207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 7

You’re All Mine by Suneha Rauf

حیات کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے اسے یہاں سے جانا تھا وہ اس شخص کے ساتھ محفوظ نہ تھی اب۔

ہاں اسے یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔لیکن وہ شخص سوتا کب تھا وہ جاگتا رہتا تھا ہوشیار اور چوکنا ہر وقت۔

اس کے بعد ڈارک ویزرڈ نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی تھی۔

لیکن حیات اس کے بعد محتاط رہی تھی۔۔۔وہ کمرے میں گیا تو وہ باہر نکل آئی۔

کیسی ہے دھی؟ اس عورت نے استسفار کیا۔

“ٹھیک ہوں!” اس نے بال کان کے پیچھے اڑسے۔

بہت سوہنی جوڑی ہے تم دونوں کی لیکن اپنے خاوند کو بول بال شال کٹوائے تھوڑی شکل بھی نظر آئے وہ عورت بولی تو وہ ٹھٹکی۔

“وہ میرا شوہر ۔۔۔۔؟”

ہاں! نئی نئی شادی ہوئی نا تم دونوں کی گھومنے آئے تو گُم گئے یہاں۔۔۔وہ عورت اسے وہ سب بتانے لگی جو ڈارک ویزرڈ نے بتایا تھا۔

نہیں وہ۔۔۔۔

“جی جی ایسا ہی ہے۔۔۔!”

ڈارک ویزرڈ نے پیچھے سے آتے اس کی قمر میں اپنا بازو حائل کیا جِسے اُس نے نفرت سے جھٹکا۔

ڈارک ویزرڈ کی آنکھیں سرخ پڑی۔۔۔وہ عورت مُڑ کر کچھ اٹھا رہی تھی اسی لیے یہ منظر نہ دیکھ پائی تھی۔

“خدا سلامت رکھے تم دونوں کو۔۔۔۔”

ہم کل صبح نکلیں گے۔۔۔۔۔وہ کہتا اسے زبردستی ساتھ لیتا اندر آیا۔

یہ کیا بکواس کی ہے تم نے ان سے؟

“میں وضاحت دینے کا قائل نہیں۔۔۔۔اور منہ بند رکھو کام کرنا ہے مجھے” وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا تو وہ باہر صحن میں نکل گئی۔

اسے جلد سے جلد یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔۔وہ ساری جگہ کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔اور جائزہ لیتے لیتے اس گھر سے باہر نکل آئی۔

دوسری طرف لمبی سڑک تھی اور سڑک کے اطراف میں درخت۔۔۔۔اسے کب جانا تھا یہ اس نے نہیں سوچا تھا لیکن اب جب نکل آئی تھی تو اسے یہاں سے ابھی جانا تھا اس نے فوراً فیصلہ کیا۔

وہ بنا جیکٹ پہنے وہاں سے نکل کر تیزی سے چلنے لگی اسے بس یہاں سے نکلنا تھا۔

بس کے آنے پر وہ تیزی سے اوپر چڑھنے لگی کہ کسی نے کھینچ کر اسے جنگل میں گھسیٹا۔

اے لڑکی!

چھورو۔۔۔کون ہو تم۔۔؟

ویزرڈ کہاں ہے اور تُو اس کے ساتھ کیا کر رہی ہے جلدی بول؟ اس شخص نے اسے درخت کے ساتھ لگاتے اس کی گردن کو شکنجے میں لیا۔

چھوڑووو۔۔۔۔۔اسے سانس لینے میں مشکل ہوئی۔

“جلدی بول!”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی ماں سے ملنا گیا تھا اور کافی وقت ان کے ساتھ گزارا تھا۔

تُو اس لڑکی کے چکر میں مت پر اس کی ماں نے کہا تو وہ جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا۔

“کون سی لڑکی؟”

“جس کا گارڈ ہے تُو۔”

امّی ۔۔۔آپ! وہ بے یقین ہوا۔

ماں ہوں تیری مجھے بیوقوف مت بنا۔۔۔اپنی حیثیت کے مطابق پر پھیلا۔

تو آپ کہنا چاہ رہی ہیں میں کسی قابل نہیں؟ وہ ان کے ہاتھ تھامتا بولا۔

نہیں میرا پتر۔۔۔تُو بہت قابل ہے لیکن تو جتنا بھی قابل ہو جائے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس کا باپ ہمارا پورا گاؤں خرید سکتا ہے اس کی ماں نے اسے حقیقت بتائی۔

امی۔۔۔آحل نے انہیں روکنا چاہا۔

“سچ کڑوا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔تو بس سب چھوڑ دے۔۔۔۔شنو اپنی بیٹی کا رشتہ دیکھ رہی ہے میں سوچ رہی ہوں۔۔۔۔”

“بالکل نہیں!!” وہ سرد لہجے میں بولا۔

“آحل میرا پتر۔۔۔۔۔”

آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں اس لڑکی۔۔۔۔؟

“تُو جب بھی آتا ہے نا دن بھر بس اُس کی بات کرتا ہے وہ کیا پہنتی ہے، کیا کھاتی ہے، کہاں جاتی ہے، کیا خریدتی ہے سب۔۔۔”

میں پاگل نہیں ہوں کہ اپنے گبرو جوان بیٹے کی آنکھوں میں اس کے لیے محبت نہ پڑھ سکوں۔

“محبت کرنا بُرا تو نہیں ہے امّی!”

بُرا نہیں ہے لیکن اگر اپنے جیسے لوگوں سے کی جائے۔۔۔وہ لوگ تجھے کبھی سکھ نہیں دیں پائیں گے۔

امّی محبت کبھی بتا کر نہیں ہوتی اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں وہاں کبھی دل نہ لگاتا شاید۔

“ابھی بھی وقت ہے لوٹ آ میری جان۔۔۔”

امی۔۔۔میں اسے مانگ لوں گا ہو سکتا ہے کوئی معجزہ ہو جائے وہ امید سے بولا۔

“میری دعا ہے تو ہمیشہ سکھ پائے۔۔۔”ماں تھی اپنی اکلوتی اولاد کی امید نہیں توڑ سکتی تھیں۔

وہ واپس آگیا تھا۔۔لیکن زہن اب بھی اپنی ماں کی کہی باتوں کی طرف تھا۔

اس نے وہ کارڈ نکالا جو وہ عورت اسے دے کر گئی تھی ناجانے اسے یہ کرنا تھا نہیں۔

وہ نمبر ملاتا کہ اسے اپنے نام کی پکار سنائی دی۔

آحل۔۔۔۔آحلللل بھائی۔۔۔وہ الہام تھی وہ فوراً باہر نکلا۔

آپ کے بابا آئیں ہیں۔۔۔وہ چِلا رہی تھی۔

“اسلام علیکم بابا!”

اپنے باپ سے ملتا وہ بے حد خوش تھا اس کا باپ دوسرے شہر گیا تھا اپنے کام کے سلسلے میں۔

انکل آجائیں اندر۔۔۔الہام نے انہیں پیشکش کی تو وہ مسکرائے اور اس کے سر پر پیار دیا۔

ساتھ ایک لڑکی بھی تھی جو اس سے تو بڑی ہی تھی سادہ سی شلوار قمیض میں ملبوس آحل فیاض کو دیکھ رہی تھی مسلسل۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ان کی کمپنی میں ایک پارٹی منعقد کی گئی تھی جس کی تیاری زور و شور پر تھی۔

آج کیا خاص ہے؟ چاہت نے سب سے پوچھا۔

کمپنی ہر سال ہماری ریفریشمنٹ کے لیے ایک دعوت منعقد کرتی ہے اس کی کولیگ نے بتایا۔

پارٹی شام میں ہے تم آ رہی ہو نا؟ دوسری نے استسفار کیا۔

پتا نہیں! میں نے پہلے کبھی کوئی ایسی دعوت نہیں اٹینڈ کی تو۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا آج کر لینا تمہیں بہت اچھا لگے گا سب نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔

اوکے! وہ مان گئی اور اپنا کام شروع کیا۔۔۔۔آج سب کو چار بجے ہی جانے دیا تھا تاکہ سب تیاری کر کے واپس آ سکیں۔

“الہام؟”

بولو چاہ؟

“آج پارٹی ہے میں کیا پہنوں؟”

میں دیتی ہوں نا۔۔۔الہام نے اس کی ساری تیاری کی جسے دیکھ چاہت گھبرا رہی تھی۔

نہیں یہ میں کیسے پہن سکتی ہوں؟

کیوں اس میں کیا ہے ایسا چلو جلدی پہن کر آؤ پھر آج میں الہام غازیان دی گریٹ تمہیں تیار کرے گی۔

اوکے!

سفید پاؤں کو چھوتے فراک کے ساتھ گلابی جارجٹ کا ہاتھ سے رنگا دوپٹہ اپنی مثال آپ تھا۔۔۔۔الہام نے اسے سوفٹ میک اپ کرتے اس کے بال بنائے۔

“یہ مت بناؤ میں نے کون سا دوپٹہ اتارنا ہے؟”

ہاں لیکن نظر تو آئیں گے نا۔۔۔تم چھوڑو۔۔۔اسے مکمل تیار کر کے الہام نے اس کی خوب تعریف کی تھی اور اسے آحل چھوڑ آیا تھا۔

یہاں آ کر وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوئی تھی۔۔۔مغربی ماحول تھا وہ۔۔۔جو اس کے لیے بے حد نیا تھا۔

اس نے بیزاری سے وہ سب دیکھا۔۔۔

“کیا مجھے چلے جانا چاہیے؟”

اممم۔۔۔ابھی وہ سوچ رہی تھی کہ اس کی نظر دروازے سے اندر آتے وجدان چوہدری پر پڑی۔

کالے ٹکسیڈو میں وہ مردانی وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا۔۔۔۔ساری کنواری لڑکیوں کی نظر میں تھا وہ۔

