207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 9

You’re All Mine by Suneha Rauf

وہ اب روز صبح اس کے ہاتھ کا ہی ناشتہ کرتی تھی اپنی چھوٹی چھوٹی چیزیں اس سے کروانے کی عادی ہو رہی تھی۔

“آحل؟”

بولو!

امممم! وہ سوچنے لگی کہ آج کون سی فرمائش کرے اس سے۔

“مجھے برگر کھانا ہے ابھیییی۔”

میں منگوا دیتا ہوں! اس نے اپنے کپڑے رکھتے کہا۔

نہیں ابھی بنا کر دیں! اس نے کہا تو آحل نے اپنے کپڑے چھوڑے اور اسے دیکھا۔

“مجھے بنانا نہیں آتا الہام!” وہ جانتا تھا وہ نہیں مانے گی لیکن پھر بھی اصرار کیا۔

“میں بھی جب آپ فرمائیش کریں گے تو آگے سے یہی بہانہ ماروں گی” وہ بُرا مان گئی تھی۔

“میں نے بہانہ نہیں مارا اور یہ بات تم جانتی ہو نہیں تو روز سینڈوچ جُوس سب میں بنا کر دیتا ہوں۔”

اوکے اوکے! معافی چاہوں گی وہ کہتے کھلکھلائی تو اس نے سر نہ میں ہلایا۔

کیا یہ میں پریس کر دوں؟ اسے ستری چلاتے دیکھ الہام نے پوچھا۔

“نہیں میں کر لوں گا۔”

پلیز نا میں کرتی ہوں مجھے آتا ہے! وہ آگے آتی اسکی شڑٹ تھامتے بولی۔

الہام آپ نے اپنے کپڑے کبھی بھی خود پریس نہیں کیے آج کیسے کر لو گی ہٹو!

“نہیں مجھے آتے ہیں آپ بھی تو میرے کام کرتے ہیں میں بھی کروں گی تو برابر ہو گا نا حساب۔”

نہیں مجھے برابر نہیں کروانا وہ اپنی بات پر قائم تھا۔

آپ مجھے کرنے دے رہے ہیں یا نہیں؟ الہام نے انگلی اٹھاتے اس سے پوچھا۔

اچھا آجاؤ۔۔۔وہ جانتا تھا یا تو وہ ناراض ہو گی یا ٹلے گی نہیں۔

وہ پانی لگاتے اس کی شرٹ پر ہلکے ہلکے استری پھیرنے لگی تو وہ باہر سے اپنے جوتے لینے گیا۔

آہہہہہ! اندر داخل ہوتے اس کی سسکی سنی۔

کیا ہوا؟ اس کے پاس آتے اس کے بازو کو دیکھا جہاں استری کا نشان تھا۔

“کہا تھا نا میں نے تم نہیں کر پاؤ گی تمہیں عادت نہیں ہے اور بات مان جایا کرو۔۔۔۔”

بچی ہو تم ابھی ان سب کے لیے مجھ سے مقابلہ مت کرو میں کھانا بنانا جانتا ہوں اسی لیے بناتا ہوں لیکن تمہیں یہ سب نہیں آتا۔

“میں کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔”وہ اپنی ہی بات پر اڑی تھی۔

الہام بحث نہیں کرو۔

“میں بچی نہیں ہوں” وہ چیخی۔

“آرام سے بات کرو!”

کیوں آرام سے۔۔۔۔میں کہہ تو رہی ہوں کر سکتی ہوں ہلکی سی لگی ہے بس۔

ہلکی سی لگی ہے وہ اس کا ہاتھ دیکھتا بولا اب وہاں پیسٹ لگا رہا تھا۔

“چھوڑیں مجھے جانا ہے!”

