You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 23
Rate this Novel
You're All Mine Episode 23
You’re All Mine by Suneha Rauf
وہ فریش ہونے کے بعد اپنی دادی کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔سات سال اس گھر سے دور، سب سے دور اس نے کیسے گزارے تھے وہ اور اس کا رب جانتا تھا۔
اس کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتے اس کا دل لرزا۔۔۔ جہاں سے وہ سال سال پہلے نم آنکھیں لیے نکالا گیا تھا اور پھر کبھی واپس نہ آیا تھا۔
“آجاؤ!”
دروازہ کھٹکھٹاتے ہی اپنی دادی کی آواز سنتے وہ اندر چلا گیا۔
“بیٹھو!”
وہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔۔۔۔وجدان چوہدری نے شاید جاہ و جلال اپنی دادی سے چُرایا تھا، اور یہ سچ تھا کہ وہ کسی سے نہیں صرف اپنی دادی سے ڈرتا تھا۔
اپنی دادی کا لاڈلا تھا وہ۔۔۔انہیں کی عادتیں چُرائیں تھیں اس نے۔
لیکن اپنی دادی کے سامنے اس کی کہاں چلتی تھی۔۔۔وہ سب سے زیادہ اپنی دادی سے محبت کرتا تھا۔
“دادی!”
اس سے رہا نہ گیا تو اپنی دادی کے قدموں میں بیٹھتا ان کے گھٹنے پر سر رکھ گیا۔
“مجھے معاف کر دیں!”
ہم اس بارے میں بات نہیں کریں گے وجدان۔۔! انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“زندگی اور موت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے۔۔۔۔”
وجدان نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔اسی بات کی سزا تو اس نے سات سال کاٹی تھی اکیلے تنہا رہ کر۔
“آپ کو معاف کر دوں؟” وہ بتا رہی تھی یا پوچھ رہی تھی وہ سمجھ نہ پایا۔
“آپ کو معاف کر دوں گی میں وجدان آپ کی ساری غلطیاں۔۔۔لیکن وہ غلطی نہیں گناہ تھا اور گناہ بس رب کے ہاتھ میں ہے معاف کرنا ہم کون ہوتے ہیں۔۔۔
“میں کیا کروں؟” وہ بس ایک غلطی تھی میں نے سات سال اس کی سزا کاٹی ہے۔
“میری روح کو اس بوجھ سے آزاد کریں پلیز!”
“صباء سے شادی کر لو!”
وجدان نے جھٹکے سے سر اٹھایا آیا جو اس نے سُنا ہے وہ غلط ہے یا سہی؟
“داداییی!”
“بالکل ٹھیک سنا تم نے۔۔۔۔میں معاف کر دوں گی تمہیں ۔۔۔۔صباء کو اپنا لو میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اور تم جانتے ہو صباء مجھے کتنی عزیز ہے۔”
“لیکن میں کیسے؟”
“تم کیوں نہیں؟”
“بچپن گزرا ہے تم لوگوں کا ساتھ، اچھے دوست ہو تم اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے” وہ حتمٰی لہجے میں بولی۔
وجدان کے زہن میں چھم سے چاہت کے ساتھ نکاح کا منظر آیا تھا۔
“وہ یہ نہیں کر سکتا تھا۔”
وہ وہاں سے نکلتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔بستر پر گرتے اس نے خود کو بے بس محسوس کیا۔
