Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 4

Ayra by Aneeta

اب کیا سر پہ چھر رہی ہے۔یہ وہ شاید ائرہ کو سوچنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔

اخل نے اپنے ہاتھ میں پکڑی شرٹ کو زور سے بیڈ پہ گرایا۔۔۔۔

کہ اتنی دیر میں اس کا موبائل ساؤنڈ کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

ہاں علی۔۔۔۔۔۔

موبائل کو اگلے لمحے اس نے کان کے ساتھ لگایا۔۔

تو پارٹی میں ا رہا ہے نا۔۔۔۔

اخل کے دماغ سے پارٹی نکل گئی تھی۔وہ تو شام کی فلائٹ سے جانے والا تھا۔۔۔

ہ۔۔۔

پارٹی۔۔۔شہادت کی انگلی کو پیشانی پہ ٹھکاتے ہوئے کہا۔

کچھ سوچنے کے بعد اس نے انے کی حامی بھری۔جیسے وہ بھی دماغ کو تھوڑا ریلیکس کرنا چاہتا تھا۔۔۔

فلائٹ اس نے ڈیلے کر دی تھی اب وہ شاید کل یا پرسوں جانے والا تھا۔۔۔۔

__________

یہ تو بہت اچھا ہوا جو آج سے ہی جوائننگ مل گئی ائرہ۔۔۔

ورنہ تم گھر میں بور ہوتی رہتی الفت اور آئرہ ایک ریسٹورنٹ میں کھڑی ہوئی تھی جہاں پہ ائرہ کو آج ہی جاب مل گئی تھی از ویٹر۔۔۔۔

تھینک یو سو مچ الفت تم سچ میں بہت اچھی ہو۔ائرہ نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا۔اسے پہلی بار کوئی رہنما ملا تھا جس نے اس کی اتنی مدد کی تھی۔ویسے تو اسے جاب سے خاص خوش نہیں تھی۔اس نے کبھی پہلے ایسا کام نہیں کیا تھا۔لیکن اب اس کے پاس ڈاکومنٹس اور پاسورڈ وغیرہ نہیں تھا تو کوئی اور جاب ملنا بھی پاسیبل نہیں تھا۔۔۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔

تم مجھے ہر وقت اپنے ساتھ پاؤ گی الفت نے بھی اسے تسلی دی۔۔۔۔۔

اچھا میں تمہیں شام میں پک کر لوں گی۔۔

تم اپنا بہت بہت خیال رکھنا۔اس کے ہاتھوں کو تھپتھپاتے ہو وہ چلی گئی اور ائرہ اسے جاتے دیکھتی رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوتی۔۔۔

پھر اس نے ایک نظر پیچھے دیکھا۔سب اس کے لیے نیا نیا تھا۔اور سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔۔

_______________

ائرہ کو کہیں سے بھی ڈھونڈ کر یہاں لاؤ۔۔۔

سلطان نے اج سارا دن اخل پر نظر رکھی تھی۔۔۔

لیکن اسے اب اس بات کی تسلی ہو گئی تھی کہ وہ اخل کے پاس نہیں ہے۔لیکن وہ ائرہ کو اتنی جلدی ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتا تھا اس نے اپنے بندوں کو اس کے پیچھے لگایا تھا۔۔۔

اس نے جتنے پیسے اس کے لیے خرچے تھے وہ اس سے زیادہ وصول کرنا چاہتا تھا۔اور وہ اچھے سے جانتا تھا کہ ائرہ جیسی لڑکیوں کی ڈیمانڈ مارکیٹ میں زیادہ ہوتی ہے۔۔

اور ایسی معصوم لڑکیاں مشکل سے جانسے سے میں اتی ہیں۔۔۔

اور دوسری طرف سے اس نے اس کے باپ کو بھی کافی دھمکیاں دی تھی۔۔۔

کہ اگر وہ واپس ائے تو وہ سیدھا اسے اس کے حوالے کرے۔۔

___________

ائرہ صبح سے اپنے کام میں مصروف تھی اور اب شام ہو گئی تھی۔لیکن اب پہلے کی نسبت کام زیادہ بڑھ گیا تھا۔

کیونکہ اسی ریسٹورنٹ میں اخل کے دوست علی نے پارٹی رکھی تھی۔۔

اب تقریبا پارٹی سٹارٹ ہو گئی تھی۔ائرہ لوگوں کی نظروں سے خود کو نہ جانے کیسے بچا رہی تھی۔اس کا معصوم چہرہ اس پارٹی میں موجود ہر ایک کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا۔اس کی شرم حیا۔۔۔۔

ائرہ نے ویٹر یونیفارم پہنا ہوا تھا۔جو فل وائٹ تھا اور اوپر ریسٹورنٹ کا ٹیگ لگا تھا۔وہ ہاتھ میں پکڑے جوس مہمانوں کو سرو کر رہا تھی۔۔

لیکن اسے بہت سی گندی نظروں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔نہ جانے کتنے لڑکوں نے جوس اٹھانے کے بہانے اس کے ہاتھ کو چھوا تھا۔۔۔

یا اللہ کسی طرح مجھے واپس بھیج دے ۔ائرہ سخت پریشان تھی اور یہ کام وہ بہت ہی مجبوری میں کر رہی تھی۔۔

۔کیونکہ وہ پارٹی کے ماحول سے اندازہ لگا سکتی تھی کہ یہ جگہ اچھی نہیں ہے وہ ایک بار ٹائپ ریسٹورنٹ تھا۔۔۔۔

اور یہ اخری دن سمجھ کر ہی وہ یہاں کام کر رہی تھی۔۔۔

تم پھر سے کھڑی ہو گئی ۔دیکھو اج تمہارا پہلا دن ہے اگر یہی تمہاری حساب رہا نا تو ایک دن میں فارغ کر دی جاؤ گی پاس کھڑی لڑکی نے اسے پھر سے ٹوکا تھا جو کہ اسے چار پانچ بار پہلے بھی ٹوک چکی تھی لیکن ائرہ پھر لوگوں کی نظروں کا کیا کرے جو اسے اندر سے چیر رہی تھی۔۔۔

جبکہ باقی ویٹرز بہت ہی خوش اخلاقی سے سب سے مل رہی تھی جیسے خود ہی انہیں افرز دے رہی ہوں۔۔۔۔

لیکن ائرہ کے معصوم سے چہرے پہ باڑہ بجے ہوئے تھے ذہنوں کو کئی قسم کی سوچوں نے گیرا ہوا تھا۔۔۔

اس نے پھر سے تین چار گلاس ٹرے میں سجائے۔۔۔

اور انہیں ترتیب سے رکھنے لگی۔۔۔

کہ اسی ٹرے سے ایک لڑکے نے ایک گلاس اٹھایا تو ائرہ نے نظر گھما کر اسے دیکھا کیونکہ وہ اس کی پشت پہ تھا۔اس نے گلاس اٹھا کے اپنے ساتھ والی لڑکی کو دیا۔جس نے بہت ہی نازیبہ لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔ اس دوران اس نے ائرہ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا وہ اخل ہی تھا لیکن ائرہ نے اسے دیکھ لیا تھا ۔۔۔وہ اس کے نوٹس کرنے سے پہلے ہی وہاں سے فرار ہونا چاہتی تھی لیکن اخل کی نظر جیسے ہی پڑی اس نے ائرہ کو بازو سے پکڑا۔۔۔

مس ائرہ ۔۔۔۔نہایت غصے سے پکارا گیا لفظ۔۔

اخل نے گرے شرٹ پہنی تھی۔جو ایک طرف سے پینٹ میں تھی۔استینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیا ہوا تھا۔شرٹ کے اوپر والے بٹن بھی کھلے تھے۔نیچے سفید جینز تھی۔بلش کرتا چہرہ۔شرارت بھری انکھیں۔۔

کہاں بھاگ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔

وہ جو ایک بازو کی کہنی ٹیبل پہ رکھے ٹیڑھا کھڑا تھا ایک دم سے سیدھا ہوا۔۔

ائرہ کے ہاتھوں نے کانپنا شروع کر دیا تھا۔۔

میرا ہاتھ چھوڑ و وہ مشکل سے یہ لفظ کہہ پائی تھی۔۔

اور جو تم نے حرکت کی تھی میری انکھوں میں مرچیں ڈالنے کی۔اخل کے پاس کھڑی لڑکی بھی ائرہ کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔کچھ دیر پہلے وہ اخل کی باہوں میں تھے جب کہ اب اخل نے اسے تھوڑا دور کرا دیا تھا۔۔۔

