You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 2
Rate this Novel
You're All Mine Episode 2
You’re All Mine by Suneha Rauf
آنکھیں کھولتے اس نے جو منظر دیکھا وہ اسے ہلا گیا تھا وہ لکڑی کا ایک کوٹیج تھا۔
اس کا فون تھرتھڑاتے لگا جو اسکی پینٹ کی جیب میں تھا اس نے نکالا اس کے ڈیڈ کا فون تھا۔
“بابا جانی!”
اس کی آواز رندھی اور بستر سے قدم اتارتے وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔
“کیا ہوا پرنسس؟” غازیان اعجاز کی آواز گونجی۔
کچھ نہیں! بس ابھی نیند سے جاگی ہوں۔۔۔۔اس نے خود پر کنٹرول کیا اور پھر دو تین باتیں کرتے فون رکھا اور نظر اردگرد دوڑائی وہ جنگل تھا گھنا جنگل۔
“میں کیسے یہاں؟”
اور پھر جو کچھ ہوا وہ یاد کرتے ایک بار پھر اس کا سانس سوکھ گیا۔
ابھی وہ آگے بڑھتی جب سامنے سے اسی شخص کو آتے دیکھ وہ تیزی سے آگے بڑھی اور اس کا گریبان تھاما۔
“تم۔۔۔۔تم نے سب برباد کر دیا۔۔۔میں کتنی پرسکون زندگی گزار رہی تھی۔۔۔”
“واٹ دا ہیل!” اسکے ہاتھوں کو جھٹکتے وہ اونچی آواز میں دھاڑا۔
“تم قاتل ہو!”
اچھا! وہ لکڑیاں جو آگ جلانے کے لیے لایا تھا نیچے پھینکتا بولا۔
“تمہیں دنیا جان گئی ہے میں تمہیں سزا دلواوں گی۔۔۔تم ایک قاتل ہو۔۔نہیں ظالم۔۔۔تم وحشی درندے ہو تم نے ایک بے قصور کو۔۔۔۔تم جانور ہو ایک۔۔۔۔اور میں۔۔۔میں سب کو یہ سب بتادوں گی۔۔۔”
“ششش۔۔۔۔”اسے کھینچ کر قریب کرتا وہ اس کے کان کے پاس جھکا۔
اب میرے ساتھ دنیا تمہیں بھی جانتی ہے پرنسس۔۔۔۔
وہ سن کھڑی رہ گئی۔۔۔وہ اندازہ نہ لگا پائی کہ زیادہ وحشت ناک کیا تھا اس کے بولے لفظ یا اس کی قربت؟
اس کا ہاتھ اس کی قمر پر تھا ہوش میں آتے ہی اسے دھکا دیا تو وہ ہوش میں آئی۔
وہ اس وقت نیلی جینز کے ساتھ سفید ٹاپ میں تھی جو صرف اتنا ہی تھا کہ بمشکل اس کی قمر ڈھکی تھی ہاں جب وہ بازو اونچا کرتی تو اس کی قمر برہنہ ہوتی تھی، بالوں کو کرلز ڈلے تھے جو اب کھل کر بکھر گئے تھے بری طرح، سفید رنگ، خوبصورت نقوش۔۔۔۔وہ مغربی اور مشرقی خوبصورتی کا امتزاج تھی۔
دوسری طرف وہ اس وقت رف سے حلیے میں تھا اوور سائز سلیولیس شرٹ کے ساتھ بیج پینٹ پہنے گلے میں لٹکتی چین اور بکھرے لمبے بال۔۔۔ہاں اس کے بال لمبے تھے جو گردن کو چھو رہے تھے لیکن وہ اس پر بے حد ججتے تھے، بھوری آنکھیں اور پرکشش نقوش۔۔۔وہ بہت ٹف ٹائم دیتا تھا اپنے دیکھنے والوں کو۔۔۔اور وحشت جو اس کی آنکھوں سے اس کے دیکھنے اور بولنے کے انداز سے جھلکتی تھی۔
“ہمیں نکلنا ہے یہاں سے کچھ وقت میں۔”
“میں نہیں جاؤں گی” وہ چیخی۔۔۔
“آواز آہستہ رکھو نہیں تو زبان گدی سے کھینچے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگے گا” وہ غرایا۔
“مجھے گھر۔۔۔گھر۔۔۔جانا۔۔۔”وہ دھیمے سے بولی اب کہ لہجہ بھی رندھا تھا۔
“جیسے ہی یہ ممکن ہوا۔۔۔تم سے پیچھا چھڑوا لوں گا”۔۔۔وہ جیسے کسی کی بات خود پر لینا پسند ہی نہیں کرتا تھا۔
“تم قاتل ہو!!!!” وہ قدم بڑھاتی اس تک آئی تو اس نے گہرا سانس بھرا۔
“دیکھو لڑکی اپنے کام سے کام رکھو یہاں لانا میری مجبوری تھی کیونکہ اگر تم یہاں نہیں آتی تو اگلے دو گھنٹوں میں ماری جاتی۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے الہام کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا اس معاملے میں خاموشی سے اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔
کھاؤ تو اچھا ہے چائینیز الہام نے کہا۔
“نہیں میرا دل نہیں کر رہا میں گھر جا کر کھا لوں گی”۔۔۔۔اس نے دھیمے سے کہا۔
“اوکے! میں وجی بھائی کو گفٹ دے کر آتی ہوں تم اتنی دیر آحل بھائی کو فون کر دو کہ ہمیں لے جائیں۔”
“اوکے!”
