You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 1
Rate this Novel
You're All Mine Episode 1
You’re All Mine by Suneha Rauf
چار سال بعد:
رابیل اور میرال بیٹھی انٹرنیٹ پر اپنے بچوں کے کپڑے دیکھ رہی تھیں جبکہ میر ابراہیم اور غازیان اِن دونوں اور اپنے بچوں کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
“تم مجھے آپ کہو فوراً….. یہ تم کیا ہوتا ہے؟”
میر کا بیٹا ہادی غازیان کی بیٹی حیات کو دیکھ کر بولا تو وہ سب چونکے اور پھر مسکراۓ اب رابیل اور میرال بھی ان کی طرف متوجہ تھیں۔
“اوکے……” حیات نے فوراً سر کو خم دیتے کہا۔
تم نے کھانا کھایا تھا آج؟ اگلا سوال داغا گیا۔
“نہیں ….”ماما نے پھر سے بھنڈی پکائی تھی مجھے نہیں پسند ….
او فو تو مجھے بتاتی نا۔۔۔ رکو میں آتاہوں ہلنا نہیں یہاں سے۔
حیات بیٹا اندر آجاؤ باہر بہت گرمی ہے رابیل نے آواز دی۔
نہیں ماما . . . . ہادی غصہ ہو جاۓ گا وہ بولی تو میر اور غازیان نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
الہام آ کر میر کی گود میں چڑھ گئی تھی کیونکہ وہ حیات کی طرح بولڈ نہیں تھی وہ ڈری سہمی سی بچی تھی۔
اور میر ابراہیم کی تو وہ لاڈلی تھی اسی لیے وہ غازیان سے زیادہ میر ابراہیم کی گود میں پائی جاتی۔
حیات اور ہادی میر بھائی اور میرال ہیں بالکل ہینا غازیان؟ رابیل نے کہا تو سب متوجہ ہوۓ ۔
میرال اٹھ گئی اور باہر سے حیات کو لے کر آئی….
ہادی اپنے باپ پر جاۓ لیکن میں نہیں چاہتی حیات مجھ پر جائے …. میں نہیں چاہتی کوئی اور میرال اس دنیا میں
آۓ….
میرابراہیم نے اسے آنکھوں سے تسلی دی تھی جیسے۔
“تمہیں میں نے کہا تھا نا کہ یہاں سے ہلنا مت تم کیوں آئی اندر؟” وہ آتے ہی ناراض ہوا تھا اس سے۔
” باہر گرمی تھی نا” وہ جھکے سر سے بولی۔
“حیات …..” تمہیں تو سویٹنگ بھی ہو گئی ہے میر ہادی نے اس کا چہرہ ٹشو سے صاف کیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر
اسے سامنے پڑے میز پر لے گیا۔
یہ لو نوڈلز کھاؤا بھی آنٹی (کام والی ) سے بنوا کر لایا ہوں وہ چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر اس کے منہ میں ڈالنے لگا۔
“بھئی میری طرف سے تو رشتہ پکا سمجھو” میر ابراہیم نے کہا تو سب مسکراۓ سچے دل سے ۔
الہام میر کی گود میں سو چکی تھی۔
ہاہا….مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ فیصلہ بچے خود بڑے ہو کر لیں گے غازیان نے کہا۔
تجھے لگتا ہے میرا بیٹا تیری بیٹی کی جان چھوڑے گا میر نے کہا تو وہ سب کھلکھلاۓ میرال نے رابیل کے ہاتھ پر ہاتھ
رکھا۔
کہانی اب حیات اور ہادی کی ….. وجدان اور چاہت اور الہام اور آحل کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال”
“میں یا ساری زندگی کی قید اور انجام پھانسی؟”
وہ کئی لمحے اسے دیکھتی رہی اس وقت وہ طے نا کر پائی کہ کیا زیادہ دحشت ناک تھا کچھ پل پہلے کا منظر یا اس شخص کی آنکھیں۔
“لڑکی کیا کر رہی ہو یہاں؟” وہ جو سامنے کا منظر دیکھتی لٹھے کی مانند سفید پڑ گئی تھی لڑکھڑائی۔
وہ لوگ کسی معصوم پر ظلم کر رہے تھے اور ظلم بھی کیسا کہ اس کے جسم پر لوہے کے راڈ سے ضربیں لگائی جا رہی تھیں جس کی آہیں اس “مخصوص شخص” نے اپنی ہتھیلی سے بند کر رکھی تھیں۔
اس کی چیخ تب برآمد ہوئی جب اس “مخصوص شخص” نے اس کے دل کے مقام کر اپنی جیب سے نکال کر چاقو سے ضرب لگائی۔
اس کی چیخ پر اس “مخصوص شخص” کے ساتھ موجود گارڈز جو لگ بھگ تعداد میں چھ تھے اس کی طرف گن تان لی۔
وہ شخص مڑا جس کا چہرہ رومال سے ڈھکا تھا لیکن آنکھیں۔۔۔۔۔حیات کو لگا وہ شخص اسے آنکھوں سے ویسی ہی موت دے گا جیسی کچھ پل پہلے اس نے دیکھی ہے۔
“نکلو!!”
وہ شخص دھاڑا تو اس کے آدمی باری باری اس گرے ہوئے شخص کو لات مارتے اس تنگ گلی کی طرف بھاگ گئے۔
حیات کی آواز جیسے حلق میں ہی گُم ہو گئی۔۔۔اسے لگا وہ مزید سانس نہیں لے پائے گی۔
وہ شخص قدم بڑھاتا اس کی طرف آ رہا تھا ہر قدم پر حیات کو لگا اس کی دل کی دھڑکنوں کی رفتار سست پڑی ہے۔
وہ قریب آیا تو وہ دیوار سے لگ گئی۔
“یہاں کیا کر رہی ہو؟” اس خوفناک ماحول میں اس کی سرد سخت آواز گونجی۔
می۔۔۔۔۔حیات کے آنسو متواتر چہرے پر گرنے لگے اسے لگا وہ شخص اسے بھی مار دے گا موت قریب ہے۔
تم۔۔ن۔۔نے۔۔۔اس نے پھر سے بولنا چاہا۔
تم نے اسے کیوں مارا؟ پھر تمام تر ہمت اکٹھی کرتی بولی تو اس شخص نے خطرناک تیور لیے اسے دیکھا۔
“کیا تم مجھے جانتی ہو؟”
“نہی۔۔نہیں۔۔۔”
“کبھی میرا نام نہیں سنا؟؟”
“کون سا نام؟”
“ڈارک ویزرڈ۔۔۔۔!!!”
نہ۔۔نہیں۔۔۔۔
اب میرے نام کے ساتھ اپنا نام تم ہر جگہ سنو گی وہ اس کے کان کے پاس وحشت سے کہتا آسمان کو دیکھنے لگا جہاں ہیلی کاپٹرز گھوم رہے تھے اور تصاویر اتر رہی تھی۔
وہ پراسرار سا مسکرایا اور اسے دیکھا جو بوکھلا گئی تھی۔۔۔۔
“یہ سب۔۔؟”
“میں یا ساری زندگی کی جیل اور پھانسی؟” اس نے جھکتے پوچھا۔۔۔۔انہیں گھیرا جا رہا تھا۔۔
“زندگی!”
وہ روتے بولی۔۔۔یہ سب کیا ہو رہا تھا کیا اس کا پیچھا کرنا اسے مہنگا پر گیا تھا۔۔۔۔۔شاید اتنا مہنگا تو ضرور کہ جس کی قیمت اسے ہر روز چکانی تھی۔
“زندگی! وہ تو اب رہی نہیں” وہ کہتا اس کا ہاتھ تھامتا پتلی سی گلی میں بھاگا تھا اس کے بعد گولیوں کا شور ہر طرف سنائی دیا جانے لگا۔
ہیلی کاپٹر کے سامنے رکتے اس نے پیچھے دیکھا جہاں وہ زمین پر بیہوش پڑی تھی۔
ڈیممم۔۔۔۔اسے باہوں میں اٹھا کر اندر لٹایا اور خود بیٹھتے ہی وہ روانہ ہوا۔
منزل پر پہنچ کر اسے بستر پر لٹاتے ہی اس کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔
“ایک دن تم روبرو ہو گی لیکن اتنی جلدی اس بات کا اندازہ نہیں تھا مجھے” جھک کر اس کی شرٹ کو کندھے سے سرکایا گہرا سانس بھرتے اپنا ناک سہلاتے پیچھے ہٹا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اُف دیکھ کر نہیں چل سکتے تم؟”
“ایکسکیوزمی!” اس شخص نے بیزاری سے اس لڑکی کو دیکھا جو گلابی شلور قمیض میں اس کے سامنے موجود تھی جس سے ابھی ابھی وہ ٹکرایا تھا۔
یہ انگریزی میرے سامنے مت جھاڑو! چاہت کی اپنی ہی منتق تھی۔
دیکھو جو کوئی بھی ہو الہام کو بلاؤ اس نے سرد انداز میں کہا۔
آپ کون؟ چاہت نے اوپر سے لے کر نیچے تک اس سوٹ بوٹ میں موجود شخص کو دیکھا۔
مجھے سوال کرنے والے لوگ پسند نہیں کیونکہ جواب میں صرف اپنی مرضی سے دیتا ہوں۔
حد ہے بھئی۔۔۔۔بات تم میں زرا بھی نہیں ہے اور ظاہر
تم یوں کر رہے ہو جیسے اس ملک کے اگلے وزیراعظم تم ہی ہو گے۔
واٹ ربش۔۔۔۔وقت ضائع مت کرو الہام کو بلاؤ۔
ٹھیک ہے! چاہت نے بیزاری سے کہا اور اندر الہام کو بلانے چلی گئی۔
الہام کے آتے ہی وہ دونوں اچھے سے ملے تو چاہت کو اندازہ ہوا وہ الہام کا کوئی دوست ہے۔
اتنے سالوں بعد۔۔۔۔وجی بھائی؟
بس اب پاکستان میں بھی اپنی کمپنی کو آگے بڑھانا تھا کتنی ہی دیر استنبول میں گزارتا۔
بہت اچھا کیا۔۔۔آپ جو یہاں بھی کافی اچھا رسپانس ملے گا مجھے یقین ہے۔
ہاں امید تو ہے اور تم جانتی ہو وجدان چوہدری کام کو آسمان تک لے جانے کا ہنر رکھتا ہے۔
بالکل ۔۔۔چاہت خانساماں نہیں آئی ابھی تک دیکھو تو؟
ہاں میں آتی ہوں دیکھ کر۔۔۔وہ جو کب سے اس شخص کو دھیان سے دیکھ رہی تھی چونکی اور غائب ہو گئی۔
غازیان انکل کے گھر کافی خوبصورت ہیں یہاں شوٹ کروں گا کچھ میں جلد ہی لیکن پلیز نوکر بدلو اپنے۔
کیوں کیا ہوا۔۔؟ الہام نے اسے دیکھا وہ ان کے بابا کے دوست کا بیٹا تھا بچپن سے وہ ساتھ رہے تھے۔۔۔وہ ساتھ والے گھر میں رہتا تھا۔
“یہ لڑکی ۔۔۔کس گاؤں سے بلا کر رکھی ہے عجیب انداز ہے اس کا۔۔۔۔مہمانوں سے آتے ہی پوچھ تاچھ شروع کر دیتی ہے۔۔۔۔اور اس کے لمبے بال تو میرے منہ پر بجے تھے جب وہ مڑی تھی افف۔۔۔”
