Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 5

Ayra by Aneeta

تم فکر مت کرو الفت اسے تسلیاں دینے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔ائرہ کی پریشانی اور ٹینشن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔

اسے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے موت اس کے سرہانے کھڑی ہو۔۔۔۔

ایک طرف اخل کا ڈر۔دوسری طرف سلطان اور پھر اس کا اپنا باپ۔۔۔۔۔۔

میں نے کہا نا تم ریلیکس ہو جاؤ کچھ بھی نہیں ہوگا۔الفت کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ اس کا موبائل ساؤنڈ کرنے لگا جو اگلے ہی لمحے اس نے کان کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔

ہاں جییا بولو۔۔۔۔۔

الفت کیا تمہارے فلیٹ میں ایک لڑکی رہ رہی ہے۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

الفت نے حیرانگی سے ائرہ کی طرف دیکھا کیونکہ اس نے تو یہ بات کسی کو نہیں بتائی تھی۔۔

ہا۔۔۔۔ہاں۔۔۔

لفظوں کو کھینچتے ہوئے اس نے جواب دیا اور سوچنے میں مجبور ہو گئی۔اس کی چہرے کا رنگ اڑتا دیکھ کر ائرہ نے بھی اپنے انسو صاف کیے اور اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔

اسے کوئی سلطان نامی بندہ ڈھونڈ رہا ہے اور جہاں تک مجھے انفارمیشن ملی ہے وہ جان گیا ہے کہ وہ تمہارے فلیٹ میں تمہارے ساتھ رہ رہی ہے اور یہ سلطان نامی بندہ بہت خطرناک ہے لڑکیوں کی سمگلنگ کرتا ہے۔۔۔۔۔

یہ تم کیا کہہ رہی ہو الفت ایک دم سے کھڑی ہوئی تو ائرہ بھی اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔اس نے بے بی پنک شرٹ پہنی تھی۔اور اوپر شال۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں اس نے موبائل بند کیا اور ائرہ کی طرف دیکھا ۔۔

یار بہت بڑا مسئلہ ہو گیا ہے۔۔

کے کیا۔۔۔۔ائرہ جو پہلے ہی مسلوں میں پھنسی ہوئی تھی۔۔۔

چونکی کہ نہ جانے اب کیا ہو گیا ہے۔۔۔

اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔۔

بولو کیا ہوا ہے وہ دو قدم کا فاصلہ طے کر کے اس کے پاس ائی۔ہاتھ تو مسلسل کانپ رہے تھے لیکن اب ہونٹوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔

تمہیں سلطان ڈھونڈ رہا تھا نا اسے شاید پتہ لگ گیا ہے کہ تم میرے پاس ہو۔۔۔

کے کیا ۔۔۔

ایک دم سے پیچھے ہوئی۔۔۔

کیسے۔۔۔۔۔۔

اب کیا ہوگا میں کہاں جاؤں گی۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھ منہ پہ رکھ لیے تھے۔قدموں کی چہل قدمی بھی بڑھ گئی تھی۔۔۔

میری مانو تم ابھی یہاں سے چلی جاؤ وہ کسی بھی وقت ا جائیں گے۔۔۔۔

میں۔۔۔۔۔

میں کہاں جاؤں گی میں کسی کو نہیں جانتی۔ائرہ نے دونوں ہاتھ اس کے بازو پہ جمایے۔جیسے منت کر رہی ہو۔۔

دیکھو میں اچھی طرح جانتی ہوں الفت نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما۔لیکن اگر تم یہاں رہی تو وہ کسی بھی ٹائم ا جائے گا اور تمہیں لے جائے گا میں کچھ نہیں کر پاؤں گی۔۔۔۔

وہ بھی اپنے طرف سے ٹھیک تھی۔۔۔

اس لیے اچھا یہی ہوگا کہ تم ابھی کے لیے کہیں چلی جاؤ۔۔۔

ائرہ کو سلطان کا ڈر تھا۔وہ کسی صورت بھی اپنے اپ کو اس کے حوالے نہیں کر سکتی تھی۔لیکن وہ جائے بھی تو کہاں جائے اس کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔۔۔

