Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 6
Ayra by Aneeta
اخر چاہتے کیا ہو تم۔۔
ائرہ نے سخت لہجے میں پوچھا۔۔
اور اس کے پاس ائی۔وہ اس کی حرکت سے بہت خفا ہو گئی تھی۔سب ڈر بھول کر اس نے پوچھا۔جبکہ اس سے پہلے تو وہ اس کے ڈر سے سانس بھی نہیں لے رہی تھی۔۔
تم جیسی لڑکی سی کوئی کیا مانگ سکتا ہے۔اخل نے شرٹ کے بٹنوں کو چھوڑا۔
اسے بازو سے پکڑ کر قریب کیا۔انکھوں میں غصہ رونما تھا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھا رہا تھا۔
جب کے ائرہ پے اس کے لفظوں نے گہرا اثر چھوڑا تھا۔وہ گلے میں اٹکے لفظ کو پی گئی تھی۔وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی۔۔
تم۔۔۔۔
مجھے کیسی لڑکی سمجھ رہے ہو۔وہ مشکل سے بول پائی تھی۔۔
جیسی بھی سمجھتا ہوں معصوم ہرگز نہیں سمجھتا۔اس معصوم چہرے سے کسی اور کو بیوقوف بنانا مجھے نہیں۔۔
کیا میں غلام ہوں تمہاری۔۔
خریدا ہے تم نے مجھے۔۔
میرا بازو چھوڑو مجھے جانا ہے یہاں سے۔۔
میں نے کہا نا اب زبان چلائی تو اچھا نہیں ہوگا۔۔
میں نے تو نہیں لیکن جس نے خریدا اس کے حوالے کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاؤں گا۔بازو پہ گرفت مضبوط کرتے ہوئے اس نے ایک پل میں اسے پیچھے گرایا۔۔۔۔
پیار کی بات تمہیں سمجھ نہیں ارہی اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔
پھر تھوڑی دیر بعد مجھے کھانے کی ٹیبل پہ ملو۔۔۔
وہ اتنی سی بات کر کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔
جبکہ ائرہ کے سر پے موت سائے کی طرح مڈلا نے لگی۔۔۔۔
اسے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھی ۔کیونکہ وہ دوبارہ اخل کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی. کمرے میں جاتے ہی اس نے دروازہ لوک کر لیا ۔۔۔۔۔
یا اللہ میری مدد کر۔۔۔
میں کسں مصیبت میں پھنس گئی۔۔
وہ دروازے کے ساتھ ہی ٹیک لگا کے بیٹھ گئی تھی۔چہرے ڑنگ پیلا پڑ گیا تھا۔انکھوں کی چمک تو جیسے کہیں کھو ہی گئی تھی۔کمرہ بہت ارام دہ تھا۔ڈبل بیڈ تھا۔سیم ڈیزائن کے سوفے اور باقی فرنیچر تھا۔۔۔۔۔۔
الفت۔۔۔۔
اندھیرے کمرے میں جیسے اسے روشنی کی کرن نظر ائی۔۔اس کا دھیان اپنے بیگ کی طرف گیا۔
اس نے فورا سے بیگ کو الٹ پٹ کرنا شروع کیا۔وہاں سے نکلتے ہوئے الفت نے اسے ایک موبائل دیا تھا۔کہ کہیں پہنچ کر وہ اس سے رابطہ کر لے۔اس نے فورا سے موبائل نکالا جو زیادہ بڑا نہیں چھوٹا سا ہی تھا اس میں الفت کا نمبر ال ریڈی موجود تھا۔لیکن اس نے جیسے ہی کال ملائی۔۔
نمبر ان ریچیبل ا رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بہت دفعہ کال ملائی۔وہ زمین سے اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی تھی مسلسل کال ملا رہی تھی لیکن ہر دفعہ انٹریچیبل ہی ا رہا تھا۔۔۔
