Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 16

Ayra by Aneeta

اخل کیا ہے۔۔۔۔

اخل نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی طرف کیا ۔۔۔۔۔۔

وہ صوفے سے اٹھی تو وہ بھی اٹھ گیا۔۔۔

کس ۔۔۔۔۔۔۔

چاہئے۔۔۔۔۔۔

اور اب اگر نہ دی تو میں زبردستی لو گا ۔۔۔۔۔

اس نے پھر کہا اور اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

تم پاگل ہو گئے ہو یہ کیا بدتمیزی ہے اس نے زور سے اس کے ہاتھ کو جھٹکا۔۔۔۔۔

اب مجھ سے بات نہیں کرنا۔۔۔۔۔

کبھی نہیں ۔۔۔۔۔

کئی دنوں بعد وہ اج پہلے دن کی طرح سہمی تھی۔ہاتھ کانپنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔اخل کے لیے سنبھالنا مشکل تھا۔۔۔۔۔

ریلیکس میں مذاق کر رہا ہوں۔۔۔

وہ جو اس کے نشے میں تھا آک دم باہر آیا ۔۔۔۔۔

وہ ایک بکھلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ سچ میں مذاق تھا ۔۔۔

وہ غصے سے اپنے کمرے میں گئی اور زور سے دروازہ بند کیا۔ ۔

ہو تو تم ایک لڑکے ہی۔۔۔۔۔۔۔

تم کیسے ڈیمانڈ کر سکتے ہو۔۔۔

وہ بھی اتنی گھٹیا۔۔۔

ائرہ کو سب بکھرتا ہوا نظر ا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے ایک نظر دروازے کو دیکھا اور پھر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔

__

یہ کیا کیا تم نے اخل۔ ۔۔۔۔

سیدھا کسں مانگ لی۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ کو اوپر کی طرف لہرایا۔۔۔

اس سے اچھا تھا یار۔۔ ۔۔۔

یا اللہ اس نے گردن کو اوپر کیا۔۔۔۔

اور ائرہ کے کمرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔

لیکن وہ جانتا تھا وہ ڈر گئی ہے وہ اسے اور تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

میری معصوم سی گڑیا۔۔۔۔۔۔

لیکن تمہیں سنبھالنا نہیں ایا ابھی تک اسے اس نے پاؤں سے زور سے ہٹ کیا۔۔۔۔

تم اس کے قابل ہی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنٹرول نہیں کر سکتے تھے۔۔۔

____

تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے۔۔

بی بی ائی مس یو۔۔۔

دیکھو تم نے مجھے خود گھر سے باہر نکالا تھا لیکن پھر بھی میں تمہیں میسج کر رہی ہوں۔

ملیحہ جو پچھلے ادھے گھنٹے سے کالے ملا رہی تھی اب تنگ ا کر اس نے میسج کیا تھا۔۔۔۔۔۔

مجھے بھائی کی بات مان لینی چاہیے۔۔۔۔

ائرہ کو بھائی کے حوالے کر دینا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔

___

اخل ساری رات نہیں سویا تھا۔بے چینی میں وہ ٹہلتا رہا

اسے لگا ان دونوں کی دوستی ختم ہو گئی۔۔۔۔۔

اس کے ذہن میں کئی سوال تھے۔۔۔

کہ اب ائرہ پہلے کی طرح اس کے ساتھ شاید نہ رہ سکے۔

وہ پھر سے پہلے جیسی نہ ڈر جائے۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔

اور دوسری طرف ائرہ بھی اسی کشمکش میں رہی۔۔۔

اس کی قربت کا خوف اسے ڈرانے لگا تھا۔۔

اس کی محبتوں سے ناواقف تھی۔

تم نے کس کیوں مانگی۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ ٹھرکی ہے

