Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 29

Ayra by Aneeta

وہ غصے سے اپنے کمرے میں ایا تھا

بشرا بیگم کو فکر تھی کہ وہ غصے میں اسے کچھ کہے نا۔۔۔۔۔

وہ اس کے پیچھے ہی ائی تھی لیکن اخل نے دروازہ اندر سے لاک کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

انہوں نے دو تین دفعہ نوک کیا جب کوئی جواب نہ ملا تو وہ بھی چلی گئی۔۔۔

اس شور سے ائرہ کی انکھ کھل گئی تھی۔۔۔۔۔

اسے بخار تھا۔۔۔۔۔۔۔

کہ۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ مشکل سے بول پائی

اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا کیونکہ وہ بہت غصے میں تھا۔۔۔۔۔۔

وہ جس کا ہاتھ ابھی تک دروازے پہ تھا وہ غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

کے ائرہ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔۔۔

پر اس کا غصہ ایسا ہی تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے روخ اس کی طرف کیا اس کے چہرے پہ نشان دیکھ کر وہ ڈر گئی۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے کس سے جھگڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔

اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا اور پھر دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا۔۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ جانتی تھی اس کے غصے سے بچنے کے لیے بھاگنا پڑے گا۔

وہ اگے ا رہا تھا اور وہ ڈر کے مارے بیڈ پہ سکڑ رہی تھی۔پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

رک جاؤ پلیز بتاؤ۔۔۔۔۔

ائرہ نے ڈرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔۔۔

سانسیں اس کے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔۔۔

اج باہر گئی تھی تم۔۔۔۔

اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ کس بات پہ غصہ ہے۔۔۔۔

وہ بییڈ کی نکڑ پرتھی فورا سے اٹھ کر بھاگنے لگی تھی کہ اس نے پکڑا۔۔۔۔۔

کچھ پوچھا ہے میں نے باہر گئی تھی اس نے غصے سے کہا۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک ہاتھ اس کے ہاتھ پہ جمایا جس سے اس نے اس کے بازو کو زور سے پکڑا ہوا تھا۔۔۔

وہ بخار میں تپ رہی تھی اسے احساس تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔

تمہاری غلام نہیں ہوں جو ایسے سوال کر رہے ہو۔۔۔۔

ڈرتے ہوئے بول رہی تھی اور اس سے پیچھے پیچھے ہو رہی تھی۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بہت زور سے کہا انکھوں میں انکھیں ڈال کر

کیوں گئی تھی۔۔۔۔

م۔۔۔مرضی میری۔۔۔۔۔

اس نے کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ کہا تھا۔۔۔۔

ائرہ ۔۔۔اس نے ہاتھ ہوا میں لہرایا اور پھر دیوار پہ جا کے مارا۔۔۔

کیوں دماغ خراب کر رہی ہو کیوں وہ پھر سے چلاتا ہوا اس کے پاس ایا۔۔۔۔

اس کی شرٹ کی حالت بگری ہوئی تھی۔۔

سینہ تو پورا واضح ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

میں وہ پھر سے پکڑنے لگا تھا کیا بھاگتے ہوئے دروازے کی طرف گئی۔۔

ائرہ۔۔۔۔

اس نے ٹیبل کو پاؤں سے زور سے ہٹ کیا تھا۔۔۔۔

اس کے چہرے کے زخم ابھی بھی واضح تھے۔۔۔

ائرہ نے لاک کھول لیا تھا لیکن اخل نے اسے پکڑ لیا تھا۔۔۔

چھوڑو ۔۔۔۔۔

وہ زور سے چیخی تھی۔۔۔

اسے بہت ڈر لگ رہا تھا اس سے ۔۔

اخل ائرہ کی اواز سن کر بشرہ بیگم اگئی۔۔۔۔

تمہیں میں نے سمجھایا تھا انہوں نے ایک زوردار تھپڑ اخل کو دے مارا انہیں لگا شاید اس نے مارا ہے ائرہ کو۔۔۔۔۔

اس کا غصہ پہلے ہی بے قابو تھا۔۔۔۔

اس نے دروازے کو زور سے ہٹ کیا۔۔۔۔۔

یہ تمہاری وجہ سے دوسرا تھپڑ کھا رہا ہوں میں دوسرا۔۔۔

سچ بھی یہی تھا بشرا بیگم نے زندگی میں دو دفعہ اسے تھپڑ مارا تھا اور وہ دونوں تھپڑ اسی کی وجہ سے پڑھے تھے۔۔۔

