Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 26

Ayra by Aneeta

تم ڈنر پر اؤگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا ذہن میں کچھ نہیں ا رہا تو اسی سے شروع کر دی ۔۔۔

اسکے ہاتھ میں موبائل تھا. وہ اسے گول گول گھوما رہا تھا ۔۔۔

وہ بیڈ کے دوسری سائیڈ پہ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔

ہاں کیوں میں نہیں اؤں گی میں ڈنر نہیں کروں گی۔۔۔۔

بھوکا رکھنے کا ارادہ ہے تمہارا۔۔۔۔۔

میں نے ایسا نہیں کہا مجھے لگا شاید بابا کی وجہ سے نہ اؤ۔۔۔۔۔

تم نے صبح ہی تو کہا تھا کہ مجھ پہ تمہارا اثر ہو گیا ہے۔

اب کو ئی جتنا بھی بیسٹ کر لے فیل ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔وہ بات کو پھر سے اسی موڑ پے لے گئی تھی۔اس لیے اسے تھوڑا غصہ ایا۔۔۔۔

کیا ائرہ ائرہ ۔۔۔

اخل کبھی کبھی میں خود سے سوال کرتی ہوں۔۔۔۔

کیا تمہارا ضمیر مر چکا تھا اس وقت۔۔۔

تمہارے ضمیر نے کبھی تم سے کوئی سوال نہیں کیا۔۔۔

اس کی انکھ سے انسو بہنا شروع ہو گئے تھے وہ جو ٹیک لگا کے بیٹھا تھا ایک دم سے ٹانگیں سیدھی کی اور کھڑا ہو گیا۔

تم نے اتنا ظلم کیا۔۔۔۔۔۔

تم لوگوں کی دشمنی میں میں اپنا سب کچھ گواہ بیٹھی۔

کیوں ۔۔۔۔۔

مجھے کیوں کا جواب چاہیے وہ بالکل اس کے پاس اگئی تھی۔۔۔۔

ائرہ ۔۔۔۔۔۔

وہ اسے کیا وضاحت دیتا اس کے پاس کوئی لفظ نہیں تھا۔۔۔

معافی مانگ چکا ہوں نا۔۔۔۔۔

تمہاری ایک معافی سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

میرے زخموں کو چھوڑو۔۔۔۔

اخل جو میرے بہن بھائیوں کے ساتھ ہوا وہ۔۔۔۔۔

ہمارے پاس تم لوگو جتنا پیسہ نہیں ہے نا۔۔۔۔

جو اس کھیل کو شروع کر سکیں۔۔۔

ایک بدلے کے پیچھے نسلیں اجاڑ دیں۔۔۔۔۔

لیکن میں نے سب اللہ پہ چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔

اور اس کا حساب بڑا سخت ہوتا ہے۔اخل میں دعا کرتی ہوں کہ تم لوگ برداشت کر پاؤ۔۔۔۔۔۔

وہ انسو صاف کرتے باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

وہ اسے کس منہ کے ساتھ روکتا۔۔۔۔۔۔

___

تقریبا رات ہونے والی تھی ڈنر کی تیاریاں عروج پر تھی۔۔۔۔

کیا مجھے ایک کپ چائے مل سکتی ہے۔۔۔۔

کچن سے طرح طرح کے کھانوں کی خوشبو ا رہی تھی۔۔۔۔

ائرہ نے کچن میں اتے ہی کہا۔۔۔۔

جی چھوٹی بی بی یہ میں بس کڑاہی دیکھ لوں پھر اس کے بعد اپ کے لیے چائے بناتی ہو۔۔۔۔

میں دیکھ لیتی ہوں تم میرے لیے چائے بنا دو۔۔۔

او ائرہ نے ایکٹنگ کی میرا موبائل روم میں رہ گیا کیا تم وہ لا کے دے سکتی ہو۔۔۔۔

جی وہ نہ نہیں کر سکتی تھی تو چلی گئی۔۔۔

اس کے جاتے ہی ائرہ نے۔۔۔۔۔

کہیں قسم کی ڈشیں بنی تھی۔

ہر ڈش میں نمک مرچ اور مصالحے چمچ در چمچ نہ جانے کتنے اس نے ڈال دیے۔۔۔۔

وہ سارے کھانو کو بگاڑ چکی تھی اب صرف کڑاہی بچی تھی۔۔۔۔

وہ اب کڑاہی کے پاس ائی تھی۔وہ جو انچ بالکل ہلکی کر کے گئی تھی اس نے سب سے پہلے اسے ہائی کیا۔۔۔۔۔

