207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 24

You’re All Mine by Suneha Rauf

“ہاں!”

“میں واپس جا رہی ہوں اور اب کبھی واپس نہیں آؤ گی” حیات نے کہتے قدم باہر کی طرف بڑھائے۔

میر نے گہری سانس بھری۔۔۔۔۔وہ یوں سب خراب نہیں کر سکتا تھا۔

اسے پتا تھا حیات میر کو زیر کس طرح کرنا ہے اور اس نے وہی کرنا شروع کیا تھا، کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ زندگی میں حیات سب سے پہلے اسے رکھے، اس کی بات کرے ہمیشہ، اسے سوچے۔

“واپس آؤ!”

میر نے اسے جاتے دیکھ کر کہا لیکن وہ اَن سُنی کرتی باہر نکل گئی۔

“کیا چاہتے ہو تم؟”

“تم جاننا چاہتی ہو کیا چاہتا ہوں میں؟”

وہ قدم اٹھاتا اس تک آیا اور اس کو دیوار کے ساتھ لگاتے اس کے آگے یوں کھڑ ہوا کہ وہ چھپ گئی۔

“میرر؟”

“میں چاہتا ہوں تم مجھے وقت دو، میرے گھر کو وقت دو اور اس کمرے سے جتنا ہو سکتا ہے دور رہو” وہ اس پر جھکا بول رہا تھا۔

“لیکن کیوں میر؟”

“تم ایسا کیوں کرتے ہو؟” وہ ہاتھ بڑھاتی اس کے دائیں گال پر رکھتی بولی۔

میر نے آنکھیں بند کیں اُس کا بڑھایا پہلا قدم۔۔۔۔وہ پُرسکون ہوا تھا جیسے۔

“کیونکہ میں کہہ رہا ہوں حیات۔۔۔تمہارا وہاں کوئی کام نہیں ہے۔”

“تمہاری پہچان کیا ہے میر؟” ایک اور سوال۔

“وہ تمہارا جاننا ضروری نہیں۔۔۔۔”وہ اس پر سے ہٹتا بولا۔

“کیوں ضروری نہیں۔۔۔بیوی ہوں تمہاری؟ مجھے حق ہے۔”

“حق تو پھر میرے بھی بہت سے ہیں حیات میر” وہ اسے قمر سے تھام کر اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا۔

حیات کی پلکیں لرزی۔۔۔وہ شخص اسے موضوع سے ہٹا چکا تھا لیکن کب تک؟

“اممم۔۔۔کھانا کھا لیں؟”

حیات نے اسے کافی دیر سے خود کو معنی خیزی نگاہوں سے دیکھتے ہچکچاتے پوچھا۔

“ہاہاہاہا۔۔۔۔”وہ قہقہہ لگا اٹھا۔۔۔

حیات نے میر کو یوں ہنستے بہت کم بار دیکھا تھا۔۔۔وہ اس کی مسکراہٹ میں کھو گئی۔۔

“تم اچھا مسکراتے ہو!” وہ یک دم بول گئی۔

“تم تو بہت کچھ کرتی اچھی لگتی ہو زندگی!”

میر نے اس کے بال گردن سے ہٹاتے اپنی انگلی سے لکیر کھینچتے کہا۔

“امممم۔۔۔! تم دوبارہ مجھ سے اس طرح بات نہیں کرو گے!” حیات نے سنجیدگی سے کہا۔

“ٹھیک ہے!”