اس کے دل نے بیت مِس کی اور ناجانے وہ کب تک اسے دیکھتی رہی۔

آہ۔۔۔کوئی اتنا حسین کیسا ہو سکتا ہے اور پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے افففف۔۔۔۔

وہ سب سے الگ تھلگ رہی تھی کیونکہ یہ اس کا ماحول نہ تھا وہ سب کھانے بھی اس کی پسند کے نہ تھے۔

“چاہت؟”

اسد کے متوجہ کرنے پر اس نے مُڑ کر دیکھا وہ اسے اشارے سے پاس بلا رہا تھا۔

وجدان چوہدری اور دو تین اور مرد وہاں کھڑے تھے وہ تھوک نگلتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ان کی طرف گئی۔

وہاب صاحب یہ ہیں مس چاہت۔۔۔۔ہماری اگلی پرفیوم انہیں کی بنائی ہوئی ہے اسد نے اس کا تعارف کروایا۔

وہاب اور ساتھ موجود لوگوں نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا اس ماحول میں واحد لڑکی جس کا لباس مکمل اور دوپٹہ سر پر تھا۔

“اچھا آپ کی کمپنی ایسے ایمپلائز کب سے رکھنے لگ گئی۔۔۔۔”عاطف جٹ نے جملہ کسا۔

“بس ہماری کمپنی ہنر دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارا نام بہت اونچا ہے” جواب وجدان چوہدری کی طرف سے آیا تھا۔

وجدان کو وہ سب سے الگ لگی تھی ۔۔۔۔ہاں ان سب لڑکیوں سے بہتر جن کے کپڑے پہلے ہی کم تھے اور وہ مزید اسے گھٹنوں سے ہٹاتی اور کندھے سے نیچے گرانے کی کوششوں میں ہلکان تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(“بخار ہے آپ کو راحیل”

اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھتے فکریہ لہجے میں کہا۔

“تمہیں فرق پڑتا ہے؟” راہیل سالار نے زرا بھر آنکھیں کھولتے کہا۔

حالے نے اسے دیکھا۔۔۔یہ وہ شخص تھا جو اس سے محبت نہیں کرتا تھا اور اب وہ اس کی ایک نظر کے لیے تڑپتا تھا۔

“شاید!” حالے نور سے یہی جواب بن پایا۔

“تو دوا دو!” راحیل کی گمبھیر آواز گونجی۔

“میں لا دیتی ہوں!” وہ اٹھنے لگی جب اپنی کلائی راحیل کے ہاتھوں میں محسوس کرتی جھٹکے سے پلٹی۔

حالے نور راحیل سالار کو کب تک تڑپاؤ گی اس تڑپ میں اگر مر گیا تو۔۔۔۔وہ اسے اپنے اوپر کھینچتا اس کے کان میں سرگوشی نما آواز میں بولا۔

“راحیل۔۔۔میں۔۔۔”

حالے نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھے اور اٹھنا چاہا۔۔۔۔

میری قربت اتنی ناگریز ہے آپ کو حالے؟ وہ ٹوٹے لہجے میں پوچھتا اس کی قمر سے اپنے ہاتھ ہٹا گیا۔

اس کی آنکھوں کی افسردگی حالت نور کا دل چیڑ گئی۔

“کیا کھائیں گے؟” جب کچھ نہ بن پڑا تو حالے نہ پوچھا۔

“کچھ نہیں جاؤ! مجھے سونا ہے۔۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔

“راحیل۔۔۔۔”

جائیں حالے نور! وہ کہہ کر اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ گیا تو حالے روشنی گُل کرتی باہر نکل گئی۔

راحیل سالار کتنی ہی دیر ناچاہتے ہوئے بھی اس کا انتظار کرتا رہا لیکن پہلے کہاں وہ اسے کبھی میسر ہوئی تھی۔۔۔۔تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ کر دم توڑ گئی۔

حالے نے کچن سمیٹا اور بےمقصد باہر ہی گھومتی رہی۔۔۔۔لیکن اس شخص کی تڑپ اور پھر خود کا اسے جانے کا کہنا وہ بے چین سی ہوئی۔

کمرے میں گئی جہاں وہ سو گیا تھا شاید۔۔۔۔اس کے ساتھ اپنی جگہ بناتی وہ روز کی طرح لیٹ گئی لیکن آج سمٹ کر کونے میں نہیں لیٹی تھی۔

کئی لمحے اس شخص کو دیکھتی رہی جس کا رُخ اسی کی طرف تھا۔

حالے نے اس وجیہہ شخص کو دیکھا جو اس کی محبت میں بدل رہا تھا شاید یا کوشش رہا تھا وہ ٹرپ رہا تھا اس کے لیے وہ جانتی تھی اور وہ بدلے میں اسے ہمیشہ سے خالی ہاتھ لوٹاتی آئی تھی۔

تھوڑا سا آگے ہو کر اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جہاں بخار اب بھی تھا۔