پارٹی میں موجود ہر لڑکی کی نظریں ہی اخل پر تھی وہ ایک پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔اس کی حرکتوں کو جانتے ہوئے بھی بہت سی لڑکیوں کا ائیڈیا تھا۔حالانکہ سب جانتی تھی۔کہ وہ ایک کے ساتھ ٹک نہیں سکتا۔۔۔۔

کیوں بھاگی تھی تم بتاؤ مجھے۔۔۔۔

میں نے خود کہا تھا نا کہ اتر جانا۔۔۔۔

شکر کرو اج میرا موڈ تھوڑا اچھا ہے۔بی بی کی وجہ سے اس نے پاس کھڑی لڑکی کے بالوں کو پیچھے کیا۔وہ قرت نہیں تھی۔۔۔

ویسے تمہارے لیے ایک بری خبر ہے۔نظروں کو پھر سے ائرہ کی طرف کرتے ہوئے کہا۔اب اس کے ہاتھ کو چھوڑتے ہوئے وہ سیدھا کھڑا ہو گیا تھا۔۔

کہ تمہیں کوئی سلطان ڈھونڈ رہا ہے۔ پاس کھڑی لڑکی کو اس نے پھر سے باہوں میں بھر لیا تھا۔

سلطان۔۔۔

ائرہ نے تھوڑا فاصلہ بنایا اور پھر سے اس سے پوچھا۔

ہاں وہی جس نے تمہارے باپ سے تمہیں خریدا ہے۔وہ لاپرواہی میں جواب دے رہا تھا۔اور پاس کھڑی لڑکی کو قریب سے قریب تر کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ ائرہ نے سنتے ہی ہاتھ میں پکڑی ٹرے کو زمین پہ گرا دیا۔۔

اخل نے ایک دم سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

ریلیکس میں نے اسے کچھ نہیں بتایا۔اور نہ ہی دوبارہ پوچھنے پہ کچھ بتاؤں گا۔وہ پھر دوبارہ اسی کنڈیشن میں کھڑا تھا بازو کی کہنی کو ٹیبل پر رکھے ٹیک لگائے۔۔ایک نظر نیچے گری ٹرے کو دیکھا اور پھر ائرہ کو۔۔۔۔

ائرہ اسے کہتی بھی تو کیا کہتی۔

وہ شاید اس سے اور سوال کرنا چاہتی تھی۔لیکن جس کنڈیشن میں وہ تھا اس نے شرم کے مرے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا۔۔۔۔۔

اخل نے ایک نظر اسے دیکھا۔ہنستے ہوئے انکھ ماری اور پاس کھڑی لڑکی کو تھوڑا اور قریب کر لیا۔ائرہ کے لیے یہ ماحول نیا تھا اس نے شرم کے مارے اپنی نظروں کو دوسری طرف کر لیا۔اس کے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔۔۔

کون ہے یہ لڑکی۔پاس کھڑی لڑکی نے سوال کیا۔۔۔

پتہ نہیں۔اخل نے نظر گھمائی تو ائرہ غائب ہو چکی تھی اور نہ جانے کیوں اسے فکر ہو رہی تھی۔اس نے ایک نظر اگے پیچھے گھمائی۔۔۔

لیکن ائرہ کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔

لڑکی نے ایک واین کا گلاس اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔

۔اس نے ہاتھ میں تو پکڑ لیا تھا لیکن اس کا دماغ ابھی بھی ائرہ کی طرف تھا۔۔۔

________

وہ لوگ مجھے ڈھونڈ لیں گے۔

ائرہ ریسٹورنٹ کے کچن ایریا میں ائی تھی اس کے ہاتھ بری طرح سے کانپ رہے تھے۔جوابھی ہوا نہیں تھا اسے اس کا ڈر تھا۔۔۔

یا اللہ میری مدد کر مجھے ان لوگوں سے بچا لے۔اس کا رنگ اڑ چکا تھا۔۔۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ٹہل رہی تھی۔۔

