Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 17

Ayra by Aneeta

چھوڑو۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل کے ہاتھ کو جھٹکاائرہ نے۔۔۔۔

نہ چھوڑو تو۔۔۔

اخل نے پھر سے پکڑنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے اپنا ایک پاؤں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان میں رکھا تو وہ پیچھے ہوئی۔وہ ایک قدم پیچھے ہوتی تو وہ بھی ایک دم اگے ہوتا ۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔

منا رہا ہوں اپنی کیوٹ سی دوست کو۔۔۔۔۔۔

یہ کون سا طریقہ ہے منانے کا۔۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

پیچھے ہٹو اس نے دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کے پیچھے کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ کے قدم اس کے قدموں میں اڑے تو وہ زور سے بیڈ پر گر گئی اخل اسے پکڑنے کے چکر میں اس کے ساتھ ہی گرا تھا۔۔۔۔

پوزیشن یہ تھی کہ وہ نیچے تھی اور وہ اوپر تھا۔۔۔۔۔

اصولا تو اخل کو اٹھ جانا چاہیے تھا لیکن اس کی انکھوں میں انکھیں جمائے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔

کھلے بال گلابی ہونٹ۔۔۔۔

کہیں الجھی ہوئی انکھیں۔۔۔۔۔۔

وہ ان میں کھو ہی گیا تھا۔

اسے اپنے قریب سے محسوس کرنے کا موقع اسے ملا تھا تو وہ کیسے گوا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ہٹو۔۔۔۔۔

اس کے احتجاج پر وہ ہوش میں ایا ۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ بے قابو ہوتا وہ اس کے مقابل ہی لیٹ گیا تھا ہنستے ہوئے۔۔۔۔

ایک بات پوچھو۔۔۔۔۔

ائرہ اس کے ایک دم سے سنجیدہ ہونے پہ پریشان ہوئی اور حامی بڑی۔۔۔۔

حالانکہ وہ اس کی پہلی حرکت پہ حاصی خفا ہوئی تھی۔۔۔

کیا ۔۔۔۔

اتنی خوبصورت کیوں ہو۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل لیٹے ہوئے تھے۔۔۔۔

کیا مطلب ہے۔۔۔۔

ائرہ نے گردن اس کی طرف کی۔۔۔

مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ ائرہ نے اسے چپ کروایا۔۔۔۔۔

تمہیں لگتا ہے میرا تعلق ان لڑکیوں سے ہے جو اپنی تعریف سن کر خوش ہو جاتی ہیں اور سب بھول جاتی ہیں۔۔۔۔

وہ اٹھی ہی تھی کہ اخل نے ہاتھ اگے کیا۔۔۔۔۔۔

لیٹی رہو نہ۔۔۔۔۔۔۔

اس کی اس حرکت پہ وہ خفا ہوئی تھی۔۔۔

وہ اسے انکھیں نکالتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

میرے کہنے کا مطلب ہے وہ پزل ہوا تھا۔۔۔۔

تم لیٹو میں جا رہا ہوں اپنے روم میں۔۔۔۔۔

اور ایسا نہیں ہے تم خوبصورت ہو تو اسی لیے کہہ رہا ہوں۔

اگلے ہی لمحے وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

اچھا اس لیے مجھے دو دفعہ گرایا تم نے۔۔۔۔۔۔

اس نے بازو دیکھتے ہوئے کہا جو پہلے وہ زمین پر گری تھی تو اسے ہلکا سا درد تھا۔۔۔۔۔

دیکھو جو پہلے گرایا اس کے لیے سوری۔۔۔۔

لیکن ابھی وہ تھوڑا چپ ہوا تھا۔۔۔۔

کاش ایسے روز گرانے کا موقع ملے تو اس نے دل ہی میں کہا تھا۔۔

ابھی کیا ائرہ نے فورا سے سوال کیا۔۔

اس کی حرکتیں پہلے ہی اسے کچھ عجیب سی لگ رہے تھی۔۔

مطلب ابھی تم بیڈ پہ گری ہو چوٹ تو نہیں لگی نا۔۔ ۔۔

اس کی بات زبان پہ اتے اتے رہ جاتی تھی۔محبت کے چکروں میں کہیں دوستی نہ گواہ بیٹھے یہی سوچ کے وہ چپ کر جاتا تھا۔۔۔۔۔

