Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 20

Ayra by Aneeta

اخل کھانا کم کھا رہا تھا اور ائرہ کو تنگ زیادہ کر رہا تھا۔۔۔۔

اس کی تو ہنسی ہی نہیں رک رہی تھی۔۔۔۔

اس نے ائرہ سے زبردستی کھانا بنوایا تھا۔اسے سلطان کے نام سے ڈرا کر۔۔۔۔۔

اب کھا رہی ہو یا میں کرو سلطان کو فون۔۔۔۔۔۔

ائرہ جو بالکل اس کے سامنے بیٹھی ہاتھوں کی انگلیوں سے کھیل رہی تھی نےایک نظر اسے دیکھنے کے بعد۔۔۔۔۔۔

کھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔

وہ اج بھی ڈرتی تھی سلطان کے نام سے۔

بیچاری کا پلان خراب ہو گیا۔۔۔۔

ائرہ سچی بتانا کہ پہلی دفعہ ڈیٹ پہ جا رہی تھی۔اس نے نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔اور اسے دیکھ کر سمائل کی۔۔۔

کاش میں اسد کو بھی دیکھ پاتا۔۔۔۔

وہ بس تیزی سے کھانا کھا رہی تھی۔۔۔۔۔

اس کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔

بیچارے نے رنگ لی ہوگی۔۔

رومینٹک سا کینڈل لائٹ ڈنر ارینج کیا ہوگا۔۔۔۔۔

اس نے اپنی پلیٹ اٹھا کر شیڈ پر رکھی نظر ایرہ کی طرف ہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

پلیٹ رکھنے کے بعد اس کے قریب ایا

اور اس کے کان کے قریب جھکا۔۔۔

پر اسے کیا پتہ۔۔۔۔۔۔

یہ ڈرامے بعض حسینہ میرے قابو میں کر دی گئی۔۔۔۔۔

اس نے اپنے لب اس کے گالوں پہ رکھے تو وہ چونک کر رہ گئی۔۔۔۔۔

اسے اندازہ نہیں تھا وہ یہ کرے گا۔۔۔۔۔

اس نے شدت سے بھرپور کس کی تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ اس نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔اس کی انکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔۔۔

یہ کیا ہے۔اس نے لفظوں کو کھینچتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔

کس۔۔۔۔۔۔

تم نے غصے میں بھی اتنے مزے کا کھانا بنایا۔۔۔۔

کس تو بنتی ہے نہ۔۔۔۔۔

اب جلدی سے کافی بنا دو۔۔۔۔۔۔۔

میں کچھ نہیں بنانے والی وہ غصے سے بولی تھی۔۔۔۔

وہ کمرے میں جانا چاہتی تھی۔ابھی اٹھی ہی تھی۔۔۔۔

کرو سلطان کو فون اخل نے موبائل پھر سے اٹھایا۔۔۔۔۔۔

تووہ رک گئی تھی۔۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ اس نے شیڈ کی طرف رخ کیا۔۔۔۔۔۔۔

کافی کا سامان اٹھانے لگی تھی۔۔۔۔۔

تو اخل نے اسے پیچھے سے خگ کیا۔۔۔۔۔

اس اچانک حملےکے لیے وہ تیار نہیں تھی۔۔۔۔۔

اخل کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔

چھوڑو۔۔۔۔۔

اس نے اپنی کمر پر سے اخل کے ہاتھ کھولنے کی کوشش کی پر اس کے احتجاج کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔

اس نے اس کے گالوں پے پھر سے لمب رکھے اور اس دفعہ شدت کچھ زیادہ تھی۔۔۔۔

ائی لو یو سو مچ ۔ اس نے سرگوشی میں کہا۔۔۔۔۔۔۔

اس کی قربت کے خوف سے وہ شدید ڈر چکی تھی۔۔۔۔۔

اس نے اپنے ہاتھ اس کے دونوں ہاتھوں پہ رکھے اور انہیں کھولنے کی پوری کوشش کرنی لگی جو اخل نے اس کی کمر پہ جکڑے ہوئے تھے۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے گھبراتے ہوئے کہا تھا۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔وہ سرگوشی میں بولا تھا۔اس کے لمس میں وہ بالکل پاگل ہو چکا۔۔۔۔۔۔۔۔