اس کی خوبصورتی اس کا سب سے بڑا مسئلہ تھی۔۔

خود کو نہ جانے کتنی نظروں سے بچا رہی تھی۔۔۔

لیکن اخل کی بات سننے کے بعد اب وہ بری طرح سے ڈرنے لگی تھی اسے ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے کبھی بھی وہ لوگ ائیں گے اور اسے لے جائیں گے۔۔۔۔

اور اس کی پریشانی بنتی بھی تھی اور ہے کون تھا اس کے اپنے باپ نے اس کا سودا کر دیا تھا۔۔۔

________

ہمممممممممم

اخل اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسی جگہ پر ایا تھا۔۔۔

ت۔۔۔۔۔۔تم۔ائرہ نے اہٹ محسوس کی تو پیچھے دیکھا۔۔۔

وہ ڈر کے پیچھے ہوئی ۔۔۔

اخل کی خود سمجھ میں نہیں تھا کہ وہ یہاں کیوں ایا۔۔۔

تم یہاں کیوں ائے ہو ائرہ نے اپنا رخ بدلا۔وہ یقینا باہر چلی جاتی لیکن اخل دروازے پہ کھڑا تھا۔تو اس نے وہیں رہ کر سوال پوچھا۔۔۔۔

میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ میں نے اس کو تمہارے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ویسے تو میں جانتا نہیں تھا۔دو قدموں کا فاصلہ طے کر کے وہ اگے ایا اور ائرہ کے مقابل کھڑا ہوا۔لیکن اگر جانتا ہوتا تو شاید تب بھی نہ بتاتا۔۔۔

ائرہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ شکار کے چکر میں ہے۔وہ تو پہلے دن سے ہی اس کی حرکتوں سے واقف ہو چکی تھی۔

۔اور اب تو اس نے اپنی انکھوں سے پریکٹیکل دیکھ لیا تھا۔۔

۔کہ بوٹ میں وہ قرت کے ساتھ اور یہاں پہ کسی اور لڑکی کے ساتھ تو وہ کیسے اس کی کسی بات کا یقین کر سکتی تھی۔لیکن ابھی سننا اور اسے برداشت کرنا اس کی مجبوری تھی۔۔۔۔۔۔

میں اپنا مسئلہ خود سالو کر لوں گی۔۔

ائندہ میرے راستے میں نہیں انا وہ نظریں نیچے جھکائی اسے دھمکا رہی تھی شاید لیکن لہجے میں خاص غصہ رونما نہیں تھا۔عام سے لہجے میں کہی گئی باتیں تھی۔۔۔

اے ڈیر مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔۔

مجھے بس لگا تھا کہ تمہیں بتانا چاہیے۔وہ اسے سر سے لے کر پاؤں تک گھور رہا تھا۔اور شاید اس کی کیفیت کو محسوس کر رہا تھا۔۔۔

تم نے بتا لیا اب جاؤ۔وہ تھوڑا اور پیچھے ہوئی تھی۔

اخل نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔

مجھے وہ لڑکیاں زہر لگتی ہیں جو میرے سامنے شریف بننے کی ایکٹنگ کرتی ہیں۔۔۔

تمہارے باپ نے تمہیں 20 لاکھ میں بیچا ہے۔اتنا بولا بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔

ایک طرف سے تو تم لوگوں نے دھوکہ ہی دیا ہے۔ایگزیکٹلی اگر دیکھا جائے تو۔وہ دونوں ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں جمائے اس کے اگے پیچھے گھوم رہا تھا۔۔۔

اور ابھی ایکٹنگ ایسے کر رہی ہو جیسے کسی نے ٹچ بھی نہ کیا ہو۔اس کے بالوں کو ایک طرف سے پیچھے کرتے ہوئے اس نے لفظوں کا وار کیا تھا جبکہ وہ بری طرح سے سہم چکی تھی۔۔۔

یہ تو شکر مناؤ کہ اج شاید تمہارا دن اچھا تھا۔ورنہ اس دن والی حرکت کو میں ایسے نہیں جانے دیتا۔میں حساب برابر رکھتا ہوں مس ائرہ وہ اس کے کان کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا۔۔۔

