Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 34

Ayra by Aneeta

ائرہ کی حالت بگڑ رہی تھی وہ سانس مشکل سے لے پا رہی تھی۔۔۔۔

اسے ایک پرائیویٹ کلینک لایا گیا. اور وہاں پیسوں کے بغیر کوئی حرکت نہیں کرتا تھا۔۔۔۔.

ائرہ کے چلانے کا رونے کا کسی پہ کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

دیکھیں اس کی حالت زیادہ خراب ہے۔..

ہم کر دیتے ہیں کوئی نہ کوئی تو ا ہی جائے گا۔

وہ ڈاکٹر بڑے ڈاکٹر کو منانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کے کان پہ جوں بھی نہیں رینگ رہی تھی۔..

یہ ہاسپٹل ہے کوئی امدادی سینٹر نہیں۔۔۔۔۔

اور ویسے بھی اسے روڈ سے اٹھا کر لائے ہیں ہمیں کیا پتہ کوئی ہے بھی یا نہیں۔۔۔

اگر کوئی ا گیا تو علاج کر دیں گے ورنہ تھوڑی دیر میں اسے کسے گورنمنٹ ہاسپٹل میں بھجوا دو۔۔۔

____

ائرہ یہاں ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا وہ یہاں نہیں ہے۔۔۔

اسد نے کورٹ کو اگے کی طرف کھینچا۔۔۔۔

اخل کو اس کی بات پہ یقین نہیں تھا اس نے اس کے افس کی ہر جگہ چھان لی تھی۔۔۔۔۔

دیکھو میں اخری دفعہ پوچھ رہا ہوں بتاؤ کہاں چھپایا ہے اسے۔۔۔۔

تم نے اپنے شک کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ اسے نقصان پہنچا یا ۔

تم اج بھی وہی کر رہے ہو۔ ۔۔

اسے جا کے ڈھونڈو وہ میرے پاس ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتا بلکہ میں جا کے ڈھونڈتا ہوں۔۔۔۔

اخل نے اسے پیچھے جھٹکا تو کوئی نہیں ہوتا اسے ڈھونڈنے والا میں ڈھونڈ لوں گا یہ کہتا وہ باہر کی طرف بھاگا۔۔۔

تو اس قابل ہوتا تو وہ بھاگتی ہی نہ۔۔۔۔۔۔

اسد حقیقت نہیں جانتا تھا تو اس نے یہی گیسٹ لگایا تھا کہ شاید وہ بھاگ گئی۔۔۔۔

___

یہ لڑکی اس سے پہلے بھی اس ہاسپٹل میں ا چکی ہے اس کے ساتھ کوئی تھا۔۔۔۔

اور اس کا تعلق بھی کسی اچھی فیملی سے ہے۔۔۔۔

تم لوگ ایسی بے وقوفی کیسے کر سکتے ہو وہ اس دن والی ڈاکٹر ا بھی ائی تھی ہاسپٹل۔۔۔۔۔

اتے ہی اس نے کوٹ کو ایک سائیڈ پہ رکھا۔۔۔

اس نے پورے عملے کو ڈانٹا تھا اور پھر بھاگتے ہوئے اس کمرے میں گئی تھی۔۔۔

ڈاکٹر نے اس دن کی پیمنٹ کی رسید سے اخل کا نمبر اور ایڈریس نکالا تھا کچھ دیر میں اسے کال کر کے بتایا گیا۔۔۔

اس نے پوری بات نہیں سنی تھی بس اتنا سنا تھا کہ ائرہ ہاسپٹل میں ہے وہ اسی سپیڈ میں ہاسپٹل پہنچا تھا۔۔

اب تقریبا کافی رات ہو گئی تھی۔

وہ ایک منٹ بھی سکون سے نہیں بٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

وہ بھاگتا ہوا ہاسپٹل ایا تھا وہ ابھی کاؤنٹر پہ ہی کھڑا تھا کہ وہ ڈاکٹر ائی تھی۔اخل کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

تو اپ ہیں مس ائرہ کے ہسبنڈ۔۔۔

خلیے سے تو اپ کسی اچھی فیملی کے لگ رہے ہیں ۔لیکن اپ جیسے مردوں پہ افسوس ہوتا ہے۔جو بیوی کو ایسی حالت میں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔۔

وہ کیسی ہے وہ چیخا تھا۔۔۔۔

وہ اور کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔

اپ اللہ کا شکر ادا کریں کہ ماں اور بچہ دونوں صحیح سلامت ہے۔۔۔۔۔

اس کی بگڑتی سانسیں ایک دم سے سنبھلی۔۔۔۔

یا اللہ تیرا شکر ہے اس نے گردن کو نیچے جھکایا تھا دونوں ہاتھوں میں اپنے منہ کو چھپاتے اس نے شکر ادا کیا تھا۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھاگا ہاسپٹل کے کمرے میں ایا تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔ائرہ نے اسے دیکھتے ہی پکارا تھا۔

ہاں اسے اس پہ شدید غصہ تھا اور اس کی غلطیاں معاف کرنے کے قابل بھی نہیں تھی۔

پر وہ اس کے بچے کا باپ تھا۔۔۔۔

اس کا واحد سہارا وہی تھا۔۔۔

ایک ماہ ہونے کے ناطے۔

اج وہ موت کے منہ سے واپس ائی تھی۔

اپنی تکلیف تو وہ بھول جاتی لیکن اگر بچے کو کچھ ہو جاتا تو وہ کبھی خود کو معاف نہ کرتی۔

اخل کی جان لب اس کے ماتھے پہ رکھے۔۔۔۔۔۔

اور ہاتھ اس کے پیٹ پہ رکھا۔۔۔

یہ کوئی معجزہ ہی ہوا ہے مسٹر اخل ورنہ ماں اور بچے دونوں کو بچانا بہت مشکل تھا۔۔۔۔

