Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ayra Episode 12

Ayra by Aneeta

ائرہ ساری رات نہیں سو پائی تھی۔۔۔۔

کروٹیں بدلتی وہ کبھی اٹھتی تو کبھی بیٹھتی۔۔۔

وہ سارے منظر اس کے ذہن میں چپک کے رہ گئے تھے۔۔۔

ملیحہ کے ساتھ اخل پھر محروج ملیحہ کا بھائی۔۔۔۔۔

وہ اخل پر کیسے یقین کر سکتی تھی۔۔۔۔

ساری رات وہ اپنی عزت کی حفاظت کی دعائیں مانگتی رہی۔۔۔۔۔۔۔

کہیں اہٹ محسوس ہوتی تو سکر کر بیٹھ جاتی۔۔۔

اخل نے بھی ساری رات اس کے کمرے کے گرد ٹہل کر گزاری تھی۔پر کمرے میں جانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔

ان دو دنوں میں کیا ہوا اس کے ساتھ کیا کچھ اس نے برداشت کیا۔صرف اس کی لاپرواہی کی وجہ سے۔۔۔۔

وہ کیسے اس کو ان سب سے نکال پائے گا۔۔۔۔

اس کا ذہن انہی الجھنوں میں بھٹکا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ کیوں ہے ایسا اج پہلی بار اسے ایسا ہونے پہ پچھتا ہوا تھا۔۔

ورنہ تو اسے اپنے فریڈم بہت پیاری تھی۔۔۔

_______

اخل ملیحہ کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔جو اس کا بھائی کرنے لگا تھا ائرہ کے ساتھ پر ملیحہ نے اسے باتوں سے قائل کیا۔۔

اورائرہ کا ہمدرد ہونے کا احساس دلایا تھا۔۔۔۔

کے وہ سخت ناراض ہے بھائی سے۔۔۔۔۔

پر اخل نے اسے رکنے نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔

اس کے بہت اصرار پر بھی۔۔۔۔

وہ اس میں اس کے بھائی کو دیکھتا تھا ۔۔۔۔۔

محروج کو بھی وہ اتنی اسانی سے نہیں چھوڑنے والا تھا۔۔۔

وہ منظر اس کی انکھوں سے ہٹ ہی نہیں رہا تھا جب وہ ائرہ کے قریب ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔

اس نے پاکستان میں کچھ لڑکوں کو سلطان کے پیچھے لگایا تھا۔اور خبر کے انتظار میں تھا۔یقینا وہ پاکستان جانے میں ایک منٹ نہیں لگا تھا اگر ائرہ یہاں نہ ہوتی۔یا اگر ائرہ کے ڈاکومنٹس ہوتے ۔۔۔۔

__________

سلطان کو خبر مل چکی تھی کہ اخل اسے ڈھونڈ رہا ہے ۔۔

صبح ہوتے ہی اخل نے سب سے پہلے بریک فاسٹ بنایا تھا۔۔

وہ جانتا تھا ائرہ باہر نہیں ائے گی۔۔۔

وہ بریک فاسٹ لے کر اس کے کمرے میں گیا تھا۔۔

مجھے الفت کے پاس جانا ہے۔مشکل سے اس نے الفاظ ض کو مکمل کیا تھا۔اخل کہ ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی جو اس نے سائیڈ پہ رکھی۔اسے دیکھتے ہی ائرہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔

تم نے ابھی تک کپٹرے نہیں بدلے ائرہ لہجے میں غصہ ایا تھا۔ان کپڑوں کو دیکھا کر اس کا خون کھول رہا تھا ۔۔۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل نے رات کو ہی اس کے لیے کچھ کپڑے اودڈ کر دیے تھے ۔شاپنگ بیگ اس نے اس کے ہاتھ میں دیا۔جو صوفے پر ہی پڑا تھا۔اخل نے سکائی بلو شرٹ پہنی تھی۔نیچے وائٹ چینز شرٹ کو ایک طرف سے پینٹ میں دیا ہوا تھا۔بازو کے استین کھلے تھے۔چہرے پہ کہیں مایوسی تو کہیں ائرہ کے ملنے پہ اطمینان بھی تھا۔۔۔