لگا لینے دو پھر چلی جانا لگا کر اس کا ہاتھ چھوڑا تو وہ بنا کچھ کہے نکل گئی۔

الہام! بات سنیں میری لیکن وہ تو جا چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ روتی تیزی سے قدم اٹھا رہی تھی۔۔۔۔جب اسکا فون تھرتھرانے لگا۔

وجدان چوہدری کا نام دیکھ کر اسے کاٹ دیا اور قدم آگے بڑھائے لیک بار بار اس کا نام دیکھ کر اس نے کال سنی۔

“دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟”

اس نے اپنے پاس دیکھا اور پھر بیگ میں۔۔۔اس نے اس وقت صرف سکارف لیا ہوا تھا دوپٹہ کہیں گر گیا تھا شاید۔

م۔۔۔پتا۔۔۔نہیں! وہ سوں سوں کرتی بولی۔

“دھیان ہوتا تو پتا چلتا تمہیں خیر میرے پاس ہے۔۔۔”

ڈرائیور آ رہا ہے میرا گھر پہنچ کر مجھے انفارم کرو وہ حکم دے رہا تھا شاید اسے چاہت کو تو یہی لگا۔

چاہت نے کال کاٹ دی اور تیزی سے آگے بڑھی اسے نہیں چاہیے تھی کسی کی مدد لیکن گاڑی کے مسلسل ہارن سے اسے رکنا پڑا۔

“میم گھر چھوڑ دیتا ہوں۔”

“آپ جائیں میں چلی جاؤں گی” وہ جانتی تھی وجدان کے ساتھ اسے کئی بار دیکھ چکی تھی۔

“میم پلیزز۔۔۔مہربانی کریں اور بیٹھ جائیں وقت کافی ہو گیا ہے اور آپ کو شہر کے راستوں کا بھی علم نہیں۔”

میں نے کہا نا میں مینیج کر لوں گی اس نے کہا تو وجدان چوہدری جو ڈرائیور کے ساتھ کال پر تھا سب سن چکا تھا۔

“فون دو اسے!”

ڈرائیور نے فوراً فون اسے پکڑایا اس نے لاعلمی سے اسے دیکھا۔

“چاہت گاڑی میں بیٹھو!” اسپیکر سے آواز گونجی۔

“آپ ہوتے کون ہیں مجھے حکم دینے والے؟” وہ روتے ہوئے بولی۔

“تم میرے ضبط کو آزما رہی ہو چاہت خالد۔۔۔۔”

جواب نداد!

اگر نہیں چاہتی ہو کہ میں وہاں آؤں تو بیٹھو۔۔۔اس جگہ کا رتی برابر علم نہیں ہے تمہیں ابھی بھرم مار لو گی لیکن جان لو مصیبت میں پڑی تو میں نہیں آؤں گا اس نے کہتے کال کاٹ دی۔

چاہت نے گال رگڑتے ڈرائیور کو دیکھا جو اس کا منتظر تھا پھر بیٹھ گئی اور گھر پہنچنے پر فون بند کر دیا۔

ڈرائیور وجدان چوہدری کو بتا چکا تھا کہ وہ گھر کے اندر چلی گئی ہے۔

کیا ہوا چاہ؟ اسے یوں روتے دیکھ الہام فوراً اس کے پاس آئی۔

الہام؟؟ وہ الہام کے گلے لگی ہچکیوں سے رونے لگی نجانے زیادہ بُرا اسے کیا لگا تھا۔

کیا ہوا؟ پلیز بتاؤ!

چاہت نے اسے سب بتا دیا۔۔۔الہام کو بھی ان سب پر غصہ آیا تھا۔

“الہام تمہیں پتا ہے یہ سرد لوگ ہیں مطلبی جنہیں صرف اس ایک بے مطلب سی خوشبو کی طلب ہے اپنے بزنس کے لیے جزبات ان کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتے۔”

تم کسی کو مت دینا وہ الہام نے فوراً کہا تو اس نے سر ہاں میں ہلایا۔

تم سو جاؤ چاہ۔۔۔صبح بات کریں گے میں وجی بھائی کو بھی سمجھاؤں گی۔

“میں آفس نہیں جاؤں گی اب!”

چاہت کہتی اپنے کمرے میں بند ہو گئی تو وہ بھی سر نا میں ہلاتی اس کی فکر میں اپنے کمرے میں چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تھوڑی دیر بعد اٹھی اور اسے دیکھا جو قریب ہی بیٹھا تھا۔

“اب کیسا محسوس کر رہی ہو؟”

امم۔۔اچھا۔۔۔

“تو کیا میری زات تمہیں سکون فراہم کرنے میں کامیاب ٹہری؟” وہ اسے دیکھتا استسفار کرنے لگا۔

اس کا جواب میں پھر کبھی دوں گی وہ کہتی ہلکا سا مسکرائی۔

ڈارک ویزرڈ نے گھور کر اسے دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

چلو نکلنا ہے ہمیں!

“کہاں جائیں گے اب ہم؟” پہلی بار اس نے پُرجوش ہو کر پوچھا تھا اس سے کچھ۔

تم بتاؤ؟ کہاں جانا چاہتی ہو؟

“اممم۔۔۔۔گھر۔”

اوکے! وہ کہتا واش روم میں بند ہو گیا تو وہ خوشی سے چھلانگ لگا کر اتری کیا وہ سچ میں اُسے اس کے گھر لے جائے گا۔

لیکن راستے میں ہی اسے معلوم ہو گیا کہ وہ اس کے گھر نہیں جا رہا تو خاموش ہو گئی۔

“ایک بات پوچھوں؟”

بولو!

“اممم۔۔۔تم یہ سب کیوں کر رہے ہو”؟

کیا؟

“یعنی تم مافیا کے آدمی ہو۔۔۔۔تو تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ دولت کے لیے؟ یا کہانیوں کی طرح کسی انتقام کی آگ میں؟”

ڈارک ویزرڈ نے آئیبرو اچکاتے اسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کہ پاگل ہو؟ لیکن جواب نہ دیا۔

ٹھیک ہے مت دو جواب۔۔۔ایک دن میں بھی تمہیں ایسے ہی ایٹی ٹیوڈ دکھاؤں گی! وہ کہتی یہاں وہاں دیکھنے لگی۔

“یہ گاڑی کس کی ہے؟”

چوری کی ہے؟ ضرور تم نے اسے گن دکھائی ہو گی۔۔۔وہ بہت بولتی ہے یہ وہ جان گیا تھا۔

آہستہ آہستہ وہ اس کے ساتھ آرام دہ ہو رہی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ اصل حیات غازیان بن رہی تھی جو وہ تھی۔

چوری کی ہے لیکن واپس کر دوں گا۔۔۔وہ جان بوجھ کر بولا۔

افففف۔۔مجھے لگا ہی تھا۔۔۔۔تم اتنے امیر کبیر ہو ہی نہیں سکتے۔۔۔۔

وہ بھول گئی تھی کہ وہ جہاں رہ کر آئی تھی وہ ایک اچھا اور بڑا ہاٹل تھا اور وہ اس کے ہیلی کاپٹر میں “بھی سفر کر چکی ہے۔

کیا تمہاری کوئی فیملی ہے؟”

“تمہیں نہیں لگتا تم سوالوں کو پرسنل سطح پر لے کر جا رہی ہو؟”

وہ خاموش ہو گئی تو اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو اطراف میں گھنے درختوں کو دیکھ رہی تھی۔

میری فیملی میں بس مجھ سے منسلک ایک وجود ہے!

اس نے کہا تو حیات نے جھٹکے سے گردن موڑتے اسے دیکھا۔

“کیا تم شادی شدہ ہو؟”

“بھوک لگی ہے تمہیں؟”

تم نے جواب نہیں دیا؟ وہ وہیں آڑی تھی۔

اس کا جواب میں پھر کبھی دوں گا۔۔۔۔اس نے اسی کا جواب اسے لوٹایا۔

یہ کس کا گھر ہے؟

“میرا!” وہ کہتا اسے حیران چھوڑ کر اندر کی طرف بڑھا تو وہ بھاگتی اس کے پیچھے آئی۔

یہ درختوں میں ڈھکا چھپا لکڑی کا ایک خوبصورت گھر تھا جو نہ زیادہ بڑا اور نہ زیادہ چھوٹا تھا۔

خوبصورت! اس کے لبوں سے نکلا جو وہ سن چکا تھا۔

ایک مسکراہٹ نے اس کے لبوں پر اپنی چھاپ چھوڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح اسے تیز بخار تھا۔۔۔۔الہام نے اسے دوا دی تھی وہ پریشان تھی اس کے لیے۔

وجدان چوہدری نے آتے ساتھ اس کا پوچھا تھا اور اسے معلوم ہوا تھا کہ وہ نہیں آئی اور پھر ایک دن نہیں دو اور پھر تیسرا دن تھا وہ نہیں آئی تھی۔

وجدان چوہدری نے اسکا نمبر ملایا جو اُس رات کے بعد سے ہی بند جا رہا تھا۔

اس نے الہام کا نمبر ملایا۔

“وجی بھائی اسے بخار ہے چاہت کے بارے میں پوچھنے پر اسے یہ معلوم ہوا تھا۔”

کب سے؟

اُسی رات سے۔۔۔آپ نے اچھا نہیں کیا۔

میں نے کیا کیا ہے؟ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس نے الہام کو کیا بتایا۔

“اس کا کہنا ہے آپ لوگوں کو جذبات اور احساسات کی قدر نہیں آپ سب کو اپنے بزنس بڑھانے کے لیے وہ پرفیوم چاہیے ہے۔”

شاید وہ کسی طور ٹھیک تھی لیکن وجدان چوہدری کے معاملے میں نہیں۔۔۔!

“وجدان چوہدری اس خوشبو پر کسی کی رسائی نہیں چاہتا تھا بیچنا تو دور کی بات تھی۔”

وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ پرفیوم کسی کے پاس جائے یہی وجہ تھی اس دن وہ اتنا ری ایکٹ کر گیا تھا۔

ٹھیک ہے! اس نے ایک دو اور باتیں کرتے کال کاٹی اور سوچنے لگا۔

پھر اٹھا اور آفس سے ہی نکل گیا راستے سے پھول خریدے اور اس کے گھر پہنچا۔

الہام نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“وجی بھائی کیسے ہیں آپ؟”

ٹھیک ہوں چاہت کہاں ہے؟ کیا یہ پہلے دن والا وجدان چوہدری تھا؟

اپنے کمرے میں ہے آپ جائیں میں آتی ہوں۔۔۔وہ کہتی خانساماں کو کچھ بنانے کا کہنے چلی گئی۔

وجدان چوہدری نے چاہت کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

“الہام؟” چاہت کو حیرت ہوئی اس کے دروازے پر کب کہیں دستک ہوتی تھی۔

وہ دروازہ کھولتا اندر آیا چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر گلے میں پڑے دوپٹے کو سر پر اوڑھا۔

وجدان چوہدری نے اسے دیکھا کملایا چہرہ، بکھرے بال اور آنکھوں کے گرد ہلکے وہ سچ میں بیمار نظر آتی تھی۔

“کیسی ہو؟”

آپ یہاں؟ حیرت ہی حیرت تھی۔

“یہ جواب تو نہیں ہے میری سوال کا؟”

میں ٹھیک ہوں بیٹھیں۔

اسے سامنے صوفے پر بیٹھنے کی پیشکش کی جو اس نے قبول کی اور بیٹھ گیا۔

“ٹھیک ہیں تو آفس کیوں نہیں آرہی؟”

“اب ٹھیک ہوں پہلے نہیں تھی اسے اندر کہیں اچھا لگا تھا یوں اس کا اپنے لیے آنا۔ “

کیا آپ میرے لیے آئے ہیں؟ اس کے ہاتھوں میں پھول دیکھ اس نے پوچھا۔

وجدان چوہدری نے آئبرو اچکاتے اسے دیکھا وہ کیا جاننا چاہ رہی تھی۔

بالکل!