“چلو معافی بھی مانگو اب!” حیات نے مسکراتے کہا۔

“فری مت ہو زیادہ۔۔۔۔”میر نے گھور کر اسے دیکھتے اس کے بال سنوارے۔

“کیا تم شرمندہ ہو؟”

“کس لیے؟”

“تم نے زبردستی مجھ سے نکاح کیا۔۔”

“تم مانتی ہو وہ زبردستی تھا؟”

“بالکل!” وہ پُر اعتمادی سے بولی۔

“تو آج میرے گھر میں میرے سامنے، میرے ساتھ کیوں موجود ہو؟”

حیات لاجواب ہوئی تھی۔

“وہ اسے نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ اسے اپنا عادی بنا چکا ہے، محبت جیسے جزبے کو عادت کے لفظ کے سائے میں چھپا رہی تھی وہ۔”

“مجھے واپس جانا ہے آج!” اس نے حیات کو دیکھتے یک دم سنجیدہ ہوتے کہا۔

حیات نے گہری سانس بھری اور اپنے قدم پیچھے کی طرف لیے آنکھیں خفگی سے بھری تھیں۔

“تم میرے ساتھ یوں نہیں کر سکتی حیات میر!”

“اگر تم کر سکتے ہو تو میں کیوں نہیں!” اس کا اشارہ حیات کا خود سے دور جانے کی طرف تھا۔

میرا کام ہے یہ، میرا فرض، میں ہمیشہ یہاں موجود نہیں ہو سکتا!

ٹھیک ہے! وہ خاموش ہو گئی۔

میر نے آگے بڑھتے اسے حصار میں لیتے اس کا ماتھا چوما۔

“آج رات کو جاؤں گا کل اسی وقت تمہارے سامنے موجود ہوں گا رب نے چاہا تو۔۔۔”

ٹھیک ہے! حیات نے اس کی خوشبو خود میں بسائی اور مسکرائی۔

میر نے اس کا ماتھا چوما۔

چلیں مجھے بھوک لگی ہے! حیات نے کہا تو وہ گھور کر اسے باہر نکل گیا۔

پھر وہ چلا گیا تھا۔۔۔۔اور حیات نے سونے سے پہلے تک صرف اسے ہی یاد کیا تھا۔

صبح سے اس نے میر کو یاد کیا تھا، اس کے لمس کو، اس کی خوشبو کو۔۔۔اس کے گھر میں گھومتے اس نے اوپر کی طرف جانے والی سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے۔

وہ اب تک اوپر والے پورشن میں نہیں گئی تھی۔

وہاں ایک ہی کمرہ موجود تھا جو کہ لاک تھا۔۔۔

اففف۔۔۔اس شخص کے گھر میں سب کچھ خفیہ ہے۔

اپنے فون کو بجتا محسوس کر کے وہ اس کمرے کے بارے میں میر سے بعد میں پوچھنے کا سوچتے نیچے آ گئی۔

“اسلام علیکم!”

“وعلیکم السلام!”

“میں شام میں آؤں گا ہمیں ایک دعوت میں جانا ہے تیار رہنا۔”

وہ تیار تھا آج دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ حیات کو اس نے چُن لیا ہے۔

اس کے ساتھی دوستوں نے اسے منع کیا تھا کہ وہ ایسا نہ کرے لیکن یہ سب ضروری تھا۔

اس کے آنے پر اس نے قدم اندر کی طرف بڑھائے جہاں وہ تیار کھڑی تھی۔

گھٹنوں تک آتی سلیولیس شرٹ کے ساتھ کیپری پہنے وہ چوڑیاں بھر کر پہن رہی تھی۔

“حیات!’

ہممم؟

“تم کیا پہنو گے؟”

“میں دیکھ لیتا ہوں لیکن تم یہ جان لو کہ تم یہ نہیں پہن رہی۔۔۔”اس نے اس کے نفیس جوڑے کو دیکھتے کہا۔

کیوں؟ حیات نے حیرانی سے چہرہ اٹھایا۔۔۔سلکی بال جھٹکے سے بکھرے تھے۔

“کیونکہ میں کہہ رہا ہوں!” وہ اس کے پاس آتا سرد لہجے میں بولا۔

لیکن اتنا اچھا تو ہے یہ! وہ ضدی انداز میں بولی۔

“واپس آ کر یہ پہن لینا۔۔۔ابھی کچھ اور پہنو ہمیں دیر ہو رہی ہے۔”