حیات ۔۔۔۔خانساماں آ رہی ہیں بس کباب فرائی کر کے وہ سب سن چکی تھی۔۔۔۔اس ہتک پر اس کی بڑی بڑی آنکھیں نم ہوئیں۔
وجی بھائی۔۔۔۔وہ نوکر نہیں ہے دوست ہے میری۔۔۔مجھے بہت حد برا لگا آپ کا انداز مخاطب اس کے لیے۔
اوو۔۔۔۔مجھے لگا۔۔۔میں معافی چاہتا ہوں وجدان چوہدری کو جیسے فرق ہی نہ پڑا تھا۔
چاہت کتنی ہی دیر آئینے کے سامنے خود کو دیکھتی رہی۔۔۔۔
کیا اس کے حلیے سے اس کی غریبی جھلکتی ہے؟ کیا پتا چلتا ہے وہ ایک کسان کی بیٹی ہے؟ کیا وہ اتنی بُری دکھتی ہے کہ لوگ اسے نوکر ہی سمجھ لیتے ہیں۔
آج اسے اندازہ ہوا کہ نوکروں کو جب کوئی ایسا کہتا ہو گا تو انہیں کیسا لگتا ہو گا۔۔۔اور اگر دیکھا جائے تو وہ یہاں نوکر ہی تھی۔۔۔۔گاؤں سے آئی شہر میں ایک امیر باپ کی بیٹی کی پروٹیکٹر۔
چاہ؟؟
میری جان۔۔۔۔الہام نے اسے آتے ساتھ لگایا۔
نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔میں تمہارے کل کے کپڑے نکال دیتی ہوں چاہت کہتے ہی وہاں سے غائب ہو گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے ان کی مونچھیں کاٹ دوں” وہ منہ بسوڑتے بولی۔
کیوں اتنی اچھی تو لگتی ہیں اس پر۔۔۔اس کی دوست آہ بھرتی بولی۔
“توبہ کرو۔۔۔کیا اچھا ہے اس کی مونچھوں میں۔۔۔؟”اس نے مڑ کر کچھ دور کھڑے اس شخص کو دیکھا جس کی بات ہو رہی تھی۔
ہاں اسی لیے سارے کالج کی لڑکیاں تب تک نہیں جاتی جب تک تم نہیں جاتی کیونکہ سب اس کے دیدار کے لیے بیٹھی رہتی ہیں۔
الہام بہت وقت ہو گیا ہے گھر چلنا چاہیے اب۔۔۔اس کی بھاری آواز کو سنتے اس نے ہونٹ لٹکائے ایسا کرتی وہ کیوٹ لگی تھی۔
“دیکھا دیکھا۔۔۔۔کیسے حکم جماتے ہیں۔۔۔الہام ایسا نہیں کریں، ویسا نہیں کریں، یہاں نہیں جائیں، وہاں نہیں جائیں یہ کھانا اچھا نہیں میری صحت کے لیے۔۔۔۔اف اف اف۔۔۔”
تو تم ہٹوا دو انہیں۔۔۔۔اسکی دوست نے مشورہ دیا
نہیں بابا جان بہت بھروسہ کرتے ہیں اور میں کیسے کسی کی نوکری چھڑوادو۔۔۔اس کا دل کتنا نرم تھا اس شہر میں تقریباً لوگ یہ بات جانتے تھے۔
الہام۔۔۔۔۔۔پھر سے آواز۔۔۔
جانا پڑے گا وہ اٹھی اور اس کی سمت بھاگ کر گئی۔
“بھاگ کیوں رہی ہیں اگر گِر جاتی تو؟”
“نہیں گرتی میں آحل بھائی”
اس شخص نے لمحے بھر کو اس چھوٹی لڑکی کو دیکھا اور پھر قدم آگے بڑھائے۔
“زندگی میں کچھ چیزیں آپ کو کبھی نہیں مل سکتی اس کا دل اس پر ہنسا تھا۔”
آحل چھائی۔۔۔جلدی چلائیں۔
کیوں؟ بھاری آواز گاڑی میں گونجی جس سے سب ڈرتے تھے۔
رات ہو جائے گی مجھے ڈر لگے گا نا۔
آپ کیوں ڈرتی ہیں؟ وہ اس کے ڈرنے کے خوف کو کبھی سمجھ نہیں پایا تھا۔