پہ کنٹرول اب اس کا شاید نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔

تو کیسا رہا اج

وہ اٹھا کھڑے ہوتے اس نے شرٹ کی سلوٹوں کو ٹھیک کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

ساری پریس کا ستیا ناس کر دیا تھا تم نے ائرہ۔گرتے ہوئے اس نے شرٹ کو زور سے پکڑ لیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں ائرہ نے اسے ساری دستان سنا دی تھی جو اسے ارڈر ملا تھا اس کی بھی۔۔۔۔۔۔

اخل نے ابھی تو کوئی ری ایکٹ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اسد کے بارے میں باخبر تھا اسے وہ ایک کلائنٹ ہی سمجھ رہا تھا۔۔۔۔

وہ ابھی اسے بتا ہی رہی تھی کہ اس کے موبائل کے نوٹیفکیشن مسلسل ٹرن ٹرن کر رہی تھی اخل نے غصے سے اس کا موبائل اٹھایا۔۔۔۔

وہ اخل کے پاس ہی تھا اس نے اپنے پاکٹ میں ڈال لیا تھا۔۔

انسٹاگرام کے بہت زیادہ نوٹیفکیشن تھے اس نے فورا سے انسٹاگرام اوپن کی۔۔۔۔۔۔

ائرہ کی ٹیگ پکچر تھی اسد نے لگائی تھی ۔۔۔۔

وہ ایک نظر پکچرز پھر ایک نظر ائرہ کو دیکھتا۔۔۔

اسد ۔۔۔۔۔

پہلے دن ہی تم نے پکچرز بنانا شروع کر دی ہاں۔۔۔۔۔

اس کے چہرے پہ غصہ رونما ہو رہا تھا۔۔۔

کون سی پکچر ائرہ کھڑی ہوئی اور موبائل دیکھنے لگی ہاں یہ گروپ پکچرز ہیں وہاں پہ بنائیں گئی تھی تو میں کیسے انکار کرتی ۔۔۔۔

تو گروپ پکچرز بنانی تھی نا اس کے ساتھ اکیلے کیوں بنائی۔۔۔۔۔

وہ غصے سے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔

اس کے ساتھ بھی تو میں نے کام ہی کرنا ہے نا۔

اس نے کہا تو میں نے بنا لی۔۔۔۔۔۔۔

میں یہ پیج ہی ختم کر رہا ہوں اس نے کلک کیا ہی تھا کہ ائرہ نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔

روکنے کی پوری کوشش کر رہی تھی لیکن وہ موبائل اس نے اونچا کر لیا تھا۔۔۔۔

پلیز نہیں نا پلیز تمہیں میری قسم۔۔۔۔

وہ ایک دم سے رکا تھا۔۔۔۔

اس نے موبائل کو پیچھے کیا اور ایک نظر ائرہ کو دیکھا۔۔

اور تمہیں کیوں لگا کہ میں تمہاری قسم پہ رک جاؤں گا۔۔۔۔

کیوں کیا میں دوست نہیں ہوں تمہاری۔۔۔

دوستی کی قسم سے کوئی نہیں رکتا ائرہ کوئی سپیشل ہوتا ہے تب بھی ہوتا ہے۔۔۔۔

وہ اسے مدے کی طرف لے کے انا چاہتا تھا۔۔

اسے ایک اورچانس ملا تھا کیسے گوا سکتا تھا

اچھا۔۔۔

ائرہ کچھ سوچتے ہوئے روکی۔۔۔۔۔

تو پھر تمہیں ملیحہ کی قسم۔۔۔۔

وہ اچھا خاصا بدمزہ ہوا تھا موبائل اس کے ہاتھ میں تھما کے وہ غصے سے باہر چلا گیا۔۔

