Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 30

Ayra by Aneeta

گاڑی کو بہت تیزی سے چلا رہا تھا وہ ۔۔۔۔۔۔

دل تو کررہا ہے۔جان لے لو اپنی بھی اور تمہاری بھی اس نے گاڑی کو روڈ سائیڈ پہ ٹھوکا۔۔۔۔۔۔۔

وہ لمحہ اس کے ذہن میں اٹک کر رہ گیا تھا جب وہ اس کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھی تھی۔اور وہ اسے ڈیورس کے بارے میں سمجھا رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ مسلسل روئے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منہ کو دونوں ہاتھوں میں چھپایا ہوا تھا اس نے۔۔۔

۔۔

اس نے ہاتھ زور سے ہینڈل پہ مارا تھا۔۔۔۔۔۔۔

تم نہیں بچوں گی ائرہ آج نہیں۔۔۔۔۔۔۔

بریک پہ ہاتھ رکھتے اس نے کہا۔۔۔۔

پھر اسی سپیڈ سے وہ گھر ایا تھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ کی شال بازو پہ لٹکی ہوئی تھی دوپٹہ بھی ایک طرف تھا۔

تھپڑوں سے بال بھی بکھر چکے تھے۔۔۔۔

کہاں مر گئے تھے۔سکوٹی گارڈ نے دیر سے دروازہ کھولا تو وہ اس پہ چیخا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ دل ہی دل میں تسبیح پڑھ رہی تھی۔۔۔۔

اس سے پچنے کی۔۔۔

خود گاڑی سے اترتے ہوئے اس نے اسے بھی اترنے کا کہا تھا۔۔۔

پر ڈر کی وجہ سے اس میں ہمت نہیں تھی۔

تمہیں سمجھ نہیں ائی میں نے کیا کہا ہے۔گاڑی کے دروازے کو کھول کر اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا تھا باہر۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم گھر میں نہیں تھی وہ باہر گئی تھی شاپنگ کے لیے۔۔۔۔۔

یقینا اسے بچا لیتی اگر گھر ہوتی۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔اس نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

مر گیا ہے اخل۔۔۔۔۔

اب نام نہ لینا اپنی زبان سے۔۔۔۔۔۔

اسے بازو سے گھسیٹتا ہوا وہ اندر لے کر ایا تھا۔گھر میں کلثوم اور کچھ دوسرے ملازم تھے جو شور سن کر حال میں کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔

کیا تماشہ لگا ہے۔۔۔۔۔

اس کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ سارے ملازموں نے اپنا اپنا کام شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔

وہ اسے کھینچتے ہوئے۔لے کے جا رہا تھا لیکن ائرہ نے نوٹ کیا تھا کہ ان کا کمرہ تو پیچھے رہ گیا۔۔۔۔۔

کہاں لے کے جا رہے ہو وہ اسے اوپر لے کے جا رہا تھا۔۔۔

تیسری منزل پر لے کر ایا ۔۔۔

تم اب یہی ڈیزرو کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔

ایک چھوٹے سے سٹور میں اسے پھینکا تھا اس نے۔۔۔

اس کی شال جو پہلے ہی لٹکی ہوئی تھی ایک طرف گر گئی۔

میں یہاں نہیں رہوں گی وہ اٹھ کر اس سے لپٹی تھی۔۔۔

اخل مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے۔۔۔۔۔

کوٹھی بہت بڑی تھی وہ تیسری منزل تھی۔۔۔۔

اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اور یہ حرکتیں کرتے ہوئے ڈر نہیں لگتا۔۔۔

چھوڑو یار اس نے پھر سے اسے نیچے گرایا تھوڑا اپنے کوٹ کو سیدھا کیا۔۔

وہ جب اس کے ساتھ لپٹی تھی تو وہ تھوڑا ڈاؤن ہو گیا تھا لیکن ایک دم سے دوبارہ اکڑ میں ایا۔۔۔۔

سوری میں نہیں کروں گی میں اج کے بعد ایسا کچھ نہیں کروں گی پلیز وہ دروازے کو پکڑ کے کھڑی ہو گئی تھی کہ وہ بند نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔

جو کچھ اس کی زندگی میں ہو چکا تھا اسے اندھیرے میں سچ میں بہت ڈر لگتا تھا۔۔۔۔۔

اسے گزرا ہوا لمحہ دبوچنے لگتا تھا۔۔۔۔۔

اس نے زبردستی اسے اندر پھینکا۔۔۔۔۔

اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔

تم ایک گھٹیا انسان ہو گھٹیا۔اخل۔۔۔۔۔۔

سوری اس نے بس ڈر کی وجہ سے کہا تھا. اندر سے اسے کوئی ملال نہیں تھا۔اور اب اس کی بھی بس ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

