Ayra by Aneeta NovelR50474 Ayra Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Ayra Episode 10
Ayra by Aneeta
صبح کا سورج نکلتے ہی ائرہ کی انکھ کھلی۔اس نے خودکو ایک بند کمرے میں پایا تھا ہلکی سی روشنی کہیں سے ا رہی تھی۔۔۔۔
حالی انکھوں سے اس نے کمرے کو گھوڑا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔وہ سنگل بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔
رات کا منظر اس کے ذہن میں گھومنے لگا تھا سلطان وہ
لڑکے۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔
بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔۔۔۔
ت……تم۔۔۔۔۔۔۔۔
تم گھٹیا انسان ہو۔الجھے ہوئے لفظ بوجھل لہجے سے نکلے تھے۔۔۔۔۔
میری زندگی تباہ کر دی تم نے اخل۔۔۔۔۔
کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے۔۔۔
بول نہیں رہی تھی وہ چیخ رہی تھی۔اس کی اواز کمرے میں گونج رہی تھی۔بیڈ شیٹ کو مٹھی میں اس نے دبوچ لیا تھا۔۔۔۔
اسے سب سے زیادہ دکھ اخل کا تھا۔کیونکہ باقی سب لوگوں نے سامنے سے دھوکہ دیا تھا۔جب کہ اس کی نظر میں اس نے اعتبار جیت کر دھوکہ دیا تھا۔وہ اپنے مان کے ساتھ خود بھی پوری طرح سے ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔۔
لیکن حقیقت نہیں جانتی تھی وہ۔۔۔۔۔۔
میں کیسے اس پر اعتبار کر سکتی ہوں۔اب خود کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا اس نے۔۔۔۔
تمہارے سکے باپ نے تمہارا سودا کر دیا تھا ائرہ۔۔۔۔
کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے تم۔۔۔۔۔
اس پر یقین کر سکتی ہو۔۔۔۔۔۔
سب برباد ہو گیا۔۔۔۔
نہ جانے یہ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔۔۔
نظر اب بند دروازے کی طرف گئی تھی۔کتنی ہی مشکلیں تھیں جن کے بارے میں اسے سوچنا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یا اللہ میری مدد کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________
سی ٹی وی فوٹیج مجھے چیک کرنا ہے۔۔۔
وہ اسی کیفے میں ایا تھا۔۔۔۔۔
سی سی ٹی وی فورٹیج اس کے سامنے چل رہی تھی۔۔۔
رات اس نے نہ جانے کیسے گزاری تھی۔سب جگہ پہ ڈھونڈنے کے بعد وہ پھر سے اسی کیفے میں ایا تھا۔اور صبح تک اس کے کھلنے کے انتظار میں وہ وہیں بیٹھا رہا تھا۔۔۔۔
اسے اپنی غلطی کا احساس تھا۔۔۔۔
اور وہ اس کی وجہ سے کسی مشکل میں ہوگی۔یہ بات تو اسے اندر سے چیر رہی تھی۔وہ اس کے لیے اپنی فیلنگز نہیں سمجھ پا رہا تھا۔لیکن یہ بے چینی۔اسے بہت ہی بے چین کر رہی تھی۔وہ شروع سے ہی غیر ذمہ دار تھا لیکن پہلی دفعہ اسے اپنی غیر ذمہ داری کا احساس ہو رہا تھا۔پہلی دفعہ یہ احساس اسے اندر سے کھائے جا رہا تھا کہ کوئی اس کی وجہ سے تکلیف میں ہے۔۔۔۔۔۔
رات بھر نہ سونے کی وجہ سے انکھیں سرخ ہو چکی تھی۔۔۔
اور کھانے پینے کا تو ہوش ہی نہیں تھا۔۔۔۔
استین کے بٹن کھلے تھے۔کالر بھی کھڑے تھے۔۔۔۔
اخل میلان خود کو ہر وقت پرفیکٹ رکھنے والا۔اج اندر باہر سے الجھ گیا تھا۔اس کی الجھن ائرہ تھی۔۔۔۔۔
پلیز زوم کرو۔۔۔۔۔
زوم۔۔۔۔۔۔۔
اس نے اس لڑکے کو پیچھے ہٹایا اور خود ہی سی سی ٹی وی فوٹیج کو زم کیا۔۔
وہ کمپیوٹر پہ جھک گیا تھا۔۔۔۔
کمپیوٹر پہ وہ منظر چل رہا تھا جب باہر سے وہ لڑکے بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔
اخل ان لڑکوں کو پہچان لیتا لیکن جب وہ سلطان کے پاس گیا تھا وہ لڑکے وہاں پہ موجود نہیں تھے۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔
اخل کا دوست سمی بھی اس کے ساتھ تھا۔۔۔
اس کے کاندھے پہ ہاتھ رکھ کے اس نے اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔
تو جانتا ہے ایسی لڑکیوں کو بہت اچھے سے خود گئی۔ہو۔۔
سمی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اخل اس کا ہاتھ جھٹکا ۔۔۔۔
انکھوں میں غصہ عیاں تھا۔۔۔۔۔
ائندہ دھیان سے۔۔وہ اسے ون کرتے ہوئے پھر سے کمپیوٹر پہ جھکا۔۔۔۔۔
بہت معصوم ہے یاروہ ۔۔۔۔۔ ۔دھیمے لہجے میں کہیں گئی بات
اواز صرف اس کے کانوں تک پہنچی تھی۔انکھوں کے اگے ائرہ کی تصویر اگئی تھی۔اس کا معصوم چہرہ انکھوں میں حیا۔۔۔
کیا کیا تم نے اخل۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پل کے لیے تو اسے سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
نہ جانے کس کے ہاتھ لگ گئی ہوگی۔۔۔۔
ان فورٹیج کو کئی دفعہ دیکھنے کے بعد اس نے نمبر نوٹ کیا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ ٹریس بہت مشکل سے ہوا تھا۔۔۔
______
یہ ٹیبل پر رکھو راشدہ دو لڑکیوں کو ہاتھ میں ٹرے سجائے اپنے ساتھ ائرہ کے کمرے میں لے کر ائی تھی۔۔۔۔
کون ہو تم مجھے یہاں نہیں رہنا جانا ہے مجھے۔۔۔
اسے دیکھتے ہی ائرہ بیڈ سے اٹھی تھی۔۔
دروازہ کھلنے کی اواز سے تو وہ ڈر گئی تھی۔لیکن راشدہ کو دیکھتے ہی وہ بولی۔۔۔۔
مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔
وہ باہر کی طرف بھاگنے ہی لگی تھی کہ راشدہ نے ایک جھٹکے میں پھر سے بیڈ پہ گرایا۔۔۔۔
کہاں جاؤ گی لڑکی۔وہ انکھوں میں تابش لیے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
ائرہ نے نگاہ اس پر ڈالی انکھوں میں انسو عیاں تھے۔۔۔۔۔۔
بال بکڑے ہوئے تھے۔شال بھی کہیں دور پڑی تھی۔۔۔۔۔
کہاں جاؤ گی ۔۔۔۔
راشدہ نے بہت ہی پر اعتماد لہجے میں سوال کیا تھا۔جیسے اس سے یقین تھا کہ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیاں ٹرے وہیں رکھ کر جس میں ناشتہ تھا باہر جا چکی تھی۔۔۔۔
بولو کہاں جاؤ گی اس بار وہ بولی نہیں بلکہ چیہی تھی۔۔۔
ائرہ سہم چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
اس کی اواز سے۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے باپ کے پاس جس نے پیسوں کے لیے تمہیں بھیج دیا۔۔۔۔
یا کوئی اور سہارا ہے۔۔۔۔
یہ شریف دنیا تمہیں قبول نہیں کرے گی۔۔۔۔
گھر سے کوٹھے کا سفر جتنا مشکل ہے اس سے بھی کئی زیادہ کوٹھے سے گھر کا سفر ہے۔۔۔۔
تم اب کہیں بھی جاؤ تمہیں لوگ اسی نظر سے دیکھیں گے۔۔
ائرہ کی تو جیسے کسی نے زبان حلق سے کھینچ لی ہو۔۔
اس حسن کی قیمت کو جانو۔۔۔
جانتی ہو۔وہ بیڈ پر جگہ بنا کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تھی۔۔۔
پیسہ دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور چیز ہے۔۔۔۔۔
لیکن پیسے سے بھی زیادہ طاقتور ایک عورت کا حسن ہوتا ہے۔۔۔۔
اگر عورت پیسے کے لیے جسم بیچتی ہے تو مرد پیسہ دے کر اس جسم کو خریدتا ہے۔۔۔۔
میں 14 سال کی تھی۔۔۔۔