ملیحہ ملیحہ ملیحہ۔۔۔

اس ملیحہ کا قصہ میں اج ہی ختم کرتا ہوں۔۔۔۔

تم ہو دل میں تم وہ غصے سے بولا تھا۔۔۔

کب سمجھے گی یہ۔۔۔۔

____

وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ اس کا موبائل ساؤنڈ کرنے لگا اس نے کان کے ساتھ لگایا سمی کی کال تھی ۔۔۔۔۔۔

تو پارٹی پہ ا رہا ہے نا۔. ۔

ملیحہ ا رہی ہے کیا۔۔۔

اس نے موبائل ایک کان سے دوسرے کان میں کے ساتھ لگایا۔

اور اپنے کمرے میں گیا اس نے قبد سے شرٹ نکالی وہ ساتھ ساتھ بات کر رہا تھا۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ ریڈی ہو چکا تھا۔

وہ جانا نہیں چاہتا تھا لیکن وہ ملیحہ کا اج حساب برابر کرنا چاہتا تھا۔۔۔

____

وہ نہیں ائے گا مجھے پتہ ہے اس کا ایمن۔۔

ملیحہ کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اخل پارٹی میں ا رہا ہے کیونکہ کافی دنوں سے اس نے یہ سب سکپ کیا ہوا تھا۔۔جب سے ائرہ ائی تھی اس کی زندگی میں۔

سمی نے مجھے خود بتایا ہے وہ ا رہا ہے۔

اور اس نے سپیشل تمہارا پوچھا تھا۔

کیا سچ میں وہ تھوڑا شوقد تھی۔

ہاں بابا سچ میں اب جلدی سے ا جاؤ۔۔

__$

تم کہیں جا رہے ہو۔۔۔۔

وہ ائرہ کو پارٹی کا نہیں بتانا چاہتا تھا کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ ان کی پارٹیاں کس ٹائپ کی ہوتی ہیں۔

وہ پہلی بار پارٹی میں ہی تو ائی تھی۔

مجھے سمی سے ملنے جانا ہے ضروری کام ہے رات کو دیر بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔

تم کھانا بھی نہیں کھاؤ گے اس نے معصومیت سے پوچھا۔

کیونکہ وہ ٹیبل لگا چکی تھی اور اسی کا انتظار کر رہی تھی۔

نہیں کام بہت ضروری ہے تم کھانا کھا لو پھر سو جانا۔۔

موبائل کے ساتھ نہ لگی رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے دیر ہو جائے گی۔۔

اوکے ٹھیک ہے۔۔۔

اسے سمجھاتے ہوئے وہ ہاتھ میں ربٹ بین پہن رہا تھا

ائرہ اس کی تیاری پہ حیران تھی۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ اسے گڈ بائے کر کے جا چکا تھا۔۔۔۔

_____

میں نے ایسا نفیس چہرہ نہیں دیکھا۔

اسد موبائل ہاتھ میں تھا اس کے ساتھ تصویر کو زوم کر کے دیکھ رہا تھا۔

تم پہلے کیوں نہیں ملی مجھے۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے اس کو اپنا نمبر دیا تھا اس نے ساتھ ہی میں فون ملایا۔۔۔

ائرہ جو کھانا کھا رہی تھی فون کی بیل بجتے ہی اس نے فون کو اٹھایا نمبر ان نون تھا لیکن کیک کا ارڈر ہوگا یہی سمجھ کر اس نے فون کان کے ساتھ لگایا۔۔

مس ائرہ دوسری طرف سے اواز ائی

۔۔۔

جی مس ائرہ بات کر رہی ہوں وہ چیئر سے اٹھی اور چیئر کو ٹیبل کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

اس نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ کو شیڈ پر رکھا۔۔۔۔۔۔

میں اسد بات کر رہا ہوں اپ سے ملاقات ہوئی تھی اج۔۔۔۔

اسد جی جی مجھے یاد ہے۔۔

لمبی چوری بات ہونے کے بعد یہ ڈیسائڈ ہوا تھا کہ اسد صبح ائے گا اور جیسا کام اسے چاہیے وہ ائرہ کو سمجھائے گا۔۔۔۔۔