یہ سب اپ کی وجہ سے ہوا ہے ڈاکٹر اگر اپ ٹائم پہ نہ اتی تو۔۔۔

ائرہ نے نظر اٹھا کر انہیں شکریہ ادا کیا۔۔۔۔۔۔

اور پھر ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا۔۔۔۔۔۔

اخل نے اگلے لمحے پھر سے ہاتھ پکڑا۔۔۔

جب تک میرا بچہ میرے حوالے نہیں کرتی ۔یہ ہاتھ نہیں چھوٹنے والا۔۔۔۔

اس کی انکھوں میں انسو تھے لیکن پھر اس نے اس کے ہاتھوں کو چما۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں ارہا تھا وہ اپنی خوشی بیان کیسے کرے۔۔۔

اور اسے اندر سے دکھ بھی تھا کہ اسے اتنی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔

ایم سو سوری۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے ہاسپٹل کے سٹاف کی اچھی خاصی خبر لی تھی۔۔۔

__

تھوڑی دیر میں وہ گھر اگئے تھے۔۔۔۔

بشرا بیگم تو خوشی سے پاگل ہو رہی تھی۔

پر میلان کامران کی اکڑ ابھی تک نہیں ٹوٹی تھی۔۔۔

اخل نے بھی اچھی خاصی بحث کی تھی ائرہ کو گھر سے نکالنے کی وجہ سے۔۔۔۔

پر یہ خوشی اس کے لیے اتنی بڑی تھی کہ اسے اس کی اگے کچھ نہیں سوج رہا تھا۔۔۔

ائرہ کو اس نے ہاتھ کا چھالا بنایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

___

ائرہ میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو یہ الٹا ہاتھ اب پڑھنا ہے تمہیں۔۔۔

اخل۔۔۔۔

تم مجھے اب بھی مارو گے۔۔۔

وہ کب سے اس کی منتیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔

نائٹی پہننے کے لیے۔۔۔۔۔۔

نہیں ابھی نہیں وہ جو اس کے برابر بیٹھی تھی اسے اٹھا کر اس نے اپنے سینے پہ کیا۔۔۔

پر ماروں گا ضرور جب تم اس ننھی سی جان کو میری باہوں میں دے دو گی۔۔۔

اس نے ہاتھ اس کے پیٹ پہ رکھا۔۔۔۔

اب پہنوں گی یا میں خود پہناؤں۔۔۔۔۔۔

کل پہنوں گی نا اج میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔

اور دیکھو یہ کتنی تنگ ہے اگر میں نے یہ پہن لی نا تو ہمارا بچہ بڑا نہیں ہو پائے گا۔

اور میں نے سنا تھا کہ بچے رات کے ٹائم بڑھتے ہیں مطلب رات کے ٹائم ہی جو ہے نا۔۔

چپ کر جاؤ چپ ہو ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔۔

تمہارے اگے اخل میلان ہے ۔۔

کوئی اناڑی ہسبینڈ نہیں جس کو تم کچھ بھی کہہ کے ٹال سکتی ہو۔۔۔

ہاں میں جانتی ہوں میرے سامنے جو بیٹھا ہے نا وہ شادی سے پہلے ہی کئی لڑکیوں کے ساتھ اس نے ہاتھ اس کے منہ پہ رکھا۔۔۔

اب پھر میں بگڑ گیا تو تم شکایت کرو گی۔۔۔۔

میری شدتوں کو برداشت کرنا۔مس ائرہ کے بس کی بات نہیں ہے۔۔۔

____

میلان کامران پہ کوئی اثر نہیں پڑا تھا وہ اج بھی اس کی دوسری شادی پہ اٹل تھا۔۔۔

میں نے وسیم کو ڈیٹ دے دی ہے دو دن بعد اگینجمنٹ کا فنکشن رکھا جائے گا۔۔۔۔

وہ ناشتے کی ٹیبل پہ حکم دے رہا تھا۔۔۔۔۔

ایک نظر تینوں کو دیکھا اس نے۔۔۔

ان کی بات سنتے ہی ائرہ کا نوالہ حلق میں پھنس گیا تھا۔

پر اخل ریلیکس ہو کہ کھا رہا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ کے اس ری ایکشن پہ اس نے ہنسی کو مشکل سے کنٹرول کیا تھا۔۔۔۔۔

اوکے مجھے کوئی پرابلم نہیں۔۔۔

اس کی بات سنتے ہی ائرہ اور بشرا بیگم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔۔۔

اور پھر اخل کی طرف۔۔۔۔

اخل یہ تم کیا کہہ رہے ہو بشرا بیگم نے غصے سے کہا۔

میلان اپ پاگل ہو گئے ہیں۔۔

وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔۔۔

میں نے نہ اسے قبول کیا تھا اور نہ ہی اس کے بچوں کو قبول کرنے والا ہوں ۔۔۔۔

ایک قاتل کی اولاد۔۔

ڈیڈ وہ غصے سے بولا۔۔۔۔

میں نے کہا نا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے اس بات کو یہیں ختم کریں۔۔۔

اور ائرہ کو بھی مجھے لگتا ہے کوئی مسئلہ نہیں ہے اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔

ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر بشرا بیگم کی طرف سوالیا نظروں سے دیکھا۔۔۔۔

____

کیا اپ سچ کہہ رہی ہیں وہ ابھی بھی مان گیا شادی کے لیے۔

ہاں میں تمہیں کب سے کہہ رہی تھی تم اپنا مقابلہ اس دو تکے کی لڑکی کے ساتھ مت کرو۔۔۔

تمہارے سامنے ہم نے عائزہ کو نہیں ٹکنے دیا وہ تو پھر ائرہ ہے۔۔۔

فریدہ کا کہکا بلند ہوا۔۔۔

فریدہ۔۔۔۔۔

وسیم نے غصے سے کہا میں نے تمہیں کتنی دفعہ کہا ہے کہ ایسی باتیں مت کیا کرو دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔

__

وہ افس کے لیے تیار ہو رہا تھا۔۔۔۔

وہ کب سے اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

پر وہ تیاری میں ایسا مصروف تھا کہ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔۔۔۔

