Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 3

Ayra by Aneeta

ائرہ کو اپنے چاروں طرف سے سانپ ڈستے ہوئے نظر ارہے تھے۔۔۔

اخل کو ایک بار بھی مر کر اس نے نہیں دیکھا تھا۔

کیونکہ وہ دوبارہ کسی مصیبت میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی۔اسے اپنی عزت سب سے زیادہ عزیز تھی۔

________________

یہ میلان کامران کا بیٹا ہے۔میلان کامران دبئی کے بڑے فائو سٹار ریسٹورنٹ کا مالک ہے۔پاکستان میں ان کا بہت بڑا کاروبار ہے۔ان کا گھر پاکستان کراچی میں ہے۔

اخل میلان پچھلے تین مہینے سے دبئی میں ہے اور پرسوں کی فلائٹ سے پاکستان واپس جا رہا ہے۔۔۔

اس لڑکے نے ساری ڈیٹیل لا کر سلطان کو دی تھی۔۔۔

سلطان اپنی نظریں سمندر پہ ٹکائے اس کی بات سن رہا تھا اب تقریبا رات ہو گئی تھے۔وہ ایک عرصے سے اس کام میں تھا۔اور پہلی دفعہ اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔وہ کسی بھی طرح ائرہ کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ اب بہرہ عرب کے دبئی پورٹ سے کافی اگے ا چکی تھی۔اس کا بھوک سے برا حال تھا۔۔

لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اب یہاں سے کہاں جائیں گی۔وہ ایک روڈ پر پہنچی تھی بڑی بڑی بلڈنگز تھی روڈ پہ کافی زیادہ فوڈ سٹال تھے۔لیکن اس کے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔وہ روڈ پر پڑے ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔۔۔

اس نے چادر کو ٹھیک کیا اور دونوں پاؤں بھی بینچ پر رکھ لیے۔اس کی تھکی ہوئی انکھیں روڈ پہ اتے جاتے لوگوں کو گھوڑا رہی تھی۔لیکن اس نے شکر کیا تھا کہ وہ اخل لوگوں سے بھچ گئی تھی۔۔۔

اب میں کہاں جاؤں گی۔۔۔۔

پاکستان واپس کیسے جاؤں گی۔۔۔۔

وہ اندر ہی اندر سوال کر رہی تھی اسے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی فکر تھی۔کہ نہ جانے وہ کیسے ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کا باپ کیسا سلوک کر رہا ہو گا۔۔۔۔

اس کے ذہن میں وسوسے چل رہے تھے۔۔۔

______________

کچھ بھی نہیں لے کر گئی۔۔۔۔۔۔

چپ چاپ ارام سے بیٹھ جاؤ۔اخل کو پہلے ہی ائرہ پے غصہ تھا۔۔۔

اس کی انکھوں میں ابھی تک جلن تھی۔وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا ہاتھ میں کوفی کا کپ لیے۔سفید شرٹ کے نیچے سفید جنیز بالوں کو ایک طرف موڑا ہوا سینے کے کھلے بٹنوں سے چورا سینہ نظر ارہا تھا۔ہاتھ میں پہنے ربٹ بین کو ٹھیک کرتے ہوئے اس نے کافی کوکب ٹیبل پر رکھا۔۔

قرت کی باتیں اسے اور چب رہی تھی۔

تم اب چپ کر جاؤ میں کچھ بھی نہیں سننا چاہتا۔وہ قرت سے بھی اکتانے لگا تھا۔

اخل اپنے دبئی والے فلیٹ میں تھا۔دبئی ائے اسے تقریبا تین منتھ ہو گئے تھے۔اور ابھی جانے کی تیاریوں میں مصروف تھا۔۔۔

وہ بوٹ اس کی پرسنل بوٹ تھی۔جسے اکثر اوقات یوز کرتا تھا۔۔۔۔۔

اوکے بیبی ریلیکس ہو جاؤ۔قرت نے بازو اس کی باہوں میں ڈالے۔اخل نے اپنے ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔

تم ریلیکس کرو پھر اخل نے ایک جھٹکے میں سے اپنے ساتھ لگایا اور بیڈ پہ گرایا۔۔۔

ائی لو یو سو مچ اخل۔۔۔

ائی لو یو ٹو بےبی۔وہ اس کے ہونٹوں پہ جھکنے سے پہلے بولا۔لیکن اس لفظ میں کوئی سچائی نہیں تھی۔اسے تو لڑکیاں بدلنے کی عادت تھی اور بس قرت بھی دبئی کے ہولی ڈیز کے لیے تھی۔۔

