207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 29

You’re All Mine by Suneha Rauf

کھانا کھانے کے بعد وہ اب مووی دیکھ رہی تھی جب کہ وہ ساتھ بیٹھا کام کر رہا تھا اپنے لیپ ٹاپ پر۔

“کیا کہنا چاہ رہی ہو؟”

وہ کب سے کچھ کچھ لمحوں بعد اسے دیکھ رہی تھی وہ جانتا تھا۔

“امممم! ہم بابا اور ماما سے ملنے کب جائیں گے؟”

“ابھی تو نہیں!” وہ سنجیدگی سے بولا۔

“کیوں؟”

“کیونکہ مجھے ابھی کام ہے۔۔۔میں ایسے سب چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔”

“تو میں چلی جاتی ہوں! آپ نا جائیں!”

ابھی نہیں جا سکتی حیات! وہ اسے دیکھے بنا بولا۔

“تم کیوں مجھے قید کر رہے ہو؟ “

“میں ایسی زندگی کیسے گزاروں گی۔۔۔مجھے بابا یاد آ رہے ہیں اور مجھے جانا ہے۔۔۔۔بس جانا ہے” وہ ضّدی لہجے میں بولی۔

“کچھ دن انتظار کر لو۔۔۔میں لے جاؤں گا۔۔۔”وہ اسے ابھی تو کم از کم جانے نہیں دے سکتا تھا یہاں سے۔

“نہیں مجھے آج ہی جانا ہے۔۔۔۔میں پیکنگ کروں گی۔”

“تمہیں ایک بات سمجھ میں آ رہی ہے حیات؟ یا دس بار ایک ہی بات مجھے دہرانی پڑے گی؟” وہ دھاڑا۔

حیات نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔جس کی اونچی آواز در و دیوار میں گونج کر رہ گئی تھی۔

“نہیں آرہی سمجھ؟” میر نے آئبرو اچکائی۔

“میں قید کیوں ہوں یہاں؟”

“سو جاؤ جا کر۔۔۔۔۔کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تم میرے غصے کا شکار بنو” وہ اسے دیکھتا سرد انداز میں بولا۔

وہ پہلے ہی از حد پریشان تھا۔۔۔اس کی بیوی پر اور اس پر نظر رکھی جا رہی تھی خطرہ ہر طرف سے تھا اور اوپر سے حیات کی یہ ڈیمانڈ اور دوسرا اس پر ضد کرنا۔۔

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے قدم قدم اس کے قریب آئی۔

“میں جاؤں گی!”

اس نے بنا روک ٹوک کے زندگی گزاری تھی لیکن اب وہ اس کے مطابق رہ رہی تھی تو اس کا مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ اسے اس چار دیواری میں قید کر لے چھت پر اور یہاں تک دروازہ تک نا کھولنے دیا جائے۔۔اس کا دم گھٹا تھا۔

شاید وہ دونوں اپنی اپنی جگہ درست تھے لیکن حالات دونوں کے لیے ہی موضوع نہ تھے۔

“ٹھیک ہے جاؤ!”

“لیکن اس کے بعد تم یہاں نہیں آ پاؤ گی!” وہ نا چاہتے ہوئے بھی یہ کہہ گیا کہ شاید وہ تھم جائے۔

“میررررر!”

حیات حیران ہی تو رہ گئی تھی۔۔۔وہ کیسے یہ بول سکتا تھا؟

“اس کی کیا اہمیت تھی اس کی زندگی میں؟ یہ کہ وہ اسے یوں چھوڑنے کی بات کر رہا تھا۔”

“تم مجھے چھوڑنا چاہ رہے ہو؟”

“خاموش رہو!”

“جواب دو مجھے۔۔۔۔تم اتنی جلدی مجھ سے بیزار ہو گئے ہو؟ اپنے ماں باپ سے ملنا میرا حق ہے جو کوئی نہیں چھین سکتا اور تم ۔۔۔؟” وہ اس کا کارلر تھامتی چِلائی۔

“حیات!”