یا وہ جان بوجھ کر کر رہا تھا۔۔۔۔

وہ اس کے کوٹ کے اوپر بیٹھ گئی تھی۔جو وہ اٹھانے کے لیے اگے بڑھا تھا۔۔۔

اب تم مجھے مار نہیں سکتے تو ایسے ٹارچر کر رہے ہو یہ سب کیا تھا۔۔۔۔

شادی کر رہا ہوں دوسری۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

نے ارام سے اسے اٹھایا نیچے سے کوٹ اٹھایا۔۔

ائرہ کے دونوں بازو اس کے کاندھے پہ تھے۔۔۔

جو اخل نے خود ہی رکھے تھے۔۔۔۔

کیوں کر رہے ہو۔۔۔

اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔۔۔

کیوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔

میں اپنی اس وائف کے ساتھ مطمئن نہیں ہوں اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اس کے ہونٹوں کو ہونٹوں میں قید کر لیا تھا۔۔۔۔

اتنی قربت کو اگنور کیسے کر سکتا تھا۔۔

ا۔۔۔۔۔ا۔۔۔۔۔۔۔۔اخل۔۔۔۔۔۔

وہ شدت سے بھرپور لمس چھوڑ رہا تھا۔۔

کوٹ کو بیڈ پہ گرا چکا تھا اور اس کا ایک ہاتھ اس کی کمر پے گردش کر رہا تھا۔جبکہ دوسرا بالوں میں۔۔۔۔

اسی دوران بیڈ پہ بیٹھتے اسے گود میں بٹھا چکا تھا۔۔

اس کے احتجاج کرتے ہاتھ اس کے سینے پہ تھے۔۔

پر وہ ہونٹوں کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔۔

اسے پیچھے کرتی وہ اٹھی تھی۔کہ اس نے پھر سے گود میں بٹھایا۔۔۔

تمہاری انہی حرکتوں کی وجہ سے نا میں دوسری شادی کر رہا ہوں اس نے غصے سے کوٹ اٹھا یا۔۔۔۔۔

وہ بھی فورا سے ہی اٹھ گئی تھی اس کے ہونٹ سرخ ہو گئے تھے۔۔۔

کم از کم ایمن ایسا نہیں کرے گی۔۔۔۔۔

میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہو۔۔۔۔

اور میں تمہارے بچے کا باپ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے تسلی سے کوٹ پہنا۔۔۔۔۔۔

اور ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

وہ کتنا ریلیکس تھا۔۔۔۔۔

ائرہ کی سمجھ میں نہیں ارہا تھا کہ وہ ایسے کیسے کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن اس کے سوالوں سے پہلے وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

اس نے اس کا بازو پکڑا ہی تھا۔کہ اخل نے دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔

کیا ایک کس سے کچھ نہیں بنا میری جان کا۔۔۔

کہتی ہو تو رک جاتا ہوں۔۔۔۔

تم ایسا نہیں کر سکتے اس کی انکھ میں انسو اگئے تھے۔۔۔

کوئی سولڈ ریزن بھی تو ہونی چاہیے نا۔۔۔

ہمیشہ میں ہی کیوں پہل کرتا ہوں تم نے کبھی کی۔۔۔۔۔

اور مجھے ایسی بیوی بالکل بھی نہیں چاہیے۔۔۔۔

مجھے تو ایمن جیسی چاہیے۔۔۔

یہ دیکھو نا کل اس نے مجھے پکچر بھیجی ہے اب اس کا کیا مطلب ہے۔۔

وہ بھی نائٹی میں اف ففففففف

تم اس سے بات کرتے ہو۔۔۔۔

ابھی بیوی بنی نہیں ہے لیکن بیویوں والے فرض ادا کر رہی ہے۔۔

اس کی بات کو اگنور کرتے اس نے کہا۔۔۔

جب کہ ایک تم ہو۔۔۔۔

اس نے موبائل کو دوبارہ پاکٹ میں ڈالا۔۔۔۔

تم میری نیچر سے اچھے سے واقف ہو۔۔۔۔

پھر وہ ڈیمانڈز کیوں کرتے ہو جن پہ میں کبھی پورا نہیں اتر سکتی۔۔۔

ائرہ نے بھی اپنی پرابلم ایکسپلین کرنے کی کوشش کی۔

اوکے ٹھیک ہے پھر تم بھی شکایت مت کرو وہ دور ہٹا اور ہاتھ کے اشارے سے کہا۔۔

اب میں نے بھی تو ضروریات کو پورا کرنا ہے نا۔۔۔۔۔

اپنا اور اس ننھی جان کا بہت خیال رکھنا۔۔۔۔

اس کے پیٹ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔

وہ اس کی بے باقیوں پہ حیران تھی۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے پیچھے ہی ائی تھی پراس نے دروازہ باہر سے لاک کر دیا تھا ۔۔

اور دو منٹ کھڑا ہو کر ہنسا تھا۔۔۔۔

ائرہ کی بے چینی پہ۔۔۔۔۔۔۔

___

اس کے افس جانے کے بعد وہ کچن میں بشرا بیگم کے لیے کافی بنا رہی تھی جب ایمن کی امد ہوئی۔۔۔

ویسے کتنی بے شرم ہو تم۔۔۔۔۔

ائرہ نے نظر انداز کرنا چاہا اور باہر جانے لگی لیکن اس نے ہاتھ اگے کیا۔

مجھے تو سمجھ نہیں اتی تم جیسی لڑکیوں کو اخر چاہیے کیا ہوتا ہے۔۔

بس لوگوں کی زندگیوں کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔

ا خر جان چھوڑ کیوں نہیں دیتی ہماری۔۔۔

وہ جینز پینٹ میں ملبوس تھی۔۔

ائرہ نے فل وائٹ ال اور میں سوٹ پہنا تھا۔۔۔

بالوں کو ایک سائیڈ پہ گرایا ہوا تھا۔۔۔

مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی پلیز میرا راستہ چھوڑو۔۔۔

دیکھو میں تمہیں ٹائم دے رہی ہوں اگر تم اس کی زندگی سے نہ نکلی۔

تو میں تمہیں دنیا سے نکال دوں گی میری بات یاد رکھنا۔۔

وہ صرف میرا ہے اور صرف میرا ایمن نے پاؤں زمین پر مارا اس نے ہائی ہیلز پہنی ہوئی تھی