اس نے اسی زور کے ساتھ پھر سے دروازہ کھولا وہ سہم کے پیچھے ہوئی۔۔۔۔

پھر بکواس اس نے ارام سے بولا ۔۔۔۔

پھر بکواس اس بار لہجہ تھوڑا اونچا ہوا تھا۔۔۔۔۔

میں گھٹیا ہوں تو تم کیا ہو۔میرے جاتے ہی اس یار کے پاس نکل گئی۔۔۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔ائرہ نے غصے سے کہا۔۔۔

کیا۔اخل۔اخل۔سمجھتی کیا ہو خود کو۔۔۔

اس نے اس کے منہ کو دبوچا۔۔۔

ا۔۔۔۔۔اخل۔۔۔۔۔

اس کے منہ کا جبڑا دہنے لگا تھا۔۔۔۔۔

ایا مزہ۔۔۔۔

یا اور دو۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بہت فورس کیا تھا۔اس نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اسے پھر سے تھپڑوں گا یا بیلٹ کا ڈر تھا۔۔۔۔۔۔

اوووو فورس کیا گیا تھا میڈم کو۔۔۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

وہ فورس کرنے کے لیے جو اس نے فوج بھیجی تھی کیا وہ گھر کے باہر پوری ا گئی تھی۔۔۔۔

کیسے کر سکتا ہے کوئی اخل میلان کی وائف کو فورس۔۔۔۔

بتاؤ کیسے۔۔۔۔۔

اس نے پھر سے اس کے منہ کو دبوچا۔۔۔

وہ اچھے سے جانتی تھی کہ وہ ابھی کچھ بھی بھولے گی تو اس کا مطلب اس نے غلط ہی لینا ہے۔۔۔۔۔

بولتی کیوں بند ہو گئی بولو۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس کے ہاتھ کو پیچھے کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس کے منہ کا جبڑا بری طرح درد کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اخل نے بھی ایک جھٹکے میں نیچے پھینکا۔۔۔۔۔

وہ غصے سے دروازہ بند کرتا اسے لاک لگا چکا تھا۔۔۔۔

اور پھر اسی سپیڈ سے نیچے اترا تھا۔۔۔۔

ائرہ اوپر ہے۔۔۔۔

یہ موم کو نہیں پتہ چلنا چاہیے۔۔۔۔

اس نے چابیوں کو ڈروں میں رکھتے ہوئے کہا۔۔

اتنی دیر میں بشرا بیگم بھی ا چکی تھی۔۔۔۔

جلدی اگئے۔۔۔۔۔

بشرا بیگم لفظوں کو گھسیٹ رہی تھی ڈر کے مارے۔۔

انہوں نے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ صوفے پر رکھے۔

انہیں ٹینشن تھی کہ ائرہ کا پتہ لگ گیا ہوگا۔۔۔۔

ائرہ انہوں نے ڈرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

وہ پھپو ۔۔۔۔۔کچھ دن وہیں رہے گی ۔۔۔۔

پھپھو کے گھر ہے۔۔۔۔

پہلے اسے بہانہ نہیں مل رہا تھا۔۔۔

لیکن وہ کیا جانتا تھا کہ وہ یہی بہانہ بنا کر گھر سے نکلی تھی۔۔۔

یہ کہتا وہ باہر چلا گیا تھا اسے تسلی تھی کہ گھر کے ملازم کچھ نہیں بولیں گے اس کے ڈر کی وجہ سے۔۔۔۔۔

دو دن وہیں رہے گی ہوش ٹھکانے ائے گی اس کی۔۔۔۔۔

ڈیورس چاہیے میڈم کو۔اس نے زور سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔

اب اسد کی باری تھی۔۔۔۔۔

وہ کچھ دیر پہلے ڈر رہی تھی اب وہیں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔

اپنی قسمت پہ انسو بہا رہی تھی۔

یا اللہ میری مدد کر۔۔۔۔۔۔

مجھے اس جانور سے ازادی دلو دے۔۔۔۔۔

وہ اس کے معاملے میں بہت تھوڑے دل کا مالک تھا۔۔۔

وہ ایسے بے چین پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔

وہ جب جب اسد اور اس کا وہ سین ذہن میں دھراتا اسے غصہ اتا تھا۔۔۔۔

وہ یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کیسے وہ وہاں گئی کیسے ڈیورس پیپر اور یہ سب اور اتنی دیر میں وہ اس کے ساتھ رہی۔۔۔۔