تم کہیں نہیں جا سکتی ائرہ۔۔۔۔

ابھی کے لیے کہیں نہیں۔۔۔۔

حطرہ ۔۔۔۔

اخل کچھ بولنے ہی والا تھا۔۔۔

خطرہ مجھے تم سے ہے تم سے اخل تم سے۔اس نے ایک ہی لفظ کو کئی بار دہرایا اور ہر بار لفظ کو کھینچتے ہوئے کہا تھا۔وہ جو صوفے پر بیٹھی تھی ایک دم سے اٹھی۔۔۔۔

تم نے مجھے سلطان کے حوالے کیا۔۔۔۔

م۔۔۔۔میں کیوں کروں گا تمہیں سلطان کے حوالے۔۔۔

وہ جو دن رات ایک کیے سلطان کو ڈھونڈ رہا تھا. اور اس سے پہلے بھی وہ ائرہ کے لیے سلطان کو پیسے دے چکا تھا. ان لفظوں نے اسے اندر سے جھنجوڑا…

ائرہ۔۔۔

اس کے جملے نے اسے اندر تک توڑ دیا تھا۔۔

وہ اس کی طرف بڑا ہی تھا کہ ائرہ نے اپنا رخ بدلا۔اس کی قربت کا خوف اس کے چہرے سے عیاں تھا۔۔۔

اوکے ریلیکس۔۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ قربت کے حوف سے کتنی خوفزدہ ہے۔۔۔

مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ناشتہ کر لو۔۔۔۔

تو تم کیوں نہیں مجھے لینے ائے بتاؤ۔اس کی بات کو نظر انداز کرتے اس نے پوچھا۔۔۔

تمہیں کتنی کالیں کی میں نے میسج کیا۔۔۔

کیوں نہیں ائے بتاؤ وہ سارے منظر اس کے ذہن میں گھومنے لگے تھے سلطان وہ لڑکے راشدہ۔سب۔۔۔۔۔

تم نے ان لڑکوں کو لینے بھیجا مجھے۔وہ لڑکے ہی مجھے سلطان کے پاس لے کر گئے۔۔۔

میں۔۔۔۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔وہ لڑکوں کے ساتھ اتنے ارام سے کیوں بیٹھی تھی گاڑی میں۔۔

اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ کیا کہے اسے۔۔۔

کہ وہ نشے میں تھا کسی کے ساتھ تھا۔۔

لبوں کو مچتے ہوئے وہ اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔دونوں ہاتھ کمر پر ٹکائے تھے۔۔

کوئی جواب نہیں تمہارے پاس۔۔۔

کیونکہ تم ایک جھوٹے انسان ہو۔۔۔۔

اس نے پھر سے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔چہرے پہ افسردگی ائی تھی۔۔

ائی ایم سوری۔۔۔۔۔

لفظوں میں بے بسی تھی۔۔۔۔

اب کچھ بھی نہیں ہوگا کچھ بھی نہیں۔۔۔

اپنی جان سے زیادہ حفاظت کروں گا تمہاری۔۔۔۔

اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی ناکام کوشش کی تھی اس نے۔۔۔۔

چلو ناشتہ کرو۔۔۔۔

ائرہ نے اپنا رخ پھیر لیا تھا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

لیکن اس میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی۔۔۔

وہ جانتا تھا کہ وہ بھوکی ہے ۔کچھ نہیں کھایا اس نے ۔۔۔

اب زبردستی ہی لسٹ اپشن تھا۔اس کے پاس ۔۔۔۔۔

تم ایسے نہیں مانو گی۔۔۔

اس نے بازو سے پکڑ کر اسے بیڈ پہ بٹھایا۔اس کے احتجاج کے باوجود۔۔۔۔

ٹرے اٹھا کر بیڈ پر رکھی ائرہ اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔سانس بھاری ہو رہی تھی۔۔۔۔

اخل رخ اس کی طرف کر کے بیٹھا۔۔

ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد اس نے بریڈ پے جیم لگائی ۔۔

ائرہ اب کسی پے اعتبار نہیں کر سکتی تھی۔سب اس کے لیے ایک جسے ہی تھے۔اور اخل کو تو وہ اچھے سے جانتی تھی۔

ایک نمبر کا ٹھرکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قیرت ملیحہ۔۔۔۔۔