“جاؤ سو جاؤ کل اس بارے میں بات کریں گے۔۔۔”اسے اس وقت نہایت ضروری فائل بنا کر بھیجنی تھی۔

لیکن حیات نے اس کے لیپ ٹاپ پر آگے بڑھتے کُھلی فائل کو بند کر دیا اور لیپ ٹاپ کی سکرین زور سے بند کی یہ چند لمحوں کا کھیل تھا۔

“واٹ دا ہیلللل؟”

میر حاد ابراہیم نے فوراً آگے بڑھتے وہ کام ڈھونڈا جس پر وہ نجانے کب سے کام کر رہا تھا اور وہ اس نے ایسے ہی بنا محفوظ کیے بند کر دی تھی۔

“تم ایک بیوقوف لڑکی ہو! حالات موضوع نہیں ہیں میری اپنی ایک نجی زندگی ہے اور ۔۔۔۔۔”

“اچھا تو کیا میں اس نجی زندگی کا حصہ نہیں؟”

“میں کب سے ایک بات سمجھا رہا ہوں تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آرہی۔۔۔؟” اس کی آواز از حد اونچی تھی۔

“تم نہیں جا سکتی اور اگر جاؤ گی تو اپنی مرضی سے جاؤ گی یہ یاد رکھنا کہ میرے گھر کے دروازے تم پر بند رہیں گے حیات غازیان۔۔۔۔تم مجھے پاگل سمجھ رہی ہو؟”

“تم ایسے کیسے مجھے یہ کہہ سکتے ہو؟” وہ نم آنکھوں سے اس کے قریب آتے چلائی تھی۔

“آواز آہستہ رکھو!”

“تم۔۔۔ سب کر لو لیکن میں آواز تک اونچی نہ کروں؟

سچ میں؟”

” تمہارے لیے میں معنی نہیں رکھتی میر تمہارے لیے تم، تمہاری باتیں معانی رکھتی ہیں، تم مجھ پر اپنی چلانا چاہتے ہو تم چاہتے ہو میں اس چار دیواری میں تمہارے حکم کی پابند رہوں تمہارے مطابق چلوں پھرو، گیٹ تک نہ جاؤں، چھت پر تو بالکل نہیں تم مجھے بتاؤ کہ سانس کتنا لوں تمہارے اس گھر میں؟” وہ رونے لگی تھی۔

اسے بُرا صرف اسکی وہ بات لگی تھی، جو اسے چھو گئی تھی کہ وہ اس گھر میں دوبارہ نہ آئے۔

حیات!

میر حاد ابراہیم نے آنکھیں بند کر کے کھولیں شاید وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔

وہ اس کی حفاظت کے لیے کر رہا تھا لیکن وہ ان چیزون کو نہیں جانتی تھی اس کے لیے یہ قید ہی تھا۔

“تمہیں جانا ہے؟” وہ یک دم فیصلہ کر گیا۔

حیات نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“ہاں!”

اسے اب فرق نہیں پڑتا تھا کہ آگے کیا ہو گا یہ اس کا لمحے میں دیا جانے والا درعمل تھا شاید وہ اس پر پچھتاتی بعد میں۔

اور مستقبل کس نے دیکھا ہے بھلا؟

“ٹھیک ہے سامان باندھو!”

