Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 22

Ayra by Aneeta

اخل۔۔۔۔۔

وہ نیم بے ہوشی میں بولی تھی۔۔

وہ جو کمرے میں ٹہل رہا تھا ایک دم سے رکا۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ باڑی بوجل قدم اٹھاتا اس کے پاس گیا۔۔۔۔۔۔۔

بولو۔۔۔۔۔۔

م۔۔۔۔۔مہرو اور علی کو کچھ نہیں کرنا۔۔۔۔

جو کرنا ہے میرے ساتھ کر لو۔۔۔۔۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں ارہی۔۔۔۔۔

میں تمہیں سب بتا چکی تھی اپنے باپ کے بارے میں۔

تو مجھے کیوں سزا دے رہے ہو۔

اخل کی انکھوں کی اگے صرف اس کی بہن تھی۔۔۔

کیونکہ تم اسی لائق ہو اس نے پھر سے بالوں سے پکڑا اور پیچھے کی طرف کھینچا۔۔۔۔

ا۔۔۔۔۔۔۔۔اخل اس کے پہلے ہی انگ انگ میں درد تھا۔۔۔۔۔

تمہارے باپ نے میری معصوم بہن کو قتل کیا۔۔۔۔

وہ اس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔

اتنی اسانی سے نہیں بخشوں گا تمہیں۔۔۔۔۔۔

وہ دوستی وہ پیار کدھر گیا ۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

نفرت میں بدل گیا نفرت میں۔۔۔۔۔۔

اس نے ائرہ کو زور سے پکڑا ہوا تھا بالوں سے۔ ۔۔

اخل۔۔۔۔۔

ائرہ نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھ چھڑوانے کے لیے

مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ درد ہی مجھے راحت دے رہا ہے۔۔

اخل نے ایک دفعہ پھر اسے زور سے پیچھے کھینچا اور پھر بیڈ پہ ہی دے مارا۔۔۔۔

____

ائرہ مسنگ ہے یار۔۔۔۔۔

اسد دوست کے ساتھ ٹہلتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔بلیک افس سوٹ پہنا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔

اس نے تقریبا اسے سبھی کچھ بتا دیا تھا۔۔۔

وہ اس کا بیسٹ فرینڈ تھا۔۔۔۔۔

ائرہ کے پاپ نے قتل کیاہے۔ میلان کامران کی بیٹی کا ایسے نہیں بخشے گا ۔۔۔

تم ان کے معاملات سے دور رہو۔۔۔

اور ویسے بھی وہ ایک قاتل کی بیٹی ہے تم کیسے یقین کر سکتے ہو۔۔۔۔

اج کل ہد لائن بنی ہوئی ہے اس کے باپ کی۔۔۔

تم ان سب سے دور رہو تو اچھا ہوگا۔

اسد اس کی باتیں سن ضرور رہا تھا لیکن کوئی ہاں یا نہ نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔

___

کہا تھے تم۔۔۔۔

اخل۔۔۔

اخل کے گھر اتے ہی بشرا بیگم نے سوال کیا۔۔۔

اخل کہنیوں کو فولڈ کرتے ہوئے ان کی طرف دیکھا۔

وہ جیسے جواب نہ دینا چاہتا ہو۔۔

کہاں چھوڑ کے ائے ہو اس کو۔۔۔

یہی تھا دوستوں کے ساتھ۔۔۔۔۔

میں کچھ دیر کے لیے ریلیکس رہنا چاہتا ہوں اچھا ہوگا کہ اس متعلق مجھ سے کوئی سوال نہ کریں وہ اتنا سا کہہ کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔

شور کی اواز سن کر ایمن بھی باہر ائی تھی۔بلیک جینز ٹاپ پہنے۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے اسے۔۔

کچھ نہیں پتہ نہیں کیا ہوا ہے بشرا بیگم اتنا سا کہہ کے اپنے راستے کو گئی۔۔

وہ اس کے فالتو سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔

___

کمرے میں اتے ہی اس نے موبائل کو ایک طرف پھینکا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہو اخل چھور دو اسے۔۔۔۔

اس کے اندر سے آواز آئی تھی۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چلایا تھا۔۔۔۔۔

