You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 28
Rate this Novel
You're All Mine Episode 28
You’re All Mine by Suneha Rauf
اس کے دن بے ضرر سے گزر رہے تھے طبیعت خراب ہو رہی تھی لیکن وہ دوا باقاعدگی سے کھا رہی تھی۔
کام کرتے جب تھک جاتی تو پہروں اس شخص کو سوچتی۔
وجدان نے اب کہ لوگ ہائیر کر لیے تھے، اگر وہ اسے گاؤں میں نہیں ملی تھی تو یقیناً اب وہ شہر میں تھی کیونکہ گاؤں کی کوئی گلی اس نے نہ چھوڑی تھی۔
چاہت وجدان کتنا بھاگیں گی آپ؟
“کیا خبر ہے؟”
“سر وہ ایک لاش دو مہینے پہلے عورت کی نہر کنارے۔۔۔۔”
“بکواس بند کرو نہیں تو زبان گدی سے یوں نکالوں گا کہ بولنے کے قابل نہیں رہو گے وہ دھاڑا۔”
سب ورکرذ کی نگاہیں اس کے دروازے پر ٹک گئیں۔۔۔۔وجدان چوہدری سے اب ہر کوئی خوف کھاتا تھا۔
وہ شخص جو لوگوں کو ڈانٹنے سے گزیز کرتا تھا سنجیدہ وہ پہلے بھی تھا لیکن اب وہ خشک مزاج اور سرد سا ہو گیا تھا۔
اس کی بڑھتی بئیرد اس پر خوب جچتی تھی لیکن آنکھوں کے نیچے ہلکے ہر کوئی دیکھنے والا بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
وہ کسی میٹنگ میں بیٹھے بیٹھے کھو جاتا تھا۔۔۔۔اور کبھی پہروں اپنے آفس کی کرسی پر گزار دیتا تھا۔
سب کا بدلہ سود سمیت بیوی!
خشک سا قہقہہ شاید وہ خود کو تسلی دینے کے لیے لگا گیا تھا۔
“اب تب تک میرے سامنے نہ آنا جب تک اس کی کوئی خبر نہ ہو۔۔۔”وہ دھیمے سے بولا۔
تو سب باہر نکل گئے۔
“وجدان کیا ہو گیا ہے؟”
” باہر سب تمہارے کمرے کو گھور رہے ہے۔۔۔اور یہ اب تو روز کا ہو گیا ہے۔۔۔”اسد نے سنجیدگی سے کہا۔
“میرے کام میں مت بولو اسد!” وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“تمہاری مرضی۔۔۔۔!!”
“لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آگے بڑھ جاؤ کچھ چیزیں لاحاصل ہی رہتی ہیں زندگی میں، آسمان کے چاند کی طرح۔”
“کسی روز میں بھی تمہیں یہی کہوں گا جب تم محبت کی آخری سیڑھی پر ہو گے۔۔۔سانس لینے میں بھی دشواری محسوس کرو گے۔۔۔۔جب تہجد میں روتے آنسو ختم ہو جائیں گے اور رب سے معجزے کی امید لگائے بیٹھے ہو گے۔۔تب میں پوچھوں گا کہ کیسا لگتا ہے۔؟
جب دل سکوں نہیں نہیں ہوتا” وہ شکست خور لہجے میں بولا۔
اسد مسکرا دیا۔۔۔سکون میں تو وہ اب بھی نہیں تھا۔
وہ ایک تیسرا کردار تھا رانی اور راجا کی کہانی میں۔۔۔۔دنیا کو راجا رانی کی کہانی میں از حد دلچسپی تھی۔
لیکن کیا کبھی کسی نے اس تیسرے کردار کا سوچا ہے جو اچھے ہوتے ہوئے بھی کہانیوں میں بُرے بنا دیے جاتے ہیں فقط کہانی سے نکالنے کے لیے وہ پھیکا سا مسکرا دیا۔
“چاہت وجدان! “
“دل نے تمہاری تمنا کی تھی۔۔۔لیکن ایک شادی شدہ عورت پر نظر رکھ کر گناہ کرنے کا متمحل نہیں ہو سکتا۔
پر اس دل کو کیسے سمجھاؤں جو ان سب عقل والی باتوں کو سمجھتا نہیں ہے۔
میں تمہیں وقت دوں گا شاید تمہارے اور وجدان کے راستے الگ کرنے ہو رب نے کیا پتا مجھ پر ترس آجائے تمہیں۔”
“نظر نہیں آتا؟” واپسی پر سیڑھیاں اترتے وہ لڑکی سے ٹکرایا تھا۔
“سوری سر!” وہ ہچکچائی۔
نئی آئی ہو؟
ہمممم۔۔!