ریلیکس۔۔۔۔۔۔

اخل نے اگلے ہی لمحے اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔

اس سے نظر بچانے کے لیے اس نے کافی کے لیے پانی رکھنے کی کوشش کی لیکن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔۔

ہٹو میں بناتا ہوں۔اخل نے ہنستے ہوئے کہا اور اس کے ہاتھ سے کافی کا سامان لیا۔۔۔۔۔۔

تم سے نہیں بنے گی اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حلق سے جیسے کسی نے زبان کھینچ لی ہو وہ ایسے خاموش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

اسے بالکل بھی امید نہیں تھی اس کی۔۔۔

کچھ نہیں ہوا یار۔۔۔۔اس کی حالت دیکھتے ہوئے کہا اس نے

کس ہی کی ہےیار۔۔۔

تم بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے پھر سے اس کی طرف دیکھاوہ اسے دیکھتے ہوئے کپکپا رہی تھی اور اپنا دھیان کافی کی طرف کیا۔۔۔۔۔۔۔

تم ایک گھٹیا انسان ہو۔۔۔۔

اس سے اچھا تم مجھے سلطان کے حوالے ہی کر دو۔۔۔۔۔

کر دیتا ضرور کر دیتا۔۔۔۔۔۔

اگر اس بیچارے کو میں نے اور سانسیں بخشی ہوتی تو ضرور کر دیتا۔۔۔۔۔۔۔

کہ کیا مطلب۔۔۔۔۔

میں تو اسےاوپر پہنچا چکا ہوں کب کا۔۔۔۔۔۔

وہ پھر سے اس کے قریب ہوا اور سرگوشی میں بتایا اسے۔

اور میں نے ایک نہیں دو قتل کیے ہے تمہارے لیے۔اور تم کس پہ اتنی خفا ہو گئی۔۔۔۔۔۔

ک۔۔۔۔۔۔کب۔۔۔۔۔

اخل نے اسے سب بتایا جب اس نے پیسے دیے اور پھر بات نہ ماننے پہ سب کچھ اس نے بتایا۔۔۔۔۔

خرید چکا ہوں تمہیں میں۔۔۔۔۔

اب حق ہے میرا تم پر اس کے بالوں کو اس نے پیچھے کیا۔۔۔۔۔

ائرہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ کیوں کر رہا ہے۔۔۔۔۔

اس نے اسے پرپوز کیا ہے یا پھر۔۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال جواب کرتی۔۔۔۔۔۔

کسی نے اخل کو پکارا تھا باہر سے۔۔۔۔۔

ائرہ نے بھی ایک دم سے باہر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔

موم۔۔۔۔۔۔وہ اواز پہچان چکا تھا۔۔۔۔۔

آئرہ ایک دم سے چونکی۔۔۔۔۔

اسے ایکسپلین کیے بغیر وہ باہر کی طرف گیا۔۔۔۔۔

سرپرائز۔۔۔

بشرا بیگم جینز ٹاپ پہنے باہیں پھیلائے کھڑی تھی۔

سوٹ کیس ایک لڑکے نے اندر رکھا اور پھر باہر چلا گیا۔۔۔۔۔

موم اپ۔۔۔۔۔

اخل خوشی کے ایکسپریشن دیتے ہوئے۔۔۔۔

ان کے پاس گیا۔۔۔۔۔۔

ہاں میں نے کہا تمہیں تو یاد انی نہیں تو میں ہی ملنے ا جاؤں بشرا بیگم نے اسے گلے سے لگایا تھا۔۔۔۔۔

موم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے بھی زور سے حگ کیا تھا۔۔

اخل نے پیچھے دیکھا۔۔۔۔۔

اسے لگا ائرہ پیچھےائی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ اس نے اواز دی۔۔۔۔۔۔۔