مجھے لگتا ہے کچھ برا ہو جائے گا۔۔۔۔جیسے میں جب خوش ہوتی ہوں تو میرے ساتھ کچھ برا ہو جاتا ہے جب پچھلی بار میں بہت خوش تھی اپنی سالگرہ پر تو کوکو(بلی) مر گئی تھی۔
یہ وہم ہیں بس۔۔۔وہ اور کیا کہہ سکتا تھا۔
“نہیں! آحل بھائی۔۔۔ماما کہتی ہیں الہام کی قسمت کو نظر لگ جاتی ہے” وہ سر تیزی سے ہلاتی اسے سمجھانے لگی۔
تو آپ سب کے سامنے مت ہنسا کریں۔۔۔اس نے آہستگی سے کہا۔
کیا ایسا؟
ہمم۔۔۔
تو پھر مجھے کس کے سامنے بس ہنسنا چاہیے؟
آپ کی بہن، والدین اور دوست بس؟
بس؟
ہمم۔۔۔۔
“آپ نہیں؟ کیا میں آپ کے سامنے مت ہنسوں؟ آپ کی بھی نظر لگ سکتی ہے مجھے؟” وہ پوری طرح اس کی طرف گھوم گئی تھی۔
“خاموشی سے بیٹھیں۔۔۔۔”
وہ اسے جھڑک گیا وہ ایسا ہی کرتا تھا جب اس کے کسی سوال کا جواب اسے نہیں دینا ہوتا تو وہ اسے یوں ہی جھڑک دیتا تھا۔
آح۔۔۔آحل۔۔۔۔اس کے لبوں سے نکلا اور پھر خاموشی چھا گئی۔
وہ جانتا تھا اب وہ اس سے ناراض رہنے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساری رات سو نا پائی۔۔۔اس شخص کی آنکھوں کی الجھن اسے بھول ہی نا رہی تھی۔
یا رب آپ نے کچھ لوگوں کو بہت دولت دی ہے کہ وہ ہمیں کچھ سمجھتے ہی نہیں کیا یہ ناانصافی نہیں؟؟۔۔۔۔ایک شکوہ اس کی زبان پر آیا۔
“میں ایک دن ثابت کر دوں گی کہ میں عام نہیں ہوں!” اس نے نم آنکھوں کو تیزی سے رگڑنے کہا اور اپنے گلے میں موجود پتھر پر ہاتھ پھیر کر گہرا سانس بھرا۔
یہ پتھر اسے ہمیشہ پرسکون کر دیتا تھا۔
صبح اس نے ناشتہ بنتے ہی الہام کو بلایا اور بیٹھ کر اپنی کتاب پڑھنے لگی اس نے بی اے کیا تھا بس اور وہ بیس سالوں کی تھی۔
کل وجی بھائی نے جو کیا۔۔۔الہام نے آغاز کیا۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ۔۔”
الہام جانتی تھی اس کی دوست باتوں کو گھسیٹتی نہیں ہے۔۔۔۔بس دل میں چھپا لیتی ہے۔
تم آج شام میرے ساتھ آؤ گی مجھے اکیلے ڈر لگے گا۔
کہاں؟
وجی بھائی نے اپنے یہاں آنے کی خوشی میں پارٹی رکھی ہے ۔
نہیں! تم چلی جانا۔۔
میں اکیلے کیسے جاؤں گی۔۔۔پلیز مان جاؤ۔۔۔
چاہت نے اسے دیکھا۔۔۔ہاں وہ اس کی حفاظت کے لیے رکھی گئی تھی ناچاہتے ہوئے بھی اسے جانا پڑنا تھا۔۔۔۔اسے خود پر ہنسی آئی۔۔۔بھلا اس انکار کا کیا مطلب تھا۔
ہاں میں چلوں گی کیونکہ میں انکار نہیں کر سکتی اس کا حق میرے پاس نہیں۔
نہیں چاہت تم نہیں چاہتی تو میں بھی نہیں جاؤں گی ایسا تو مت کہو۔۔۔۔الہام نے فوراً کہا۔
نہیں میں جاؤں گی تمہارے ساتھ کون سے کپڑے پہنو گی میں نکال دیتی ہوں۔۔۔
آؤ میں بتاتی ہوں ۔۔الہام نے اپنے ساتھ اپنا ایک نیا جوڑا اس کو بھی آج رات زبردستی پہننے کے لیے دیا تھا۔
کیا آحل بھائی جائیں گے ہمیں چھوڑنے؟چاہت نے استسفار کیا۔
ہاں۔۔۔بابا جان نے انہیں ہی کہا ہے الہام کہتی تیار ہونے چلی گئی۔