“ٹھیک ہے کام کرو!” وہ تیزی سے اترا لیکن قدم اس آواز پر رُکے تھے۔
“ماما!”
وہ بچہ اس لڑکی کے ساتھ چپکے کھڑا تھا جو بمشکل اکیس بائیس سالوں کی لگتی تھی۔
وہ ناں میں سر ہلاتا چلا گیا۔۔۔
“چاہت بتاؤ یہ دوا کس چیز کی ہے!”
پریگننٹ ہوں میں۔۔۔وہ بالآخر بول پڑی۔
تانیہ نے کئی لمحے اسے دیکھا۔۔۔۔کیونکہ آج ہی تو اسد نے اسے سب بتایا تھا۔
“خود پر ترس کھاؤ چاہت! اپنی اولاد ہر ترس کھاؤ! سنگل مدر ہونا تو کہانیوں میں بھی آسان نہیں ہوتا یہ تو پھر اصل زندگی ہے۔”
“تو کیا کروں؟”
“خود اس کے پاس چلی جاؤں؟”
“اس نے مجھے جانے کو بول تھا اور میں اس کے قدموں میں بچھ جاؤں کہ آؤ۔۔۔حکمرانی کرو مجھ پر اور پھر ایک دن اپنی کزن کو اور دادی کو مجھ پر فوقیت دیتا مجھے چھوڑ جائے” وہ چیخ پڑی۔
کتنا درد خود میں سماتی۔۔۔
“ہر کہانی کے سکّے کی طرح دو رُخ اور پہلو ہوتے ہیں چاہت سمجھو۔”
“مجھے کچھ نہیں سننا۔۔۔۔مجھے محبت نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔۔میں آنے والی ہر لڑکی کو کہوں گی کہ دنیا میں ہر شخص سے محبت کر لینا لیکن اس سے نہیں جو تم سے اونچا مقام رکھتا ہے۔”
“کیونکہ دنیا تمہیں کبھی اس کے قابل نہیں سمجھے گی” وہ رو پڑی۔۔۔کب تک خود کو روکتی۔
“لیکن حقیقت پتا ہے کیا ہے تانی؟”
کیا؟
اس کا سانس پھول رہا تھا۔
“میں مر کر بھی اس شخص کو بھول نہیں سکتی۔۔۔۔مجھے لگا تھا میں آگے بڑھ جاؤں گی لیکن نہیں۔۔۔”
میرا چلتا سانس اس شخص کی محبت کی گواہی دیتا ہے اور اب اس کی اولاد ہے میں کیا کروں مجھے بتاؤ۔۔۔۔
چاہت۔۔۔۔سانس لو گہرہ۔۔۔۔چاہت۔۔۔لیکن تانیہ کے ہاتھ سے وہ نکلتی جا رہی تھی۔
“میں مر ج۔۔۔اؤں تو ا۔۔۔سے مج۔۔۔ھ تک پہ۔۔۔نچا دینا۔۔۔تانی۔۔۔”
تانیہ نے اسے ہسپتال پہنچایا تھا۔۔۔یہاں وہاں وہ چکر کاٹتی پاگل ہونے کو تھی۔
سر؟
“چاہت وجدان؟”
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“لوکیشن بھجو۔۔۔۔!!”
وہ ننگے پاؤں بھاگا تھا۔۔۔۔شاید دنیا اس شخص کو ہجر میں دیوانے ہوئے شخص کے لقب سے یاد کرتی مستقبل میں۔
ہیلو!
بولو!