جب میری تائی نے میرا سودا کر دیا تھا اسی طرح جیسے اج تمہارا ہوا ہے۔میں بھی بہت چیخی تھی۔اس گندی دنیا سے نکل کر میں دوبارہ سے اس شریف دنیا میں گئی تھی۔۔
لیکن اس شریف دنیا کے شریف لوگوں نے مجھے یہاں سے گہری ضرب لگائی تھی۔مجھے بھوکے کتوں کی طرح نوچا گیا تھا۔۔۔۔۔
اور بدلے میں صرف رسوائی ملی تھی۔۔۔
اب وہ اٹھ گئی تھی اور اس کا رخ کھڑکی کی طرف تھا۔۔
پھر مجھے احساس ہو گیا تھا کہ ایک عورت کے حسن کی قدروں و قیمت صرف کوٹھے اور ایسی جگہوں پر ہوتی ہے۔۔۔۔
یہ دنیا تمہیں کبھی بھی قبول نہیں کرے گی۔۔۔۔
میں یہ ذلت کی زندگی نہیں گزار سکتی مجھے واپس جانا ہے۔اس کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ائرہ نے کہا۔۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے مجھے واپس بھیج دو۔مجھے پاکستان بھیج دو۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں صرف اتنا کر سکتی ہوں کہ تمہیں اج کے دن کے لیے کوئی کام نہیں دوں گی۔۔۔
یہ ناشتہ کر لو۔۔۔
کل سے تمہیں بہت کام کرنا ہے۔۔۔۔
اتنی سی بات کر کے راشدہ باہر چلی گئی۔۔۔۔
میں کچھ نہیں کروں گی کچھ نہیں۔ائرہ اپنے سامنے ٹیبل پر پری ٹرے کو زمین پر گرایا۔۔۔۔
راشدی جو ابھی دروازے کے پاس پہنچی تھی ایک دم سے پلٹی۔۔۔۔۔
تو ایسے نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔
راشدہ نے اتے ہی اسے بالوں سے پکڑا ۔
چھوڑو۔۔۔۔۔
وہ بہت زور سے اسے کھینچ رہی تھی۔۔۔۔
اس بار چھوڑ رہی ہوں اگر ائندہ اس لہجے میں پکارا نہ تو بہت برا ہوگا۔۔۔۔
ایک جھٹکے میں اسے پیچھے گرایا وہ زمین پر گری تھی۔۔
بیڈ کی نکڑ اس کے ماتھے پہ جا کے لگی تھی۔۔۔۔۔۔۔
____
اخل کے پہنچنے سے پہلے ہم نے سارے ثبوت مٹا دیے تھے۔۔۔
ایک لڑکے نے سلطان کو خبر دی تھی۔۔۔
اور اس گاڑی کا کیا کیا۔۔۔
سلطان جو ایک ٹانگ ٹہنی پہ رکھے کھڑا تھا۔نے سرگٹ کا ایک کش لگاتے ہوئے پوچھا۔اخل کو اب وہ اپنا دشمن مان بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ گاڑی ہم نے فیک ڈاکومنٹس پہ رینٹ پہ اٹھائی تھی۔۔۔
وہ یقینا ان ڈاکومنٹس کی کھوج میں نکلے گا۔۔۔
لیکن وہ فیک ڈاکومنٹس ہیں۔۔۔۔۔۔
اسے کوئی سراخ نہیں مل پائے گا استاد۔۔۔۔۔
سلطان نے سرگٹ کو منہ میں رکھا اور پھر دھواں ہوا میں اڑنے لگا۔۔۔۔
چہرے پہ اطمینان ایا تھا۔۔۔۔۔۔
کل رات والی حرکت پہ وہ اخل کو تکلیف دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
اور اس سے بڑی تکلیف کیا ہو سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔
_____
اخل سب تمہارے سامنے ہے جس نے بھی کیا ہے بہت پلاننگ کے ساتھ کیا ہے۔۔۔۔
سمی جو صبح سے اس کے ساتھ بندہ ہوا تھا شاید جان چھڑوانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اب چلو چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمندر کی لہروں پہ انکھیں جمائے اخل ساحل کے پاس کھڑا تھا۔۔۔۔
دل ایسے غم سے بوجھل تھا۔جس کی کیفیت کا اندازہ اسے خود نہیں تھا۔۔۔
یہ سب میری غلطی ہے۔۔۔
مجھے ٹائم پر اسے لینے انا چاہیے تھا۔۔۔۔
پتہ نہیں کہاں ہو گی وہ چیخا تھا۔اس کی اواز نے سمی کو بھی چونکایا تھا۔۔۔۔۔
گھٹنوں کے بل زمین پر گر گیا تھا وہ۔۔۔۔
اس کے ساتھ کچھ نہیں ہونا چاہیے سمی کچھ نہیں۔۔۔
ورنہ میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔۔۔
بہت معصوم ہے وہ۔۔۔۔۔۔
