Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 27

Ayra by Aneeta

مجھے جب سونا ہوگا میں ا جاؤں گی تم جاؤ۔۔۔۔۔

اور اب میرے قریب بھی انے کی کوشش کی نا تو میں پورے گھر کو اکٹھا کر لوں گی۔۔۔

اس نے دونوں بازوں کو باندھا تھا سردی کی وجہ سے۔۔۔۔

دیکھو بہت ٹھنڈ ہے۔۔۔۔

میں ایسے نہیں سو سکتا تمہیں حگ کر کے سوؤں گا نہ دیکھو تمہیں بھی کتنی سردی لگ رہی ہے۔اس نے انکھ ماری اور کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔

میں نے کہا میرے قریب نہیں انا اس نے ہاتھ کی انگلی سے وون کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

وہ جو ریلیکس بیٹھا تھا ایک دم کھڑا ہوا

میں تو ڈر گیا۔۔۔۔

دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے اور اسے گھورنے لگا۔۔۔۔۔

اب شرافت سے اندر چلو گی یا اٹھا کے لے کے جانا پڑے گا بس اتنا بتاؤ میں اور ٹائم ویسٹ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔

تم اپنی بات سے منکر رہے ہو وعدہ کیا تھا تم نے مجھ سے۔۔

او ففففففففف۔۔۔۔

اب چلو۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک ہی بات سن سن کر تنگ اگیا تھا۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ پکڑ کر اندر کی طرف لے کے جانا چاہا۔۔۔

ائرہ نے اس کے ہاتھ پہ زور سے کاٹا۔۔

اوچ۔۔۔۔۔۔۔۔ائرہ۔۔۔

اس نے ہاتھ کو منہ میں دبایا وہ ساتھ ہی وہاں سے بھاگ گئی۔۔۔۔۔۔

آئرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے اس کے پیچھے ایا۔۔۔۔

ائرہ نے کمرے میں جا کے اندر سے دروازہ لاک کر لیا۔۔۔۔

ائرہ کیا تماشہ ہے کھولو اسے۔۔۔۔۔۔

اس نے ہینڈل کو دو تین دفعہ پریس کیا۔۔۔۔

زیادہ زور سے اسے نوک بھی نہیں کر سکتا تھا ورنہ گھر والے جاگ جاتے۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ اپنے لیے خود مصیبت کھڑی کر رہی ہو کھولو اسے۔۔۔۔

اس بار اس نے غصے سے کہا تھا اور پھر سے ہاتھ کو دیکھا اس نے بہت زور سے کاٹا تھا۔۔۔۔

کیا کینچی جیسے ڈانٹ ہے اس کے۔۔۔۔۔۔

میں نہیں کھولنے والی تم جھوٹے انسان ہو وعدہ خلافی کرنے والے ۔۔۔۔۔

اوکے ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔

بند رکھو۔اس نے پاؤں زور سے مارا دروازے کو۔۔۔

وہ باہر کی طرف ایا تھا ہال کے ڈرا میں سے اس نے چابیاں تلاش کی۔جو تھوڑی مشقت کے بعد اسے مل گئی تھی۔۔۔

چابیوں کو اگے لہراتے ہوئے وہ ہنسا۔۔۔۔۔

بیچاری کا ہر پلان فیل ہو رہا ہے۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں وہ دروازے کے پاس ایا تم نہیں کھول رہی پکا نا۔۔۔۔

ہاں ایک دفعہ سنائی نہیں دے رہا وہ بڑے ارام سے لیٹ گئی تھی۔۔۔

بلینکٹ کو سیدھا کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ جانتی تھی وہ دروازہ توڑ نہیں سکتا ورنہ گھر۔ والے جاگ جاتے۔۔۔۔۔۔

اوکے اس نے چابی کو لاک میں گھسایا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اندر ا چکا تھا۔۔۔۔

اب نہیں بچنے والی۔۔۔۔۔

یہ جو کاٹا ہے نا پہلے اس کا حساب دینا پڑے گا۔

تم۔۔۔۔۔

اس نے روم لاک کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ کے دل نے تیزی سے دھڑکنا شروع کر دیا تھا۔۔۔