“فکر نہیں کریں۔۔۔اتنے سے بخار سے مروں گا نہیں۔۔۔۔”اُس کی آواز پھر سے گونجی تو حالے نور کی سانسیں تھمی۔

پھر تیزی سے قریب ہوتے اس کا کارلر تھاما۔

“کتنی فضول باتیں کرتے ہیں آپ راحیل سالار آپ کو اندازہ ہے؟”

راحیل نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو اس کے بے حد قریب تھی پھر بنا کچھ کہے آنکھیں موند لیں تو حالے نے اس پر جھکتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

راحیل سالار نے جھٹکے سے آنکھیں کھولتے حالے کو اپنے اوپر جھکا دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

حالے نور تم ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔ قریب آ کر دور ہو جاتی ہو اور میرا دل میرے قابو میں نہیں رہتا تمہیں سب چیزوں کی اجازت ہے لیکن مجھے یوں تڑپانے کی نہیں وہ بھاری آواز میں بولتا اپنے سر کو دو انگلیوں سے دبانے لگا۔

حالے نے اس کے کندھے پر سر رکھا اور اس کا بازو اٹھاتے اپنے اوپر سے گزارتے پیچھا رکھا اور اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے حالے میں لیا۔

راحیل نے اس کے ہر نقش کو غور سے دیکھا۔۔۔۔لیکن اس کی اجازت کے بغیر وہ دل کے لاکھ چاہتے پر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔

حالے اس کی نگاہیں اپنے لبوں پر محسوس کر چکی تھی پھر مسکراتے آنکھیں بند کی تو راحیل سالار کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔

اسے وہ منظر یاد آیا جب ایسی ہی ایک کوشش پر اسے دھکا دیا تھا اس نے اور آج۔۔۔۔

اس نے آنکھیں بند کی اور پھر قریب ہوتے حالے نور کی سانسوں کو خود میں الجھایا اور یک دم پیچھے ہوا لیکن اتنے مہینوں کی تڑپ کیسے ختم ہو سکتی تھی پھر سے جھکتے اب کی بار اپنی تشنگی مٹانی چاہی تھی جو کہ ممکن نہ تھی۔

حالے نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے بمشکل پیچھے کیا جو اب اس کی گردن پر ہاتھ رکھتا اب بھی بے یقینی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

آیا وہ کیا کہتی ہے۔

“مجھے لگتا ہے اس کے بعد آپ مہینے مجھ سے دور رہ سکتے ہیں راحیل سالار” اس نے کہا تو راحیل نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“سر دبا دوں؟”

“اسوقت مجھے صرف میسر رہو حالے نور راحیل سالار خود ٹھیک ہو جائے گا” وہ کہتا اس کی گردن پر جھکتا اپنا ناک سہلاتا اس کی زات میں خود کو چھپانا چاہتا تھا اپنی ازیتوں سمیت جب کہ حالے نور کی دھڑکنیں وہ باقاعدہ سُن سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اففففف! یار دیکھ حسین ہے کتنی۔”

“حسین سے زیادہ معصوم ہے وہ۔۔۔۔اود مجھے ایسی ہی لڑکیاں پسند ہیں نا کہ ایسی جو اپنا آپ نچاور کرتی پھریں” دوسرے کی آواز پر وہ متوجہ ہوا۔

اور مُڑ کر انہیں دیکھا جو ایک ہی جانب دیکھ رہے تھے۔

“جاہل لوگ!” وہ زیِر بڑبڑایا بولا اور پھر سے مصروف ہو گیا۔

“نجانے کس خوش قسمت کی زندگی کا حصہ بنے گی۔۔۔۔اس کے بال کتنے خوبصورت ہیں۔”

اب کی بار فرید شاہ نے ان کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا لیکن آگے کوئی عورت آگئی تو وہ دیکھ نہ پایا۔

“کیا میں اس کے پاس جاؤں؟”

جاؤ۔۔پہلے والے نے کہا تو وہ چلا گیا۔

فرید شاہ نے کچھ لمحوں بعد اسی سمت دیکھا جہاں وہ لڑکا اب علیزے کے سامنے موجود تھا۔

اس کی دماغ کی رگیں تنی تو کتنی دیر سے وہ اس کی بیوی پر تبصرے کر رہے تھے۔۔۔اس نے خود کی لاتعلقی پر خود پر لعنت بھیجی اور قدم اس کی طرف بڑھائے۔

اس کے پاس جاتے اس کا ہاتھ تھاما۔

سر کیا یہ آپ کی بہن ہے؟ پلیز مجھے بات؟ اس لڑکی کی آنکھوں کی پسندیدگی اسے زہر لگی تھی۔

بیوی ہے میری زبان سنبھال کر۔۔۔ آنکھیں جھکا اور یہاں سے نکل جا نہیں تو یہ پوری تقریب تمہاری سوجے ہوئے منہ کی تصویریں لے کر انٹرنیٹ پر ڈالے گی۔