پھر سے رخ بشرا بیگم کی طرف کیا۔۔۔۔

بشر ا بگیم بھی دیکھنے لگی۔۔۔۔

کہ اب کون سا نمونہ یہ ان کے سامنے لانے والا ۔

ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

_______

میں کیا کرو گی۔۔۔۔

وہ کیا سمجھیں گی میں یہاں اس کے ساتھ رہتی ہوں۔۔۔۔

ائرہ پہلے ہی پزل تھی۔۔۔۔۔

اس نے بلیک شارٹ فراک پہنا تھا دوپٹہ گلے میں تھا۔ہاتھوں کو دوپٹے میں جکڑ رہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔

وہ کچن میں ٹہل رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ ان کا سامنا بالکل نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

وہ پتہ نہیں کیا سمجھیں گی۔

ائرہ کچھ زیادہ ہی سوچ رہے تھی۔کیونکہ وہ جس سوسائٹی سے ائی تھی۔وہاں یہ سب بہت عجیب سمجھا جاتا تھا لیکن یہاں پہ یہ عام تھا۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

اخل نے پھر سے پکارا۔۔۔۔

اس بار وہ آگئی ۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔۔۔۔

اس نے اتے ہی سلام کیا اور نظروں کو نیچے جھکا لیا۔۔۔۔۔

بشرا بیگم کے لیے یہ بات نئی نہیں تھی۔۔۔۔

تقریبا وہ جب بھی اتی تھی اخل ان کو اپنی کسی نئی فرینڈ کو انٹروڈیوس کرواتا تھا۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ شرم و حیا اس سے پہلے کسی میں نہیں دیکھی تھی انہوں نے۔۔۔۔۔۔

یہ جی چک یہ شرمیلا پن انہیں ایسی ہی تو بہو کی تلاش تھی۔۔

وعلیکم السلام یہاں اؤ۔۔۔۔

کون ہے یہ پیاری سی گڑیا انہوں نے اخل کو مخاطب کیا۔۔

بشرا بیگم کی پرسنلٹی انڈرسٹینڈنگ پرسنلٹی تھی۔۔۔۔۔

وہ ہر عمر کے بندوں کے ساتھ گل مل جاتی تھی۔۔۔۔۔۔

اخل کی موم سے زیادہ وہ اس کی دوست تھی۔۔۔۔۔

موم۔۔۔۔

دوست ہے میری۔۔۔۔۔۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ انہیں باقی لڑکیوں کے ساتھ کمپیئر کریں۔۔۔

اس لیے اس نے سرسری سا تعارف کروایا۔۔۔۔۔۔

ائرہ ان کو ملی۔۔۔۔

ماشاءاللہ بہت پیاری ہے۔۔۔

اخل کافی کے لیے کچن میں چلا گیا تھا جب کہ ائرہ اور بشرا بیگم ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔

اخل نے انہیں یہ بتایا تھا کہ یہ جاب کے سلسلے میں یہاں ائی تھی لیکن پھر کچھ ڈاکومنٹس ان کمپلیٹ ہونے کی وجہ سے اس کا ویزا کینسل کر دیا گیا اور پھر وہ یہیں اس کے پاس رہتی ہے۔۔۔۔۔

تمہاری فیملی میں کون کون ہے بیٹا۔۔۔۔۔

ائرہ خاموشی سے انہیں دیکھنے لگی کہ وہ انہیں سچ بتائےیا ۔۔۔۔۔۔۔

میری فیملی میں میرے بہن بھائی ہیں۔۔۔

کیا چھوٹے ہیں تم سے انہوں نے اگلا سوال کیا۔۔۔۔

جی۔۔۔۔۔

اور پیرنٹس۔۔؟۔

وہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو کس کے پاس رہتے ہیں تم تو یہاں ہو۔۔۔۔

فادر کے پاس رہتے ہیں فادر اس نے مشکل سے بولا تھا۔۔۔۔۔

بشرا بیگم تھوڑی پزل ہوئی تھی کہ ابھی تو اس نے کہا کہ اس کے پیرنٹس نہیں ہیں۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں اخل کافی لے کر ایا تھا۔۔۔۔

اسے نے کاپی کا کپ ٹیبل پر رکھتے ۔۔۔۔

شہادت کی انگلی ائرہ کی کمر پہ پھیرتے ہوئے بالکل اس کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس کے دیکھتے اس نے اسے انکھ ماری تھی۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر بشرا بیگم کو۔۔۔۔۔

