You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 32
Rate this Novel
You're All Mine Episode 32
You’re All Mine by Suneha Rauf
“کیا کھانا ہے؟”
پتا نہیں! وہ اپنی پوزیشن کا خیال کرتے اس سے دور ہونے لگی تھی۔
“بیٹھی رہو خاموشی سے!”
وجدان نے اس کی قمر پر گرفت سخت کرتے سنجیدگی سے کہا تو وہ تھم گئی۔
“تانیہ نے بتایا تھا تمہیں پیزا بہت پسند ہے تمہارے کمرے میں آنے سے پہلے میں آرڈر کر چکا ہوں۔”
“مجھے باہر جانا ہے!” چاہت پھر سے سنجیدگی سے بولی۔
“تمہاری پرفیوم نہیں لگائی تم نے؟
“وہ ختم ہو گئی تھی میں نے تب سے دوبارہ نہیں بنائی۔۔۔۔”اس نے سنجیدگی سے بتایا۔
وجدان نے اپنے میز کا سب سے نچلا دراز کھولا اور اس کی دی پرفیوم کو نکال کر اس پر چھرکا اور خود پر۔۔۔
“میرا بھی ختم ہو گیا ہے دوبارہ بنا لو!” وہ اسے سنجیدگی سے سب بتا رہا تھا۔
“وہ۔۔۔۔۔”
“نہیں جن کو تم نے دی تھی وہ اسے ویسا نہیں بنا پائے جیسا تمہارا ہے۔۔۔شاید جب تم نے انہیں اجزاء بتائے تھے اس میں کوئی ایک مسنگ تھا” وجدان نے اسے بتایا تو اس نے گہرا سانس بھرا۔
یعنی قمست نے بھی وجدان چوہدری کی خوشبو کی حفاظت کی تھی۔
تم نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی مجھ سے میری واحد محبوب چیز چھیننے میں وہ شکوہ کر گیا تو وہ نگاہیں جھکا گئی۔
“میں جاؤں؟”
“کیا مسئلہ ہے چاہت وجدان تمہارے ساتھ؟” اب کی بار وہ سختی سے بولا تھا۔
“میں تھک جاؤں گی ایسے” وہ منمنائی تو وجدان نے اپنی ٹانگیں میز پر رکھی اور اس کی قمر کو تھاما تو وہ مزید جھجکی۔۔۔
اس قربت کا انتظار اس نے پچھلے چار مہینوں سے کیا تھا، اس کی خوشبو، اسکی باتیں، اس کا انداز، اس کا چہرہ۔۔۔سب ہی تو اس نے یاد کیا تھا۔
“اب بتاؤ مِس کیا مجھے؟” وجدان نے اس کے بال چہرے سے ہٹاتے پوچھا۔
“نہیں!”
“اچھا! مجھے لگا تم دعا مانگتی رہی ہو کہ میں تمہیں ڈھونڈ لوں۔۔۔۔” وہ اسے دیکھتا بولا تو چاہت نے نگاہیں جھکائیں۔
“مجھے بات نہیں کرنی اس بارے میں۔”
“لیکن مجھے اسی موضوع پر آج بات کرنی ہے اور اسے ختم بھی کرنا ہے چاہت وجدان!”
“کیا جاننا چاہتے ہیں کہ میں نے چار مہینے کیسے گزارے؟”
“نہیں کیونکہ چار مہینے اگر تم نے مجھ سے دور رہتے درد میں گزارے ہیں تو میں نے بھی جگہ جگہ کی خاک چھانی ہے تمہیں ڈھونڈنے کے لیے۔”
“نہیں آپ کو تانیہ نے بتایا تھا میرے بارے میں نہیں تو آپ تو مجھ تک نہیں پہنچے تھے اب تک” وہ آہستہ آہستہ کُھل رہی تھی۔
“میرے آدمی مجھے پہلے ہی بتا چکے تھے تانیہ سے۔۔۔”وہ اسے لاجواب کر گیا۔
“مجھے بھوک لگی ہے!”
“ابھی آجاتا ہے میں پوچھتا ہوں اس سے! بریڈ بنا دوں تب تک؟”
نہیں!
