Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 24
Ayra by Aneeta
ویسے بڑی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔
حرا اس کے ساتھ ہی مارکیٹ ائی تھی۔۔۔۔۔
بینک سے پیسے نکلواتے ہی اس کا منہ بن گیا تھا اتنے زیادہ پیسے اور اسے اتنے زیادہ ارڈر مل گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھے سے کیک بنانا یہ نہ ہو کہ پیسے ہمیں بڑھنے پڑ جائیں۔۔
وہ طنز کرتے اس کے ساتھ چل رہی تھی۔۔۔۔
ائرہ نے گرے کلر کی میکسی پہنی تھی۔کالے رنگ کی شال کو ارد گرد لپیٹا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی باتوں کو اگنور کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ہوں مسں ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے ہاتھ کی چٹکی بجائی۔۔۔۔۔۔۔
میں اچھے سے ہی بناؤں گی تم فکر مت کرو ائرہ نے روٹھے ہوئے لہجے میں اسے جواب دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چل ہی رہی تھی کہ ایک لڑکے نے اسے اشارہ کیا حرا کو۔۔۔
حرا نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا پھر اس لڑکے کو۔۔۔۔۔
راحت اس کا بوائے فرینڈ تھا۔۔
۔
تم سامان خریدوں میں اتی ہوں۔ائرہ نے ایک مارکیٹ کا رخ کیا ہی تھا کہ حرا یہ کہتے ہوئے جانے لگی۔۔۔۔۔
تم کہاں جا رہی ہو ائرہ نے سوال کیا۔۔۔۔۔۔۔
اب وہ بہت ڈرنے لگی تھی اکیلے پن سے۔۔۔۔۔۔
دیکھو میری ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے کہا ہے ا جاتی ہوں تو اس کا مطلب ہے ا جاتی ہو۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے بھی اسے اگنور کیا اور چیزیں خریدنے لگی۔۔۔۔۔۔
_____
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔
راحت تمہیں میں نے بتایا تھا نا میرے ساتھ وہ ہو گی۔۔۔
میں اج رات تمہیں ملنے ا رہا ہوں کچھ بھی کر کے اسے اپنے کمرے سے نکلوانا۔۔۔۔۔
راحت اس کا بوائے فرینڈ تھا اور تقریبا ہفتے میں تین چار دفعہ رات کو اس سے ملنے اتا تھا۔لیکن اب ائرہ کی وجہ سے یہ پوسیبل نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
دیکھو یہ پاسیبل نہیں ہے وہ میرے ساتھ ہی سوتی ہے۔۔۔
دیکھو۔۔۔۔۔
میں کچھ نہیں جانتا میں بہت مس کرتا ہوں تمہیں اور اج رات میں ملنے ا رہا ہوں تم کچھ بھی کر کے اسے اپنے کمرے سے نکلوا دینا۔۔۔۔
وہ اتنی سے بات کر کے وہاں سے بھاگ گیا۔۔۔۔۔
کیونکہ ائرہ مارکیٹ سے نکل ائی تھی۔۔۔
وہ ٹائم پاس کر رہا تھا تو کسی مسئلے میں پھنسنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔
___
ائرہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔
اسد خاصہ پریشان تھا اس کی وجہ سے۔۔۔۔۔
لیکن وہ زبردستی تو نہیں کر سکتا تھا نا۔۔۔۔۔
اسے لگا تھا وہ اس کی افر ایکسیپٹ کر لے گی۔۔۔
لیکن اج دوسرا دن تھا اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں ایا تھا۔۔۔۔
اس نے بڑی کھوج کے ساتھ ائرہ کو ڈھونڈا تھا۔۔۔۔
_____
ائرہ نے گھر اتے ہی سامان کچن میں رکھا۔۔۔۔
اس نے شال اتار کر ٹیبل پر رکھی اور فون ہاتھ میں اٹھایا۔۔۔
50 کیک ایک دن میں تو نہیں بن سکتے کیا میں ان سے پوچھوں کہ کل ہو سکتے ہیں کچھ۔۔۔۔ذ
وہ پہلے میسج کرنے لگی تھی لیکن پھر اس نے کال کرنا مناسب سمجھا۔۔۔
صبح کا وقت تھا دبئی میں۔۔۔۔
اس کا موبائل جیسے ہی بچا اس نے بے دھیانی میں اٹھا کر کان کے ساتھ لگایا۔۔۔۔
ہیلو۔۔۔۔۔
اس نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔
ائرہ کے ہاتھ میں سامان کا ایک پیٹک تھا جو زور سے زمین پر گرا تھا۔۔۔۔
وہ اس اواز کو کیسے بھول سکتی تھی۔
جس نے سب کچھ چھین لیا اس سے۔۔۔۔۔۔
اب اور کیا رہ گیا ہے میرے پاس احل جو تم لینے کے لیے دوبارہ واپس ائے ہو۔
تو یہ تم تھے۔۔۔
وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھا تھا۔اس نے ایک نظر موبائل کو دیکھا پھر کان کے ساتھ لگایا۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
لسن۔۔۔
بس کر دو بس۔۔۔
نفرت کرتی ہوں میں تم سے نفرت۔۔۔۔۔
اخل خدا کا واسطہ ہے میری جان چھوڑ دو۔۔۔
اتنا سا کہہ کے ائرہ نے نہ صرف فون توڑا تھا بلکہ اس سم کو بھی چکنا چور کر دیا تھا۔۔۔۔
وہ اس کا سایہ بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
اس نے ایک نظر کچن میں بکھرے سامان کو دیکھا اور سارے سامان کو زمین پہ دے مارا۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔
نہیں پلیز نہیں وہ کب سے اسے فون میلا رہا تھا۔۔۔
لیکن نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔۔۔۔۔
_____
وہ سارا دن ائرہ اپنے کمرے میں بند رہی تھی۔۔۔۔۔۔
حرا رات کے کھانے کے بعد کمرے میں ائی تھی اب تقریبا رات کے 11 ہو گئے تھے۔۔۔
میری بات سنو ائرہ۔۔۔۔۔
ائرہ نے نظر گھما کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
وہ چلتی ہوئی اس کے پاس ائی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
مجھ سے ملنے اج کوئی ائے گا۔۔۔
ائرہ جو پہلے ہی ٹینشن میں تھی ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی۔
کون ائے گا تم پاگل ہو گئی ہو۔
اگر پھپو یا انکل کو پتہ لگ گیا۔۔۔۔
اگر تم اپنا منہ بند رکھو گی تو کسی کو کچھ نہیں پتہ لگے گا
میں پیار کرتی ہوں اس سے اور وہ بھی مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔
اس پیار کے لفظ نے اسے اندر تک توڑا تھا۔
کوئی کسی سے پیار نہیں کرتا تم پاگل ہو بالکل پاگل ہو۔
وہ تمہیں استعمال کرے گا پھر چھوڑ جائے گا۔
حرا کوئی جواب دیتی اس سے پہلے کھڑکی نوک ہوئی۔
ائرہ کا تو سانس اوپر نیچے ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے دوپٹہ اٹھایا اور کر لیا۔۔۔
اس نے فورا سے کھڑکی کھولی تو وہ لڑکا اندر کودا۔۔۔
اس نے ایک نظر ائری کو دیکھا وہ کتنی خوبصورت تھی۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ائرہ دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔
حرا نے سے پیچھے سے اواز دی اور اس کے پیچھے ائی۔۔
پرائرہ کنڈی کھول کر باہر جانے ہی لگی تھی کہ اگے سے اکبر اگیا۔۔۔
انکل اس کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔
اکبر اس سے پہلے کہ اسے جواب دیتا اس کی نظر پیچھے کھڑے لڑکے پہ پڑ گئی۔۔۔۔
حرا اکبر میاں کو دیکھتے ہی سائیڈ پہ ہو گئی۔۔۔۔۔
یہ کیا چل رہا ہے وہ چیہا تھا۔۔۔
کون ہے یہ لڑکا یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔
حرا ایک دم سے اگے ائی۔۔۔
بابا میں نے اسے کتنا سمجھایا تھا یہ روز ہی اسے کمرے میں بلا لیتی تھی۔۔۔۔
اس نے ایک دم سے اپنا بیان بدلا۔
راحت بھی پریشان ہوا یہ تو مجھ سے بھی بڑی گیم ہے۔۔۔۔
وہ ایک کریکٹر لیس لڑکا تھا کئی لڑکیوں کو ایک ساتھ اس نے ہینڈل کیا ہوا تھا۔۔۔
نہیں یہ جھوٹ ہے میں نہیں جانتی اسے۔۔۔
ائرہ نے وضاحت دینا چاہے لیکن اکبر نے زور کا تھپڑ اس کے منہ پہ مارا۔۔۔
اکبر شور سن کر خالدہ بھی اگئی تھی۔۔۔
خالدہ نے اتے ہی ائرہ کو تھاما۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں اکبر نے ساری داستان اسے سنا دی تھی۔
پریشر میں راحت نے بھی قبول کیا تھا کہ وہ ائرہ سے ہی ملنے ایا تھا۔۔۔۔
بات راحت کے گھر تک پہنچائی گئی اب فیصلہ یہ ہوا کہ صبح ائرہ اور راحت کا نکاح کر دیا جائے گا۔
___
پھپو میں اس لڑکے کو نہیں جانتی میری بات کا یقین کریں۔
وہ اسی بات پہ قائم تھی اج شام کو اس کا نکاح تھا یہ اگلا دن تھا۔۔۔
گزشتہ رات ائرہ نے رو کر گزاری تھی۔۔
اور حرا کی منتیں کی تھی کہ وہ سچ بتائے ۔۔
بیٹا میں جانتی ہوں لیکن تم بھی جانتی ہو میری مجبوری کو۔
تم اپنے گھر کی ہو جاؤ گی مجھے بھی سکون مل جائے گا۔
خرا اندر ہی اندر جیلس ہو رہی تھی۔۔۔۔
کچھ بھی کر کے یہ نکاح مجھے روکنا پڑے گا۔
اس نے پاؤں زور سے زمین پر مارا۔۔۔
اور ٹہلتی ہوئی کچن میں ائی۔۔۔۔۔
خالدہ اور اکبر کے بہت فورس کرنے پر ائرہ تیار ہو گئی تھی۔
اس نے سمپل سا سفید رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے ساتھ سرخ دوپٹہ کیا ہوا تھا۔۔۔۔
تقریبا شام کے پانچ بجے وہ راحت اس کی پرنٹس اور ساتھ کچھ اور بندے وہاں پہ ائے۔۔۔
محلے کی بھی کچھ لوگوں کو بلا لیا تھا اکبر نے۔۔۔۔
تھوڑی دیر میں ائرہ کو لے کر ائے اور راحت کے بالکل مقابل بٹھایا۔۔۔۔۔
مولوی کا انا ابھی باقی تھا۔۔۔۔
کہ راحت کا فون بجا اس نے فون کان کے ساتھ لگایا۔۔۔
اور تھوڑی ہی دیر میں فون بند کر کے اپنے جیب میں ڈالا۔
اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔۔۔
ائرہ نے ایک دم سے نظر اوپر اٹھائی تھی خالدہ بھی کھڑی ہو گئی تھی۔۔۔
حرا نے کال کر کر اسے ائرہ کی ساری داستان سنائی تھی۔۔
اب لگے گا تماشہ۔۔۔۔۔۔۔
مس ائرہ وہ منہ بناتے ہوئے اس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
کہ پہلے اس کے ابو نے اسے دبئی میں بیچ دیا تھا۔
اور عدنان نے قتل کیا تھا وہ ساری داستان۔۔۔
جو لڑکی پہلے کوٹھوں کی زینت بنی وہ اب میری دلہن بنے گی میں اسے اپنے نکاح میں لوں گا۔
ایسی لڑکیوں کا اصل گھر کوٹا ہوتا ہے کسی کا گھر نہیں۔۔۔
ائرہ پہ تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔۔۔۔۔
