Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 31

Ayra by Aneeta

وہ چینجنگ روم میں کپڑے بدل رہی تھی۔جب وہ اچانک اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ کا ارادہ تو انہیں کپڑوں میں سونے کا تھا لیکن کافی الجھن ہو رہی تھی تو اس نے تبدیل کرنا مناسب سمجھا۔۔۔

پر اسے دیکھتے ہی گھبرائی تھی۔۔۔۔

الموسٹ تبدیل کر چکی تھی۔اس نے ہلکی سی وائٹ کلر کی شارٹ فراک پہنی تھی۔نیچے وائٹ ہی پلازہ تھا۔بال کھلے ہوئے تھے۔گلا ٹیپ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رونے سے انکھیں اور بھی دلکش لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

دروازہ نوک کر کر اتے ہیں۔۔۔۔

اس نے اتارے ہوئے کپڑے ہینگر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

جسے ذرا سی بھی پرواہ ہوتی ہے وہ اندر سے لوک کر کر چینج کرتا ہیں۔اس نے اسی کے لہجے میں جواب دیا تھا۔۔

جبکہ ائرہ کو اس کے سوال پہ حیرت ہوئی تھی کہ کیا اسے پرواہ نہیں ہے۔۔۔۔

اس نے کوٹ اتارہ اور پھر وس کوٹ کے بٹن کھولتے ہوئے بولا۔۔۔

بے شرم کہی کا۔۔۔

وہ دل ہی دل میں کہتی باہر کا رخ کرنے لگی تھی جب اس نے ہاتھ اگے کیا۔۔۔۔۔

میں چینج کر لوں پھر باہر جاؤ گی۔

کیا مطلب ہے پاگل ہو تم میرے سامنے چینج کرو گے۔اسے شدید غصہ ا رہا تھا بات ہی غصے والی تھی۔۔۔۔۔

گٹیا انسان۔۔۔۔۔۔

کیوں پھر دوبارہ سے غصے کو دعوت دے رہی ہو۔۔۔۔

پہلے اپنی حالت تو دیکھ لو اور مار کھا پاؤ گی۔۔۔۔۔۔

اس نے ٹائی کو ڈیلا کیا اور پھر کھینچ کر اتار دی۔اور اس کے قدموں میں قدم رکھ کر اسے پیچھے کرنے لگا۔۔

ائرہ کو غلاموں والی فیلنگ ا رہی تھی۔اب۔۔۔۔۔

ایمن کے سامنے چینج کرنا دفع ہو جاؤ۔۔۔۔۔

اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اس نے پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن اس نے اس ہاتھ کو قابو کر کے اسے دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔

تو جناب کو جیلسی ہو رہی ہے کہیں وجہ وہ نیکلس تو نہیں۔۔۔۔۔

دل کی بات کو اس نے زبان دی تھی۔ائرہ کا تو پتہ نہیں پر یہ بات اس کے دل میں کھٹک رہی تھی۔کہ کہیں اسے برا نہ لگا ہو۔۔۔۔۔

تمہاری بھول ہے یہ اس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بولی تھی۔۔۔

میں نے ایسی چیزوں کی کبھی فرمائش نہیں کی اور نہ ہی مجھے لالچ ہے جس کو لالچ تھی اسے مل گیا۔۔۔۔۔

وہ اس کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

نہیں اگر چاہیے تو میں بنوا دوں گا۔اب اتنا ٹائم ساتھ رہی ہو اتنا سب کچھ ہوا ہم دونوں میں اتنا تو حق بنتا ہے تمہارا۔۔۔

ُُاُس کی اس بات سے اسے شدید غصہ ایا تھا۔وہ سمجھ گئی تھی اس کا اشارہ کس طرف ہے اس رات کی طرف ہے۔

تم ایک بہت ہی گھٹیا انسان ہو بہت ہی گھٹیا۔۔۔۔

تم نے نکاح بھی زبردستی کیا تھا اور۔۔۔۔۔۔

وہ چپ ہو گئی تھی نظروں کو نیچے جھکا لیا تھا۔۔

اب اس جیسی بے باک تو نہیں تھی کہ ہر لفظ منہ سے بول دے۔۔۔۔۔

اور۔۔۔۔۔۔

بولو میں سننا چاہتا ہوں۔۔۔سمجھ تو وہ بھی گیا تھا۔۔۔

راستے سے ہٹو جانا ہے مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔

جانا ہے جانا ہے جانا ہے ایک تو تمہیں جانے کی بہت جلدی ہوتی ہے۔۔۔۔

اس نے گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

ویسے ڈیورس کے بعد کہاں جاؤ گی کچھ سوچا ہے۔۔۔۔

ہاں تمہیں سوچنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔

تم نے سوچنے کہ لیے اسسٹنٹ جو رکھا ہوا ہے مسٹر اسد ۔۔۔۔

وہ تنزیہ ہنسا تھا۔۔۔اس کے بالوں کو رول کرتا وہ ماتھے تک لے گیا تھا۔۔۔۔

ویسے میں جاننا چاہتا ہوں اگے کی پلاننگ تمہارا موبائل کہاں ہے اس نے اس سے نظر ہٹا کر اگے پیچھے نظر دوڑائی۔۔