وہ لڑکا حیران ہوا اور پھر چلا گیا۔

“کیا کہہ رہا تھا؟” اس نے سرد انداز میں استسفار کیا۔

علیزے بتا نہ پائی کہ وہ اچانک آیا اور اس کی تعریف کرنے لگا۔۔۔وہ اس کے بالوں کا زکر کر رہا تھا۔

کچھ نہیں! وہ بولی تو بس اتنا۔۔۔۔

فرید شاہ بنا کسی سے ملے اور کھانا کھائے اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا گاڑی تک لایا اور گاڑی تیزی سے راستے پر ڈالی۔

علیزے کے لبوں پر تلخ کی مسکراہٹ آ کر دم توڑ گئی۔

تو یعنی خود کے لیے سب جائز اور بیوی کے لیے۔۔۔۔وہ سوچ کر رہ گئی۔

“بال باندھو اپنے!” وہ گاڑی کی اسپیڈ تیز کرتا بولا۔

“کلپ نہیں ہے پاس۔۔۔۔۔”وہ منمنائی۔

“کیوں؟ میں نے تمہیں کہا تھا کہ تم انہیں کھولو گی” وہ دھاڑا۔

علیزے نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔پھر اپنے بال باندھتے ہلکا سا جوڑا بنایا۔

پھر ڈبے سے ٹشو نکالتے لپسٹک ہٹانی چاہی جب وہ اس کا ہاتھ تھام گیا۔

“میں نے ابھی نہیں بولا ہے ایسا کرنے کو! کیونکہ یہ کام میں تم سے بہتر کر سکتا ہوں۔”

گھر آتے وہ سیدھا اپنے کمرے میں آیا تھا اپنا کوٹ اتار کر سامنے صوفے پر پھینکتے جوتے اتارتے وہ لیٹ گیا تھا وہیں۔

وہ اس کا کوٹ ہینگ کرتی اپنے کپڑے نکالنے لگی۔

“یہاں آؤ!”

علیزے نے مُڑ کر حیرت سے اسے دیکھا پھر سب چھوڑتی اس کے نزدیک گئی تو فرید شاہ نے اپنی جگہ سے ہٹتے اس کی جگہ بنائی تو وہ جھجکتے بیٹھ گئی۔

فرید شاہ نے اس کے کندھے پر سر رکھا۔

“تم مجھ سے محبت کیوں نہیں کرتی؟” سوال بے حد مشکل تھا۔۔۔کیا کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہو سکتا ہے علیزے سوچ کے رہ گئی۔

“مجھے ہی کیوں چنا اس دھوکے کے لیے؟” وہ آہستگی سے بولا۔

کاش وہ کوئی اور ہوتا اور تم میری زندگی میں کبھی آئی ہی نہ ہوتی۔۔۔وہ بولا اور پھر خاموشی چھا گئی۔

علیزے نے کئی لمحے اس کے بولنے کا انتظار کیا لیکن وہ نہ بولا بس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

وہ لڑکا کیا کہہ رہا تھا؟

“بال اچھے لگے اسے میرے” وہ ڈرتے اسے بتا گئی۔

لیکن فرید میں نے۔۔۔۔وہ کچھ کہتی جب اپنی گردن پر اس کے دانتوں کا دباؤ محسوس کرتے سانس روک گئی۔

میری قربت بھی اتنی ناگریز ہے تمہیں کہ تم سانس روک جاتی ہو۔۔۔وہ اونچی آواز میں چِلایا۔

فرید ۔۔۔۔؟

وہ کیوں اتنا جزباتی تھا پل میں ٹھنڈا اور پل میں غصے سے پاگل ہو جانے والا۔

علیزے نے اس کے گالوں پر ہاتھ رکھتے شاید اسے نارمل کرنا چاہا۔

مجھے ڈر لگتا ہے آپ سے!)

(یہ ای بک پروجیکٹ ہے خریدنے کے لیے انباکس کریں۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جو سمجھ گیا تھا اسے یہاں وہاں دیکھتے۔۔۔اندر کھڑکی سے ہی اس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔

اور اس کا یہاں وہاں دیکھ کر نکل جانا۔۔۔تلخ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی۔

تو تم دیکھ لو آج کہ تم میرے علاؤہ محفوظ ہو یا نہیں؟ وہ کہتا کوٹ اٹھاتا اس عورت سے الوداع لیتا نکل گیا۔

اس شخص نے چاقو نکلاتے اس کے چہرے کے ساتھ کیا۔

وہ وہاں۔۔۔اس گھر ۔۔۔۔۔وہ ڈر کے مارے بولی پڑی۔۔۔۔۔۔اس شخص نے جھٹکے سے اس کی گردن چھوڑی۔

چلو اب سے تم ہمارے ساتھ رہو گی۔۔۔وہ شخص دھاڑا۔۔۔وہ دیو ہیکل کالا بڑے سے وجود کا مالک شخص تھا۔

نہیں!