اس نے فون کیا تو آحل نے بتایا کہ گاڑی خراب ہے اسے کچھ وقت لگے گا آنے میں۔
وہ بات کر کے پلٹی تو ایک سوٹ بوٹ میں شخص اس کے پیچھے کھڑا تھا۔
“کیسی ہیں؟”
“کیا میں آپ کو جانتی ہوں؟”
“نہیں لیکن جان پہچان بڑھانے سے ہی بڑھتی ہے”۔۔۔۔اور تم جیسی لڑکی سے کون بدقسمت جان پہچان نہیں بڑھانا چاہے گا۔
“آپ مجھے کیسی لڑکی سمجھ رہے ہیں؟” تب کا دبا غصہ اب عود آیا تھا۔
“جیسی بھی سمجھوں کم از کم ایک ملازمہ تو نہیں سمجھ رہا۔۔۔۔”وہ کہہ کر خباثت سے قہقہ لگانے لگا۔
“آہ یہ آنکھیں۔۔۔۔تم جانتی ہو تمہاری آنکھیں کسی کو بھی اپنے سحر میں گرفتار کر سکتی ہیں۔۔۔۔”وہ اس کے قریب قدم بڑھاتا بولا۔
“دیکھیں دور رہیں۔۔۔۔”اس نے یہاں وہاں دیکھا کوئی نہیں تھا سب کھانا ڈال کر اندر چلے گئے تھے۔
وہ شخص قریب ہوتا اس کی طرف جھکا تو اس نے آنکھیں خوف سے میچی۔۔۔۔وہاں سے اندر جانے کی ہمت ہی نہ کر پائی وہ۔
اہتشام۔۔۔۔بھاری گھمبیر آواز پر وہ شخص سرعت سے پلٹا وجدان چوہدری کو دیکھ کر۔
اُفففف غلط ٹائمنگ پر آ گئے دوست۔۔۔۔۔وہ کہتا دور ہوا تو وجدان نے دیکھا وہ خوف سے سفید پڑتی نم آنکھوں سے وہیں کھڑی تھی۔
“اندر پہنچو فوراً میں آرہا ہوں۔۔۔۔”آواز میں سختی تھی۔
“اوکے اوکے۔۔۔۔!