“واپس آ کر کیوں پہنوں گی یہ جانے کے لیے خاص طور پر میں نے پہنا ہے۔”

میر نے کھینچ کر اسے قریب کرتے اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کی۔

“حیات میر اس طرح کے کپڑوں میں تم باہر نہیں جا سکتی۔۔۔یہ سب میرے لیے ہونا چاہیے۔۔۔”

“واپس آ کر مجھے تم یہ پہن کر دکھاؤ گی پھر ہم اسے اچھے سے سراہیں گے ابھی یہ پکڑو” اس نے الماری سے فراک نکال کر اسے پکڑایا۔

“واپسی پر تم اس کی تعریف کرو گے؟” حیات نے آئیبرو اچکائی۔

میر نے مسکراتے اس پر گہری نگاہ ڈالی تو وہ ہڑبڑاتی فراک لے کر جلدی سے چینج کرنے چلی گئی۔

واپسی پر میر نے اس کے گلے میں اچھے سے دوپٹہ پھیلا کر دیتے اسے جھمکے تھمائے تھے۔

“یہ مجھے سپند نہیں! الہام کو بہت پسند ہیں”

“تم یہی پہنو گی حیات۔”

یہ بہت بھاری ہیں۔۔

“کچھ نہیں ہوتا تھوڑی دیر کے لیے پہن لو کیونکہ مجھے پسند ہیں۔۔۔”میر نے اسے پہناتے خود چینج کیا اور وینیو کی طرف نکل پڑے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“نہیں! وہ۔۔۔۔”

اسے پتا نہیں تھا کہ اس کا سامنہ یوں ہو گا اس سے۔۔۔

“بتاؤ کیا تم مجھ سے نکاح نہ کرتی چاہت خالد۔”

“آپ مجھ سے بہت بُرے طریقے سے پیش آ رہے ہیں وجدان۔۔۔”وہ منمنائی۔

“جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو!” وجدان واش روم کے دروازے پر ہاتھ مارتے دھاڑا۔

چاہت سہم گئی۔

وجدان دنگ تھا۔۔۔ابھی وقت ہی کتنا ہوا تھا ان کی شادی کو اور وہ۔۔۔وہ لڑکی کہہ رہی تھی کہ یہ نکاح اس کی غلطی تھا۔

“وج۔۔۔۔”

“دادی کی بات مان لینی چاہیے اس کا مطلب؟” وہ چِلایا۔

چاہت نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔

“آنسو صاف کرو چاہت!” وجدان نے خود پر قابو پاتے کہا۔

“آپ کو پتا ہے آپ کیا کر رہے ہیں وجدان؟”

وجدان نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔

“چاہت واپس آؤ!”

“نہیں آپ مجھے خود سے دور کر رہے ہیں۔۔۔۔آپ نے مجھ پر اپنی کزن کو فوقیت دی ہے۔”

وہ کچھ لمحے پہلے ہونے والے واقعے کی بات کر رہی تھی۔

“میں معافی مانگتا ہوں۔۔۔”وجدان نے اس کے ہاتھ تھامتے کہا۔

محبت تھی وہ اس کی۔۔یوں اسے روتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔

“مجھے۔۔۔”

“شششش! مجھے سکون میسر کرو چاہت۔۔۔میرا دماغ بہت الجھا ہوا ہے۔۔۔میری پریشانی کی دوا بنو۔۔۔”وہ اس کے کندھے پر سر رکھتا بولا۔

چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔وہ پل میں تولہ تھا پل میں ماشہ۔

ابھی وہ اس پر غصہ کر رہا تھا اور اب وہ اسی کی زات سے مسیحائی کی امید رکھے ہوئے تھا۔

“وجدان؟”

“دادی مجھ سے بات نہیں کرتی چاہت۔۔۔انہوں نے اب تک مجھے معاف نہیں کیا۔”