یہ سلطان کا ہی کام ہے۔۔۔
مجھے اس پر یقین ہی نہیں کرنا چاہیے تھا وہ ایک دم سے اٹھا تھا۔اور گاڑی کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پل پل تڑپ رہا تھا۔یہ سوچتے ہوئے کہ ائرہ کس کے پاس ہے۔اور کیا سلوک کر رہے ہوں گے وہ اس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔
______
کل شام کی پارٹی کے لیے یہ جائے گی۔۔۔۔
بہت موٹی موٹی پارٹیاں ا رہی ہیں۔۔..
اچھا سودا ہو گیا تو پیسے وصول ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔
ایسی معصوم شکلوں کی بہت ڈیمانڈ ہے۔۔۔۔۔
اسے تیار کر دینا۔اور اچھے سے سمجھا بھی دینا راشدہ ائرہ کے پاس کھڑی لڑکیوں کو کہہ رہی تھی جب کہ نظریں ائرہ پر جمائی تھی۔…
اس نے ساڑی پہنی ہوئی تھی۔۔۔۔
جس کا گلا کافی ڈیپ تھا۔۔۔۔۔
پلو کو ایک طرف گرایا ہوا تھا۔۔۔۔
میں کہیں نہیں جاؤں گی کہیں نہیں۔۔.
مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔
دیکھو میں نہیں چاہتی تمہاری اس معصوم سے چہرے پہ کوئی ضرب لگاؤں۔۔۔۔۔
اس پارٹی میں تمہیں بالکل ریلیکس نظر انا ہے۔۔۔۔
اور اگر اس نے کوئی غلطی کی تو سزا تم سب کو ملے گی۔۔۔
وہ سبھی ڈر چکی تھی کیونکہ وہ راشدہ کے ظلم سے اچھی طرح واقف تھی۔۔۔
اور لڑکی تم۔۔۔۔
اس نے ائرہ کو بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا جو بیڈ پر ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
جتنی جلدی ہو جائے سمجھ جاؤ کہ تمہاری دنیا بھی یہی ہے۔یہاں سے جانے کا سوچنا بھی تمہارے لیے موت ہے۔۔۔
اور جس دنیا میں جانے کا تم خواب دیکھ رہی ہو وہ تمہیں کبھی قبول نہیں کرے گی۔اس بات پہ لہجہ تھوڑا سخت ہوا تھا اسے بیڈ پہ گراتے ہوئے وہ باہر کی طرف گئی تھی۔۔۔۔۔
ائرہ جس کی انکھیں پہلے ہی انسوؤں سے تر تھی۔۔۔۔۔
اس نے پھر سے زار و قطار رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے بیڈ شیٹ کو دبوچا اس نے۔اور بلند اواز سے رونے لگی تھی۔پر شاید پاس کھڑی لڑکیوں میں سے کسی میں دل نہیں تھا جو اسے تسلی دیتی۔۔۔۔
____
ائرہ کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھر سے اس کے مقابل کھڑا تھا۔۔۔۔۔
میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ میرے پاس نہیں ہے دیکھ لو جہاں بھی دیکھنا ہے۔سلطان کی اواز بلند ہوئی تھی۔لیکن وہ پر اعتماد تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ راشدہ تک نہیں پہنچ پائے گا۔کیونکہ وہ ایک سیکرٹ لیڈی تھی جو ہر کام خاموشی سے کرتی تھی۔۔۔۔۔
تو ایسے نہیں مانے گا۔۔۔
اخل نے گریبان سے پکڑ کر اسے نیچے گرا۔۔۔۔
پاس کھڑے باڈی گارڈ اگے بڑھے۔تو سلطان نے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا کیونکہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ یہ کون ہے۔۔۔۔
۔اور اسے ہاتھ لگانے کی قیمت کیا ہو سکتی ہے۔۔۔۔
میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ وہ میرے پاس نہیں ہے۔۔۔۔
اخل نے اپنے ہاتھ کا مکہ بنا کے اس کے منہ پہ دےماڑا تھا۔۔۔
۔غصے سے اس کی انکھیں لال ہو گئی تھی ماتھے پہ پریشانی کے گہرے بل تھے۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
سمی جو اس کے پیچھے پیچھے ہی ایا تھا ایک دم سے اگے بڑھا وہ ابھی ایا تھا اس نے اب جھٹکے میں اخل کو پیچھے کیا۔۔۔۔