لیکن سلطان کا خوف موت کی طرح اس کے سر پہ کھڑا تھا اس نے بنا کوئی اور سوال کیے اس نے جانا ہی مناسب سمجھا۔۔۔

_______

استاد وہ ایک لڑکی کے پاس روکی ہے یہ اس لڑکی کی ساری ڈیٹیل ہے۔

اس لڑکے نے سلطان کو ایک پیپر تھماتے ہوئے کہا۔جو ہاتھ میں تاش کے پتے لیے۔زمین پہ کلین بچائے بیٹھا تھا۔اگے پیچھے کچھ ساتھی تھے۔جو اپنے اپنے پتے چیک کر رہے تھے۔

تو تم مجھے بتانے اگئے ہو اس نے ہاتھ میں پکڑے پتوں کو زور سے زمین پہ گرایا۔۔۔

وہ لڑکی مجھے اج شام تک زندہ یا مردہ چاہیے۔۔۔

بڑا نقصان اٹھایا ہے میں نے اس کی وجہ سے اس نے ایک زور کی ٹانگ اس لڑکے کو ماری۔جو تھوڑا فاصلے پہ جا کے گرا تھا۔۔۔

گاڑی نکالو میں خود جاؤں گا۔۔

تم بے وقوفوں سے یہی امید ہے مجھے۔۔۔

_______

رات کا دوسرا پہر تھا۔ائرہ ایک دفعہ پھر گھر سے ب گھر ہو چکی تھی۔کالے رنگ کی چادر لپیٹے۔انکھوں میں کئی سوال لیے۔وہ روڈ پہ دھیرے دھیرے قدموں سے چل رہے تھی۔ان سب میں اس کی خوبصورتی تو مانند نہیں پڑی تھی۔لیکن انکھوں کی چمک کہیں غائب ہو گئی تھی۔دنیا اتنی عجیب ہے اسے اب احساس ہوا تھا۔۔۔

میں اب کہاں جاؤں گی۔۔

اور اگر سلطان کے ہاتھ لگ گئی تو وہ کیا کرے گا۔۔

یا اللہ میری مدد کر وہ انہی وسوسوں کے ساتھ قدم بقدم اگے جا رہی تھی۔اس کی انکھیں بس ایک ہی جگہ جمی ہوئی تھی۔وہ جہاں تھی وہاں نہیں تھی۔۔۔

روڈ کے اس طرف سمندر تھا تو دوسری طرف بلڈنگز۔۔

وہ اپنے ہی دھیان میں چلے جا رہی تھی۔۔۔۔

وٹا ن سنس اڈیٹ۔۔۔۔۔

وہ اچانک سے اخل کے سات ٹکرائی تھی۔اخل کے ہاتھ میں کچھ شاپنگ بیگ تھے۔ائرہ کو اس نے نہیں دیکھا تھا۔موبائل اس کے ہاتھ میں تھا جو زمین پر گر گیا تھا وہ اٹھانے کے لیے جھکا اور پھر ائرہ کو دیکھا۔۔۔

ائرہ؟

بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا اور وہ سیدھا کھڑا ہوا۔بلیک پینٹ کوٹ پہنا تھا وائٹ شرٹ تھی۔موبائل کو کوٹ کے پاکٹ میں ڈالتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔

اسے دیکھتے ہی ائرہ نے راستہ بدلنا چاہا لیکن اس کے سوال پہ رک گئی۔کیونکہ وہ پہلے ہی اس سے بہت ڈر چکی تھی۔اس نے یہی سوچا کہ اگر میں جواب دیے بغیر گئی تو وہ پھر سے غصہ کرے گا۔۔۔