اسے یوں آ کر بستر پر گرتے چاہت نے دیکھا تھا وہ بنا نوک کیے اندر آئی۔
“وجدان؟”
جواب نداد۔
“کیا ہوا؟”
وہ جو اسے مخاطب نہ کرنے کا فیصلہ کیے ہوئے تھی اسے یوں دیکھ کر تھم گئی۔۔۔اس نے دیکھا تھا اس کی دادی سے وجدان کے اچھے تعلقات نہیں تھے۔
اس کے پاس بیٹھتے اس کے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے استسفار کیا۔
وہ پہلی بار خود سے اس کے قریب آئی تھی۔۔۔۔ہتھیلیاں بھیگی تھیں لیکن وہ اس وقت اس کی بیوی تھی، ناراضگی جیسی بھی ہو لیکن ان کا رشتہ ان سب سے زیادہ مضبوط تھا۔
“ابھی مجھے بات نہیں کرنی!” وجدان نے کہا بھی تو کیا۔
“آپ مجھے بتا سکتے ہیں وجدان!” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا تو چاہت نے شائستگی سے پوچھا۔
“کہا نا ابھی بات نہیں کرنی تمہیں سمجھ نہیں آ رہی؟” اب کی بار وہ دھاڑا تھا۔
جو دھاڑ دادی کے سامنے نہ چل سکی تھی وہ چاہت پر اتر گئی تھی۔
کیونکہ اس کی زندگی میں چاہت ہی تو وہ صنفِ نازک تھا جسے اس نے اونچے مقام پر فائز کیا تھا اور اب کوئی اور۔۔۔۔؟
چاہت یک دم کھڑی ہوئی اور نم آنکھوں سے اسے دیکھا پھر باہر نکل گئی۔
اس کی عزتِ نفس نے گوارہ نہ کیا کہ وہ وہاں مزید رُکتی۔۔۔اس نے نکلتے سامنے سے صباء کو آتے دیکھا تھا جو وجدان کے کمرے میں گئی تھی۔
“وجی؟ کیا ہوا؟”
اپنے پیچھے صباع کی آواز اس نے بخوبی سنی تھی۔
چاہت کو یقین تھا وہ اسے بھی ویسے ہی ڈیل کرے گا۔۔۔۔لیکن وہ باہر بیٹھی انتظار ہی کرتی رہی کہ کب اس کے چِلانے کی آواز آئے اور صباء باہر آئے۔
لیکن اس کا انتظار انتظار ہی رہا۔
اس کا دل انجانے خدشے کے پیشِ نظر دھڑکا۔۔۔تو وہ لہجہ، وہ غصہ، وہ دھاڑ صرف اسی کے لیے تھی۔
صباء نے اس کے گُھٹنے پر ہاتھ رکھا۔
“دادی ناراض ہیں انہیں وقت دو۔۔۔تمہیں یہاں بلایا ہے تو معاف بھی کر دیں گی یقین رکھو۔”
“صباء وہ مجھ سے کچھ ایسا مانگ رہی ہیں جو میں نہیں دے سکتا۔۔۔”وہ تھکا سا بولا۔۔۔اپنے آپ کو سنبھال چکا تھا یا شاید غصہ چاہت پر اتر چکا تھا۔
“خود کو وقت دو۔۔۔شاید بعد میں تم وہ کام کرنے پر راضی ہو جاؤ!” وہ گہری نگاہ اس پر ڈالتی بولی۔
“ابھی آرام کرو!” اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ مسکراتے بولی تو وجدان نے اسے دیکھا۔
سامنے کھڑی چاہت پر نظر پڑی جس کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ تھی۔
اس مسکراہٹ کا کیا مطلب تھا وہ جان گیا تھا۔۔۔۔سرخ آنکھوں کو بھینچ کر کھولا۔۔۔۔
وہ جا چکی تھی۔۔۔اس نے صباء کے جانے کے بعد تکیہ اٹھا کر دے مارا سامنے دروازے پر۔
اس کے بعد اس نے چاہت کو کہیں نہیں دیکھا تھا۔
“الہام مجھے لگتا ہے میرا فیصلہ غلط تھا!”