چاہت کا چہرہ گلابی ہوا تھا جو اس نے بخوبی دیکھا تھا۔۔۔۔یعنی اسے اچھا تھا اس کا آنا۔

“یہ آپ کے لیے!” پھولوں کا گلدستہ اسے پکڑایا جو اس نے شکریہ کے ساتھ تھام لیا۔

الہام کے آنے پر چند باتیں کیں تھیں اس نے اور اسے جلد صاحب یابی کی دعا دیتے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

چاہت کو لگا باغ میں کِھلے پھول یک دم مرجھائے ہیں اس کے جانے ہر۔۔۔۔تین دن سے جو بے کُلی چھائی تھی اس کی زات پر وہ جاتی رہی تھی۔

الہام پانی لا دو! اس نے شاید جان کر اسے باہر بھیجا تھا پھر اس کے قریب گیا۔

“مجھے خذبات اور احساسات دونوں کی قدر کرنی آتی ہے چاہت خالد لیکن جان لو جس دن اس خوشبو تک کسی اور کی رسائی ہوئی اس دن یہ بات ہم دونوں کے حق میں بہتر نہیں ہو گی۔”

اور!

“کیا آپ کو وہ پرفیوم اپنے بزنس؟”

“بزنس کے لیے چاہیے ہوتی چاہت خالد تو پہلے ٹیسٹر کے بعد ہی اس پر کام شروع کرواتا۔۔۔لیکن وہ خوشبو مارکیٹ میں کبھی نہیں آئے گی یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔”

چاہت نے بنا پلک جھپکے اسے دیکھا۔

کل مجھے تم اپنے سامنے آفس میں چاہیے ہو!

کیوں؟

وجدان چوہدری نے اسے دیکھا اور باہر نکل گیا۔

شاید کچھ سوالوں کے جوابات نہیں ہوتے۔۔۔کیونکہ نگاہیں سب بیان کر جاتی ہیں جو زبان کہہ نہیں پاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام تک وہ واپس نہ آئی تو وہ اندر گیا وہ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔

“الہام باہر آئیں!”

میں نہیں آؤں گی وہ بنا اسے دیکھے بولی۔

الہام۔۔۔باہر آئیں اب کہ اس نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔

میں نے آپ کو بتا دیا ہے میں نہیں آؤں گی آپ ایک “بات سمجھ لیں کہ میں بچی نہیں ہوں۔”

لیکن وہ جواب دیے بغیر ہی چلا گیا تھا الہام کو بُرا لگا تھا اپنا اسے یوں نظرانداز کرنا۔

کچھ ہی دیر بعد اٹھی اور باہر نکلی وہ گاڑی پارک کر رہا تھا وہ اس کے پاس آئی۔

آحل نے اسے نظرانداز کیا اور اپنے گھر میں داخل ہوا وہ پیچھے ہی تھی اس کے۔

“کیا لینے آئی ہو؟”

آحلل پلیز۔۔۔

“واپس چلی جاؤ!”

سچ میں؟

بالکل!

لیکن کیوں؟

“کیونکہ میرے بلانے پر تم نہیں آئی تھی تو اب بھی جا سکتی ہو۔”

تب میں غصے میں تھی وہ منمنائی۔

ٹھیک ہے تو مطلب جب بھی آپ محترمہ غصے میں ہوں گیں آپ مجھے یوں ہی نظرانداز کریں گی میں عادت ڈال لوں؟ اس کی طرف دیکھتا بولا۔

“آحلللللل!”

آئیم سوری!

