Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 11

Ayra by Aneeta

کنتے کا ملے گا یہ ہیرا مجھے….

راشدہ نے ائرہ کو زبردستی اس کے ساتھ بٹھایا تھا۔۔۔۔۔

محروج عصر ایک ارب پتی بندہ تھا۔۔۔۔

وہ پہلے بھی یہاں سے کئی لڑکیوں کو لے کے جا چکا تھا۔

لیکن زندگی میں پہلی دفعہ اس کے مطلب کی چیز اس کے ہاتھ لگی تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ مسلسل کانپ رہی تھی اس کا پورا وجود ہی کانپ رہا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے فراک کو مٹھیوں میں دبوچا ہوا تھا۔۔۔۔۔

نظروں کو نیچے جھکایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

یا اللہ میری مدد کر وہ اندر ہی اندر دعائیں مانگ رہی تھی۔

کیا ہونے والا ہے یہ ڈر اسے کھائے جا رہا تھا۔۔۔

بی۔۔۔۔۔

رکو محروج نے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروایا۔۔۔۔۔۔

اس ہیرے کی قیمت میں خود لگاؤں گا۔۔۔۔۔

اس کی نظریں ائرہ پر تھی۔۔۔

اس نے ہاتھ اگے بڑھایا ہی تھا کہ پاس کھڑے باڈی گارڈ نے ہاتھ پہ چیک بک رکھی۔۔۔۔۔

اس کی نظریں مسلسل ائرہ اپ پر تھی۔۔۔۔۔۔

میں تمہارے ساتھ کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔

مجھے جانا ہے وہ اٹھی ہی تھی کہ راشدہ نے پھر سے اسے زبردستی بٹھایا۔۔۔۔۔

محروج نے نظریں ائرہ پر جمائی ہوئی تھی اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھ رہا تھا۔۔۔

اس کی خیا نے اسے اپنا اسیر بنا لیا تھا۔۔۔۔

اپنی مرضی کی قیمت لکھ لو۔۔۔۔

پہلی دفعہ کچھ ڈنگ کی چیز لے کر ائی ہو۔۔۔۔

ایسے ہیرے کی تلاش مجھے صدیوں سے تھی۔۔۔۔

اس نے اٹھ کر کوٹ کا بٹن بند کیا۔۔۔

ائرہ کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔

راشدہ نے اس کے بازو کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔

محروج نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔

جسے ائرہ نے نظر انداز کیا۔اور نظروں کو پھیر لیا۔۔۔۔۔

پر محروج کی نظریں اسی پر جمی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

اور پھر بازو سے پکڑ کر ائرہ کو باہر کھینچتا ہوا لے گیا۔۔۔

نہ۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔

نہیں جانا مجھے۔۔۔

پلیز ہاتھ چھوڑو میرا۔۔۔۔۔۔

وہ یہی بولے جا رہی تھی انہی لفظوں کو بار بار دہرا رہی تھی۔۔۔۔۔

_____

تم ایک سلطان کو نہیں ڈھونڈ پا رہے۔۔۔۔۔۔۔

اخل فون پہ چیخ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے موبائل کو ایک طرف پھینکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے سلطان کے پیچھے کئی لڑکوں کو لگا رہا تھا لیکن ابھی تک اس کو کوئی پتہ نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

تم اس لڑکی کے پیچھے خود کو پاگل کر رہے ہو۔۔۔

سمی اس کی حالت پہ سخت خفا ہوا تھا۔۔۔۔

اس کے باپ نے اس کا سودا کیا تھا وہ۔۔۔۔

وہ اتنی اسانی سے اس کی جان نہیں چھوڑنے والے۔۔

ایسے لوگوں کے ہاتھ جب ایک دفعہ لڑکی لگ جاتی ہے۔پھر اسانی سے وہ پیچھا نہیں چھوڑتے۔۔۔۔۔

اور تم اب کیا کرو گے اس لڑکی کا۔۔۔

ذمہ داری ہے وہ میری۔۔۔۔۔۔۔۔

اور کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔

اسے ہاتھ سے پیچھے دھکیلا۔۔۔۔

اور رخ دوسری طرف کر کے بیٹھ گیا گردن کو نیچے جھکا لیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔

ماتھے پہ پریشانی کے بل تھے ایک ہاتھ کو پیشانی پہ ٹھکائے وہ گہری سوچ میں چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

_____

محروج عصر ائرہ کو لے کہ ایک بڑے سے بنگلے میں ایا تھا۔۔۔۔۔

دیکھو لڑکی۔۔۔۔۔۔

ائرہ کو ایک طرف گرایا تھا وہ صوفے پہ جا کے گری تھی ایک کمرہ تھا جس پہ بڑا سا بیڈ صوفہ اور ہر چیز عالی شان تھی ۔۔۔

مجھے روتی چیختی لڑکیاں بالکل پسند نہیں ہیں۔۔۔۔

ابھی ارام کر لو۔اج رات میں سکون سے گزارنا چاہتا ہوں۔

تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔

اور راشدہ سے زیادہ پیسہ بھی دے سکتا ہوں۔۔۔

تمہارے جیسی خوبصورت لڑکی اگر بزنس میں ہو تو بڑے بڑے ڈیلر اسانی سے قابو ا سکتے ہیں۔۔۔۔

تم بڑے کام کی چیز ہو۔۔۔۔۔

تمہیں اپنی وائف بنا کر بزنس کی دنیا میں انٹروڈیوس کروں گا۔۔۔۔

پر اس سے پہلے۔۔۔۔۔

اج رات میری رنگین بناؤ گی۔۔۔

میں کچھ بھی نہیں کرنے والی۔۔۔

مجھے واپس جانا ہے ابھی وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔

کہ محروج نے اسے بازوں سے پکڑ کر بید پر گرایا۔۔۔

یہاں سے بھاگنے کا سوچا بھی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔

وہ ایک دم سے بیڈ پر گر گئی تھی مشکل سے خود کو سنبھالتے ہوئے پھر سے اٹھ کر بیٹھی۔۔۔

دوبارہ یہ غلطی مت کرنا وہ پاس ایا تھا۔۔۔

ائرہ ڈرتے ہوئے پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔۔

کہ اس نے ایک جھٹکے میں اسے پاس کیا۔۔۔۔۔۔

میری ہاں میں ہاں ملانا ہی تمہارے لیے اچھا ہوگا۔۔

سرگوشی میں کہتا اس نے اسے پیچھے گرایا اور باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔

دروازہ اس نے لاک کر دیا تھا۔۔۔۔۔

________

اخل پتہ لگ جائے گا۔ ۔۔۔۔

دیکھو سارے لڑکوں کو کام پہ لگا دیا ہے جس جس کے جہاں جنگ کنکشن ہیں سبھی لگے ہیں نا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

ملیحہ کی اواز یہ سمی اور اخل پیچھے چونکے۔۔۔

تم نے پرومس کیا تھا کہ میری برتھ ڈے والے دن تم سارا دن میرے ساتھ سپینڈ کرو گے۔۔۔۔

اب دن تو گزر گیا کیا پارٹی میں بھی نہیں اؤ گے۔۔۔۔

ملیحہ۔۔۔۔۔

اخل کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ۔۔۔۔

یقینا وہ اس کو ٹالنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

یہ ا رہا ہے تم فکر مت کرو۔سمی نے ملیحہ کو کہا۔۔۔۔

_______

اخل جانا تو نہیں چاہتا تھا لیکن سمی اور ملیحہ کے اسرار پر۔اس نے مشکل سے دل کو منایا تھا اور وہ پارٹی میں ایا تھا۔اس نے وائٹ شرٹ پہنی تھی۔نیچے بلو جینز۔ملیحہ کی اج بر ڈے تھی چاروں طرف ڈیکوریشن تھی۔ملیحہ نے باربی ڈریس پہنا تھا۔جس کی استین نہ ہونے کے برابر تھے۔۔۔

۔

اخل ملیحہ کو وش کرنے کے بعد باہر گارڈن کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔

یہ رونقیں اسے سکون نہیں بخش رہی تھی۔یہ پہلی بار تھا۔

کتنی لڑکیوں نے اسے لفٹ دی تھی۔لیکن سب کو اگنور کرتے ہوئے وہ باہر کی طرف ایا تھا۔۔۔۔۔

اپنی حالت کو نہیں سمجھ پا رہا تھا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

تم ایسے کیوں اگئے چلو مجھے کیک کاٹنا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔

ملیحہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے دل گھبرا رہا ہے میں یہی ٹھیک ہوں تم کاٹ لو نا۔۔۔۔