لیکن اس کی خوشبو۔۔۔۔اففف۔۔۔اگلی بار مت آجانا ایسے۔۔۔”اس کا دوست اسے آنکھ مار کر کہتا اندر چلا گیا۔
“خود کی حفاظت تک کرنی نہیں آتی تمہیں لڑکی؟”
اس نے آنکھیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وجدان چوہدری کے دل نے پہلی بیٹ مِس کی۔
“مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا یہ سب میرے لیے نہیں بنا” وہ گال اپنے ہاتھ کی پشت سے رگڑتی آگے بڑھی۔
وجدان نے اس کا بازو گرفت میں لیتے اسے سامنے کھڑا کیا۔
“اگلی بار ان ہاتھوں کو کام میں لانا۔۔۔۔ہر بار میں نہیں آؤں گا مدد کے لیے” لہجہ سرد تھا۔
“مجھے نہیں چاہیے آپ جیسوں کی مدد شکریہ” وہ اپنا بازو اس کی گرفت سے نکال کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔
“اکڑ کس بات کی ہے تم میں۔۔۔۔۔”وہ سوچتا خود بھی اندر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ اسے چھوڑنے گیا تو الہام نے اسے دیکھا وہ سنجیدہ تھا اور نارمل جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔
“واپس کتنے بجے آؤں؟” اسے گاڑی سے اترتا دیکھ اس نے استسفار کیا۔
“میں فون کر دوں گی آپ کو۔۔۔۔” وہ گاڑی کا دروازہ بند کرتی چلی گئی تو اس نے گہری سانس بھری۔
واپسی پر وہ جِم گیا تھا۔۔۔۔ہاں اسے جم جانا بے حد پسند تھا اس کام میں وہ کسی کی نہیں سنتا تھا۔
وہ اکلوتی اولاد تھا اپنے والدین کی۔۔۔۔اس کا باپ ایک عام کلرک تھا۔
یہیں شیر میں ایک چھوٹا سا تین مرلے کا گھر، سادہ زندگی
اس کا باپ غازیان اعجاز کا گارڈ رہ چکا تھا اور اسے کے کہنے پر غازیان نے اسے الہام کے لیے رکھا تھا۔
وہ اپنی ساری تنخواہ اپنی ماں کے ہاتھ پر رکھتا تھا۔۔۔۔جس سے ان کے گھر کا گزر بسر تو ہو ہی جاتا تھا کیونکہ اس کا باپ اب کوئی کام نہیں کرتا تھا ایسا اس نے ہی کہا تھا۔
اپنے لیے وہ صرف چند ہی پیسے رکھتا تھا۔۔۔۔اس کی ضرورتیں ہی کیا تھیں لیکن وہ جِم جا کر اچھی خاصی باڈی بنا چکا تھا۔
وہ اسے واپسی پر لینے آیا اور گاڑی سے باہر نکل کر اس کا انتظار کرنے لگا۔
وہ سامنے سے آرہی تھی۔۔۔۔وہ ہر روز لڑکیوں کی نظریں خود پر محسوس کرتا تھا لیکن اسے یہ سب پسند نہ تھا۔
“اسلام علیکم!”
پیچھے سے آواز دینے پر وہ متوجہ ہوا تب تک الہام بھی قریب آ چکی تھی۔
“وعلیکم السلام!” اس نے دیکھا وہ ایک عورت تھی تیس پینتیس سالوں کی لیکن بے حد ماڈرن۔
“کیسے ہو ہیڈسم؟” اس عورت نے ایک ادا سے پوچھا تو الہام نے حیرت سے آحل کی طرف دیکھا۔
“کیا میں آپ کو جانتا ہوں؟؟” وہی سنجیدہ لہجہ۔
نہیں لیکن اب جان جائیں گے۔۔کیونکہ میرے پاس تمہارے لیے ایک بہترین آفر ہے۔
“اگر آپ یہ سمجھ رہی ہیں کہ یہ لینڈ کروزر میری ہے تو آپ غلط ہے میں آپ لوگوں کی سوسائٹی سے بیلانگ نہیں کرتا اور یہ لڑکی میں اس کا “باڈی گارڈ” ہوں” اسنے تصحیح کی۔
“دلچسپ۔۔۔بے حد دلچسپ۔۔۔”
لیکن شاید تم نے سنا نہیں ہینڈسم۔۔۔۔میری آفر اب بھی تمہارے لیے ہے۔
“کیسی آفر؟”
اس نے آنکھوں سے شیڈ ہٹاتے کہا اب وہ بیزار ہو رہا تھا لیکن الہام دلچسپی سے سُن رہی تھی۔
ہمیں اپنے برینڈ کے کیٹالوگ کے لیے ایک نیا چہرہ چاہیے۔۔۔جس کے ساتھ کسی نے ابھی تک مارکیٹ میں کام نہ کیا ہو۔۔۔۔تمہارا تجربہ کم ہے لیکن پھر بھی اچھی رقم تمہیں دینے کا وعدہ کرتی ہوں۔
“انہیں نہیں کرنی۔۔۔۔چلیں آحل بھائی۔۔۔۔”الہام نے انہیں فوراً ٹوکا۔
چونکا تو وہ بھی تھا۔
سوچ لو۔۔۔یہ اچھی آفر ہے کب تک کسی کی بیٹی کی پہرہ داری کرتے پھرو گے۔
کہا نا نہیں کرنی انہیں کوئی ماڈلنگ وہ “میرے” باڈی گارڈ ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے۔
آحل نے اسے دیکھا وہ “میرے” پر غور کرنے کی بجائے ان لفظوں پر غور کر رہا تھا جس پر اختتام کیا تھا اس نے۔
“وہ باڈی گارڈ ہی رہیں گے۔۔۔۔”
وہ خاموشی سے گاڑی میں جا کر بیٹھا تو الہام نے اس عورت کو دیکھ کر ناک بسوڑا۔
دیکھا کہا تھا نا۔۔۔۔وہ کہتی اندر بیٹھ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔”وہ آنکھوں میں آنسوؤں کو چھپانے کی خاطر پلٹ گئی۔
وہ حیات غازیان تھی کونفیڈنٹ اور بولڈ۔۔۔وہ کیسے کسی کے سامنے رو سکتی تھی۔
جو کرنا ہے کرو۔۔۔۔وہ کہہ کر اس لکڑی کے جھونپڑے میں چلا گیا۔
وہ قدم بڑھاتی وہاں سے دور نکل آئی۔۔۔۔شام ہونے لگی تھی اور وہ جنگل بہت گھنا تھا اسے آدھے گھنٹے میں ہی لگ رہا تھا کہ وہ سارا جنگل گھوم کر واپس وہاں آگئی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔
اس نے آنسو صاف کرتے یہاں وہاں دیکھا کیونکہ اسے قدموں کی آواز آنے لگی تھی۔
دیکھو!
میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔
تم بُرے ہو بے حد بُرے۔۔۔۔
میں تمہیں زندگی میں کبھی نہیں دیکھوں گی۔۔۔
مجھے تم سے نفرت ہونے لگی ہے تم جاؤ یہاں مت آؤ۔۔۔اسے لگا وہ وہی ہے اسی لیے چلانے لگی۔
لیکن سامنے موجود ان دو لوگوں کو دیکھ کر وہ رک گئی۔
آہ۔۔۔میری مدد کریں۔۔مجھے یہاں سے نکلنا ہے ایک آدمی۔۔۔۔آدمی ۔۔۔وہ انہیں دیکھتی مدد کے لیے آگے بڑھی۔
جب وہ درخت سے نمودار ہوتا اسے کھینچ کر حصار میں لے گیا۔
“اسے مدد کی ضرورت ہے چھوڑو اسے۔۔۔وہ شخص چیخا جو اتنا اچھا شکار ہاتھ سے جانے پر بوکھلا گیا تھا۔”
نکل یہاں سے خاموشی سے۔۔۔۔وہ پھنکارا۔
ایسے کیسے۔۔۔لڑکی کو چھوڑو۔۔۔اب کہ دوسرا بولا۔۔
“تم چھوڑو۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔”وہ اس کے حصار میں پھرپھراتی بولی تو اس نے یک دم اسے چھوڑا اور قدم پیچھے کی طرف لیتا مڑا اور غائب ہوگیا۔
“آؤ ہمیں بتاؤ کیسی مدد چاہیے” وہ اسے اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتے بولے۔
حیات کا دل تیزی سے دھڑکا۔۔۔کیا وہ ایک بار پھر خود کے ساتھ غلط کر گئی تھی۔
مجھے بس باہر سڑک کا راستہ۔۔۔
آؤ تو۔۔۔وہ اسے کھینچ کر ساتھ لے جانے لگے۔۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہ آیا کیا اسے کرنا چاہیے تھا یا شاید وہ اس کی مدد کر دیتے۔
لیکن آگے جا کر وہ دونوں مڑے اور اس کی طرف دیکھا۔
“کیا ہوا پہنچ گئے ہم؟”
ان دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا اور اس کی قمر پر ہاتھ پھیرتے مسکرائے۔
چھوڑو۔۔۔یہ کیا بدتمیزی؟
ششش۔۔۔لڑکی۔۔۔بس کچھ وقت۔۔۔پھر تجھے باہر کا راستہ بتا دیں گے ۔۔
ہاتھ مت لگانا ہٹو۔۔۔۔وہ انہیں دور دھکیلتی بولی۔۔۔
دل اب ڈر گیا تھا۔۔۔۔اس نے اس شخص کو یاد کیا اور آنسوؤں کو چہرے سے رگڑتی انہیں دور کرنے لگی۔
گولی کی آواز جنگل میں گونجی تو اس کی چیخ ہر طرف سنائی دی۔
ہاں وہ وہی تھا ان دونوں کے ہاتھوں کو گولی سے زخمی کر دیا گیا تھا۔
وہ پیچھے ہوتی ان کے ہاتھوں سے نکلتا خون دیکھتی اور اسے دیکھنے لگی جو اب واپس وہیں جا رہا تھا جہاں سے آیا تھا۔
وہ اس کے پیچھے جانے لگی اور واپس اس لکڑی کے کوٹیج کے اندر آتے سر ہاتھوں میں گرایا اور زارو قطار رونے لگی۔
ہاں حیات غازیان رو پڑی تھی۔
“خاموش رہو۔۔۔۔”
اس کی گھمبیر آواز پر اس نے سر اٹھا کر اس بے رحم کو دیکھا جس کی وجہ سے سب ہوا تھا۔
“سو جاؤ۔۔۔۔کھانے کو ابھی کچھ کہہ ہے صبح پانچ بجے ہمیں یہاں سے نکلنا ہے” وہ اسے بتاتا اپنے سامنے پڑے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے لگا۔
وہ بھی بستر پر گر گئی۔۔۔۔۔ہاں چادر جیسا کچھ نہیں تھا وہاں اور نہ اس نے مانگا کیونکہ آگ کی وجہ سے اندر کافی گرم ہو گیا تھا۔
اس کے سوتے ہی وہ کھڑا ہوا اور اس کے قریب آیا۔۔۔اس کے لباس پر نظر پڑتے ہی ہونٹ بھینچے۔
وہ منظر آنکھوں کے سامنے سے گزرا جس پر ان لوگوں کے ہاتھ اس کے ٹاپ سے جھلکتی قمر پر تھے۔
“انتہائی گھٹیا لباس پرنسس لیکن فکر نہیں کرو ان سب کی سزا سود سمیت وصولوں گا تم سے۔”
اپنی جیکٹ کو اس کے اوپر دیتے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر وہ انہیں چھوڑنے گیا تھا گھر تک۔۔۔الہام سے وہ باتیں کر رہا تھا لیکن وہ خاموش بیٹھی رہی تھی۔
مجھے سیکرٹری کی ضروت ہے ایک کیا تمہاری کوئی دوست ہے جو پرفیومز کا نالج رکھتی ہو کیونکہ میں ایک نئی خوشبو یہاں متعارف کروانا چاہتا ہوں۔
امممم۔۔۔نہیں تو۔۔۔۔۔
اوکے!
میں سوچ کر بتاؤں گی آپ کو وجی بھائی اگر کسی کو کوئی اندازہ ہو تو۔۔۔۔
اب کہ چاہت نے ان کی باتیں سنی۔۔۔وہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ یہ کر سکتی ہے لیکن وجدان چوہدری کی وجہ سے بول نہ پائی۔
واپسی پر جا کر الہام تو سو گئی تھی لیکن وہ باہر لان میں جا کر چکر کاٹنے لگی۔
اسے گھاس پر ننگے پاؤں رات کی ہوا میں چاند کو دیکھ کر چلنا اور خود سے باتیں کرنا بے حد پسند تھا۔
اپنے بابا کو فون کیا اور گہری سانس بھری۔
“بابا کیسے ہیں آپ؟”