وہ اپنا آپ مسلسل اس سے چُھڑوانے لگی تو اس شخص نے جیب سے کچھ نکالتے اس کے چہرے پر رکھا جس سے وہ لڑکھڑائی اور اپنا آپ خھروایا۔۔

دوائی کا ہلکا سا اثر اس پر ہوا تھا لیکن وہ خود کو چھڑوانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

فائیر کی آواز پر وہ شخص حواس باختہ ہوا اور یہاں وہاں دیکھا۔۔۔اور اسے وہیں چھوڑتا وہاں سے نکل گیا۔

تو وہ جو وہیں آس پاس تھا اس کے قریب آیا جو اپنے سر پر ہاتھ رکھتی نیچے بیٹھ گئی تھی۔

“کیسی ہو مِس حیات غازیان؟” ڈارک ویزرڈ نے اسے دیکھتے تلخیہ کہا۔

میں۔۔۔۔! اس نے چکراتے سر کو قابو کرنا چاہا۔

“میں جا رہا ہوں۔!”

تم اپنی حفاظت خود کر سکتی ہو۔۔۔۔۔اور میں نے کہا تھا کہ صحیح وقت پر چھوڑ دوں گا وہ کہتا اٹھا اور قدم آگے بڑھائے۔

با۔۔۔بابا۔۔؟ اس نے خود کو حالات پر چھوڑ دیا اور دیوار کے ساتھ سر لگایا۔۔۔۔چہرہ پسینے سے تر تھا۔

بابا۔۔۔؟ وہ بڑبڑانے لگی تو وہ مُڑا اور اسے دیکھا اور پھر وہیں کھڑا اسے دیکھنے لگا۔

حا۔۔۔۔۔

حاااااا۔۔۔۔

“حااادددد۔۔۔۔۔”

وہ ایک ہی نام بار بار دہرا رہی تھی۔۔۔۔ایسا وہ بچپن سے کرتی تھی جب وہ تکلیف میں ہوتی تو یہ دو نام تھے جنہیں وہ پکارتی تھی۔

وہ چلتا اس کے قریب آیا اور دوبارہ اس کے پاس بیٹھا اب کی بار چہرے پر سرد سی مسکراہٹ تھی۔

اسے کھینچ کر اپنے سامنے کیا اور اسے جیکٹ پہنائی اور دستانے پہناتے اسے کھڑا کیا تو وہ لڑکھڑا گئی۔

مجھے ۔۔۔نہیں چلنا۔۔

تم۔۔۔تم۔۔۔گاڑی۔۔۔۔۔۔یا اپنا ہیلی کاپٹر منگواؤ۔۔۔وہ بند جھکی آنکھوں سے لڑکھڑاتی اپنا وزن اس پر ڈالتی بولی۔

“تم میرے ساتھ محفوظ نہیں ہو نا حیات جاؤ بھاگو ایک اور موقع دے رہا ہوں” اس کے کان کے پاس جھکتا وہ پھنکارا۔

وہ جو اس واقعے سے بہت ڈر گئی تھی اس کے ساتھ اس کی جیکٹ کو تھام کر چپک گئی۔

“تم۔۔۔تمہارے ساتھ۔۔۔میرا سر ۔۔۔”

ڈارک ویزرڈ نے اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی پھر جھٹکے سے اسے اٹھایا اور آگے بڑھا۔

“تم میرے قریب نہیں آنا دوبارہ۔۔۔”وہ بڑبڑائی لیکن وہ بآسانی سن گیا تھا۔

“کیوں؟؟؟”

وہ مارے گا تمہیں۔۔۔۔ایک اور بڑبڑاہٹ۔

کون۔۔۔۔؟

“حا۔۔۔حا۔۔۔حاددد مارے گا تمہیں” وہ کہتی ہوش و گرد سے بیگانہ ہو گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شنو کی بیٹی ہے تمہاری ماں چاہ رہی تھی تم سے ملوا لاؤں۔۔۔اس کے باپ نے ہلکی آواز میں کہا۔

چونکہ الہام انہیں کی طرف متوجہ تھی اس لیے وہ سُن چکی تھی۔

اس لڑکی کو اس نے نظرانداز ہی کیا تھا لیکن اب اسے گھور کر دیکھا جو مسلسل آحل کو دیکھ رہی تھی۔

آحل!