اس کے پاپ نے میری معصوم بہن کو جسیے ترپیا تھا تمہیں بھی تڑپنا پڑے گا۔۔۔۔

میں نہیں بخشوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے شرٹ اتاری اور شاور لینے چلا گیا۔۔۔۔۔

____

ایمن نے ساری خبریں پاکستان پہنچا دی تھی۔

میلان کامران کو خبر مل گئی تھی کہ اس کی بیٹی اخل کے پاس ہے۔۔۔۔۔

اخل کو بولو اس کی بیٹی کو وہاں رکھے اگر اصل کھلاڑی تک یہ خبر پہنچ گئی۔تو وہ اس کی بیٹی کو بھی ٹھکانے لگا دے گا تاکہ وہ اپنا منہ نہ کھولے۔۔۔۔۔

میلان کامران یہ نصیحتیں اپنے لیفٹ ہینڈ واصف کو کر رہا تھا۔۔۔۔

جو ان کی بہن کا بیٹا تھا۔عائزہ کے انگیجمنٹ اس سے ہوئی تھی۔اس کے دل میں بھی ویسے ہی اگ لگی ہوئی تھی۔۔۔

میں سلطان کو لے کر دبئی جاؤں گا جب اس کے سامنے اس کی بیٹی تڑپے گی تب وہ بولے گا۔واصف جو افس سوٹ پہنے ہوا تھا نے اپنی چیئر سے اٹھتے ہوئے کہا وہ پہلے سے پلان بنا چکا تھا۔۔۔۔۔

میلان کامران اس بات پہ خاص رضامند نہیں تھا۔لیکن واصف پہ پورا اعتماد کرتا تھا وہ۔اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس نے سلطان کو جیل سے لیا تھا۔۔۔۔

ان کے پاس پیسہ ہے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔پاکستان میں پیسے کے ہی تو طاقت ہے۔۔۔۔

بہت اصرار کرنے پر بھی عدنان نے اپنا منہ نہیں کھولا تھا۔

اسے باڑی رقم دی گئی تھی منہ بند رکھنے کی۔

اور ہمیشہ سے اس نے پیسے کو ہی تو فوقیت دی تھی۔۔۔۔۔۔

_________

وہ زخموں چور چور تھی۔۔۔۔۔

مشکل سے اٹھ کے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔

بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگائیں۔۔۔۔

اس کی تو دنیا اجڑ گئی تھی۔اخل پہ انکھیں بند کر کے اعتبار کرتی تھی وہ۔۔۔۔۔

لیکن سب کچھ چکنا چور ہو گیا تھا۔۔۔

اب دنیا میں بچا ہی کون تھا جس سے وہ امید لگائے۔۔

اچانک دوزا کھولا۔۔۔۔۔۔

اخل نے اک نظر اسے دیکھا پھر زور سے دروازہ بند کیا۔۔۔

اس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔

یہ کھا لو اس نے کھانا غصے سے اس کے سامنے رکھا۔۔۔

مجھے نہیں کھانا کچھ۔۔۔۔

میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی کبھی نہیں۔۔۔

خاموشی کا ضبط ٹوٹا تھا۔۔۔۔

وشی درندے ہو تم۔لہجے میں انتہا کی نفرت تھی۔۔۔۔

سب جانتے ہوئے بھی مجھے سزا دے رہے

میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔۔۔

اپنی زبان کو لگام دو۔یہ کھا لو ورنہ بوکھی مرو گی۔۔۔۔۔

اخل نے کھانا اگے رکھا تھا۔ائرہ نے پچھلے دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔۔۔

اب وہ کھانا چاہتی تھی۔۔۔

اس نے ہاتھ اگے بڑھایا تھا نوالہ توڑنے ہی لگی تھی کہ اخل نے ٹرے کو زمین پہ دے مارا۔۔۔۔۔۔

اس کے ذہن میں پھر سے اپنی بہن کی چیخیں گونج رہی تھی۔۔

تم اس لائک نہیں ہو نہیں ہو اس نے ایک زور کا تھپر کہ منہ پہ پھر سے دے مارا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ اور ہاتھ اٹھاتا باہر سے شور کی اواز ائی تھی۔واصف بوٹ کے ذریعے عدنان کو یہاں لے کر ایا تھا اور اب اسے ساتھ والے روم میں بند کر دیا گیا تھا اس کے ساتھ بہت سے باڈی گارڈز تھے۔۔۔۔۔