“میری دھی میں ٹھیک ہوں کیا تو ٹھیک ہے؟”
میں بالکل ٹھیک ہوں اس کے لہجے میں اداسی گھلی تھی۔
“میں آپ کو بہت یاد کرتی ہوں۔”
“تو آجا واپس۔۔۔! کیوں رُکی ہے وہاں؟”
نہیں بابا الہام میری دوست ہے اور یہاں شہر میں رہ کر مجھے خود کے لیے کچھ کرنا ہے مجھے سب کو بتانا ہے کہ میں عام نہیں ہوں وہ عزم سے بول رہی تھی۔
“میری دھی تو کر جو کرنا چاہتی ہے لیکن ان سب میں کہیں خود کو نہ کھو دیں۔۔۔۔یہ شہر کے لوگوں میں دل نہیں ہوتا ۔۔۔۔دھیان رکھیں میری دھی ۔۔”
اس نے آنکھیں بند کرتے خود میں یہ بات جزب کر لی کہ اسے خود کو نہیں کھونا تھا۔
ایک فیصلہ کرتے اس نے صبح ہونے کا انتظار کیا۔
الہام۔۔۔؟
ہاں بولو چاہ۔۔۔
تمہیں میری خوشبو کیسی لگتی ہے؟
“بے حد ڈیسنٹ اور زبردست۔۔۔میں تو فین ہوں بھئی۔۔۔”
“تو کیا مجھے اسے بنا کر مارکیٹ میں لانا چاہیے؟”
لیکن تم تو اسے راز رکھنا چاہتی تھی نا چاہ اسی لیے کل وجی بھائی کے سامنے میں نے تمہارا نام نہیں لیا۔
ہاں لیکن۔۔۔میں خود سے کچھ کرنا چاہتی ہو۔۔۔اور میرے پاس یہی ایک صلاحیت ہے۔۔۔۔
تم کر سکتی ہو مجھے یقین ہے تم پر ۔۔۔۔تم اس فیلڈ میں بہت آگے جاؤ گی۔۔۔
لیکن!
کیا؟ چاہت نے انگلیاں مڑوڑتے پوچھا۔
وہ تمہاری خاص خوشبو ہے جو تم مجھے بھی نہیں دیتی توکیا ساری دنیا کو لگانے دو گی۔
“ہممم۔۔۔شاید۔۔۔میں اپنے لیے کوئی نئی بنا لوں گی۔۔۔سیکریٹ والی۔”
گڈ۔۔۔۔بیسٹ آئیڈیا۔۔۔۔الہام اس کے لیے بے حد خوش تھی۔
“میں وجی بھائی سے بات کروں؟”
“نہیں میں کہیں اور؟”
“نہیں چاہ۔۔۔۔وہ تو اعتبار والے انسان ہیں اور کوئی پتا نہیں جیسا ہو تمہیں تمہاری پرفیومز کے رائٹس بھی دے یا نہیں۔”
ہممم۔۔۔۔
میں ابھی کرتی ہوں ان سے بات تم ان کے ساتھ کام کرنا۔
الہام۔۔۔۔ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں۔
میں تمہارا ایڈمیشن اپنے کالج کروا دوں گی۔۔۔
ہاں شام میں کروانا۔۔۔
اوکے۔۔
ایک نیا سفر۔۔۔۔میں تیار ہوں۔۔۔۔اپنی پہچان بنانے کے لیے وہ پر عزم تھی۔
“واٹ دا ہیللل۔۔۔؟”مجھے کل سے اپنی شکل مت دکھانا یہاں وہ دھاڑا۔
“پر سر۔۔۔۔۔”
“آؤٹٹٹ۔۔۔۔” اس نے کہا تو وہ لڑکی روتی وہاں سے نکل گئی۔
کیوں نکالا وہ کافی دیر سے یہاں کام کر رہی تھی اہتشام نے اس سے پوچھا۔
مجھے خود پر گرنے والی لڑکیاں زہر لگتی ہیں۔۔۔۔بات بہ بار گرتے جانا کوئی عزت نفس ہی نہیں ہے ان لڑکیوں کی۔
پر تو ہے اتنا چارمنگ۔۔۔۔اور اگر لڑکیاں خود آرہی ہیں تو فائیدہ اٹھا نا میرے بھائی۔۔۔
نہیں یہ سب میرا ٹیسٹ نہیں ہے وجدان چوہدری ایسی لڑکیاں پسند نہیں کرتا جو خود کی عزت نہیں کروا سکتیں۔
اوکے اوکے! بتا سیکرٹری مل گئی۔
نہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آحل بھائی۔۔۔؟
ہمم۔۔
“آپ سچ میں وہ سب کریں گے؟”
کیا؟
“وہ ماڈلنگ؟”
نہیں ابھی نہیں۔۔۔۔