چاہت نے بیٹھتے اس کے بالوں میں ہاتھ چلایا جو سر اس کی گود میں رکھ چکا تھا۔

“کیوں ناراض ہیں وہ آپ سے؟”

انہیں لگتا ہے بابا، ماما اور دادا کی جان میری وجہ سے گئی۔

چاہت نے اس کا چہرہ دیکھا جو یک دم زرد پڑ گیا تھا۔۔۔۔اس کے چہرے پر پھیلا درد اس کی ازیت کا گواہ تھا۔

“کیا آپ نے واقعی ایسا کچھ کیا تھا جو اُن کی جان؟” اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ کیسے اس سے پوچھے۔

وجدان نے اس کے ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے جیسے اسے سب بتاتے ہوئے کسی کا سامنہ نہ کرنا چاہتا ہو۔

“میں تب سولہ سال کا تھا اور میں ڈرائیونگ سیکھ رہا تھا۔۔۔دادی صباء کے ہاں گئیں تھیں ہم انہیں لینے جا رہے تھے۔

میں ماما، بابا اور دادا۔۔۔۔سب بہت خوش تھے۔۔۔۔۔میں نے بابا سے ڈرائیو کرنے کی ضد کی۔”

وہ رُکا۔۔۔۔

چاہت نے اس کے بولنے کا انتظار کیا بنا کچھ بولے۔

“بابا نے بہت منع کیا لیکن ماما نے میرا اترا چہرہ دیکھ کر بابا کو منایا اور گاڑی مجھے ایک بلاک سے دوسرے تک لے جانے کی اجازت دلوائی۔

میں خوشی سے سیٹ پر بیٹھ گیا۔

دادی نے مجھے ڈرائیو کرتے دیکھا تھا جہاں میں ایک روز گاڑی ہینڈل نہ کر پایا تھا اور ایک بچہ میری وجہ سے سڑک پر گر گیا تھا”

“انہوں نے مجھے سختی سے روکا تھا گاڑی چلانے سے۔۔۔لیکن میں نے ان کو یہ بات کسی کو بھی نہ بتانے کا وعدہ لیا تھا۔

میں نے گاڑی چلانا شروع کی۔۔۔دادا بہت پُرجوش تھے کہ اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔۔۔

سب اچھا جا رہا تھا کہ میں نے گاڑی بلاک سے نکال کر سڑک پر ڈال لی۔۔

ماما اور بابا نے مجھے رکنے کا کہا تھا لیکن میں ضد کر کے چلانے لگا اور چلاتے چلاتے سامنے سے آتے ٹرک کو دیکھتے میں سُن پڑ گیا اور سٹیرنگ میں نے چھوڑ دیا۔”

“میں ڈر گیا تھا بہت۔۔۔بابا شاید سٹرینگ کو ہینڈل کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن ٹرک کافی قریب آ گیا تھا۔

میری طرف کا اور دادا کی طرف کا دروازہ کُھل گیا تھا کیونکہ گاڑی ایک طرف پر ہو چکی تھی۔

بابا نے مجھے دھکا دے دیا میں سڑک پر گر پڑا لیکن میرے دیکھتے ہی گاڑی سامنے ٹرک سے جا ٹکرائی۔”

“اس کے بعد میں نے انہیں ان کی قبروں میں اترتا دیکھا تھا۔۔۔”

وقفہ بڑھ گیا۔۔۔اس کی آواز نم تھی۔۔۔۔چاہت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

دادی سمجھتی ہیں کہ سب میری وجہ سے ہوا۔۔۔وہ صحیح کہتی ہیں۔۔۔انہوں نے مجھے آج تک معاف نہیں کیا وہ کچھ توقف کے بعد بولا۔

“آپ اس گلٹ سے نکل آئیں وجدان۔۔۔۔”