ہر وقت 12 کیوں بجے ہوتے ہیں تمہارے منہ پہ کبھی ہنس بھی لیا کرو۔ ۔۔

وہ بالکل ریلیکس کھڑا تھا۔۔۔

سوری۔۔۔

اتنا سا کہہ کے ائرہ نے جانا چاہا۔اخل نے اسے بازو سے پکڑا۔۔۔

کہاں جا رہی ہو۔وہ بھی رات کے اس ٹائم اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

تقریبا 2 بج چکے تھے۔۔

تمہیں اس سے مسئلہ میں جہاں بھی جاؤں ہٹوں راستے سے۔ائرہ پہلے ہی ٹینشن میں تھی۔اب وہ اس مصیبت کو سر پہ نہیں لینا چاہتی تھی۔۔

لگتا تمہیں سمجھ نہیں ائی تھی میری پہلے والی بات۔تم پھر اسی ٹیون میں بات کر رہی ہو ائرہ ۔۔

اور مجھے اس ٹیون میں بات سننے کی عادت نہیں ہے وہ تھوڑا قریب ہوا تھا۔۔۔

تم ایک گھٹیا انسان ہو۔

خود کو خدا سمجھتے ہو۔

بغیرت۔۔۔۔۔۔

کاش یہ باتیں وہ اس کے منہ پہ کہنے کی ہمت رکھتی لیکن وہ دل ہی دل میں کہہ رہی تھی۔جبکہ انکھیں دل کا منظر بر بیان کر رہی تھی۔۔۔

ائرہ بہت بے بس ہو چکی تھی اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔

سلطان مجھے ڈھونڈ رہا ہے میں جہاں رہتی تھی اسے پتہ لگ گیا ہے۔پلیز وہ مجھے ڈھونڈ لے کر مجھے جانے دو۔وہ التجا کرتے اس سے کہہ رہے تھی۔

او۔؟ یہ پرابلم ہے۔اس کا بازؤ چھوڑتے ہوئے

اگر تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔تم میرے فلیٹ میں رک سکتی ہو۔اور وہاں پہ سیو بھی رہو گی۔۔۔

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔وہ اس کی حرکتوں سے اچھی طرح سے واقف تھی تو کیسے اس کے ساتھ جانے کی حامی بڑھتی۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے تمہاری مرضی ہے۔۔۔

ائرہ جس نے اپنا راستہ لیا ہی تھا کیا اخل نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔لیکن جہاں بھی جاؤ گی وہ تمہیں ڈھونڈ لے گا اور مجھے نہیں لگتا تمہیں کوئی رکھنے والا ہے ایسے۔۔۔

دنیا بہت خراب ہے بی بی وہ اس کے کان کے قریب ہو کے بولا۔۔۔

تم جس کام سے ڈر کر سلطان کے پاس نہیں جا رہی دنیا تمہیں اسی بےفورس کرے گی۔۔۔

مجھ پہ اعتبار کر سکتی ہو۔

میں جیسا بھی ہوں کسی کی مرضی کے بغیر اس کے قریب نہیں جاتا۔۔

باقی تمہاری مرضی۔۔۔

ائرہ کے پاس اور کوئی اپشن بھی نہیں تھا۔اخل کی باتوں نے اسے سچ میں ڈرا دیا تھا۔وہ جب سے گھر سے نکلی تھی اسں سے ایسے ہی تو لوگ ٹکرائے تھے۔۔

اس نے رخ بدل کر اخل کو دیکھا۔۔۔۔۔

اوکے تم ریڈی ہو گئی ہو چلو ا جاؤ وہاں میری گاڑی کھڑی ہے۔اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی اخل نے اسے اپنے پیچھے انے کا اشارہ کیا۔۔

ائرہ نے گہری سانس لی۔

اور اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اخل نے بھی شاپنگ پیگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھے ۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔۔

_______

وہ لڑکی تمہارے پاس تھی ہم اچھے سے جانتے ہیں۔سلطان اپنے چمچوں کے ساتھ الفت کے فلیٹ پہ پہنچ چکا تھا۔۔