اسے لڑکیوں سے کس لینے کی عادت ہو گئی ہے۔۔۔۔

بہت مشکل سے خود کو سنبھالتے وہ سوئی تھی۔۔۔۔۔۔

_______

اج اٹھنا نہیں ہے کیا۔۔۔۔۔

اخل نے پہلے لوک کیا لیکن جواب نہ ملنے پہ وہ اندر ایا۔۔

ائرہ نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اس کے پاس بیڈ پہ تھوڑی جگہ بنائی اور بیٹھ گیا۔۔

سوری نہ میں مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔

دیکھو اخل نےاس کا ہاتھ پکڑا ہی تھا لیکن وہ تپ رہا تھا۔۔

ائرہ۔۔۔۔

اس نے پریشانی کے عالم میں اسے پکارا اور ہاتھ اس کے ماتھے پہ رکھا۔۔۔۔

اس نے نیوی بلو شرٹ پہنی تھی اوپر سے بٹن کھلے تھے۔

بالوں کو پچھلی سائیڈ پہ موڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔

تمہیں تو بحا ر ہو رہا ہے تم تو تپ رہی ہو۔۔۔۔۔

وہ اندر ہی اندر خود کو کوس رہا تھا وہ جانتا تھا یہ سب اس کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔

ائرہ ۔۔۔۔۔۔

اس نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔

پھر اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کرنے کے لیے پانی اور پٹیاں لے کر ایا۔۔۔

یہ سب میری وجہ سے ہے نا اس نے کپڑے کو پانی میں ڈپ کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

کتنا برا ہونا میں ائرہ۔۔۔۔

میں نے کہا نہ جاؤ مجھے بات نہیں کرنی تم سے ۔۔۔

وہ سخت خفا تھی۔۔۔۔۔

ائرہ وہ ایک مذاق تھا میں تنگ کر رہا تھا۔۔

بولا میں تم سے کیوں اس مانگوں گا۔میرے پاس ال ریڈی گرل فرینڈ ہے۔۔۔۔۔

کس لفظ پہ تھوڑا الجھتے ہوئے اس نے ایکسپلین کیا تھا۔۔۔

جیسے دوسری لڑکیوں سے مانگتے ہو ایسے ہی۔۔۔

تمہیں بس یہی سب نظر اتا ہے۔۔۔۔۔

پلیز سٹاپ۔

وہ اس کی بات پہ اچھا خاصا حفا ہوا تھا کہ وہ خود کو ان لڑکیوں سے کمپیئر کر رہی ہے۔۔۔۔۔

میں بہت ڈر گئی ہو اخل۔۔

پلیز میرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کرنا۔

اخل کو اپنے اپ پہ بہت غصہ ا رہا تھا۔۔۔

آئرہ۔سوری میں کچھ کرنےکا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔

اس نے ائرہ کے لیے بہت کچھ کیا تھا۔صرف اتنی سی غلطی پر بہت سے تعلق تو نہ ہی تھوڑا سکتی تھی۔

یا پھر اس کے سوا کوئی نہیں تھا جس پہ وہ اعتبار کر سکے۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور گلا شکوہ کرتی اس کا موبائل بچنے لگا تھا۔۔۔

اخل نے بھی اس کے موبائل کی طرف دیکھا کیونکہ اس کے موبائل میں صرف اس کا نمبر تھا ۔۔۔

اور پھر سوالیہ نظروں سے ائرہ کو دیکھا۔۔۔۔

ائرہ نے اسے اگنور کرتے ہوئے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔

جی ائرہ بیکس۔۔۔۔۔

اس نے ایکسائٹڈ ہو کر کہا تھا۔۔۔

تھوڑی دیر میں اس نے فون بند کیا۔۔۔

کون تھا اخل نے سوال کیا۔۔۔

اخل مجھے پہلا ارڈر ملا ہے۔۔۔

اخل نے کمرہ ڈیکوریٹ کرتے ساتھ ہی اس کا پیج بھی بنا دیا تھا۔اور پھر اس کے موبائل میں بھی لاگ ان کر دیا تھا۔۔۔

