Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 2

Ayra by Aneeta

اسے دوبارہ چھونے کی ہمت مت کرنا۔اخل نے ایک ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کر زور سے دوبارہ پیچھے کیا ۔۔۔

ائرہ بیڈ سے اٹھ کر دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔جو بھی ہو رہا تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔اس کا رنگ پیلا پر چکا تھا۔اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھٹی ہوئی استینوں پہ رکھا۔وہ شاید بازو چھپانا چاہتی تھی۔۔۔

اس لڑکے نے زمین پر گری اپنی شرٹ اٹھائی۔..

نیچے جھکتے ہوئے اس نے پھر سے ایک نگاہ ائرہ پہ ڈالی۔۔۔

اور باہر چلا گیا۔۔۔

قرت دو قدم کا فاصلہ طے کر کے اخل کے پاس ائی۔۔۔

تم جس لڑکی کو جانتے نہیں ہو اس کی خاطر اپنی دوستیاں خطرے میں ڈال رہے ہو۔قرت نے نظر اٹھا کر ائرہ کو دیکھا تو ائرہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔۔۔

اخل۔۔نے بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا۔اسے غصہ تھا پر نہ جانے کس بات پر۔۔۔۔۔۔

یہ پہلی لڑکی تھی جس کی حفاظت اس نے اس طرح کی تھی۔ورنہ تو اسے عادت تھی کپڑوں کی طرح لڑکیاں تبدیل کرنے کی۔۔۔۔۔

کون ہو تم۔۔۔۔اخل نے اپنا رخ ائرہ کی طرف کیا۔ائرہ نے بھی الجھی ہوئی نگاہ اس پہ ڈالی۔۔۔۔

تمہارے ساتھ ہوں کون ہو تم۔لہجے میں تھوڑی سختی ائی تو ائرہ بھی چونکی۔۔۔

م۔۔۔۔۔۔میں۔

میں ا۔۔۔ائرہ۔۔۔۔۔لفظوں کو گھسیٹتے ہوئے اس نے چھوٹا سا جملہ کمپلیٹ کیا۔بوٹ اب ایک ساحل کے قریب تھی۔۔۔

تم یہاں کیا کر رہی ہو اور کیسے آئی۔۔۔

اخل۔۔۔۔

پوچھنے کی کیا ضرورت ہے اس کی کنڈیشن دیکھ کر اچھے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا بیگ گراؤنڈ کیسا ہوگا۔۔

ایسی لڑکیاں ایسے ہی معصوم سی شکل بنا کے تم جیسے امیروں کے اگے پیچھے گھومتی ہے۔اس نے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔۔۔۔

میں نے جس سے پوچھا ہے اچھا ہوگا کہ وہی بتائے۔اخل نے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔

ایک ترچھی نگاہ اس پر ڈالی اور پھر قدم ائرہ کی طرف برھائے۔۔۔

کچھ پوچھا ہے میں نے۔۔۔۔۔

ائرہ کی سمجھ سے باہر تھا کہ وہ کیا کریں۔ان کی گفتگو سے اندازہ تو اسے ہو گیا تھا کہ وہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکی ہے۔جس ماحول سے بھاگی تھی وہ اس میں ہی اگئی تھی۔۔۔۔

بوٹ بھی بہرہ عرب کہ دبئی پوٹ کے ساحل کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔۔۔۔۔۔

میں نہیں جانتی ہوں۔میں کہاں ہوں۔ غلطی سے ا گئی ہوں۔ائرہ کے پاس الفاظ نہیں تھے وہ کہتی بھی تو کیا کہتی کہ اس کے اپنے باپ نے اس کا سودا کر دیا۔اس نے کچھ لفظوں کو توڑ پھوڑ کر ان جملوں کو مکمل کیا۔درد سے اس کا بڑا حال تھا۔۔۔۔۔

غلطی کو سدھارا بھیجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی ہم دبئی پوٹ پے اتر جانا اور پھر جہاں مرضی جانا۔۔۔

قرت کے الفاظوں نے ایک دفعہ پھر اخل کے غصے کو دعوت دی تھی۔۔۔۔۔

میں اتر جاؤں گی۔۔۔

اس سے پہلے کہ اخل قرت کو کچھ کہتا۔ائرہ کے ان الفاظ نے اسے اپنی طرف مخاطب کیا۔۔۔۔۔

تو اس نے بھی کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔

وہ ایک لاپرواہ سا لڑکا تھا وہ خود نہیں جانتا تھا کہ اس نے یہ سب کیوں کیا ہے۔اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا اور پھر غصے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔۔۔