آئیں ہم چائے بنا کر لاتے ہیں انکل کے لیے خانساماں نہیں آئی۔۔۔۔اب کی بار بھائی نہ لگاتے اس نے آحل کو متوجہ کیا۔

آحل سر ہلاتا اسکے ساتھ کچن میں چلا گیا۔

“یہ لڑکی کون ہے؟”

“ہمارے گاؤں میں رہتی ہے۔”

“آپ کو پسند ہے؟ نہیں مطلب کیسی لگی آپ کو؟”

آحل نے اسے حیرانگی سے دیکھا وہ یہ سب کیوں پوچھ رہی تھی۔

ہاں بچپن میں ہم ساتھ کھیلا کرتے تھے۔۔۔اچھی ہے وہ میری بہت مدد کرتی رہی ہے وہ ہیمشہ آحل نے عام سے انداز میں بتایا۔

“لیکن الہام غازیان کو بے حد ناگوار گزرا۔”

اتنی خاص تو نہیں ہے وہ۔۔۔۔اس نے بیزاری سے کہا۔

ہاں لیکن گاؤں کے لوگ ایسے ہی سادہ ہوتے ہیں لیکن دل کے اچھے ہوتے ہیں آحل نے چائے کپوں میں ڈالتے کہا۔

چائے ان دونوں کو دیتے وہ بیٹھ گیا تو الہام بھی اسکے ساتھ بنا فاصلہ رکھے بیٹھ گئی تو وہ چونکا۔

انکل کیا لائیں ہیں آپ میرے لیے پچھلی بار آپ چوریاں لائے تھے فیاض احمد کو الہام شروع سے بہت پسند تھی اس لیے وہ جب آتے تھے اس کے لیے تحفہ لاتے تھے۔

ہاں لایا ہوں نا۔۔۔۔انہوں نے ایک شاپر نکال کر اسے پکڑایا جو اس نے جلدی سے تھام لیا تو آحل مسکرایا۔

کیا ہے یہ؟

کھول کر دیکھو بیٹی۔۔۔۔فیاض احمد نے مسکراتے اس کو دیکھا۔

اس نے کھول کر دیکھا وہ ایک خوبصورت جوڑا تھا شلوار قمیض جو وہ کم ہی پہنا کرتی تھی۔

بہت خوبصورت۔۔۔ساتھ ہاتھ کی کڑھائی والا دوپٹہ تھا پلم رنگ کا جو اسے بے حد بھایا تھا۔

“بہت بہتتت اچھا ہے” وہ کہہ کر ان کے سینے سے لگی تو انہوں نے اسکا سر تھپتھپایا۔

آحل ان دونوں کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔

“آحل کیسا ہے؟” وہ پُرجوش سی بولی۔

بہت اچھا۔۔۔۔

ہاں لیکن یہ رنگ شاید تم پر نہ کِھلے فائزہ نے اسے دیکھ کر عام سے انداز میں کہا تو وہ پلٹی۔

نہیں آحل نے کہا ہے اچھا لگے گا وہ کہہ کر واپس آحل کے ساتھ بیٹھ گئی۔

اب ہم چلتے ہیں۔۔۔فیاض احمد نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

فائزہ جاتے ہوئے آحل کو دیکھ کر مسکرائی تو الہام آحل کے ساتھ کھڑی ہوئی اور اس کا ہاتھ تھاما۔

اب کی بار آحل نے اسے چونک کر دیکھا وہ یہ سب کیا کر رہی تھی اور کیوں۔۔۔کیا اسے جیلیسی ہوئی تھی فائزہ سے۔

آحل نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی تو وہ مسکرائی اور ان دونوں کو بھیج کر وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر پلٹے۔

یہ سب کیا تھا؟ وہ بولا۔

کیا۔۔۔؟

آحل نے اپنا ہاتھ آگے کیا جس میں اس کا ہاتھ تھا۔

وہ۔۔۔۔میں۔۔۔الہام نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا۔

مجھے تو وہ لڑکی بالکل پسند نہیں آئی ایسا بھی کچھ نہیں تھا اس میں۔۔۔وہ بولی تو آحل کو اپنی سوچی بات پر یقین ہوا۔

نہیں اچھی تو ہے۔۔۔وہ جان کر بولا۔

“آحل۔۔! وہ یا میں؟”

الہام کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ وہ آج اسے حیران کرنے کے در پر تھی۔

نہیں اگر ایک طرف وہ مصیبت میں ہو اور ایک طرف میں تو آپ کس کی طرف پہلے بڑھیں گے؟ اس نے وضاحت دیتے انگلیوں سے کھیلتے کہا۔

“آپ کیا چاہتی ہیں؟”

“آپ بتائیں؟؟”

“پھر کبھی بتاؤں گا” وہ کہتا اندر چلا گیا تو الہام تب تک اس کی پشت کو گھورتی رہی جب تک وہ غائب نہ ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیسی ہیں مِس چاہت؟”

ٹھیک ہوں۔۔۔وہی شائستگی۔۔۔۔

وجدان نے آئیبرو اچکاتے وہاب بلوچ کو دیکھا۔۔۔۔جس کی نظریں چاہت پر سے نہیں ہٹ رہی تھیں۔۔۔

اور ان نظروں کا مفہوم وہ سمجھ سکتا تھا۔

مس چاہت آپ ؟ وہاب بلوچ نے کچھ کہنا چاہا۔

“مس چاہت کیا آپ میرے ساتھ ڈانس کریں گی۔۔۔۔؟”

ایک لمحے کا کھیل تھا وجدان چوہدری نے آج زندگی میں پہلی بار ہزار ایسی دعوتوں میں شرکت کے باوجود کبھی کسی کو خود سے پیشکش نہیں کی تھی لیکن اسے کر گیا تھا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا وہاب یہی کرنے والا ہے۔