اب ڈبے میں تھوڑی ہی مرچیں رہ گئی تھی اس نے پورا ڈبہ اندر ڈالنا چاہا پر اخل نے اس کا بازو پکڑا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی ابھی کچن میں ایا تھا۔اور اس کے کارنامے سے اچھے سے واقف ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اس کے ہاتھ سے ڈبہ لے کر شیڈ پر رکھا۔۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو پاگل ہو گئی ہو۔۔۔۔

او میرے اللہ۔۔۔۔۔۔۔

وہ گول گما تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں ہاتھ اسنے پیشانی پے ٹکائے۔۔۔

اسے اس حرکت کی بالکل امید نہیں تھی۔۔۔

اس نے ایک نظرپیچھے دیکھا اسے ڈر تھا کوئی ا نہ جائے

اب کمرے میں جاؤ جلدی سے کمرے میں جاؤ ائرہ۔۔۔۔

میں کچھ کہہ رہا ہوں جاؤ وہ غصے سے جیحا تھا۔۔۔

ائرہ کو اس پر شدید غصہ ایا تھا لیکن اندر سے وہ شرمندہ بھی تھی۔۔۔۔۔

کچھ ری ایکٹ کیے بغیر وہ باہر چلی گئی کئے بغیر باہر ا گئی۔۔۔۔۔

________

وہ کچن سے باہر نکلی ہی تھی کہ بشرا بیگم نے اسے بلایا وہ جو کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ جانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن انکار بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔۔۔

تمہارے لیے ایک بہت ہی پیارا جوڑا نکالا ہے میں چاہتی ہوں اج تم وہ پہنو۔۔۔۔۔

یہ کہتے ہی وہ اپنی الماری کی طرف گئی۔۔۔۔

انہوں نے وائٹ کلر کی ایک میکسی ٹائپ فراک نکالی۔۔

جو بالکل سمپل تھی۔۔۔۔۔

اوپر تھوڑے نگ لگے تھے۔۔۔۔۔

تم جانتی ہو۔۔۔۔

عائزہ نے یہ کپڑے بہت شوق سے لیے تھے۔۔۔

لیکن اسے پہننا نصیب نہیں ہوئے۔۔۔۔

اس کی شادی کے کچھ دن پہلے ہی ان قاتلوں نے میری بیٹی کو مار دیا۔۔۔۔

بشرا بیگم نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔

اپ کو تسلی دینے کے لیے میرے پاس الفاظ تو نہیں ہے۔۔۔

لیکن اپ کی خوشی کے لیے میں یہ پہن لوں گی۔۔۔۔۔

بشرا بیگم جانتی تھی کہ شاید وہ شرمندہ ہو رہی ہے۔

میری جان تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔.

میں سمجھ سکتی ہوں اپ کا غم میں بھی اسی تکلیف سے گزر رہی ہوں اس نے ان کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔۔

اسے اندر سے کھانے کی بھی ٹینشن تھی۔

اور جلدی سے کپڑے لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔

____

تقریبا مہمان انے والے تھے۔۔۔۔۔۔

چھوٹی بی بی اپ کا موبائل وہ کچن میں ائی تھی لیکن وہاں پہ ائرہ نہیں تھی۔

وہ چھوٹی بی بی نے موبائل مانگا تھا۔۔

ایک کام کرو میں کھانا ارڈر کرتا ہوں یہ پھینک دو

پر کیوں چھوٹے صاحب کام والی نے کہا۔

جتنا کہا ہے اتنا کرو…

وہ غصے سے اپنے کمرے کی طرف گیا تھا۔۔۔۔۔

_____________

یہ کیا بچپنا ہے اس نے غصے سے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا وہ سامنے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔

اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور اپنے ہاتھوں سے کھیلنے لگی۔۔۔

میں تمہارے ساتھ ہوں وہ پاس ایا۔۔۔۔

یہاں پہ تم لے کر مجھے اپنی مرضی سے ائے ہو لیکن رہوں گی میں اپنی مرضی سے۔۔۔

تو تمہاری مرضی یہ ہے پنجگانہ حرکتے کھانا خراب کر کے کیا ملا تمہیں۔۔۔۔

اور اگر بابا جان کو پتہ لگ جاتا۔۔۔۔

ایک کھانا خراب کرنے سے تمہیں اتنی ٹینشن ہو رہی ہے کہ بابا کو برا لگ جائے گا اور جو تم نے میرے ساتھ کیا۔