اخل نے ائرہ کے بازو کو پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔

کہ بشرا بیگم نے اگلے ہی لمحے اس کی گرفت سے ازاد کروایا اور اسے باہر لے گئی۔

پاگل ہو گیا ہے اپنے باپ پہ گیا ہے۔۔۔۔

ائرہ نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

اخل نے دروازے کو زور سے بند کیا ۔۔۔۔

تقریبا دو گھنٹے ہو گئے تھے ائرہ بشرا بیگم کی گود میں سر رکھ کے صوفے پہ لیٹی تھی۔۔۔۔

اس نے ساری بات بتا دی تھی کہ اسد کو وہ کیسے جانتی ہے۔

بیٹی پیار کرتا ہے نا بس اسی لیے۔۔۔

یہ کیسا پیار ہے۔۔۔۔۔۔

جب اپ اگلے کی عزت ہی نہیں کرتے۔

جب دل چاہا مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔

اور جب دل چاہا پیار کرنا شروع کر دیا۔۔۔

روتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔

میں کبھی نہیں بات کروں گی اب کبھی بھی نہیں۔

اس نے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ اب بس ڈیورس چاہیے اسے۔۔۔

بیٹی اٹھو بشرابیگم نے اسے اٹھایا زبردستی۔

اسے ضرورت ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔

کمرے میں جاؤ اور اسے پیار سے سمجھوؤ ساری بات بتاؤ۔

نہیں بالکل بھی نہیں میں نہیں جاؤں گی۔

بشرا بیگم ان دونوں کے بیچ کی دوڑیوں سے لاعلم تھی۔

میری بات بھی نہیں مانو گی۔

میں اچھے سے جانتی ہوں اب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ہوگا۔

اور اسے تمہاری ضرورت ہوگی۔

یہ رشتہ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے۔۔

میں نہیں جا رہی نا میں نے کہا نا۔

اسے زبردستی دروازے کے پاس لے کر ائی تھی۔۔۔

لیکن وہ اندر نہیں جا رہی تھی۔۔۔۔

لیکن پھر انہوں نے دروازہ کھول کر اسے زبردستی اندر بھیج اور باہر سے دروازہ بند کر دیا۔

وہ سامنے بیڈ پر بیٹھا اسے گھوڑ رہا تھا۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ بشرہ بیگم نے اسے زبردستی اندر بھیجا ہے۔۔۔

اس کے غصے کی نظر سے ڈر کر اس نے پھر سے باہر بھاگنا چاہا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دفع ہو رہا ہوں میں ا جاؤں۔۔۔۔

وہ غصے سے بیڈ سے اٹھا تھا فون کان کے ساتھ لگایا۔۔

سمی ا رہا ہوں میں اس نے اسے انے کی اطلاع دی اور موبائل کو بیڈ پہ پھینکا غصے سے اس کی طرف دیکھا اور چینجنگ روم میں گیا۔۔۔

وہ بھی ا کر بیڈ پر بیٹھ گئی تھی بلینکٹ کو اوپر کر کے وہ بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔

ڈار ابھی بھی ختم نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

فورا ہی وہ ہاتھ میں شرٹ پکڑ کر کمرے میں ا گیا تھا۔۔

منہ دھو چکا تھا زخم صاف تھے اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شرٹ تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ائرہ اسے اہت اہت محسوس کر رہی تھی ڈر کی وجہ سے۔۔۔

چینجنگ کے لیے روم بنا ہے کمرے نہیں کر رہا اس نے دل میں کہا تھا۔۔۔۔

ائرہ نے نظروں کو نیچے جھکایا جب اس نے اپنی شرٹ اتاری۔چوڑا سینہ فرصت اور مشقت سے بنائی ہوئی باڈی۔

سینے پہ ہاٹ شیپ کا ٹاٹو بھی بنایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے ایک دم سے رخ دوسری طرف کیا۔۔۔۔۔