اسے بہت خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

وہ مشکل سے بول پائی تھی۔۔۔۔۔

دیکھو پہلے میں صرف مذاق کر رہا تھا لیکن تمہاری اس حرکت نے مجبور کر دیا ہے اب ۔۔۔۔

اور اب مزید کچھ کیا نا تو پھر بالکل بھی اچھا نہیں ہونے والا۔اس نے چابیوں کو بیڈ پہ پھینکا۔۔۔۔

اس نے ایک نظر چابیوں کو دیکھا اور پھر کھڑی ہو گئی۔۔۔

کس حق سے یہ سب کر رہے ہو تم۔۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے پاس ایا ۔

لیگل وائف اور نکاح کیا ہے میں نے۔۔۔۔

لیکن یہ لیگل نکاح تم نے ان لیگل طریقے سے کیا ہے۔۔۔۔

مجبوری کا فائدہ اٹھایا تم نے ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے ڈیورس چاہیے بس ڈیورس اور اگر تم نے مجھے ہاتھ لگایا تو میں شور مچا کے پورے گھر کو یہاں پہ اگھٹا کر لوں گی۔۔۔۔

کیوں موڈ خراب کرنے پہ اٹل ہو اب بس کرو۔۔۔

بہت رات ہو گئی ہے۔مجھے سونا ہے صبح جلدی افس جانا ہے۔۔۔۔۔

اتنی چھٹیاں کرنے کا مجھے کیا فائدہ ہوا۔اپنی وائف کو ایک کس بھی نہیں کی میں نے۔۔۔۔۔

وہ پھر سے اگے بڑھا تھا اس کے ہونٹوں کو قید کرنے کے لیے۔

کے ائرہ نے تھپڑ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا اخل نے اس کو زور سے پکڑا اور نیچے جھٹکا۔۔۔۔

اب اسے بھی شدید غصہ ایا تھا۔۔۔۔۔

سارے موڈ کا ستیاناس کر دیا۔۔۔

اسے پیچھے ڈھکیلتے ہوئے وہ اپنی سائیڈ پہ ایا تھا۔۔۔۔۔

ایڈیٹ اس نے وچ اتارتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

اور اس کو بھی اب تسلی ہو گئی تھی کہ اب کوئی حرکت نہیں کرے گا وہ ارام سے اپنی سائیڈ پہ بلینکٹ سیدھا کرنے لگی۔کیونکہ سردی بہت زیادہ تھی اور وہ صوفے پہ نہیں سو سکتی تھی بنا بلینکٹ کے۔۔۔۔۔۔

بہت احسان فراموش ہو تم۔۔۔۔

پر اخل کسی بھی صورت بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تھا پھر سے اسے دیکھنے کے بعد جیسے اس کا نشہ طاری ہو گیا ہو۔۔۔

تم پر گئی ہو

میرے پہ جاتی تو ایسی تو ہرگز نہیں ہونا تھا تم نے۔۔۔۔۔

تم تو ایسے بات کر رہے ہو جیسے غلام ہوں میں تمہاری۔

یا پھر قرضدار۔۔۔۔۔

قرض دار تو ہو تم۔۔۔۔۔

ایک دم سے اس نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔

جیسے نئی ترکیب مل گئی ہو۔

میرے 50 کیکس کدھر ہیں ائرہ۔۔۔

میں نے تو ایڈوانس پیمنٹ کی تھی۔۔۔۔۔۔۔

دے دو گی واپس پسیے۔۔۔۔۔

ابھی دو مجھے ابھی چاہیے۔۔۔۔۔

اور اگر پیسے نہیں ہیں نا تو میرے پاس اور اپشن ہے۔۔۔

کیا اپشن اس کے پاس پیسے تو نہیں تھے تو اس نے اپشن سننا ہی بہتر سمجھا۔۔۔۔

کس۔۔۔۔۔

ائرہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

مطلب 50 کس۔۔۔

وہ تھوڑا اس کے قریب جکا۔۔۔

وہ بھی یہاں اس نے اس کے ہونٹوں پے ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔

تمہارا قرض میں اتار دوں گی صبح۔۔۔۔۔

وہ جانتی تھی کہ اس نے اس کے پیسے کھائے ہیں۔مطلب ویسٹ ہی ہوئے ہیں لیکن اس نے لیے تو ہیں۔

تو اسے کچھ سمجھ نہیں ائی تو اس نے یہی کہہ دیا۔

تمہارا قرض میں اتار دوں گی صبح اس نے بلینکٹ سیدھا کیا اور اپنا رخ موڑا۔۔۔

گھٹیا انسان۔۔۔۔۔

اور ایک کس کا دورانیہ پانچ منٹ کا تو ہوگا۔۔۔۔

بلینکٹ کو اس کے اوپر سیدھا کرتے ہوئے وہ ہنسا تھا۔۔۔۔

اور اس کے اوپر جھکتے ہوئے شائستگی سے بولا اور پھر اپنی سائیڈ پہ ہو گیا۔۔۔۔۔۔

۔

میں نے کہا نہ میں صبح تمہارا قرض اتار دوں گی۔

میں تمہیں 50 کیکس بنا کے دوں گی۔۔

اخل جو لیٹنے والا تھا ایک دم سے رکا۔۔۔۔

اور اگر کیکس نہ بنے تو پھر یہی اپشن ہے یاد رکھنا۔

کیکس بن جائیں گے اب سونے دو پلیز پلیز۔۔۔۔۔۔

ہاں سو جاؤ میرا بھی موڈ خراب کر دیا ہے تم نے یہ صبح برابر کروں گا میں۔۔۔۔

دیکھتا ہوں کیسے بناتی ہو کیکس اس نے دل ہی دل میں کہا ۔۔۔

____

ہمیں اس کی پہلی شادی سے کوئی اعتراض نہیں وہ ہماری بیٹی سے دوسری شادی کر لے۔۔۔

لیکن پہلی شادی کو کو اناؤنس نہیں کرے گا۔۔۔۔

وسیم کی نظر بس بزنس پر تھی۔۔۔۔۔

لالچ ایسی کہ بیٹی بھی قربان کرنے کو چلاتھا۔۔۔۔۔

میلان کامران تھوڑا پریشان ہوا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا۔اخل کو منانا مشکل ہے۔

اس کے افس پہنچنے سے پہلے ہی وسیم وہاں پہ موجود تھا اور اپنی افر اس نے اس کے اگے رکھی۔۔۔۔۔

___

ہاں تو 50 کیکس ریڈی رکھنا۔۔۔۔۔

ورنہ اس نے استین کے بٹن بند کرتے ہوئے کہا وہ افس کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔

بلو پینٹ کوٹ نیچے وائٹ شرٹ۔۔۔

ائرہ الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔

یہ 50 کیک تم نے اپنی ایکسوں کو کھلانے ہے۔۔۔۔۔۔

تو یہ 50 بھی پورے نہیں ہوں گے پھر تمہیں سو بنوانے پڑیں گے۔یا پھر اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو بال سیدھے کررہا تھا ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔

اب ایکس بھی تم ہو اور نیکسٹ بھی۔۔۔۔۔۔۔

اس نے کوٹ پہنتے ہوئے کہا۔اور پھر سے ایک دفعہ شیشے میں دیکھا۔۔۔۔۔

دینی تو تم نے کس ہی ہے ائی نو۔۔۔

تو دو تین ابھی دے دو رات کو بوج ہلکا ہو جائے گا۔۔۔۔

اس کے قریب سے اس نے لیپ ٹاپ اٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

ائرہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

اوکے ریلیکس پھر میں رات کا انتظار کروں گا وہ باہر چلا گیا۔۔۔۔۔

فلرٹی اس نے شاستگی سے کہا تھا۔۔۔۔۔

اور ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کو بیڈ پہ گرا دیا۔

________

پھوپو ایسی کوئی بات نہیں میں اپ کو کیوں بھول جاؤں گی۔

بس یہاں پہ مصروفیات تھوڑی زیادہ ہیں۔

اپ بتائیں۔۔۔

حرا کسی ہے۔۔۔۔

بیٹا اس کا تو نہ ہی پوچھو تو اچھا ہے۔

کیا مطلب کیا کر دیا پھر سے اس نے۔۔

جتنا تمہارے ساتھ اس نے برا کیا تمہیں پھر بھی فکر ہے۔

پھوپو میں نے بلا دیا ہے۔۔۔

بس بیٹا۔۔۔۔۔۔

لیکن اللہ کو یاد تھا سب وہ دیکھ رہا تھا۔۔

کسی لڑکے نے اس کی تصویریں کسی لڑکے کے ساتھ تمہارے انکل کو دکھا دی تھی۔

خالدہ روتے ہوئے بتا رہی تھی۔

تمہارے انکل نے اس کی شادی گاؤں کے ہی ایک بندے سے کر دی اس کی پہلے ہی شادی تھی دو بچے تھے۔۔۔

پوپو یہ کیا کیا انکل نے۔۔۔۔

یہ تو بہت زیادتی ہوئی اس کے ساتھ ۔۔۔

بس بیٹا تمہاری بد دعائیں لے ڈوبی ہیں اسے۔

پھپو یقین مانے میں نے کبھی بددعا نہیں دی اسے۔۔

وہ میری بہنوں جیسی ہے میں کیوں بددعا دوں گی۔

اللہ تمہارے جیسی بیٹی ہر ماں باپ کو دے۔۔۔

عدنان تو بڑا بدبخت تھا۔

اللہ نے میرے بھائی کو تم جیسے نعمت سے نوازا تھا لیکن وہ قدر نہیں کر سکا۔۔۔۔

ہیرے کی پہچان نہیں کی اس نے۔

اور دیکھو کیسے ذلت کی موت مارا۔

بس یہ کہانیاں اللہ کی لکھی گئی ہوتی ہیں بیٹا۔

انسان کتنا ہی فراموش کر لے۔

راز کھل ہی جاتے ہیں۔

پھوپو ابا رونا بند کریں ورنہ میں بھی رو دوں گی۔

اور مجھے سچ میں حرا کے لیے دکھ ہو رہا ہے وہ یہ ڈیزرو نہیں کرتی تھی

۔۔

خالدہ اور ائرہ کی باتیں یوں ہی چلتی رہی۔۔

____&&

میدہ نہیں ہے گھر میں۔۔۔۔

اور کیک کا باقی سامان بھی اس نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا۔۔

اخل صبح جتنا بھی سامان تھا کیک بنانے کے لیے وہ اس نے کچن سے ہٹوا دیا تھا۔۔۔۔

اسے اپنی شامت نظر ارہی تھی رات کو۔۔۔۔۔۔

کے اچانک اس کی نظر موبائل پر پڑی۔۔۔۔۔۔

اسد۔۔۔۔۔

اس کے چہرے پہ خوشی کی لہر ائی وہ بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں ائی۔۔۔۔

اسد۔۔۔۔۔

اس نے جیسے ہی فون ملایا تھا اس نے فون اٹھا لیا تھا۔

تھوڑی ہی دیر میں اس نے اسے ساری بات بتائی تھی کہ اسے 50 کیکس بنانے ہیں کیا وہ وہاں پہ بنا سکتی ہے۔

اسد کو اور کیا چاہیے تھا دیدار یار سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے۔

اس نے خوشی خوشی اسے انوائٹ کیا۔۔۔

لیکن ائرہ نے وجہ نہیں بتائی تھی کہ کیوں اور کس لیے چاہیے۔۔۔

وہ بشرا بیگم سے اجازت لے کر۔

تھوڑی دیر میں اسد کے پاس پہنچ چکی تھی۔

اخل افس تھا۔۔۔۔۔

ویسے یہ 50 کیکس کس لیے۔۔۔۔۔۔

ائرہ سوچ میں پڑ گئی کہ اسے کیا جواب دے۔۔

وہ دونوں ریسٹورنٹ کے کچن میں کھڑے تھے۔

وہ ایکچولی شادی سے پہلے مجھے 50 کیکس کا ارڈر ملا تھا لیکن پھر یہ سب کچھ اتنی جلدی ہوا۔۔