وہ ا سے اس سے اگے ہی نہیں بڑھنے دے رہی تھی وہ سب ٹھیک کرنا چاہتا تھا لیکن پھر سے اس کے تانے اسے وہیں روک دیتے تھے۔۔۔۔

میں سوری بول چکا ہوں۔۔

اوکے مسٹر اخل میلان میں بھی اپ سے کھانا خراب کرنے کے لیے سوری بولتی ہوں اب سب ٹھیک ہو گیا۔۔۔۔

جا کر کچن میں چیک کرنا کیا نمک مرچ کم ہو گیا کھانے میں۔

کیا وہ کھانے کے قابل ہو گیا۔۔۔۔

نہیں نا بالکل بھی نہیں نا۔۔

بالکل ایسے ہی تمہاری سوری سے کوئی فرق نہیں پڑتا کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا۔۔۔۔۔

بلکہ تمہاری سوری میرے زخموں کو اور چھیڑ دیتی ہے۔۔۔۔۔

تم نے پھر سے رونا شروع کر دیا۔۔۔۔

چلو چپ اس نے اس کا چہر اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔

کوئی بات نہیں میں کھانا ارڈر کرنے والا ہوں۔۔۔۔

میری خوشیاں بھی ارڈر کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب جو مجھ سے چھین گیا ہے وہ بھی ارڈر کر دو پھر۔۔۔

اوکے کر دوں گا اب چپ۔۔۔؟

اس نے ہنستے ہوئے اس کے انسو صاف کیے تھے۔۔۔

اس کی قربت کا احساس ہوا تو اس نے اسے زور سے جھٹکا۔۔۔

میں خوشیوں کو پہلے یہ ارڈر کر چکا ہوں بس تم۔

اس بند دروازے کو کھول دو ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے اپنا موبائل نکالا اور اس نے کھانا ارڈر کیاہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور باہر ا گیا۔۔۔۔۔

میرا ہر پلین چوپر کر دیا۔۔۔۔۔

لیکن ابھی مہمانوں کو اپنا تعارف کروانا باقی ہے۔۔۔۔۔

اس نے مشکل سے خود کو سنبھالا تھا اور انسو صاف کیے اور پھر سے اس ڈریس کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔

__

اخل تمہارے پاپا تمہیں بلا رہے ہیں کب سے

جی موم ان کے پاس ہی جا رہا ہوں۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کے گال کھینچتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔۔۔

کھانا وہ ارڈر کر چکا تھا۔۔۔

کہیں اگر اسے غصہ تھا اس کی شرارت پہ تو کہیں پیار بھی ا رہا تھا۔۔۔۔

اس کی معصوم چالوں پہ

ڈیڈ اپ نے بلایا تھا۔۔۔۔۔

اخل نے گرے شرٹ پہنی تھی۔جس میں وائٹ لائنز تھی۔بالوں کو ایک طرف مڑا ہوا تھا۔

ہاتھ میں چین۔۔۔۔۔۔

اس نے دروازے کو شائستگی سے بند کیا۔۔۔۔۔

اج وسیم بھی ڈنر پڑا رہا۔۔۔۔۔

تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں پہلے ایمن کے لیے تمہارا رشتہ مانگ چکا ہوں۔۔۔۔

اور ان کے ساتھ ہمارے بزنس معاملات بھی کیسے ہیں۔۔۔۔

اب ایسے اچانک انہیں بتانا کہ تم نے شادی کر لی ہے بالکل اچھا تاثر نہیں دیتا۔۔۔۔

اس لیے اپنی بیو ی کو کہنا کہ صرف کمرے تک رہے۔۔

بابا میں اپ کو کہہ چکا ہوں میری بیوی ہے۔وہ

اخل۔۔۔

انہوں نے غصے سے مخاطب کیا اور رخ اس کی طرف کیا وہ دونوں ہاتھ پیچھے باندھے کھڑکی کے پاس کھڑے تھے۔۔