شیڈ پہ پڑے کپ کو زمین پر گرا دیا۔۔۔

اب ان کانچ کے ٹکڑوں کو اٹھا کر صاف کر دینا یہی اوقات ہے تمہاری۔۔۔۔

ایڈیٹ۔۔۔۔۔

ائرہ نے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔۔۔

اخل اس نے دل پہ ہاتھ رکھا تھا۔

۔

اسے کھونے کا ڈر اسے اندر ہی اندر ڈرا رہا تھا ۔۔

وہ کچھ بھی ایکسپیکٹ کر سکتی تھی۔اخل سے وہ جو چاہتا تھا وہی تو کرتا تھا۔۔۔

پر اس کی کچھ دن کی مہربانیوں سے وہ اسے اچھا لگنے لگا تھا۔

شاید پھر سے محبت کا شعلہ بھڑک اٹھا تھا۔۔۔۔۔

__

اسے کچن سے نکلتا دیکھ کر بشرہ بیگم کو ائرہ کی فکر ہونے لگی تھی۔

اس نے بشرا بیگم کو سلام کیا تھا لیکن انہوں نے نظر انداز کر دیا اور کچن کی طرف بڑی۔۔۔۔۔

____

ائرہ بیٹی میں کب سے کافی کا انتظار کر رہی ہوں بشرا بیگم کچن میں ائی تھی کپ ٹوٹا دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی ائرہ تم ٹھیک ہو نا۔۔۔

کیا ایمن نے کہا ہے کچھ۔۔۔۔

میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔

وہ سچ میں دوسری شادی کر رہا ہے۔۔

بیٹی بشرا بیگم اگے ائی۔۔۔

کلثوم انہوں نے کلثوم کو بھی اواز دی تھی کانچ اٹھانے کے لیے۔۔۔

میں حقیقت نہیں جانتی کہ وہ کیا کرنے لگا ہے۔

پر یہ بات تسلی سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ تمہارا دل اب نہیں دکھا سکتا۔

اور اب بھی تب جب تم اس کے بچے کی ماں بننے والی ہو۔

ایسا ممکن نہیں ہے۔

ایسا ہی ہے اس نے صاف لفظوں میں کہا ہے۔

کہ میں ایمن جیسی نہیں ہوں اسی لیے۔۔۔

دیکھو اب ایسی حالت میں تم ٹرس لے رہی ہو۔۔۔۔

بہت ہی کوئی احمق اولاد ہے میری۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کو اب اس پہ غصہ ا رہا تھا۔

ائرہ اس سے پہلے جو کچھ برداشت کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔

اب وہ اسے اور تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔

اور اس کی حالت کو لے کر بھی وہ پریشان تھی۔۔۔

___

ہاں بولو اب کیوں فون کیا ہے ائرہ نے غصے سے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔۔

تمہارے لیے نہیں کیا میں اپنے بچے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔

بچے کو اس نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔

ہاں مجھے پکچر بنا کے بھیجو۔۔۔۔۔

لگتا ہے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔

دیکھا پھر بات نہیں مانتی اور پھر کہتی کہ دوسری شادی کیوں کر رہا ہو۔۔۔

تمہاری ان نافرمانیوں کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔

اوکے تو پھر کر لو۔۔۔

مجھے پرواہ نہیں ہے اس نے بھی غصے سے کہا۔۔۔۔

اوکے ٹھیک ہے اج رات کا ڈنر میں اپنی ہونے والی وائف کے ساتھ کروں گا۔

میرا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس نے فورا فون بند کر دیا تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_____&&

اج گھر جانے کا ارادہ نہیں ہے کیا۔اخل کے بزنس پارٹنر روہیل نے اسے یوں بیٹھے دیکھا کیونکہ ٹائم بہت ہو گیا تھا۔

تو ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔۔اس نے بھی اطمینان سے جواب دیا پر اس کی ہنسی اسے سمجھ نہیں ارہی تھی۔۔۔۔

صحیح کہاں ہے کسی نے۔۔۔۔

شادی کے بعد گھر جانے کو دل نہیں کرتا۔۔

ایسا نہیں ہے یار اخل نے چیئر سے کوٹ اتارا۔۔۔

بس بیوی کو تھوڑا تنگ کرنے کا ارادہ ہے اس نے کوٹ پہنتے ہوئے کہا وہ بھی تنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔۔

روہیل اس کا بزنس پارٹنر ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ تھوڑا بہت دوست بھی تھا۔

مطلب اتنی کلوز دوستی نہیں تھی بس تھوڑی بہت۔۔

تو وہ بھی ائرہ کے متعلق جانتا تھا ویسے تو افس میں کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔

ایسے ہی ہنسی مذاق کرتا وہ اس کے ساتھ افس سے نکلا تھا پھر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا۔

اج گھر وہ سچ میں دیر سے جانا چاہتا تھا۔

تو ڈنر کے لیے ایک ریسٹورنٹ میں رک گیا۔۔۔۔۔

ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے ہی اس کا فون بجا تھا ایمن کی کال تھی پر اس نے ڈس کنیکٹ کر دی۔۔۔

اور ائرہ نے تو نہ جانے کتنی کولیں اسے کی تھی۔۔۔

___

یہ میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہا ایمن نے ایک نظر فون کو دیکھا پھر ملانے کی کوشش کی لیکن پھر سے ڈس کنیکٹ کر دی گئی تھی۔۔۔۔۔

کیا تماشہ ہے یار۔۔۔۔۔۔

ایمن کو اب شدید غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔۔

پر اس کے بس میں بھی کچھ نہیں تھا۔۔

ایک تو رات بھی ہو گئی تھی اور دوسرا اس کا جانا بھی پاسیبل نہیں تھا۔

کیونکہ وہ پہلے ہی اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔

ورنہ تو ایک منٹ بھی نہیں لگاتی۔۔۔

_____

ائرہ نہ جانے کب سے اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

اس نے کئی دفعہ اسے فون کیا تھا۔۔۔

پر اس نے جان بوجھ کر نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔

وہ سچ میں ایمن کے ساتھ ہے کیا۔۔۔۔۔۔

ایک نائٹی ہی تو نہیں پہنی تھی۔۔۔

اور پھر پکچر۔۔۔

بچے کی پکچر میں بنا بھی کیسے سکتی ہوں۔

وہ دماغ پہ زور لگا رہی تھی کہ اس نے اس کی کون کون سی بات نہیں مانی۔۔۔۔۔

میں نے کون سا گناہ کر دیا وہ شیشے کے سامنے کھڑی خود سے سوال کر رہی تھی موبائل کو اس نے شیشہ ڈرا پہ رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔

وہ کبڈ کی طرف بڑھی اس نے نائٹی باہر نکالی۔۔۔۔

اور پھر چینجنگ روم میں جا کر چینج کر لی۔۔۔

اس کی شرٹ بہت چھوٹی تھی۔۔۔۔

مشکل سے گھٹنوں پہ ا رہی تھی۔۔۔

اور اسے ایسے کپڑوں کی عادت نہیں تھی۔۔۔۔

وہ تو کچھ بھی پہن کے سو جاتی تھی۔۔۔۔

________

وہ سکون سے کھانا کھا کر ریسٹورنٹ سے نکلا تھا اس نے موبائل چیک کیا اور ہنسنے لگا لا تعداد کالز مسں ائرہ کی۔۔۔

ابھی کہاں ابھی تو گیم شروع ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔

وہ نہ جانے کب سے اس کا انتظار کر رہی تھی رات کے 12 بج رہے تھے۔۔۔

اس کی ذرا سی انکھ لگی ہی تھی کہ دروازہ کھلا تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے اندر اتے ہی اس نے پکارا۔۔۔۔۔

اور بلینکٹ کو پیچھے کیا۔۔۔

یہ دیکھو میں نے نائٹی پہن لی۔۔۔۔.

جیسے بچے خوشی سے کپڑے دکھاتے ہیں اس نے ایسے ہی بہیو کیا تھا۔۔۔

نہ سلام نہ دعا اتے ہی بس جو اس کے دماغ میں جو چل رہا تھا وہی اس نے کہہ دیا۔۔۔۔۔۔

ہاں میں دیکھ سکتا ہوں میں اندھا نہیں ہوں۔۔

ہنسی کو کنٹرول کر تے اس نے اپنا رخ بدلا۔۔۔۔۔۔

اچھا ہے اب تم کمفرٹیبل سو گی اس نے اپنا کوٹ اتار کر سائیڈ پہ رکھا۔۔۔۔۔

اس کے جواب پہ وہ مایوس ہوئی تھی۔۔۔۔

پر کہیں اسے اپنی بچوں والی حرکت پہ بھی شرمندگی تھی۔۔۔۔

اخل انے بہت کوشش کی تھی کہ اسے نہ دیکھے پر نظر نہیں ہٹ رہی تھی۔۔

اندر سے اخل کے جذبات مچل رہے تھے اسے شارٹس میں دیکھ کر ۔لیکن خود کو کنٹرول کیے۔

وہ اسے اگنور کر رہا تھا۔۔۔۔

بابا کی جان اس کے پاس ایا۔۔۔۔

ٹھیک ہے پاس نہیں انا۔۔۔۔۔

وہ بھی پرانے ایٹیٹیوڈ میں اگئی تھی۔۔۔

ائرہ نے ایک نظر خود کو دیکھا غصے سے پھر سے بلینکٹ کر لیا۔۔۔۔۔

بابا کی جان کو چھونے سے تم مجھے نہیں روک سکتی اس نے بلینکٹ میں ہی ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھا تھا۔۔۔۔

پھر بلینکٹ کو صحیح کر کے اس کے اوپر دیا۔۔۔۔

اور اس کا ایک بازو جو باہر تھا اسے بھی بلینکٹ میں کیا۔۔۔

کیا تم ایمن کے ساتھ تھے۔۔۔۔

اس نے اگلا سوال کیا۔۔۔۔

ہاں میرا خیال ہے میں بتا کر گیا تھا کہ میں ایمن کے ساتھ ڈنر کروں گا۔۔

نہیں سوری میں نے کال پہ بتایا تھا۔۔۔۔۔

اس نے سرسری سا جواب دیا۔۔۔

اور بازو پہ بندھی گھڑی اتارنے لگا۔۔۔۔۔

وہ چینجنگ روم کے سامنے پہنچ چکا تھا۔۔

اور وہ مجھے ایسے تمہاری طرح نہیں ملی تھی اس نے رخ بدلا ہاتھ اس کی طرف کرتے کہا۔۔۔

جیسے ہی مجھے دیکھا بھاگتے ہوئے میرے پاس ائی۔۔۔

ہونٹوں کو یہاں رکھ لیا اس نے اس نے اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھا۔۔۔

ائرہ نے ہاتھ اپنے منہ پہ رکھ لیا۔۔

سب کے سامنے۔۔۔۔ ریسٹورنٹ میں ۔۔۔۔۔

ہاں سب کے سامنے۔۔۔۔

ریسٹورنٹ میں۔۔

وہ بھی تمہاری طرح بے شرم ہے۔ائرہ کو شدید غصہ ایا تھا۔

میں تو بس کنفرم کر رہی تھی اتنی بھی نہیں گر سکتی۔۔

میں اس کا ہونے والا شوہر۔۔۔۔۔۔کامون یار۔۔۔۔۔۔

ہسبینڈ سے کیسی پرائیویسی۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تم جیسی ایڈیٹ لڑکیاں ہوتی ہیں وہ شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے بول رہا تھا۔۔۔۔۔

اففففففففف

کیا کس تھی ائرہ یار۔۔۔۔۔

تمہیں ایسے سمجھ نہیں ائے گی دراصل اخل خود پہ کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا اسے شارٹس میں دیکھ کر۔۔۔۔

میں کر کے بتاتا ہوں وہ پاس ایا۔۔

ائرہ سچ سمجھ رہی تھی۔

وہ اخل تھا اس کے لیے کیا مشکل تھی۔

وہ توراہ جاتی لڑکی کو پکڑ لے وہ تو پھر اس کی ہونے والی وائف تھی۔۔۔

وہ ابھی سوچ رہی تھی کہ وہ اس کے پاس ا کر بیٹھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔

یار میں پریکٹیکل کر کے بتا رہا ہوں تاکہ تمہیں سمجھ ائے۔

اس کے بال پیچھے کرتے وہ بولا۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے بھی ہتھیار ڈال دیے تھے۔۔۔۔۔