وہ ڈرا ٹیبل پہ پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔

موبائل اٹھانے کے لیے اس نے دو منٹ ہاتھ دیوار سے اٹھا کر موبائل کی طرف بڑھایا تھا کہ اس نے پھر سے جانے کی کوشش کی تھی۔پر اس نے اگلے لمحے پھر پکڑ لیا۔۔۔۔

لاک کیوں چینج کیا تم نے اس نے غصے سے پوچھا تھا۔۔۔

میرا موبائل ہے اور میرا پرسنل موبائل تمہارا مجھ پہ کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔

لاک کھولو۔۔۔۔اس کی چھوٹی سی تقریر کو اس نے نظر انداز کر دیا تھا۔۔۔

اس نے موبائل اس کے منہ کے اگے کیا تھا جبکہ اس نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا۔۔۔

کیوں غصے کو دعوت دے رہی ہو کھولو۔۔۔۔

لیکن وہ بھی اکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

میرے پاس طریقہ ہے کھلوانے کا تم رکو ۔۔۔۔۔

اس نے دو منٹ موبائل کو پھر اسی جگہ پہ رکھا۔جہاں سے اٹھایا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ تو ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔۔۔۔

اور اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس کے لبوں کو قید کر لیا اس نے

ا۔۔۔۔۔۔اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور شدت سے بھرپور لمس چھوڑ رہا تھا۔اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں قید کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔۔۔

ایک جھٹکے میں اسے چھوڑتے اس نے پھر موبائل اٹھایا۔۔۔

اس کی سانسیں مشکل سے بحال ہوئی تھی۔

کھولو اگر دوبارہ مصیبت میں نہیں پھنسنا چاہتی تو۔۔۔

وہ ڈر گئی تھی اس کی خرکت سے اندر ہی اندر اسے بد دعائیں دے رہی تھی لیکن بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔

وہ دونوں چینجنگ روم میں تھے اس کے اگے روم اتا تھا پھر حال اتا تھا وہ چیختی بھی تو باہر اواز نہیں جانی تھی۔۔۔

اس نے اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ میں ہی پاسورڈ ڈائل کر دیا تھا۔۔۔

ایسے بات مان جاؤ تو مجھے یہ سب کرنا ہی نہ پڑے اس نے موبائل میسج اپشن کھولتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

اسد کے 10 میسج تھے جو اس نے ابھی تک ریڈ نہیں کیے تھے۔۔

ہیلو ٹھیک ہو تم۔۔۔

اس نے تمہیں زیادہ نقصان تو نہیں پہنچایا۔۔۔

دیکھو مجھے بہت فکر ہو رہی ہے۔

ائرہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی کہ وہ بدل رہے تھے غصے میں۔۔۔۔

میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تم بس اس سے ڈیورس لو اگے کی فکر نہیں کرنا۔۔

ائرہ نے بھی اسے میسج کیے تھے کہ اپ کیسے ہیں ایم سو سوری میری وجہ سے۔۔۔۔

اور اسی ٹاپک پہ کئی میسج تھے۔۔۔۔

اس نے غصے سے موبائل زمین پر پھٹا۔۔۔

جو دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔۔۔۔

تو یہ ہے تمہیں شے دینے والا۔۔۔۔

اور تمہیں بہت فکر ہو رہی ہے اس کی۔۔۔

ائرہ دیکھو میں تمہیں مار مار کر تھک گیا ہوں تم مار کھاتے نہیں تھکی کیوں میرے ہاتھوں کو زحمت دینا چاہتی ہو۔۔۔

کیوں اخر مسئلہ کیا ہے تمہیں۔۔۔۔۔

مجھے ڈیورس چاہیے ڈیورس۔۔۔۔۔

بولا تو ہے منہ پہ ماروں گا۔ڈیورس۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ اٹھایا اور پھر دیوار پہ مار دیا ۔۔۔۔۔

لیکن اب تمہیں مار سے نہیں ڈرانا میں نے۔۔۔

وہ اسے سر سے لے کے پاؤں تک گھوڑا تا ہوا بولا۔۔۔۔

دراصل اس کی کشش اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

ٹارچر کرناتو صرف ایک بہانہ تھا۔۔۔۔

اس کے ارادوں کو باپ کا اس نے پھر سے باہر کا رخ کیا ہی تھا کہ پھر پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔

اگر عزت پیاری ہے نا تو دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا۔اس نے لب اس کے گانوں پہ رکھے تھے اور زور سے کس کی تھی۔۔۔

پھر بالوں کو پیچھے کر کے اس نے لبوں سے اس کے کان کی لو کو چھوا ۔۔۔۔۔

پھر اس کا راستہ چھوڑ دیا تھا وہ ڈرانا چاہتا تھا۔جس میں وہ کامیاب ہو گیا تھا۔

کیونکہ وہ بھی سمجھ چکا تھا کہ اسے کس چیز کا زیادہ ڈر ہے۔۔

اس کا راستہ چھوڑتے ہی وہ تیزی سے بھاگی۔۔

اس کا ڈر اور پھرتی دیکھ کر وہ ہنسا تھا۔۔۔۔۔

بچاری اس نے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

پھر دیوار مرر میں ایک دفعہ خود کو دیکھا۔۔۔

دائیں بائیں گھوم کر۔۔۔۔۔۔

اپنے مسلز بنا کر چیک کیے جو وہ جب بھی چینج کرتا تھا دیکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ہنگر کی ہوئی شرٹ اتاری۔۔۔۔۔

اور مسکراتے ہوئے پہن لی۔۔۔۔۔۔

__$

کمرے میں اتے ہی اس نے گہری سانس لی تھی۔۔۔

اس نے کبرڈ سے وائٹ دوپٹہ نکالا سوٹ کے ساتھ کا۔۔۔

یہ ساری شاپنگ بشر بیگم نے کی تھی اس کے لیے۔۔

اور وقت ضائع کیے بغیر باہر کی طرف بھاگی دوپٹہ بھی اس نے بھاگتے بھاگتے سیٹ کیا تھا۔اس کے باہر انے کے ڈر سے۔۔۔۔۔۔

اسے بشرا بیگم کی تلاش تھی جو اسے حال ہی میں مل گئی تھی ۔

ائرہ بیٹی۔۔۔۔۔۔

انٹی۔۔۔۔۔

بولو بشر بیگم نے اسے پاس بٹھایا۔۔۔۔

بشرا بیگم نے گرین گرم شال اوڑی ہوئی تھی سردیوں میں ان کا یہی سٹائل ہوتا تھا۔۔۔۔

بال کھلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔

اور صوفے پر بیٹھی نیوز سن رہی تھی۔۔۔۔۔

اوپر کوئی شال جرسی پہن لیتی بیٹی سردی میں اتنے ہلکے کپڑے پہنے ہیں۔انہیں فکر تھی۔۔۔۔

وہ مجھے ویسے بھی ڈیورس دینے والا ہے۔میں اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں نہیں رہ سکتی۔جب تک یہاں ہوں کیا مجھے کسی دوسرے کمرے میں شفٹ کر سکتی ہیں۔مجھے اس سے بہت خوف اتا ہے۔وہ نظریں نیچے جھکائے ان سے التجا کر رہے تھی۔جبکہ ان کی جرسی والی بات کو اس نے اگنور کر دیا تھا۔۔۔۔۔

شاید ان باتوں کی عادت نہیں رہی تھی۔اسے۔

بیٹی بشرا بیگم نے اس کی پشت پہ ہاتھ رکھا۔میں نہیں جانتی تم دونوں میں کیا چل رہا ہے۔لیکن اپنے بیٹے کی انکھوں میں تمہارے لیے محبت اور فکر دیکھی ہے میں نے۔۔

ہاں جو اس نے کیا وہ قابل معافی نہیں ہے۔۔۔۔

پر ایک موقع دینے میں کیا خرج ہے ۔۔۔۔۔۔۔

انٹی پلیز اپ کہتی ہو کہ اپ مجھے عائزہ کی نظر سے دیکھتی ہو۔کہ عائزہ بھی اگر کسی شخص سے ایسا خوف محسوس کرے تو اپ اسے ایک ہی کمرے میں رہنے کے لیے مجبور کریں گی۔ویسے بھی وہ مجھے ڈیورس دینے والا ہے۔۔۔۔

اصولا تو بیٹی تمہیں اپنی پھپو کے گھر چلے جانا چاہیے۔

میلان کامران اس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔۔۔۔

پر تم ایک ڈیٹ انسان کی بیٹی ہو۔۔۔۔

تم سے کچھ بھی توقع کیا جا سکتا ہے۔۔

اور ہم بھی اس بات کے خلاف ہیں کہ اب تم دونوں ایک ہی کمرے میں رہو۔۔۔

جب تک ڈیورس نہیں ہوتی تم گیسٹ روم میں رہو گی۔۔۔

اور اگر کوئی رشتہ دار تو میں رکھ سکتا ہے تو اس کے پاس چلیی جاؤ ڈیورس تمہیں وہی مل جائے گی۔۔