وہ کچھ اور بولنے ہی لگا تھا۔کہ اس کے کاندھے پہ کسی نے پیچھے سے ہاتھ رکھا اور اس کا رخ اپنی طرف کیا۔
اس کے دیکھتے ہی نہ جانے کتنے وار اس کے منہ پر کیے۔
وہ اخل تھا۔۔۔۔۔۔
اخل کو دیکھتے ہی ائرہ خالدہ بیگم کے پیچھے چھپ گئی تھی۔۔۔
اکبر اور کچھ محلے کے لوگوں نے اس کو پیچھے کیا اور دونوں کو چھڑوایا۔۔۔۔۔
یہ تماشہ کچھ دیر میں ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اخل اس کے لمحے بہ لمحے کی خبر رکھتا تھا ان دو سالوں میں وہ کبھی بھی لاعلم نہیں ہوا تھا اس سے۔
پر ہمت نہیں تھی اس کا سامنا کرنے کی۔۔۔۔
اسے سب پتہ لگ گیا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔
کیونکہ پورے محلے میں یہ بات پھیل چکی تھی۔۔۔۔۔
اخل کا دل اسے دیکھتے ہی زور سے درکنے لگا تھا۔۔۔۔
پر اسے روکتا اور مناتا کس منہ سے۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا۔۔
جبکہ اخل ڈرائنگ روم میں اکبر کے ساتھ کچھ اور محلے کے لوگ تھے ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔
میں نکاح کرنا چاہتا ہوں ائرہ سے۔۔۔۔
اس نے اپنا مدع سب کے سامنے رکھا تھا۔
اکبر تو اس بوجھ کو جلد سا جلد سر سے اتارنا چاہتا تھا۔
پھر چاہے کوئی بھی ہو کسی کے ساتھ بھی بیج سکتا تھا۔۔۔
میں مر جاؤں گی پھوپو لیکن اس شخص سے نکاح نہیں کروں گی میری بات یاد رکھیے گا۔
ائرہ کے زخم تازہ ہو گئے تھے۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے انہیں کہہ رہی تھی۔۔۔
اگر تم یہ نکاح نہیں کرو گی تو پھر اپنے پھپو کو بھی اپنے ساتھ کہیں اور لے جانا میں اسے بھی طلاق دے دوں گا۔
اکبر اچھے سے جانتا تھا کہ بات کو کیسے منوانا ہے۔۔۔
پھپو۔۔۔۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے پھپو کی طرف دیکھا۔۔۔
ائرہ بیٹا پلیز مان جاؤ محلے میں اگے بہت بدنامی ہو گئے ہیں۔
حرا کا رشتہ کون لے کر ائے گا اگر اج یہ رشتہ بھی چلا گیا۔
میں تمہارے اگے ہاتھ چھوڑتی ہوں انہوں نے ہاتھ چھوڑے ہی تھے کہ ائرہ نے ان کے ہاتھوں کو تھاما۔۔۔۔
خالدہ بھی مجبور تھی اس کی اپنی بیٹی تھی۔اور اکبر کا رویہ بھی اس کے ساتھ سخت تھا۔۔۔۔۔۔
___
ائرہ عدنان کیا اپ کو یہ نکاح قبول ہے وہ چوتھی دفعہ پوچھ رہا تھا لیکن وہ مسلسل خاموش تھی۔۔۔۔
ائرہ بیٹا ہالدہ نے اسے پکارا تو اس نے نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔
اخل کا دل زور سے دھڑک رہا تھا کہ نہ جانے وہ کیا کہے۔
قبول ہے قبول ہے قبول ہے وہ تیزی سے بولتی اپنے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
احل کو سمجھ نہیں ارہا تھا وہ اسے سنبھالے تو سنبھالے کیسے وہ تو نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔۔۔
جو اس نے کیا تھا۔۔۔۔۔۔
اس پچھتاوے کے ساتھ ساتھ محبت بھی شدت پکڑ چکی تھی۔۔۔۔۔۔
__
تمہارا لاڈلا پاکستان ایا ہے وہ بھی بنا بتائے۔۔۔۔
میلان کامران نے لیپ ٹاپ کو ہولڈ کرتے ہوئے بشرا بیگم کو مخاطب کیا جو ان کے ساتھ ہی بیٹھی چائے پی رہی تھی۔