اخل۔۔۔

ملیحہ اس کے قریب ہوئی۔۔۔

کیا پیار نہیں کرتے۔۔۔۔۔

اس کے سوال پے وہ سوچ میں پڑ گیا تھا لیکن پھر ایک دم سے باہر ایا۔۔۔۔۔

کرتا ہوں کرتا ہوں۔۔۔۔

اخل نے دونوں ہاتھ سے اس کے چہرے کو تھاما۔۔۔

لیکن سمجھو نا۔۔۔۔

_____

تم نے ایسا کیوں کیا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔

یا اللہ میری مدد کر۔۔۔

وہ زمین پر بیٹھی بیڈ کرؤن کے ساتھ ٹیک لگائی ہوا تھی۔کمرے میں اندھیرا تھا۔۔۔۔

کھڑکی سے ذرا سی روشنی ا رہی تھی۔۔۔

لیکن وہ بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔

محروج اس کے ساتھ کیا کرے گا یہ وسوسے اسے کھائے جا رہے تھے۔۔۔۔

اس نے ایک نظر کھڑکی کو دیکھا اور اس کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔

رونے کی وجہ سے سارا میک اپ بکھر گیا تھا۔۔۔۔

بالوں کا بھی حلیہ خراب تھا۔۔۔۔

اس نے ایک نظر دروازے کو دیکھا اور پھر کھڑکی کے ہینڈل کو پریس کیا۔۔۔۔۔۔

یہ دوسری منزل پر تھی۔۔۔۔

کھڑکی کے اس پار بالکنی تھی۔اس نے ڈرتے ہوئے روح کھڑکی کی طرف کیا ہی تھا۔۔۔۔

کہ باہر کے منزل نے اسے اور توڑ دیا۔۔۔۔۔۔

اخل ملیحہ کو باہوں میں بڑے خوش گپ میں مصروف تھا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔۔

وہ نظر کا دھوکہ سمجھ کر بلانا چاہتی تھی۔۔۔۔

کیسے کوئی کسی کی زندگی تباہ کر کے اتنے سکون میں رہ سکتا ہے۔۔۔۔

اس کی نظریں اس پہ جمی ہوئی تھی۔۔۔۔

انکھوں سے موٹے موٹے انسو گر رہے تھے۔۔۔۔۔

اس نے انہی ہاتھوں سے کھڑکی کو بند کیا اور جا کر واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

___

پارٹی تقریبا ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔

تم کہیں نہیں جا رہے۔۔۔

اخل چلو نا پلیز میں کافی بناؤں گی ہم ساتھ میں پییں گے۔۔۔۔

اوکے اوکے۔۔۔۔۔۔

اخل اسے چاہ کر بھی انکار نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔

بلکہ جو کچھ ہو رہا تھا اس کی سمجھ سے ہی باہر تھا۔

اس کا دھیان مسلسل سحری کی طرف تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

______

اس نے ابھی تک کپڑے نہیں پہنے۔۔۔۔۔

محروج نے پاس کھڑی ہیلپرز کو باہر جانے کا اشارہ کیا۔۔۔

لگتا ہے تم پیار کی بات سمجھ نہیں رہی۔۔۔

محروج عصر ملیحہ کا بھائی تھا۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں کسی اور زبان میں سمجھانا پڑے گا۔ ۔۔۔

میں نے کہا نا میں کچھ نہیں کرنے والی ہوں مجھے واپس جانا ہے۔۔۔

اور اسی بات پہ قائم تھی۔۔۔۔۔

بہت بڑی قیمت دے کر وصول کیا ہے تمہیں۔۔۔۔

ایسے کیسے جانے دوں وہ قدم با قدم اس کے پاس ا رہا تھا وہ ڈری پیچھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔

کہ محروج نے جھٹکے میں بازو سے کھینچ کر پاس کیا۔۔۔۔

یہ کپڑے پہنو۔۔۔۔۔

وہ دیوار کے ساتھ جا کر رک گئی تھی دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔

نہیں پہنوں گی میں۔۔۔

میں پیار سے سمجھا رہا ہوں تمہیں سمجھ نہیں ارہی لہجے میں غصہ ایا تھا۔۔۔۔

اس نے اپنا ہاتھ ائرہ کے چہرے پہ رکھا۔انسو صاف کیے

جلدی سے پہنو۔اس کی انکھوں میں انکھیں ڈالتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔

اس نے دوسرا ہاتھ اس کی کمر میں ڈالنا چاہا لیکن ائرہ نے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پہ مارا۔۔۔۔۔۔