وہ اس سے بات کرنے آیا تھا جب اس کے آدھ کُھلے دروازے سے وہ اسے دیکھ سکتا تھا جو کھڑکی کی طرف منہ کیے کھڑی تھی۔
وہ الہام سے فون پر بات کر رہی تھی۔
وہ وہیں رک کر انتظار کرنے لگا۔۔۔وہ شاید زیادہ روڈ ہو گیا تھا اسکے ساتھ۔۔۔جو اسے نہیں ہونا چاہیے تھا۔
“کونسا فیصلہ؟”
مجھے لگتا ہے شادی کا فیصلہ میں نے بہت جلدی میں لیا۔۔۔
“وجدان ان سب کے لیے تیار نہیں ہیں مجھے لگتا۔۔۔۔شاید یہ سب ہم نے غلط کیا۔”
“وہ وہ نہیں ہیں الہام۔۔۔جو پہلے تھے۔۔۔۔بس شاید نکاح مقصد تھا۔۔وہ بات کرتے ہیں تو میرا دل ہزار ٹکروں میں تقسیم ہوتا ہے ان کے لہجے سے۔”
“یہ سب کاش مجھے پہلے پتا ہوتاااا۔۔۔۔”وہ مُڑی تو دروازے پر وجدان کو کھڑے پایا۔
وہ کیا کیا بول گئی ہے شاید خود بھی انجان تھی اس بات سے۔۔
“تو کیا کرتی؟”
“نکاح نہ کرتی تم مجھ سے؟”
وہ اندر آتا دروازہ بند کرتا بولا تو چاہت نے کال کاٹتے اسے دیکھا جو اس کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔
اس کی طرف قدم بڑھائے تو چاہت نے اس کے تیور دیکھتے قدم پیچھے کی طرف لیے اور الماری کے ساتھ جا لگی۔
“جواب دو فوراً۔۔۔۔”
وجدان نے اپنا ہاتھ اس کے پیچھے الماری پر مارتے دھاڑتے پوچھا۔
چاہت کے منہ سے گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے سویرے میں حیات نے آنکھیں کھولتے یہاں وہاں دیکھا تھا وہ آج پھر وہاں نہیں تھا۔
وہ کسلمندی سے لیٹی رہی یعنی وہ پھر سے جا چکا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھیں نجانے کیوں لیکن نم ہوئیں۔
وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ آہستہ آہستہ میر صاحب کی اڈکٹڈ ہوتی جا رہی ہے۔
میر نماز ادا کر کے واک کے لیے جا چکا تھا یہ اس کا روز کا معمول تھا۔۔۔ناشتے کا سامان خریدتا وہ مُڑا کہ چہرے پر پڑنے والے مکّے نے اسے ہلا دیا وہ ان سب کے لیے تیار نہ تھا۔
“ہمارے ساتھ چل!” وہ نقاب پوش دھاڑا۔
“اچھا مزاق تھا!”
وہ کہتا سامان رکھتا اس کی طرف بڑھا۔۔۔۔نقاب پوش کے چہرے پر لمحے کے لیے سایہ سا لہرایا لیکن پھر وہ مقابلہ کرنے لگا۔
“بیک اپ؟” اس کے کان میں لگے بلو ٹوتھ سے آواز گونجی۔
“نہیں چاہیے!”
“اس کو بس میرے ٹھکانے پر پہنچا دینا۔۔۔میں اسے وہاں سکھاؤں گا کہ حملہ پیچھے سے نہیں آگے سے کیا جاتا ہے۔”
“اوکے سر!”
اس شخص کے ساتھ مقابلہ کرتے ڈارک ویزرڈ (میر) نے اس کا دایاں بازو آگے سے گھماتے پیچھے قمر سے لگایا جس سے ہڈیاں چٹکنے کی آواز آئی۔
اب اس ہاتھ سے مقابلہ نہیں کر پاؤ گے خود کو تیار کر لو۔۔۔۔میرے اڈے پر ملاقات ہو گی۔۔۔اسے زمین پر دھکیلتے وہ نکلتا چلا گیا۔
جہاں اس شخص نے بھاگنے کی کوشش کی تو ڈارک ویزرڈ کے آدمیوں نے پکڑ کر اسے گاڑی میں دھکیلتے اس جگہ پہنچا دیا تھا جس کا انہیں حکم ہوا تھا۔
وہ سامان رکھتا اندر اس کے کمرے میں گیا جہاں وہ وہیں لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔
“ناشتہ کرو آ کر!”
اپنے کپڑے لے کر فریش ہونے جاتے اس نے اسے بھی اٹھنے کا کہا تھا۔
حیات نے اسے دیکھتے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔وہ نہیں گیا تھا۔۔۔وہ اسے اپنا عادی بنا رہا تھا اور وہ ہو رہی تھی۔
اس کے جانے کے بعد وہ فریش ہونے چلی گئی۔۔۔۔سفید رنگ کا سوٹ پہنتے گلابی دوپٹہ لیتے وہ بال کھولے ہی باہر نکل گئی تھی۔
“بھوک لگی ہے!” اس کے پاس آتے میز پر بیٹھتے بتایا تھا اس نے میر کو جو پہلے ہی میز پر موجود تھا۔
“شال کہاں ہے تمہاری؟ “
نظر اٹھا کر ایک گہری نگاہ اس پر ڈالتے سختی سے پوچھا۔
“بعد میں لے لوں گی۔۔۔”وہ لاپرواہی سے بولی۔
“اٹھو فوراً بال سکھا کر اور چادر لے کر آؤ فوراً پھر ناشتہ کرنا۔۔۔۔”اس نے سنجیدگی سے اسے حکم دیا تھا۔
“میرررر!” اس نے ہونٹ نکالتے کہا لیکن وہ نہیں مانا تھا۔۔۔ناچار اسے جانا پڑا۔
شال اوڑھتے بال سکھاتے وہ واپس آئی جہاں وہ اس کی پلیٹ میں اب پراٹھا رکھ رہا تھا۔
“میں یہ سب نہیں کھاتی۔۔۔مجھے بریڈ چاہیے۔۔۔”اس نے ہیوی پراٹھے کو دیکھتے کہا۔
“اب سے تم یہی کھاؤ گی۔۔۔تمہاری صحت اب میں خود ٹھیک کر لوں گا۔”
حیات نے اس کا سنجیدہ چہرہ دیکھتے اپنی پلیٹ کھسکائی اور تھوڑا سا کھاتے پلیٹ اپنے آگے سے پڑے ہٹا دی۔
میر نے اسے جوس کا گلاس پکڑایا جو اسے پورا پینا ہی پڑا تھا۔
“اپنے کمرے میں جاؤ اور جب تک میں نہیں کہتا تم باہر نہیں آؤ گی۔”
“کیوں؟” حیات نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“حیات جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔۔!”
وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا اور اسے جانے کا اشارہ کرتے خود اس دروازے کی طرف بڑھا۔
حیات نے اس کی پشت کو دیکھا اور تھکے قدموں سے کمرے میں چلی گئی۔۔۔لیکن تجسس بڑھ گیا تھا کہ وہ وہاں کیوں گیا ہے۔
اس کمرے میں کیا ہے وہ جانتی تھی لیکن کیا آج وہ پھر کسی کو۔۔۔۔
اس سے زیادہ وہ سوچ نہ سکی۔۔۔
اپنے فون کو دیکھتے اس کے کان باہر ہی کی آہٹ پر تھے گھنٹہ ہو گیا تھا وہ واپس نہ آیا تھا۔
یک دم مردانہ چیخ کی آواز سنتے وہ پسنے سے بھرے ہاتھوں کو آپس میں مسلتی اٹھ کھڑی ہوئی اور قدم اس دروازے کی طرف بڑھائے۔
“میم۔۔!”
“آپ کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔”
گارڈ اندر ہی تھا اسے باہر آتے دیکھ اپنی جگہ سے اٹھتا فوراً بولا۔۔۔شاید اسے میر نے وہاں رکنے کو کہا تھا۔
حیات نے اسے نظرانداز کرتے قدم دروازے کے سامنے روکے اور دروازہ کھولا۔
“میم۔۔۔پلیززز۔۔۔۔سر نے منع کیا ہے۔”
“آپ سے درخواست ہے آپ اپنے کمرے میں جائیں۔”
“میممم۔۔۔۔۔رُکیں۔۔۔۔”
وہ سیڑھیاں اترتی وہیں راستے میں کھڑی ہو گئی جہاں سامنے کا منظر واضح تھا۔
دو لوگ ایک شخص پرتشدد کر رہے تھے اور وہ پاس کھڑا انہیں ہدایت دے رہا تھا۔
حیات کو دیکھتے اس نے ہونٹ بھینچے۔
“فضللل۔۔۔”
فضل ۔۔؟
اس نے گارڈ کو دھاڑتے آواز دی۔۔۔۔تو وہ سہم گئی ۔۔۔
“کیا بکواس کی تھی میں نے؟”
سر میں نے روکا تھا۔۔۔
“اسے یہاں سے لے جاؤ!” اس نے اپنے آدمیوں کو اس زمین پر کراہتے ہوئے شخص کو لے جانے کا حکم دیا اور تیز قدموں سے اس کے نزدیک آیا۔
اس کے ہاتھ کو جھٹکے سے تھامتے اپنے ساتھ لیتا اوپر اپنے کمرے میں گیا اور دروازہ ٹھاہ کی آواز سے بند کیا۔
“سمجھ نہیں آتی میری زبان تمہیں؟”
“کیا چاہتی ہو؟”
“میرے کام سے دور رہو حیات یہ تمہارے لیے بہتر رہے گا۔۔۔اور جس کام سے میں منع کروں اس کا مطلب ہے کہ تمہیں وہ غلطی سے بھی نہیں کرنا ہے۔”
“کیوں؟”
“کیا میں تمہاری غلام ہوں؟” وہ یک دم چٹک پڑی۔
“فضول مت بولو!”