وہ اس کی بے باکیوں سے بری طرح سے تنگ ا گئی تھی۔۔۔۔۔

ائرہ پیو نا کافی۔۔۔۔

بشرا بیگم سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ چل کیا رہا ہے کیونکہ ائرہ بہت ڈری ہوئی تھی۔۔۔۔

میں اتی ہوں وہ اتنا سا کہہ کے وہاں سے اٹھی تھی۔۔۔

اخل نے ایک نظر اسے جاتے دیکھا پھر بشرا بیگم کی طرف محاطب ہوا ۔۔۔۔

یہ کیا چل رہا ہے یہاں اخل ۔۔۔۔

ارے موم جیسا اپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے بتا چکا ہوں کہ کیوں رہ رہی ہے۔۔۔۔

بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔۔

پر بیٹا وہ بہت ڈری ہوئی ہے۔

اس نے کافی کا کپ منہ کے ساتھ لگا یا۔

نہیں ڈری ہوئی تو نہیں ہے۔

وہ یہاں تھوڑا پزل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

تمہیں میں نے جو تصویر بھیجی تھی وہ لڑکی تمہیں پسند ائی تھی نہ بشرا بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا ایک دفعہ اسے اور پھر پیچھے ائرہ کی طرف جو اب جا چکی تھی۔۔۔۔

کیونکہ اس کے بعد اخل کے ذہن سے نکل گیا تھا کہ وہ انہیں بتائے کہ وہ مذاق کر رہا تھا۔۔۔

کیونکہ اس نے کال پہ ائرہ کے سامنے اس لڑکی کی تعریف کی تھی۔۔۔۔

میں نے اپ کو کہا ہے کہ شادی میں اپنی پسند سے کروں گا وہ تو بس ایسے ہی میں وہ بولتے بولتے چپ ہوا تھا۔۔۔۔

تو بیٹا یہ بات تم نے مجھے پہلے کلیئر کرنی تھی نا میں تو اسے وہ بولی ہی تھی۔۔۔۔۔

کے سامنے سے جینز پینٹ پہنے ہاتھ میں سوٹ کیس ہائی ہیلز۔۔۔۔۔

کھلے بال۔۔۔۔۔۔

یہ وہی تصویر والی لڑکی ائی تھی۔۔۔۔

بشرا بیگم اس کے اتے ہی کھڑی ہوئی تھی تو اخل بھی کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔۔

اگر وہ پہلے والا اخل ہوتا تو اسے دیکھ کر سیٹی ضرور بجاتا اسے سر سے لے کے پاؤں تک دیکھتا۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ابھی تو ائرہ نے اس پہ جیسے جادو کر دیا ہو۔۔۔

اس کی سادگی کے اگے یہ بناوٹی حسن کچھ نہیں تھا۔۔۔۔

موم یہ کیا ہے۔۔۔۔۔

بیٹا میں نے سمجھا تمہیں پسند اگئی ہے اس لیے میں نے کہا کہ میں جا رہی ہوں تو تھوڑی انڈرسٹینڈنگ ہو جائے گی تو بس اسی لیے کچھ دنوں کے لیے۔۔۔۔

لفظوں کو اگے پیچھے گھسیٹتے ہوئے انہوں نے جملہ کمپلیٹ کیا۔۔۔۔۔۔۔

انہیں بھی یہ لڑکی خاص پسند نہیں تھی لیکن کامران کے کہنے پہ انہوں نے اس رشتے کے لیے حامی بڑی تھی۔۔۔۔

لیکن اخل کے شیطانی دماغ میں اگلی گیم اگئی تھی۔۔۔۔

اب تم بولو گی سچ مس ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اپ نے بہت اچھا کیا مجھے ویسے بھی چاہیے تھی کوئی۔۔۔

بشرا بیگم اس کی باتیں سمجھ نہیں پا رہے تھی۔۔۔

تھوڑی دیر میں وہ لڑکی اخل سے ملی ۔۔۔۔۔۔

ائرہ کو بھی اس کی امد کی خبر ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ اچھی خاصی بے چین ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