یہ اپ کیسی باتیں کر رہے ہیں بشرا بیگم غصے سے بولی تھی۔۔

بیگم حقیقت یہ ہے کہ اس لڑکی نے تمہیں اپنے ہاتھوں میں کر لیا ہے۔

پر اللہ کا شکر ہے اللہ نے مجھے عقل سے نوازا ہے۔

بیٹی تم ان کی باتوں کا برا نہ منانا۔۔۔۔

یہ نہیں مناتی ڈیٹ باپ کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔

جس نے بغیرتی کے سارے تگمے اپنے نام کیے ہیں۔

اس کی بیٹی کو بلا عزت بےعزتی کا کیا حساب ۔۔۔۔۔

ائرہ بھی یہی چاہتی تھی ۔اس انسلٹ کے بعد ایک منٹ بھی رکنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ جانتی تھی

اخل اسے سکون سے نہیں رہنے دے گا۔۔۔۔۔۔۔

کلثوم کافی غصے سے پکارا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ کے لیے گیسٹ روم ریڈی کر دو۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ سے کافی پکڑتے ہوئے میلان نے کہا۔

میلان کامران اتنا کہہ کے اپنے کمرے کی طرف چلے گئے تھے۔۔

وہ اتنا روڈ اس سے پہلے کسی انسان سے نہیں ہوا تھا۔لیکن عدنان کی وجہ سے وہ ائرہ کو اسی کی نظر سے دیکھتا تھا۔

ائرہ میں اسے عدنان نظر اتا تھا۔۔۔۔

کلثوم رکو پہلے ٹیبل پہ کھانا لگاؤ۔۔۔۔

مجھے نہیں کھانا۔میلان کامران کی باتوں سے وہ کافی ڈسٹرب ہوئی تھی۔

بیٹی تمہاری فکر میں میں نے بھی کھانا نہیں کھایا۔۔۔۔

اب دونوں ساتھ میں کھائیں گی۔

بشرا بیگم نے سچ میں کھانا نہیں کھایا تھا۔۔۔۔

میں نے تمہاری بات مان لی ہے اب تمہیں بھی ماننی پڑے گی وہ اتنا سا کہہ کے اٹھی اور اسے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا۔۔

__

کتنا سوٹ کر رہا ہے میری بیٹی کو یہ نیکلس وہ شیشے کے سامنے کھڑی نیکلس کو دائیں بائیں کر کر چیک کر رہی تھی جو اس نے ابھی اتارا تھا۔

موم اپ نے دیکھا تھا اس ائرہ کا منہ۔۔۔

نیکلس کو ڈرا پہ رکھ کر اس نے روخ فریدہ بیگم کی طرف کیا۔۔

یہ سب تمہاری موم کا کمال ہے۔

دیکھا کیسے چٹکیوں میں کھیل بدلا میں نے۔۔۔

ابھی تو بشرہ بیگم سے یہ صرف نیکلس لیا ہے۔۔۔۔

اگے اگے دیکھنا سب کچھ تمہارا ہوگا۔۔۔

میری بیٹی راج کرے گی راج۔۔۔۔

اس کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے فریدہ بیگم نے کہا تھا۔۔

تمہارے ڈیڈ نے فون کر دیا ہے میلان انکل کو صبح تمہیں وہ شاپنگ پر لے کر جائے گا۔۔۔۔

_____

وہ چینج کر کے باہر ایا تھا ائرہ کو دیکھنے۔۔۔۔

گیسٹ روم اس کے کمرے کے سامنے ہی تھا۔۔۔۔

کیا کوئی گیسٹ ا رہا ہے اس نے کلثوم سے پوچھا۔کیونکہ گیسٹ روم کو ریڈی کیا جا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھ دروازے کے دائیں بائیں رکھ کر کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا تھا۔۔۔۔۔

نہیں چھوٹے صاحب بڑے صاحب کا حکم ہے کہ ائرہ بی بی اج سے ادھر رہیں گی۔۔

کچھ دیر پہلے چہرے پہ جو اطمینان تھا وہ غائب ہو گیا تھا۔۔۔

اس نے وائٹ شرٹ کے نیچے بلو جنز پہنی ہوئی تھی شرٹ کو ایک طرف سے جینز میں دیا ہوا تھا دوسری طرف سے لٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔

استین کے بٹن بھی کھلے تھے اور انہیں اوپر تک فولڈ کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔

کہنوں سے تھوڑا نیچے۔۔۔

اسے کچھ کچھ ائیڈیا تھا کہ شاید ائرہ نے کہا ہوگا لیکن زیادہ شک اس کا ڈیڈ کی طرف جا رہا تھا۔۔۔۔

وہ ساتھ ہی ان کے کمرے میں ایا نو کیے بغیر۔۔۔

ائرہ کو گیسٹ روم میں میں شفٹ کرنے کا اپ نے کہا ہے اس نے غصے سے پوچھا تھا۔۔۔۔

ڈیورس دینے والے ہو اسے بغیرتی کا اڈا سمجھ رکھا ہے گھر ہے یہ۔۔۔۔۔۔

اب ایک کمرے میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے میں تو کہتا ہوں صبح ہی اسے فارغ کرو اور اسے اس کے رشتہ داروں کی طرف بجواؤ۔۔۔۔۔۔

اور تمہاری بیوی نے خود کہا ہے کہ اسے گیسٹ روم میں میں رہنا ہے۔وہ جو غصے سے کچھ بولنے لگا تھا ان کی یہ بات سن کر ایک دم چپ ہوا۔۔۔۔

اور صبح تمہیں ایمن کو شاپنگ کے لیے لے کر جانا ہے۔

تو افس انے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

ائرہ اس نے ہاتھ کا مکہ بنا کر غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کی اور باہر ایا۔۔۔

ایمن والی بات پہ اس نے دھیان نہیں دیا تھا۔۔۔۔

ایک ملازمہ جو حال میں تھی اس سے پوچھا کہ ائرہ کہاں ہے۔

چھوٹی بی بی تو کھانا کھا رہی ہے۔۔۔۔

اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا یہ سوچ کر وہ وہیں بیٹھ گیا اور اس کے کھانا ختم کرنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔

کیونکہ وہ کوئی ہنگامہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔اور اس کے سامنے خود کو کنٹرول رکھ پائے گا اسے خود پہ یقین نہیں تھا۔۔

لیکن اب کنٹرول مشکل تھا وہ کچن کی طرف ایا۔۔۔۔۔

وہ تھوڑا ریلیکس بھی ہو گیا تھا۔۔۔

اخل کو دیکھتے ہی وہ تھوڑا الجھی جو پہلے ریلیکس ہو کر کھانا کھا رہی تھی۔۔۔۔

وہ اس کے ساتھ والی چیئر پر ہی ا کے بیٹھا تھا۔۔۔

تم نے اسے پھر ڈرایا ہے بشرا بیگم نے غصے سے کہا۔۔۔

میں نے اس نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا میں کیوں ڈراؤں گا اسے۔۔

اس کا چہرہ دیکھو کیسا اترا ہوا ہے۔اور وہ اج سے تمہارے کمرے میں نہیں رہے گی ویسے بھی ڈیورس دینے والے ہو۔

تمہارے ڈیڈ نے اس کے لیے گیسٹ روم ریڈی کروا دیا ہے۔

وہ اسے بتا رہی تھی تاکہ اسے کچھ احساس ہو۔۔۔

اب ان کے سامنے کہتا تو کیا کہتا وہ تو ڈیورس پے اکڑا ہوا تھا۔۔

موم اس کا موبائل ٹوٹ گیا اس لیے ۔۔۔۔

اور میری طرف سے جہاں مرضی رہے مجھے کیا پرابلم۔۔۔

صبح لے دوں گا تمہیں ویسے بھی مجھے ایمن کو شاپنگ کروانے لے کے جانا ہے۔۔۔۔

اخل نے ایک نظر بشرا بیگم کو دیکھا جو کھانے میں مصروف تھی اس نے اپنے پاکٹ سے موبائل نکالا۔۔۔

اسے پھر سے ٹارچر کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

بشر بیگم کے سامنے تو یہ پوسیبل نہیں تھا تو اس کے دماغ میں یہی ائیڈیا ایا تھا۔۔۔۔

یہ دیکھو ائرہ نیو ماڈل ایا ہے ۔۔۔۔

اس نے چیئر کو اگے گھسیٹتے ہوئے کہا اور بالکل اس کے ساتھ جوڑ لی۔

یہ دیکھو موبائل بند تھا کچھ بھی نہیں تھا ۔

اس سے پہلے کہ کوئی سوال کرتی اس نے ساتھ ہی پیچھے اس کی کمر پہ ہاتھ رکھا۔اور پھر پوری کمر پہ گردش کرنے لگا اس کا ہاتھ۔۔۔۔۔

وہ سمجھ چکی تھی۔۔

اس نے اٹھنے کی ناکام کوشش کی اس نے اس کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھا۔۔۔۔