ساری شرمے اسے اپنے لگل شوہر سے ہی اتی ہیں۔باقیوں سے بال بنواتی پھرتی ہے اس نے غصے سے جو اتاری شرٹ تھی وہ اس کی طرف پھینکی۔جو اس کے منہ پر لگی تھی پھر بیڈ پر گر گئی۔۔۔۔۔

اس نے یہ بات بھی بتا دی ائرہ نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔۔

اس کے پاس جواب تو بہت اچھے اچھے تھے پر اس کے غصے کی وجہ سے اس نے زبان کو کنٹرول کیا ہوا تھا۔۔۔

اگر نہیں سنبھالے جاتے تو کٹوا دو۔اس نے شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

نظریں اسی پہ جمائی ہوئی تھی اس نے۔۔۔۔۔۔۔

لہجے میں انتہا کا غصہ تھا۔۔۔

وہ ہاتھوں کو مچھتی نظریں نیچے کیے بیٹھی تھی۔۔۔۔

وہ ڈر رہی تھی کسی طرف سے بھی وار ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔

اس کینچی جیسی زبان کو چلاؤں نا اس نے غصے سے پھر سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔

تمہارا مسئلہ کیا ہے۔

وہ جو بیٹھا شوز بند کر رہا تھا ایک دم سے پیچھے دیکھا۔ارادہ اس کا سمی کے ساتھ پارٹی پہ جانے کا تھا۔اور اسد کو ٹھکانے لگانے کے لیے پلان بھی بنانا تھا۔اور کچھ غصے کی وجہ سے کہ غصہ اس پہ نہ نکل جائے۔۔۔۔۔۔

میرا مسئلہ اس نے شوز کو وہیں رکھا۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے اٹھ کر اس کی طرف بڑا ہی تھا کہ وہ بیڈ کی۔۔ دوسری طرف اتر گئی۔۔۔۔۔

وہ بیڈ کے ایک سائیڈ پہ تھا اور وہ دوسری سائیڈ پہ۔۔۔۔

ائرہ چپ چاپ یہاں اؤ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔

اس نے ون کرتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

لہجے میں شدید غصہ تھا وہ دیوار کے ساتھ جا کے لگ گئی تھی اگے کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔۔

تو تم نہیں ا رہی۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ کوئی جواب دیتی وہ ہاں یا نہ کرتی۔

اخل ایک سیکنڈ میں بیڈ کے اوپر سے پلاگا اور اس کی سائیڈ پہ ا گیا۔۔۔۔۔۔۔

وہ اتنی تیزی سے ایا تھا کہ اسے بھاگنے کا موقع ہی نہیں ملا۔۔۔۔

پیار سے بلا رہا تھا نا۔۔۔۔۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔

اس نے دونوں بازوں سے پکڑا ہی تھا کہ اس نے شور مچانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔

مسئلہ پوچھا تم نے میرا۔۔۔۔

ہاں میرا مسئلہ تم ہو تم اس نے بازوں کو زور سے جھنجوڑا تھا۔۔۔۔۔

تم صرف میری ہو صرف میری۔۔۔۔۔

تمہارے جسم پہ تمہارے بالوں پہ صرف میرا حق ہے۔۔۔

کس کا حق ہے اس نے تھوڑی سی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کیا۔۔۔

کسی کا بھی نہیں وہ زور سے چیہی اور اس سے پیچھے کیا۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

اس نے تین دفعہ پکارا تھا تینوں دفعہ لہجہ اونچے سے اونچا ہوتا گیا۔۔۔۔۔۔۔

کیوں اپنی ذرا سی جان کو تکلیف میں ڈالنا ہے۔۔۔۔۔

مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہی نہیں ہے اس نے اس کے ہاتھ کو جھٹکا اور باہر کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ اس نے پھر سے کھینچا۔۔۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ایک چٹکے میں اسے بیڈ ہے گرایا ۔۔۔

تم اب ایسے ہی کنٹرول ہو سکتی ہو۔۔۔۔

اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے تھے۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہو تم وہ غصے سے اٹھی تھی۔۔۔