ائرہ بھی ڈری سہمی وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

لیکن اسے بے صبری سے انتظار تھا کہ وہ اس بوٹ سے کب اترے گی۔لیکن کافی ٹائم گزر گیا تھا۔وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے باہر کی طرف ائی۔۔۔

________

اخل یہ دعوت اکیلے اڑانا چاہتا ہے۔بس اسی لیے۔۔۔

وہ اس لڑکی کو اسی لیے کچھ زیادہ ہی اہمیت دے رہا ہے۔

ماسٹر پیس جو ٹہرا۔ایک کہکا بلند ہوا دونوں لڑکوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پہ تالی ماری۔۔۔۔۔

ورنہ وہ لڑکیوں کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔

وہ دو لڑکے بیٹھے اپس میں باتیں کر رہے تھے اندر جو ہوا تھا وہ ساری پارٹی میں پھیل چکا تھا۔اور سب اسی پہ تبصرے کر رہے تھے۔ائرہ کے کان میں یہ الفاظ پڑھتے ہی اسے پھر سے عزت کے لالے پڑ گئے تھے۔وہ کسی طرح بھاگ کر اپنی عزت بچانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ تیز قدم اٹھاتی واپس کمرے میں ائی اسے سائیڈ پہ ایک سفید چادر پڑی ملی جو اس نے اپنے ارد گرد لپیٹ لی۔تھکی ہوئی انکھیں الجھا ہوا چہرہ بکھرے ہوئے بال۔اس نے چادر کو ارد گرد لپیٹا۔اور معصوم سا چہرہ۔۔۔۔۔

باہر جاتے ہوئے اس کی نظر ایک ڈبی پر پڑی اس ڈبی میں مرچیں پڑی تھی۔ہتھیار کے طور پر اس نے وہ مرچی کا ڈبہ اپنی چادر میں چھپا لیا۔وہ بوٹ کے اس کمرے نما حصے سے نکلی۔۔وہ اب ساحل کے قریب ہی لگنے والی تھی۔لیکن ائرہ سب سے نظر بچا کر بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔۔

بوٹ جیسے ہی ساحل کے قریب لگی۔یہ دبئی پارٹ تھا۔بحرہ عرب کا سب سے بڑا پارٹ وہ فورا سے اتری۔۔۔۔

اخل جو اسے شاید اترنے کا ہی کہنے ایا تھا اسے ناپا کر پریشان ہوا اور فورا سے بوٹ کے ڈک پر ایا۔۔

اسے ائرہ جاتے ہوئے نظر ائی تو وہ تیز قدم اٹھاتا اس کے پیچھے ایا۔وہ بوٹ سے چھلاگا اور ساحل کے قریب ایا۔۔

کہاں جا رہی ہو تم۔۔۔۔

اس نے بازوں کو کہانیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔شرٹ کے بٹن بھی اوپر سے کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔

اس کی اواز سے ائرہ چونکی۔۔۔۔۔

اور قدم روک کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔

لڑکوں کے وہ الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔

اس نے فورا سے ڈبی کا خبن کھولا۔وہ چادر کے اندر سے ہی ہاتھوں کو حرکت دے رہی تھی۔۔۔

اور مرچوں کو اپنی مٹھی میں بڑا۔۔

اخل کے قریب اتے ہی جب وہ کچھ بولنے لگا تو ائرہ نے دونوں مٹھیوں میں بھری مرچوں کو اس کی انکھوں میں چھڑکا۔یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا۔کہ اخل کو سمجھ نہیں ایا۔۔۔

اےےےےےےے۔۔۔۔

اخل کہ دونوں ہاتھ اس کی انکھوں پہ تھے وہ تھوڑا جُھک گیا تھا۔جلن کافی زیادہ تھی۔ ائرہ تیز تیز قدموں سے وہاں سے بھاگی اور پیچھے مڑ کر ایک بار بھی نہیں دیکھ۔۔۔۔

میں نہ کہتی تھی یہ لڑکی چور ہے۔۔

قرت بھاگتی ہوئی اخل کے پاس ائی۔۔۔

تو دیکھ لیا اپنی نیکی کا بدلہ۔اس نے فورا سے اپنے بیگ میں سے پانی کی بوتل نکالی۔جو اگلے ہی لمحے اخل نے اپنی طرف کھینچی اور فورا سے کھول کر اپنی انکھوں میں پانی ڈالنے لگا۔۔۔۔۔۔۔

___________________

وہ لڑکی یقینا اسی جہاز میں بیٹھی تھی۔ایک نوجوان لڑکا سلطان کو موبائل میں دکھاتے ہوئے بتا رہا تھا۔اور وہ اخل کی بوٹ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔۔۔

اس کی ساری انفارمیشن نکلو۔۔۔۔

یہ اخل میلان کی بوٹ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