وجدان نے زمین سے فون اٹھاتے کان سے لگایا اور اس کے بال گردن سے ہٹائے تو چاہت نے اس کو دیکھا۔
“کب تک پہنچ رہے ہیں آپ؟ کب سے آرڈر دیا ہے؟ میری بیوی نے میری جان کھا ماری ہے۔۔۔”
چاہت نے اسے گھورا۔۔۔۔ وجدان اس کی گردن پر اپنا ناک سہلانے لگا۔
کال کب کی بند ہو چکی تھی لیکن چاہت نے اس کے لب اپنی گردن پر محسوس کرتے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دور کرنا چاہا۔
وجدان نے اس سے پیچھے ہوتے سنجیدگی سے دیکھا جیسے یہ حرکت ناگریز گزری ہو۔
“میں جاؤں؟”
“جاؤ! “
وجدان نے اپنے ہاتھ اس کی قمر سے فوراً ہٹا لیے یہ واضح نشانی تھی کہ وہ جا سکتی ہے۔
چاہت نے اسے دیکھا۔۔۔۔اگر وہ جھک رہا تھا تو وہ کیوں نہیں۔
“کیا آپ مجھ سے معافی نہیں مانگیں گے؟” چاہت نے اس کا فون اس سے لے کر میز پر رکھتے اسے دیکھا۔
“تم چاہتی ہو ایسا؟”
چاہت نے سر ہاں میں ہلایا۔
“میں مانگ لوں گا معافی۔۔۔۔شاید وہ ٹھیک تھی کبھی کبھی معافی مانگ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔۔۔۔”
چاہت نے اپنے ہاتھ اس کی گردن کے گرد باندھے اور اس کے ہاتھ اپنی قمر پر رکھتے گہرا سانس بھرا۔
“ابھی تو تمہیں جانا تھا؟” وہ کڑھ کے بولا۔
“اب نہیں جانا۔۔۔کیا کوئی مسئلہ ہے؟”
وجدان نے اس کی گردن پر لب رکھتے اس کا چہرہ سامنے کیا پھر اس کے ماتھے کو چوما۔
مجھے بھرم رکھنا تھا
دل ناداں کی حالت کا
لیکن سب بتا بیٹھی
جب اس نے پوچھا کیسی ہو؟
میں نے چاہا اور چاہا
کہ یہ راز افشا نہ ہو لیکن
وہ ہر بار پوچھ بیٹھتا تھا
کیا محبت تو نہیں کر بیٹھی؟
میں جواب میں ناں کہنا چاہتی تھی
مگر لفظ ادا نہ ہوئے
میں چونکی جب وہ بولا
خاموشی نیم رضامندی ہے سمجھی
از قلم سُنیہا رؤف۔
چاہت نے گہرے سانس بھرتے اسے نم آنکھوں سے دیکھا۔
وجدان مسکرا دیا۔۔۔۔وہ جانتا تھا اب وہ کیا کہے گی۔
چلو آؤ لگتا ہے آگیا ہے تمہارا پیزا۔۔۔۔اس نے کھڑے ہوتے اسے کہا اور باہر لے آیا۔
چاہت نے اچھے سے کھانا کھایا اور برتن دھوتے اسے دیکھا۔
“میں سونے جا رہی ہوں!”
“کتنا سو گی تم آج بیوی؟ آؤ مووی دیکھیں۔”
“نہیں مجھے نہیں دیکھنی میں تھک گئی ہوں۔۔۔۔”اس نے کہا تو وجدان نے حیرت سے اسے دیکھا اس نے کیا ہی کیا تھا جو وہ تھک گئی تھی۔
“فوراً پہنچو یہاں۔۔۔خبردار سوئی تو۔۔۔دوا بھی لینی ہے ابھی۔”
“آج نہیں کھاؤں گی اچھا محسوس کر رہی ہوں” اس نے ساتھ بیٹھنے اسے بتایا۔
“بالکل نہیں! دوا لینی ہے کل میں خود جاؤں گا ساتھ ہم دوبارہ سے سارا چیک اپ کروائیں گے سب سے پہلی اپنی ڈائٹ ٹھیک کرو۔”
چاہت نے سکون کا سانس بھرا۔۔۔۔اس مشکل وقت میں اسے یہی سب سننا تھا، یہی ساتھ چاہیے تھا، یہی واحد سہارا۔
“تمہیں میں بِنا کھانا کھائے یہاں وہاں گھومتے نہ دیکھوں۔۔۔سمجھ رہی ہو؟”
چاہت نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر سامنے موجود بادام اٹھا کر صرف اسے دکھانے کے لیے کھانا شروع کیے تو وہ سر نفی میں ہلا گیا۔
چلو!