لیکن کام تو صرف بہانہ تھا وہ تو ائرہ کے دل میں جگہ بنانا چاہتا تھا۔

___

سکائی شرٹ نیچے وائٹ چینز شرٹ کے بٹن اوپر والے کھلے ہوئے۔۔

گلے میں چین بڑی ہوئی شیپ۔۔

دلکش چہرہ۔۔۔

ہاتھ میں پہنی چین کو فولڈ کرتے ہوئے وہ پارٹی میں شامل ہوا تو تقریبا سبھی لڑکیوں کی نظریں اسی پر اٹک گئی۔۔

وہ پارٹی کی جان ہوا کرتا تھا لیکن اج کافی ٹائم بعد ایا تھا۔۔۔

لیکن انہی لڑکیوں میں ایک سائیڈ پہ ملیحہ بیٹھی تھی۔۔۔

جس نے وائٹ شٹ ٹاپ نیچے وائٹ ہی جینز۔

کمر بالکل حالی تھی۔۔۔

بہت ہی نازیبہ کپڑے تھے۔۔

لیکن وہ کیا جانتی تھی اب اخل کی چوائس کو

وہ اخل جسے چھوٹے کپڑوں والی لڑکیاں زیادہ پسند تھی۔

وہ ایک شال میں لپٹی ہوئی لڑکی پہ مر مٹا تھا۔۔۔۔۔

تم اس پارٹی میں میرے لیے ائے ہو مجھے جان کر بہت خوشی ہوئی ہے۔۔۔۔

ہاں میں صرف تمہارے لیے ایا ہوں لیکن تمہیں کچھ بتانے ایا ہوں۔۔

اسے اس کے قریب جاتے ہوئے اس نے پیچھے سے وائن کا گلاس اٹھایا۔

وہ جو سمجھ رہی تھی کہ اسے حگ کرے گا اچھی خاصی شرمندہ ہوئی۔۔۔۔۔

کیا اس نے حیرانگی کہا۔۔۔

کہ اتنے میں اخل نے پاس کھڑی ایک لڑکی کو اپنی باہوں میں بڑا۔۔۔

یہ تم کیا کر رہے ہو اس نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

لیکن وہ لڑکی خوشی خوشی اس کی باہوں میں ائی تھی۔۔۔

میں اپنی گرل فرینڈ چینج کر رہا ہوں تم سے دل بھر گیا ہے۔

اور یہ رہی میری نیو گرل فرینڈ۔

وہ چاہتا تو اسے سچ بتا سکتا تھا لیکن وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ ائرہ کو کوئی نہ کوئی نقصان ضرور پہنچا ئے گی۔اس لیے وہ ائرہ کوان سب سے دور رکھنا چاہتا تھا اگلے لمحےاخل نے پاس گزرتی لڑکی سے دو پیک لیے ایک اسے پلایا خود پیا اور پھر نہ جانے کتنی شراب اپنے اندر اتاری۔۔۔

اور پھر اس لڑکی کو باہوں میں بھر لیا۔۔۔۔

ملیحہ وہاں رک کر کیا کرتی اس کی انسرٹ بہت زیادہ ہو گئی تھی۔

اخل کے نام سے اس نے پارٹی میں اچھی خاصی واہ واہ کڑوائی ہوئی تھی

اج بھی اس نے کافی شوہیاں ماری تھی۔

اپنے اور اس کے ریلیشن کو لے کے۔

اب ساری پارٹی میں اس کا مذاق بن گیا تھا۔

اخل یہی تو چاہتا تھا کہ سب کے سامنے اس سے برکپ تاکہ دبارہ وہ اسے تنگ نہ کرے اور اس کی زندگی سے دفع ہو جائے۔

ورنہ وہ یوں ہی اٹکی رہتی۔

اس کے پیچھے اور ائرہ بھی اس سے تنگ ہوتی۔۔۔۔۔

وہ لڑکی جو اخل کی باہوں میں تھی اس نے اپنی دوست کو تنقید کی تھی کیونکہ اخل نے اسے پہلے ہی بتایا تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے۔۔۔

اس کی دوست پاس کھڑی ویڈیو بنا رہی تھی لیکن اخل کو علم نہیں تھا وہ ٹن ہو چکا تھا اور پوری طرح سے اس لڑکی کو باہوں میں لیے جھول رہا تھا۔۔۔۔۔