میں تمہیں سمجھ نہیں پا رہی۔۔۔۔

کیا وہ فلرٹ کر رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔

ہاں ائرہ اس کے لیے نئی بات تھوڑی ہے اندر سے اواز ائی تھی ۔۔۔۔

اور اس نے تو ویسے بھی تمہیں خریدا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مس ائرہ یہ اپ نے اچھا نہیں کیا میں اپ کا کتنی شدت سے انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں فون بجا تو ائرہ نے موبائل کان کے ساتھ لگایا۔۔۔۔

بہت مایوس کیا مجھے اپ نے اس نے کال ملتے ہی گلے شکوے شروع کر دیے تھے۔۔۔

وہ تین گھنٹے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کے ویٹ کرتا رہا اور ان تین گھنٹوں میں اس نے کتنی دفعہ ائرہ کا فون ٹرائی کیا تھا لیکن وہ کمرے میں تھا۔۔۔

اور سائلنٹ بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایم سو سوری۔۔ ۔۔۔

میں ضروری کام تھا۔اسے بہانہ نہیں مل رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔۔۔۔۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا کیا کوئی مسئلہ ہے وہ ایک دم سے جو بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا۔مس ائرہ اپ کی اواز ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔

نہیں نہیں کوئی مسئلہ نہیں بس۔۔۔۔۔

وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ اخل نے اس کے کان سے موبائل اتارا اور کال بند کی۔۔۔۔۔

کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

تمہیں سمجھ نہیں اتی میری بات۔۔۔

دیکھو فلحال تمہارے چکر میں میں الریڈی دو قتل کر چکا ہوں۔۔۔۔۔

اب تیسرا نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔

اس لیے اچھا ہوگا کہ اسد کو تھوڑا سائیڈ پہ رکھو۔۔۔۔

اچھا اور وہ ایمن کا کیا۔۔۔۔

اور تم نے تو مجھے ائی لو یو بولا تھا نا۔۔۔۔۔۔

تم جلس ہو رہی ہو اس سے اس نے اندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

میں کیوں ہوں گی جلس اور تم نے مجھے۔۔۔۔۔۔

ہاں سننا چاہتا ہوں بولو۔۔۔۔۔

وہ اچھے سے جانتا تھا کہ وہ کس متعلق پوچھے گی۔۔۔۔۔

مجھے ٹچ کیا کس کی ائی لو یو بولا وہ ایک ہی سانس میں بولی تھی۔۔۔

وہ میرے رومنس کا ٹیلر تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

شادی جب اس سے کر رہے ہو تو پھر۔۔۔۔

تم نے ائی لو یو ٹو کہا۔۔۔

نہیں نا تو میں کیا کرو۔۔۔

وہ جو اندر بیٹھی ہے اس سے سیکھو کچھ۔۔۔۔

کیسے سگنل دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔

اففففففففففف

اخل نے ہاتھ دل پہ رکھا۔۔۔۔۔۔۔

تو جا کے اس کے سگنل کیچ کر لو۔۔۔۔

وہ اندر جانے ہی لگی تھی کے اخل نے اسے پکڑ کر پھر واپس کھینچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

موبائل تو لیتی جاؤ۔۔۔۔۔۔

نہیں چاہیے مجھے اپنے پاس رکھو وہ اچھے سے جانتی تھی وہ پاس بلانے کے بہانے بنا رہا ہے بس۔۔۔۔۔۔۔

_______

ایمن ائرہ کے کمرے میں ہی ایڈجسٹ ہوئی تھی۔۔۔۔

ویسے تو مجھے لڑکوں کی کمی نہیں ہے۔

لیکن کامران انکل نے جب اخل کے لیے پروپوزل لے کر ائے۔تو مجھے اس میں انٹرسٹ ہو گیا۔۔۔۔۔۔

ویسے تم یہاں کب سے رہ رہی ہو۔۔۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے مقابل لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

پتہ نہیں۔۔۔۔

اتنا سا جواب دے کر ائرہ نے اپنا رخ بدلا۔۔۔۔۔۔

اس کے ذہن میں اج کے واقعات گھوم رہے تھے۔۔۔۔۔

بری ہی کوئی عجیب لڑکی ہو۔

اور بور بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اس کے موبائل کی میسج ٹیون بجی۔۔۔۔۔