اور کب سے پلاننگ چل رہی تھی۔۔۔۔

___

کہاں ہے یہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اسد کو افس میں نہ پا کر وہ چیخا تھا۔۔۔۔۔

سر وہ ہاسپٹل میں ہے ایک لڑکی نے کہا۔۔۔۔

ریسٹورنٹ کے اندر ہی افس بنا تھا اس کا۔۔۔

ایک لڑکا اور تین لڑکیاں موجود تھی افس میں۔۔۔

کون سے ہاسپٹل میں ۔۔۔وہ دوبارہ اس کے افس میں ایا تھا۔۔

تھوڑی دیر میں اس لڑکے نے ہاسپٹل کا بتا دیا تھا اس کے غصے کو دیکھ کر کیونکہ وہ بہت غصے میں تھا۔۔۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسے کوئی نقصان پہنچے۔۔۔۔۔

وہ لڑکیاں بھی ڈر کے مارے ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھی۔

کیونکہ جس نے اسد کا یہ حال کیا تھا وہ انہیں بخشے گا کیا۔

وہ اسی رفتار کے ساتھ اس ہاسپٹل پہنچا تھا۔۔۔۔۔

تجھے کیا لگا اتنی اسانی سے موت نصیب ہو جائے گی۔

تو بہت پچھتائے گا بہت پچھتائے گا۔۔۔۔

وہ گریبان سے پکڑ کر اس کے اوپر جھکا تھا۔۔۔۔۔

اسے ڈیورس تو دینی پڑے گی ایک منٹ بھی نہیں رہے گی تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔

تو باپ ہے اس کا۔۔۔۔۔۔۔

ہے کون اس نے گریبان سے پکڑ کر اسے اٹھایا ہی تھا کہ ڈاکٹر بھاگتی ائی اندر۔۔۔۔۔۔

یہ اپ کیا کر رہے ہیں پلیز چھوڑ دیں۔۔۔۔

ان کی حالت اگے نازک ہے۔۔۔۔

جان اتنی نازک ہے۔کہ اتنے سے میں ہاسپٹل پہنچ گیا اور ایا مجھ سے ائرہ کو لینے ۔۔۔۔۔

پہلے اتنا جگر تو لا۔۔۔۔۔۔۔

تیری بہن لندن میں پڑ رہی ہے نا۔۔۔۔۔

کیوں بہن کی ہستی کھیلتی زندگی کو تباہ کرنے پہ تلا ہے۔۔۔

اس نے اسے بیڈ پہ پٹاہا تھا اور باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔

اس کی ساری معلومات اکٹھی کی تھی اس نے۔۔۔۔

تیری موت میرے ہاتھوں لکھی ہے۔۔۔۔

اس نے کورٹ کو اگے کیا۔۔۔۔۔۔۔

اسد بہن کا سن کر چپ ہو گیا تھا۔۔۔

ورنہ وہ اسے ایسے نہ جانے دیتا۔۔۔۔۔

کیونکہ وہ خود ہاسپٹل میں تھا تو بہن کی حفاظت کیسے کرتا۔۔۔۔۔۔

___

یہ لڑکی فون کیوں نہیں اٹھا رہی بشرا بیگم کو فکر ہو رہی تھی۔۔۔۔

نہ جانے کب سے فون ٹرائی کر رہی تھی وہ۔۔۔۔

پتہ نہیں کہاں مصروف ہے۔۔۔۔

تمہارا بیٹا کہاں ہے اج پھر افس سے غائب ہو گیا تھا۔

باپ کی عمر ہو گئی ہے۔اور یہ کوئی بھی ذمہ داری سیدھے طریقے سے لینے کے لیے تیار نہیں۔۔۔۔

بشرا بیگم نے ان کا کوٹ اتروایا۔۔

کلثوم کافی لے اؤ۔۔۔۔۔

وہ ڈرائنگ روم میں تھے ۔

شام کو وسیم کی فیملی کو انوائٹ کیا

فنکشن کی ڈیٹ رکھیں گے۔۔

کیسے فنکشن کی بشرا بیگم نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

تمہارے بیٹے اور ایمن کے فنکشن کی ائی سمجھ۔۔۔

میلان وہ بولتے ہوئے پیچھے گئی تھی۔۔۔۔

___

اس کا غصہ ٹھنڈا تو نہیں ہوا تھا لیکن اسے فکر تھی اس کی۔۔۔۔۔

اس کا ارادہ تو اسے دو تین دن بند رکھنے کا تھا۔پر کچھ گھنٹوں میں اسے فکر لاحق ہو گئی تھی۔۔۔۔