مہروج کا ایک ہاتھ اس کے چہرے پہ تھا۔انکھیں غصے سے لال ہو گئی تھی ۔۔۔۔

تیری تو میں۔۔۔

تو دو ٹکے کی لڑکی مجھ پہ ہاتھ اٹھائے گی۔۔۔۔

اسے بالوں سے پکڑ کر اس نے اگے کیا۔۔۔

اب میں بتاتا ہوں کہ مردانگی کیا ہوتی ہے۔۔۔۔

بالوں سے ہی پکڑ کر اس نے اسے بیڈ پہ گرایا تھا۔۔۔

اپنا کوٹ اتار کر اس نے ایک سائیڈ پہ پھینکا۔۔۔۔۔

ن۔۔۔۔۔نہیں میرے قریب نہیں انا۔۔۔۔

ائرہ پھر سے ہمت کر کے اٹھی تو اس نے دوسرے ہی جھٹکے میں اسے بیڈ پے گرایا۔۔۔۔

اس کی قربت کے حوف سے ائرہ کے منہ سے زوردار چیخ نکلی تھی۔۔۔۔۔۔

____

ائرہ۔۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ نیچے گرا تھا۔۔۔۔۔

یہ ائرہ کی اواز ہے۔۔۔

ملیحہ جو اس کے بالکل مقابل بیٹھی ہوئی تھی اسے پیچھے ڈکیلتے ہوئے وہ باہر کی طرف بھاگا وہ روم تیسرے نمبر والا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔

اس نے دروازے کو زور سے دکا لگایا تھا لیکن وہ نہیں کھلا تھا کیونکہ وہ لوک تھا۔۔۔۔۔

اس نے ایک ہی جھٹکے میں دروازے کو توڑا۔۔۔۔

محروج جو اس پہ جھکنے ہی والا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اخل نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے محروج کو دیکھا۔۔۔۔۔

الجھے ہوئے بال سوجی ہوئی انکھیں۔۔۔۔

بیڈ سے اٹھنے کی کوشش میں وہ ایک دفعہ پھر گر گئی تھی۔۔۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔

اخل نے اسے گریبان سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

ملیحہ بھی اخل کے پیچھے ہی ائی تھی۔۔۔۔

اخل یہ تم کیا کر رہے ہو چھوڑ دو۔۔۔۔

اخل نے نظر انداز کرتے ہوئے اس کے منہ پہ زور سے پنچ ماڑا۔۔۔۔

مخروج کے ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

بہت مہنگا پڑے گا تمہیں یہ اس نے ایک جھٹکے میں اخل کو پیچھے کیا۔۔۔۔

اس کی سمجھ سے باہر تھی بات۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے اس کے دونوں بازوں کو تھام کر اسے کھڑا کیا۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو نا دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو تھاما۔۔

۔ائرہ۔۔۔۔۔

اگلے ہی لمحے ائرہ نے اپنی انکھیں بند کر لی تھی وہ گرنے ہی والی تھی کہ اخل نے اسے اپنے بازوں میں تھاما۔۔۔

ملیحہ یہ سب حیرانگی سے دیکھ رہی تھی جبکہ محروج اپنے ناک پہ ہاتھ رکھی غصے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

ملیحہ کی وجہ سے وہ کیسے ایکسپلین کرے وہ نہیں جانتا تھا۔

پر ائرہ کے تھپڑ اور اخل کے پنج دونوں بھی اسے شدید غصہ تھا۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر بعد وہ اسے وہاں سے لے ایا تھا۔۔۔

محروج نے روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔

پر وہ اخل تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_____

اسے بیڈ پہ لٹانے کے بعد بلینکٹ کو اس کے اوپر اور کر وہ اس کے ساتھ ہی جگہ بنا کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

ایک منٹ کے لیے بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا وہ۔۔۔۔

اس کے بال سوارتے ہوئے اس کی انکھیں نم ہو چکی تھی۔۔۔۔

ذہن میں کئی سوال تھے کہ نہ جانے کیا کچھ ساہ ہوگا اس نے۔۔۔۔۔

صرف اس کی لاپرواہی کی وجہ سے۔۔۔۔

ا۔۔۔۔۔۔۔۔اخل ۔۔۔۔۔۔۔

وہ نیند میں ہی بڑبڑای۔۔۔۔۔

اور اس کے منہ سے اپنا نام سن کر وہ ایک دم سے چونکا تھا۔۔۔۔

تم ایک گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔۔

اسے اپنا اپ کھولتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

تم نے مجھے سلطان کے حوالے کر دیا۔سلطان نے مجھے داشدہ کو بھیچ دیا۔اور راشدہ نے محروج کو۔۔۔۔

وہ نیند میں ہی بول رہی تھی جب کہ اس کے لفظ اخل کے دل کو چیر رہے تھے۔۔۔۔۔

میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔۔

کبھی نہیں۔۔۔۔۔

میں نفرت کرتی ہوں تم سے۔۔۔۔۔

تمہاری وجہ سے میں برباد ہو گئی۔۔۔۔

وہ مسلسل بول رہی تھی جبکہ اس کے لفظ اخل کے دل کو چیر رہے تھے۔۔۔۔

لیکن وہ بے قابو ہوتا جا رہا تھا اس نے ایک زوردار اواز سے ائرہ کو پکارا۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