میں نے کہا نا وہ یہاں پہ نہیں تھی۔الفت بھی انہی کے لہجے میں جواب دے رہی تھی وہ ڈرنے والی تو بالکل نہیں تھی۔

میں ابھی کمپلین کر کے تم لوگوں کو اندر کروا سکتی ہوں تم لوگ لڑکیوں کی سمگلنگ کرتے ہو۔۔

لیکن الفت ایسا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ایسے لوگ اتنے خطرناک ہوتے ہیں۔ایک دفعہ ان کے ساتھ پنگا لے لو تو پھر یہ ساری عمر نہیں چھوڑتے۔۔۔۔

اور پھر ساری زندگی جیل میں سرو گے۔۔۔

جہاں پہ تمہارے یہ گندے پیسے کام نہیں ائے گے۔۔۔

سلطان کو بھی اب اپنے کاروبار کے لالے پڑ گئے تھے۔وہ الفت کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا سکتا تھا۔کیونکہ یہ ایسا ہی تھا کہ اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنا۔۔۔۔

_______

یہ رہا میرا اپارٹمنٹ وہ اسے اپنے اپارٹمنٹ میں لے ایا تھا۔

وہ ڈرتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔۔۔

یا اللہ میری مدد کر۔اس نے ایک نظر اپارٹمنٹ دیکھا۔وہ ابھی تک کانپ رہی تھی۔۔

اس طرف گیسٹ روم ہے تم وہاں رہ سکتی ہو۔اس نے بولتے ہوئے پیچھے دیکھا۔تو وہ بری طرح سے کانپ رہی تھی۔۔

میں بس اج کے لیے رکھوں گی صبح میں چلی جاؤں گی۔

میں یہیں بیٹھ جاؤں گی۔اس نے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔وہ ڈرائنگ روم میں کھڑے تھے۔

دیکھو میں نے کہاں نا۔

اور مجھے بڑا غصہ اتا ہے جب میری کوئی بات نہیں سنتا ۔۔

اگر تم چاہتی ہو کہ میں سلطان کو فون نہ کروں تو یہی چپ چاپ رہو۔

وہ دو قدموں کا فاصلہ طے کر کے اس کے پاس ایا تھا۔دونوں ہاتھ کمر پر تھے اخل کے۔۔۔۔

تمہاری ویکنس میرے ہاتھ لگ گئی ہے اب اللہ ہی بچائے تمہیں مجھ سے۔وہ تنزیہ مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف گیا۔

_________

تم یہ بے وقوفی کیسے کر سکتی ہو۔۔

ائرہ۔۔تم اس شخص کو اچھے سے جانتی تھی پھر کیوں تم اس کے ساتھ ائی ۔ خود سے سوال کرتے ہوئے۔اس نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا۔۔

اخل اپنے روم میں جا چکا تھا تو وہ جلدی سے باہر بھاگنا چاہتی تھی۔۔

وہ بھاگتی دروازے کے پاس ائی۔اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا۔اور پھر دروازہ کھولنے لگی۔۔۔۔

لیکن اس نے جیسے ہی دروازے کے ہینڈل پے ہاتھ رکھا۔تو وہ بہت زور سے ساؤنڈ کرنے لگا تھا۔۔

ائرہ ایک دم سے پیچھے ہوئی۔۔۔

کہاں بھاگ رہی ہو۔اخل جو شاید چینج کرنے والا تھا جلدی سے باہر ایا کوٹ اتار چکا تھا۔اور شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے باہر کی طرف ایا۔۔۔

یہاں سے بھاگنا اتنا اسان نہیں ہے۔

تم نے اسے سلطان کی بوٹ سمجھ رکھا ہے۔۔

یہاں تم سانس بھی لو گی۔تو نوٹیفکیشن مجھ تک ائے گی۔۔

تمہیں تمہارا روم دکھا دیا ہے میں نے اب جب میں باہر اؤں تو تم مجھے اپنے روم میں ملو۔نہ کہ یہاں ایسے بت بنی۔۔۔۔