وہی جو بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا۔۔۔۔

وہ اس کے اوپر سایہ بنا چکا تھا۔۔۔

اس کے اٹھنے کی جدوجہد کو ناکام بناتے ہوئے۔۔۔

ایک جھٹکے میں اس نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا۔۔۔۔

ا۔۔۔۔اخل وہ پوری کوشش کر رہی تھی اسے جان چھڑوانے کی۔۔۔

اور اس میں غصے جتنی ہی شدت تھی۔۔۔

اخل پلیز نہیں پلیز۔۔۔۔۔

وہ کانپتے ہوئے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ لبوں کو چھوڑتا اس کی گردن پہ جھکا۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ اس کی ایک بھی نہیں سن رہا تھا۔۔۔

وہ دھیرے دھیرے اس کی شرٹ سرکا رہا تھا۔۔۔

جس سے ائرہ کے دل کی دھڑکن اور تیز ہو رہی تھی۔۔۔۔

دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی تھی وہ۔۔۔

اخل میں کبھی معاف نہیں کروں گی یاد رکھنا۔۔۔۔۔

چھوڑو نا پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پر اس پہ جنون سوار تھا اسے پانے کا۔۔۔۔۔

وہ اس کی شہ رگ پے شدت سے بھرپور لمس چھوڑ رہا تھا۔اس کے ہاتھ اس کی بازوں پہ گردش کر رہے تھے ۔۔۔

اچھا بھلا جا رہا تھا نا زبان چلانا ضروری تھا۔۔

اس نے اپنی شرٹ اتار کر سائیڈ پہ پھینکی اور پھر اس کے اوپر جھکا۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بالکل بھی بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔۔

اس نے پھر سے اٹھنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔

لیکن ہر کوشش نہ کام جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ پورا پاگل ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ایرہ نے رونا بھی شروع کر دیا تھا لیکن اس پہ کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔

___

یہ ابھی تک نہیں اٹھے بشرا بیگم نے کلثوم کو کہا جو ٹیبل پہ ناشتے کی چیزیں رکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

نہیں بڑی بی بی میلان کامران بھی ٹیبل پہ موجود تھے۔۔

اٹھ کے دنیا کو کیا منہ دکھائے کہ رات کو بیوی کے یار سے مار کھائی ہے اس نے۔۔۔۔

بہت ہی کوئی گھٹیا خاندان سے تعلق ہے۔۔۔

بہت وہ ہوگی جو میں لاؤں گا۔ایمن وسیم بنے کی میلان کامران کی بہو۔۔۔۔

تم اپنی تیاری پوری رکھو کچھ ہی دنوں میں ہم ایک چھوٹا سا فنکشن رکھیں گے اور اناؤنس کریں گے۔۔۔۔۔

ائرہ مجھے بتا چکی ہے کہ وہ بس دوست ہے۔۔۔۔

ہاں دوستی اتنی اچھی کہ رات کو شوہر کو مارنے اگیا۔

بیگم بس کر دیا کرو بس کر دیا کرو۔۔

اور ایمن والی بات کو اب ختم کریں یہاں پہ۔۔۔۔۔۔

وہ افس سوٹ پہنے بیٹھا تھا اور بریڈ پہ جیم لگا رہا تھا۔

رات کو اپنی انکھوں سے دیکھا ہے کیسا جنون سوار تھا اس لڑکے پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

دوستی میں نہیں ہوتا یہ جنو ن۔۔۔۔۔

__

گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل پہلے سے ہی اٹھا ہوا تھا اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا اس کی انکھ کھلتے ہی اس نے کہا۔۔۔۔۔

بالکل اس کے بازوں میں قید تھی۔۔۔۔۔

انکھ کھلتے ہی رات والے منظر اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے۔۔۔۔

چھوڑو مجھے اس نے غصے سے کہا تھا اس سے پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے ہلکی سی شرٹ پہنی تھی۔۔۔۔۔

چلو اگے کسی سے بال بنواتے ہوئے 100 دفعہ سوچو گی۔۔۔

کہ بیوی کس کی ہو۔۔۔۔۔۔

اور انجام کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔

اس کی نوز کو دباتے

وہ ہنستے ہوئے اٹھا تھا اور تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔

ساری رات اس نے اس کی شدتیں کو برداشت کیا تھا۔۔۔۔۔

میں کبھی معاف نہیں کروں گی یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔

اس غلطی پہ تو کبھی بھی نہیں۔۔۔

وہ رات والی حرکت پہ سخت خفا تھی۔۔۔۔۔

۔

کیا میں نے معافی مانگی اس نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا۔۔