اس نے ایڈ رن کروایا تھا۔۔۔۔۔

تاکہ اسے ارڈرز ملے اور وہ گھر میں ہی بزی ہو جائے۔۔

اور جاب کا کیرا اس کے سر سے نکل جائے۔۔۔

اس نے بلینکٹ کو پیچھے گرایا۔۔

ایرہ پہلے ٹھیک ہو لو ۔۔

پھر۔۔۔۔۔ن

نہیں۔۔

میں ٹھیک ہوں۔

اس کی ایک بھی نہ سنتے ہوئے وہ فریش ہونے چلی گئی۔۔۔

___

تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے۔

ملیحہ نے موبائل کو زور سے صوفے پہ پھینکا تھا دونوں ہاتھ کمر پہ ٹھکائےکھڑکی کی طرف دیکھنےلگی۔

جس عزت افزائی سے اخل نے اسے گھر سے باہر نکالا تھا وہ دوبارہ جانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن اب یہی ایک راستہ تھا کیونکہ وہ کب سے اسے فون کر رہی تھی کل رات سے فون کر رہی تھی لیکن وہ پک نہیں کر رہا تھا اور ابھی تو شاید اس نے اسے بلاک کر دیا تھا۔۔۔۔۔

اس نے قبد سے کپڑے نکالے۔۔

میں اتنی اسانی سے نہیں جیتنے دوں گی تمہیں مس ائرہ اس نے زور سے پاؤں زمین پر مارا اور چینجنگ روم میں چلی گئی۔۔

_____

ائرہ۔۔

وہ بے دہانی میں کمرے میں داخل ہوا۔۔

ائرہ نے سرخ کلر کی شارٹ فراک پہنی تھی۔بالوں کو اوپر کی طرف فولڈ کیا ہوا تھا۔

سفید رنگت پہ سرخ رنگ بہت جچ رہا تھا۔۔

وہ اج کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔

اخل کی نظریں تو جیسے ٹھہر گئی تھی اس پر۔۔

وہ بے قابو ہو رہا تھا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھتے ہوئے ہی اگے بڑھا۔۔۔

اس کے قدموں کے اٹھ محسوس کرتے ائرہ نے اپنا دھیان اس کی طرف کیا۔۔

ہاں۔۔۔ اس کی نظریں ابھی تک اسی پہ جمی تھی۔

اخل۔۔۔۔۔ائرہ نے جواب نہ ملنے کی صورت میں اس نے پھر سے پکارا۔۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔۔

وہ اب اس کی پشت پہ کھڑا تھا۔۔

ایرہ مٹیریل مکس کر رہی تھی ۔

مجھے ریسٹورنٹ کے لیے لوکیشن دیکھنے جانا ہے۔

اسے مصروف دے دیکھ کر اس نے قریب سے اسے سمل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔۔

کے ایرہ نے فورا سے اپنا رخ بدلا۔

تو اس نے بھی خود کو سنبھالا۔۔۔۔۔

اس کا ایک ہاتھ ماتھے پہ جب کہ نظر اس پر پڑ تھی ۔۔

ائرہ نے شیڈ سے انڈے اٹھایے ۔۔

اسے کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔۔۔

کہاں جانا ہےاس نے سوال کیا کیا اور دوبارہ اپنی جگہ پر ائی۔۔

دبئی پارٹ۔۔۔۔اخل پھر قریب آیا ۔۔۔

وہ تھوڑا اور قریب ہوا۔۔

ائرہ کے بال سلکی سموتھ تھے مشکل سے قابو اتے تھے۔۔

وہ نیچے جھکی ہی تھی کہ سارے بال کھل کر اگے اگئے۔۔

او۔۔۔۔

ائرہ نے ہاتھ اگے بڑھایا ہی تھا کہ اخل نے دونوں ہاتھوں سے اس کے بالوں کو پکڑ۔۔

میں کرتا ہوں تمہارے ہاتھ مصروف ہیں ۔۔۔

تھینک یو۔۔۔

وہ اس کے بال کم سے سمیٹ رہا تھا اور اسے قریب سے فیل زیادہ کر رہا تھا ۔۔۔

ہوا نہیں۔۔۔۔۔

وہ جواس کی گردن پہ جھکنے ہی والا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا اس کی اواز سے۔۔