وہ کہتا اندر چلا گیا تو اس نے فوراً ضروری سامان رکھا اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔

اس سے دور رہنا مشکل تھا کیونکہ وہ عادت تھا لیکن وہ یہاں کھل کر سانس نہیں لے پا رہی تھی۔

گاڑی میں میر حاد نے اسے مخاطب نہ کیا تھا نہ اس نے کوشش کی تھی۔

“اندر نہیں آؤ گے؟” وہ گاڑی سے اترتے ہوئے بولی۔

“نہیں!” وہ بنا اسے کچھ بولے کچھ کہے گاڑی ریورس میں کرتا چلا گیا۔

حیات کتنے ہی لمحے اس کی گاڑی سے اڑتی دھول کو دیکھتی رہی پھر تلخ سا مسکرا دی۔

“آئی ہیٹ یو میر حاد۔۔۔”وہ پاؤں پٹکتی چلائی۔۔۔

پھر اندر جاتے سب سے ملی اور اسے فون کیا جو اس نے نہیں اٹھایا تھا۔

شام تک اس نے حیات کی کال نہیں اٹھائی تھی۔۔۔اور حیات کو اب فکر تھی کہ وہ گھر پہنچ گیا تھا اور کھانا کھا لیا تھا یا نہیں؟

وہاں سے آگئی تھی لیکن زہن کی تمام سوچیں اسی کی زات میں الجھیں تھیں۔

تیرے فراق نے دنیا سمجھائی ہے ورنہ

ہم تو ان پڑھ تھے یہ سب کہاں جانتے تھے؟

دنیا لفظ محبت کی اب بھی تذلیل کرتی ہے

ان تین بے معنی لفظوں کا اصل مفہوم ہم کہاں جانتے تھے؟

تیرے دل کو تسخیر کر لینے کی چاہت تو کب کی مر گئی

وابستگی روح سے ہوتی ہے ہم کہاں جانتے تھے؟

ہاں جانتی ہوں ناپائیدار تھی رشتوں کے معاملے میں

لیکن اتنا اچھا دنیا کو سمجھ جاؤں گی کہاں جانتی تھی؟

تیری ہر ہرحرکت کو ملاحظہ کیا ہے میں نے

ہر ایک حفظ بھی ہو جائے گی کہاں جانتی تھی؟

تجھے نایاب تیری خوشبو اور مسکراہٹ بناتی ہے

لیکن تو بس یادوں میں رہ جائے گا کہاں جانتی تھی؟

از قلم سُنیہا رؤف۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تیزی سے بھاگتا اندر آیا تھا۔۔۔ہسپتال میں موجود لوگوں نے اسے مڑ کر دیکھا تھا۔

“چاہت وجدان؟”

“کمرہ نمبر ایک سو ستائیس۔۔۔۔”ریسپشن پر موجود لڑکی نے بتایا۔

وجدان چوہدری کو لگ رہا تھا کہ کمرے تک جانے کا سفر طویل سے طویل ہوتا جا رہا ہے۔

“کہاں ہے چاہت؟”

اس نے اس لڑکی سے پوچھا جو کمرے کے باہر کھڑی تھی یقیناً وہ وہی تھی جس نے کال کی تھی۔

اس نے وجدان کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔۔۔۔پھر گہری سانس بھری تب تک ڈاکٹر باہر آ چکی تھی۔

وہ ایک وجیہہ شخصیت کا حامل شخص تھا جس کی آنکھیں لمبے عرصے کی تھکاوٹ صاف ظاہر کر رہیں تھیں۔

“چاہت کیسی ہے”؟ اس نے ڈاکٹر کے کمرے سے نکلتے ہی پوچھا۔

“آپ کی کیا لگتی ہیں وہ؟”

“بیوی ہیں میری!”

“میرے کیبن میں آئیں آپ!”

ڈاکٹر سنجیدگی سے کہتی اندر چلی گئی تو وہ بھی ان کے پیچھے آیا۔

“آپ کی بیوی کی حالت بالکل ٹھیک نہیں ہے۔”

وجدان چوہدری کا دل ایک بار دھڑک کر پھر سے رُکا تو کیا اسے کوئی بیماری تھی۔

“کیا ہوا ہے اسے؟”