اسے بازوں سے پکڑ کر بٹھایا۔۔۔۔۔

اب بس وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔

اخل کو ایسے پاس دیکھا کر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اس نے ایک جھٹکے میں سے پیچھے کیا۔۔۔۔

چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔۔

پلیز وہ بولی نہیں بلکہ چیخی تھی۔۔۔۔۔۔

مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔

اخل کواب اس کی نیند خراب کرنے کا پچھتا تھا ۔۔۔

کے وہ سکون سے سو تو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنا سا کہا کے وہ باہر کی طرف نکلا۔ایک نظر ائرہ کو دیکھنے کے بعد اس نے دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔

_________

بھائی اپ نے اس لڑکی کو کہاں سے لیا بتائیں مجھے۔۔۔۔

یہ سب کیا چل رہا ہے اس گھر میں۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل کے ساتھ اس کا کیا کنکشن ہے مجھے یہ بتاؤ تم پہلے۔۔۔

محروج غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

مخروج ایسا ہے ملیحہ نہیں جانتی تھی اپنے بھائی کے بارے میں۔۔۔

پر آئرہ کو لے کر وہ بہت جیلس ہو رہی تھی۔۔۔

کے اخل اس کے لیے اتنا فکر مند کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔

مجھے وہ لڑکی چاہیے ہر حال میں یہ اس نے دل میں کہا اور زور سے پنچ شیشے پہ مارا شیشہ چکنا چور ہو گیا تھا۔۔۔

ملیحہ بھی اس کو اس کے حال پہ چھوڑ کر باہر چلی گئی۔۔۔

اور اخل کو فون ملایا لیکن اس نے اٹھایا نہیں۔۔۔

تو اس نے خود جانا ہی مناسب سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

______

ائرہ نے اس کے باہر جاتے ہی جلدی سے اٹھ کر روم لاک کر لیا تھا۔۔۔۔۔

اور دروازے کے پاس بیٹھ کر زار و قطار رونا شروع کر دیا۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو اس کے کمرے کے باہر ہی تھا۔۔۔

اس کے رونے کی اواز سے سخت بے چین ہوا۔۔۔۔۔

پلیز نہیں۔۔۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔

ملیحہ کے ہاتھ کو اخل زور سے جھٹکا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ ڈری ہوئی ہے میں اس سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔

لیکن اس بات سے اس نے رخ اپنا اس کی طرف کیا۔۔۔

اسے ایک لڑکی ہی سمجھ سکتی ہے۔۔۔۔

وہ بہت ڈری ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے ہینڈل سے ہاتھ اٹھایا۔ایک نظر دروازے کو دیکھا پھر ایک نظر ملیحہ کو اور غصے سے گارڈن کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔

وہ ائرہ کی حالت کو لے کر بہت پریشان ہو چکا تھا۔۔

اور یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے یہ باتوں سے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری زندگی سے اس کو بہت دور پھینک دوں گی۔۔۔۔۔۔

اس کے جاتے ہی ملیحہ کے چہرے کے تاثرات بدل چکے تھے۔۔

______________________

ملیحہ کے بہت اصرار کرنے پر ائرہ نے دروازہ کھولا تھا۔

کیونکہ وہ بہت ڈر گئی تھی۔اخل کی موجودگی سے۔۔۔۔۔۔

اس کی قربت کے خوف سے۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو۔۔۔۔۔۔

میرے بھائی نے جو بھی کیا میں اس پہ بہت شرمندہ ہوں۔۔۔۔

پر میں تمہاری مدد کروں گی میں تمہیں ان سب سے نکال لوں گی۔۔۔۔

اگر تم مجھ پر یقین کرو۔۔۔۔۔

مجھے کسی پہ یقین نہیں کرنا مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔۔۔

ہاں میں تمہاری مدد کروں گی۔۔۔۔

اسے مدد کی نہیں ارام کی ضرورت ہے اب باہر ا جاؤ۔۔۔۔۔

اخل اس کی اخری بات سن چکا تھا۔۔۔۔۔۔

ہاتھ میں پکڑے دودھ کے گلاس اور میڈیسن کو اس نے ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔

ایک نظر ائرہ کو دیکھا جو اس کے اتے ہی سہم چکی تھی۔۔۔

ملیحہ جو وہیں بیٹھی تھی۔۔۔۔

اخل۔

نے پھر اسے انکھوں سے باہر انے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