اور نہ جانے کتنوں کے ساتھ وہ رہ چکا ہے۔۔۔

لیکن اس کی سمجھ سے باہر تھا کہ ابھی تک اخل نے اس پہ کوئی وار کیوں نہیں کیا۔۔۔۔

اسے محبت کے جا نسے میں کیوں نہیں بسایا۔۔۔

بریڈ کا سلائس اس نے اس کے منہ کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ ائرہ نے اسے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔ اخل کے ہاتھ سے کھانا نہیں چاہتی۔۔۔

اخل شرمندہ ہوا ۔پہلی لڑکی تھی جس کی فکر نے اسے بچپن کیا تھا۔۔۔

اور اس کی لفٹ کو ایسے ٹکھرایاتھا ۔۔۔۔۔۔پر فی الحال اس نے اپنی ایگو کو سائیڈ پہ کیا۔۔۔

وہ اسی میں خوش تھا کہ وہ کھا رہی ہے۔۔۔

اس نے ایک بائٹ لے کر اسے دوبارہ سے ٹرے میں رکھ دیا۔۔۔

اسے ختم کرو۔۔

کھا لیا میں نے۔۔۔

اس کے لہجے سے وہ ابھی بھی حفا لگ رہی تھی۔۔۔

اخل نے ٹیبل پر پڑے دودھ کے گلاس کو دیکھا جو ابھی تک ویسے ہی پڑا ہوا تھا۔۔۔

ختم کرو اس نے پھر اٹھا کے اس کی طرف بڑھی بریڈ ۔۔۔۔۔۔۔

__________

مجھے ائرہ ہر صورت میں چاہیے۔۔۔۔

ہر صورت میں۔۔۔۔

مہروج نے راشدہ کو فون ملایا تھا۔۔۔

وہ اسے یہی کہہ رہی تھی کہ اب وہی اسے ہینڈل کرے۔۔۔

ہم جس چیز کا سودا کر دے اس کی ذمہ داری ہماری نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔

محروج کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس نے موبائل بند کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

غصے سے موبائل کو ایک طرف پھینکا تھا اس نے۔۔۔۔

اتنی اسانی سے تمہیں نہیں لینے دوں گا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

تمہیں اپنا کیا جھکانا پڑے گا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔۔۔۔

پہلی لڑکی تھی جس نے اسے تھپڑ مارا تھا۔۔۔

اور وہ اسے دو ٹکے کی لڑکی کی سمجھ رہا تھا۔۔۔

جن کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

وہ چاہتا تو اخل سے پیسوں کا مطالبہ کر کے بھی اسے لے سکتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ اخل پیسے اس کے منہ پہ مارے گا۔

اسے پیسوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

وہ کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ اخل مجبور ہو کے اسے اس کے حوالے کرے۔۔۔۔۔

____

آئرہ گارڈن کہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی۔شاید اپنی قسمت کو کوس رہی تھی۔۔

محروج سے اب اخل کی قید میں ا گئی تھی۔ اسے ایسے ہی لگتا تھا۔

تقریبا شام ہونے والی تھی۔سارا دن اس نے کمرے میں گزارا تھا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔

کیا میں یہاں بیٹھ جاؤں۔ملیحہ جو تھوڑی دیر پہلے ہی ائی تھی۔اخل سے ملنے کے بعد۔وہ ائرہ کے پاس ائی تھی۔

وہ صبح سے نہ جانے کتنے چکر لگا چکی تھی۔

یہی سوچتے کہ ائرہ اخل کے ساتھ ہے۔۔۔

ائرہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا لیکن پھر بھی وہ بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔

تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں تمہیں پاکستان بھیج سکتی ہوں۔

ائرہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

آنکھیں رو نے اور جگنے کی وجہ سے سوجھی ہوئی تھی ۔۔۔

کہ ۔۔۔۔کیسے

ائرہ نے شال کو اوڑھا ہوا تھا۔بالوں کو بھی ٹائٹ باندھا ہوا تھا۔۔۔

اس کی سادگی ملیحہ کے فشن کو پیچھے چھوڑ رہی تھی۔

یہ اتنا مشکل نہیں ہے بس تمہارے ڈاکومنٹس۔

پاکستان سے بنوانے پڑیں گے پھر ایزیلی یہاں پہ کام ہو جائے گا۔۔۔

اور۔۔۔

وہ اس سے پہلے کچھ اور بولتی وہ اخل کے انے کی اہٹ محسوس کر چکی تھی وہ چپ ہو گئی۔۔۔