“وجدان چوہدری؟”
جی! وہ گاڑی چلاتا بولا تھا۔
“چاہت مر جائے گی تمہاری وجہ سے۔۔۔اور تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا۔۔۔۔ہسپتال کا نام بھیجا ہے پہنچ سکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچو نہیں تو بخدا اسے ہمیشہ کے لیے تم سے دور کر دوں گی۔”
کال کاٹ دی گئی تھی اور اس کی گاڑی کی اسپیڈ اسی سے تجاوز کر گئی تھی۔
اتھل پتھل سانسیں۔۔۔۔۔
مرنے سے زیادہ دردناک پتا ہے کیا ہے؟
آنسوؤں کا آنکھوں میں ہی جم جانا
حلق میں اٹکے رہنے لیکن پلکوں کی بار نہ توڑنا
درد کی آخری حد پر ہونا لیکن اُف تک نہ کرنا
ازیت پتا ہے کب حد سے تجاوز کرتی ہے؟
جب آنکھیں تھک جائیں لیکن نیند نہ آئے
جب وہ شخص حلال ہو کر بھی حاصل نہ رہے
اور سنو! مرنے سے زیادہ دردناک پتا ہے کیا ہے؟
اپنے جان سے پیارے شخص کو درد میں دیکھنا
ہزار ہاں انتظار کے بعد بھی معجزے کا نہ ہونا
حاصل ہوتے بھی حاصل نہ ہونا، تم بھی محبت کرو
جان جاؤ گے کہ مرنے سے زیادہ دردناک کیا ہے؟
از قلم سُنیہا رؤف۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟”
وہ شخص اپنی خبریں اخبارات میں دیکھتا پاگل ہونے کو تھا۔
صبح سے لے کر دو بج گئے تھے ہر نیوز چینل میر حاد ابراہیم کی طرف سے بھیجے گئے اس شخص کے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھا رہے تھے۔
“اب کیا کرنا ہے سر؟” اس کے آدمیوں نے پوچھا۔
ملک سے باہر!
“ٹھیک ہے ہم ٹکٹ بُک کرواتے ہیں۔۔۔”
“لیکن میں نہیں جاؤں گا نام میرا، میری معلومات، سب میرا ۔۔۔سب کو لگے کہ میں جا چکا ہوں لیکن میں اس کو تباہ کروں گا آہستہ آہستہ اور پھر اس شخص کو نزدیک سے برباد ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔”
“سر وہ کیسے؟”
“حیات میڈیم کیا لگتی ہیں اس کی زندگی میں؟’
“اب تک کی معلومات کے مطابق سر میر حاد ابراہیم کا کوئی ماضی نہیں نکلا۔۔۔اور نہ حیات غازیان کا۔
کیونکہ وہ بچپن سے ایک دوسرے سے منسلک تھے لیکن حیات میڈیم بھول گئی تھیں۔”
“اور میر صاحب؟”
“وہ نہیں! انہوں نے حیات کی ہر خبر رکھی ہوئی تھی۔”
“تو عشق معشوقی کا معاملہ سمجھیں؟”
“اس سے زیادہ شاید۔۔۔۔”
“ہاہاہہاا۔۔۔۔پھر تو اور مزہ آئے گا۔”
“آپ کیا کرنے کا سوچ رہے ہیں سر؟”
“سوچو۔۔!”
“کسی کی عقل مند بیوی بیٹھے بیٹھے پاگل ہو جائے اور موت کے پاس پہنچ جائے بنا کسی کو خبر ہوئے تو کیسا ہو گا؟”
براووووو۔۔۔۔تالیوں سے ہال گونج اٹھا۔
ملازمہ تیار کرو۔۔۔آگے تمہیں پتا ہے کیا کرنا ہے۔۔۔
ہو جائے گا سب یک زبان بولے۔
“نہیں نہیں میر صاحب۔۔۔۔اتنی جلدی کہاں۔۔۔کھیل میں کلائیمکس تو اب آئے گا۔
انتظار کیجیے گا۔۔۔میرا نظرانہ قبول ہو۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔”
“تمہیں کچھ بولا تھا میں نے سمجھ نہیں آئی تھی۔۔؟”
بارش کی آواز سنتے اس نے لیپ ٹاپ سے سر اٹھایا۔
حیات؟
لیکن جواب نداد ۔۔۔
“حیات ۔۔۔۔؟”
“زندگی؟”
لیکن اس نے جواب نہ دیا تھا۔۔۔وہ لیپ ٹاپ بند کرتا فوراً اٹھا اور سیدھا چھت پر آیا تھا۔
کیا ہوا؟
“میں نے منع کیا تھا چھت پر یوں اکیلے آنے سے!”
“مجھے قید تو نہیں کریں ایسے میں یہاں بور ہو جاؤں گی” اور شاید وہ ٹھیک تھی۔
“جو کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو۔۔۔۔”
میر نے اس کے کھلے بالوں کو دیکھا پھر شال کو۔۔۔جیکٹ وہ اتار چکی تھی۔
بھیگ چکی ہو تم تمہیں اندازہ ہے۔۔۔۔سردی لگ جائے گی۔
“میر صاحب؟”
اس کا انداز مخاطب ایک لمحے کے لیے میر حاد ابراہیم عرف ڈارک ویزرڈ کا غصہ ختم کر گیا تھا۔
“کبھی کبھی بارش میں بھیگنا اچھا ہوتا ہے اور یہ تو ہماری ایک ساتھ پہلی بارش ہے۔”
“بیمار ہو جاؤ گی چلو!”
نووووو!
آپ بھی رکیں۔۔۔ شیڈ میں لاتے میر نے اسے دیکھا۔
“آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟”
“یہ کیسا فضول سوال ہے؟” میر نے اسے گھورا۔
“فضول تو نہیں ہے۔۔۔ہر لڑکی یہ جاننا چاہتی ہے۔”
“ہر لڑکی کا نہیں پتا لیکن آپ یہ کبھی نہیں جان پائیں گی۔”
“لیکن کیوں؟”
چلو نیچے۔۔
“افف سڑیل۔۔۔۔”
“اچھا میر صاحب رکیں ۔۔۔۔۔جیسے اس دن میرے کان میں بتایا تھا ویسے بتا دیں پلیز ۔۔۔’
میر نے اسے کھینچ کر ساتھ لگاتے اس کے بال کان سے ہٹاتے دوسرے کندھے پر ڈالے پھر اس پر جھکا۔
حیات نے جھجکتے آنکھیں جھکا لی۔۔۔۔چہرہ پل میں سرخ قنداری ہوا تھا۔
“تمہیں سچ میں جاننا ہے؟”
بالکل! دھیما لہجہ۔
میر نے اسے دیکھتے اس کی گردن پر دھیرے سے لب مِس کیے پھر دھیرے سے بولا آواز سرگوشی سے زیادہ نہ تھی۔
“بس اتنا جان لو کہ اگر میں کسی دن رو پڑا تمہارے لیے تو جان لینا کہ یہ میرے عشق کی انتہا ہے اس سے زیادہ میں اس دنیا میں کسی کو نہیں چاہ سکتا کیونکہ میرے تمام جذبات تم پر آ کر ختم ہو جاتے ہیں۔”
حیات نے اس کی خوشبو خود میں اتاری۔۔۔
“نیچے پہنچو۔۔۔کپڑے بدلو۔۔۔برتن لگاؤ میز پر۔۔۔اور اب دوبارہ اکیلی اوپر آئی تو ٹانگیں سلامت نہیں رہیں گی تمہاری۔”
“یہ شخص مجھے دھمکا دھمکا کر ہی مار دے گا” وہ اس کے پیچھے ہی سیڑھیاں نیچے اتر گئی۔
وہ اسے روتا تو ہرگز نہیں دیکھنا چاہتی تھی لیکن وہ اس پل کے انتظار میں تھی کہ جس میں یہ ثابت ہو جاتا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے۔
وہ پاگل تھی جو اب بھی جان نہ پائی تھی کہ جو شخص اسے ملا اپنے پلین کے تحت تھا اور اب تک اس کے اور خود کے درمیاں سب صحیح کرتا خوش تھا بے حد۔۔۔۔۔اس سے وہ کیسے اب بھی اقرار کی توقع لیے بیٹھی تھی۔
لیکن مستقبل کون جانتا تھا رب کی زات کے سوا۔