یہ گھر سمندر کے بالکل پاس تھا۔جب اکثر فیملی کے ساتھ اؤٹنگ پہ اتے تو سب اسی گھر میں رکتے تھے۔۔۔۔

اخل نے اسے وہیں پہ چھوڑا اور باہر ایا اس نے روم کو لاک کر دیا تھا۔۔۔۔

کہاں ہے اس کی بیٹی واصف نے کورٹ کو اگے کی طرف کیا اور اس سے پوچھا۔۔۔

عدنان کو ہم نے بند کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔

میلان کامران نے پہلے ہی اخل کو سب بتا دیا تھا اس نے دل پہ پتھر رکھ کر یہ ہمی بڑی تھی وہ نہیں مان رہا تھا لیکن پھر اس کی بہن کے نام پر اسے ایموشنل بلیک میل کیا گیا تو وہ نہ نہیں کر سکا۔۔۔۔۔

کیا وہ اس کمرے میں ہے چابیاں دو اس کی۔۔۔

اس نے ہاتھ اگے بڑھایا وہ چابیاں اس کے ہاتھ سے لینے ہی والا تھا کیا اخل نے ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔۔۔

میں اسے لے کے ا رہا ہوں سلطان کے پاس تم جاؤ۔۔۔۔

اسے سلطان کے سامنے ایسے نہیں لے کے انا۔۔۔۔۔

لگتا ہے تم سب بھول گئے ہو سب بھول گئے ہو۔۔۔

عائزہ کی چیخوں کو عائزہ کی تکلیف کو۔۔۔۔۔

ایمن نے واصف کو سب بتا دیا تھا کہ وہ لڑکی پہلے اخل کے ساتھ رہتی تھی۔اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اسے کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اسے بھی اسی تکلیف سے گزرنا پڑے گا پھر وہ سلطان کے سامنے جائے گی۔۔۔۔

تاکہ اسے احساس ہو کہ اس نے کتنا برا کیا تھا۔اس کی بیٹی جب چیخے گی تو اسے اواز یہاں تک سنائی دے گی۔۔۔۔

ایسا کچھ نہیں ہوگا۔وہ زور سے چیحا تھا۔۔۔۔۔

خود اس نے ائرہ پہ جیسا بھی ظلم کیا ہو لیکن وہ کسی اور کے ہاتھوں سے اس پہ ظلم برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

لگتا ہے تم وہ رات بھول گئے ہو۔

تو عائزہ کی چیخوں کو بھول گیا ہے۔

جو تم اس عدنان کی بیٹی پہ ترس کھا رہے ہو۔

ان کتوں نے اسے کیسی کیسی اذیت سے گزارا تھا۔

اخل کی نظر ایک جگہ ٹکی ہوئی تھی غصہ ہاتھ سے کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔لیکن اب کنٹرول سے باہر تھا اس نے چابیاں اس کے ہاتھ میں تھمائی اور خود ایک طرف ہو گیا۔۔۔۔

_______

تم نے پاکستان تو کوئی خبر نہیں دی نا۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم نے ایمن کو فون کرتے ہوئے سنا تو اس کی طرف ائی۔۔۔۔۔

اس نے فورا سے فون بند کر دیا ۔۔۔۔

کیسی باتیں کر رہے ہیں میں کیوں بتاؤں گی کسی کو۔

میں تو موم سے بات کر رہی تھی۔

انہیں ٹالتے ہوئے وہ کمرے کی طرف چلی گئی۔

_________

واصف نے زور سے دروازہ کھولا تھا وہ جو پہلے ہی ڈری سہمی تھی ایک دم سے اٹھی۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔

کسی اور کو کمرے میں اتا دیکھ کر وہ بری طرح سہم گئی تھی۔اس نے اخل کو اواز دی ۔۔۔۔۔۔۔

تو تم ہو اس کتے کی بیٹی وہ قدم بڑھاتا اس کے پاس ایا تھا۔۔۔

میرے قریب مت انا پلیز وہ مشکل سے بول پائی تھی۔۔۔

واصف نے بالوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا تھا اور دیوار کے ساتھ دے مارا تھا۔۔۔۔

اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔

اس کے ماتھے پہ چوٹ لگی تھی۔۔

تمہارے باپ نے میری عائزہ کو مجھ سے چھین لیا۔۔۔۔۔

اب تم پہ رحم نہیں کیا جائے گا۔

اس نے اپنا بیلٹ اتارا اور نہ جانے کتنے ہی وارڈ اس پہ بیلٹ سے کیے۔۔۔۔۔

اخل باہر کھڑا اس کی چیخیں سن رہا تھا۔۔۔۔

کتنی دفعہ اس نے قدم اگے بڑھایا تھا لیکن پھر عائزہ کا سوچ کے رک گیا تھا۔

کیونکہ یہ اوازہ صرف اس تک نہیں بلکہ عدنان تک بھی ا رہی تھی۔۔۔

یہی سوچ کر وہ دل کو سکون دے رہا تھا۔

لیکن عدنان پر ان چیخوں کا کیا اثر ہوگا وہ کیوں نہیں سوچ رہا تھا۔۔۔

_____

ائرہ کمرا بالکل ساتھ تھا وہ پہچان گیا تھا یہ ائرہ کی اواز ہے۔

اس کی چیخوں پہ وہ اچھا حاصا بے چین ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

اب وہ بالکل بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔

واصف نے پھر سے بالوں سے اٹھا کر بیڈ پہ گرایا تھا۔۔۔۔

تم جیسی لڑکیاں عزت کے قابل بھی نہیں ہوتی اس نے اپنی شرٹ اتار کر سائیڈ پہ پھینکی تھی۔۔۔۔۔

وہ اس کی عزت پہ حملہ کرنا چاہتا تھا۔ ۔۔۔

وہ اس کے اوپر جھکا اس کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے۔۔۔

اخل۔۔۔۔

وہ اس حالت میں بھی اسے پکار رہی تھی۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اب اواز نہیں ا رہی تھی تو اسے بے چینی ہو رہی تھی کہ اسے کچھ ہو تو نہیں گیا وہ انہیں قدموں پہ اندر کی طرف بھاگا تھا۔۔۔۔

واصف۔۔۔۔۔۔

وہ جو اس کی شرٹ کو سرکانے لگا تھا ۔اخل گربیان سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا اور ایک زور کا پنچ اس کے منہ پہ دے مارا تھا۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہے تھے تم۔۔۔۔۔۔

تم اس قاتل کی بیٹی پہ رحم کھا رہا ہے۔وہ بالکل بے ہوش ہو چکی تھی۔لیکن اسے اچھے سے اندازہ تھا کہ واصف کیا کرنے والا تھا۔۔۔۔

یہاں سے دفع ہو جا ۔۔۔۔۔۔۔۔

واصف دفع ہو جاؤ اس نے دونوں ہاتھ اپنے ماتھے پہ ٹکائے۔۔۔۔

واصف نے اپنی شرٹ پہنی سیدھی کی بیڈ سے اپنا کوٹ اٹھایا۔۔۔

جا رہا ہوں تھوڑی دیر بعد اسے اس کے باپ کے سامنے لے کے اؤ۔ مامو کا حکم ہے۔۔۔۔۔

وہ جو زمین پر بیٹھا تھا۔

اج اگر کچھ ہو جاتا۔۔۔

اس کے اندر سے اواز ائی تھی۔

ابھی بھی کچھ ہونا باقی ہے اس کی حالت تو دیکھو اندر سے کسی نے جھنجوڑا تھا اسے۔۔۔۔۔

واصف نے بلٹ سے اس کے جسم کے ہر حصے پہ وار کیے تھے ہر حصے پہ گہری نشان پڑے تھے گردن پہ چہرے پہ بازوں پہ۔کمر پہ۔۔۔۔

اس نے پوری مردانگی دکھاتے ہوئے اسے مارا تھا۔۔۔۔۔

اخل نے اس کے پاؤں بیڈ کے اوپر کیے اور پھر بلینکٹ کو اس کے اوپر دیا۔پتہ نہیں اس کے زخم دیکھنےکی ہمت نہیں تھی یا پھر اسے کوئی پرواہ نہیں تھی زخموں کی۔۔۔۔۔۔

________

بتا کیوں مارا میری بہن کو اور کس کے کہنے پہ۔۔۔

اخل نے عدنان کو بری طرح مارا تھا۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔۔

لیکن وہ پھر بھی اپنی بات پر قائم تھا۔وہ کچھ نہیں بتا رہا تھا۔

تیری بیٹی میرے قبضے میں ہے۔

اور اس کی حالت تجھ سے بھی بری ہے۔۔۔۔

چاہتے ہو اس کی عزت سلامت رہے تو سچ بول۔۔۔۔۔

یہ جملے واصف نے بولے تھے۔۔۔۔۔

اس کمرے میں باڈی گارڈ سمیت کئی لوگ موجود تھے۔۔

عدنان کی غیرت کا تو پتہ نہیں لیکن اخل کو پتہ نہیں کیوں سب کے سامنے اس کا نام لیتے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔

سچ بتاؤ کون ہے وہ۔۔۔۔۔۔

اخل نے اپنے ہاتھ میں پکڑی پستول کو اس کے ماتھے پہ دے مارا۔۔۔۔۔

اس کی بیٹی کو لے کے اؤ۔۔۔۔۔

واصف نے پاس کھڑے باڈی گارڈ کو حکم دیا۔۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ ائرہ کو لے ائے تھے۔۔۔

اخل جو عدنان کو گریبان سے پکڑے ہوئے تھا اسے دیکھتے اس نے چھوڑا اور نظریں اس کی طرف گھمائی۔۔۔۔

چہرہ زخموں سے چور تھا انکھیں ادھی کھلی ادھی بند تھی۔۔دونوں بازوں سے پکڑ کر اسے لایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

اور اس کی شال بھی کمرے میں ہی تھی۔۔۔

کالے رنگ کی فراک پہنی ہوئی تھی۔

باسز نے جو بیلٹ مارے تھے اس سے کئی جگہ سے قمیض پھٹی ہوئی تھی اور جہاں نظر ارہے تھے۔

بازو تو زخموں سے چور چور تھا۔۔۔۔۔۔۔

سبھی کتنی عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھےاسے

سب باہر چلو اس نے غصے سے کہا تو سبھی لوگ باہر چلے گئے۔۔۔۔

اپنے باپ کو سمجھا اگر اپنی عزت پیاری ہے۔۔۔۔

واصف نے ائرہ کو بالوں سے پکڑ کر تھوڑا قریب کیا اور پھر عدنان کے قدموں میں دے مارا۔۔۔۔۔۔

اخل جو بالکل عدنان کے پاس ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

اس کے گرتے ہی اس نے اپنے قدموں کو پیچھے کیا تھا اس کا ایک ہاتھ اس کے پاؤں پہ لگا تھا۔۔۔۔

دل نے تیزی سے درکنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل کو بھی باہر انے کا کہہ کے وہ خود بھی باہر گیا اور باہر سے دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔

ائرہ بیٹی ۔۔۔۔۔۔۔۔

عدنان اگے چکا تھا اسے اٹھانے کے لیے۔۔۔۔

اخل اس کے ہاتھ کھول چکا تھا۔۔۔۔۔۔

دور ہٹ جائے دور بابا۔۔۔۔۔۔۔

میں نے کیا بگاڑا تھا اپ کا کیوں میرے ساتھ ایسا کیا۔۔۔۔

مجھے ان درندوں میں اکیلا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔

مجھے یہ ز خم تکلیف نہیں دے رہے بالکل بھی نہیں دے رہے۔

کیونکہ اپ کے دیے ہوئے زخم سے کوئی بھی زخم گہرا نہیں ہے۔۔۔

خدا کا واسطہ سچ بتا دے۔۔۔

ورنہ یہ مہرو کو لے ائیں گے۔۔۔

مہرو بہت چھوٹی ہے برداشت نہیں کر پائے گی۔

خدا کا واسطہ ہے خدا کا واسطہ ہے بابا۔۔۔۔۔

کچھ نہ کھانے کی وجہ سے وہ بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی اور اوپر سے یہ زخم۔۔۔۔۔۔۔

بابا وہ مشکل سے اٹھ کر ان کے پاس ائی۔۔

ہم اپ کی بیٹیاں ہیں۔۔۔۔۔

خدا کا واسطہ سچ بتا دے۔۔۔۔

یہ بہت ظالم ہے۔۔۔

اپ کو پیسے چاہیے نا اپ پھر سے مجھے کسی کے اگے بھیج دو۔اور مہرو کی زندگی میں اپنی طرح نہیں چاہتی۔