ایسی غلطیوں کی عادت ڈال لو تم اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ کرنا تو اگنور چاہتا تھا باتھ روم کی طرف بڑا ہی تھا لیکن رک گیا۔۔۔۔۔۔

اس کی سائیڈ پہ ایا تھا بیڈ پہ جگہ بنا کر بیٹھا۔۔

کیا ہے کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔۔

بیوی ہو میری وہ کان کے پاس چکا تھا۔۔۔۔۔

مجھے ڈیورس چاہیے ڈیورس۔۔۔۔۔

اب تو یہ پاسیبل نہیں ہے اس نے شائستگی سے کہا……

اس ٹاپک کو چینج بھی کر دو اب ابھی مجھے اسد کو بھی ٹھکانے لگانا ہے۔۔۔۔

وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی تھی اس کا نام سن کر کہ وہ کیا کرے گا اس کے ساتھ۔۔۔۔

لیکن وہ کچھ بولنا نہیں چاہتی تھی وہ اگے ہی اس سے بہت ڈر گئی تھی۔

وہ تھوڑی دیر میں فریش ہو کر باہر ناشتے کے لیے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

وہ سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی تو اس نے بھی اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔۔۔

___

اس کے جاتے ہی ائرہ اٹھ کر بیٹھی تھی اور گہرا سانس لیا تھا اس نے۔۔۔۔۔

جیسے اس کا وجود سانسوں پہ باڑی ہو۔۔۔۔

وہ شکوہ شکایت کرے بھی تو کس سے۔۔۔۔

وہ اٹھنے لگی تھی کہ اس کا موبائل بچنے لگا۔۔۔۔

اسد اس نے فون کاٹنا چاہا۔۔۔۔۔۔

لیکن پھر اٹھا کر کان کے ساتھ لگا لیا۔۔۔

ائرہ تم ٹھیک ہو۔۔۔۔۔

اسد کواسی کی ٹینشن تھی۔۔کہ اس نے اسے کوئی نقصان نہ پہنچایا ہو۔

کیا ضرورت تھی اسے بالوں والی بات بتانے کی۔میں نے اپ سے یہ ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا۔۔

دیکھو اچھا ہوا جو میں نے اسے بتا دیا۔

اس کے دل میں تو کچھ نہیں رہے گا نا کہ تم اکیلی ہو۔

میں اکیلی ہی ہوں مسٹر اسد۔۔۔۔۔۔۔

کون ہے میرے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔

اور مجھے کسی کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

ائرہ کسی کا بھی احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔

ایرہ ام سوری پلیز ۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ تم سائیکو کو برداشت کیسے کر رہی ہو۔۔۔

دیکھو میرے پاس بہت اچھا پلان ہے تم بس مجھ سے ملو۔

یہ اپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میں نہیں مل سکتی حالات اپ کے سامنے ہیں۔

وہ ا گے بہت غصے میں ہے اب میں کوئی اور قدم نہیں اٹھا سکتی۔

میں سب ٹھیک کر دوں گا سب ٹھیک کر دوں گا اپ مجھ پر بھروسہ رکھیں صرف ایک دفعہ مجھ سے ملنے ائے۔۔

دیکھیں میں صاف لفظوں میں اپ کو بتا چکی ہوں کہ میں نہیں ا سکتی اب دوبارہ مجھے کال کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔میری زندگی میں پہلے کیا کم پرابلمز ہیں۔۔

ہر چیز تو بکھری پڑی ہے۔اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔

سب کچھ سمجھ سے باہر ہے کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوگا۔

وہ جو پہلے ہی پریشان تھا اس کی باتوں سے اور پریشان ہو گیا۔

بس ایک دفعہ ملنے ائے میں کہہ رہا ہوں۔

وہ اسی بات پہ اٹل تھا۔۔۔

مس ائرہ اگر اپ مجھ سے ملنے نہ ائی نا تو پھر جو ہوگا اس کا ذمہ دار مجھے مٹ ٹھہرانا۔وہ بھی جان گیا تھا کہ گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکلنے والا۔۔۔۔۔