_____

یہ ابھی تک نہیں ایا میں کال کرتی ہوں۔۔۔۔

ائرہ نے فون ملایا۔۔۔۔۔

اخل ایک لمحے کے لیے رکا اور اس نے اپنے پاکٹ سے موبائل نکالا۔۔۔

بولو کیا ہوا۔۔۔

ائرہ کو لاؤڈ میوزک کی اواز ارہی تھی لیکن وہ تو کہہ رہا تھا کہ وہ کسی کام پہ گیا ہے۔۔

تم کہاں ہو ائرہ نے سوال کیا۔۔۔۔

میں بتا کہ ایا تھا کہ مجھے کام کے لیے انا ہے ائرہ اب سو جاؤ۔۔۔۔

اس نے غصے سے موبائل پاکٹ میں ڈالا اور پھر سے لڑکی کی طرف رخ کیا۔۔۔۔

ائرہ تھوڑی حیران ہوئی کہ کس لہجے میں بات کی ہےاس نے

لیکن پھر با مشکل انکھیں بند کر کے سو گئی ۔۔

______

اخل رات کو کافی دیر سے ایا تھا اور صبح کافی دیر سے اٹھا تھا ائرہ ناشتہ کر چکی تھی اب لون میں بیٹھی تھی

اسد کو اس نے تقریبا دن چار پانچ کا ٹائم دیا تھا انے کا۔

گڈ مارننگ وہ تقریبا ایک بجے اٹھا تھا۔۔۔۔۔

اتنی لیٹ گڈ مارننگ۔

کہاں تھے تم اس نے اپنا رخ پیچھے کیا اور اس سے سوال کیا۔۔۔۔

کتنی بار پوچھنا ہے۔۔۔۔

وہ استین فولڈ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔

اور تم نے مجھ سے رات کو کیسے بات کی تھی۔۔۔۔

اسے کچھ یاد نہیں تھا۔۔۔

رات کو ہم نے کب بات کی۔۔۔

ائرہ تھوڑی حیران ہوئی۔۔۔

کال کی تھی میں نے تمہیں۔۔۔۔

وہ جو ریلیکس بیٹھا تھا ایک دم سے چونکا کے پتہ نہیں اس نے کیا کہا اسے۔۔۔۔۔۔

وہ جو موبائل کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔۔۔

ایک دم سے کمر سیدھی کر کے بیٹھی۔۔۔

ایک نظر موبائل کو اور پھر ایک نظر اخل کو دیکھتی اخل بھی شوقد تھا کہ ایسا کیا دیکھ لیا اس نے۔۔

تم کتنے گٹھیاں انسان ہو۔۔۔

تمہیں ذرا بھی شرم نہیں اتی یہ سب کرتے ہیں۔

کیا کیا ہے میں نے۔۔۔۔

جھوٹے ہو تم ۔

تم تو کام کے لیے گئے تھے نا یہ سب کیا ہے۔۔

تم میری سوچ سے زیادہ گھٹیا ہو۔

اخل کا غصہ بڑھ رہا تھا وہ کھڑا ہوا اور اس کے ہاتھ سے موبائل کھینچا۔۔۔

لیکن ویڈیو دیکھتے

وہ شرم سے پانی پانی ہو گیا تھا۔۔۔

وہی رات والی ویڈیو تھی۔

وہ ویڈیو جو لڑکیوں نے ریکارڈ کی تھی اسے ٹیگ کر کے انسٹاگرام پہ لگائی تھی۔۔۔

وہ کیا ایکسپلین کرے اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اس نے موبائل کو بند کر کے ٹیبل پر رکھا۔۔۔

ائرہ وہ میں۔۔۔۔

وہ اس سے خوف اس کرنے لگی تھی بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے وہ اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا لیکن روکتا تو کسی منہ سے روکتا۔۔۔