شاید اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔

اس کے ہونٹوں کو قید کرتا ایک چٹکے میں اسے قریب کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بس احتجاج کرتے ہاتھوں کو روکا تھا اندر سے وہی ڈر تھا۔۔۔۔

وہ شدت سے بھرپور لمس چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔

اخل کے دونوں ہاتھ اس کے بازوں پر تھے جو مسلسل گردش کر رہے تھے۔۔۔

اس کے ہونٹوں کو سرخ کر چکا تھا وہ پر ابھی بھی چھوڑنے کا ارادہ نہیں تھا۔۔۔

ا۔۔۔۔۔۔۔۔اخل ۔۔۔۔

ایک دم سے اس کے احتجاج پر وہ بدمزہ ہوا۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔۔

اخل جو اس کے نشے میں مدہوش تھا نظر دروازے کی طرف دہرائی۔۔۔

دیکھا یہی تو فرق ہے۔۔وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔

یہی چیز مجھے مجبور کرتی ہے وہ اٹھ گیا تھا۔۔۔۔

وہ ریسٹورنٹ میں سب کے سامنے نہیں ڈری۔۔

اور تم۔۔۔۔۔

میں نے بس یہی کہا ہے نا کہ دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔۔

وہ جو چینجنگ روم کا رخ کرنے والا تھا۔ہنسا اس کی جیلسی اور بے چینی کو دیکھ کر۔۔۔۔۔

دروازہ کھلا ہے۔ہنسی کو جلد ہی پیتے اس نے لہجہ پھر سرد کیا۔۔

اور پھر چینجنگ روم میں چلا گیا۔۔۔۔

___

السلام علیکم کیسی ہیں اپ ۔۔۔

ایمن ہال میں داخل ہی ہوئی تھی بشرا بیگم جو بیٹھی بک پڑ رہی تھی۔انہیں سلام کیا۔۔۔۔

اسے دیکھتے ہی انہوں نے عینک کو اتارا۔۔۔

تم اس ٹائم یہاں کیا کر رہی ہو۔سلام کا جواب دینا انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔۔۔

وہ مجھے اخل سے ضروری بات کرنی تھی۔

بشرا بیگم تو کب سے اسے سنانا چاہتی تھی لیکن اج موقع اچھا تھا۔

یہ کوئی وقت ہے بات کرنے کا وہ کھڑی ہوئی تھی کتاب کو ایک سائیڈ پہ رکھا۔۔

رات کے اس ٹائم تم بات کرنے ائی ہو ایسی کون سی بات ہے۔۔

بشرا میلان کمران نے پکارا۔۔۔۔

وہ اس کی ہونے والی بیوی ہے جب چاہے اس سے بات کر سکتی ہے۔

ایمن بیٹا تم کمرے میں جاؤ وہ کمرے میں ہی ہے۔۔۔۔۔

ایمن نے نے بھی ایکٹنگ کرتے ہیں بشرا کی باتوں کو نظر انداز کیا۔

ورنہ دل میں تو وہ گالیاں نکال رہی تھی۔

اسے کہا تمیز و لحاظ تھا بڑے چھوٹے کا۔۔۔۔

____

ائرہ۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے پہلے کہ خود کو کوستی ایک اور قیامت سر پے کھڑی تھی۔۔۔

ایمن۔۔۔۔۔

اور وہ ایک دم سے بیڈ سے اٹھی۔۔۔

دروازہ کھلا تھا تو وہ ایسے ہی اندر اگئی۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

کیا اگیا ہے اس نے غصے سے پوچھا تھا پر لہجہ دیما تھا۔خود کو کنٹرول اس لیے رکھا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ کمرے میں ہے۔۔۔

وہ جو چینجنگ روم میں تھا الموسٹ چینج کر چکا تھا اب شرٹ پہن رہا تھا۔

اس کی اواز سنتے ہی ایک دم سے باہر نکلا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کہیں راز فاش نہ ہو جائے۔

مطلب جھوٹ سامنے نہ اجائے۔۔۔

ارے بے بی تم۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ابھی صرف نیچے کے دو بٹن بند کیے تھے۔۔۔

ایک ہاتھ سے شرٹ کے بٹن بند کر تے وہ اس کے پاس ایا تھا۔۔۔

وہ وائٹ لوز شرٹ جو رات کو پہن کے سوتا تھا۔۔

وہی پہنی تھی نیچے بلو جینز۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔

نے گہرا سانس لیا ۔۔۔۔۔

مطلب وہ سب سچ تھا۔۔۔

اس سے پہلے جو کچھ امید تھی کہ شاید وہ اسے تنگ کر رہا ہے۔اب دل بیٹھے جا رہا تھا۔۔۔۔

ایمن تو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی کہ اس نے اسے بے بی بولا ہے۔۔۔۔۔

لگتا ہے تمہارا دل نہیں بھرا۔۔۔۔۔

اس کی اس بات پہ اس نے ماتھے پہ بل ڈالے۔۔۔

اس نے گہرا سانس لیا تھا کہ وقت پر اگیا ۔

ورنہ سارا جھوٹ سامنے ا جاتا۔۔۔

اپنی پریشانی سے جیسے نکلا تو نظر ائرہ پہ پڑی۔۔۔۔۔

ننگے پاؤں بنا کسی جڑسی وغیرہ کے۔۔۔۔

وہ سٹیٹ کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

ارےےےےےے۔۔۔

وہ لفظ کو کھینچتے ہوئے اس کے پاس ایا اسے فکر ہو رہی تھی۔۔۔

ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔۔۔

اس کے پاس اتے ہی وہ پھر سے بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی۔اس ڈر سے کہ کہیں اسے کمرے سے باہر نہ نکال دے۔یہ اکیلے میں کوئی بات نہ کر لیں۔ اس نے بلینکٹ سیدھا کیا ایمن تو اندر سے جل رہی تھی۔۔۔

کچھ دیر پہلے کی خوشی غائب ہو گئی تھی۔۔۔

اخل۔۔۔۔

ہاں بے بی وہ پھر سے اس کی طرف مڑا۔۔۔۔۔

ائرہ کو اب شدید غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ اس کی بیوی تھی وہ کیسے اس کے سامنے ۔۔۔