وہ جو دروازے پہ کھڑا تھا اس کی ساری باتیں سن رہا تھا۔

اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے سینے سے لگا کے اس کی تکلیف کو دور کرے۔۔۔۔

اس کی باتیں اس کے دل پہ لگ رہی تھی۔

پر عائزہ کا کیا کریں۔جو اسے جان سے بھی زیادہ پیاری تھی۔

عدنان جیسا بھی تھا تھا تو باپ۔۔۔۔

اپ نے سب کی زندگی تباہ کر دی ہے بابا۔

صرف پیسوں کی حاطر ۔۔۔۔۔

بابا۔۔۔۔۔۔۔

میں اپ کے پاؤں پکڑتی ہوں وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔وہ جو ابھی بمشکل کھڑا ہوا تھا ایک دم سے جھکا اور اسے پکڑا۔۔۔

یہ کیا کر رہی ہو ائرہ۔۔

بابا سچ بتا دے۔۔۔

اسے عدنان سے بہت گلے شکوے تھے لیکن ابھی اسے مہرو کی فکر تھی۔کیونکہ اگر عدنان اپنی بات پہ قائم رہا تو وہ مہرو کو بھی اٹھا لیتے اور علی کو بھی۔

اسی لیے وہ منتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

ہاں میں جانتی ہوں یہ بات اپ کو زیادہ تکلیف نہیں دے گی کیونکہ اپ تو پہلے ہی مجھے سلطان کے حوالے کر چکے تھے۔

لیکن میری عزت کو خطرہ ہے۔

یہ بات اخل کہ کون سے ٹکرائی ہی تھی کہ اس کا دل تو جیسے مٹھی میں اگیا۔۔۔۔

وہ اس کے ساتھ محفوظ نہیں تھی۔

اس کی حفاظت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔۔

اب کچھ اور سن کر برداشت نہیں کر سکتا تھا اس نے وہ جگہ چھوڑ دی۔۔۔۔

عدنان ایک ضمیر فرموش انسان تھا۔

لیکن وہ اس کی بیٹی تھی اس کی تکلیف اسے تکلیف دے رہی تھی

___

دوسری طرف اسد ائرہ کی کھوج میں تھا۔۔۔۔۔۔

وہ دن رات ایک کر کے ائرہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔

وہ اچھے سے جانتا تھا وہ کسی تکلیف میں ہوگی۔۔۔۔

لیکن وہ کسی صورت بھی میلان کامران سے پنگا نہیں لینا چاہتا تھا۔

لیکن وہ اپنے طریقے سے ائرہ کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

___

تقریبا دو تین گھنٹے بعد وہ کمرے میں ایا تھے۔۔۔۔۔۔

اخل اور واصف کے اتے ہی وہ عدنان کے پیچھے ہو گئی تھی۔

کیا سوچا تم نے واصف نے پوچھا۔۔۔۔

اور ائرہ کو اس کے پیچھے سے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔۔۔۔

اخل نے ایک نظر اسے دیکھا پھر ائرہ کے ڈر کو دیکھا۔۔۔

اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوا کر اپنے پاس کر لیا۔۔۔

اور واصف کو بہت غصے والے تاثرات دیے۔۔۔۔۔۔۔

بتاتا ہوں سب بتاؤں گا لیکن اس کی کیا ضمانت ہے کہ اس کے بعد میری جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

عدنان نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا۔۔۔۔۔

اگر تم نے واقعی میں سچ بتایا تو تو زندہ بچ جائے گا۔

اور اگر گیم چلائی نہ تو سب سے پہلے تیری دو بیٹیاں اور بیٹا مرے گا اس کے بعد تو مرے گا۔۔۔

اور موت بھی کوئی اتنی اسان موت نہیں دی جائے گی اس نے ائرہ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

میری بیٹی کو میرے حوالے کرو سچ بتاتا ہوں۔

اخل نے بنا کو سوچے سمجھے ائرہ کو اس کی طرف پھینکا۔

یہ لے بیٹی اپنی بول اب۔

وہ اپنی بہن کے قاتلوں کو جاننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں عدنان نے سب بتا دیا تھا کہ اس نے کس کے کہنے پہ۔۔