گھر میں اتے ہی وہ سب سے پہلے اوپر کی طرف بھاگا۔۔۔

اس نے دروازہ کھولا تھا لیکن وہ شاید سو چکی تھی۔۔

ابھی رات ہونے کو وقت تھا۔ ۔۔

کمرے میں پرانا سامان پڑا تھا لیٹنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔

اٹھو چلو روم میں۔۔۔۔۔۔

اس کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے اس نے کہا ۔۔۔۔۔

اس نے سہارے سے اسے کھڑا کیا تھا۔۔۔۔۔

اسے غصہ تو شدید تھا لیکن وہ پھر سے کسی مصیبت میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں وہ روم میں ا چکے تھے۔۔۔۔

سر یہ کوریل والا دے کر گیا ہے ۔

ائرہ خود ہی بیڈ پر بیٹھ گئی تھی اور بلینکٹ کو اوپر کر لیا تھا۔۔۔۔۔

وہ سونے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔۔۔

اس نے شارٹ فراک پہنی تھی۔سمپل فل پرپل کلر میں۔۔۔۔

بارڈر پہ ہلکی سی گڈائی ہوئی تھی۔۔۔

اس کے لیٹتے ہی اس نے رخ ملازمہ کی طرف کیا۔۔۔۔۔

اب یہ کیا ہے اس نے غصے سے کہا تھا۔۔۔۔

وہ ہاکی کاغذ میں پیک تھا کچھ۔ملازمہ بھی دے کر جا چکی تھی۔۔۔۔۔

اس کی سیل کو غصے سے کھولا اس نے۔۔۔۔۔۔

اس کا بھی حلیہ خراب ہو چکا تھا۔۔۔۔

اور فائل نکالی وہ ڈیورس پیپر تھا۔۔۔۔

ائرہ کی طرف سے بھیجی گئی ڈیورس۔۔۔۔

وہ جو پہلے ہی غصے میں تھا زور سے اس کو زمین پر پٹاہا۔۔۔۔۔

تم باز کیوں نہیں ا رہی۔۔۔۔۔

مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔

ائرو کو بالکل بھی نہیں پتہ تھا کہ کیا ہے۔۔۔۔

اب کیا ہو گیا۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا یہ کیا ہے اس نے زمین سے اٹھا کر فائل اس کے منہ پے ماری۔۔۔۔۔۔

اس کے ذہن میں اسد کی بات اگئی تھی کہ وہ کورٹ کے ذریعے بھیجے گا۔۔۔۔۔

پھر چاہیے ڈیورس تمہیں اگے کیا سمجھ نہیں ائی۔۔۔۔

ہاں دو ڈیورس مجھے دو پھر سے دو۔۔۔۔

وہ بیڈ سے اٹھی تھی اور اس بار بیلٹ سے دینا۔تاکہ تمہاری روح کو سکون ملے۔۔۔۔

اور اللہ کر کے میری جان نکل جائے۔۔۔۔۔

کیوں نہیں سمجھ ا رہی تمہیں کیوں نہیں سمجھ ا رہی۔۔

ائرہ میں کچھ کر بیٹھوں گا۔۔۔۔

اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو جکڑا۔۔۔۔۔

یا اللہ صبر دے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان دونوں کے چلانے سے بشرا بیگم کمرے میں ائی تھی۔

بھاگتے ہوئے۔۔۔

انہوں نے اتے ہی ائرہ کو گلے سے لگایا تھا وہ رو رہی تھی اور اس کی حالت بھی سب بتارہی تھی

انہوں نے یہی گیسٹ لگایا تھا کہ شاید پوچھے بغیر گئی ہے اس وجہ سے۔۔۔۔

بیٹی تم تو پھپھو کے گھر رہنے والی تھی نا۔۔

مجھ سے پوچھ کر گئی تھی وہ۔۔۔۔۔

اچھا تو یہ بہانہ بنا کر گئی تھی تم۔

بہانا بشرا بگیم نے حیرانگی سے کہا۔۔۔

نہیں تھی میں پھوپو کے گھر اپ کے لاڈلے بیٹے نے مجھے اوپر بند کیا تھا۔۔۔۔

اچھا اور کیوں بند کیا تھا یہ نہیں بتاؤ گی۔۔۔

پپو کے بہانے اسد سے ملنے گئی تھی۔۔۔

اخل ۔۔۔۔۔۔

اس کے لہجے پہ بشرا بیگم سخت حفا ہوئی تھی۔۔

تم نے اسے اوپر بند کیا تھا۔۔۔

تم کس حد تک گرو گے۔۔۔۔۔

میلان کامران بھی کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔۔۔

جب سے یہ لڑکی ائی ہے اس گھر میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔۔۔۔۔