مجھے بات کرنی ہے کیا ہم دو منٹ باہر چلے۔۔۔

ہاں کیوں نہیں بنا اسے دیکھے اسے کچھ کہے وہ اسے لے کر باہر چلا گیا تھا۔۔

____

تم گٹیا انسان ہو اس نے اپنا موبائل زمین پہ پھینکا۔۔

جو سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا۔۔۔۔

اور کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔۔

__

بولو یہ ٹائم ہے بات کرنے کا باہر اتے ہی اخل نے اپنا لہجہ بدلا۔۔۔

رات کے اس ٹائم تمہیں کیا بات کرنی ہے۔

اس نے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے اور اس کا جائزہ لینے لگا۔

ہمارے انگیجمنٹ ہونے والی ہے اس کے بعد ہماری شادی ہونے والی ہے۔

تم نا میری کالز اٹھاتے ہو نا میسج کا جواب دیتے ہو۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں ارہی تم ایسا کیوں کر رہے ہو ۔۔

دیکھو ابھی ہونے والی ہے ہوئی نہیں ہے تو اچھا ہوگا کہ اپنی لمٹس میں رہو۔۔۔۔

اور میں ابھی تھکا ہوا افس سے ایا ہوں۔۔۔

جو بھی بات ہے صبح کرنا ابھی نہیں۔۔۔۔۔

اخل۔

وہ اس کے بولنے سے پہلے ہی کمرے کا رخ کر چکا۔۔۔

___

یہ سب اس کی وجہ سے سب کچھ اس کی وجہ سے ہے اس نے غصے سے پاؤں زمین پر مارا۔۔۔۔

پر اب اور نہیں رک سکتی تھی انہی قدموں پہ واپس گئی۔۔۔۔۔

___

ائرہ لیٹی تھی پر سوئی نہیں تھی لیکن اس کے کمرے میں اتے ہی اس نے خود کو بلینکٹ میں چھپا لیا تھا۔۔۔۔۔

اس کی انکھوں میں انسو تھے ۔پر اس نے صاف کر لیے۔شاید اس کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔۔۔

وہ اپنی سائیڈ پہ ا کے بیٹھا تھا کہ اس نے رخ اپنی سائیڈ پہ کیا۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سوچتی یا اسے کچھ کہتی اس کا ہاتھ اسے اپنی کمر پہ محسوس ہوا۔۔۔

کیا ہے اب۔۔۔۔

اس نے غصے سے اس کے ہاتھ کو جھٹکا اور روخ اس کی طرف کیا۔۔۔

سونے لگا ہوں اور کیا ہے۔۔۔

تو سو جاؤ نا ادھر کیوں اگئے ہو۔۔۔۔۔

وہ جو لیمپ بند کر چکا تھا پھر سے ہاتھ بڑھا کے لیمپ کو ان کیا۔۔۔۔

کہیں جلسی تو نہیں ہو رہی۔۔۔۔

نہیں بالکل بھی نہیں ہو رہی مجھے بہت نیند ائی ہے اور میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔

حالانکہ اندر سے اسے اگ لگی تھی کہ انہوں نے بات کیا کی ہے ۔

اس گھر میں تو ڈرامے ہی نہیں ختم ہوتے۔۔۔

وہ بھی دیکھو ادھی رات کو منہ اٹھا کر گئی۔۔۔۔۔

اس کا لہجہ کافی سرد تھا۔

اگر وہ پریگننٹ نہ ہوتی تو ابھی تک تو تھپڑ کھا چکی ہوتی۔۔۔

اس نے بلینکٹ کو زور سے کھینچا اور پھر سے رخ بدل لیا۔۔

ویسے مار کھائے ہوئے کتنے دن ہو گئے ہیں۔۔۔۔۔

تمہاری پھر سے ٹیوننگ کرنی پڑے گی۔

یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہو۔۔۔

اسی لہجے میں جو تم ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔۔

لہجہ ویسا ہی سرد تھا۔کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ اس حالت میں وہ بے بس ہے۔اس کے اگے۔۔۔۔

کیا ایمن کو بھی ایسے ہی مارو گے اس نے پھر سے رخ بدلہ۔۔۔۔

پاگل سمجھ رکھا ہے جو اتنی رومینٹک وائف کو ماروں گا۔

پاس بھی نہیں انے دے گی۔۔۔۔

یہ ہاتھ تو صرف تمہیں مارنے کے لیے بنا ہے۔

میری ان رومینٹک وائف اس کے گال کھینچتے ہوئے اخل نے کہا۔۔۔۔۔

اور پھر بلینکٹ سیدھا کیا۔۔۔۔

اس کے جذبات کو پھر سے چھیڑتے وہ رخ بدل گیا تھا۔۔۔

پر وہ کیا کر سکتی تھی۔۔۔۔۔

اور اس کی باتیں مجبور کر رہی تھی۔

کہ وہ بھی اب رومینٹک ہو جائے۔۔۔

پر کیسے ۔۔۔۔۔

یہ اس کے بس کا کام نہیں تھا۔۔۔۔

___

میں نہیں جانتی۔۔۔۔

ماما کچھ بھی کریں اس ائرہ کو یہاں سے دفع کریں۔۔

جب تک وہ اس کی زندگی میں ہے وہ میری طرف نہیں ہو سکتا۔

اپ کے سامنے میں نے کتنی کوشش کی۔۔

بیٹی ایک دفعہ انگیجمنٹ ہو جائے سب ٹھیک ہو جائے گا

وہ بس وقتی طور پر اس کے ساتھ ہے۔

وہ لڑکی ہمارے لیول کی نہیں ہے۔۔

اج نہیں تو کل اسے احساس ہو جائے گا۔۔

شاید اپ بھول رہی ہیں کہ وہ پریگننٹ ہے اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے۔