یہ سب کیا تھا۔

جب تک یہ سچ ثابت نہیں ہوتا کہ تو نے سچ بتایا ہے تیری بیٹی ہمارے پاس ہی رہے گی۔

اخل نے بہانہ لگایا تھا یا سچ میں ایسا ہی تھا اس نے ائرہ پکڑ کر اپنی طرف کیا۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔

بابا نے سچ بتا دیا۔اخل اب ہمیں جانے دو۔۔۔۔

یہ جانے کا لفظ تو اس کے دل سے ٹکڑایا تھا۔۔۔۔۔۔

اخل کا دل تیزی سے درکنے لگا تھا۔۔۔۔۔

وہ کھینچنے کے انداز میں اسے باہر لے کے گیا اور واپس اسی کمرے میں لے ایا۔۔۔

یہ شرٹ پہنو۔۔۔۔۔

یہ پیچھے سے ڈیپ ہے میں کمر میں مرہم لگاتا ہوں۔۔۔۔۔

بیلٹ کے نشان کی وجہ سے اس کی کمر پہ کئی جگہ پہ خون جما ہوا تھا۔۔

اور اسے تکلیف بھی بہت زیادہ تھی۔اخل اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

مجھے نہیں لگوانی مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔

وہ مشکل سے بول پا رہی تھی۔۔۔۔۔

اخل نےاسے زبردستی بیڈ پہ بٹھایا اور لٹنے کا کہا۔۔۔

اس نے دروازے کو بند کیا اور کھڑکیاں بھی بند کی۔۔۔۔

استین کے بٹن کو کھول کر اسے کہنیوں تک فولڈ کیا۔۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ تبدیل نہیں کرے گی۔

اور اس کی تکلیف اسے تکلیف دے رہی تھی۔

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو اس کے اوپر جھکا ہی تھا۔

اس نے احتجاج کرتے ہوئے پیچھے کیا تھا۔

وہ زبردستی اس کی شرٹ کو اوپن کرنے لگا تھا۔

کے ائرہ نے اس کے منہ پہ زور سے تھپڑ مارا۔۔

تم گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔

تمہارے جیسے لوگوں کی بہنوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے۔

اس بات نے پھر سے اس کے غصے کو زندہ کر دیا تھا۔۔۔۔

تمہارے جیسے لڑکیوں کے ساتھ بھی یہی ہونا چاہیے۔۔۔۔۔۔

چاہوں تو ایک منٹ میں سب کر سکتا ہوں۔

اس نے بالوں سے پکڑ کر اسے قریب کیا۔۔۔۔۔۔

ان زخموں پہ اب تمہیں زخم لگاتا ہوں تاکہ سکون ملے۔

اس نے پاس بڑے بیلٹ کو اٹھایا اور نہ جانے ایک ساتھ کتنے ہی وار اس کی کمر پر کیے۔۔

وہ مکمل بے ہوش ہو چکی تھی۔۔۔۔

وہ غصے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔۔

پر کہی اس کے دل میں اس کی حالت کو لے کر تکلیف ہوئی تھی۔۔۔۔۔

______

وہ جب پاکستان ائے گا تو یقینا ضرور ان سے ملے گا یہ سچ اسی سے سامنے ائے گا۔

عدنان کو صحیح سلامت پاکستان پہنچنے دو۔

پہلے اصل قاتلوں کو پکڑیں گے پھر عدنان کا کام بھی تمام کر دیں گے۔

اور اس کی بیٹی کو چھوڑ دو۔

واصف نے میلان کو سبھی کچھ بتا دیا تھا۔۔۔

اب ان کے حکم کے مطابق۔۔۔۔

اخل کو بھی وہ سب بتا چکا تھا۔۔۔

_____

تقریبا رات کے 11 بج رہے تھے۔

کتنی دفعہ واصف کے کہے کو اگنور کر کے اس نے بات کو گھمایا تھا وہ جب بھی کہتا کہ ائرہ کو لے کر اؤ وہ ان دونوں کو بوٹ کے ذریعے پاکستان بھیج دے گا۔۔۔۔

لیکن اب ٹالنا ممکن نہیں تھا ائرہ کے کمرے میں ایا تھا۔وہ سانس مشکل سے لے پا رہی تھی۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کی یہ حالت دیکھ کر وہ گھبرا گیا تھا۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے تمہیں ٹھیک ہوں نا اسے اٹھا کے اپنی گود میں کیا۔