شٹ۔۔۔۔

اخل نے اپنا فون کان کے ساتھ لگایا وہ شدید غصے میں تھا۔

یہ ویڈیو بھی ڈیلیٹ کرو اور میں شام میں ملتا ہوں تمہیں۔

اس حرکت کا حساب برابر کروں گا میں تم فکر مت کرنا اس نے اسے دھمکایا۔۔۔۔

وہ لڑکی بھی کافی ڈر گئی تھی اس نے فورا سے ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا تھا لیکن جس نے دیکھنی تھی اس نے تو دیکھ لی

ائرہ کے دماغ سے کیسے ڈیلیٹ کرے گا۔۔۔

______

ائرہ کو کافی مایوس کیا تھا اس نے

وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اس کو

سارا دن ہی کمرے میں بند رہی تھی۔

اخل میں ہمت نہیں تھی اسے منانے کی۔۔

اسد نے فون کر کے اسے انے کا بتایا تھا وہ ملنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن مجبوری میں ایسے ملنا پڑا۔۔

اسد تقریبا وقت سے پہلے ہی اگیا تھا

وہ گیسٹ روم میں بیٹھے تھے کے اخل اپنے کمرے سے باہر ایااس کو دیکھتے ہی اس کا پاڑا پھر سے ہائی ہو گیا۔

اس نے زور سے اپنے روم کا دروازہ بند کیا اور ان کی طرف ایا۔۔۔

لیکن ائرہ اس سے کوئی بات نہیں کر رہی تھمنہ بھی نہیں لگا رہی تھی۔

۔۔۔۔

وہ ناراض تھی اگر وہ چاہتا تو اسے ایک منٹ میں باہر نکال سکتا تھا لیکن اس کی ناراضگی سے ڈرتا تھا۔۔۔۔

ہیلو اس نے اتے ہی اسد کو دیکھا اور ہیلو کیا اور ایک نظر ائرہ کو دیکھا۔۔۔

اسد کھڑا ہوا اور ہاتھ اگے بڑھایا میں مس ائرہ اپ انٹروڈکشن نہیں کروائیں گی۔۔۔۔

مسٹر اسد میں یہاں رینٹ پہ رہتی ہوں اور یہ مکان مالک ہے۔مسٹر اخل میلان۔۔۔

منہ سے دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔

۔

اس نے لفظ کو کھینچتے ہوئے کہا تھا اور غصے سے اخل کی طرف دیکھا وہ اچھا خاصا شوقد ہوا تھا۔۔۔۔۔

لیکن بہت جلد میں کہیں اور شفٹ ہو جاؤں گی۔۔۔۔

اخل میلان نام سنا ہے میں نے اپ کا بھی اور اپ کے فادر کا بھی۔۔۔۔۔

میں اپ کو اپنا بیکنگ روم دکھاتی ہوں ائیں۔

وہ اخل کی طرف غصے سے دیکھ کر انہیں لے کر اپنے بیکنگ روم میں چلی گئے تھی۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔

نے غصے سے ائرہ کی طرف دیکھا لیکن وہ کہاں رکنے والا تھا ٹیبل سے ایک ایپل اٹھایا۔

اسے اچھالتے ہوئے وہ بھی ان کے پیچھے گیا۔۔۔۔۔

ائرہ نے اسے نظر انداز کیا اور اسد کو کمرہ دکھانے لگی لیکن اسد تو مسلسل اسے دیکھ رہا تھا اور یہ نوٹ اخل بی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اخل شیڈ پر بیٹھ گیا تھا اور بہت غصے سے ایپل کو کھا رہا تھا۔

کیسا لگا اپ کو یہ۔۔

اپ کی طرح بہت خوبصورت ہے اس کی یہ بات سنتے ہی اخل نے گلا صاف کیا تھا۔۔۔۔۔۔

تجھے خوبصورتی میں دکھاؤں گا وقت انے پہ اس نے دل ہی دل میں کہا تھا۔۔۔۔۔۔

میں اپ کو لوگو کے سیمپل دکھاتی ہوں ۔۔۔۔

وہ بہت اوپر پڑے تھے ائرہ نے ہاتھ اٹھایا لیکن وہ وہاں تک نہیں پہنچ پائی تو اسد مدد کرنے کے لیے اگے بڑھا لیکن اخل نے کہا رکو۔۔۔۔۔