“کیا ہوا ہے؟ آپ واقعی اس لڑکی کے شوہر ہیں حیرت ہے آپ کی بیوی پریگننٹ ہیں اور کافی کمزور بھی۔۔۔۔انہیں کبھی کبھار سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جو ان کے لیے بے حد نقصان دے ہے، ان کی ڈائٹ نا ہونے کے برابر ہے اگر ایسا ہی رہا تو انہیں کافی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔”

وجدان چوہدری ساکت ہی بیٹھا رہ گیا بے حس و حرکت، خاموش بالکل خاموش۔

جیسے دنیا میں لفظوں کا ذخیرہ یک دم کسی نے چُرا لیا ہو اور وہ خالی ہاتھ رہ گیا ہو۔

“میں دیکھ لیتا ہوں۔۔۔”بس وہ یہی کہہ پایا اور اُٹھ کر نکل گیا۔

اب اسے ہی تو دیکھنا تھا۔

وہ قدم قدم چلتا اسکے کمرے کے دروازے کے پاس پہنچا جہاں سے آوازیں آرہی تھی کیونکہ وہ لڑکی جو کچھ لمحے پہلے باہر کھڑی تھی اب اندر موجود تھی شاید۔

“وجدان آیا ہے۔”

“کون وجدان؟” وہ نقاہت سے بولی۔

وجدان چوہدری نے سرد آہ بھری۔۔۔۔کیا وہ اسے بھول گئی تھی۔

“وجدان چوہدری۔۔۔۔”تانیہ نے سنجیدگی سے کہا۔

“تم نے بتایا اسے؟”

ہاں؟

“لیکن کیوں؟”

“کیا تم ایسا نہیں چاہتی تھی؟” تانیہ نے اس کے پاس بیٹھتے استسفار کیا۔

جواب نداد!

“کیا تم جانتی ہو اس طرح تم خود کے ساتھ اپنے بچے کو سزا دے رہی ہو اور یہ تمہارے لیے کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے؟”

“شاید اب مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔مجھے اپنا درد محسوس نہیں ہوتا اب تانی۔۔۔”

“تم ہوش میں ہو چاہت۔۔۔۔۔؟”

وجدان کے اندر قدم رکھتے ہی تانیہ کھڑی ہوئی اور باہر نکل گئی تو وہ خاموشی سے اس کے پاس آیا۔

اس پر غصہ بھی تھا اتنے مہینوں کی خواری اور وہ اسے کہاں ملی تھی اس ہسپتال میں۔

“کیا وہ اس قابل نہ تھا کہ وہ اسے بتاتی کہ وہ باپ بننے والا ہے۔۔۔ناراضگی اپنی جگہ لیکن وہ اس کی بھی اولاد تھی۔”

“ہم گھر جا رہے ہیں۔”

“کون سے گھر؟ اس گھر جہاں سے مجھے نکالا گیا تھا؟”

“مجھے اس وقت بحث نہیں کرنی چاہت وجدان! گاڑی منگوا رہا ہوں میں اپنا سامان بتاؤ مجھے اور اڈریس بھی ہم گھر جائیں گے۔”

ہاہا۔۔۔وہ نقاہت سے قہقہہ لگا گئی لیکن آنکھیں نم تھیں۔

“تانیہ کو بلائیں!”

“تم میرے ساتھ جا رہی ہو!”

“کس حق سے؟”

چاہت بمشکل اٹھ کر بیٹھی۔۔۔۔آنکھیں اس چہرے کی دید کے لیے کتنے ماہ ترسی تھی جو اس وقت سامنے تھا۔

“کیا یہ رشتہ کافی نہیں کہ میرے نکاح میں ہو تم اور میری اولاد ہے یہ۔۔۔”

سچ میں؟

“کیا یہ سب آپ کو یاد ہے؟ مجھے لگا آپ اپنی زاتیات میں یہ سب بھول گئے ہوں گے۔۔۔”وہ بنا اسے دیکھے بول رہی تھی۔