اخل نے ایک نظر ائرہ کو دیکھا پھر ملیحہ کو۔۔۔۔

اخل آؤ نہ ۔۔

تم بھی ہمیں جوائن کرو۔۔۔

لیکن اس کے کہنے سے پہلے ہی وہ بیٹھ چکا تھا بالکل ائرہ کے سامنے۔ایک ڈبل سیٹ چیئر تھی۔۔۔۔۔

تم جب پہلی دفعہ اخل کی بوٹ پر ائی تھی مجھے تب سے تم بہت معصوم لگی تھی۔

سبھی لوگ باتیں کر رہے تھے کہ ایسی لڑکیاں اچھی نہیں ہوتی۔۔

اخل اس کی بات ہے خفا ہوا تھا ۔۔۔۔

اخل نے وہ ہی بلو شرٹ پہنی تھی۔وائٹ چینز اس کی آنکھے خاصی اداس لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔

پر مجھے تم بہت اچھی لگی تھی۔اخل کے تاثرات دیکھا کر اس نے با ت کو گومیا۔۔۔۔

اخل نے تمہاری مدد کر کے بہت اچھا کیا ۔۔۔۔۔۔

ملیحہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اخل کے پاس بیٹھ گئی تھی۔۔۔اس کے پاس بٹھنے پے وہ اپسٹ تھا۔۔۔

میں نے ایسے ہی تو نہیں اسے پرپوز کیا تھا۔ائرہ جب میں نے پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا میں دل دے بیٹھی تھی۔اور میں نے اظہار کرنے میں کوئی دیر نہیں کیا۔

لیکن میرے لیے شاکیڈ تھا۔جب اخل نے میرا پروپوزل ایکسیپٹ کیا۔۔۔۔۔

میں امیجن نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔

ملیحہ نے اپنا سر اس کے کاندھے پر رکھا۔۔

وہ اٹھنا چاہتا تھا لیکن کیسے اٹھاتا۔۔۔۔

ٹائم پاس کے چکر میں وہ بہت سے باتیں کر چکا تھا اس سے۔۔۔۔

ہر ہی لڑکی سے کرتا تھا۔۔۔

ائرہ دل ہی دل میں اخل کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔۔

قرت اور اب ملیحہ دونوں کو ایک ساتھ سیٹ کیا ہوا تھا اس نے۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن پتہ نہیں اسے اج ائرہ کے سامنے اچھا نہیں لگ رہا تھا اس طرح ملیحہ اس کے ساتھ چپک کر بیٹھے۔۔۔۔

اس نے دو تین دفعہ اسے پیچھے کرنے کی کوشش کی پر وہ اور قریب ہو گئی۔۔۔۔

ائرہ نے نظرے نیچے جھکا لیی تھی۔۔۔

دونوں ہاتھ گود میں رکھے ان سے کھیل رہی تھی جیسے ان کی باتوں سے اسے کوئی غرض نہیں۔۔۔

جب کے اخل اسے اہٹ اہٹ محسوس کر رہا تھا۔۔۔

اس کی نظریں اس سے ہٹ نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔

اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ملیحہ کی جگہ ائرہ ہوتی۔۔۔۔۔

اس کا سر اس کے کاندھے پہ ہوتا۔۔۔۔۔

لیکن وہ یہ کیوں چاہ رہا تھا وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

اس کی نظریں اس سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔۔

اپنے چہرے پہ اس کی نظروں کا تاب محسوس کرتے اس نے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔

اخل نے اس کے دیکھتے ہی اپنا رخ دوسری طرف کیا۔۔۔

جیسے کسی نے چوری پکڑ لی ہو۔۔

اور ملیحہ کے بالوں سے کھیلنے لگا۔۔۔۔

جیسے اپنی غلطی چھپا رہا ہو۔۔۔

ملیحہ کو تو جیسے موقع مل گیا ہو۔ائرہ کو نچا دکھانے کا۔۔۔

اخل۔۔۔۔۔

ہم اکیلے نہیں ہے۔اپنا ہاتھ اسکے منہ پے رکھتے ہوئے ملیحہ نے کہا۔اشارہ ائرہ کی طرف تھا۔۔۔۔۔۔۔

ائرہ نے جانا ہی مناسب سمجھا۔۔۔۔۔۔۔

اور اخل کو دیکھے بغیر اندر کی طرف چلی گئی۔۔

اس کے جاتے ہی اخل نے ملیحہ کو پیچھے کیا ۔۔۔۔

ملیحہ بھی تھوڑا خیران ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔

پر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا کیا تم نے اخل دل ہی دل میں خود کو کوستے وہ ائرہ کے پیچھے اندار آیا۔ ۔۔۔

اسے محبت ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔

شاید۔۔۔۔۔۔

لیکن اقرار مشکل تھا ۔۔۔

_____

میں ایک دو دن میں چکر لگاؤں گا کہہ تو رہا ہوں۔۔

تمہاری ماں ہو کیسے نہ پریشان ہو تم اواز سے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔

کوئی مسئلہ ہوا ہے دوستوں کی بات ہوئی ہے اب بتاؤ مجھے۔۔

بشرا بیگم اچھے سے جان گئی تھی۔ کے اخل ٹھیک نہیں ہے۔۔

نہیں موم کوئی بات نہیں بس تھوڑا تھک گیا ہوں اج۔۔۔

اسی لیے۔۔۔

تم اپنا خیال بھی تو نہیں رکھ رہے۔۔۔۔

اب مجھے فائنل ڈیٹ بتاؤ کب ا رہے ہو۔۔۔۔

موم۔۔۔۔۔

ایک ہاتھ کمر پہ رکھے موبائل فون کے ساتھ لگائے اس نے پاؤں سے ہٹ کیا۔کوئی جواب نہیں تھا اس کے پاس کہ کب ائے گا۔۔۔۔

بس ا جاؤں گا بہت جلد۔۔۔۔۔

سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا۔۔۔

اور میں جانتی ہوں یہ جلدی اب کبھی نہیں انے والی۔

قرت تو لندن جا چکی ہے اب وہاں رکنے کی کیا وجہ ہے۔۔۔

میں یہاں اس کی وجہ سے نہیں تھا پلیز موم۔۔۔۔

یہ تو بہت اچھی بات ہے وہ لڑکی مجھے ایک انکھ نہیں پسند میں پہلے ہی بتا چکی ہوں تمہیں۔۔۔۔۔

میری جو بہو ہوگی وہ سلیقے والی ہوگی۔۔۔

اس سے پہلے بھی بشرا بیگم ایسے ہی باتیں کرتی تھی۔اور اخل کو ان باتوں سے چر تھی۔وہ ہمیشہ سے اپنی ائیڈیل کو اپنی طرح ہی۔ چاہتا تھا۔اور اکثر لڑ بھی لیتا تھا۔اور اج ان کی بات وہ غور سے سن رہا تھا۔۔۔۔

اور دل و دماغ میں بس ائرہ تھی۔۔۔۔

پر کہیں وہ اپنے اندر کے حیوان سے ڈرتا بھی تھا۔کہ کہیں اس کا شکار وہ معصوم نہ ہو جائے۔اسے بھی محبت کے جال میں جکر کر چھوڑ نہ جائے وہ۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہمیشہ سے یہی تو کرتا ایا تھا۔۔۔۔۔۔

____

مجھے اس کی ساری انفارمیشن چاہیے۔۔۔۔۔

ساری محروج سکون سے بٹنھے والوں میں سے نہیں تھا ۔۔۔

اس نے اپنے بندوں کو ائرہ کی انفو اگٹھی کرنے کے پیچھے لگا دیا تھا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے موبائل پکٹ میں ڈالا۔۔۔۔

ملیحہ کو لے کے اؤ۔۔۔۔

اس نے پاس کھڑی لڑکی کو خکم دیا۔۔۔۔۔

جو ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔اور صوفے پے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

مجھے تھپڑ مارنے کی قیمت جھکانی پڑے گی۔۔

_______

رات کے کھانے کے بعد ائرہ جو کمرا لوک کرنے کے ارادے سے داوزے کو بند کرنے لگی تھی ۔۔

اخل نے دروازے کو پکڑا۔۔۔۔۔۔

روم لوک نہیں کرنا۔۔۔۔۔

ائرہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ ۔۔۔۔۔

تو وہ سمجھ گیا تھا اس کے سوال کو۔۔

مجھے رات کو دیکھنا ہوتا ہے۔۔۔۔

کیا دیکھنا۔۔۔۔۔

تمہیں دیکھنا اور کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

کیوں ۔۔۔۔۔۔

تمہارے ہر کیوں کا جواب میرے پاس نہیں۔۔۔۔۔۔

اس کیوں کا جواب تو اس کے پاس بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

پر اسے فکر تھی۔۔۔۔۔

اسے یوں گھورتے دیکھ کر ائرہ کو شدید غصہ ایا۔۔۔۔۔

ایک گٹھیا انسان ہو تم۔۔۔۔۔۔

مجھے قید نہیں کر سکتے ہو تم ۔۔

مجھے جانا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اج نہیں تو کل میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی۔۔۔

وہ معصومیت سے اسے اپنی پلاننگ بتا رہی تھی۔۔

میں ملیحہ یا قرت نہیں جو تمہارے اشارے پے ۔۔۔

بس۔۔۔۔۔ہاتھ کے اشارے سے اس نے حاموش کروایا ۔۔۔۔

وہ ایک ہی سانس میں بولی جا رہی ہے ۔۔۔

تم نے میرا سودا کیا۔۔۔۔۔۔

مجھے سلطان کے حوالے کیا۔۔

ائرہ میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے تمہارا سودا نہیں کیا۔

اب دوبارہ ان میں سے کوئی بھی لفظ تمہاری زبان میں نہ ائے۔

نہ ہی سلطان اور نہ ہی کوئی اور۔۔۔

تم سب ملے ہوئے ہو۔۔

میں اچھے سے جانتی ہوں تمہیں۔۔۔

اخل کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔

اس نے دروازہ اس کے منہ پہ بند کیا تو اخل تو غصے سے جیسے پاگل ہو گیا تھا۔ ۔۔

وہ پہلے ہی اس کی باتوں کو مشکل سے برداشت کر رہا تھا۔۔۔۔

اس نے ایک جھٹکے میں دروازہ کھولا وہ بری طرح سے سہم چکی تھی۔۔

کون سی زبان سمجھ اتی ہے تمہیں۔۔۔۔

وہ اس کے قریب جا رہا تھا۔وہ ڈر کے مارے پیچھے ہو رہے تھی۔۔

گزرے ہوئے لمحات جو اس کے ذہن میں اٹکے ہوئے تھے۔وہ پھر سے ابر آئے تھے دل کی دھڑکن یک دم تیز ہو گئی تھی۔۔۔

اخل میں بھی بھی وہ ایک حیوان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

اس کی سانسیں اوپر نیچے ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اخل کو اس نے ایک جٹکھے میں پچھے کیا جو قریب سے قریب تر آرہا تھا۔ اور تھپر مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا پر اگلے ہی لمحے اخل نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے اسے زور دار تھپڑ دے مارا ۔۔۔۔۔

یہ سب اس سے بہت اچانک ہوا تھا۔

وہ کیسے کسی لڑکی سے تھپڑ کھا سکتا تھا۔

تھپڑ اتنی زور کا تھا کہ وہ جا کر بیڈ پر گری تھی۔۔۔۔

لیکن اب گردن اٹھانے کی ہمت نہیں تھی اس میں وہیں پہ رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔

اخل نے اسی ہاتھ کا مکہ بنا کے دیوار پر مارا۔۔۔۔۔

زور سے دروازہ پٹاخہ اور باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔

_____

اپنے کمرے میں اتے ہی اس نے وائن کی بوتل اٹھائی تھی۔۔۔

لیکن غصہ اس قدر تھا۔۔کہ وہی بوتل اٹھا کر اس نے دیوار کے ساتھ پٹاہی۔۔۔۔۔۔

جو چکنا چور ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔

دوسری بوتل اٹھائی۔گلاس در گلاس نہ جانے کتنی وائن اپنے اندر اتار چکا تھا۔۔۔

ائرہ۔۔۔۔۔۔

ہاتھ میں پکڑے گلاس کو ایک طرف لٹکایا اس نے وہ مکمل نشے میں جا چکا تھا۔۔۔

پھر مشکل سے خود کو سہارا دے کر اٹھا۔۔۔۔۔

اس نے رخ ائرہ کے کمرے کا کیا تھا۔۔۔۔۔

پر مشکل سے چل پا رہا تھا۔۔۔۔