“میں دوسرے کمرے میں سؤوں گی۔۔۔”وہ اٹھتے اسے بتانے لگی۔
“ٹھیک ہے!”
چاہت کو حیرت ہوئی وہ کیسے مان گیا تھا لیکن اس کو نیند میں اس کی خوشبو اپنے پاس محسوس ہوئی تو وہ سکون کا سانس بھرا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میر۔۔۔۔؟” اس نے ہوش میں آتے ہی اسے پکارا تھا۔
میم۔۔۔۔وہ ٹھیک ہیں۔۔۔۔میر کے آدمی کو اس کی نگرانی کے لیے رکھا تھا۔
وہاں موجود تمام لوگ جانتے تھے کہ میر حاد ابراہیم اپنی بیوی پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔
“وہ کہاں ہے مجھے اسے دیکھنا ہے۔۔۔۔۔”
وہ اٹھتے بولی جب چکر آنے پر وہیں بیٹھ گئی۔
“وہ ابھی نہیں مل سکتے میم اجازت نہیں ہے۔۔۔۔” اس گارڈ نے اسے بیچارگی سے کہا۔
“کسی کو اجازت نہیں ہے مجھے سختی پر مجبور مت کریں” وہ سختی سے بولا۔
“میں کسی نہیں ہوں ۔۔۔۔بیوی ہوں۔۔۔۔مجھے انہیں ابھی دیکھنا ہے تم مجھے نہیں روک سکتے۔۔۔۔۔”وہ اب کی بار روتے بولی تھی۔
اس کا سر چکرا رہا تھا۔
نرس انہیں چیک کریں۔۔۔ڈاکٹر نے آتے اس کی طرف اشارہ کرتے کہا۔۔۔تو وہ نرس نے اسے واپس اس کی جگہ پر بٹھایا جو اب رونے لگی تھی۔
وہ واقع گہرا اثر ڈال گیا تھا اس کے زہن پر۔۔۔اسے اس وقت صرف حاد ابراہیم سے ملنا تھا۔۔۔جس کے بازو کا خون اس کے ماتھے پر لگا تھا۔
حاد سے ملنا۔۔۔۔لیکن دوبارہ بیہوش ہو گئی تھی وہ۔
میر حاد ابراہیم کی بازو سے گولی نکال دی گئی تھی اور دوسری گولی اس کی ٹانگ سے نکالی گئی تھی۔
اس نے ہوش میں آتے ہی حیات کا پوچھا تھا۔
“کہاں ہے وہ؟”
“مجھے بتاؤ؟”
اسے بلاؤ۔۔۔۔وہ اپنے کمرے میں موجود لوگوں پر چیخ رہا تھا۔
“سر وہ بیہوش ہیں ان کے ہوش میں آتے ہی ہم انہیں یہاں لے آئیں گے۔۔۔”اس کے آدمیوں نے اسے بتایا۔
“میر حاد اس بار چُوک گئے آپ؟”
انہوں نے شفقت سے پوچھا۔۔۔۔وہ وہی تو تھے جنہوں نے یہاں تک پہنچنے میں مدد کی تھی اس کی۔
“اپنی بیوی پر کوئی سمجھوتا نہیں کر سکتا میں۔۔۔نیازی نے غلطی بھی نہیں گناہ کیا ہے میرے گھر میں گُھس کر۔۔۔۔۔وہ زاتی دشمنی کر گیا میرے ساتھ اب میں اسے بتاؤں گا زاتی دشمنی کِسے کہتے ہیں۔”
“برخودار۔۔۔۔ابھی تم بستر پر ہو یاد رکھو!”
“میں سنبھال لوں گا خود کو۔۔۔صرف کچھ دن۔۔۔۔پھر میں اسے بتاؤں گا کسی کے گھر گُھسنے کا انجام کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔
میں اپنے گھر جانا چاہتا ہوں۔”
“وہاں نہیں جا سکتے یہیں رُکو گے تم۔۔۔۔اپنی بیوی کے گھر کا پتا دے دو اسے وہاں پہنچا دیا جائے گا۔”
“ہرگز نہیں! وہ اور میں میرے گھر جائیں گے مجھے کچھ دن دیں میں اس نیازی کو جیل کی سلاخوں میں پہنچا دوں گا۔”
تمہیں گھر جانے کی اجازت ہرگز نہیں ملے گی میر صاحب۔۔۔۔انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
“مجھے گھر جانا ہے سر ۔۔۔۔اسے میری درخواست سمجھ لیں۔۔۔۔”وہ سنجیدگی سے بولتا انہیں امید سے دیکھنے لگا۔
“ٹھیک ہے! میں سنبھال لوں گا!” وہ مسکرائے۔۔۔۔آخر وہ ان کا قابل شاگرد تھا دل کے قریب۔
انہوں نے اس کے کندھے پر تھپکی دی اور باہر نکل گئے جب اسے حیات آتی نظر ائی۔
حاد۔۔۔۔وہ تیزی سے اس کے پاس آتی اس کے بازو اور ٹانگ پر پٹی دیکھنے لگی۔
میں۔۔۔۔
“ہم گھر جائیں گے حیات۔۔۔۔۔!” وہ سرد لہجے میں بولا۔
ٹھیک ہے!
وہ اسے دیکھتی بولی۔۔۔۔شاید وہ اس وقت بات نہیں کرنا چاہتا تھا حیات نے بھی اسے وقت دیا تھا۔
دل اس کی حالت پر آبدیدہ تھا لیکن وہ اس وقت اسے کسی قسم کی پریشانی نہیں دینا چاہتی تھی کیونکہ خود بھی خوفزدہ تھی اب تک۔
کچھ گھنٹوں میں وہ سب انتظام مکمل کرتے گھر پہنچ گئے تھے۔۔۔۔اس کے آدمیوں نے اسے اس کے کمرے میں پہنچا دیا تھا۔
“میر کیا کھائیں گے؟” حیات نے اسے دیکھتے اس سے پوچھا۔
“اس وقت کچھ بھی نہیں!” وہ آنکھیں موند گیا تو حیات باہر جانے لگی۔
“کہاں جا رہی ہو؟”
“چینچ کرنے!” وہ اٹھنے لگی جب دوبارہ سے چکر آئے۔
“یہاں آجاؤ!” حاد نے ہاتھ بڑھاتے اسے اپنے ساتھ لٹایا۔۔۔۔۔اور آنکھیں موند لی۔
“سب برباد ہو گیا حاد۔۔۔۔۔۔”اس نے نم لہجے میں کہا۔
“تم کس کی اجازت سے گھر سے نکلی مجھ سے پوچھا تھا؟ تم ضدی ہو یہ تمہاری ضد کا نتیجہ ہے حیات حاد ابراہیم کہ دشمن ہمارے گھر تک میں گھس آیا۔۔۔۔”وہ اسے تلخ حقیقت بتا رہا تھا۔
“میں سرپرائز۔۔۔۔”
“کیا کوئی سرپرائز تمہیں تمہاری عزت اور میری جان سے پیارا ہے؟”
حیات نے تڑپ کر سر اٹھاتے اسے دیکھا جس کی آنکھیں بند تھیں۔
“ایسا نہیں کہو!” وہ رونے لگی تھی اب۔
“تم نے مجھے مجبور کیا ہے؟ حالات اس سے بھی بُرے ہو سکتے تھے بلکہ بدترین ہو سکتے تھے اگر میں گھر نہ پہنچتا تو۔”
حیات نے اپنا سر اس کے بازو پر رکھا تو اس نے ہونٹ بھینچے۔
آیم سوری۔۔۔۔وہ فوراً پیچھے ہوئی۔۔۔”مجھ سے سب غلط ہوتا جا رہا ہے۔۔”
حاد نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔
“مجھے اچھا محسوس نہیں ہو رہا!” وہ کچھ لمحوں بعد بولی۔
“کیا ہوا؟ کھانا کھایا تھا وہاں؟”
“نہیں میرا دل نہیں ہے۔۔۔میں سونا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
میر حاد نے بھی مزید کچھ نہ کہا تھا شاید وہ بھی اس وقت آرام کرنا چاہتا تھا۔
صبح اٹھتے اس نے اپنے گھر کی سیکیورٹی مزید سخت کروانی تھی۔۔۔نیازی بے شک اب اس کے گھر پر حملہ نہ کرتا لیکن حیات کے لیے وہ آج کے بعد یوں ہی یہ گھر نہیں چھوڑنے والا تھا۔