اس کی انکھیں انسوؤں سے بھر ائی تھی۔۔۔

اس والے لہجے میں شدید غصہ تھا۔۔۔

ہر ایک کو اپنے جیسا سمجھا ہے۔لیکن کہیں ڈر بھی تھا۔کہ نہ جانے رد عمل کیا ہوگا۔۔۔۔

ائندہ میرے راستے میں انے کی ضرورت نہیں ہے۔اخل جو اسے مسلسل انکھوں سے تاڑے جا رہا تھا اب انکھوں میں غصہ رونما ہوا تھا۔۔۔۔

تم پہلی لڑکی ہو جو میرے پیچھے انے کی شکایت کر رہی ہو۔ویسے تو میرے گھر والوں کی اسی بات کی شکایت ملتی ہے کہ میں فلانی کا پیچھا چھوڑ چکا ہوں۔اور اس کا دل ٹوٹ گیا ہے۔تھوڑی سی اس کے چہرے کو اوپر کیا۔میں چاہوں تو تمہیں ابھی سلطان کے حوالے کر دوں۔۔۔

سائرہ نے پیچھے جانا چاہا تو اخل نے ایک جھٹکے میں بازو پکڑ کر ٹیبل کے ساتھ لگایا۔۔۔

مسئلہ کیا ہے تمہارا۔

کرو پھر سلطان کے حوالے۔۔

پھر کرتی رہنا لوگوں کی راتیں رنگین۔۔۔

اب لہجے میں غصہ ایا تھا۔۔۔

ائندہ اس لہجے میں مجھ سے بات نہیں کرنا۔۔

ورنہ جو تمہارے ساتھ کروں گا نا ساری عمر یاد رکھو گی۔۔۔

۔اس کے بازو کو اس نے بہت زور سے پکڑا ہوا تھا۔ائرہ نے اس کی قربت کے خوف سے نظروں کو نیچے جھکایا ہوا تھا۔۔۔

انکھیں انسوؤں سے تر تھی۔۔۔

پر یہ پہلی لڑکی تھوڑی تھی جو اس کے سامنے انسو بہا رہی تھی۔ہاں لیکن یہ پہلی لڑکی ضرور تھی جو اس کی قربت کے خوف سے انسو بہا رہی تھی۔ورنہ تو ہر دوسری لڑکی اس کی قربت کے لیے انسو بہاتی تھی۔جن کا اس کے پتھر دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔۔۔

وہ تو بس ٹشو پیپر کی طرح انہیں استعمال کرتا تھا۔۔۔۔

میں نہیں کروں گی پلیز مجھے جانے دو۔ائرہ نے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔

تو اخل نے بھی اس کے بازو کو چھوڑا۔امید ہے ائندہ نہیں کرو گی۔۔۔

لیکن اس کا جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی ائرہ تیزی سے وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔۔۔

_________

تمہاری بہن کی وجہ سے مصیبتوں نے ہمیشہ ہمارے گھر کا راستہ دیکھا ہے۔۔۔

یہ پیسے تم لوگوں کے مستقبل کے لیے تھے۔

20 لاکھ میں کہاں سے لاؤں گا اب۔

یہ ائرہ کاپاپ تھا جسے بیٹی کی کوئی پرواہ نہیں تھی پر 20 لاکھ ڈوبنے کا غم تھا۔۔۔

وہ اس 14 سالا بچی کو باتیں سنا رہا تھا۔

دعا کرو تمہاری بہن مل جائے ورنہ اس کے ساتھ ساتھ تم لوگوں کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔وہ جو تین دن سے اسی ٹینشن میں تھا ایک بار پھر زور سے دروازہ ٹھپکاتے باہر کی طرف گیا۔۔۔۔

_______

دیکھو بہت اچھی جاب ہے تم کیوں چھوڑ رہی ہو۔

میں نے تمہیں کہا نا وہ مجھے ڈھونڈ رہا ہے۔

وہ مجھے ڈھونڈ لے گا۔وہ کپکپاتے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔۔

اور وہ اخل۔۔۔

وہ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتا ہے۔۔

وہ بہت گھٹیا انسان ہیں۔۔۔۔