وہ لاپرواہ سا لڑکا تھا اور اب ائرہ بھی اس کے دماغ سے نکل ہی گئی تھی۔

___________

آئرہ اسی کنڈیشن میں بیٹھی ہوئی تھی۔کہ اچانک اسی بینچ پر ایک لڑکی ا کر بیٹھی جس نے جینز ٹاپ پہنا تھا اور بالوں کو ایک سائیڈ پہ گرایا ہوا تھا۔نارمل شکل و صورت کی مالک تھی۔۔۔

اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا جو گھٹنوں میں سر چھپائے شاید سو رہی تھی۔اس کے دونوں پاؤں بینچ پر تھے۔۔

اور گھٹنوں پہ سر رکھا ہوا تھا۔اسے دیکھ کر اسے یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے ۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔الفت نے اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھا۔ائرہ ایک دم سے چونکی اور دونوں پاؤں پینچ سے نیچے کیا۔۔

ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔

اتنی سی بات کہہ کے اس نے اپنا رخ بدلا تو الفت نے اس میں اور دلچسپی لی۔۔۔۔

تم اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو۔۔۔۔

کیا کچھ کھاؤ گی.۔۔۔۔

اس نے اس کی حالت سے اندازہ لگایا تھا کہ شاید وہ بھوکی ہے۔۔۔۔۔

وہ دو دن کی بھوکی تھی کیسے نہ کرتی۔اس نے گردن کو ہاں میں ہلایا۔۔۔اور الفت کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔اس کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔کسی پہ اعتبار کرنا بھی مشکل تھا۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں الفت نے اسے ایک برگر اور کچھ فرائز لا کے دیے وہ کھاتے کھاتے ائرہ اسے اپنی ساری داستان سنا چکی تھی۔۔۔

مجھے تین سال ہو گئے دبئی میں اور ایسے کیسز میں نے بہت دیکھے ہیں۔۔

الفت نے ایک فرائض اٹھا کر منہ میں ڈالا اور چبانے لگی۔تم جیسی بولی بالی لڑکیوں کو ایسے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔

ائرہ جو کھانے میں مصروف تھی اس کی باتیں بھی دھیان سے سن رہی تھی۔کیونکہ ان تین چار دنوں میں وہ پہلی لڑکی تھی جس سے شاید اسے کوئی امید کی کرن نظر آئی تھی۔۔

میں واپس کیسے جاؤ گی ایری نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔

دیکھو ویسے تو اگر تم واپس جانا چاہو تو تم بوٹ کے تھرو ہی واپس جا سکتی ہو کیونکہ تمہارا پاسپورٹ نہیں ہے۔۔۔

تمہارے پاس۔لیکن یہ بھی رزق لینے کا کام ہے۔کیونکہ یہاں پہ لڑکیوں کی سمگلنگ بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔ایسے میں کسی پہ اعتبار کرنا مشکل ہے۔۔۔۔

اس کی باتیں سن کر ائرہ اور پریشان ہو گئی تھی تو الفت نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔الفت ایک خوش اخلاق لڑکی تھی ۔اپنے پاؤں پہ کھڑی تھی اور اس نے زندگی میں بہت سٹرگل کی تھی۔۔

تو اسے ائرہ میں اپنا اپ نظر ا رہا تھا۔۔۔۔

تم فکر مت کرو تم میرے ساتھ رہ سکتی ہو۔اور میرے کچھ جاننے والے ہیں اس سلسلے میں تمہاری مدد کر سکتے ہیں۔میں زیادہ تو کچھ نہیں کر سکتی لیکن جتنا مجھ سے ہو پائے گا میں تمہارے لیے کروں گی اس نے ہاتھ اس کی پشت پہ رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔

__________

نہیں ابھی نہیں مجھے جانا ہے۔اخل شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے۔قرت کو کہا رہا تھا جو شاید اسے رکنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔

پاکستان نہ جانے کا کہہ رہی تھی۔اخل جانے تو پرسوں لگا تھا لیکن اس سے جان چھڑانے کے لیے اس نے کہا تھا کہ وہ صبح ہی نکل جائے گا۔۔۔

میں تمہیں بہت مس کروں گی۔وہ شرٹ لس بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی۔اور بلینکٹ سے خود کو کور کیا ہوا تھا۔۔۔

میں بالکل بھی نہیں کروں گا اس نے دل میں کہا اور شرٹ کا اخری بٹن کر کے باتھ روم میں چلا گیا۔تقریبا رات کے دو تین بج رہے تھے۔۔۔