اس نے موبائل اٹھایا۔۔۔

اخل کا میسج تھا۔۔۔۔۔

ائی مس یو۔۔۔۔۔۔

دو منٹ میرے کمرے میں اؤ۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل جانتا تھا وہ نہیں ائے گی وہ بس اسے تنگ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

ائرہ نے میسج سین کر لیا تھا لیکن اسے جواب نہیں دیا تھا۔۔۔

مس ایٹیٹیوڈ میں خود ہی اتا ہوں۔اس نے موبائل کو صوفے پہ پھینکا۔۔۔۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں وہ کمرے میں پہنچا اس نے دروازے کو نوک کیا۔۔۔۔۔۔

ائرہ کو اندازہ تھا کہ وہ ہوگا اس نے جان بوجھ کر انکھوں کو بند کر لیا۔۔۔۔۔۔

ایمن باتھ روم میں تھی۔۔۔۔۔

اخل اس کی ایکٹنگ کو سمجھ گیا تھا اس نے ابھی تو میسج سین کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

پانچ منٹ دے رہا ہوں میرے کمرے میں اؤ۔۔۔۔۔

ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ورنہ کیا اس نے ایک دم سے انکھیں کھلی اور بلینکٹ کو اوپر کھینچا۔۔۔۔۔۔۔۔

اٹھا کے لے جاؤں گااور کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں بشرا بیگم کو سب بتاؤں گی تمہاری ہر حرکت کے بارے میں بتاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ کتنے گھٹیا انسان ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے پہلے کچھ اور بولتی ایمن باہر ا چکی تھی۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔

تم یہاں کچھ چاہیے تھا تمہیں۔۔۔۔۔

یہ میری طرح نیند نہیں ارہی۔۔۔

اگر ایسا ہے تو میں پاپکون بناتی ہوں ہم مووی انجوائے کریں گے۔۔۔۔۔

کیسا پلان ہے۔۔۔۔۔۔۔

ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔

ائرہ تم تو نہیں ا رہی نہ۔

ہاں سونے لگی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔

خود ہی سوال کر کے خود ہی جواب دیا اس نے۔۔۔۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ جلس ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔

تھوری دیر میں وہ چلے گئے تھے۔۔۔۔۔

ائرہ بہت ہی جلس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔

مجھے کیوں برا لگ رہا ۔۔۔۔۔۔۔

کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اج اس نے اتنا تنگ کیا پھر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

_____

اسد نے اسے بہت مسج کیے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔

پر ائرہ نے ابھی تک جواب نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔

مس ائرہ اب اس نے پھر کیا تو ائرہ نے دیکھا۔۔۔

سوری اسد میں تھوڑی بزی تھی۔۔۔۔۔۔۔

لیکن غلطی سے میسج اخل کو سند ہو گیا۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اس کا ذہن بالکل بھی اس طرف نہیں تھا۔۔۔۔۔

اخل نے موبائل پاس ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔

میسج ملتے ہی اس نے دیکھ لیا۔

ائرہ نے جلدی سے اسے ڈیلیٹ کر دیا تھا لیکن وہ پڑھ چکا تھا۔۔۔۔

کیونکہ وہ اس کی چیٹ اوپن کر کے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔

اسد ۔۔۔۔۔۔

اس نے غصے سے اس کے کمرے کی طرف دیکھا۔۔۔

تو یہ اسد سے بات کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی لیے پیچھے نہیں ائی۔۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھا بنا ایمن کو کچھ بتائیں۔۔۔۔۔

اس نے تو میسج پڑھ لیا ہے یا اللہ۔۔۔۔۔

اور ایک دم سے بیڈ سے اٹھی وہ روم لاک کرنے والی تھی کہ اخل ایک دم سے اگیا۔۔ ۔۔۔

تم کیوں باز نہیں ا رہی۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔وہ غصے سے بولا

موبائل دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں۔۔۔۔۔۔ائرہ نے موبائل پیچھے کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روکو تم اب۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے روم اندر سے لاک کیا۔۔۔۔۔

یہ کیا کر رہے ہوائرہ نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔

تمہیں کیوں کا جواب دینے لگا ہوں ۔۔۔۔۔۔