وہ کیسے اسے چھوڑے گا مجھے بتائیں کیسے۔۔۔۔۔

یہ میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔۔

اس بچے کو کسی صورت بھی اس دنیا میں نہیں انے دوں گی ۔

بلکہ اگر ضرورت پڑی تو اس کے ساتھ اسے بھی بھیج دوں گی۔۔

پر اپنی بیٹی کی خوشیوں کو نہیں چھیننے دوں گی۔۔

وہ صرف تمہارا ہے اور میلان کامران کی بہو صرف تم ہو۔۔

میری جان صرف اور صرف تم۔۔۔۔۔

اس کے پاس اتے اس کے بالوں کو سرہاتے ہوئے وہ اسے سمجھا رہی تھی۔

تو اب اپ کیا کرنے والی ہیں۔۔۔

تم یہ مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔۔

بس تم اپنا موڈ اب ٹھیک کرو۔۔

تمہارے پاپا تمہیں ایسے دیکھ کر پتہ ہے نا کتنے پریشان ہو جاتے ہیں ۔۔۔

انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ تمہارے لیے کیا ہے وہ اتنی اسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔

تمہیں میلان کامران کی بہو بنانے کے لیے وہ کچھ بھی کریں گے۔

اور اب تو کھیل ہمارے ہاتھ میں ہے۔

بیٹا اس نے خود ہاں کی ہے۔۔۔

___

اپ یہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں ارہی اس کی زبردستی شادی کیوں کروانا چاہتے ہیں.

بشرا بیگم میلان کامران کو کوٹ پہناتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔۔

بیگم یہ تم بھی جانتی ہو۔

وسیم سے میں پہلے ہی وعدہ کر چکا تھا۔

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ کسی اور میں انٹرسٹڈ ہے۔

تو میں یہ بات کبھی نہ کرتا۔

پر تم جانتی ہو کہ وسیم سے میں نے خود ایمن کا ہاتھ مانگا تھا۔

اور تمہارے لاڈلے نے بھی خامی بڑی تھی۔۔۔

لیپ ٹاپ کو بیڈ سے اٹھاتے ہوئے وہ بول رہا تھا۔۔۔

اور ویسے بھی جب اسے کوئی اعتراض نہیں تو تم بھی اس بات کو جتنا جلدی ہو جائے ایکسیپٹ کر لو۔۔

اور رہی بات ا ئرہ کی تو ایک۔۔۔

وہ کل بھی میرے لیے عدنان کی بیٹی تھی اور اج بھی میرے لیے عدنان کی بیٹی ہے۔

وہ اتنی سی بات کہہ کے باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔

اخری بات پہ لہجہ خاصہ سرد تھا۔

عائزہ کی وجہ سے وہ کبھی بھی اس سے قبول نہ کرنے کی قسم کھا چکا تھا۔

پر عدنان کا نام سن کر بشرا بیگم بھی پیچھے چلی گئی تھی۔

انہوں نے الماری سے پرانی ہیلپم نکالی اور پھر سے عائزہ کو یاد کرنے لگی۔۔۔

ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔

بہت لاڈوں سے پالا تھا۔۔۔۔

کیسے کوئی اتنی قیمتی جان کو گولیوں کی نظر کر دیتا ہے۔

20 30 روپے کی گولی ہنستے مسکراتے انسان کو ایک پل میں ختم کر دیتی ہے۔۔

ماں کے جگروں کو چیر دیتی ہے۔۔۔۔۔

وہ البم پہ ہاتھ پھیرے زار و قطار رونے لگی تھی۔۔۔۔

__________&&&&

وہ پلیٹ میں پڑے املیٹ سے کھیل رہی تھی۔

دماغ اس کی رات والی باتوں کی طرف تھا اس کا۔۔۔

اور اس کی اگینجمنٹ کی طرف۔۔۔۔

اخل نے اسے یوں گم سم پایا تو اس کے سامنے پرے گلاس میں جوس ڈالا۔۔۔۔

اسے ختم کرو اسے ارڈر دیتے ہوئے۔۔۔

اس نے بریڈ کا ایک پیس اٹھایا اور اس پہ جیم لگانے لگا۔۔۔

میلان کامران صبح ہی افس چلے گئے تھے۔۔۔

ورنہ ابھی ناشتے کے ٹیبل پہ انگیجمنٹ کی ڈسکشن جاری ہوتی۔۔۔۔۔

کیونکہ اس گھر میں وہی تھے جو انگیجمنٹ کی تیاریاں دیکھ رہے تھے۔

باقی گھر میں کسی کو پرواہ نہیں تھی بشر بیگم سمیت

ائرہ بیٹی کہاں گم ہو۔۔۔۔

کھانے کے معاملے میں تم بہت السی ہو۔۔۔

ایسی حالت میں۔۔۔۔

تمہیں زیادہ کھانا چاہیے تم نے تو پہلے سے بھی کم کر دیا ہے۔

ہممم۔۔نہیں کھا رہی ہوں۔۔۔۔

ان کی اواز پہ وہ چونکی اور بس یہی کہا۔۔۔

موم اس کی ٹیوننگ نہیں ہوئی نا۔اسی لیے سلو موشن پہ ہے۔۔۔۔

کیا مطلب ہے تمہارا خبردار جو اب اسے کچھ کہا۔۔۔۔۔

میری موم کو چھین لیا ہے تم نے مجھ سے۔۔۔

اسے کہنی مارتے جوس کا گلاس اس کے ہاتھ میں دیا۔۔۔۔

اج ڈاکٹر کے پاس جانا ہے ائرہ۔۔۔۔

اپوائنٹمنٹ ہے یاد ہے نا۔۔۔۔۔۔

جلدی سے ختم کرو۔۔

دیر نہ ہو جائے۔۔۔۔۔۔

اخل ایسے بیہیو کر رہا تھا جیسے سب کچھ بہت نارمل ہے۔۔۔۔

____

ابھی ناول میں کچھ چیزیں واضح کرنی ہیں۔

تو اہتمام پر اپنی رائے دیجئے گا۔۔۔۔۔

باقی سپورٹ کے لیے تھینک یو سو مچ۔۔۔۔

اور اگے بھی اپنی سپورٹ جاری رکھیے گا۔۔

لوگ ناول تو پڑھ رہے ہیں لیکن پیج کو لائک نہیں کیا۔

تو کائنڈلی پیج کو لائک اور فالو بھی کر لیں۔۔۔۔

اب لاسٹ ایپیسوڈ کے پارٹس ہیں۔۔۔۔

وہ میں ایک ہی میں کر دوں گی یا پارٹس میں کر دوں گی۔

وہ میں دیکھوں