بہت شوق ہے تمہیں دوسرے کمرے میں سونے کا۔

اس نے سرگوشی میں کہا تھا اور پھر سے اس کا ہاتھ اس کی کمر پر گردش کرنے لگا تھا۔۔۔۔

ائرہ خوفزدہ ہو چکی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں ایا اس نے پلیٹ اٹھا کر زمین پر پھینکی تاکہ بشرا بیگم کا دھیان ہو۔

ارے اخل بھی پزل ہوا تھا ایک دم سے ہاتھ اپنا اس کی کمر سے اٹھایا۔۔۔۔۔۔

کلثوم جلدی سے ائی اور پلیٹ کے ٹکڑے اکٹھے کرنے لگی۔۔۔۔۔۔

ائرہ موقع کا فائدہ اٹھا کر باہر اگئی اور پھر کمرے میں چلی گئی۔۔۔

___

بہت ہی کوئی ڈیٹ مٹی کی بنی ہو تم ائرہ اس نے ٹیبل کو پنچ مارا۔۔۔۔

اور باہر کی طرف ا گیا۔۔۔۔۔۔

وہ گیسٹ روم تک ایا ہی تھا کہ اس نے اندر سے روم لاک کر لیا تھا۔۔۔۔۔

وہ دونوں ہاتھ کمڑ پہ ٹھکائے بند کمرے کا جائزہ لے رہا تھا۔۔

اتنی دیر میں بشرا بیگم نے اسے بلایا۔۔۔

جی موم۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھی ان کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا ان کی ایک اواز پہ ا گیا تھا ان کے ساتھ صوفے پہ بیٹھا۔۔۔۔

کیا کر رہے ہو یہ کیوں بیچاری کو تنگ کر رہے ہو۔۔۔۔

میں تنگ کر رہا ہوں یا وہ تنگ کر رہی ہے۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں ارہی میں سب ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہوں یہ پھر سے گڑبڑ کر دیتی ہے۔

اور اب وہ اسد مل گیا۔۔

موم میں کیا کیا اگنور کروں اپ مجھے بتائیں۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں نے اس پہ ہاتھ اٹھا کر غلط کیا۔۔۔

میں مانتا ہوں وہ اٹھ گیا تھا اور ہاتھ کے اشارے سے سمجھا رہا تھا انہیں۔۔۔

لیکن وہ جو کر رہی ہے کیا ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔

اگر مجھ سے مسئلہ ہے پرابلم ہے تو میرے پاس آئے کسی تیسرے کو بیچ میں کیوں لے کر ا رہی ہے ہم دونوں ہسبینڈ وائف ہیں۔۔۔۔۔

اس نے اس کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔

اسد کون ہوتا ہے ہمارے معاملات طے کرنے والا۔۔۔۔

اور اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود وہ پھر سے صوفے پر ا کے بیٹھا تھا ایک ٹانگ کو فولڈ کرتے ہوئے روح بشر بیگم کی طرف کیا۔۔۔

اسں سے حیرت پوچھ رہی ہے۔۔۔۔

اسے میسج کر رہی ہے موم۔۔۔۔۔۔

کیا یہ نکاح تم نے اس سے زبردستی کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

موم اس وقت حالات ہی کچھ ایسے تھے۔۔۔ ۔۔

تم زبردستی اس پہ مسلط ہو رہے ہو۔۔۔۔۔

بیٹا ایک مرد بہت کوشش سے ایک عورت کے دل میں جگہ بناتا ہے۔کیونکہ عورت اتنی اسانی سے اعتبار نہیں کرتی۔

اور ائرہ کی کہانی تو تمہارے سامنے ہے جس لڑکی نے اپنے باپ سے دھوکہ کھایا ہو وہ کیسے اعتبار کر سکتی ہے۔

لیکن اس نے پھر بھی تمہیں ایک موقع دیا تھا۔۔۔۔۔

انہوں نے ایک ہاتھ اس کے ہاتھ پہ رکھا۔۔۔۔

لیکن تم۔۔۔۔

اپنے جذبات سے اسے اور دور کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔

زبردستی مت کرو اگر وہ ڈیورس چاہتی ہے تو اسے ڈیورس دے دو تم زبردستی قید نہیں کر سکتے۔۔۔۔

موم اپ ابھی بھی اسی کی سائیڈ لے رہی ہیں۔

اسے اب غصہ ایا تھا کہ اس نے سب کچھ انہیں بتا دیا۔

اوکے دے دوں گا

اس نے روخ سیدھا کیا تھا کہ ایمن کی کال انا شروع ہو گئی تھی۔۔۔

وہ اٹھانے لگا تھا بشرا بیگم نے اس کا ہاتھ روکا۔۔

جو تم یہ سوچ کر کر رہے ہو کہ ائرہ کو برا لگے گا تو تم اپنے ساتھ غلط کر رہے ہو۔۔۔۔