نمبر کیوں نہیں لگ رہا۔اس نے پھر سے دروازے کو دیکھا جیسے موت کھڑی ہو دروازے پر۔۔۔
_______
تو اسے یہاں کیوں لے کر ایا۔۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا حود سے سوال کر رہا تھا۔
اسے سمجھ نہیں ارہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔
اس نے تو اج تک کسی لڑکی کو سیریس لیا ہی نہیں تھا۔۔۔
وہ تو بس ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا اور پھینک دیتا تھا۔۔۔
اگر وہ تم سے نہ ٹکراتی تو تم اسے یہاں نہیں لے کر اتے۔
یہ سب سڈن لی ہوا ہے۔۔۔
ریلیکس اس نے خود کو تسلی دی تھی۔۔
اور وہ بہت معصوم ہے ۔اخل خود کو اس سے دور رکھنا۔وہ خود کو شاید خود ہی سمجھا رہا تھا۔۔۔۔
شرٹ مکمل اتار کر اس نے ایک طرف پھینکی اور شاور
کے لیے باتھ روم میں چلا گیا۔ ۔۔
ویسے تو اس نے اج پاکستان واپس چلے جانا تھا لیکن شاید ائرہ کی وجہ سے وہ اج بھی ڈیلے کر رہا تھا۔
___________
وہ لڑکی اس لڑکے کے پاس ہی تھی مجھے صحیح انفارمیشن ملی تھی۔لیکن پھر اچانک پتہ نہیں کہاں چلی گئی۔وہ لڑکا جو سلطان کے پاؤں کے نیچے تھا۔ہاتھ جوڑتے ہوئے التجا کر رہا تھا۔۔۔
اس کا چہرہ زخموں سے بڑا ہوا تھا۔۔۔۔
اگر وہ وہاں تھی تو کہاں چلی گئی۔ایک زور کی ہٹ اس نے اس کے منہ پہ لگائی تھی۔وہ جو سمندر کے ساحل پہ کھڑے تھے۔کسی کے دل میں خوف خدا نہیں تھا۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس نے اس لڑکے پہ گولیوں کے وار کیے اور سمندر کی نظر کر دیا۔۔۔
سلطان کا دھندا ایسا ہی تھا۔وہ زندگی اور موت کے درمیان کھیلتا تھا۔اس کی نظر میں انسان کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔۔۔
____
اس سلطان کی ساری انفارمیشن کل تک مجھے چاہیے۔۔۔۔
اخل نے فون کان کے ساتھ لگایا ہوا تھا۔وہ اپنی بالکنی میں کھڑا تھا۔اس نے کپڑے تبدیل کر لیے تھے۔بلیک پولو شرٹ کے نیچے بلیک ہی جینز پہنی تھی۔شرٹ کے بازو فل تھے جو اس نے فولڈ کیے ہوئے تھے۔۔۔
اور فون کو ایک طرف رکھ کر۔۔۔۔
اس نے ائرہ کے کمرے کا رخ کیا۔۔
کھانا لگ گیا ہے باہر ا جاؤ۔اس نے کھانا ان لائن ارڈر کیا تھا جو کہ اب ا چکا تھا۔جو پہلے سے ہی ٹیبل پر سیٹ کر چکا تھاوہ۔۔۔۔
اس کی اواز سنتے ہی ائرہ چونکی۔اس نے موبائل کو بیڈ پہ رکھا۔اپنی شال کو ٹھیک کیا۔لیکن وہ اتنا جگرا کہاں سے لائے۔وہ وہیں سکر کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
تمہیں اواز نہیں ارہی۔ائرہ نے ایک دم سے دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
جلدی باہر اؤ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔
وہ اتنی سی بات کہہ کر چلا گیا تھا۔شاید اسے امید تھی کہ وہ باہر ا جائے گی۔ اور ائرہ کو بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ چلا گیا ہے۔کیونکہ وہ تو اہٹ اہٹ محسوس کر رہی تھی۔۔۔
وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اگر وہ باہر نہیں جائے گی تو وہ اندر ا جائے گا۔رات کافی ہو چکی تھی۔وہ جا کر جہاں بیٹھی تھی وہیں پر تھی اور بہت مشکل سے ہمت لا کر اس نے دروازہ کھولا۔اور پھر دھیرے دھیرے قدموں سے باہر ائی۔۔۔
یہاں بیٹھو۔۔۔
اخل صوفے پہ ہی بیٹھا ہوا تھا کھانا ٹیبل پہ لگا ہوا تھا۔اسے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے ایک پلیٹ اپنی طرف رکھی۔۔۔
ائرہ کو بھوک لگی تھی لیکن اس ٹائم اسے کھانے کی کوئی فکر نہیں تھی وہ تو بس کسی طرح اس سے جان چھڑوانا چاہتی تھی۔۔۔
وہ اس کے بالکل سامنے ا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
مجھے کھانا نہیں کھانا یہاں سے جانا چاہتی ہوں میری دوست ہے میں اس کے پاس جانا چاہتی ہوں۔۔۔
اخل نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
میں نے کہا بیٹھ جاؤ تم کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔
کیوں نہیں جا سکتی ہو۔۔۔
ایسا کیوں ایک دم سے اٹھی۔۔۔
میں تمہاری غلام نہیں ہوں مجھے یہاں سے جانا ہے تو جانا ہے۔۔۔۔
دیکھو۔۔۔۔۔۔
مجھے اس ٹائم بہت بھوک لگی ہے۔میں تسلی سے کھانا کھانا چاہتا ہوں۔اب ذرا بھی بکوس کیا تو اچھا نہیں ہوگا۔
اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے پھر سے کھانا کھانے لگا۔
ائرہ نے ایک گہری سانس لی اور پھر سے بیٹھ گئی۔ہو جاتی بھی تو کہاں جاتی ہے۔کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔۔
ویسے تمہارے باپ نے۔
اخل نے نظر اٹھا کر ائرہ کو دیکھا۔اس نے پھر جملے پہ غور کرتے ہوئے اخل کی طرف دیکھا۔۔
بہت سستے میں سودا کیا ہے تمہارا۔اس معصوم چہرے کی قیمت 20 لاکھ نہیں ہونی چاہیے۔وہ کھانا ختم کر چکا تھا۔
۔
وہ اٹھتے ہوئے اس کے پاس ایا۔ائرہ کی الجھن میں اضافہ ہو چکا تھا۔
تمہاری بولی تو کروڑوں میں لگنی چاہیے۔اخل اس کے کان کے قریب ہو کے بولا۔توائرہ نے ایک دم سے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔۔۔۔
اس نے ایک نوالہ بھی نہیں کھایا تھا۔بلکہ کھانے کو دیکھا تک نہیں تھا۔۔۔
اس نے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا ۔وہ کیا جواب دیتی اپنے باپ کی بے حسی پر۔۔۔
اور اخل بھی ہنستے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔
اس کے چاہتے ہی ائرہ نے گہری سانس لی۔اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے گلاس میں پانی ڈالا۔اور پھر کپکپاتے لبوں کے ساتھ لگایا۔ادھا پانی تو اس کی شال پر گر گیا تھا۔۔۔
___
اپ کا شہزادہ اج بھی نہیں ا رہا۔
اپ کے ہی لاڈ پیار کا نتیجہ ہے۔
تھوڑا سا بھی رسپانسبل نہیں ہے وہ۔۔۔۔
بشرا بیگم بیڈ کرون کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔میلان کامران بھی دوسری سائیڈ پے لیپ ٹاپ میں مصروف تھا۔
اور دب دباؤ والی شخصیت کا مالک تھا وہ۔۔۔
یہی عمر ہے ساری زندگی اس نے کام ہی کرنا ہے۔۔۔
لائف کو انجوائے کرنے دو ابھی۔۔۔۔
اور ا جائے گا۔۔
پتہ نہیں کب ائے گا۔۔
اور انے کے بعد پتہ نہیں یہاں کتنی دیر رہے گا۔۔
میں تو سوچ رہی ہوں کہ خود ہی چکر لگاؤں دبئی میں۔۔
تو ایسا کیوں نہیں کہتی کہ خود بھی جانے کا دل ہے۔میلان ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔
اس عمر میں بھی دونوں میں بہت زیادہ محبت تھی۔۔
دل تو میرا ہے لیکن ابھی نہیں جا سکتی اپ کو پتہ ہے نا زائدہ کے بیٹے کی شادی ہے اور وہ کتنا ہنگامہ کرتی۔ہر بات اس کے نوٹس میں رہتی ہے۔۔۔۔
لیکن میں جاؤں گی ضرور اگر اپ کا بیٹا اس ویک بھی نہیں ایا۔۔۔
____________
ائرہ جو اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے ہی والی تھی۔۔
کے اچانک سے حال کا دروازہ کھلا اس بوٹ والے لڑکے سمیت دو اور لڑکے حال میں داخل ہوئے۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر اس بوٹ والے لڑکے کو دیکھا۔اسے اچانک دھچکا لگا۔پانی کا گلاس نیچے گر گیا تھا۔ایک دم سے اٹھی اور ٹیبل پہ پڑی نیف کو اٹھا لیا۔۔۔۔
اس کے ذہن نے تو جیسے کام کرنا ہی چھوڑ دیا ہو۔۔۔
بوٹ والا منظر اس کی انکھوں کے گرد گھومنے لگا۔۔
گلاس ٹوٹنے کی اواز سے اخل بھی باہر ا چکا تھا۔۔۔
اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا پھر ان تینوں کو دیکھا۔۔۔۔
تم سب میں سے کوئی بھی میرے قریب ایا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔
ائرہ نے ایک نظر ان تینوں لڑکوں کو پھر اخل کو دیکھا۔۔
میں۔۔۔
میں اپنی جان لے لوں گی۔اس نے نیف کو اپنی کلائی پہ رکھا۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔اخل زور سے چلایا تھا۔۔۔۔
اس کے ذہن نے سارے سوالوں کے جواب دے دیے تھے کے احل نے اسے یہاں کیوں رکھا ہے۔۔۔
وہ لڑکے بھی حیرانگی سے ایک نظر ائرہ اور پھر اخل کو دیکھتے تھے۔۔۔۔
میں نے کہا نا میرے قریب نہیں انا۔۔
اخل کو اگے اتا دیکھ کر اس نے پھر سے کہا اور نیف کو تھوڑا اور مضبوط کیا۔۔۔۔
اخل نے ایک چٹکے میں اس کے ہاتھ سے نیف لے کر ٹیبل پر پھینکی۔۔۔
اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔۔۔
وہ اچھے سے جان گیا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔
اور اس کی سوچ پر غصہ ا رہا تھا۔۔
اور دوسری طرف وہ بوٹ والا لڑکا اس جھگڑے کے بعد وہ اج مل رہا تھا۔لیکن اخل نہیں جانتا تھا کہ وہ ملنے ا رہا ہے۔
اخل نے اس کو بازو سے پکڑ ا اور اسے اس کے کمرے میں چھوڑ کے ایا۔چہرے پہ غصے کے ساتھ ساتھ پریشانی کے بل بھی تھے۔۔۔۔۔
یہ پہلی بار تھا کہ اس کی غیرت جاگی تھی کسی لڑکی کے لیے۔۔۔۔۔۔
یہ لڑکی تمہارے پاس یہاں کیا کر رہی ہے۔۔
ان تین لڑکوں میں سے ایک لڑکا بولا وہ اب ڈرائنگ روم میں بیٹھ چکے تھے ۔