____

ا ئرہ بیڈ پہ لیٹی ہوئی تھی۔اصولا تو اتنی تھکن کے بعد اسے سو جانا چاہیے تھا۔اور یہ ارام دہ بستر بھی اسے کئی دنوں بعد نصیب ہوا تھا۔لیکن اس کے ذہن میں جو وسوسے اور جو ڈر تھا وہ اسے سونے نہیں دے رہا تھا۔ایک طرف اسے اپنی فکر ایک طرف اپنے بہن بھائیوں کی۔وہ پچھلے تین چار گھنٹوں سے بس کروٹ ہی بدل رہی تھی۔جبکہ سامنے والے بیڈ پہ الفت ارام سے سو رہی تھی۔ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے کروٹ دوسری طرف بدلی ہے۔۔۔

یا اللہ میری مدد کر۔۔۔

تو مجھے ان حالات سے نکل دے۔۔۔

اللہ ہی تو اس کے پاس اخری امید بچی تھی۔اس نے انکھوں سے نکلتے انسو کو ہاتھوں کی انگلیوں سے صاف کیا۔۔۔

اور پھر اسی ہاتھ کو سر کے نیچے رکھ کر تکیہ بنایا۔۔۔

حالات اس کے بس میں نہیں تھے۔ایک طرف وہ واپس جانا چاہتی تھی۔لیکن دوسری طرف اسے اپنے باپ کا ڈر تھا

اگر وہ واپس چلی بھی جائے گی تو وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔اور یقینا وہ اسے پھر سے بیچ دے گا۔۔

اور اگر غلطی سے وہ سلطان سے ٹکرا گئی۔دبئی میں سلطان کا ڈر اور پاکستان میں اپنے باپ کا۔اسے کوئی راستہ نظر نہیں ا رہا تھا۔کوئی نہیں تھا جو ان سب میں اس کی مدد کرتا۔۔۔۔

_______

صبح کے 12 بجے تھے۔اج اخل کا دبئی میں اخری دن تھا۔

وہ ناشتے کے ٹیبل پہ بیٹھا تھا۔جوس کا گلاس اس کے سامنے پڑا تھا۔

اس نے ہاتھ جوس کے کلاس پہ رکھا ہی تھا۔۔۔۔۔

کے اسے کسی کے انے کی اطلاع ملی تو وہ ڈرائنگ روم میں چلا ایا۔۔۔۔

اس سے ملنے کوئی اور نہیں بلکہ سلطان ایا تھا۔اس نے کاٹن کی کمیز شلوار کے اوپر بلیک وائس کوٹ پہننا تھا۔ٹانگ پہ ٹانگ رکھے وہ صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا۔چہرے پہ اطمنان تھا۔مونچھوں کو وٹ دیتے ہوئے وہ اس کا معائنہ کر رہا تھا۔

یس۔۔۔اخل نے ہاتھ میں پکڑے جوس کے گلاس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا کیونکہ اس سے پہلے وہ اس شخص کو نہیں جانتا تھا۔

تم۔۔۔۔اخل میلان ہو۔۔۔۔۔

بالکل میں ہی اخل میلان ہوں۔۔۔

اسے بیٹھنے کا اشارہ کرنے کے بعد اخل خود بھی بیٹھ گیا اور اسے بولنے کا موقع دیا۔۔

لیکن اس کے ذہن میں یہی تھا کہ یا تو یہ اس کی کسی پرانی گرل فرینڈ کا بھائی یا باپ ہو سکتا ہے ۔جو اپنی بیٹی یا بہن کے لیے منتیں کرنے ایا ہوگا۔۔۔

یا اس کے کسی اوارہ دوست کا کچھ لگتا ہوگا۔جو اس کی غیر موجودگی میں اس کی انفارمیشن لینے ایا ہوگا۔۔

اس کا دماغ یہیں تک جا رہا تھا۔ہاتھ میں پہنے ربل پین سے کھیلتے ہوئے وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔

ائرہ کہاں ہے؟

وہ جو چہرے پہ اطمینان لیے اس کے سامنے بیٹھا تھا ایک دم سے چونکا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔

وہ صوفے سے اٹھا۔۔۔

ہاں وہی لڑکی جو تمہاری بوٹ میں تھی۔میں اس کا سودا پہلے ہی کر چکا ہوں۔تو چپ چاپ اسے میرے حوالے کر دو۔۔