شام کو میں نے گیسٹ انوائٹ کیے ہیں اور ابھی سے یہ حال ہے۔۔۔۔۔

اب کیا ہوا ہے دونوں کو۔۔۔

بشرا بیگم نے وہ فائل اٹھائی۔۔۔۔۔

ائرہ کی طرف سے ایک ڈیورس ا چکی تھی۔۔۔

ائرا بیٹی یہ کیا انہوں نے حیرانگی سے دیکھا اس کی طرف۔

مجھے نہیں رہنا اس کے ساتھ اس نے مجھے تھپڑ مارے ہیں۔۔۔

کسی حرکت پہ کھائے ہوں گے نہ میرا بیٹا پاگل ہے میلان کامران بولا تھا۔تمہیں پاگل لگتا ہے میرا بیٹا۔۔۔

سبھی لوگ پاگل ہو اپ سبھی لوگ۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

اخل غصے سے اگے بڑھنے لگا تھا کہ بشرا بیگم نے روکا۔۔

اگر اسے ڈیورس چاہیے میلان کامران کی تو دل کی بات ہوئی تھی۔

تو دو ڈیورس اسے۔۔۔

ویسے بھی کچھ دن میں فنکشن ہے تمہارا۔۔۔۔

یہ مصیبت سر سے اتر جائے تو اس سے اچھا کیا ہے۔۔

اوکے ڈیڈ میں تیار ہوں ایمن سے شادی کے لیے۔۔

وہ اسے سبق سکھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ سن کر تھوڑی شاکڈ ہوئی تھی۔

پر اس کی بلا سے جس مرضی سے کرے۔۔۔۔

اور تمہیں ڈیورس میں خود دے دوں گا پیپر ریڈی کروا لوں۔

کسی کے بنائے ہوئے پیپرز پہ نہیں اس نے وہ فائل کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کر کے اس کے منہ پہ مارا تھا۔۔۔۔۔

میلان کامران تو خوش ہو گیا تھا کہ اس نے شادی کے لیے ہاں کر دی۔۔۔۔۔

انہوں نے ساتھ ہی وسیم کو فون ملا لیا تھا۔اور بات کرتے ہوئے باہر چلے گئے تھے۔۔۔

جبکہ بشرا بیگم کو ائرہ جتنا ہی دکھ تھا ائرہ کی تکلیف انہیں دکھ پہنچا رہے تھی۔۔

لیکن انہیں سمجھ میں نہیں ا رہا تھا کہ اچانک ڈیورس اور یہ سب۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں بشرا بیگم نے اسے بیڈ پر لٹانے کے بعد بلینکٹ اوپر دیا۔۔۔۔۔۔

انہوں نے بہت کوشش کی تھی اس سے پوچھنے کی لیکن اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔

اخل نے بھی ڈیورس دینے کی حامی بھر لی تھی۔

پر بدلے میں اسے کچھ دن انتظار کرنے کا کہا تھا۔

بہانہ اس نے یہ بنایا تھا کہ پیپرز جلدی نہیں بن سکتے۔

اخل نے اوپر سے ہاں تو کر لی تھی لیکن اندر سے اسے کی فکر کھائی جا رہی تھی۔۔

___

اسد نے بہت ٹرائی کیا تھا لیکن ائرہ کا فون نہیں مل رہا تھا۔۔۔

وہ ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو گیا تھا۔

وہ ایک منٹ نہیں لگاتا ائرہ کے پاس انے کے لیے۔

لیکن اسے اسی کی فکر تھی کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے ۔