میں بنا نہیں پائی انہوں نے پیمنٹ ایڈوانس کر دی تھی۔

پر تم فکر مت کرو میں پیسے واپس کر دوں گی جتنا بھی خرچہ ہوگا۔۔

اسد تھوڑا حیران تھا۔کیونکہ وہ میلان کامران فیملی کی بہو تھی اور اس کے پاس پیسے نہیں۔

یہی بات اسے فکر میں مبتلا کر رہی تھی۔

ائرہ کم ان۔۔۔۔۔۔

تم چاہو تو لاک کیکس بھی بنا سکتی ہو۔۔۔۔۔

مجھے بھی تم سے بہت سی باتیں پوچھنی تھی کتنی کالز کی میں نے تمہیں۔۔۔

اچانک شادی اور وہ بھی اخل سے ۔۔

یہ شادی بس ایسے ہی ہے میں اس سے ڈیورس لے لوں گی۔

اسد کی جان میں جیسے جان ائی ہو۔۔۔۔۔۔

کیا ایسا ہے اس نے خوشی سے کہا۔۔۔۔۔

____

ڈیڈ اپ پاگل ہو چکے ہیں۔

میں شادی کر چکا ہوں اپ اچھے سے جانتے ہیں۔

اور وہ بھی بے وقوف ایک شادی شدہ ادمی کو اپنی بیٹی دے رہا ہے۔

کیا اتنی فالتو ہے۔تو کسی اور کے پلے بند ھے۔۔۔۔

ابھی ایک کو سنبھالنا مشکل ہے اس نے شائستگی سے کہا تھا اور ٹائی کو تھوڑا نیچے کیا۔

وہ ائرہ کی رات والی حرکت سے اچھا حاصہ ڈسٹرب تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

میلان کمران نے غصے سے پکارا۔۔۔۔۔

میں ائرہ سے خود بات کروں گا۔۔۔۔

ڈیڈ اس متعلق دوبارہ مجھ سے بات نہیں کرنی اپ نے تو ائرہ کہاں سے اگئی۔۔۔۔۔

اس بات کو یہیں ختم کر دیں اس نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے۔

میں کسی صورت میں شادی نہیں کروں گا کسی صورت بھی نہیں۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

لیکن وہ دروازے کو زور سے پٹاخ کر باہر جا چکا تھا۔

سبھی افس ممبر کھڑے ہو کر دیکھنے لگے تھے۔۔۔۔

کیا تماشہ لگا ہے یہاں اس نے غصے سے کہا تو سبھی اپنے اپنے کیبن میں چلے گئے۔۔۔۔

بس یہی رہ گیا تھا زندگی میں وہ غصے سے اپنے افس میں گیا۔۔۔۔

___

ویسے۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔

اسد نہ جانے اسے کب سے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔

ہاں بولو۔۔۔۔۔۔۔۔

پر اس کے دیکھتے ہی وہ کام میں مصروف ہو گیا نہیں کچھ نہیں۔

تم ایک ہی سٹائل کے بنا رہی ہو کچھ ڈفرنٹ شیپ کے بنا لو۔ ۔

____

اخل نے لیپ ٹاپ کو ہولڈ کیا۔۔۔

اور موبائل اٹھایا ارادہ اس کو کال کرنے کا تھا۔

چھوڑو بنانے دو بیچاری کو 50 کیکس۔۔۔

وہ ہنسا تھا موبائل کو پھر سے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔

وہ اپنی طرف سے پورا کام کر کے ایا تھا۔سارا سامان بھی کچن سے ہٹوا دیا تھا اس نے۔۔

اور ہیلپرز کو بھی خاص تنقید کی تھی کہ کوئی اس کی مدد نہ کرے سامان لانے میں۔

اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ وہ خود لے کر ائے۔۔۔۔۔۔

اس لیے وہ ریلیکس تھا۔۔۔۔۔۔۔