا کر گھر سے باہر پھینکو۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ گارڈ اگے بڑھتا وہ خود ہی اٹھ گئی تھی اور باہر کی طرف جانے لگی تھی۔۔
وہ مشکل سے ہاتھ کے سہارے سے اٹھی۔۔۔۔
اسے پیٹ میں بہت تکلیف تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔
بشرا بیگم نے اواز دی تھی لیکن اس نے نہیں سنی تھی وہ بس نظر کو ایک جگہ ٹکائے چلی جا رہی تھی۔
شال اس نے پہلے ہی لپیٹی ہوئی تھی ٹھنڈ کی وجہ سے۔۔۔
____
وہ تقریبا رات کو دیر سے گھر ایا تھا کھانا بھی باہر کھایا تھا غصے کی وجہ سے۔۔۔۔
کمرے میں اتے ہی اسے کمرہ خالی لگا۔۔۔۔۔۔
میڈم پھر سے گیسٹ روم میں بھاگ گئی اس نے غصے سے ٹائی کو اتار کر بیڈ پہ پھینکا۔۔۔۔۔
اور گیسٹ روم کی طرف بڑھا لیکن وہ بھی حالی تھا۔۔۔۔۔
بشرا بیگم نے اس کے بعد اسے کہیں کالیں کی تھی۔۔۔
پر غصے کی وجہ سے اس نے ایک کال بھی نہیں اٹھائی تھی۔۔۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ائرہ کی طرفداری کرنی ہوگی۔۔۔
موم۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
مر گئی ہے ائرہ۔۔۔
موم۔۔۔۔۔۔اس نے غصے سے کہا۔۔۔۔
کہاں ہے۔۔۔۔
تمہارے پاپ نے باہر نکال دیا۔۔۔۔۔
یہ کیا کہا رہی ہے۔۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔کب اور کیوں۔۔۔
اس نے ہاتھ ماتھے پے ٹکھرایاتھا۔۔۔۔
ماتھے کے بل واضح تھے۔۔۔
پر سوچنے کا وقت نہیں تھا ۔ وہ انہی قدموں پے باہر بھاگا وہ سب سے پہلے اس کی پھپھو کے گھر گیا تھا کیونکہ اسے یہی تھا کہ وہ وہیں گئی ہوں گی۔۔۔۔
لیکن ائرہ یہاں ائی تھی اکبر نے اسے رکنے نہیں دیا۔۔۔
بلکہ میلان کامران سے زیادہ بیست کر کے نکالا تھا۔۔۔
ائرہ یہاں ائی ہے دروازہ کھٹکھٹاتے ہی دروازہ کھل گیا تھا اگے خالدہ بیگم تھی ۔۔۔
ائرہ ۔۔۔
انہوں نے دروازہ کھولتے ہی ائرہ کا نام پکارا ۔۔۔
اخل بھی حیران ہوا تھا۔۔۔
پر اگے اخل تھا ۔۔۔۔۔۔
ائرہ یہاں ائی ہے اس نے بھی اپنا سوال دہرایا ۔۔۔۔
جو پہلے ہی زبان پہ اٹکا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اس کا حلیہ ویسا ہی تھا۔افس کوٹ اتارا تھا شرٹ پہنی تھی اوپر کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔
توتمہیں خیال اگیا اس کا حالدہ بیگم نے سرد لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔
میں اسے لینے ایا ہوں اسے پوری تسلی تھی کہ وہ اندر ہوگی ۔
وہ یہاں ائی تھی لیکن اکبر نے اسے اندر نہیں انے دیا ۔۔۔
مجھے اس کی فکر کھائے جا رہی ہے ۔۔
ایسی حالت میں تم لوگوں نے اسے گھر سے باہر نکال دیا ۔۔۔
کیا اس لیے نکاح کیا تھا تم نے۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اسے اس نے ماتھے پہ بل ڈالتے پوچھا ۔۔۔۔
وہ ٹھیک تو تھی وہ تھوڑا اگے ہوا ۔۔۔
کیا تم نہیں جانتے وہ پریگنٹ ہے۔۔۔۔
اس کی تو جیسے سانسیں رکنے والی ہو گئی تھی ۔۔۔۔
یہ اپ کیا کہہ رہی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔
اپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی ۔۔۔
وہ شاید یہ سننا نہیں چاہتا تھا ۔۔
مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی اس نے خود مجھے بتایا ہے اس نے تو منتیں کی تھی لیکن اکبر نے ایک نہیں سنی ۔۔
ائرہ اب وہ ایک منٹ بھی یہاں نہیں رک سکتا تھا بنا کوئی سوال جواب کیے وہ گاڑی کی طرف بھاگا ۔۔۔۔۔۔
ایسا نہیں ہو سکتا وہ گاڑی بہت تیز سپیڈ سے چلا رہا تھا ۔۔
میرے گناہوں کی مجھے اتنی بڑی سزا مت دینا میرے اللہ ۔۔
نہیں نہیں وہ دل کو تسلی دے رہا تھا ۔۔۔
اس کے دل میں یہ وسوسے بیٹھ رہے تھے کہ کہیں ائرہ کو یا اس کے بچے کو کچھ ہو نہ گیا ہو ۔۔۔۔
اور اوپر سے اس نے اتنا ٹارچر کیا ۔۔۔
اس کا رویہ اس کے ساتھ۔۔۔۔۔
صبح ہی تو اس نے اسے گرایا تھا۔۔۔۔
کیوں اتنی بڑی بات چھپائی مجھ سے کیوں۔۔۔۔
اس نے ہاتھ سٹیلنگ ویل کو مارا۔۔۔۔۔
بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا اپ نے
__
وہ ہاسپٹل کے بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی۔
اس کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی روڈ پہ گر گئی تھی کچھ لوگوں نے اسے ہاسپٹل پہنچایا تھا۔۔۔
دیکھیں اپ کی اور بچے کی دونوں کی جان کو خطرہ ہے کوئی تو ہوگا اپ کا اپنا۔۔۔۔
اس بچے کا باپ ڈاکٹر سوال کر رہی تھی۔
کیا کوئی نہیں ہے۔۔
نہیں کوئی نہیں ہے۔۔۔
کوئی نہیں ہے اس دنیا میں میرا۔۔۔
اس کی انکھ سے انسو نکل کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے۔
اب تو ڈاکٹر کو بھی ترس انے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔
