207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 4

You’re All Mine by Suneha Rauf

ہاں خوشبو۔۔۔مخصوص خوشبو جو اسکے ناک کے نتھنوں نے پہلی بار محسوس کی تھی۔

اس پر اچھا اور پرسکون تاثر ڈالا تھا۔

اس نے پھر سے سانس بھری اور پھر وہ یہ عمل دہراتا رہا۔۔

“یہ خوشبو۔۔۔۔”

مسٹر وجدان اٹھ جائیں باہر سے آواز آرہی ہے وہ لوگ کھول رہے ہیں۔

وجدان یک دم ہوش میں آیا اور اسے دیکھا۔۔۔۔

چاہت کا چہرہ سرخ تھا اور سانسیں اتھل پتھل اپنے کندھے اور گردن پر وہ اس شخص کی سانسیں اب بھی محسوس کر سکتی تھی۔

“آج کوئی مرد پہلی بار اس کے قریب آیا تھا۔۔۔اس کا دل انجان لے میں دھڑکا تھا۔”

باہر سے آواز آ رہی تھی لفٹ کو چیک کیا جا رہا تھا لیکن وہ شخص یا تو ہوش میں نہیں تھا یا آنا نہیں چاہتا تھا۔

“مسٹر وجدان ہوش میں آئیں” اب کہ وہ سختی سے بولی تو وہ ایک آخری بار گہرا سانس بھرتا پیچھے ہوا جیسے ساری خوشبو کو ایک ہی بار اپنے اندر اتارنا چاہا ہو۔

“تم۔۔۔۔”وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔

“مجھے امید ہے اب آپ ٹھیک ہیں!” وہ کافی دور کھڑی ہوتی سنجیدگی سے استسفار کرنے لگی۔

وجدان چوہدری نے اسے غور سے دیکھا ایک عام سے لڑکی۔۔۔۔۔

“ہاں کافی اچھا محسوس کیا ہے آج میں نے ناجانے کتنے سالوں بعد” اس کے دل سے آواز آئی لیکن وہ بولا کچھ نہیں۔

وہ دونوں باہر نکلے تو چاہت اسے دیکھے بغیر چلی گئی وہ بھی اکاؤنٹنٹ کے پاس چلا گیا۔

چاہت نے گھر جاتے اپنا بیگ رکھا اور اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا جو لالی بکھیر رہا تھا۔

“اففففف۔۔۔نہیں یہ سب کیا ہے” اس نے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے صاف کرنا چاہا۔

“نہیں! کوئی بھی شخص مجھے انفلواینس نہیں کر سکتا” اس نے خود کو باور کروایا۔

رات کو سوتے وقت بھی اس کی آنکھوں کے سامنے جھپاک سے وہ منظر آجاتا جب وہ اس کے قریب تھا۔

اپنی گردن پر وہ اس کی دہکتی سانسیں اب بھی محسوس کر سکتی تھی۔

“اور اس کا مسکرانا۔۔۔۔۔!”

اس کا دل الگ انداز میں دھڑکا۔۔۔نہیں یہ سب میں کیسے سوچ سکتی ہوں اس نے خود کو بار ہا ڈبٹا لیکن دل کہاں کسی کا غلام ہے۔

وجدان چوہدری نے کافی کے گھونٹ لیتے سامنے فائل کو دیکھا جہاں چاہت کی پرفیوم کی معلومات تھیں۔

اسے کھولتے پڑھا۔۔۔

“پھول۔۔۔۔۔ہممم۔۔۔۔”

کوئی خوشبو اتنی سحر انگیز کیسے ہو سکتی ہے اس نے سوچتے سگریٹ سلگایا۔

“میں کیسے اس عام سی لڑکی کے قریب جا سکتا ہوں اور اس کی خوشبو سے اتنا متاثر ہو سکتا ہوں۔”

لیکن وہ خوشبو۔۔۔۔اس کے اندر کی آواز۔

اس نے سر جھٹکا اور اپنے کام کی طرف متوجہ ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے کالج کا پہلا ٹرپ مری جا رہا تھا اور وہ جانا چاہتی تھی لیکن وہ یہ بھی جانتی تھی کہ غازیان اور رابیل کی طرف سے اسے اجازت نہیں ملے گی۔

“تمہیں جانا چاہیے وہ بہت اچھی جگہ ہے اسکی ایک ہم جماعت نے کہا۔”

“نہیں یہ کہاں جا پائے گی اس کے گھر کا ماحول بہت تنگ ہے اس کے ڈیڈ کہاں جانے دیں گے” دوسری نے استہزایہ انداز میں کہا۔

“ہاں جو کالج بھی باڈی گارڈ کے ساتھ آتی ہو چھوٹے بچوں کی طرح۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”اب کہ سب اس پر ہنسی تھیں۔

الہام کی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئی۔

“میں ضرور جاؤں گی دیکھنا تم سب۔۔”

وہ چیخ کر کہتی وہاں سے دوڑتی کالج سے باہر آگئی جہاں سامنے ہی آحل کی گاڑی کھڑی تھی۔

“اسلام علیکم!” آحل نے سلام کیا لیکن جواب نداد۔

“کیا ہوا؟”

“یہاں دیکھیں! الہام۔”

“آپ رو کیوں رہی ہیں؟” کسی نے کچھ کہا ہے؟ مجھے بتائیں۔

“کچھ نہیں ہوا اور آپ کو کیوں بتاؤں میں؟ وہ زرا اونچی آواز میں بولی۔”

اوکے! مت بتائیں ریلکس رہیں وہ خاموشی سے گاڑی چلا کر گھر کے راستے پر ڈال گیا لیکن نظر اس پر بھی ڈال لیتا۔

گھر جاتے ہی وہ روتے اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔وہ کئی لمحے وہیں چکر لگاتا رہا۔

آپ پوچھیں اس سے کیا ہوا ہے اس نے خانساماں کو کہا جو اس گھر میں ان کے لیے تھی۔

نہیں آحل پتر مجھے تو وہ کچھ نہیں بتائے گی تُو خود ہی پوچھ لے انہوں نے انکار کیا تو مجبوراً اسے ہی اندر جانا پڑا۔

“الہام!”

“دروازہ کھولیں مجھے بتائیں۔”

مجھے نہیں کھولنا جائیں یہاں سے۔۔۔اندر سے ہی اس کی آواز آئی۔

“بتائیں تو ہوا کیا ہے ہو سکتا ہے میں آپ کی مدد کر سکوں۔۔۔”اسے روتا دیکھ وہ اضطرابی کیفیت کا شکار تھا۔

“وہ کیوں رو رہی تھی ۔۔۔۔؟”

اس بات کو جڑ سے ختم کرنا آحل فیاض کے لیے ضروری تھا وہ اسے ایسا روتا کبھی نہیں دیکھنا چاہتا اس کے دل نے بار بار اسے یہ بات یاد کروائی تھی۔

وہ گہرا سانس بھرتا پھر سے دروازہ کھٹکھٹانے لگا جو اب کہ کھل گیا تو وہ اندر داخل ہوا۔

“اب بتائیں کیا ہوا ہے؟”

“مجھے۔۔۔۔”اس نے ہچکی لی۔۔۔

الہام منہ دھو کر آئیں پہلے اب کی بار اس کی آواز سخت تھی وہ منہ دھو کر آئی اور سامنے صوفے پر بیٹھ گئی تو وہ بھی فاصلہ رکھتا بیٹھ گیا۔

“مجھے جانا ہے۔۔۔۔”

“کہاں جانا ہے؟” وہ حیران ہوا۔

“ٹرپ پر۔۔۔ہمارا ٹرپ جا رہا ہے” وہ بولی تو اس نے گہرا سانس بھرا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں پہنچ کر اسے کافی سردی لگ رہی تھی اس نے یہاں وہاں دیکھا برف گِر رہی تھی وہ جگہ کو نہیں جانتی تھی۔

“ہم کہاں ہیں؟”

“یہ جاننا تمہارے لیے ضروری نہیں ہے” وہی سخت کٹھور لہجہ۔

“کیا ہم یہ برف کھا سکتے ہیں؟”

اس نے یہاں وہاں دیکھتے اپنے آپ سے کہا لیکن وہ سن چکا تھا۔

نا میں سر ہلاتے قدم آگے بڑھائے بس میں چڑھتے ہی حیات کو تقویت کا احساس ہوا کیونکہ بس کافی گرم تھی۔

وہ ساتھ بیٹھے وہ یہاں وہاں دلچسپی سے اردگرد کا ماحول دیکھ رہی تھی۔

منزل پر پہنچ کر اس نے ماسک لگایا اور اسے ساتھ لیتا باہر نکلا اب وہ بریج سے ہوتے دوسری طرف جا رہے تھے۔

“آج کیا تاریخ ہے؟” اس نے کچھ یاد آنے پر رُک کر پوچھا۔

جواب نداد۔

“پلیز بتاؤ آج کیا تاریخ ہے؟” اب کہ وہ جلدی سے بولی۔

نو تاریخ۔۔۔۔اس نے بنا اسے دیکھے کہا اور قدم آگے بڑھائے۔

“سچ میں؟؟ اففف میں کیسے بھول گئی” وہ یک دم پُرجوش نظر آئی۔

وہ سامنے جو کوٹیج ہے وہاں رہنا ہے ہمیں ۔۔۔۔۔۔بریج کے سامنے بنے لکڑی کے خوبصورت گھر کو دیکھتے اس نے کہا۔

“میں کب ان سب سے آزاد ہوں گی” اس نے حسرت سے پوچھا۔

“بہت جلد۔۔۔۔”وہ کہہ کر اندر چلا گیا اور اپنا کام کرنے لگا۔

“اب میں کیسے پتا کروں گی۔۔۔؟” ہاں انٹرنیٹ ڈھونڈنا ہے مجھے اس نے اپنا فون دیکھا جو ڈیڈ تھا۔

اف۔۔۔۔یہ مصیبت بھی اب ہی پڑنی تھی۔۔۔اب کیا کروں کیسے پتا کروں میرا نام آیا ہے یا نہیں۔

وہ اندر چلی گئی اب اسے اس کا فون چاہیے تھا۔۔۔ڈر اپنی جگہ لیکن اسے یہ کرنا ہی تھا اس کا فون لینا تھا کسی بھی حال میں۔

اور پھر اسے موقع مل گیا وہ اپنی ساری چیزیں رکھتا اندر نہانے گیا تھا شاید۔

اس نے ڈرتے اپنے قدم بڑھائے اور اس کا فون اٹھاتی باہر نکل گئی۔۔۔۔۔یاہوووو۔۔۔۔اس نے خوشی سے ہوا میں چھلانگ لگائی۔

بریج پر جاتے اس نے انٹرنیٹ اون کرتے لسٹ نکالی۔۔۔۔ہونٹ کاٹتے وہ اپنا نام تلاش کر رہی تھی۔

حیات۔۔۔۔حیات غازیان۔۔۔۔ہاں یہ میرا نام ہے افففف۔۔۔یاہووو۔۔۔۔وہ چھلانگیں لگاتی بے حد خوش تھی مجھے یہاں سے جانا ہے بہت جلد۔

اور پھر اس نے اس کے فون پر گانا لگایا اور یہاں وہاں جھومنے لگی کافی دیر بعد وہ خوش تھی۔

تم سے ہی دن ہوتا ہے

سرمئی شام آتی ہے

تم سے ہی، تم سے ہی

ہر گھڑی شام آتی ہے

زندگی کہلاتی ہے

تم سے ہی، تم سے ہی

وہ یہاں وہاں ہاتھ گھماتی گول گول گھوم رہی تھی۔۔۔یہ جانے بنا کہ کتنے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز ہے وہ۔

ہوش اسے تب آیا جب گانا بند ہوا اور وہ کسی کے حصار میں آئی۔

جھٹ سے آنکھیں کھولیں جیسے کوئی حسین خواب ٹوٹ گیا ہو اور آنکھیں کھولتے ہی ڈر سارے جسم پر طاری ہو گیا۔

وہ ڈارک ویزرڈ کے حصار میں تھی اس کے قریب جس کی آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح وہ اپنی پرفیوم کے ٹیسٹر کے ساتھ وہاں موجود تھی۔

وجدان چوہدری کو جب پتا چلا وہ آگئی ہے تو خود کو ہرانے کی خاطر اس نے اسے انتظار کرنے کو کہا۔

اور پھر گھنٹہ دو گھنٹے اس نے ساڑھے چار گھنٹے وہاں انتظار کیا تھا۔

شاید بڑے دفاتر میں اتنا ہی انتظار کرواتے ہیں چاہت نے سوچا۔۔۔ابھی وہ اور بھی کچھ سوچتی کہ کسی نے اسے مخاطب کیا۔

آپ وہیں ہیں جو آج اپنی پرفیوم کی ٹیسٹنگ کے لیے آئیں ہیں وہ اٹھائیس تیس سالہ نوجوان تھا جو دیکھنے میں کافی پُرکشش تھا۔

“جی!” وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔

“کیا آپ مجھے دِکھا سکتی ہیں؟”

جی ضرور اس نے بیگ سے نکالا اور اسے پکڑایا۔

اس شخص نے اپنی کلائی پر چھرکتے اسے رگڑا اور پھر ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے گہرا سانس بھرا۔

پھر بے یقنینی سے سامنے موجود صنفِ نازک کو دیکھا۔

“کیا یہ واقعی آپ نے بنائی ہے؟”

جی! وہ کنفیوژ ہوئی یا تو مخالف کو بہت پسند آئی تھی یا بالکل پسند نہیں آئی تھی۔

اس شخص نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

“وہاب۔۔۔وہاب اسد۔۔۔”

چاہت۔۔۔چاہت نے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔۔۔جو آفس سے نکلتے وجدان چوہدری نے بھی دیکھا تھا۔

“کیا آپ کو یہ ٹیسٹر اچھا لگا؟ اس نے ہچکچاتے پوچھا؟”

“شاندار بے حد شاندار۔۔۔۔آپ جانتی ہیں یہ اب تک کی بہترین خوشبو ہے جو میں نے سونگھی ہے۔”

بہت شکریہ وہ گلابی ہوئی۔۔۔یہ منظر اس کی زیرک نگاہوں سے چھپا نہ رہا تھا۔

مِس چاہت اندر آئیں!

اس کی بھاری گھمبیر آواز گونجی تو وہ اس سے اپنا ٹیسٹر لیتی اس کے پیچھے گئی۔

“گڈ لک۔۔۔!”وہاں اسد ہی آواز ان دونوں نے سنی تھی۔

چاہت نے اپنا ٹیسٹر اسے پکڑایا جو اس نے کھول کر دیکھا تک نہیں۔

“باس یہاں کا کون ہے کیا آپ جانتی ہیں؟”

وہ بے حد سنجیدہ نظر آیا۔۔۔چاہت کو لگا تھا وہ کل کے لیے اس کا شکریہ ادا کرے گا لیکن۔۔مخالف تو لگتا کل کا دن ہی بھول گیا تھا۔

“آ۔۔۔آپ ہیں۔۔۔”وہ اپنی انگلیوں سے کھیلتی بولی۔

تو اس حساب سے ٹیسٹر آپ کو مجھے دینا چاہیے تھا۔

“وہ انہوں نے مانگا۔۔۔تو۔۔؟”

“کوئی بھی راہ چلتا شخص آپ سے کچھ بھی مانگے گا تو آپ دے دیں گی؟” اس نے آئی برو اچکاتے پوچھا۔

نہیں۔۔۔وہ اچھے۔۔۔اچھے انسان ہیں ۔۔۔انہیں پسند آیا یہ۔۔۔

“اوووو! “

تو لمحے میں آپ اندازہ لگا لیتی ہیں کہ مخالف شخص اچھا ہے یا نہیں تو میری شخصیت کے بارے میں کیا رائے ہے آپ کی؟

وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی تو وجدان نے اس کی پرفیوم کو چیک کیے بغیر سائیڈ پر رکھ دیا۔

کیا آپ کوئی دوسری پرفیوم بنا سکتی ہیں؟

“جی؟؟” وہ حیران ہوئی۔

کیا آپ کوئی دوسری پرفیوم بنا سکتی ہیں مِس چاہت؟

“کیا یہ اچھی نہیں ہے؟”

اسے ابھی مارکیٹ میں نہیں لانا مجھے۔۔۔آپ نئی بنا سکتی ہیں تو بتائیں؟

بنا سکتی ہوں۔۔۔وہ کنفیوز تھی وہ کیا چاہتا تھا۔

آج سے ہی کام شروع کریں ایک نئی پرفیوم پر۔۔۔وہ ہم مارکیٹ میں لائیں گے ۔۔۔۔آپ آج سے یہیں میرے انڈر کام کریں گی پرفیوم کے ڈیپارٹمنٹ میں میری سیکرٹری رہیں گی۔

“ٹھیک ہے!”

“آپ کر پائیں گی؟”

بالکل!

وہ پُر اعتماد تھی۔۔۔اور ایک طرح سے شاید اچھا ہی تھا یہ اس کی پرسنل خوشبو تھی جس کی رسائی سب تک نہ ہونی تھی۔

سیلری بچھی کہ لیے پچاس ہزار۔۔۔اس کے بعد آپ کے کام پر بڑھا دی جائے گی۔

اوکے! وہ خوش تھی۔۔۔اسںے ترقی کا پہلا قدم اٹھا لیا تھا۔

وہ چلی گئی تو اس نے وہ ٹیسٹر اٹھایا اور خوشبو کو اپنے اندر اتارا زہن پر چھن سے لفٹ میں گزرے مناظر اترے۔

“یہ خوشبو کسی کو نہیں مل سکتی ۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔”وہ دل میں سوچتا مسکرایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ ممکن نہیں ہے۔۔۔۔سر اس کی اجازت نہیں دیں گے اور۔۔۔

نہیں آپ چلیں گے ساتھ ہم بابا اور ماما کو کچھ نہیں بتائیں گے دو دن کی ہی تو بات ہے اگر آپ نے منع کیا تو میں ناراض ہو جاؤں گی۔

“یہ ساری باتیں ایک دم ناممکن ہیں ایسا کچھ نہیں ہو سکتا مجھے اجازت نہیں ہے اور نہ میں ایسا کچھ کروں گا” وہ یک دم کھڑا ہو گیا۔

“کیوں نہیں؟”

“کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔۔آپ ایسا ہی کریں گے” وہ کھڑی ہوتی چلائی۔

“کیا ہوا گیا ہے الہام۔۔؟ “

وہ حیران تھا اس کے ایسے رؤیے پر وہ اتنی بدلحاظ تو پہلے نا تھی۔

آپ میرے باڈی گارڈ ہیں وہی کریں جو میں کہہ رہی ہوں آپ کا نام مجھے تحفظ فراہم کرنا ہے وہیں کریں میری زندگی کے فیصلوں میں مت بھولیں وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی۔

آحل کے تاثرات سخت پڑ گئے وہ قدم اٹھاتا اس سے دور ہوا ۔۔۔۔وہ یہاں اپنی بے عزتی کروانے ہزگز نہ آیا تھا۔

اپنے بابا سے فون کر کے پوچھ لو اگر اجازت دیتے ہیں تو؟ اس بارے میں دوبارہ مجھ سے کوئی بات مت کرنا۔

“آحل بھائی پلیز سمجھیں” وہ بضد ہوئی تو آحل نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر جیب سے فون نکال کر ایک نمبر ڈائل کیا۔

اور غازیان اعجاز کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔۔الہام بس اسے دیکھتی رہ گئی۔

“الہام کو فون دو۔۔۔۔”آخری بات کہی انہوں نے تو آحل نے فون الہام کو پکڑا دیا۔

“میری جان آپ کسی ایسی ٹرپ پر نہیں جائیں گی جب واپس آئیں گی تو میں آپ کی ماما اور آپا ہم سب مل کر جائیں گے” انہوں نے اسے پچکارا۔

“ہرگز نہیں مجھے دوستوں کے ساتھ جانا ہے۔”

“جہاں تک مجھے یاد ہے میری الہام دوست نہیں بناتی” وہ اب تک ریلیکس تھے۔

“تو آپ مجھے اجازت نہیں دیں گے؟”

“نہیں! “

یک لفظی جواب سنتے ہی اسنے کال کاٹ دی اور آحل کو فون تھماتے اسے باہر جانے کا کہتے خود کو اندر بند کر لیا۔

اور پھر شام سے رات ہو گئی نا وہ باہر آئی نہ اس نے کسی کو اندر آنے دیا کھانا پینا سب بھول گئی تھی وہ۔

آحل نے بھی کوشش نہ کی آج جتنی ہتک اس نے محسوس کی تھی اتنی کبھی بھی نہیں ہوئی تھی وہ خوددار تھا۔

آحل پتر وہ باہر نہیں آئی۔۔۔۔خانساماں نے بتایا۔

میں کیا کر سکتا ہوں۔۔؟ اس نے کندھے اچکائے۔

تو کہہ شاید مان جائے۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔میری کوئی حیثیت نہیں۔۔میں ایک عام باڈی گارڈ ہوں اور وہی رہوں گا یہ اس کی اپنی زاتی زندگی ہے جس میں میں ملوث نہیں ہونا چاہتا” اس نے صاف لفظوں میں کہا۔

خانساماں نے اندر جاتے ایک اور بار کوشش کی دروازہ نہ کھلنے پر اس نے رابیل کو فون کر کے سب بتا دیا تھا۔

اور پھر رابیل نے غازیان کو ناجانے کیسے منایا تھا کہ رات دس بجے ہی آحل کو فون آگیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ جائے گا اور ایک لمحہ بھی اسے اکیلا نہیں چھوڑے گا۔

اگلی صبح روشن تھی لیکن صرف الہام غازیان کے لیے وہ بے حد خوش تھی وہ سارے راستے خوش رہی تھی۔

اتنی پرجوش کے اسے اندازہ تک نہ ہوا کہ آج آحل نے اس سے بات تو کیا سلام بھی نہ لیا تھا۔

آحل نے اس پر ایک نگاہِ غلط نہ ڈالی۔۔۔وہ بہت خودار تھا۔۔۔۔جہاں عزت نہیں وہاں کچھ نہیں۔

“سامان پیک کر لیں شام کو نکلنا ہے ہمیں” ان کے کالج میں سب کو بتا دیا گیا تھا جو اس نے آحل کو بتا دیا جس نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔

اور وہ ۔۔۔وہ تو بس خوش تھی کہ وہ جیت گئی تھی اپنی تمام جماعتوں سے پہلے اس نے اپنا نام لکھوایا اور سب کو مسکرا کر دیکھتی نکل آئی۔

وہ لوگ روانہ ہو چکے تھے۔۔۔۔آحل کو اس کے بولے لفظوں نے کافی تکلیف پہنچائی تھی۔

انہوں نے راستے میں ہی کیمپ لگائے تھے کچھ وقت آرام کے لیے۔۔۔۔۔سب سو گئے تھے لیکن وہ سو نا پایا۔

وہ اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے لگا کیا اسے آگے نہیں بڑھنا تھا کیا ساری زندگی ایک باڈی گارڈ کی حیثیت سے گزارنی تھی۔

ابھی وہ مزید سوچتا کہ اسے الہام نظر آئی جو اپنے کیمپ سے باہر آئی تھی شاید اسے کچھ چاہیے تھا۔

وہ اس کے پیچھے گیا اور وہ جو وہاں سے نکلی تھی اسے واش روم جانا تھا لیکن یہاں تو آس پاس ایسا کچھ نہ تھا۔

اپنے پیچھے آہٹ کو سُن کر وہ ڈر گئی تھی اس سے پہلے کہ وہ گرتی آحل نے اسے آگے بھر کر تھام لیا تھا۔

سب تھم گیا تھا، وہ وہی رک گئے تھے۔۔۔آحل نے اسے دیکھا ۔۔۔دل میں انجانے جزبات جو ناجانے کب سے دبے تھے وہ پل میں جاگے تھے الہام نے اسے آج پہلی بار چاند کی روشنی میں اتنا قریب دیکھا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی وہ جھٹکے سے اسے چھوڑ چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“چھوڑ۔۔۔چھوڑو۔۔۔۔”

اس نے آنکھیں گھماتے بریج سے نیچے دیکھا جہاں کئی لوگ اسے دیکھ رہے تھے مووی بنا رہے تھے جب وہ گنگناتے ہوا میں گول گول گھومتی ناچ رہی تھی۔

چونکے اندھیرا تھا اس لیے اس کا چہرہ نظر نہیں آیا ہو گا۔۔۔

وہ اسے گھسیٹتا کوٹیج میں لایا اور دھکا دیا۔

“کیا ہے یہ سب؟ “

می ۔۔۔۔

“کس بات کی اتنی خوشی تھی اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم میری چیزیں اٹھاؤ ۔۔۔۔بتاؤ؟”

وہ۔۔۔می۔۔۔

“پلیز مجھے جانے دو۔۔۔میری اپنی زاتی زندگی ہے میرے خواب۔۔میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی یہاں سے دور چلی جاؤں گی کوئی میرے زریعے تم تک نہیں پہنچ پائے گا۔”

ڈارک ویزرڈ نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور پھر فون میں ریسننٹ ایکٹیویٹی کو دیکھا اور آنکھیں پہلے پھیلی اور پھر ساکت رہ گئی۔

وہ وہی تھی۔۔۔۔۔اسے ایکٹنگ کے لیے بلایا گیا تھا۔۔۔۔اس تصویر میں وہی تھی۔

“اتنا بے خبر رہا میں اس نے خود پر لعنت بھیجی” اور پھر فون پھینکتا قدم قدم چلتا اس کے نزدیک آیا۔

تم یہ سب نہیں کرو گی!

“کیوں؟” وہ ڈرتی پیچھے کی طرف قدم اٹھانے لگی۔

بس میں کہہ رہا ہوں۔۔۔

“تم ہوتے کون ہو۔۔۔؟”

میں تمہاری بات کیوں مانوں پہلے ہی تم نے میری زندگی برباد کر دی ہے۔۔۔۔میں یہاں ہوں کسی کو نہیں پتا وہ رونے لگی۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی آڈیشن دینے کی؟” اس پر اسکے آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔

مجھے جانے دو۔۔۔۔

لیکن اس نے آگے بڑھتے اسے دیوار کے ساتھ لگاتے اس کے اردگرد ہاتھ رکھے۔

“تم یہ سب نہیں کرو گی یہ میرا فیصلہ ہے” وہ اس کے اوپر جھکتا بولا تو وہ سانس روک گئی۔

تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔

میں کیا کیا کر سکتا ہوں ابھی تمہیں اندازہ نہیں ہے پرنسس بھاری سرد آواز۔

“میں تمہاری کوئی بات نہیں مانوں گی “وہ بضد تھی۔۔۔۔کوئی اس کی زندگی کنٹرول نہیں کر سکتا تھا۔

ڈارک ویزرڈ نے اسے چیلنجیہ نگاہوں سے دیکھا اور پھر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اس کی شرٹ کو کندھے سے ہلکے سے وہاں سے سرکایا۔

“دو۔۔۔دور۔۔۔۔”

“ششششش۔۔۔۔!”

تم میری ساری باتیں مانو گی آج بھی، کل بھی اور میرے مرنے تک بھی۔

اس کی شرٹ کو سرکاتے وہ جھکا تو وہ چیختے دور ہونے کی جدوجہد کرنے لگی۔

اس نے مٹھیاں بھینچتے اسے دیکھا اور واپس اسے اس کی جگہ پر کھڑا کیا۔

“غلطی کی ہے سزا تو ملے گی نا پرنسس” اپنے دانتوں کا ہلکا سا دباؤ اس کے کندھے پر بڑھایا اور پھر جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا۔

وہ اس سے دور ہوتی اسے خوفزدہ نگاہوں سے دیکھنے لگی اور پھر بستر میں گھستی خود کو لحاف میں چھپا لیا۔

“میں سب کروں گی۔۔۔!” وہ بڑبڑاتی سو گئی تو وہ کام کرنے لگا اپنا۔

کتنے دن لگیں گے تمہیں میڈیا سے وہ سب ہٹوانے میں؟

بس دو دن اور سر۔۔۔!

“جلدی کرو اور ایک اور کام ہے مجھے تم سے۔۔۔۔”

اس کمپنی کو بند کروانا ہے کیسے یہ تم جانو۔۔۔۔اس کا کوئی بھی پروڈکشن سینیما گھروں میں نہیں دکھایا جانا چاہیے۔

اسے تباہ کرنا ہے؟ دوسری طرف سے آواز گونجی۔

بالکل اور ایسا کرنا کہ یہ پروڈکشن گھر کسی کو یاد تک نہ رہے۔

“جہاں تک مجھے یاد ہے ڈارک ویزرڈ کا ان سب سے کوئی تعلق نہیں تھا تو اب؟”

جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔۔۔وہ کہتا فون کھٹکاک سے بند کرتا اسے دیکھنے لگا۔

اس کے پاس جاتے چہرے سے لحاف ہٹاتے اس کے بال پیچھے کیے۔

“بہت بُرا کیا تم نے خود کے ساتھ پرنسس لیکن اب اور نہیں۔”

اس کے کندھے کی طرف دیکھا اور پھر مسکرایا۔

تمہارا ذائقہ مجھے بے حد پسند ہے پرنسس نشے کی طرح جس کی لت انسان کو کہیں کا نہیں رہنے دیتی پھر سے جھکتے اپنے لبوں کو اس کے کندھے پر رکھا اور کئی لہحے ویسے ہی تھما رہا۔

پھر اسکے چہرے پر دھیرے سے انگلیاں چلانے لگا۔۔۔ایسا وہ اس کے نیند میں جانے کے بعد ہی کر سکتا تھا۔