“بات معافی مانگنے کی نہیں ہے الہام آپ جانتی ہیں۔۔۔نا مجھے پسند ہے آپ سے مانگی منگوانا۔۔۔۔لیکن اگر اگلی بار غصے میں میں آپ کو نظرانداز کرتا ہوں تو آپ بُرا ہرگز نہیں منائیں گی۔”

اچھا نا! چلیں آئسکریم کھانے چلتے ہیں۔۔۔

“ہاتھ دکھاؤ اپنا۔۔۔”آحل نے اس کا بازو دیکھا۔

چلو! راستے میں سے اس کی دوا بھی لے لیں گے۔

ضرورت نہیں۔۔۔

لیکن بدلے میں آحل کی گھوری سے وہ خاموش ہو گئی۔۔۔اور پھر آئسکریم کھاتے دوا لی تھی آحل نے اس کی۔

آحل؟

ہممم!

“میں بابا اور اماں کو بہت مِس کر رہی ہوں مجھے ان سے ملنے جانا ہے۔”

“ٹھیک ہے! کتنے دنوں کے لیے؟”

معلوم نہیں!

“ٹھیک ہے! مجھے امید ہے تم مجھے مِس کرو گی” وہ یقین سے بولا تو وہ مسکرائی۔

غلط فہمی ہے آپ کو!

تو چلو اس بار اس غلط فہمی کو دور کر دینا وہ کہتا مسکرایا۔

وہ کیسے؟ دلچسپی لیتے استسفار کیا گیا۔

“دو تین ہفتے وہاں رہ کر دکھاؤ مجھے۔”

بس اتنی سی بات؟ میں کر لوں گی۔

“ٹھیک ہے تو دیکھتے ہیں۔۔۔”آحل فیاض کے دل نے بارہا دعا کی تھی کہ وہ ایسا نہ کر پائے۔

اگلے دن وہ چلی گئی تھی اور وہ اسے یاد کرتا رہا تھا اس کی باتیں، اس کی حرکتیں، اس کا مسکرانا، اس کا ناراض ہونا سب۔

“آحل فیاض کا تمہارے بغیر اب گزارا مشکل ہے جاناں!” اور میری دعا ہے تمہارہ دل کہیں بھی آحل فیاض کے بغیر نہ لگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اندر آئی وہ گھر دلکشی میں اپنی مثال آپ تھا وہ گھول گھول گھومتی آنکھیں پھاڑے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔

اممم۔۔۔۔وہ اس کے پاس گئی۔

“کیا تم یہ گھر بیچنا چاہو گے؟”

ڈارک ویزرڈ نے آنکھیں سکیڑتے اسے غور سے دیکھا۔

مطلب اگر تم کبھی یہ گھر بیچو تو مجھے بیچ دینا مجھے یہ بے حد پسند آیا ہے وہ پُرجوشی سے بولی۔

یہ گھر میری کزن کے نام ہے! اس نے بتایا۔

“کیا وہ تمہاری زندگی میں بہت معنی رکھتی ہے؟” حیات نے رازداری سے پوچھا۔

وہ وہ واحد وجود ہے جو میری زندگی کا حصہ ہے۔۔۔۔اس نے بتایا تو حیات کو اشتیاق ہوا کہ وہ اس لڑکی کو دیکھے۔

“کیا اسے تمہارے مافیا میں ہونے کا پتا ہے؟”

ڈارک ویزرڈ نے اسے زبردست گھوری سے نوازا تو اسنے ہونٹ کاٹے ایسا کرتے وہ حسین لگی تھی۔

“تمہاری زندگی میں کون کون ہے؟” پہلا سوال جو ڈارک ویزرڈ نے خود سے کیا تھا اس سے۔

“اممم۔۔۔میرے بابا، میری امّاں اور میری جان میری بہن۔

بس؟ ناجانے وہ کیا جاننا چاہتا تھا۔”

“ہاں! بس۔۔۔۔”

اور کوئی بھی نہیں ہے اس نے کہا تو ڈارک ویزرڈ کو خود میں ابال اٹھتے محسوس ہوئے۔

وہ سامنے والا کمرہ ہے تمہارا جاؤ! سرد لہجہ۔

حیات نے پلٹ کر اسے دیکھا اور اندر چلی گئی کیا اس نے کچھ غلط کہا تھا۔

ڈارک ویزرڈ نے اپنے سامنے موجود گلاس کو جھٹکے سے نیچے پھینکا۔

“سب یاد دلاؤں گا تمہیں سبببب۔۔۔۔۔”وہ سرد لہجے میں غرایا اور اپنے کمرے میں بند ہو گیا اور شام تک نہ نکلا۔

سنو!! وہ صبح سے یہاں وہاں گھومتی رہی تھی لیکن وہ کہیں نہیں نظر آیا تھا۔

اب وہ تھک کر اس کے کمرے کے دروازے کے پاس رُکی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

“کھولو تو! سو گئے ہو؟”

جھٹکے سے دروازہ کُھلا اور اسے جھٹکے سے اندر کھینچا گیا تو وہ درخت کی ٹوٹی ڈالی کی طرح کھینچی چلی آئی۔

اسے دروازے کے ساتھ لگاتے ڈارک ویزرڈ نے سرد نگاہوں سے گھورا۔

حیات نے اسے شرٹ لیس دیکھ تھوک نگلا۔۔۔۔وہ کسی کو بھی ٹھٹکا دینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ اس نے دروازے پر اس کے پیچھے ہاتھ رکھتے پوچھا۔

“وہ۔۔۔مجھے۔۔۔”اس نے آنکھیں جھکائی۔

مجھے دیکھ کر بات کرو۔۔۔۔وہی سرد لہجہ۔

بھوک لگی ہے!

وہ کہتی یہاں وہاں دیکھنے لگی تو وہ پیچھے ہوا اور اپنی شرٹ اٹھا کر پہنی اور باہر نکل گیا۔

“کیا تمہیں کچھ بنانا آتا ہے؟” اس نے مُڑ کر اس سے پوچھا تو وہ رکی۔

اممم۔۔نہیں! پہلی بار اسے شرمندگی ہوئی۔۔۔ڈارک ویزردڈ نے ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی۔

میرے کمرے میں جاؤ اور کپڑے بدلو!

لیکن۔۔۔۔اس نے کہنا چاہا کہ وہ ایسے ہی ٹھیک ہے لیکن بدلے میں اس کی سرد نگاہوں کو دیکھتے وہ اندر کی طرف بھاگی۔

اس کی شخصیت ہی ایسی تھی۔۔۔نہیں تو حیات غازیان کو تو کوئی باتوں سے نہیں ہرا سکتا تھا اور وہ شخص ایک نگاہ پر اس سے سب کرواتا جا رہا تھا۔

حیات نے اس کے کپڑے پہنے اور باہر آئی اور اسے دیکھا جو فریج سے کچھ نکال رہا تھا۔

ڈارک ویزرڈ نے اسے دیکھا جو اس کی نیلی ٹی شرٹ میں تھی جو اس کے گھٹنوں سے کچھ اوپر تھی اور ٹراؤزر تو اس کے پیروں میں آرہا تھا۔

یہاں آؤ!

وہ قدم قدم چلتی اس کے قریب آئی بکھرے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا جو ہلکے نم تھے۔

“وہ جھکا اور اس کے قدموں میں بیٹھتے اپنے ٹراؤزر کو گھماتا اوپر اس کے ٹخنوں تک لایا۔”

ہاں وہ جھکا تھا۔۔۔اس کے قدموں میں۔۔۔اس کے جاننے والے لوگ یہ منظر دیکھتے تو ان پر غشی طاری ہو جاتی۔

اور پھر شرٹ کی آستینوں کو بھی موڑ کر اس کی کہنی تک لایا اور اسے دیکھا جو پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔

“بال سکھا کر آؤ! ایک نیا حکم!”

وہ جو اسی لمحے کی قید میں تھی چونکی اور سر ہلاتے اندر چلی گئی۔

وہ شخص اسے قید کر رہا تھا اور وہ قید ہو رہی تھی۔۔