یا پھر وہ اخل جتنا جگرا نہیں رکھتا تھا اس کی محبت میں۔

اخل کی محبت باری تھی شاید۔

________

بشرا بیگم کو ٹینشن تھی کہ اج کیا ہوگا۔۔

کیونکہ وہ اچھے سے جانتی تھی۔اخل نے بس غصے سے کہا تھا۔

لیکن اس کے انکار کا تماشہ جو لگے گا انہیں اس کی بھی ٹینشن تھی۔۔۔

اور ائرہ کی بھی۔۔۔۔

سردی کی وجہ سے انہوں نے گرم شال کو لپیٹا ہوا تھا۔۔۔

اور ٹہلتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔

کبھی دائےتو کبھی بائے۔۔۔

____

چھوٹے صاحب یہ کپڑے بڑے صاحب نے بیجے ہیں اپ نے اج رات کے ڈنر پر پہننے ہیں۔۔۔

ملازمہ نوک کر کر اندر ائی تھی۔۔۔

وہ جو سوفے پر بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔

نے اسے کپڑے رکھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

ائرہ کے لیے کچھ ہلکا سا کھانے کے لیے لے اؤ۔۔۔۔

نہیں بلکہ رہنے دو ایک دودھ کا گلاس لے کر اؤ اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ابھی کھا لیا تو پھر بھوک مرے گی ڈنر پہ۔۔۔۔۔۔

مجھے کچھ نہیں چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوکے رہنے دو۔۔۔۔

بھوک لگی تو خود کھا لے گی وہ غصے سے باتھ روم کی طرف گیا تھا۔۔۔۔

مجھے صبح ہی ڈیورس دو تاکہ میں دفع ہو جاؤں اور تم ایزیلی پھر شادی کرنا۔۔۔۔

وہ جو شرٹ اتارنے ہی لگا تھا پھر سے باہر ایا

کہا نا دے دوں گا اب صبر رکھو۔۔۔۔

اور شادی دیکھ کر ہی جاؤ گی تم فکر مت کرو۔۔۔۔۔

مجھے کچھ نہیں دیکھنا۔۔۔۔۔۔

____

بیٹا یہ شادی صرف بزنس کے لیے ہے۔۔۔

اگر ہم نے پہلے ہی شرطیں رکھنا شروع کر دی۔۔۔

تو برا اثر پڑے گا۔۔۔

موم میں اس مڈل کلاس لڑکی کو وہاں برداشت نہیں کر سکتی۔

ایمن جو جینز پینٹ پہنے بیٹھی تھی پھر سے کہا اس نے وہ یہی رٹ لگائے جا رہی تھی۔۔۔

بیٹا تمہارے ڈیڈ بالکل صحیح کہہ رہے ہیں۔۔۔

یہ ایکٹنگ تمہیں بس شادی تک کرنی ہے۔اچھا بننے کی اسے ایکسیپٹ کرنے کی ۔

شادی کے بعد تمہاری منمانی ہوگی پورے گھر پہ تمہارا راج ہوگا میلان کمران کی بہو ہو گی۔۔۔۔

تمہارا پورا کنٹرول ہوگا۔۔۔۔

فریدہ اس کے پاس ا کر بیٹھی اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔۔

اخل ایک ایک اکلوتا بیٹا ہے۔۔۔۔

اور تمہارے ڈیڈ نے اس میں بھی بڑی محنت کی ہے۔

فریدہ نے زور سے کہکا لگایا تھا۔

کئی سالوں سے ہم پلیننگ کر رہے ہیں اور اب ایک تمہاری ضد کی وجہ سے سب مٹی میں مل جائے گا۔

موم میں انکار کب کر رہی ہوں میں تو بس یہ کہہ رہی ہوں کہ وہ ائرہ کو ڈیورس دے۔

بیٹا اگر وہ ڈیورس نہیں دے گا تو ہم اسے اس کی زندگی سے ہی دفع کر دیں گے۔۔۔

تمہیں اپنے موم ڈیڈ پہ اتنا تو یقین رکھنا چاہیے۔

وسیم جو موبائل میں مصروف تھا وہ بھی اٹھ کر اس کے دائیں طرف بیٹھا۔۔

بیٹی بس اب سے مجھ پر چھوڑو میں جیسا کہہ رہا ہوں تمہیں ویسا ہی کرنا ہے۔۔۔۔۔

_____

ڈنر ریڈی تھا۔۔۔۔۔

وسیم ایمن اور فریدہ بھی ا چکے تھے۔۔۔۔۔

اخل ریڈی ہونا تو نہیں چاہتا تھا لیکن ائرہ کو جیلس کرنے کے چکر میں اس نے وہ تھری پیس سوٹ پہن لیا تھا۔۔۔

جو بلیک اور وائٹ میں تھا۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کے اصرار کرنے پر ائرہ نے بھی ابھی ریڈ کلر کی میکسی پہنی تھی۔۔۔