“ابھی نہیں مطلب؟ آپ بعد میں کریں گے؟ اس کا کیا مطلب ہوا؟؟”وہ ناجانے کیوں لیکن بیچین ہوئی۔
“چھوڑیں الہام۔۔۔آپ کا کیا لینا دینا۔”
“کیوں نہیں لینا دینا۔۔۔۔آپ میرے باڈی گارڈ ہیں اور میرے ہی رہیں گے۔۔۔۔”
آحل نے اب کی بار گردن گھماتے اسے دیکھا آنکھوں میں سرد پن تھا۔
میں ہمیشہ ایک باڈی گارڈ کی زندگی نہیں گزار سکتا مجھے اپنے مستقبل کے لیے بھی کچھ کرنا ہے وہ ٹہرے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا” وہ تھمی۔
اس نے گاڑی چلاتے گھر کے راستے پر ڈالی۔
کل آئسکریم نہیں کھائی تھی آج کھالیں اس نے کہا تو آحل نے گاڑی آئسکریم پارلر کے سامنے روکی۔
آئسکریم لاتے اسے تھمائی اور اندر بیٹھ گیا۔
“آپ اپنی نہیں لائے؟”
نہیں! یک لفظی جواب۔
“کیوں؟”
“مجھے پسند نہیں آپ کھائیں۔”
الہام کئی لمحے اسے دیکھتے کھاتی رہی پھر ناجانے کیا سمائی کہ اپنا چمچ اس کے آگے کیا۔
آحل نے حیرت سے اسے دیکھا جو آنکھیں بڑی کیے اسے کھانے کا کہہ رہی تھی۔
کھائیں بھی پگھل رہی ہے اس کے اصرار پر وہ اسے دیکھنے لگا۔
“نہیں چمچ جوٹھا ہو جائے گا آپ کھالیں میں دوبارہ نیا لینے نہیں جانا چاہتا بارش ہو رہی ہے۔”
نہیں جوٹھا ہو گا وہ بضد ہوئی تو وہ کھا گیا لیکن اس پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹا جب وہ اسی چمچ سے خود دوبارہ کھانے لگی۔
اس کا دل انجان لے میں دھڑکا۔
وہ اسے دیکھنے لگا تھا بے خیالی میں جب اس نے نظریں اٹھائی تو یہاں وہاں دیکھتا گاڑی دوبارہ سٹارٹ کرتا گھر کے آگے جا رکا۔
وہ اندر چلی گئی لیکن وہ کئی لمحے وہیں کھڑا رہا۔
غازیان کا فون آنے پر وہیں کھڑا بات کرنے لگا اور جب بات کر کے مڑا تو وہ اسے چھت پر نظر آئی وہ بارش میں نہا رہی تھی۔
اسے یاد تھا پچھلی بار اسے ایسے بارش میں نہانے پر بخار ہو گیا تھا وہ تیزی سے زینے چڑھتا اوپر گیا۔
وہ گول گول گھومتی ہنستی کچھ گنگنا رہی تھی یہ روپ اس کا گھر میں ہی دیکھنے کو ملتا تھا کیونکہ باہر وہ نہایت خاموش اور ڈری ہوئی سی رہتی تھی۔
آحل کے دماغ میں اس کی بات آئی اسے ہنستے نظر لگتی تھی وہ صحیح کہتی تھی۔
آحل کی نظر سامنے گھر کی کھڑکی پر گئی جہاں آدمی کھڑا یہاں ہی دیکھ رہا تھا آحل نے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور اس شخص کو دیکھا جو گڑبڑا کر وہاں سے چلا گیا۔
الہام ۔۔
جی؟ وہ تیزی سے مُرتی اس کے سامنے کھڑی تھی دوپٹہ ایک کندھے پر جھول رہا تھا کپڑے بھیگ کر چپک گئے تھے اس کے بال بھی گردن پر چپکے تھے وہ اسے وہ پھول لگی جو بارش کے بعد بھیگ کر مزید حسین لگتا ہے۔
“ایک دن، ایک دن مجھے سارے حق چاہیے اس وجود پر” اس کے دل سے آواز آئی۔
“نیچے چلیں! یہ کیا طریقہ ہے۔۔۔۔”
“کیا ہوا؟؟؟؟”وہ منمنائی۔۔۔۔
“آئیندہ نہانا ہو تو نیچے لان موجود ہے چھت پر آنے کی ضروت نہیں۔”
لیکن کیوں؟
وہ بنا کچھ کہے چلا گیا تو وہ بھی بھاگتی نیچے اتر کر چلی گئی۔