میں اٹھا کے دیتا ہوں وہ وہیں کھڑی تھی ہاتھ اس کا ابھی بھی اوپر تھا کے اخل نے پیچھے سے اس کے گرد دائرہ تنگ کیا۔۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ اور بازو کو چھوتے ہوئے اس نے اس کے بازو کو نیچے کیا۔۔۔۔۔

ائرہ اس کی حرکت کو محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔۔

ائرہ نے نکلنے کی کوشش کی لیکن اس نے تھوڑا اور دائرہ تنگ کیا۔۔۔۔۔۔

وہ اسد کے سامنے شرمندہ ہو رہی تھی ایک دم سے اسے پیچھے کی اور سائیڈ پہ ہو گئی۔۔۔۔۔۔

اخل نے لوگو اٹھایا اور ٹیبل پہ رکھا اور ایک انظر پھر ائرہ کو دیکھا۔۔۔

اسد ان سب میں پہچان گیا تھا کہ ائرہ میں غصہ ہے یا اس سے جان چھڑا رہی ہے۔۔۔۔۔۔

اسے بھی اخل پہ شدید غصہ ا رہا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔

مس ائرہ اگر اپ چاہیں تو ہم اپ کو کمپنی کی طرف سے گھر دے سکتے ہیں اپ کو کرائے پہ رہنے کی ضرورت نہیں ہے اس نے غصے سے اخل کی طرف دیکھا اور اسے افر کیا

اخل کا غصہ بے قابو ہو رہا تھا وہ غصے سے باہر کی طرف گیا۔۔۔۔۔

اسد بھی تھوڑی دیر بعد جا چکا تھا اور ائرہ پھر سے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی لیکن اب وہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ بگنگ روم میں ائی تھی۔ ۔۔۔

___

ڈیڈ وہ ایک ویڈیو تھی۔

اب اپ بات کو بڑھا رہے ہیں۔

اخل کی ویڈیو کامران میلان نے بھی دیکھ لی تھی ۔۔۔۔۔۔

لیکن اس نے انہیں باتوں میں الجھا لیا تھا وہ پہلے بھی ایسے ہی کرتا تھا یہ اس کا پہلا کارنامہ تھوڑی تھا جو ان کے سامنے ا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن اس سے پہلے تو وہ ان ٹاپکس پہ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا لیکن یہ ائرہ کی وجہ سے تھا کہ اسے فکر تھی۔

اس نے بڑے پیار سے انہیں ایکسپلین کیا تھا۔اگر پہلے والا اخل ہوتا تو غصے سے فون ہی کاٹ دیتا۔۔۔۔۔

کامران میلان بھی مطمئن ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔

کیونکہ انہوں نے تبدیلیاں دیکھی تھی اس میں۔۔۔۔۔

_____

$$$$

مخروج۔۔۔

عصر نام ہے میرا ائرہ۔۔

اس نے ہنستے ہوئے ائرہ کو فون ملایا تھا یقینا وہ اپنے پاؤں مضبوط کر چکا تھا۔۔۔

اسد کو گئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی

اس کا موبائل بچا تو اس نے فورا سے اٹھا کے کان کے ساتھ لگایا۔

مس ائرہ ۔۔۔۔

کون بات کر رہا ہے اس نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔

وہی جس پہ تھپڑ قرض ہے تمہارا۔سود سمیت واپس کرنا ہے۔۔۔

ائرہ سمجھ چکی تھی اس نے فون سے فون بند کرنا چاہا ایک منٹ فون بند کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ تمہاری جگہ میں تمہاری بہن کو خرید لوں گا۔۔۔

تمہں 20 لاکھ میں بیچ سکتا ہے تو اس کا زیادہ سے زیادہ 30 لاکھ لگائے گا کیونکہ چھوٹی ہے بہت۔۔۔۔

یہ تم کیا بکوس کر رہے ہو خبردار جو مہرو کے بارے میں ایسا کچھ سوچا بھی۔۔۔۔۔

وہ غصے سے چلائی تھی۔

اگر میری اور تمہاری کوئی بھی بات اخل تک پہنچی تو یقینا میں وہی کروں گا جو میں کہہ رہا ہوں