“وہ صرف ایک حادثہ تھا۔۔۔چاہت نے اس کے چہرے سے اپنے ہاتھ ہٹائے اور اس کی نم آنکھوں کو انگلی کی پوروں سے صاف کیا۔

موت برحق ہے۔۔۔ہم سب کو آنی ہے اور ان کی زندگی اتنی ہی رب العالمین کے مطابق لکھی تھی۔۔۔کوئی دنیا کی طاقت انہیں بچا نہیں سکتی تھی۔

مجھے امید ہے آپ دادی کو منا لیں گے۔۔۔چاہت نے جھک کر اس کے ماتھے کو چوما۔”

وجدان نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔اور دادی کی شرط یاد آتے چاہت کی گردن میں ہاتھ ڈالتے اسے خود پر جھکایا۔

چاہت خالد کو مر کر بھی کھونا نہیں چاہتا تھا۔

“ہم الگ بھی ہو جائیں نا چاہت تو یاد رکھنا وجدان چوہدری نے زندگی میں صرف ایک ہی عورت سے محبت کی ہے اور وہ تم ہو اور مرتے دم تک تم رہو گی۔۔۔”

وہ سرگوشیانہ انداز میں اسے نجانے اور بھی کیا کہہ رہا تھا۔

چاہت نے اس کی سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے گہرے سانس بھرے۔

اس کی قربت جان لیوا تھی۔

چاہت نے اپنا آپ اس پر نچھاور کر دیا تھا۔۔۔اسے ازیت سے نکالنے کے لیے شاید اس سے بہتر کوئی مسیحائی نہیں ہو سکتی تھی۔

وجدان چوہدری اس کی قربت میں سب بھول گیا تھا، سارے درد، ساری ازیتیں۔۔۔سب۔۔۔!

کل کا سورج نجانے کیا دکھاتا لیکن ابھی وہ ایک دوسرے کے ساتھ مطمئن تھے،خوش تھے،پُرسکون تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح اٹھ کر باہر آتے اس کی نظر گاڑی پر پڑی تھی۔۔۔تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر چھا گئی۔

“آحل؟”

الہام اسے دیکھتی تیار ہوتی باہر آئی تھی۔

اسلام علیکم!

وعلیکم السلام!

ناشتہ کریں گے؟

“نہیں آج شوٹ جلدی ہے وہیں کر لوں گا” وہ بنا اسے دیکھے جواب دیتا اندر چلا گیا۔”

الہام کو اس کا یہ انداز بے حد بُرا لگا تھا لیکن وہ کیا کہتی اسے سمجھ نہ آیا۔

یونیورسٹی سے آ کر اس سے بات کرنے کا سوچتی وہ گاڑی میں بیٹھ کر چلی گئی۔

آحل نے کل کا شوٹ بھی آج ہی کر لیا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا الہام اس کا انتظار کر رہی ہو گی اسی لیے گھر نہیں جانا چاہتا تھا۔

اس وقت وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔اس نے دل دکھایا تھا اس کا۔۔۔۔اس کی حالت کا مزاق بنایا تھا، اس کا باپ کیا سوچ رہا ہو گا یہ بات آحل کو تازیانے کی طرح لگ رہی تھی۔

گھر واپس جاتے اسے رات کے گیارہ بج گئے تھے۔۔۔۔اس نے فریش ہوتے اپنے ساتھ لایا کھانا گرم کیا اور کھاتے اپنے کمرے میں چلا گیا۔

فون کی رنگ پر اس نے فون اٹھایا۔

“یہ کیسے ممکن ہے؟” اس کے ہاتھ سے گلاس چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا۔

“تم نے کیا ہے یہ۔۔۔سب یہاں یہ کہہ رہے ہیں!”