“مجھے نہیں آتا۔۔۔۔”وہ انگلیاں مڑونے لگی۔

میں سمجھا دیتا ہوں وہاب نے مسکراہٹ لیے کہا۔

چاہت نے وجدان کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

چاہت کی آنکھوں کی چمک بڑھی اور قدم وجدان چوہدری کی طرف۔

وجدان چوہدری اسے لیتا باقی کپلز کے درمیان آ گیا ہلکے ہلکے میوزک پر وہ مووو کر رہے تھے۔

کیا یہ سب عام ہے؟ چاہت نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا جو کانپ رہا تھا۔

بالکل نارمل! وجدان نے یہاں وہاں دیکھتے اس کی قمر کو تھاما۔

آفر تو کر دی تھی لیکن ناجانے کیوں آج اسے ہاتھ لگاتے وہ ڈر رہا تھا یہ کام وہ سالوں سے کرتا آرہا تھا اس کی سوسائٹی کا حصہ تھا یہ سب۔

“آپ کو یہ سب پسند نہیں آیا” اس نے اسے ہلکا سا گھماتے پوچھا؟

سچ بتاؤ تو نہیں! یہ سب میرے لیے نہیں ہے۔۔وہ نظریں جھکائے ہوئی تھی۔

“میری طرف دیکھ سکتی ہو۔۔۔۔”وجدان چوہدری نے کہا تو چاہت نے نظریں اٹھائی۔

اور اس کی آنکھیں اٹھانے والی ادا پر اس نے آنکھوں کا زاویہ بدلا دل کی رفتار پل میں بڑھی تھی۔

“عادی ہو جاؤ گی! وہ آپ سے تم پر آ گیا تھا۔”

“مجھے نہیں لگتا ۔۔۔۔”

چاہت؟؟ کچھ محسوس کرتے اس نے جھٹکے سے اسے گھماتے دیوار والی طرف کیا۔

جی؟

“وجدان کو سمجھ نہ آیا اسے کیسے بتائے؟”

“تمہاری بیک زِپ؟” وہ رُکا۔

چاہت کا سانس سوکھا۔۔۔۔گھبراہٹ سے اس نے یہاں وہاں دیکھا ۔۔۔۔وجدان نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔

سب مصروف تھے سوائے وہاب بلوچ کے جس کی نظر ان پر تھی وہ ان کو دیکھ مسکراتا وہاں سے ہٹ گیا۔

انہوں نے دیکھ۔۔۔۔اس کی آنکھیں پل میں پھر گئیں۔

خاموش رہو کچھ نہیں ہوا۔

“مجھے جانا ہے۔۔۔۔”

ابھی یہاں سے چل کر نہیں جا سکتی تم۔۔۔۔وجدان چوہدری سے اسے دیکھتے کہا جو نم آنکھوں سے یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔

“چاہت؟”

چاہت نے اس کی آنکھوں میں دیکھا یہی لمحہ تھا اور محبت کی قید میں قید ہو گئی چاہت خالد۔

“نہ کوئی پھول گرے تھے، نا ہوائیں چلی تھیں اور نا کوئی سلو میوزک لگا تھا لیکن پھر بھی اس کا دل ہار گیا تھا اسے پیغام دے گیا تھا کہ چاہت خالد اب تم کتنی بھی کوشش کر لو اس شخص کو مجھ میں سے نہیں نکال پاؤ گی، ہاں ایسے ہی تو ہوتے ہیں دلوں پر محبت کے الہام، کبھی بھی دل میں کوئی شخص گھر کر جاتا ہے ایسا کہ وہاں تک پھر کسی دوسرے شخص کی رسائی ممکن نہیں ہو پاتی، ایک ایسا جزبہ جو حاصل ہونے تک میٹھا اور لاحاصل ہونے پر درد بن جاتا ہے۔”

“سیدھی کھڑی رہو!”

لیکن وہ کہاں سن رہی تھی وہ بس اس کے چہرے کے نقوش کو حفظ کرنے میں مشغول تھی۔

“چاہت آپ سے کہہ رہا ہوں میں۔”

جی؟ وہ یک دم ہوش میں آئی حسین خواب جیسے چھن سے ٹوٹا ہو۔

“سیدھی کھڑی رہو ہلنا مت اور ڈرنا مت۔۔۔۔”اس نے کہتے اس کی زِپ جو آدھی کُھلی تھی اس کو بنا اسے چھوئے اوپر کی طرف کھینچا اور گہری سانس بھری۔

ہو گیا!

“بہت شکریہ!” چاہت کی آنکھوں کی چمک گہری ہوئی۔

چلیں آجائیں اب۔۔!

اور دوپٹہ آپ کا زمین پر لگ رہا تھا پہلے خیال کریں وہ کہتا چلا گیا تو وہ مسکرائی۔

“ہاں محبت کا پہلا اصول عزت دینا ہے”