تمہارے باپ تک پہنچنا اتنا مشکل کام نہیں ہے ساری انفارمیشن میرے پاس ہے میں بھیج بھی دوں گا

بس ایک رات

وہ ہنسا تھا مجھے تھپڑ کا حساب برابر کرنا ہے

تھوڑی سی زحمت اٹھانی پڑے گی اور اگر تم یہ زحمت نہیں اٹھاؤ گی تو تمہاری بہن کو ہر روز یہ زحمت اٹھانی پڑے گی۔

کیا کہہ رہے ہو تم اب اس کی انکھ میں انسو تھے

وہ سب جو مشکل سے سنبھلا تھے ایک دم سے بکھرتا ہوا نظر ا رہا تھا اخل کو بھی بتائے تو کیسے بتائے اس کی اصلیت بھی تو کل وہ دیکھ چکی تھی وہ ابھی تک نہیں بدل تھا۔۔۔

تم ایسا نہیں کرو گے نہیں پلیز۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے بس پھر میرے حکم کا انتظار کرو جہاں بلاؤں گا وہاں ملنے ا جانا۔۔۔۔

میں بات کو زیادہ لمبا نہیں کروں گا بس ایک دن کی ملاقات تھپڑ کا حساب برابر ہو جائے گا۔۔۔

اور ویسے بھی پیسے دے چکا ہوں تمہارے۔۔۔۔

تمہاری مرضی کے داموں خریدا تھا۔۔۔۔۔

اخل کے قدموں کی اہٹ محسوس کرتے اس نے فون بند کیا تھا اور اپنے انسو صاف کیا تھے۔

تو چلا گیا تمہارا نیا عاشق۔۔۔۔۔

وہ غصے سے اندر ایا تھا۔

دبارہ مجھے یہ اس گھر میں نظر نہ ائے۔

سن رہی ہو نا وہ کب سے بولے جا رہا تھا لیکن ائرہ کی نظر ایک ہی جگہ ٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔

اس نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔

مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو حال ہے

مجھے چین سے کیوں نہیں جینے دیتے تم سب وہ غصے سے چیہی تھی۔۔۔۔

کیا ہوا ہے وہ پر شان ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

دیکھو وہ ویڈیو اسے لگا ویڈیو کی وجہ سے ہے وہ ایکسپلین کرنے ہی والا تھا کہ وہ غصے سے باہر کی طرف گئی اس کی انکھ میں انسو تھے۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

وہ پیچھے ہی بھاگا تھا لیکن اس نے اپنا روم لاک کر لیا تھا۔

کیا ہوا ہے کھولو دروازہ وہ ہینڈل کو پریس کرتے ہوئے پوچھ رہا تھا اور سچ میں بہت پریشان تھا۔۔۔۔

ائرہ پلیز کھولو۔۔۔۔

اس کی اواز سنی ان سنی کر دی تھی اس نے۔ ۔

ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔

اپنی بہن کی زندگی میں اپنے جیسی کبھی نہیں چاہوں گی۔

یا اللہ کوئی راستہ دکھا میری مدد کر۔۔۔…

میں سب کچھ چھوڑ چکا ہو یار۔۔۔۔۔۔۔

سب کچھ۔۔۔۔۔

وہ اخری غلطی تھی میری۔۔۔۔۔۔

مجھے تمہاری قسم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں کبھی پارٹی کا رخ بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔

وہ بے بسی کے عالم میں بولتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

میں صرف تمہارے لیے گیا تھا۔۔۔۔۔۔

یہ اس نے شائستگی سے کہا تھا صرف اس کے کانوں تک پہنچی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

اج اسے میں سچ شرمندگی ہو رہی تھی اپنی ہر حرکت پر۔۔۔۔۔۔۔

میں سب چھوڑ چکا ہوں۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اخری دفعہ کہا اور ہینڈل کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔

لڑکھڑاتے ہوئے

وہ بھی دروازے کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ کو اپنی ہی فکر تھی۔

اسے کوئی راستہ نظر نہیں ا رہا تھا۔۔۔۔

اخل کو تو وہ بتا بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔

اور وہ بتانا چاہتی بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