چاہت نے وہ فراک پہنا تھا دوپٹے کو اچھے سے سینے پر پھیلایا تھا آنکھوں میں کاجل لگائے ہی وہ تیار تھی،بلاشبہ اسے کسی میک اپ کی ضرورت نہیں تھی۔
اس کا بادامی رنگ تھا لیکن آنکھیں بڑی بڑی جو کسی کی بھی توجہ کا مرکز بن جاتی تھیں۔
پارٹی کا ماحول دیکھتے ہی اس کا منہ کُھلا۔۔۔۔وہ بڑے پیمانے پر نہیں تھی گھر پر ہی تھی لیکن بہت خوبصورت سجاوٹ تھی یا شاید وہ گھر ہی بے حد خوبصورت تھا۔
وجدان چوہدری ان سے ملنے آیا تھا اور بس الہام سے ہی مل کر گیا تھا اسے تو دیکھا بھی نہیں تھا کہ وہ ساتھ آئی ہے۔
ہاں اس کی اتنی اوقات کہاں۔۔۔؟ اس کے اندر سے آواز آئی۔
پارٹی چل رہی تھی مہمان آ جا رہے تھے۔۔۔۔وہ سب الیٹ کلاس سے تھے یہ ان کے رکھ رکھاؤ سے پتا چل رہا تھا۔
چاہت تم وہ سامنے کچن سے پانی لے آؤ میں کھانا ڈال کے لاتی ہوں الہام نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
وہ پانی لینے گئی۔
مجھے بھی دینا۔۔۔۔ایک عورت نے کہا تو اس نے الہام کے لیے لایا پانی اس کو دے دیا۔
اوو مجھے بھی ایک گلاس سویٹی ایک اور آواز۔۔۔ہاں پانی پلانا ثواب ہے اس نے ایک گلاس انہیں بھی دیا۔
مجھے بھی مل سکتا ہے ایک آدمی نے کہا وہ دوبارہ اندر سے بھر کر ان تک لے جاتی لیکن اس کے ساتھ کھڑی عورت کے زمین پر پھیلے گاؤں میں اٹکی اور پانی سامنے موجود اسی شخص پر الٹ گیا۔
واٹ دا ہیل؟ اندھی ہو؟
وجدان؟
وہ جو یہ منظر دیکھ چکا تھا آگے بڑھ کر اس شخص سے معزرت کی جو اس کا بزنس پارٹنر تھا۔
کیسے نوکر رکھے ہیں؟ انہیں کچھ سکھاؤ بھی۔۔۔بیشک وہ لڑکی حسین تھی لیکن اس کے خود کو چھپائے دوپٹے میں، دھلے چہرے کے ساتھ وہ سب کو ایک ملازم ہی لگی تھی اسی لیے سب نے اس سے پانی مانگا تھا۔
ایک اور چوٹ اس کے دل پر لگی تھی۔۔۔
اس نے یہاں وہاں دیکھا الہام باہر لان میں کھانا نکال رہی تھی پلیٹ میں۔
“وہ نوکر نہیں ہے۔۔۔”اس کی بڑی آنکھوں کو نم دیکھ وجدان چوہدری نے ناجانے کیوں لیکن سب کی تصحیح کی۔
سب نے سنا ان سنا کر دیا کیا ہی فرق پڑتا تھا اس عام لڑکی سے کسی کو۔
“اگر لوگوں کو دل دکھانے کی سزا ہوتی تو یہ سب آج سزا کاٹ رہے ہوتے” وہ دھیمے سے بولی لیکن وہ سن چکا تھا۔
پھر بیزاری سے یہاں وہاں دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔
ایک عام بی اے پڑھی، کسان کی بیٹی سے کسی کو کیا ہی مطلب ہو سکتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایسا ہی ہوا تھا۔۔وہ دو دن سے اس سے ناراض تھی اس نے بھی نہیں بلایا تھا وہ تو ویسے بھی کم ہی بولا کرتا تھا۔
“تمہارا باڈی گارڈ کتنا ہاٹ ہے”
یہ ہاٹ کیا ہوتا ہے؟ اس نے جلدی سے سوال داغا اپنی ہم جماعت سے۔