کیا مطلب ہے اپ کی اس بات کا کیا ہوگا۔۔۔۔

ہونا کیا ہے میں اپ کے جنونی اور سائیکو شوہر کو اس کی اصل جگہ پہ پہنچاؤں گا۔۔۔

اسد کیوں میرے لیے پرابلمز کھڑی کر رہے ہیں پلیز۔۔۔۔۔

تو ٹھیک ہے مجھ سے ریسٹورنٹ میں ا کے ملے میں سب ٹھیک کر دوں گا اس نے فون بند کر دیا تھا۔

___

اخل بیٹا ہم خاندانی لوگ ہیں۔۔۔۔۔

یہ تماشے بغیرتوں کے گھر میں ہوتے ہیں۔۔۔۔

وہ جو کافی۔ کا کپ اٹھائے کمرے کی طرف ا رہا تھا ایک دم سے رکا۔

اپنی بیوی کو سمجھا دو اپنی زبان کو اور اپنی حرکتوں کو کنٹرول میں رکھے۔۔۔

ڈیڈ وہ میری بیوی ہے اور مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔نہ اس سے اور نہ ہی اس کی زبان سے۔۔۔۔

پھر رات کو اتنا تماشہ لگانے کی کیا ضرورت تھی۔تمہیں تو پھر اس کے عاشقوں سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

ڈیڈ وہ غصے سے چلایا تھا۔۔۔۔۔

لیکن وہ باپ تھا غصہ نہیں کر سکتا تھا تو دروازہ پٹک کر اپنے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔

ائرہ شاور لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اس کے اتے ہی باہر نکلی تھی۔۔۔۔۔

اس نے سمپل سا سوٹ پہننا تھا ملٹی کلر میں۔۔۔۔۔

اور دوپٹہ بھی ملٹی کلر میں تھا۔۔۔

کھلے بالوں میں قیامت لگ رہی تھی۔اس کا سارا غصہ غائب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

مجھے نہیں پینی وہ بالکنی میں ا کے کھڑی ہو گئی۔۔

پر مجھے تو پینی ہے نا اس نے ایک شپ لیا پھر کب اس کے منہ کے ساتھ لگایا۔

وہ اس کی حرکتوں سے یوز ٹو ہو گئی تھی وہ جانتی تھی اگر اس نے شپ نہ لیا تو وہ زبردستی پلائے گا ۔۔۔

ائرہ نے ایک شپ لیا۔۔۔۔۔۔

وہ ایسے ہی کر رہا تھا کہ ایک خود لیتا پھر اس کے منہ کے ساتھ لگا تا۔اسے بازو میں قید کیے وہ دونوں بالکنی میں کھڑے تھے۔۔۔

میں نے سنا ہے ساتھ رہنے سے سات کھانے سے پینے سے محبت بڑھتی ہے۔۔۔۔۔۔

اس نے کپ اس کی منہ کے ساتھ لگایا ہی تھا کہ اس نے ایک ہاتھ سے کپ زمین پر دے مارا۔۔۔۔

ہر کیس میں ایسا نہیں ہوتا۔کبھی کبھی ساتھ رہنے سے وہ بھی زبردستی کسی کو ساتھ رکھنے سے صرف نفرت پیدا ہوتی ہے نفرت۔۔۔۔۔۔۔

اخل کو ایا تو شدید غصہ تھا لیکن وہ پہلے ہی الجھی ہوئی تھی وہ اور نہیں الجھانا چاہتا تھا۔

وہ نیچے جھکا اس نے کپ کا ایک ایک حصہ اٹھایا تھا۔

ائرہ اسے نوٹس کر رہی تھی کہ وہ کر کیا رہا ہے۔

اس نے ڈرا سے بلو گن اٹھائی۔۔۔۔۔

اور اس کپ کو جوڑنے لگا اس نے ایک ایک کانچ کے ٹکڑوں کو بڑی مشقت سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا تھا۔۔۔۔

تھوڑی مشقت کے بعد وہ کپ بن گیا تھا۔۔۔۔۔

وہ اٹھا کر اس کے پاس ایا۔۔۔۔۔

اگر ہماری محبت ریزہ ریزہ بھی ہو جائے۔تو میں ذرا ذرا اٹھا کر جوڑوں گا۔بالکل ایسے ہی اس نے کپ اس کے سامنے کیا تھا۔۔۔۔۔۔

اس نے کپ کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔

اتنی روڈ کیوں ہو بتاؤ ذرا اسے سینے کے ساتھ لگایا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کر فاصلہ بنایا۔