وہ جو اپنے پاس سے گیسٹ لگائے بیٹھا تھا کہ ائرہ نہ جانے کیوں اور کس مقصد کے لیے اس کی بوٹ میں ائی تھی۔اس کی بات سن کر تھوڑا بے چین ہوا۔اور یہ بے چینی کس لیے تھی وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔

وہ لڑکی میری بوٹ سے بھاگ گئے تھی۔اس کے بعد میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں گئی۔اور اگر جانتا بھی ہوتا تو تمہیں کبھی نہ بتاتا۔تم یہ کام اس کی اجازت کے بغیر کر رہے تھے اسی لیے وہ بھاگ گئی۔۔

میں کسی کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کرتا۔۔۔

اس کے باپ کو پورے 20 لاکھ دیے ہیں میں نے۔۔۔

تو پھر جا کے اس کے باپ سے پوچھو کے ائرہ کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

میں نہیں جانتا۔اس کی بے چینی بس کچھ ہی دیر کے لیے تھی وہ دوبارہ سے ریلیکس ہو گیا تھا جو گلاس پھر سے اس نے ہاتھ میں پکڑا اور زوفے پر ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

سلطان اچھے سے جانتا تھا کہ وہ طاقتور باپ کا بیٹا ہے۔اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اج ائرہ کے بغیر وہ یہاں سے نہیں جاتا۔لیکن کہیں اسے امید بھی تھی کہ ائرہ اس کے پاس نہیں ہوگی۔بھلا اخل کو کیا ضرورت تھی اسے لڑکیوں کی کمی تھوڑی تھی۔۔۔۔۔

وہ یہی سوچیں لیے اس کے سامنے بت بنا کھڑا تھا۔جب کے اخل بڑے سکون سے جوس انجوائے کر رہا تھا۔اب ٹیبل سے ایل سی ڈی کا ریموٹ اٹھا کر اس نے اسے ان کیا تو سلطان نے بھی وہاں رکنا مناسب نہیں سمجھا اور باہر کی طرف جانے لگا۔۔۔۔۔۔۔

تم جب تک یہاں ہو تم کوئی جاب کیوں نہیں کر لیتی۔

الفت جو ڈریسنگ ٹیبل کے اگے کھڑی بال بنا رہی تھی نے پیچھے مڑ کر ائرہ کو اپنی طرف مخاطب کیا۔۔۔۔

کیا مجھے کوئی جاب مل سکتی ہے۔ائرہ جو بیڈ پر بیٹھی تھی ایک دم سے چونکی اور اس کی طرف روح کیا کیونکہ وہ بھی اس پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھی۔۔

اور ویسے بھی وہ پانچ چھ سالوں سے جاب کر رہی تھی

۔اس کے باپ کو تو گھر کی کوئی ہوش نہیں تھی تو ائرہ ہی گھر چلاتی تھی۔وہ کیک بیک کرتی تھی اور پھر انہیں مختلف دکانوں میں دیا کرتی تھی۔۔۔

میرے پاس تو کوئی ڈاکومنٹس نہیں ہیں۔۔۔

ہاں لیکن تم مجھے بتا رہی تھی تم کیک بیک کر لیتی ہو۔۔۔

تو ایسا ہو سکتا ہے کہ تم ایک چھوٹا سا سٹال لگا سکتی ہو۔

کوکیز یا ڈونٹ پیسٹریز۔وغیرہ اگر بنا لو تو یہاں پہ بھی تم انہیں بیکریز میں دے سکتی ہو لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن کیا ائرہ تھوڑا پریشان ہوئی۔۔۔۔

لیکن کچھ نہیں۔میری ایک دوست بیکری پہ کام کرتی ہے میں اس سے بات کروں گی پھر تمہیں بتاؤں گی۔الفت کے ذہن میں بھی یہی تھا کہ بنا ڈاکومنٹس کے کام ملنا تھوڑا مشکل ہے۔۔۔

اگر مل جائے تو میرے لیے بہت اچھا ہو جائے گا۔

پتہ نہیں کب تک یہاں پہ رہنا پڑے تو بنا نوکری کے تو نہیں رہ سکتی۔ائرہ نے الفت کے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے ایک کھلی سی شرط تھی اور نیچے پینٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل اپنے کمرے میں بیک پیک کر رہا تھا لیکن نہ جانے کیوں اس کے ذہن میں ائرہ گھوم رہی تھی۔۔

وہ ایک شرٹ کو فولڈ کرتے ہوئے نظروں کو ایک جگہ جمائے کھڑا تھا۔۔۔

ائرا کا چہرہ اس کی انکھوں کے گرد گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔۔