Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 8
Ayra by Aneeta
بارا کیوں بجے ہیں جناب کے منہ پر۔اخل نے ائرہ کو دیکھتے ہوئے نوٹس کیا تھا۔اج وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھی۔۔۔۔۔
وہ ابھی اپنے کمرے سے نکلا تھا ائرہ بھی اپنے کمرے سے نکل رہی تھی۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے اتنا سا کہا کےروخ بدلنا چاہا پر اخل نے اسے بازوں سے پکڑ کے اپنی طرف کھینچ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائرہ نے شرٹ ٹائپ شارٹ قمیض کے نیچے پلازو پہنا تھا۔یہ کچھ کپڑے اسے الفت نے دیے تھے۔۔۔۔۔
بال کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔
کچھ پوچھو ہے میں نے۔۔۔
میں نے بھی جواب دے دیا ہے اخل۔اس کی قربت سے وہ بری طرح سہمی۔تو اخل نے بھی اسے بازو سے چھوڑ دیا۔۔۔
(ائرہ الفت کی باتوں سے سخت پریشان ہوئی تھی. وہ اس کی اخری امید تھی. اب سب کچھ بکھرتا ہوا نظر ارہا تھا اسے)
کل ہم نے دوستی کی تھی۔اور ایک دوست کو دوسرے دوست کی ہر پریشانی کا پتہ ہونا چاہیے۔چلو اؤ بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔بریک فاسٹ بھی ریڈی ہے۔۔
تھوڑی دیر میں وہ دونوں ناشتے کی ٹیبل پر تھے ائرہ خاموشی سے کھانے میں مصروف تھی۔وہ نظریں جھکا کر بس ناشتہ کر رہی تھی۔اور اخل کو شدت سے یہ بات لگ رہی تھی۔۔۔
تم خاموش کیوں ہو۔۔۔۔۔
تمہاری دوست چلی گئی۔ائرہ نے پوچھا۔(اس کے حیال میں وہ رات بھر یہیں رکی ہوگی۔اخل کے ساتھ ہی)
ہاں وہ رات کو ہی چلی گئی تھی۔اخل نے جلدی سے جواب دیا تھا شاید وہ اس سے کوئی سوال کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
تم ایک ساتھ اتنی زیادہ لڑکیوں کے ساتھ کیسے۔وہ بولتے بولتے چپ ہو گئی تھی۔اس کے پاس کوئی نام بھی تو نہیں تھا۔ان رشتوں کو دینے کے لیے۔تو اس نے سوال کو یوں ہی ادھورا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔
کیسے کیا۔وہ سمجھ گیا تھا لیکن پھر بھی اسے شاید تنگ کرنا چاہتا تھا۔اپنی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔۔
مطلب قرت پھر وہ لڑکی۔تم کیا دونوں سے شادی کرو گے۔۔
ائرہ کے لیے یہ سب نیا تھا۔وہ گھر کی چار دیواری سے نکل کر اس دنیا میں ا گئی تھی۔یہ دنیا بہت ہی نئی اور عجیب تھی۔۔۔۔۔
تمہیں کس نے کہا میں ان دونوں سے شادی کرنے والا ہوں۔اخل نے ہنستے ہوئے لاپرواہی میں جواب دیا۔۔۔۔
ٹائم پاس کر رہے ہو۔ائرہ نے جوس کا گلاس منہ کے ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
ہاں تم سے اب کیا چھپانا دوست ہو میری اب۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں شرم بھی نہیں اتی۔ائرہ کو اس کی بات پہ غصہ ایا تھا۔کہ کیسے وہ بے شرمی سے یہ سب کچھ بتا رہا ہے۔۔۔
تمہیں کیا ٹینشن ہو رہی ہے تم سے تھوڑی فلرٹ کیا ہے میں نے۔۔۔۔
مجھ سے تم کر بھی نہیں سکتے۔مجھے باقیوں جیسا مت سمجھنا تم۔ائرہ کے لہجے میں سختی ائی تو اخل نے بھی کھانا چھوڑا۔۔۔۔۔
تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا۔سلطان کے حوالے کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔اسے ون کرتے ہوئے اس نے کہا تھا جب کہ اس کی بات سنتے ہی ائرہ نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔(کل سے اس نے سلطان کے نام سے اسے نہیں ڈرایا تھا۔ائرہ بھی اس معاملے میں پرسکون ہو گئی تھی۔لیکن اج پھر سے اسے سلطان کی دھمکی دی تھی اس نے)
اس کا ایک ہاتھ جو ٹیبل پر تھا اس نے دھیرے سے نیچے کیا اور اپنی گود میں رکھ لیے دونوں ہاتھ اس نے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔یہ اس کی بے بسی تھی۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر ا خل کو اپنے کہے گے الفاظ پے غصہ ا رہا تھا۔۔۔۔
________
اخل نے ابھی تک مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
قرت بہت ہی بے چین ہو رہی تھی۔
مجھے خود ہی جانا پڑے گا۔وہ ایک امیر
باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی تھی۔اس کا کرش بھی اتا جاتا تھا کبھی کسی پہ تو کبھی کسی پہ۔پر اس بار اسے ٹکر کا بندہ ملا تھا۔۔۔
اخل کے پیچھے وہ دیوانی تھی۔جبکہ اخل کی نظر میں اب اس کا ٹائم پورا ہو چکا تھا۔۔
اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتی تھی کہ اخل نہیں آئے گا
اس سے ہی منانے جانا پڑے گا۔۔۔۔۔
انہی سوچوں کو دماغ میں رکھتے ہوئے وہ اپنی گاڑی کی طرف گئی۔اس نے کالے کلر کی ہاف شرٹ پہنی تھی نیچے کالی ہی جینز تھی۔اور یہ کپڑے اس نے اخل کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے پہنے تھے۔۔۔۔۔
_____________
بس کچھ دنوں میں واپس ا جاؤں گا۔۔۔۔
اب یہاں کچھ کام ہے۔اخل ٹالنے والے انداز میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جانتی ہوں تمہارے کاموں کو اور تمہیں بھی۔۔۔
جلدی سے واپس ا جاؤ ورنہ میں وہاں ا جاؤں گی۔بشرا بیگم بھی اس کی حرکتوں سے اچھی طرح واقف تھی۔
موم سچ میں کام ہے۔۔
اپنے شریف سے بیٹے پر الزام لگا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔
یہ کہتے ہی اخل نے جب رخ بدلہ تو ائرہ دروازے کے پاس پہنچ چکی تھی۔
اےےےےےےےے۔۔۔۔
کدھر۔(اس نے موبائل کو فورا بند کیا۔اور ائرہ کی طرف ایا۔)
مجھے دوست سے ملنے جانا ہے۔ائرہ نے اسے پاس اتے دیکھ کر دو قدم پیچھے ہوئی۔۔۔۔
مجھ سے اجازت لی۔۔۔
کیوں غلام ہو تمہاری۔۔۔
اس کے لفظوں نے اخل کو اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
وہ اب اس کے بالکل قریب ا چکا تھا۔ائرہ در کے مارے دیوار کے ساتھ جا لگی تھی۔اخل نے بھی ایک ہاتھ دیوار پر رکھ کر اس کے گرد گرفت مضبوط کی۔۔۔۔
ائرہ نے ایک نظر اس کے دیوار پہ رکھے ہاتھ کو اور پھر اس کو دیکھا وہ بری طرح سے سہم گئی تھی۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو۔وہ مشکل سے لفظوں کو جوڑ پائی تھی۔۔
اخل کی نظریں اسے خوف میں مبتلا کر رہی تھی۔۔۔
مسلسل اس کے قریب سے قریب تر اتا جا رہا تھا۔۔۔
اخل پلیز۔۔۔۔۔اس کی انکھوں سے انسو بہنا شروع ہو گئے تھے۔
اخل نے پہلی بار اسے اتنے قریب سے دیکھا تھا۔یہ چمکتی انکھیں کھل کھلاتا ہوا چہرہ۔گلابی ہونٹ۔۔۔۔۔۔
انکھوں میں حیا۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے ائرہ کی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ بے خودی میں بہکنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔
اخل نے دیوار سے اپنا ہاتھ اٹھا کر اس کے چہرے پہ رکھنا چاہا۔
ائرہ نے اس کے ہاتھ کو پیچھے کیا۔۔
پلیز ۔۔۔
ن۔۔۔۔نہیں
وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کے اخل نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھی۔۔
شششش۔۔۔
خاموش۔۔۔۔۔
اب کچھ بھی بولی نا۔تو جو سوچ رہی ہو وہ سچ میں کر کے دکھاؤں گا۔وہ اس کے کان کے قریب ہو کر بولا تھا۔۔۔۔
ویسے بھی زیادہ مہنگی نہیں ہو تم۔۔۔
20 لاکھ وہ ہلکا سا مسکرایا تھا وہ اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ائرہ کی انکھیں مسلسل انسوؤں سے تر تھی۔۔۔۔
تمہیں ہر روز خرید سکتا ہوں۔۔۔۔۔
میں اتنے پیسوں میں۔۔۔۔۔۔
(اخل نے اسے کچھ بھی نہیں بتایا تھا ابھی تک کہ وہ سلطان سے ملا تھا یا اس نے پیسے دیے تھے)
اخل کو خود ہوش نہیں تھی کہ وہ کر کیا رہا ہے۔۔۔۔
اگر یہاں کوئی اور لڑکی ہوتی۔تو وہ ایک منٹ بھی نہیں رکتا۔ایسا کنٹرول اس میں پہلی بار ایا تھا۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
اس اواز سے وہ ایک دم چونکا۔ایک نظر ائرہ کو دیکھنے کے بعد اس نے اس نے رخ بدلا۔۔۔
ائرہ نے بھی اپنے انسو صاف کیے اور پیچھے ہٹی۔ابھی جا کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔یہ قرت کی اواز تھی۔۔
جو شاید اخل کو ڈھونڈتے ہوئے دے رہی تھی۔۔۔
وہ بے خودی سے نکلا تو اس نے ایک نظر ائرہ پر ڈالی۔اس کی بکھرتی سانسوں کو محسوس کر سکتا تھاوہ ۔۔۔۔
تم کتنے بے وفا ہو اب وہ اندر داخل ہو چکی تھی۔اس نے اتے ہی بازو اخل کے گلے میں ڈالے۔پر میں تمہارے بغیر ایک منٹ نہیں رہ سکتی۔ائی لو یو سو مچ اس نے اس کے گالوں پہ کس کرتے ہوئے کہا۔۔۔
پھر اچانک اس کی نظر ائرہ پر گئی جو وہیں ڈری سہمی کھڑی تھی۔۔۔
اس نے نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔۔
شرم کے مارے۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ائرہ کے سامنے قرت کی اس حرکت پر۔اخل کو نہ جانے کیوں اچھا نہیں لگا تھا۔وہ پہلی بار عجیب سا محسوس کر رہا تھا۔اس کے جذبات اس کی خود کی سمجھ میں نہیں ا رہے تھے۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔
قرت کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا شاپنگ بیگ۔۔
وہ اسے پکارتے ہوئے اس کے پاس ائی۔۔۔
یہ میرے کچھ پرانے کپڑے ہیں میں اب نہیں پہنتی۔
میں نے ایک دو دفعہ ہی پہنے ہیں۔تم یہ پہن لینا۔۔۔
وہ شاید آئرہ کو نیچا دکھانا چاہتی تھی۔وہ جو ڈری سہمی ایک کونے میں کھڑی تھی۔نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے وہ بیگ لیا۔(اس کے لیے یہ چیز نئی نہیں تھی. وہ ہمیشہ سے اترن ہی تو پہنتی ائی ہے. ایک باپ تھا جو ہر وقت نشے میں رہتا تھا. گھر کا خرچہ وہی چلاتی تھی. تو اگے پیچھے سے جو بھی ملتا وہ پہن لیتی تھی.)
اس سے پہلے کہ وہ بیگ اپنی طرف لیتی۔اخل نے ایک جھٹکے میں بیگ کو کھینچا۔اور دور پھینکا۔۔۔۔
وہ تمہاری اترن کیوں پہنے گی۔لہجے میں غصہ تھا اور شدید غصہ۔۔۔۔۔۔
بہت ہو گیا نکلو۔۔
اس نے دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے اور ایک ہاتھ سے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا۔انکھوں میں غصہ رونما تھا۔۔
قرت تو ایک دم سے ڈنگ رہ گئی۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
میں نے کہا نکلو۔۔۔۔
قرت جو ائرہ کو نیچا دکھانا چاہتی تھی اس کے سامنے اپنی بےعزتی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔اس نے افق نگاہ ائرہ پر ڈالی۔پاؤں زمین پر مارتے ہوئے وہ باہر کی طرف گئی۔۔۔۔۔
ائرہ کو تو کچھ ہوش نہیں تھا ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔
وہ تو پہلے والے حادثے سے ہی نہیں نکلی تھی۔۔
اس کی نظریں زمین پر بکھرے کپڑوں پر تھی۔۔۔
قرت کے جاتے ہی۔خطرے کی گھنٹی پھر سے اس کے سر پر بجنے لگی تھی۔۔