“تم کیا کر رہے ہو؟ کیا تمہیں اندازہ ہے؟ تم لوگوں کو مار رہے ہو۔۔۔۔انہیں مارنے پر دم پر لاتے تم تڑپتا چھوڑ دیتے ہو؟ کیا یہ انسانیت یے؟”
“حیات!”
اس نے تنبیہ کی کہ وہ خاموش رہے۔
“اب کے بعد تم اس دروازے کے قریب تک نہیں جاؤ گی۔۔۔سیڑھیاں اتری تو تمہاری ٹانگیں توڑ دوں گا۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب آتا اس کے بازو کو گرفت میں لیتا اس کی آنکھوں میں دیکھتا سخت لہجے میں بولا۔
“دور رہو!”
“یہ لفظ بھی مت بولنا دوبارہ کبھی۔”
“اچھا تو کیا کرو میں میر صاحب آپ بتادیں؟”
“سانس لوں یا مر جاؤں؟”
“کیا کروں بتا دو۔۔۔!
جو کہو گے ویسا کروں گی۔۔۔اٹھوں کب؟ بیٹھوں کب؟۔۔۔کھانا کیا کھاؤں سب بتاؤ۔۔۔بلکہ تم میرا ٹائم ٹیبل بنا دو۔”
وہ چیختی رہیں بیٹھ گئی۔
“اس بارے میں بعد میں بات کریں گے۔۔۔”وہ اسے یوں چیختا دیکھ تحمل سے بولا۔
“نہیں! ابھی کرو!” وہ بضد تھی۔
“تم جانا چاہتی ہو واپس اپنے گھر؟”
“تم مجھے جانے کا کہہ رہے ہو؟” وہ ٹھٹک کر رُکی۔۔ بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح اسے کالج جانا تھا۔۔۔لیکن بائیک پر وہ بالکل نہیں بیٹھنا چاہتی تھی۔
کل کا سفر اس نے بہت مشکل سے طے کیا تھا۔
آحل کے پورشن میں جاتے اس نے دیکھا تھا کہ وہ اب تک نہیں اٹھا۔
وہ کیب کروا کر چلی گئی تھی۔۔۔اسے بائیک پر تو ہرگز نہیں جانا تھا۔
آحل اٹھتے ہی اس بلانے آیا تھا ناشتے کے لیے جب خانساماں سے پتا چلا کہ وہ چلی گئی ہے۔
“کیسے گئی ہے؟”
“گاڑی کروا رہی تھی کوئی۔۔۔”انہوں نے شائستگی سے جواب دیا۔
“یہ لڑکی بھی نا۔۔۔۔”
وہ بھی کام پر نکل گیا۔۔۔واپسی پر اس نے الہام کی یونیورسٹی رُکتے اسے فون کیا تھا۔
“الہام باہر آجائیں میں آ گیا ہوں۔”
“آحل میں چلی جاؤں گی۔”
“الہام کیا ہو گیا ہے۔۔۔میرا کام مکمل ہو گیا تھا اسی لیے آ گیا۔۔۔”
“ٹھیک ہے آ رہی ہوں۔۔۔”الہام نے فون کاٹتے ہونٹ کاٹے۔۔۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام بیوی!”
“صبح مجھ سے ملے بغیر ہی آ گئیں آپ؟” آحل نے اس کا بیگ تھامتے اسے پانی کی بوتل تھمائی۔
“میں کیب کروا کر آ گئی تھی۔۔۔”
آحل۔۔؟
ہم۔۔؟
“اممم۔۔میں کیب کروا لوں؟”
کیوں؟ آحل نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“مجھے بائیک کا سفر نہیں کرنا نا مجھے پسند آیا ہے۔۔۔مجھے اس کی عادت نہیں ہے۔”
“تو ہو جائے گی بیٹھو گی تو! اور الہام میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ابھی وقت ہے گاڑی لینے میں۔۔۔میں پیسے کر رہا ہوں جمع جب ہو جائیں گے ہم فوراً لے لیں گے۔”
“میں سمجھ رہی ہوں آحل میں انتظار کر لوں گی لیکن میں اس پر سفر نہیں کر سکتی” اس نے پھر سے کہا۔
آحل نے اس پر سنجیدہ سی نگاہ ڈالی۔
میں کیب کروا دیتا ہوں۔۔۔۔اس نے فون نکالتے سرد لہجے میں کہا۔
میں چلی جاتی ہوں وہ منمنائی ۔۔۔۔الہام نے اسے منع کرنا چاہا کیونکہ وہ ناراض ہو گیا تھا شاید۔
“نہیں! میں کروا رہا ہوں۔۔۔”اس نے کرواتے فون جیب میں رکھا اور اسے اس کی چیزیں تھماتے بائیک چلائی۔
“میری راہنمائی کرنی ہے آپ نے۔۔۔”اس نے کیب ڈرائیور کو کہا تو الہام بیٹھ گئی اور پھر گھر جاتے بھی وہ اپنی بائیک پارک کر کے اندر جا چکا تھا۔
وہ بھی کافی تھک چکی تھی اسی لیے فریش ہونے چلی گئی۔
“آحل کھانا تیار ہے!”
اس کے پورشن میں آتے کہا جو سونے کے ارادے میں تھا شاید۔
مجھے بھوک نہیں ہے۔
“تھوڑا سا کھا لیں پلیز!” الہام نے اس پر سے کمفرٹر ہٹاتے کہا۔
“الہام میں بتا رہا ہوں کہ مجھے بھوک نہیں ہے آپ کھا لیں!”
“آپ ناراض ہیں آج کے لیے۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا آحل۔۔۔۔۔بس مجھے عادت نہیں ہے مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔میں عادت نہیں ڈال پاؤں گی۔۔۔میں جب تک یہاں سے یونیورسٹی جا رہی ہوں میں بابا سے گاڑی منگوا لیتی ہوں اور۔۔۔۔”
“الہام غازیان مجھے لگتا ہے آپ یہاں آ کر پچھتا رہی ہیں۔۔۔۔”
“ایسا نہیں ہے!”
“لیکن میری کچھ ضروریات ہیں۔”
“تو اس کا مطلب یہ کہ میں وہ سب پوری نہیں کر پا رہا؟ ہاں سچ ہے مجھے ان سب کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔۔۔میں ایک دم ساری آسائیشیں نہیں تمہارے قدموں میں دھڑ سکتا۔”
“میں نے آپ سے کچھ ڈیمانڈ نہیں کیا آحل۔۔۔وہ میرے بابا کی چیز ہے یعنی میری اور میں ان سے لے سکتی ہوں۔”
“ٹھیک ہے لے لو!”
“آحل؟” اس نے کچھ کہنا چاہا۔
“وہ دروازہ ہے تم جا سکتی ہو!”
“آپ مجھے نکال رہے ہیں؟” وہ حیرت سے بولی۔
“ہاں کیونکہ یہ سب مجھے نہیں سُننا میں اپنی بیوی اور اپنی اچھی زندگی کے لیے پاگلوں کی طرح وہاں کام کر رہا ہوں اور تم مجھے یہ سب سنا رہی ہو؟
۔۔۔مجھے دلچسپی نہیں ہے کہ تمہارے والد صاحب کے پاس کیا ہے۔۔۔۔تم جانتی تھی نکاح سے پہلے ہی میرے حالات اور بجائے اس کے کے تم ان سب چیزوں کی عادت ڈالو تم اُن سے لے رہی ہو؟”
“تم میری عزتِ نفس کو مجروح کرنے میں کامیاب ہوئی ہو مبارک ہو”
“آر یو سیریس گرل؟؟”
“آحلللل! کیا ہو گیا ہے۔۔۔۔”
“میں ایسے ہی زندگی گزارتی آئی ہوں اسے سمجھ نہ آیا کہ اپنا موقف کیسے بیان کرے اسے ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی”
ٹھیک ہے! وہ لیٹتا کمفرٹر اوڑھ چکا تھا۔۔۔اسے سچ میں دُکھ پہنچایا تھا آج الہام نے۔۔۔
شاید الہام اپنی جگہ پر درست ہو۔۔۔لیکن اسے حالات کا اندازہ پہلے سے تھا اور آگے یہی زندگی تھی وہ کیوں ان سب کو قبول نہیں کر پا رہی تھی۔
الہام نے اسے دیکھا اور باہر نکل گئی۔۔۔۔
اس کا کھانا نکالتے اس کی فریج میں رکھ کر وہ خود اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
اس نے غازیان اعجاز کو فون کر کے گاڑی بلوا لی تھی۔۔۔شاید وہ سمجھوتہ کرنا نہیں چاہتی تھی۔
اسے احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنے شوہر کی عزتِ نفس کو مجروح کر رہی ہے ایسا کر کے۔