چاہت چلیں؟ تانیہ نے اندر آتے پوچھا۔

ان کا سامان پیک کر دیں گھر جا کر یہ میرے ساتھ جائیں گی اس نے چاہت کو دیکھتے کہا۔

“تانیہ کیب کرواؤ ہم جا رہے ہیں۔”

“تم چاہت وجدان مجھ سے لڑو گی تو یاد رکھو تھک جاؤ گی۔۔۔کیونکہ اب میں بہتر طریقے سے جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے۔”

“اٹھو!” وہ اسے سہارا دیتا بولا۔

“چھوڑیں! ہاتھ نہیں لگائیں۔۔۔نہیں تو ہسپتال کی انتظامیہ کو مجھے بلوانا پڑے گا۔”

“ٹھیک ہے یہ بھی کر کے دیکھ لو۔۔۔۔”وہ وہیں کھڑا اسے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو جلدی کرو وقت برباد ہو رہا ہے۔

“تانیہ کیب کرواؤ!”

تانیہ نے سر ہلایا اور باہر نکل گئی۔

“ہو گیا؟”

چاہت نے جواب نہ دیا تو وجدان نے آگے بڑھتے اسے گود میں جھٹکے سے اٹھایا اور باہر نکل گیا۔

ہسپتال کے عملے اور اتنے لوگوں کے سامنے وہ کچھ کہہ بھی نا پائی لیکن وہ اس وقت سخت طیش میں تھی اور وہ غصہ اور ناراضگی اور بے بسی سب آنسوؤں کی صورت وجدان چوہدری کی شرٹ بھگو رہی تھی۔

چار ماہ سے رُکے آنسو جیسے ایک ساتھ بہہ نکلے تھے۔۔

اس نے رونے کے لیے بھی اس کا کاندھا ڈھونڈا تھا۔

وجدان نے اسے اختیاط سے گاڑی میں بٹھایا۔

سر آپ کسی کے ساتھ زبردستی! گارڈ نے اسے کہنا چاہا۔

بیوی ہے میری راستہ دو! اس کا انداز دو ٹوک تھا کہ گارڈ ہٹ گیا۔

وہ گاڑی میں بیٹھا اور اسے دیکھا جو اب بھی رو رہی تھی۔

“سیٹ بیلٹ لگاؤ!”

لیکن وہ یوں ہی بیٹھی رہی تو وجدان نے اس کی طرف جھکتے اس کی سیٹ بیلٹ لگائی۔

اس کی مخصوص خوشبو نہیں آ رہی تھی اس سے۔۔۔۔وہ یک دم بے چین ہوا۔

“چاہت!”

اس پکار میں کیا کچھ نہ تھا۔۔۔چار مہینوں کی بے بسی، بے چینی، دکھ، ازیت، تنہائی کا کرب، آنسو،تکلیف۔۔۔

“مجھے ابھی بات نہیں کرنی۔۔!”

چاہت نے آنکھیں موند لی تو وہ خاموش ہو گیا اور گاڑی اپنے فلیٹ کی طرف موڑی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم!

وعلیکم السلام!

“کیسے ہیں؟”

“میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ؟”

“میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔میں رات کو کال کر رہی تھی اور آپ نے جواب نہیں دیا تھا۔”

“ہاں سو گیا تھا۔”

“اور بتائیں؟”

“الہام میں واپس آ کر کال کروں گا ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے۔”

“کہاں جا رہے ہیں؟”

“شوٹ پر۔۔۔۔ایک دوسرے ڈائریکٹر کے ساتھ کام کر رہا ہوں فزا نے بتایا تھا اسی نے ہمیں ملوایا تھا لیکن یہ میرے شاید کچھ آخری کام ہیں۔”

کیوں؟

“میں اپنا بزنس شروع کروں گا یہاں۔۔۔۔پھر اسے تفصیلات بعد میں بتانے کا کہا۔”

اچھی بات ہے!