نہ۔۔۔نہیں تم خود کر لو۔۔۔۔

اس نے گہرا سانس لیا اور باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔

ایرہ تھوڑا حیران ہوئی لیکن پھر سے کام میں مصروف ہو گئی بال باندھ کر۔۔۔۔۔۔

_____

اخل۔۔۔۔۔

اس کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد ملیحہ ائی ۔۔

اخل تو کہیں باہر گیا ہے۔۔۔

اس نے افق نگاہ ائرہ پر ڈالی۔۔۔

اور ہیلز کی ٹک ٹک کرتی اس کے پاس ائی۔۔

کہاں گیا ہے۔اس نے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھے۔۔۔۔۔۔

لوکیشن دیکھنے گیا ہے۔ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے کام کرنے لگی۔۔۔

ملیحہ نے ایک نظر ائرا کے بیکنگ کمرے کو دیکھا۔۔ ۔

تھوڑی دیر میں ائرہ نے اسے سب بتایا تھا کہ یہ اخل نے بنایا ہے۔۔

وہ اچھی خاصی جلس ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

دیکھیں اپ کو خود پک کرنا پڑے گا میں کیسے ڈیلیور کر سکتی ہوں۔۔

ائرہ فون کان کے ساتھ لگائے کب سے اسی بات پہ بحث کر رہی تھی۔۔

کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے وہ ہاتھ میں کافی کا کپ لیے ائی اور اس سے پوچھا وہ ساری بات سن چکی تھی اس کے فون رکھتے ہی اس نے سوال کیا۔۔۔

وہ گئی نہیں تھی ۔ایک تو وہ اپنے بھائی کے کہنے پہ ائرہ پہ نظر رکھ رہی تھی۔

دوسرا اسے اخل کا انتظار تھا۔۔۔۔۔

وہ کیک کا ارڈر تھا وہ پک کرنے نہیں ا رہے۔۔

سائرہ کے پاس اب وہ ہی تھی ۔۔

کیا تم دے اؤ گی ائرہ نے اسے کہا۔۔۔۔۔

تو تم کیوں نہیں جا رہی ائرہ ۔۔

ملیحہ کا شیطانی دماغ کا ایک دم سے جاگا تھا۔۔

اخل نے منع کیا ہے اس کی اجازت کے بغیر کہیں۔

دیکھو یہ تمہارا پہلا ارڈر ہے اور اور یہ بہت بڑی پارٹی ہے جس کے لیے تم نے کیک بنایا ہے میری مانو تو خود جاؤ تمہیں اور کسٹمر مل جائیں گے

میں کیسے جاؤں اس نے حیرانگی سے کہا ۔

اور اخل بالکل بھی پرمیشن نہیں دے گا۔

ارے وہ دے دے گا۔

میں اسے کال کر کے پوچھتی ہوں ائرہ نے موبائل نکالا ہی تھا کہ ملیحہ نے اس کے موبائل کو لیا۔

دیکھو تمہارا پہلا ارڈر ہے تم اگے ہی لیٹ ہو رہی ہو میں اسے کال کر کے بتا دوں گی اور میری بات وہ ٹالے گا بھی نہیں۔۔

کیا سچ میں تم بتا دو گی۔ائرہ بھی اپنا پہلا ارڈر کسی وجہ سے لیٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔

ہاں ہاں میں ابھی اسے کال کرتی ہوں اس نے جان بوجھ کے اپنا موبائل ہاتھ میں اٹھایا جو ٹیبل پہ پڑا تھا۔