بابا میں نے شادی کر لی ہے انہیں یہ بات جتنی جلدی پتہ لگ جائے اچھا ہے۔

اور ائرہ گھر کا فرد ہے۔۔۔۔

اسے کسی سے بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

وہ غصے سے کہتا باہر گیا۔۔۔۔۔

اور دروازے کو زور سے بند کیا اس نے۔۔۔۔

__$

وہ کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ اگے اسے ایمن اور اس کی فیملی اتے نظر ائے وہ جانا تو کمرے میں چاہتا تھا لیکن پھر رک گیا۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔

وٹا سپرائز ایمن اگے ائی۔۔۔۔

تم دبئی سے کب ائے۔۔۔۔۔۔۔

اخل نا چاہتے ہوئے بھی سب سے ملا۔۔۔۔۔

___

اسد۔۔۔۔۔۔۔

اپ نے کال کیونکہ اس نے ڈرتے ہوئے موبائل کان کے ساتھ لگایا کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی۔اخل کو کتنی چڑ ہے اس بندے سے۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ اس کا جواب سنتی۔۔۔

اخل کمرے میں داخل ہوا تو اس نے موبائل پیچھے رکھ دیا۔۔۔

اس نے وہی فراک پہن لی تھی جو بشرا بیگم نے اسے دی تھی۔۔۔۔

وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس میں۔۔۔۔

بالوں کو اوپر کی طرف باندھا ہوا تھا دو لٹوں کو چہرے پہ سجایا ہوا تھا۔۔۔۔۔

اس نے دیکھتے ہی لمبا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ بات بھول گیا تھا اپنی۔۔۔۔۔۔

چلو ا جاؤ باہر سب اگیے ہے۔۔۔۔۔۔

اپنا کنٹرول نہ کھو دے وہ اس نے جلدی سے اسے باہر انے کا کہا۔۔۔

یہ انٹی نے دیا مجھے تو پہن لیا میں نے۔۔۔۔۔

شاید اس نے اس کے سوالوں کے جواب دیے تھے۔۔۔

ہاں بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔

اس نے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھا تھا پھر سے۔۔۔۔

میں اتی ہوں تم جاؤ۔۔۔۔۔

وہ اسد کے چیپٹر کو نپٹانا چاہتی تھی۔۔۔۔

اسد کب سے اسے فون کر رہا تھا۔۔۔۔۔

میرے ساتھ نہیں چلوں گی۔۔۔۔۔

نہیں کبھی نہیں وہ غصے سے بولتی رخ بدل گئی تھی۔۔۔

اس کے جاتے ہی اس نے پہلے فون ملانا چاہا لیکن کچھ سوچ کر موبائل رکھ دیا۔۔۔۔۔

___

یہ ائرہ پلیز ایک دفعہ میری کال اٹھائیں مجھے اپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔

میں نے بہت مشکل سے نمبر ڈھونڈا ہے۔۔۔۔

بہت کھانے کی تھی اس نے لیکن جواب نہ ملنے پر اس نے اب میسج کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

______

اخل کا میز پہ موجود لوگوں میں کم دھیان تھا ائرہ کا انتظار زیادہ تھا۔۔۔۔۔

کھانے کی میز پر بشرا بیگم کچھ افس کے لوگ وسیم اس کی فیملی اور ایمن تھے۔۔۔۔۔

نہ جانے کتنی دفعہ وہ دیکھ چکا تھا وہ ابھی تک نہیں ائی تھی۔۔۔۔

دیکھیں اج اس پر مسرت موقع پر۔۔۔۔

میں چاہتا ہوں کہ ہم اس دوستی کو رشتے میں بدلیں۔

اپ نے تو پہلے ہی اخل کو ہمیں سونپ دیا ہے اج ہم بھی اس رشتے کو نام دینا چاہتے ہیں۔

بشرا بیگم نے حیرانگی سے میلان کامران کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

ایمن نے شرم کے مارے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔

نہ۔۔۔۔اخل بولنے ہی لگا تھا کہ میلان نے ہاتھ سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

اج ہم ایمن اور اخل کی اگینجمنٹ کی تاریخ رکھ لیتے ہیں جو کہ اسی ویکن میں رکھ لیتے ہیں۔۔۔

وسیم بولے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ جو کہ ابھی ہی ائی تھی یہ بات سنتے ہی اس نے واپس جانا چاہا۔۔۔۔