“اچھا آحل میری بات۔۔۔۔؟”

رات میں بات کریں گے! آحل نے تیزی سے کہتے کال کاٹ دی الہام کئی لمحے اپنے فون کو دیکھتی رہی

یعنی اب موصوف کے پاس اس سے بات تک کرنے کا وقت نہیں تھا۔

“چلو آج باہر سے ناشتہ کرنے چلیں!” حازق نے اسے اپنی چھت سے باہر لان میں گھومتے دیکھ کہا۔

“نہیں مجھے نہیں جانا۔”

“لیکن کیوں؟”

کیونکہ میرا دل نہیں ہے وہ اپنے فون کو دیکھتی پھر سے بولی۔

چلو تو مزہ آئے گا ۔۔۔حازق نے پھر سے کہا۔۔۔

“اچھا چلو رکو میں آتا ہوں!”

الہام نے اسے دیکھا۔۔۔وہ اتنے دل سے کہہ رہا تھا تو وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔

وہ دونوں باتیں کرتے مسکراتے ناشتہ کر رہے تھے جب دور سے کیمرے کی آنکھ نے یہ منظر قید کیا تھا شاید کوئی اس کی مخبری کر رہا تھا۔

وہ واپس آگئی۔۔۔اسے کافی اچھا لگا تھا حازق کے ساتھ۔۔۔وہ ایک اچھا انسان تھا۔۔۔باتونی اور بات بات پر کسی کو بھی ہنسانے کی صلاحیت رکھنے والا۔

“تو اب تو ہم دوست ہیں نا؟”

“بالکل!” الہام نے مسکراتے کہا۔

دن ایسے ہی گزر رہے تھے۔۔۔۔سردی بڑھ رہی تھی ایسے میں الہام اور آحل فیاض کے بیچ فاصلے ناچاہتے ہوئے بھی بڑھنے لگے تھے۔

“الہام چلو یار ہمیں جانا ہے۔۔۔۔انکل اور آنٹی کے لیے تحفے خریدنے ہیں کیک بھی لینا ہے۔۔۔”

وہ اسے کب سے بلا رہا تھا کیونکہ آج غازیان اعجاز اور رابیل کی شادی کی سالگرہ تھی۔

اسلام علیکم!

وعلیکم السلام!

“کہاں مصروف ہو؟” پہلے روز کال کرتی تھی اب ایک دن کا وقفہ دے رہی ہو؟

“تو اس دن کے وقفے میں آپ کون سا کال کر لیتے ہیں آحل؟” اس نے جوابی کاروائی بھرپور انداز میں کی تھی۔

“میں مصروف ہوتا ہوں الہام۔۔۔”

“تو میں نے بھی خود کو مصروف کر لیا ہے” وہ گہری سانس بھرتی بولی۔

یہ سچ تھا کہ اس نے خود کو مصروف کر لیا تھا کیونکہ آحل کے پاس اس کے لیے اب وقت کہاں بچتا تھا۔

“اور کیا ہیں تمہاری مصروفیات؟”

“الہا۔۔۔۔یار آجاؤ۔۔۔دیر ہو رہی ہے آ کر بات کر لینا۔۔۔مہربانی کرو اپنے اس معصوم دوست پر رحم کھاؤ۔۔”وہ اس کے کمرے کے دروازے پر آتا بولا تھا۔

آ رہی ہوں۔۔۔الہام نے کہا تو وہ چلا گیا لیکن یہ سب آحل اچھے سے سن چکا تھا۔

“تو یہ ہے مصروفیت؟”

جواب نداد!

“کون ہے یہ؟”

“بتایا تو ہے اس دن۔۔۔دوست ہے اچھا۔۔۔ساتھ والے گھر رہتا ہے پہلے بھی میں نے بتایا تھا آپ باتیں بھول جاتے ہیں مجھ سے منسلک۔”

“دوست جیسا کچھ نہیں ہوتا الہام!”