______

کہا گم ہو یار ۔۔

اخل ساخل کے پاس کھڑا تھا۔۔ ۔۔۔

اخل نے اسے دو تین دفعہ کال کی تھی ۔۔۔

اس کی دپی کو زم کرتے ہوئے وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

کب آؤ گی قابو میں تم۔۔۔۔۔

کیا کر دیا ہے تم نے ائرہ ۔۔۔۔

ائی مس یو۔۔۔۔۔۔۔

خیر تو ہے نا۔۔۔سمی جو کچھ فاصلے پہ کھڑا تھا۔

اسے یو مسکراتے دیکھ کر اس نے اس کی کمر کو تھپتھپاتے ہوئے پوچھا۔۔

کچھ نہیں اس نے موبائل پاکٹ میں ڈالا۔۔۔

_______

________

یہ کیک اس نے ایک بزنس مین کے بیٹے کی سالگرہ کے لیے بنایا تھا۔۔۔

پارٹی میں زیادہ لوگ نہیں تھے کچھ ہی لوگ تھے لیکن سبھی سوٹ پہنے تھے اور پرسنلٹی سے اچھے حاسے رچ لگ لگ رہے تھے۔۔

فیملی فنکشن تھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ پارٹی سے تھوڑی سائیڈ پر ائی اس نے اپنے بیگ سے موبائل نکالنا چاہا کہ وہ اخل سے بات کرنے اسے ڈر بھی تھا کہ وہ غصہ نہ کرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پر اس کے بیگ میں موبائل نہیں تھا وہ تو کب سے ملیحہ نے نکال دیا تھا۔۔۔

یا اللہ موبائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مس ائرہ۔۔۔۔۔

اسد المس۔۔

سوٹ پینٹ پہنے ایک لڑکے نے ہاتھ اس کی طرف بڑھایا لمبا چوڑا اور دلکش چہرے کا مالک وہ کب سے اسے پارٹی میں نوٹ کر رہا تھا اور اب انفارمیشن لے کر اس کے پاس ایا تھا۔۔

ایئرہ اس سادگی میں بھی حسن کی ملکہ لگ رہی تھی۔۔

ائرہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

یہ کیک اپ نے بنایا ماشاءاللہ یہ ڈیزائن بہت یونیک ہے۔

ڈائمنڈ سٹائل۔۔۔

ایکچولی ہمارا کیک وث کا بزنس ہے۔

کیک وث ائرہ نے حیرانگی سے کہا۔

جی بالکل کیک وث۔ اونر اپ کے سامنے کھڑا ہے۔یہ ایک بہت بڑا برانڈ تھا۔۔

کیا اپ ہمارے ساتھ کام کرنا چاہیں گی۔

اسد سے افر کی۔۔۔۔۔۔

اور اس کے ارادے اور ہی تھے۔

وہ پہلی نظر میں ہی مر مٹا تھا شاید۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن میں تو گھر میں ہی کیک بناتی ہوں۔ ۔

جی جی کوئی مسئلہ نہیں اپ کو بس کیک بنانے ہیں لے جانے کا سب کام ہمارا ہوگا۔

ائرہ نے ان کی افر خوشی خوشی ایکسیپٹ کر لی تھی۔۔۔

___&&&&&&&

ائرہ ۔۔۔۔

تقریبا چار پانچ گھنٹے بعد وہ واپس ایا تھا شام ہونے والی تھی ۔۔۔۔

لیکن اگے ملیحہ تھی۔

وہ اسے اگنور کرتے ہوئے اس کے کمرے کی طرف بڑا ہی تھا کہ اس نے پیچھے سے پکارا۔

وہ گئی ہوئی ہے۔

اس نے ایک دم رخ پیچھے کیا اور غصے سے اس کی طرف ایا کہاں گئی ہے۔ ۔۔۔۔

اپنا کیک ڈلیور کرنے

کیا مطلب۔اس نے موبائل پاکٹ سے نکالا اور اسے فون ملایا لیکن اس کا موبائل تو گھر ہی تھا۔وہ ٹیبل پر پڑا تھا بجنے لگا تو اس نے غصے سے کال بھی کاٹی۔

کہاں گئی ہے وہ اس نے پھر سے غصے سے۔۔

اخل مجھے نہیں پتہ وہ کہاں گئی ہے وہ اپنا کیک ڈلیور کرنے گئی ہے اور میں نے تو اسے کہا تھا کہ تمہارا انتظار کر لے اکیلی باہر جائے گی اسے کچھ پتہ بھی نہیں ہے لیکن اس نے کہا تھا اسے جانا ہے تو وہ چلی گئی۔۔۔

میں نے بہت کہا کہ پہلے بھی تم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔۔

لیکن اسے شاید پرواہ نہیں ہے۔۔

_____

ائرو کو اپنے پہلے ارڈر کی پیمنٹ ملی تھی۔۔

وہ ایک شاپ پہ ائی اسے اخل کے لیے گفٹ لینا تھا۔

اس نے بہت سی چیزیں دیکھی واچ بریسٹر جیسے وہ پہنتا تھا۔۔

لیکن اسے ایک چھوٹا سا ڈبہ پسند ایا۔

جس پہ بیسٹ فرینڈ لکھا تھا

اندر چھوٹے چھوٹے پیرٹس تھے شیشے کا بنا ہوا وہ ایک چھوٹا سا باکس تھا۔

اس نے وہ خریدا اور پھر ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔

اخل نے اس کے لیے اتنا کچھ کیا تھا تو اسے بھی گفٹ دینا چاہتی تھی۔۔۔

__

تم نے مجھ سے سوری بھی نہیں کہا اور تم نے مجھے بلاک بھی کر دیا۔۔

کیوں بدل گئے ہو تم اتنا ملیحہ اس کے پاس ائی۔۔۔۔۔

دیکھو اس ٹائم مجھے کچھ بھی نہیں سننا اچھا ہوگا کہ یہاں سے چلی جاؤ۔

میں نہیں جاؤں گی اپنے سوالوں کے جواب لیے بغیر نہیں جاؤں گی۔

ائی لو یو سو مچ

ائی ہیٹ یو اس نے اس کے منہ پہ جواب دیا۔

اب جاؤ یہاں سے۔۔

اگر ہیٹ کرتی ہو تو وہ سب کیا تھا۔

اتنے قریب کیوں ائے تم ۔۔

اخل کو پہلے ہی ائرہ پہ غصہ تھا وہ غصے سے کمرے کی طرف گیا اور دروازے کو زور سے بند کر دیا۔۔۔

ملیحہ بھی منہ سجائے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔

لیکن اسے یقین تھا۔کہ ائرہ کی شامت ہے۔۔۔۔۔

وہ اندر سے خوش بھی تھی۔۔۔

___

تھوڑی دیر بعد اخل باہر نکلا ائرہ کے لیے کہ وہ کہاں گئی ہے۔

اسے فکر تھی کیونکہ اس کے دشمن بھی تو کم نہیں تھے۔۔۔۔

وہ گاڑی نکالنے ہی لگا تھا کہ ائرہ اگئی

اخل۔۔۔۔

اس نے خوشی سے پکارا۔۔۔

اخل نے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور اس کی طرف ایا۔

میں تمہارے لیے گفٹ لے کر ائی ہوں اس کے دونوں ہاتھ پیچھے تھے۔۔۔۔

لیکن اخل اس وقت شدید غصے میں تھا اس نے اسے بازو سے پکڑا۔۔

اور اندر کی طرف لے کر ایا۔۔۔

اخل ۔۔کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔ا

کس کی اجازت سے گئی تھی ۔۔۔

پوچھا تھا تم سے ۔۔۔

کب پوچھا تھا۔اس کے بات کمپلیٹ ہونے سے پہلے ہی وہ دڑا تھا۔

اس کے غصے سے وہ سہم گئی تھی۔۔

میں نے پوچھا تھا۔

ائرہ ۔۔۔۔۔

کیوں جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔

ملیحہ نے کہا تھا وہ تمہیں بتا دے گی۔

ملیحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے اپنا رخ دوسری طرف کیا۔۔۔