لیکن وہ جانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔

بشرا بیگم نہیں چاہتی تھی کہ اسے خاندان سےا لگ سمجھا جائے

انہوں نے اسے موشنل کیا تھا عائزہ کے نام پر۔۔۔۔

وہ ان کے ایموشنل کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔

__

اس گھر کی بہو ائرہ ہے یہ نیکلس اس کو دینا چاہیے نہ کہ ایمن کو جو ابھی بہو بنی نہیں ۔۔۔

بشرا بیگم تم بھول رہی ہو یہ ہمارا خاندانی نیکلس ہے۔ کروڑو کی مالکیت کا۔۔۔۔۔

یہ وہ دو ٹکے کی لڑکی پہنیں گی۔۔۔

میلان اپ کیوں بول رہے ہیں کہ وہ بہو ہے اس کی۔

تم نے شاید سنا نہیں تھا وہ ڈیورس دے رہا ہے اسے۔۔۔

اور اب کوئی بحث نہیں یہ نیکلس اج اسے پہناؤ ہوگی تم۔۔۔

کچھ دیر میں سبھی لوگ ڈنر پہ ا چکے تھے۔۔

بشرا بیگم سمجھ نہیں پا رہی تھی کیونکہ یہ نیکلس تو شادی کے بعد پہنایا جاتا ہے۔

یہ ان کا خاندانی نیکلس تھا۔

وہ کچھ دن پہلے ائرہ کو دینا چاہتی تھی لیکن میلان نے سختی سے پہلے ہی منع کر دیا تھا۔

سبھی لوگ ٹیبل پر موجود تھے۔۔۔

طرح طرح کے پکوان بنے تھے۔

ایمن اخل کو تارے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ملٹی کلر میں میکسی پہنی تھی بالوں کو فل رول کیا ہوا تھا۔اور میک اپ کی تو دکان لگ رہی تھی۔

میکسی بھی چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور شائننگ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

بشرا بیگم ایکس کیوز میں کہا کے اٹھی تھی۔۔۔۔

ائرہ کی وہ منتیں تو کر کے ائی تھی انے کی لیکن وہ پھر بھی نہیں ائی تھی۔۔

اخل بھی نہ جانے کتنی دفعہ مڑ کر دیکھ چکا تھا۔

اس کے سامنے تو بڑے ایٹیٹیوڈ سے تیار ہوا تھا اور باہر ایا تھا لیکن اندر سے فکر اسی کی تھی۔۔۔۔۔

ائرہ بیٹی تم ابھی تک نہیں ائی۔

میں کیا کروں گی میں نے اپ کو کہا نا میں نہیں ا رہی میں کیا کروں گی۔۔۔

بشرا بیگم بھی اچھے سے جانتی تھی۔کے اخل کا دھیان اسی کی طرف ہے۔۔۔

میں اس فیملی کا حصہ زیادہ نہیں رہنے والی

بس کچھ ہی دنوں کی بات ہے۔

اپ کو میری اتنی عادت نہیں ڈالنی چاہیے۔۔

اب تم میرا دل توڑ رہی ہو۔۔

اپنی موم کی اتنی سے بھی بات نہیں مانو گی۔

وہ اسے ایموشنل بلیک میل کر چکی تھی۔۔

کیونکہ بشرا بیگم چاہتی تھی کہ فریدہ لوگوں کو پتہ لگے کہ وہ ابھی بھی اس گھر کی بہو ہے۔

ان کے بہت اصرار پر وہ ان کے ساتھ ائی تھی۔

وہ اخل کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھتی تھی لیکن اج وہاں ایمن بیٹھی تھی۔

اسے پہلا دھچکا لگا۔پر اسے پرواہ نہیں تھی۔۔

اس کے اتے ہی اخل نے ریلیکس رہنے کی ایکٹنگ شروع کر دی تھی جیسے اسے بھی کوئی پرواہ نہ ہو۔۔

بشرا بیگم نے اسے اپنے ساتھ بٹھا لیا تھا۔۔۔

ٹیبل پر موجود کسی بندے نے اسے ویلکم نہیں کیا تھا اس نے بھی کسی کو سلام نہیں دیا تھا۔۔۔

میلان کامران کا موڈ خراب ہو گیا اسے دیکھتے ہی۔۔

کھانا شروع کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ ہماری ایک خاندانی رسم ہو جائے۔۔۔

وسیم کی تو دل کی بات ہوئی تھی۔

ایمن نے ابھی تھوڑی شرمانے کی ایکٹنگ کی تھی۔۔

اخل کو اندازہ نہیں تھا کہ کس متعلق بات ہو رہی ہے۔

میلان کامران کے کہنے پہ بشرا بیگم سیٹ لے کر ائی تھی۔

یہ ہمارا خاندانی سیٹ ہے میں چاہتا ہوں کہ اج اس پر مسرت موقع پر اپنی ہونے والی بہو کو پہنایا جائے۔۔