“میں کیوں کروں گا؟ اپنے ہی کام کو خراب۔۔۔۔۔”

“تم نے بیچی ہیں یہ تصویریں دوسرے برانڈ کو ۔۔۔کتنی گھٹیا حرکت ہے تمہیں ان سب سے کیا ملا۔۔۔پورا معاوضہ تو ہم تمہیں دے رہے تھے۔۔۔اور کیا چاہیے تھا۔۔۔”

اس کے دوست کے ہاتھ سے باس نے فون چھینتے اس پر چلانا شروع کیا۔

سر یہ سب میں نے نہیں کیا۔۔۔وہ پہلے ہی بے حد تھکا تھا اور اب یہ سب۔

“تم پر کیس کروں گا میں۔۔۔”اس کے بوس نے کہہ کر کال کاٹ دی۔

آہ۔۔۔اس نے چیخ کر فون سامنے دیوار میں دے مارا۔

الہام جو اسے بند کھلی آنکھوں سے دیکھنے آئی تھی وہیں دروازے پر رُک گئی۔

“آحل۔۔۔”

“ابھی جائیں یہاں سے الہام۔۔۔”

“کیا ہوا ہے۔۔۔”

“یہاں سے جائیں۔۔۔۔آپ جانتی ہیں میرا غصہ کتنا بُرا ہے اور میں قطعاً نہیں چاہتا کہ آپ اس کا شکار بنیں۔”

“لیکن پلیز بتائیں تو کیا ہوا ہے۔۔۔۔”

“میں آپ کو ایسے۔۔۔”

“سمجھ آرہی ہے میری بات الہام غازیان۔۔۔؟”

جاؤ ابھی۔۔۔وہ دھاڑا تو وہ پیچھے ہٹی اور منظر سے غائب ہو گئی۔

واپسی پر ہاتھ میں پانی لائی تھی اسے دیکھا جو اضطرابی کیفیت میں یہاں وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔

اس کے آگے پانی کیا تو آحل نے اسے دیکھا پھر پانی پیتا اس کے گلے لگ گیا۔

“یہ سب میں نے نہیں کیا!”

“میں بدنام نہیں ہونا چاہتا۔۔۔میں یہ سب چھوڑ دوں گا لیکن لوگ مجھے چور کے نام سے جانیں میں مر نہیں چاہوں گا۔۔۔۔”بے بسی ہی بے بسی تھی۔

“ٹھیک ہے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔”

“ہم سب سنبھال لیں گے۔۔۔ا”

“آحل میری طرف دیکھیں۔۔۔کچھ نہیں ہوا” اس نے اسے اس کے قدموں پر کھڑا کرنا چاہا جو آدھا بھار اس پر چھوڑے ہوا تھا۔

“تم میرا اعتبار کرتی ہو؟”

“یہ بات پوچھنے والی نہیں ہے آحل!”

سو جائیں! صبح کا سورج آپ کی سچائی کو سامنے لے آئے گا۔۔۔

“کیسے؟”

“رب العالمین کے بعد مجھ پر بھروسہ رکھیں۔۔۔”

کافی تھک گئے ہیں سو جائیں!

تم یہیں رہو! آحل نے لیٹتے اسے کہا تو الہام سر ہاں میں ہلاتی وہیں بیٹھ گئی۔

اس کے سونے کا انتظار کیا پھر باہر نکل گئی۔

“بابا!”

اس نے غازیان اعجاز کو سب بتا دیا تھا۔۔۔جو خود بھی غصے میں تھے۔

اس نے آحل کے بوس کو قیمت ادا کر دی تھی جو اس شوٹ پر آئی تھی جو چوری ہو گیا تھا لیکن اب شاید ہی آحل کو کام مِل پاتا۔

لیکن شاید آحل کو یہ سب پسند نہ آتا۔۔۔ الہام اسے یوں نہیں دیکھ سکتی تھی۔

“میں نے آپ کے لیے کیا سب آحل!”

اس نے جھک کر آحل کے ماتھے کو چوما اور باہر نکل گئی۔

شاید ایک نئے طوفان سے پہلے کا سناٹہ تھا یہ۔