ائرہ بس کر دو بس ۔۔۔

تم جانتی ہو۔وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا۔۔

میں چھوٹی بچی نہیں ہوں۔ائرہ بھی اس کی باتوں سے سخت خفا ہوئی تھی۔۔۔۔۔

اور نہ ہی تم خدا ہو مجھ پر۔۔۔

اس نے جو رخ موڑا تھا ایک دم سے غصے سے اپنا رخ پھر اس کی طرف کیا۔۔۔۔

اواز نیچی۔۔۔۔۔۔

نہیں کرتی کیا کر لو گے اس نے اواز کو اور اونچا کیا۔۔۔

میں اخری دفعہ کہہ رہا ہوں اواز نیچی۔۔۔۔

وہ ایک ہاتھ کمر پہ ٹکائے ہاتھ کے اشارے سے وان کرتا اس کے پاس ایا۔۔۔

اب ایک لفظ نہ نکلے ائرہ۔۔۔

نکلے گا وہ ابھی بولی ہی تھی کہ اخل نے اسے زور سے پیچھے کرنا چاہا۔۔۔

اس کا ارادہ اسےپیچھے کر کر اپنے کمرے میں جانے کا تھا لیکن ائرہ زور سے زمین پر گری تھی۔۔۔

جو گفٹ اس کے لیے لے کر ائی تھی وہ بھی زور سے کر زمین پر گرا تھا اور شیشے ٹوٹ گئے تھے۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

وہ ایک دم سے پلٹا۔۔۔

ایک جھٹکے میں نے اسے اٹھایا۔۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔۔۔

اس کے بال پیچھے کیے۔۔

نہیں ہوں میں ٹھیک چھوڑ دو اس نے روتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ پیچھے کیا۔۔۔۔۔

میں اتنے پیار سے لے کر ائی تھی۔

لیکن تم اس قابل ہی نہیں تمہیں گفٹ دیا جائے۔

اسے سچ میں دکھ تھا گفٹ ٹوٹنے کا وہ اس کی پہلی کمائی میں سے تھا اور تقریبا وہ سارے پیسوں کا گفٹ لے کر ائی تھی۔۔

اخل نے دونوں بازوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا تھا۔

اس کا دل بھی کرچی کر چی ہو گیا تھا وہ اتنے مان سے لے کر ائی تھی اور اس کے غصے کی وجہ سے سب بیڑا غرق ہو گیا۔

سوری۔۔۔

وہ بولنے ہی لگا تھا کہ ائرہ نے اس کے ہاتھوں کو پیچھے کیا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔ ۔۔

اس کا سارا غصہ غائب ہو گیا تھا اس نے ٹوٹے ہوئے اس کانچ کے ٹکڑوں کو دیکھا۔اسے بہت برا لگ رہا تھا۔۔۔

یہ کیا کیا تم نے اخل۔

وہ انہی قدموں پے اس کے پچھے گیا ۔۔۔۔۔

مجھے بات نہیں کرنی اخل پلیز ۔۔۔

کیا ہے۔۔۔

سوری بول رہا ہو

غصے سے واقف ہو تم اچھی طرح۔۔۔۔

وہ جو منہ نیچے لٹکائے کھڑی تھی۔۔۔

اخل نے ہاتھ سے پکڑ کر اوپر کیا ۔۔۔۔۔

لگی تو نہیں۔۔۔۔۔۔