کیا کر رہا ہے۔۔۔۔۔
اخل نے اس کے ہاتھ کو جھٹکا۔۔۔۔۔اس نے ایک ہاتھ سے اپنا گریبان ٹھیک کیا۔۔۔۔۔
_____
یا اللہ کیا دنیا میں کوئی نہیں ہے جو میری حفاظت کرے۔۔۔۔
کیا تو نے مجھے بالکل تنہا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔
مجھے یہاں سے نکال دے وہ اندر ہی اندر یہاں سے جانے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔لیکن کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں موجود لڑکیوں کو دیکھتی۔جو تنگ لباس پہنے خود کو سنوار رہی تھی۔اور سب کے چہرے پہ اطمینان تھا۔ائرہ یہی دیکھ کر پریشان تھی۔کہ یہ کیسی لڑکیاں ہیں۔
جو یہ کام اتنی خوشی سے کر رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ ایک نظر آنے اور پھر خود کو دیکھتی۔۔۔۔
________
کہا تھے تم۔۔۔۔۔۔
اخل گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ وہی پارٹی والی لڑکی پہلے سے گھر میں موجود تھی۔۔۔
کب سے تمہارا ویٹ کر رہی ہوں فون بھی نہیں لگ رہا۔۔۔
ملیحہ۔۔۔۔۔۔۔
میں بہت تھک گیا ہوں میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔
ملیحہ کو سن کر تھوڑا شوقڈ لگا تھا۔۔۔۔
اخل۔۔۔
اخل جو ہاتھ پیشانی پہ ٹکائے کھڑا تھا۔نے پھر سے بیزارگی کا مظاہرہ کیا اور اپنا رخ بدلا۔۔۔۔
اس کی نظر اسی دیوار پہ جا کے رکی تھی جہاں پہ اس نے ائرہ کو ٹارچر کیا تھا۔۔۔۔۔
اس کا وہی معصوم چہرہ۔انکھیں اس کے سامنے گھومنے لگی تھی۔۔۔۔
مشکل سے انسوؤں کو روکا تھا اس نے۔اور پھر شاید سہارے کے لیے جا کے صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔
تم ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے ملیحہ بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔۔۔۔
کچھ نہیں بس میں نے کہا نا میں تھک گیا ہوں سونا چاہتا ہوں۔۔۔۔
میں تمہارے لیے کافی بناتی ہوں پھر پی کر۔۔۔۔۔۔
ملیحہ پلیز۔۔۔۔
ہم صبح بات کریں گے ابھی مجھے سونا ہے بس۔۔۔
یہ کہہ کے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔اور دروازے کو بہت زور سے بند کیا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔
کمرے میں جاتے ہی اس نے ٹیبل پہ پڑی چیزوں کو زمین پہ گرایا تھا۔۔۔۔
____
یہ رات ائرہ کے لیے بہت باری تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بند دروازے پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔
تم نے یہ کیوں کیا۔۔۔۔
کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔
تمہیں اللہ کو بھی حساب دینا ہوگا۔۔۔۔
اللہ کر کے تمہیں کبھی سکون نصیب نہ ہو۔۔۔۔۔
_______
اخل نے ساری رات بے چینی میں گزاری تھی۔انکھ یوں ہی بند کرتا ائرہ کا چہرہ اس کی انکھوں کے سامنے ا جاتا۔۔۔
ساری رات اسے بے چینی میں گزاری تھی اس نے۔۔۔۔
تقریبا چار بجے تھے۔وہ کمرے سے باہر نکلا تھا۔
گارڈن میں ا کر اس نے گہرا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔
ملیحہ کی اواز پہ وہ چونکا اور پیچھے دیکھا۔۔۔
تم گئی نہیں ہو ابھی تک۔۔۔
ایسے کیسے جا سکتی تھی تمہاری حالت دیکھ کر۔۔۔۔
کوئی مسئلہ ہے تم مجھے بھی نہیں بتاؤ گے۔۔۔۔
دیکھو میں نے کہا نا مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو۔۔۔