بیٹا یہ کھیل تمہیں جتنا اسان لگ رہا ہے اتنا اسان نہیں ہے۔

لگتا ہے اپ کو یقین نہیں ہے میری بات کا میں اسے ڈیورس دے رہا ہوں اور اس سے شادی کر رہا ہوں۔۔۔

اگر اس میں تھوڑی سی بھی سچائی ہوتی تو میں ضرور یقین کر لیتی بیٹے ہو تم میرے رگ رگ سے واقف ہوں۔۔۔۔

موم اپ کچھ بھی سمجھے جو سچ ہے وہ سچ ہے۔۔۔

اس نے ان کے ہاتھ کو ہلکا سا جھٹکا اور اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف ایا کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اس نے ایک دفعہ گیسٹ روم کو ضرور دیکھا تھا۔۔۔

___

تین سے چار گھنٹے ہو گئے تھے اسے سوئے لیکن نیند دور دور تک نہیں تھی اس کی انکھوں میں۔۔۔۔۔۔

وہ کروٹ بدلتی۔۔۔۔

اسے دراصل ڈر تھا اس کا کہ کہیں سے وہ نہ ا جائے۔۔

حالانکہ اس نے کھڑکی دروازے کو بند کرتے ہوئے کئی دفعہ چک بھی کیا تھا۔۔۔

اس نے ڈرایا بھی تو بہت تھا۔۔۔

وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اسے دروازے میں ہلچل محسوس ہوئی جیسے کوئی چابی گھما رہا ہو۔۔۔

رات کافی ہو گئی تھی۔۔۔

وہ ایک دم سے سیدھی ہوئی تھی لیکن اس کے اٹھنے سے پہلے ہی وہ اندر ا چکا تھا۔۔۔

تم کیوں بھول گئی تھی کہ یہ میرا ہی گھر ہے۔۔۔۔

کمرے میں نہیں رہو گی تو کیا میں کچھ کر نہیں سکوں گا۔

لیکن ائرہ

پتہ کیا ہے میں نے بات نوٹ کی ہے کہ تمہیں پیار کی زبان سمجھ نہیں اتی اس نے روم اندر سے لوک کر دیا تھا اور چابی اس کی طرف پھینکی۔۔۔۔۔۔

اخل وہ بھاگنے ہی لگی تھی کہ اس نے پھر پکڑا۔۔۔۔

بشر وہ انہیں پکارنے ہی لگی تھی کہ اس نے ہاتھ اس کے منہ پہ رکھا۔۔۔

وہ ابھی ان سے یوز ٹو نہیں تھی تو کبھی انٹی کبھی موم تو کبھی بشر بیگم کہتی۔۔۔۔

چلاؤ گی اس نے اس کے دونوں ہاتھوں کو ایک ہاتھ میں جکڑا ہو گیا۔۔۔۔

کیوں کہا کہ گیسٹ روم میں سونا ہے بتاؤ کیوں غصے کو دعوت دیتی ہو۔۔۔۔۔۔

تم ڈیورس دینے والے ہو نا مجھے اس نے ایک جھٹکے میں اسے پیچھے گرایا تھا۔۔۔

ہاں تمہاری مرضی سے ہی دے رہا ہوں۔۔۔۔۔

ہاں نہیں رہنا چاہتی اپنی مرضی سے ہی لے رہی ہوں۔۔

اب دفع ہو جاؤ جہاں سے ورنہ میں شور مچا کے پورے گھر کو اکٹھا کر لو گی۔۔۔۔

مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تمہارے پاس انے کا اس نے اس کے منہ کو دبوچا۔۔۔۔۔۔

بس سبق سکھانا ہے پھر چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔

تم پیپرز کا بہانہ کیوں کر رہے ہو ڈیورس منہ سے بھی دی جا سکتی ہے۔۔۔۔

اگے ہاتھوں سے دی تو تھی تم نے ایکسیپٹ ہی نہیں کی۔

اس نے اس کے منہ کو چھوڑ دیا تھا اور بالکل اس کے مقابل کھڑا تھا۔۔۔

وہ اس سے سوال تو کر رہی تھی لیکن اندر سے اتنا ہی ڈر رہی تھی۔

لیکن اب کیا ہو سکتا تھا وہ روم لاک کر چکا تھا۔۔۔۔

روم وہ لاک کر چکا تھا ائرہ کو سمجھ نہیں ارہی تھی اس سے جان کیسے چھڑوائے۔۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ اس کے بازو پہ رکھا تھا وہ ایکٹنگ کر رہی تھی۔

کیا ہوا اس نے بھی ماتھے پہ بل ڈالتے ہوئے پوچھا اور اسے تھا ما۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