لیکن تھوڑی ہی دیر میں اس کا سانس بحال ہو گیا تھا اب میں اسے پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔

تم جانا چاہتی ہو عدنان کے ساتھ۔۔۔۔

اس نے دل پہ پتھر رکھ کر اس سے پوچھا تھا۔

اگر تو نہیں جانا چاہتی تو بتا دو یہی رہ سکتی ہو میرے ساتھ۔اس کے لہجے میں کتنی بے بسی تھی۔وہ اپنے کیے پہ اتنا شرمندہ تھا۔اس کی یہ حالت دیکھ کر جیسے اس کا دل بند ہونے لگا ہو۔۔۔۔۔۔

مجھے جانا ہے۔

جیسا بھی ہے اس کے ساتھ عزت تو محفوظ ہے میری۔یہ بات جیسے اس کے دل پہ لگی ہو۔۔۔۔

وہ تو اس کا محافظ تھا۔

کیسے کیا اس نے۔۔۔

اس بات کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اس نے بیڈ سے اس کی شال اٹھائی اس کی ارد گرد لپیٹا اسے۔۔۔۔۔۔

پھر اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا اپنے سامنے۔

میں کھانا لے کر اتا ہوں کھا کے جانا۔

مجھے نہیں کھانا مجھے جانا ہے۔

وہ ایک منٹ بھی نہیں رکنا چاہتی تھی۔

وہ کیسے روکے اسے وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

باپ انتظار کر رہا تمھارا۔۔۔۔۔۔

ائرہ مشکل سے چل پائی۔۔۔۔۔

اخل اسے روکنا چاہتا تھا۔یہ کیا کیا تم نے۔۔۔۔۔

اس کے بچھڑنے کے غم نے جیسے اس کے ظلم کو اس کے سامنے لا کھڑا کیا ہو۔۔۔۔۔

ائرہ جا چکی تھی باہر۔۔۔۔

وہ گھر بالکل سمندر کے قریب تھا۔

لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے عدنان کے پاس پہنچی۔۔۔۔

اخل کو جیسے ہی احساس ہوا وہ جا چکی ہو انہی قدموں سے بھاگتا ہوا باہر ایا۔۔۔۔۔۔

وہ بالکل ساحل پر پہنچ چکی تھی اب بوٹ میں سوار ہونے لگی تھی۔۔۔۔

اخل بھاگتا ہوا اس کے پاس ایا تھا۔۔۔۔۔

اگر تم اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تو بتاؤ میں یہاں رکھنے کے لیے تیار ہوں۔تمہیں کچھ نہیں ہوگا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اسے لفظ نہیں ہی مل رہے تھے کن الفاظ سے وہ اسے تسلی دے۔

وہ دنان کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں تھا اسے۔۔۔۔

اور اس کی حالت سفر والی بھی نہیں تھی۔

وہ پہلے تمہیں بیچ چکا ہے ایک بار۔۔۔۔

تم نے کچھ کھایا بھی نہیں۔

۔

اس نے مشکل سے پیچھے دیکھا وہ اس کے بہت قریب کھڑا تھا۔

اخل تم اخری امتحان تھے اب میں سیکھ چکی ہوں کہ کسی پہ اعتبار نہیں کرنا۔۔۔۔۔

وہ اس کے چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا اتنی تکلیف پہنچائی تھی اس نے اسے۔۔۔۔

سمندر کو دیکھتا ان کی سرد ہواؤں کے بارے میں سوچتا اور پھر اس کی حالت کو دیکھتا کہ وہ برداشت کر پائے گی کیا۔

وہ اس کے پاؤں میں گر کر اسے معافی مانگنا چاہتا تھا۔

پر کیسے۔۔۔۔۔

عدنان نے ائرہ کو سہارا دے کر اپنے ساتھ بٹھایا تھا۔۔۔۔

وہ بے بسی کے عالم میں اسے جاتے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔

واصف نے اس کے پیچھے ہی کچھ بندوں کو بھیجا تھا۔۔

تاکہ وہ اگے پیچھے نہ ہو جائے۔

کیونکہ جن لوگوں نے عائزہ کا قتل کیا تھا بہت طاقتور

تھی۔