اتنی سی بات کہہ کے وہ گاڑی کی طرف گیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا وہ کہاں جائے گا۔۔۔
اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملیحہ کی اواز کا اس پہ کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
________
میں یہ نہیں پہنوں گی میں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔
وہ صبح سے اس بات پہ اٹل تھی۔۔۔
راشدہ مجبور تھی کیونکہ وہ اسے اگر مارتی تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا۔
لیکن پھر بھی وہ اسے بہت فورس کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن جب وہ پھر بھی نہیں مانی تو اسے زبردستی تیار کیا گیا۔۔۔
اس نے ریڈ کلر کا فراک پہنا تھا۔۔۔
پہلی دفعہ وہ اتنی تیار ہوئی تھی۔ریڈ لپسٹک بال کھلے ہوئے ۔
انکھوں پہ ڈارک بڑھاؤں شیڈ۔۔۔۔۔
کانوں میں بڑے بڑے چمکے۔۔۔۔
اس کا مقابلہ تو سادگی میں بھی کرنا مشکل تھا اج تو پھر بات ہی اور تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
_______
تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک کلب میں پہنچ چکے تھے۔
راشدہ اسے اپنے ساتھ زبردستی لائی تھی۔۔۔۔۔
کلب کی جلتی بجھتی لائٹیں۔۔۔۔
ایک طرف رقص کا ساما۔۔۔۔
ائرہ اپنی نظروں کو نیچے جھکائے کونے میں کھڑی تھی۔۔۔
تقریبا سبھی کا دھیان ائرہ کی طرف تھا جو پینٹ کوٹ پہ ملبوس دو تین ادمی تھے۔۔۔۔
لیکن ایک نظر ائرہ کو مسلسل چب رہی تھی۔۔
وہ نظر محروج عصر کی تھی۔۔۔۔۔۔
جو مسلسل نظریں اس پہ جمائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
ائرہ کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔۔۔
اس سے نظر بچائے وہ دوسری طرف جانے ہی لگی تھی کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کی طرف ایا۔۔۔۔
سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی اواز سے وہ ایک دم سے بھاگنا چاہتی تھی لیکن راشدہ نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا کہ وہ وہیں کھڑی رہے۔۔۔۔
چھوڑ دو اس کا ہاتھ۔۔۔۔۔
یہ ابھی جانتی نہیں محروچ عصر کو شاید۔۔۔
میری قید سے بھاگنا اتنا اسان نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لے کے اؤ اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم بیٹھ کے بات کریں گے۔۔۔۔
راشدہ کو اشارہ دیتے ہوئے وہ جا کے صوفے پر بیٹھ گیا تھا اور ساتھ میں ائرہ کی جگہ بنا چکا تھا۔۔۔۔۔
_________
اس فون کی لاسٹ لوکیشن یہ ہے سر۔۔۔۔۔۔
ایک لڑکے نے ڈاکومنٹس اخل کے اگے رکھے۔۔۔۔۔
سلطان۔۔۔۔۔۔۔۔
لوکیشن سلطان کے گھر کی تھی۔۔۔۔۔
ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگتا ہوا وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_________
میں نے کہا کہاں گیا ہے سلطان۔۔۔۔۔۔
سر میں سچ کہہ رہا ہوں وہ صبح ہی پاکستان چلا گیا ہے۔۔۔
اس لڑکے کو گریبان سے پکڑ کر اس نے دیوار کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔۔
اگر اپنی موت نہیں چاہتے تو سچ بتاؤ۔۔۔
ائرہ کہا ہے۔۔۔۔
سلطان اپنے چہیتوں کو لے کر پاکستان جا چکا تھا۔۔۔۔
اور اب جو گنے چنے بندے تھے وہ نہ تو ائرہ اور نہ ہی راشدہ کے بارے میں کچھ جانتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