ائرہ کے ساتھ جو بھی ہوا تھا بشرا بیگم اچھے سے جانتی تھی اور اس بات کو لے کر وہ میلان سے بھی ناراض تھی۔۔۔
اور آحل کو تو انہوں نے بلانا چھوڑ دیا تھا لیکن پھر بھی انہیں فکر تھی اپنے بیٹے کی۔
ائرہ کے ساتھ جو ہوا تھا۔
انہیں عائزہ کی تڑپ لگتی تھی۔۔۔۔
جبکہ میلان کامران کو کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔۔۔۔۔
______
اماں تمہیں کتنی معصوم سمجھتی ہے ائرہ۔۔
میں نے تو ایک پھنسایا تھا تم نے تو ایک ساتھ نہ جانے کتنے۔۔
حرا کواس کی قسمت پہ رشک ا رہا تھا اصل میں۔۔
یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے تمہاری وجہ سے۔۔۔
تم نے مجھ پہ جھوٹا الزام لگایا۔۔۔
تم سے ملنے ایا تھا مجھ سے نہیں۔
ہاں وہ لڑکا مجھ سے ملنے ایا تھا لیکن تمہیں کیا ضرورت تھی دروازہ کھولنے کی۔
اکبر اور خالدہ جو ائرہ کو باہر لینے ائے تھے ایک دم سے ان کے کانوں میں یہ اواز پڑی۔۔۔
حرا۔۔۔۔۔۔
اکبر نے زور سے پکارا اسے اور اندر اتے تھپڑ دے مارا۔۔۔
راحت تم سے ملنے ایا تھا۔۔۔
خالدہ کو اب بہت پچھتاوا ہو رہا تھا اپنے کیے پہ۔
اکبر کو بھی تھا لیکن وہ واضح نہیں کر رہا تھا۔
شاید وہ مرد تھا اس لیے۔۔۔
دیکھو بیٹی اب تمہارا گھر وہی ہے۔
تم اس کے نکاح میں ہو وہ تمہارا شوہر ہے
پھوپو اب تو اپ لوگ سچ جانتے ہو نا پلیز میں نہیں جانا چاہتی اس کے ساتھ۔
وہ وہی شخص تھا جس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی میرا سب کچھ مجھ سے چھین لیا۔
ائرہ باہر ہم انتظار کر رہے ہیں وہ جو کوئی بھی ہے اب تمہارا شوہر ہے اور اب تمہاری ذمہ داری ہم اور نہیں لے سکتے۔اکبر نے غصے سے کہا اور باہر چلا گیا۔۔۔۔
خالدہ اسے لے کر باہر اؤ جلدی۔۔۔۔
میں اپنی جان لے لوں گی لیکن میں اس کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔۔
کبھی نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔
وہ جو بیٹھنے لگی تھی اکبر نے اسے بازو سے پکڑا اور کھینچنے کے انداز میں باہر لے کر ایا۔۔۔۔۔
اخل جو بیٹھا تھا ایک دم سے اٹھا۔۔۔۔۔
اسے لے جاؤ اپنے ساتھ اور دوبارہ کبھی اس گھر کا رخ نہ کرنا۔۔۔
ہماری اپنی بھی بیٹی ہے۔
بیٹیوں والے گڑوں پر نظر ہوتی ہے لوگوں کی۔۔۔۔۔
تمہارے انکل مجھے بھی طلاق دے دیں گے تم یہی چاہتی ہو کہ میں اس عمر میں بے گھر ہو جاؤں طلاق یافتہ ہو جاؤ۔۔
خدا کا واسطہ ہے۔۔۔
بات مان لو میری۔
خالدہ بھی مجبور تھی اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ اسے نہ جانے دیتی۔۔۔
وہ اس کے بہت قریب کھڑے تھے اس کا دل تیزی سے درک رہا تھا۔
کتنی دفعہ اس نے ہاتھ اگے بڑھایا تھا اسے پکڑنے کے لیے لیکن پھر نیچے کر لیا۔۔۔۔
لیکن وہ کسی صورت بھی اس شخص کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں تھی۔
ائرہ۔۔۔۔
اخل نے ہمت کر کے اسے پکارا تھا۔
وہ پھر سے کمرے میں بھاگنے لگی تھی کہ اسے بازو سے پکڑ کر باہر لے ایا۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔۔
مجھے نہیں بیٹھنا۔۔۔
مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا ۔۔
ائرہ گاڑی میں بیٹھو جلدی کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے زبردستی اسے گھڑی میں بٹھایا تھا اور گاڑی کو لاک کر کے وہ ڈرائیونگ سیٹ پر ا کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
کھولو پلیز مجھے نہیں جانا۔۔
اور کیا چاہتے ہو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی کے ہینڈل کو پریس کرتے ہوئے پکار رہی تھی۔۔۔۔
___
مجھے مس ائرا سے ملنا ہے۔۔۔۔
خالدہ نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ اگے اسد تھا۔
اپ کون خالدہ نے حیرانگی کے سے پوچھا۔۔۔
مجھے کیک بنوانے تھے اس لیے۔۔۔
بیٹا اس کی تو شادی ہو گئی۔۔۔
اسد نے ایک گہرا سانس لیا تھا شادی۔۔۔۔۔۔
اواز کو صاف کرتے ہوئے اس نے کہا تھا۔
کی۔۔۔۔۔کس کے ساتھ ہوئی ہے شادی وہ بول نہیں پا رہا تھا۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
نام سنتے ہی وہ شوکڈ ہوا تھا۔۔۔۔
اخل میلان۔۔۔۔۔۔۔
جی بیٹا وہی۔
پیچھے سے اکبر کی اواز سنائی دی تو خالدہ بیگم نے دروازہ بند کر دیا۔
تم اس کی جان کب چھوڑو گے۔۔۔
اسد نے ایک گاڑی کو زور سے ہٹ کیا تھا۔۔۔۔
لیکن تم اکیلی نہیں ہو ائرہ۔۔۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ہوں کچھ نہیں ہوگا اب تمہیں ۔۔۔۔۔۔
____
مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔۔
احل کو جیسے نئی زندگی مل گئی ہو۔۔۔
اس نے ایک دم سے گاڑی کو بریک لگائی۔۔۔۔۔
ہاں بولو کیا کھاؤ گی۔۔۔۔
کچھ بھی۔۔۔۔۔۔
ہم ریسٹورنٹ میں چل کے کھاتے ہیں اجاؤ۔
ریسٹورنٹ تھا اس نے اترنے کا اشارہ کیا۔
نہیں یہیں لے اؤ میں یہیں کھاؤں گی یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا رخ بدلا۔
اخل بنا کوئی سوال جواب کیے گاڑی سے اترا اور ریسٹورنٹ کی طرف بڑھا۔۔۔۔
ائرہ کو جب تسلی ہو گئی کہ وہ جا چکا ہے ریسٹورنٹ کے اندر۔
وہ ایک دم سے گاڑی سے اتری اپنی شال کو ٹھیک کیا اور ایک طرف بھاگ گئی۔۔۔۔۔
یہ سب اتنا اسان نہیں ہے۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دور جا کے ایک دفعہ گاڑی کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
اب میں اپنے ساتھ کوئی کھیل نہیں کھیلنے دوں گی تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخل کھانا لے کے تھوڑی دیر میں اگیا تھا۔۔۔۔۔
دوسری سائیڈ کا ڈور کھلا ہوا تھا۔۔۔۔
اس نے ایک دم سے کھانے کے ٹرے کو زمین پر پھینکا۔۔
اس نے جیسے ہی ڈور کھولا اندر ائرہ نہیں تھی۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے زور سے پکارا۔۔۔۔۔۔
اور پھر گاڑی کو زور سے ہٹ کیا۔۔۔۔۔
وہ اس کی بیوی تھی اب۔۔۔۔۔
اس کی عزت۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نظر اگے پیچھے گمائی اس کے دونوں ہاتھ کمر پر تھے۔۔۔۔۔
اور پھر اگلے لمحے گاڑی میں بیٹھا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے تیز سپیڈ کے ساتھ گاڑی ڈرائیو کی تھی۔۔۔۔۔
اسے غصہ تھا شدید غصہ۔۔۔۔۔
پر شاید خود پر