“اچھا تو یہ بات مجھے آپ کو بھی کہنی چاہیے۔۔۔”

“میری کوئی فی میل دوست نہیں ہے الہام۔۔۔۔اور میں تمہیں بھی اجازت نہیں دوں گا وہ جیلسڈ تھا اب۔”

“فزا دوست نہیں ہے؟”

نہیں وہ میری بہنوں جیسی ہے۔۔۔مشکل وقت میں کافی ساتھ دیا ہے اس نے میرا۔۔۔۔

“وہ آپ کو دوست نہیں مانتی آحل۔۔۔”اس نے ہر بار کی کی بات کو دہرایا۔

“سٹاپ الہام۔”

“آپ مجھ سے یوں بات نہیں کر سکتے۔۔۔۔”

“اور تم مجھے یوں نظرانداز نہیں کر سکتی۔۔۔تم جانتی ہو میں یہاں اپنے بزنس کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہوں دن رات۔۔۔یہ مصروفیات ہیں میری اور تمہاری۔۔۔۔۔”

“مجھے یہاں بھیجنے کا فیصلہ آپ کا تھا آحل۔۔۔”

“اس کا یہ ہرگز ہرگز مطلب نہیں ہے کہ تم میری جگہ کسی اور کو دو۔۔۔۔”

“آحل ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”

الہام۔۔۔۔حازق پھر سے آیا۔

“میں بعد میں بات۔۔۔۔”

“خبردار کال کاٹی تو! اس کو بھیجو! میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی۔۔۔”

آحل ۔۔؟

“الہام اسے بھیجو! مجھے بات کرنی ہے اور ابھی کرنی ہے۔”

“حازق ہم شام میں چلیں گے پلیز۔۔۔”

اب اکیلی جانا تم۔۔۔حازق نے اس دیکھتے سنجیدگی سے کہا اور چلا گیا۔

“وہ جا چکا ہے؟”

“تو تمہیں اس کی ناراضگی سے فرق کیوں پر رہا ہے؟”

“آحل پلیز۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے؟”

“آرڈر کر لو آنلائن جو چاہئے۔۔۔۔لیکن تم نہیں جاؤ گی۔۔۔۔”

“رکو ایک منٹ۔۔۔۔”

اسے ایک انجان نمبر سے کچھ تصویریں آئیں تھی اس نے ہولڈ پر ڈالتے انہیں کھولا۔

وہ الہام اور حازق کی تھیں جس میں الہام قہقہہ لگا رہی تھی اور سامنے بیٹھا حازق اس کی تصویر بنا رہا تھا۔۔۔۔۔

“تم آج صبح کہاں گئی تھی؟”

“کیوں کیا ہوا؟”

“جو پوچھا ہے وہ بتاؤ!”

ناشتہ کرنے! اب ہفتے میں ایک بار وہ ناشتہ کرنے جانے لگے تھے۔۔۔اور آج بھی گئے تھے اور ان کو ساتھ دیکھ کسی کے کیمرہ نے یہ تصاویر لے کر آحل تک پہنچائیں تھیں۔

الہام کو سمجھ نہ آیا کہ یک دم وہ کیوں سنجیدہ ہو گیا ہے۔

“کس کے ساتھ؟”

“حازق کے ساتھ آحل!”

“ہم اسی ماہ رخصتی کر رہے ہیں۔۔۔اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے الہام۔”

“آحل لیکن اتنی جلدی۔۔۔۔”

“تم مجھ سے اس بات پر اختلاف نہیں کرو گی الہام۔۔۔۔یہ بات جان لو۔۔۔باںا اور اماں کو بھیج رہا ہوں میں کل۔۔۔”

الہام کچھ بولتی کہ وہ کال کاٹ گیا۔

تو کیا وہ اس پر شک کر رہا تھا؟ حازق ایک اچھا دوست تھا بس۔۔۔لیکن وہ سمجھ نہ پائی تھی کہ آحل فیاض شک نہیں پر جیلسڈ بے حد تھا۔