اس نے لب اس کے گالوں پہ رکھے تھے۔۔۔۔

ائی لو یو سو مچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب تمہیں اٹھا کے لے کے جا کے ناشتہ کرواؤں گا۔

اگلے ہی لمحے اس نے اسے بازوؤں میں اٹھا لیا تھا۔

اخل یہ کیا کر رہے ہو پاگل ہو گئے ہو باہر سب ہیں۔۔

ہاں تو سب کیا کہیں گے اپنی بیوی کو ہی تو اٹھایا ہے۔

نہیں نہیں پلیز چھوڑو وہ اس کے سینے پہ مکوں کی برسات کر رہی تھی۔۔۔۔

ایسے نہیں پہلے کس۔۔۔۔۔۔۔

اخل پلیز اخل نے دروازہ کھولا تھا جبکہ اس نے زور سے بند کیا تھا۔۔۔۔

سوچ لو دروازے کے پاس ہوں لے بھی جاؤں گا۔۔

اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔

ائرہ نے اپنے لب اس کے گالوں پہ رکھے۔۔۔۔۔

مجھے کیا کر رہے ہو میں نے دے دیا ہے تم پھر بھی باہر لے کے جا رہے ہو۔

میں چھوٹا بچہ ہوں جو تم مجھے یہاں کس کر رہی ہو۔

لپس پہ کرو گی پھر۔۔۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔

پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا کرتی ہوں نیچے اتارو۔۔۔۔

اس نے بھی اگلے ہی لمحے اسے نیچے اتار دیا تھا کس کی لالچ میں۔

لیکن وہ بھی ائرہ تھی

اس کے اتارتے ہی باہر کی طرف بھاگی تھی۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

___

مجھے پھپھو سے ملنے جانا ہے میں تھوڑی دیر میں واپس ا جاؤں گی۔

پلیز نا پلیز مجھے جانے دیں۔

وہ بشرا بیگم سے ضد کر رہی تھی جانے کی۔

دیکھو تم اس کے رات والے غصے سے اچھے سے واقف ہو۔

اسے پتہ بھی نہیں چلے گا اس نے ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔

انہیں ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے عائزہ ضد کر رہی ہو کسی بات پہ۔۔۔۔

پلیز اس کے بہت اصرار کرنے پر انہوں نے اسے اجازت دے دی۔۔۔

بشرا بیگم ہاتھ میں کتاب لیے لانچ میں بیٹھی تھی۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ اسد کے ریسٹورنٹ پہنچ چکی تھی۔

$__

اسد یہ اپ کیا کہہ رہے ہو یہ پاسیبل نہیں ہے۔۔۔۔

کیا تمہیں ڈیورس نہیں چاہیے اس سے بتاؤ۔

ہاں مجھے چاہیے لیکن ایسے اچانک۔۔۔۔۔۔

وہ خود ہی الجھن میں پھنسی ہوئی تھی کہ اسے اگے کرنا کیا ہے۔۔

دیکھو یہ ڈیورس کے پیپر میں نے ریڈی کروا دی ہے بس سائن خود کرو اور اس سے کروانے ہیں۔۔

یہ لو پین تم سائن کرو ابھی۔۔۔۔۔

میں ایک نوٹس کورٹ کے ذریعے بھی بجوا دوں گا۔تاکہ وہ ان پیپرز کو ہلکا نہ سمجھے۔۔۔۔۔۔

وہ کل سے اسی جدوجہد میں لگا تھا۔۔۔۔

چلو سائن کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے پین اس کے ہاتھ دے کر سائن کروا لیے تھے ۔؟

وہ دونوں ایک ہی صوفے پر بیٹھے تھے وہ بہت کلوز بیٹھا تھا اس کے۔۔۔۔۔۔

کے اچانک دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

ائرہ کے ہاتھ سے پن نیچے گر گیا تھا۔۔۔۔

اخل نے بالکل بھی ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا۔

کے ائرہ یہاں ہو سکتی ہے ۔۔۔

ائرہ اسد اس کے بہت کلوز بیٹھا تھا۔

ائرہ ایک دم سے اٹھ گئی تھی۔

اس نے مشکل سے سانس لیا تھا۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو۔