ائرہ اخل نے آواز دے کے روکا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

ایمن نے حیرانگی سے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

یہ کون ہے وسیم نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔۔

بابا یہ وہی ائرہ ہے ایمن نے کہا ایمن انہیں سب بتا چکی تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ وائف ہے میری شادی کر چکا ہوں میں۔۔۔۔۔۔

کیسے وسیم ایک دم سے اٹھا تھا۔۔۔۔

جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے یہ تو اس قاتل کی بیٹی ہے نا۔

پلیز۔اخل زور سے چیخا تھا۔۔۔۔۔

میلان کامران بھی اٹھا تھا۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔

وسیم بات سنو۔۔

اب سننے کو رہ کیا گیا ہے۔۔۔۔۔

میری بیٹی کی جگہ تم اس قاتل کی بیٹی کو لے ائے۔۔۔

تو مجھے کیا یہاں مبارکباد دینے کے لیے بلایا تھا تم نے۔۔۔۔۔

ائرہ کمرے میں بھاگ گئی تھی۔۔۔۔

اخل بھی اس کے پیچھے کمرے میں گیا۔۔۔۔

پلیز مجھے کوئی بات نہیں کرنی مجھے اکیلا رہنا ہے وہ زور سے چیخی تھی۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

اخل پلیز۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے بھی اسے اور ڈسٹرب کرنا۔مناسب نہیں سمجھا۔۔۔

اگر میرا باپ قاتل ہے تو تم لوگ کیا ہو وہ زور سے چہی اور پھر سے رونا شروع کر دیا۔۔۔۔۔

میلان کامران کے لیے اس کے دل میں نفرت بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔

__$

اپ پاگل ہو چکے ہیں وہ شادی کر چکا ہے وہ کسی صورت بھی اسے ڈیورس نہیں دے گا۔۔۔۔۔

کچھ بھی کر کے اسے مناؤ اسے بولو اس لڑکی کو ڈیورس دے اس کی شادی اسی سے ہی ہوگی۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔

بشرا بیگم کسی صورت میں ان کی بات ماننے کو راضی نہیں تھی۔۔۔

وہ غصے سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔

یہ تو بالکل پاگل ہو گئے ہیں بالکل۔۔۔۔۔۔

بیٹے کی خوشیوں کے قاتل بننے جا رہے ہیں۔اس نے دروازے کو زور سے بند کیا تھا۔۔۔۔۔

_____

ماشاءاللہ کتنی پیاری لگ رہی ہو تم۔۔۔۔۔

بشرا بیگم ائرہ کے کمرے میں ائی تھی اسے دیکھنے۔۔۔۔۔

انہوں نے بالکل نارمل بیہیو کیا تھا اسے کچھ بھی شو نہیں کروایا تھا۔۔۔۔۔۔

تھینک یہ کپڑے سچ میں بہت اچھے ہیں۔۔۔۔

کیا میں عائزہ کو دیکھ سکتی ہوں ائرہ نے سوال کیا۔۔۔

پہلے تو بہت ڈسٹرب تھی لیکن بعد میں اس نے یہ کہا کہ خود کو تسلی دی۔یہ نکاح وقتی ہے۔اسے ساری عمر اس کے ساتھ نہیں رہنا۔۔۔۔

ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔

بشرا بیگم نے موبائل سے عائزہ کی تصویریں نکال کر دکھائی۔

وہ سچ میں بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔

اسے کس وجہ سے قتل کیا گیا۔۔۔۔

وہ پوچھنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن۔۔۔۔۔

اس کے ذہن میں جو سوال تھے وہ انہیں روک نہیں پائی۔۔۔۔

بشر بیگم نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

پلیز چپ کر جائیں میں نے کچھ غلط پوچھ لیا۔۔۔

ائرہ نے ہاتھ ان کے کاندھے پہ رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔

_____

وہ رات کو دیر سے کمرے میں ایا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ سو چکی تھی۔۔۔۔

وہ سوتے ہوئے کتنی معصوم لگ رہی تھی۔۔۔

اس نے استین فولڈ کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔

اندر ہی اندر کہا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کا حسن اسے پاگل کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اخل نے اس کے پاؤں بیڈ پر سیدھے کیے۔۔۔۔۔

بلینکٹ اس کے اوپر اڑا اور اپنی سائیڈ پہ ایا۔۔۔

پر خود پر کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔

اس نے یہ سوچا کہ وہ سو رہی ہے اسے کیا پتہ لگے گا۔۔۔۔

اسے قریب سے دیکھنا اور محسوس کرنا چاہتا تھا۔۔۔

اس کے اوپر سایہ بنایا اس نے اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔

کتنی خوبصورت ہو تم۔۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ کی انگلیاں اس کے چہرے پہ گردش کر رہی تھی۔۔۔۔

چہرے پہ حرکت محسوس کرتے ہی ایک دم سے اس کی انکھ کھلی تھی۔۔۔۔

کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔

اس نے زور سے اس کے ہاتھ کو جھٹکا۔

پر اس کی ادائیوں نے اسے کنٹرول سے باہر کر دیا تھا۔۔۔۔۔

وائف ہو میری۔۔۔۔

اتنا تو کر ہی سکتا ہوں۔۔

میری نیند کا فایدہ اٹھاتے ہوئے شرم نہیں اتی۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کے قریب کیا۔۔۔۔۔

چھوڑو۔۔۔۔۔۔

اب جب جان گئی ہو تو پھر کیا چھپانا۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے بولا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل تم بات سے مکنر رہے ہو چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔

جب یہ قاتل ادائیں دکھاؤ گی تو کون بات پہ قائم رہے گا۔۔

ایک چٹکے میں اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔

ائرہ کا ایک بازو اس کے کاندھے پہ تھا۔۔۔۔

وہ اس کی سانسیں محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

میں بہت ڈسٹرب ہوں پلیز چھوڑ دو۔۔۔۔

یہ بات ہے۔۔۔۔۔

اخل نے اپنے کاندھے سے اس کا ہاتھ اٹھایا۔۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں جکڑا اس نے۔۔

یہ کیا کر رہے ہو تم۔۔۔

ائرہ نے پریشانی کے عالم میں اسے دیکھا اور پوچھا۔۔۔۔

اخل نے اس کی انکھوں میں دیکھا۔ایک جھٹکے میں بالکل اسے اپنے سینے کے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور پھر اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا۔۔۔۔۔

ا۔۔۔۔۔۔۔۔اخل۔۔

وہ اسے بولنے کا موقع نہیں دے رہا تھا اس کے ہاتھوں کو پہلے ہی قید کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کے ہونٹوں کو بری طرح کچل رہا تھا وہ اپنے ہونٹوں سے۔۔۔

جہاں اس کی سانسیں رکنے لگتی وہ اپنی سانسیں بڑھتا اس میں۔۔۔۔۔

اس کا حسن اسے پاگل کر چکا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کی شدت یوں یوں بھرتی اس کا احتجاج بھی زور پکڑ رہا تھا وہ کسی صورت بھی خود کو اس کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

ایک چٹکے میں اسے پیچھے کر کے وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تھی کہ اس نے پھر سے پکڑا۔۔۔۔

میں اس حرکت پہ کبھی معاف نہیں کروں گی یاد رکھنا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چھوڑو۔۔۔۔۔

ایک جھٹکے میں اسے بیڈ کراؤن کے ساتھ اسے لگایا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ کی انگلی اس کے لبوں پہ رکھی۔۔۔۔۔

کچھ نہیں سننے والا۔۔

بہت ہو گیا۔۔۔

اس نے شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولے اور اس کی شاہ رگ پہ جھکا۔۔۔۔۔۔

ائرہ کا دل تیزی سے درک رہا تھا وہ کسی بھی طرح بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک زور کے جھٹکے سے اسے بیڈ پہ گرایا اور باہر کی طرف بھاگی اس نے جلدی سے دروازہ کھولا تھا۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے شرٹ سیدھی کی اور اس کے پیچھے ہی ایا۔۔۔۔۔۔

کیا یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بھی زور سے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔۔۔

شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔

______

ڈرائنگ روم میں بشرا بیگم بیٹھی تھی ائرہ ان کے پاس ہی ا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

ارے ائرہ بیٹا سوئی نہیں ابھی تک وہ جو کتاب پڑھ رہی تھی کتاب کو سائیڈ پہ رکھا گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھے۔۔۔

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔۔۔

نہ۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔

وہ بولی ہی تھی کہ اخل بھی اگیا تھا۔۔۔۔۔

وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

تم اتنا ڈری ہوئی کیوں ہو انہوں نے ائرہ کے بال پیچھے کیےاس نے کچھ کہا ہے۔۔۔۔

نہیں موم میں کیوں کچھ کہوں گا۔۔۔۔۔

اسے نیند میں چلنے کی عادت ہے شاید۔۔۔

اس نے دونوں بازوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا میں کمرے میں لے جاتا ہوں۔۔۔۔۔