ائرہ۔۔۔۔

کو محسوس ہو رہا تھا۔کہ اسے نہیں انا چاہیے تھا یہاں۔

۔

اس دو ٹکے کی لڑکی کو میں ابھی سبق سکھاتی ہوں فریدہ نے دل ہی میں کہا۔

اخل کو بھی اب اچھا نہیں لگ رہا تھا کیونکہ اس سیٹ پہ حق صرف ائرہ کا تھا۔۔۔۔۔۔

پر وہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننا چاہتا تھا۔۔۔۔

بشرا بیگم اپ یہ سیٹ خود اپنی ہونے والی بہو کو پہنائیں گی میلان نے حکم دیا تھا۔۔

اگر اپ کو برا نہ لگے تو ہم چاہتے ہیں کہ یہ اخل پہنائے ہماری بیٹی کو فریدہ نے کہا تھا۔۔

اخل نے ایک دم سے ائرہ کی طرف دیکھا ائرہ نے بھی اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔

ائرہ کو اچھا نہیں لگ رہا تھا یہاں بیٹھنا۔۔۔۔

وہ اٹھنے لگی تھی کہ بشرہ بیگم نے اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔وہ جیلس نہیں ہو رہی تھی بس شاید فیملی فنکشن تھا اس لیے۔یا یہ قدرتی تھا۔انسان کے پاس بیکار ہی چیز کیوں نہ ہو جب وہ کسی اور کے ہاتھ میں جاتی ہے تو اسے الجھن ہوتی ہے۔۔۔

اخل بیٹا دیکھ کیا رہے ہو اپنی موم سے ہار لو اور ایمن کو پہنا دو۔۔

وہ ائرہ کو اور جیلس کرنا چاہتا تھا۔۔۔

بشرا بیگم کچھ بولنے ہی لگی تھی۔اخل چیئر سے اٹھا۔

بشرا بیگم نے یہ بالکل ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا۔۔

اس نے ہار کو اٹھایا ۔اور ایمن کی پشت پر کھڑا ہو کے اسے پہنانے لگا دھیان اس کا ائرہ کی طرف تھا۔۔۔

پکچر ہونے چاہیے اس موقع پر۔۔۔

فریدہ نے موبائل اٹھایا تھا۔۔۔۔۔

اس نے دو تین پکچرز کلک کی تھی ان دونوں کی۔۔

ایک گروپ فوٹو بناتے ہیں اس نے ائرہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا۔۔۔

لڑکی کیا تم دو منٹ یہاں سے اٹھ سکتی ہو۔۔۔

اخل نے غصے کی نگاہ فریدہ پر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔

فریدہ کے الفاظ ابھی ادھے ہی تھے کہ اس نے اٹھ کر کمرے کی طرف روح کیا اس کی برداشت سے باہر ہو گیا تھا۔۔۔

وہ بھی پکچر میں اتی تو لوگ سوال کرتے ہیں۔ویسے بھی وہ اس ٹیبل پہ سوٹ نہیں کرتی۔۔۔

میلان کامران انہیں پہلے ہی ڈیورس کی خبر دے چکا تھا۔

ایمن تو چاہتی ہی یہی تھی۔۔

اخل کو اب شدید غصہ ا رہا تھا خود پر پر بھی اور ان پر بھی۔۔۔

بشرا بیگم کو بھی بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔اس کی ایسے انسلٹ کرنا۔۔۔

اس نے کمرے میں جا کر ایک گہرا سانس لیا تھا۔

وہ ایک منٹ بھی رکنا نہیں چاہتی تھی۔اب۔

اس نے زارو قطار رونا شروع کر دیا تھا۔

اور پھر بیڈ پر لیٹ گئی تھی بلینکٹ اور لیا تھا اس نے۔۔۔

وہی کپڑے پہنے تھے اس نے چینج بھی نہیں کیا تھا۔۔۔

اخل خود تو کمرے میں نہیں ایا تھا وہ اتنی جلدی ہار نہیں ماننے والا تھا ۔

پر اس نے کھانا ضرور بجوایا تھا۔لیکن ملازمہ کو سختی سے منع کیا تھا کہ یہ نہ کہے کہ میں نے بھیجا ہے۔

لیکن ائرہ نے نہیں کھایا تھا اس نے واپس بجوا دیا تھا۔۔