اف۔۔۔اس کی باڈی وہ کتنا ہینڈسم ہے کہیں سے باڈی گارڈ نہیں لگتا اس کو تو ماڈل ہونا چاہیے تھا۔۔۔اس کی دوسری ہم جماعت نے کہا۔
کاش وہ میرا باڈی گارڈ ہوتا۔۔۔تیسری نے بھی حصہ لیا۔
نہیں وہ میرا باڈی گارڈ ہے تم سب چپ رہو۔۔۔وہ انہیں ڈانٹتی اس کی طرف فوراً گئی۔
آحل بھائی؟
ہمم۔۔۔۔اور وہ اس سے مخاطب ہو ہی گئی تھی۔
میری طرف دیکھیں۔۔۔
بولیں! وہ چوکنا تھا کیونکہ یہ اس کی ڈیوٹی کا وقت تھا۔
آپ آپ ۔۔آپ اپنے بازو کو ایسے کریں میں اس کے ساتھ لٹک کر دیکھتی ہوں آپ میں کتنی پاور ہے! اس نے بنا کچھ سوچے کہا۔۔۔۔ویسے بھی وہ زیادہ کہاں کچھ سوچتی تھی۔
گھر چلیں؟ سر کا فون تھا وہ پوچھ رہے تھے پہلے تو وہ حیران ہوا لیکن پیچھے اس کی کلاس کی لڑکیوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ وہ بولا۔
میری بات سنیں نا! پلیز۔۔۔
الہام۔۔۔۔
آحل۔۔۔
بڑا ہوں میں آپ سے۔۔۔
ٹھیک ہے چھ سال ہی بڑے ہیں نا۔۔۔۔اس نے کہا۔
اچھا پلیز مجھے آپ لٹکنے تو دیں۔۔۔میرا زیادہ وزن تو نہیں ہے ۔۔۔وہ بضد تھی۔۔۔۔ابھی کل ہی تو اس نے کسی مووی میں ایسا ہوتے دیکھا تھا۔
گاڑی میں بیٹھیں! وہ کہتا دروازہ کھول گیا۔
جو اس نے ٹھاہ کی آواز سے بند کیا اور پیچھے کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔
اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور گاڑی گھر کے راستے پر ڈالی لیکن راستے میں اس نے آئسکریم کھانے کی ضد کی جو وہ لے کر واپس آیا جب دیکھا سامنے گاڑی میں موجود لڑکا اسے کس نظر سے دیکھ رہا تھا۔
اس نے مٹھیاں بھینچی۔۔۔اس کے ابو ہمیشہ کہتے تھے کہ وہ بہت اگریسو ہو جاتا ہے اور اسے خاص تاکید کی تھی کہ وہ اپنا غصہ ان لوگوں کو مت دکھائے نہیں تو یہ نوکری بھی کھو دے گا لیکن وہ آحل ۔۔۔۔تھا آحل فیاض۔۔۔
اس نے آئسکریم کو سیٹ پر پھینکا تو الہام ہوش میں آئی اور اسے دیکھا جو سامنے گاڑی کی طرف جا رہا تھا۔
“دیکھا کیسے تو نے اسے؟”
اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔ اس لڑکے نے اسے انگلی کے اشارے سے اسے ہٹنے کو کہا۔
آحل نے وہی انگلی پکڑی اور اس زور سے مڑوڑی کہ اس کے ٹوٹنے کی آواز پیچھے کھڑی الہام نے بخوبی سنی تھی۔
آح۔۔۔۔۔آحل۔۔۔۔
اس طرح تیری آنکھیں بھی نکال سکتا ہوں لیکن جانے دے رہا ہوں اختیاط برتنا وہ کہتا اسے دھکا دیتا الہام کو ایک نظر دیکھ کر گاڑی میں آ کر بیٹھا تو وہ بھی بھاگ کر آ کر بیٹھی۔
آپ نے۔۔۔تم۔۔۔تم نے ۔۔
ایسا۔۔۔۔کیوں؟ آنسو آنکھوں سے گر رہے تھے۔
رونا کس بات کا آرہا ہے؟ وہ یک دم اس پر جھکتا دہشت ناک نظروں سے دیکھتا بولا تو وہ سہم گئی۔
اسے احساس ہوا تو سٹرینگ پر زور سے ہاتھ مارا اور گاڑی چلاتے اسے گھر پہنچا کر خود اپنے گھر روانہ ہوا۔