کس کی اجازت سے ائی ہو وہ چلایا تھا۔

اخل۔۔۔۔۔

اسد نے ائرہ کو اپنے پیچھے کیا۔۔۔۔۔

اور اس کے ہاتھ سے پیپرز لیے فائل اس کی طرح بڑھائی۔

ڈیورس چاہیے اسے تم سے۔۔۔۔

یہ لو اس نے سائن کر دیے ہیں اب تم بھی کرو اور اس رشتے سے ازاد کرو اسے۔۔۔۔

اخل کو اس کی بات پہ یقین نہیں تھا کہ ائرہ اتنا بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔۔۔۔

اس نے فائل اس کے ہاتھ سے زور سے کھینچی تھی۔

لیکن وہ تو سچ تھا جو اس نے سنا تھا وہ سچ تھا۔۔۔

تو ڈیورس چاہیے میڈم کو اس نے ایک ہاتھ کمر پہ ٹھکایا تھا دوسراپیشانی پہ تھا فائل وہ زمین پر گرا چکا تھا۔۔۔

اجاؤ دو اسد کو ایک جھٹکے میں اس نے پیچھے گرا کے اس کا بازو پکڑ کر اگے کیا تھا۔۔۔۔۔

اسد کا سر دیوار کے ساتھ جا کے لگا تھا۔۔۔

کیونکہ اس نے زور سے پیچھے گرایا تھا۔

اسد بھی افس سوٹ میں ملبوس تھا اور وہ بھی۔

اخل نے بلیک پینٹ کوٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ میچ کی ہوئی تھی۔۔۔

اخ۔۔۔۔۔۔۔ائرہ کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ اس نے زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ مارا۔۔۔۔۔

اخل اسد غصے سے چلایا تھا۔۔۔۔اکراتے ہوئے اگے ایا ہی تھا کہ اس نے پھر سے اسے ٹانگ دے ماری۔دو منٹ ائرہ کو چھوڑ کر اس نے اسے پھر سے دیوار کے ساتھ بٹھا۔۔۔۔۔

ایک ہاتھ سے اس نے ائرو کو پکڑا جو روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔

پہلے اسے ڈیورس دے لوں پھر تمہیں سبق سکھاتا ہوں۔

اس نے ساتھ ہی الٹے ہاتھ کا تھپڑ ائرہ کو دے مارا۔۔۔۔

اس کے گال پہ نشان پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

تو دو دفعہ ہو گئی تین دفعہ دی جاتی ہے۔۔

ہے نا۔اس کے چہرے کو تھوڑی سی پکڑ کر اوپر کیا تھا جو پورا ریڈ ہو چکا تھا۔۔۔۔

اس نے نظروں کو اوپر کیا ہی تھا کہ اس نے ایک اور زوردار تھپڑ دے مارا۔۔۔۔۔۔

تمہیں رات کو بخشنے کا پچھتاوا رہے گا مجھے پچھتاوا اس نے اسے بازو سے جھنجوڑا تھا۔۔

رات کو سبق سکھا دیتا نا تو اج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔۔

اس نے ایک اور زوردار تھپڑ مارا تو وہ صوفے پہ جا گری۔۔۔

افس کی وہ اندر سے کنڈی لگا چکا تھا۔۔۔۔

اسد کو گہری چوٹ لگی تھی اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔

اس نے اسے گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا اور پھر زار و قطار اس کے منہ پہ مکے مارے۔۔۔

ائرہ اس کے غصے سے بہت ڈر گئی تھی وہ سہمی وہیں بیٹھی رہی۔۔۔۔

اسے مارنے کے بعد زمین پر پھینکا اس نے اور پھر اس کا بازو پکڑا اور باہر کی طرف لے کر ایا۔۔۔۔

اس نے جیسے ہی افس کا دروازہ کھولا تھا باہر لوگوں کی مجما لگا تھا۔۔۔۔۔

پر سب اچھے سے جانتے تھے۔کے اخل میلان کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔

اسے زور سے اس نے گاڑی میں پھینکا تھا جیسے کوئی چیز پھینکی ہو اسے پچھلی سیٹ پہ اس نے بٹھا تھا کیونکہ وہ اپنے غصے سے واقف تھا۔۔۔۔۔

وہ اسد کا کام تمام کر کے اتا یقینا لیکن سات ائرہ تھی۔۔۔۔