کیا پانی مل سکتا ہے وہ اچھے سے جانتی تھی کہ روم میں پانی نہیں ہے۔۔۔۔۔

اسے لاک کھولنا ہی پڑے گا۔۔۔

ہاں کیوں نہیں اس نے اسے بیڈ پہ بٹھایا بلینکلٹ اس کے اوپر اور ا پانی لے کر ا رہا ہو ۔۔۔۔۔۔

وہ باہر کی طرف بھاگا تھا کہ اس کے باہر جاتے ہی وہ اٹھی اور اندر سے روم لاک کر دیا چابیاں تو وہ پہلے ہی اندر پھینک چکا تھا۔۔۔۔

وہ حال تک پہنچا ہی تھا کہ اسے دروازہ بند ہونے کی اواز ائی۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اس نے غصے سے چئیر کو ہٹ کیا تھا۔۔۔۔

اس کی ایکٹنگ سمجھ چکا تھا وہ۔۔۔۔

دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا وہ توڑ نہیں سکتا شور ہوگا۔۔۔۔۔۔

وہ بھی ہار مان کر اپنے روم میں سو گیا تھا لیکن اس کا بدلہ وہ ضرور لینے کا سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

جیسے کیسے رات گزر گئی تھی۔

ائرہ صبح ہی ناشتے کے ٹیبل پر اگئی تھی بشرا بیگم کے بلانے پر۔۔

اور وہ اس کا اکیلے میں سامنا بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اخل بھی ا چکا تھا لیکن اس نے ایک نظر بھی اسے نہیں دیکھا تھا رات والی بات پہ وہ ابھی بھی غصہ تھا۔۔۔۔

اس کی محبت کا مذاق اڑایا تھا اس نے۔۔۔۔۔

انہوں نے ناشتہ شروع ہی کیا تھا کہ ایمن ٹپک پڑی۔۔۔۔

ہیلو گائز اس نے جینز پینٹ پہنی تھی ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔

اخل کو تو جیسے موقع مل گیا ہو اسے جیلس کروانے کا۔

ماشاءاللہ بیٹی بالکل ٹھیک ٹائم پہ ائی ہو میلان کمران نے کہا۔۔۔۔

آئرہ اپ نے اسے چیئر پر بیٹھی تھی جہاں وہ پہلے بیٹھتی تھی اس کے ساتھ۔۔

لڑکی اٹھ کر ادھر بیٹھو۔میلان کمران کا اس کا پہلے ہی بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

میلان کمران نے سخت لہجے میں کہا تھا ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اخل نے ایک نظر اسے دیکھا پھر چئیر کو دیکھا

اس کی نظریں مرنے سے پہلے ہی ایمن اس چیئر پر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔

ہم چل رہے ہیں نا اج شاپنگ پہ۔۔۔

ہاں کیوں نہیں۔تم پہلے ناشتہ تو کر لو وہ اس کے سامنے ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔۔

ائرہ بیٹا تم سارا دن گھر میں رہ کے کیا کرو گی تم بھی ان کے ساتھ چلی جاؤ۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کو بھی پکا یقین تھا کہ وہ ڈیورس نہیں دینے والا۔

بشر بیگم کی بات پے میلان کمران نے غصے سے دیکھا تھا۔۔

بشرا بیگم نے بھی انہی کی نظر سے دیکھا۔۔۔

بشربیگم کو ایمن نہیں پسند تھی اور انہیں ائرہ نہیں پسند تھی۔۔۔۔۔

ہاں کیوں نہیں تم بھی جوائن کر سکتی ہو ہمیں اخل نے جوس کا شپ لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔

ایمن کو بھی فریدہ بیگم نے اچھے سے ٹرین کیا ہوا تھا اس نے بھی اچھا بننے کی ایکٹنگ کی اور اسے ساتھ چلنے کا کہا۔

کیونکہ اسے امید تھی کہ کچھ دنوں میں تو وہ ویسے بھی یہاں سے جانے والی ہے۔تو کچھ ایکٹنگ ہی کر لی جائے اسے ایکسیپٹ کرنے کی ۔۔۔۔۔

میں نہیں جاؤں گی اس نے نظروں کو نیچے جھکایا اور پھر سے چمچ پلیٹ میں ہلانے لگی۔۔۔۔

اور بس کب سے املیٹ کو دائیں بائیں کر رہی تھی۔جیسے پلیٹ میں پکا رہی ہو۔۔۔۔

نہیں تم جاؤ گی بشرا بیگم نے کہا۔۔۔۔۔۔۔

لہجہ سخت تھا ایمن نے نوٹس کیا تھا۔

اور کچھ کچھ سمجھ بھی رہی تھی۔۔۔