اور ائرہ کو غصے سے دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

کوئی ڈرامہ نہیں اس نے کان میں کہا ۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔

ائرہ نے زور سے اسے پیچھے کیا۔۔۔

بشرا بیگم حیرانگی سے دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔

اخل بھی اسے چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔

میرا مطلب ہے مجھے نیند نہیں ائی مجھے یہیں بیٹھنا ہے۔۔

وہ پھر سے وہیں بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔

بیٹا اسے نیند نہیں ائی تو اسے بیٹھنے دو مجھے بھی نیند نہیں ا رہی ہم دونوں ماں بیٹی بیٹھ کے باتیں کریں گے تمہیں نیند ائی ہے تو جا کے سو جاؤں۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بھی یہیں ہوں پھر وہ بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا تھا اسے انکھیں نکالتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔

گھٹیا انسان ہوں۔۔۔۔۔

ایک نمبر کے گھٹیا انسان میں تم پر اعتبار کیسے کر سکتی ہوں۔۔۔

وہ دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی۔۔۔۔

____

اس قاتل کی بیٹی کو میری بیٹی پہ فوقیت دی ہے انہوں نے۔۔

ایسے کیسے دھوکہ کر سکتا ہے میلان کمران مجھ سے۔۔۔۔۔ وسیم مسلسل ٹہل رہا تھا۔۔۔۔۔

اخل کی شادی میری بیٹی سے ہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔

ورنہ یہ پارٹنرشپ ختم کر دوں گا میں۔۔۔۔۔۔۔

اور اپ کو لگتا ہے کہ ذرا سی پارٹنر شپ پہ ملان کمڑان اپ کی بات مانے گا۔۔۔

ایمن بتا چکی ہے اپ کو کہ وہ ائرہ سے پیار کرتا ہے۔

یہ سب ہونے سے پہلے ہی وہ اس کے ساتھ دبئی میں رہتی تھی۔

نہ جانے کب سے شادی کی ہوئی ہے انہوں نے۔۔۔۔

ایمن کی ماں چپ کر جاؤ چپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل میلان کامران کے بزنس کا ایک لوتا وارث ہے۔۔

تمہاری بیٹی تو بے وقوف ہے اور تم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔

میں اچھے سے جانتا ہوں کہ گیم کیسے چلاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

اور میلان کو میں بہت اچھے سے جانتا ہوں وہ اپنی بیٹی کے قاتل کی بیٹی کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔

کبھی نہیں۔۔۔۔۔

___

ائرہ بہت رات ہو گئی ہے اب چلو سونے چلتے ہیں۔۔۔۔۔

اخل اچھا حاصہ تنگ اگیا تھا۔۔۔۔

انکھوں سے نہ جانے اسے کتنے اشارے کر چکا تھا۔

پر بشرا بیگم کے اگے بے بس تھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے سوالیہ نظروں سے پھر سے بشرا بیگم کی طرف دیکھا۔

ہاں میرا بیٹی مجھے بھی بہت نیند ا رہی ہے میں بھی سونے چلتی ہوں وہ اٹھی ہی تھی کہ ائرہ نےان کا بازو پکڑا۔۔۔۔۔

اپ اتنی اچھی باتیں کر رہی ہیں پلیز بیٹھی رہے نہ۔۔۔۔۔

ائرہ وہ کب تک بیٹھیں گی سونا تو انہوں نے ہے ہی ابھی نہیں تو کچھ گھنٹے بعد اس نے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا اور انکھیں نکالی اسے۔۔۔۔۔۔

پھر تمہیں سونا ہی پڑے گا نہ۔۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کو کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی۔۔۔۔۔۔

یہی لگ رہا تھا کہ شاید اسے نیند نہیں ا رہی۔۔۔

ہاں بیٹی اخل بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے رات بہت ہو گئی ہے انہوں نے ائرہ کے سر پہ بوسہ دیا۔۔۔۔

گڈ نائٹ۔۔۔۔۔۔۔

اخل ہنستے ہوئے اٹھا۔۔۔۔

اس کے پاس صوفے پر ا کے بیٹھا۔۔۔۔۔

اب ہمیں بھی سونا چاہیے مس ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