You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 35 (Last Episode Part 1)
Rate this Novel
You're All Mine Episode 35 (Last Episode Part 1)
You’re All Mine by Suneha Rauf
“اب ٹھیک ہو؟” میر حاد نے حیات کے آنکھیں کھولنے پر استسفار کیا۔
میرا سر درد ہو رہا ہے۔۔۔۔اس نے نم آنکھوں سے میر حاد کو بتایا اور اس کی گود میں سر رکھ دیا۔
حاد نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے اس کا سر دبایا۔۔۔
“کیا مجھے کوئی بیماری ہے؟” وہ اتنے دنوں سے خود میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو یاد کرتے بولی۔
“نہیں! سب ٹھیک ہے۔۔۔۔”حاد نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
“کیا کھاؤ گی؟”
جب وہ کچھ دیر تک نہ بولی تو حاد نے کہا۔۔۔اس کے اپنے زخم اب مندمل ہونے لگے تھے۔
“کچھ نہیں!”
اس نے حاد کے ہاتھ کو تھامتے اپنے چہرے کے نیچے رکھتے کروٹ بدلتے کہا۔
“حیات بھوک نہیں لگی تمہیں۔۔۔۔کب کا کھانا کھایا ہے۔۔۔میں سوپ آرڈر کر رہا ہوں پیو وہ پھر سونا۔”
تم یہیں بیٹھو گے حاد۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے اسے بتا رہی تھی یا شاید حکم دے رہی تھی۔
“مجھے کام کرنا ہے حیات۔۔۔۔۔تم سو جاؤ جب اٹھو گی تو میں یہیں موجود ہو گا۔۔۔”
وہ اسے پچکارتا بولا جو اس کا ہاتھ چھوڑ گئی تھی یہ اس نے ناراضگی میں کیا تھا لیکن وہ اُٹھ گیا۔
حیات نے آنسوؤں سے تکیہ بھگا دیا۔۔۔وہ بدل رہا تھا اب۔۔۔۔اس کے لیے پہلے والا اس کا میر نہیں رہا تھا وہ۔
اٹھو! یہ پیو! حاد نے باؤل سائیڈ پر رکھتے کہا۔
“مجھے نہیں پینا!” وہ وہیں سے بولی تھی۔
“حیات میرے پاس وقت نہیں ہے یہ پیو اور سو جاؤ!” اس نے سنجیدگی سے کہا کیونکہ نیازی کو کبھی بھی یہاں لایا جا سکتا تھا۔
“کہا نا نہیں پینا تم مجھ پر زبردستی نہیں کر سکتے۔۔۔۔مجھے ماما سے بات کرنی ہے۔”
“تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہو حیات۔۔۔۔”میر حاد ابراہیم نے سخت لہجے میں کہا۔
حیات اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔اس سے زیادہ وہ اس کے غصے کی متمحل نہیں ہو سکتی تھی۔
حاد نے اس کا باؤل اسے پکڑایا اور اپنا تھامتے سوپ پینا شروع کیا تو وہ بھی پینے لگی۔
آدھا پی کر وہ اسے باؤل پکڑاتی دوبارہ لیٹ گئی تھی۔
حاد برتن رکھ کر واپس اسے دیکھنے آیا تھا لائٹ ںند کرتے نیم اندھیرے میں اسے دیکھا جو اسے دیکھتی رُخ موڑ گئی تھی۔
اور یہ اسے پسند نہ آیا تھا اس لیے دروازہ بند کرتا اندر آیا۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی حیات حاد ابراہیم کے تم مجھے دیکھ کر رُخ پھیر جاؤ۔۔۔؟”
حیات کا چہرہ تھامتے اس نے جھٹکے سے اپنے سامنے کیا تھا۔
“تمہیں کام تھا جاؤ!” حیات نے کہتے پھر سے چہرہ موڑ لیا۔
“مجھے کام ہے اور میں جاؤں گا لیکن اگر تم اس کمرے سے باہر نکلی تو تمہیں جان سے مار دوں گا میں۔”
“حاددددد!” اس نے ڈر کر اسے پکارا تو کیا آج پھر کچھ۔۔۔۔
حاد نے اس پر جھکتے اس کی سانسوں کو خود میں الجھاتے اسے کچھ بھی سوچنے سے روکا تھا۔
اس سے دور ہوتے حیات نے اس کے کارلر کو تھام رکھا تھا۔
سو جاؤ! حاد اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا اٹھ گیا۔
“میر۔۔۔۔”وہ اپنی مرضی سے کبھی اسے حاد اور کبھی میر کہتی تھی۔
حاد نے مُڑ کر اسے دیکھا۔
“میرے سونے کے بعد چلے جانا پلیز۔۔۔۔۔”
وہ اسے نظرانداز نہیں کر سکتا تھا اسی لیے اس کے ساتھ وہیں لیٹ گیا۔
حیات نے اس کے بازو پر سر رکھتے اسے دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“باہر کیوں نہیں آنا مجھے؟” وہ جانتی تھی وہ نہیں بتائے گا لیکن پھر بھی پوچھ لیا۔
“یہ سب تمہارے جاننے کے لیے نہیں ہے تمہارے جاننے کے لیے اتنا کافی ہے کہ تمہارا شوہر تم سے سخت خفا ہے” حاد نے اسے دیکھتے کہا تو وہ تڑپ اٹھی۔
“حاد پلیزززز! میں شرمندہ ہوں”
وہ اس کی بیرڈ پر ہاتھ رکھتی بولی تو وہ اسے دیکھنے لگا۔
“حاد کیا آپ کو بے بیز پسند ہیں؟” اس نے اچانک سے پوچھا تو حد نے اسے دیکھا کیا وہ جان گئی تھی۔
بہتتت۔۔۔۔حاد نے اس پر گرفت سخت کرتے کہا۔
“کتنے؟”
“جتنے تم چاہو ۔۔۔۔”وہ اس کی گردن کے نزدیک گہرا سانس بھرتا اسے بتانے لگا تو وہ سرخ پڑی۔
حاد نے اس کی قمر کو سہلاتے اسے دیکھا تھا جو اب بند کھلی آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“حیات حاد ابراہیم تم مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہو” وہ اس کے ناک سے ناک رگڑتا اسے بتا رہا تھا۔
“پر مجھے تو آپ کچھ زیادہ پسند نہیں۔۔۔۔”وہ نیند میں تھی اب شاید۔
“اسی لیے تمہاری گرفت میرے گرد بہت سخت ہے ہے نا؟” وہ اسے شرمندہ کر رہا تھا جو نیند میں تھی۔
اس نے پانی میں نیند کی دوا ملائی تھی تاکہ وہ جلدی سو جائے۔
باہر سے شور کی آواز آتے وہ چونکا پھر فوراً سے اٹھا۔
الماری سے اپنا پسٹل نکالتے اس نے ہاتھ میں تھاما اور باہر نکل کر دروازے کو باہر سے لاک کیا۔
لیکن شور اب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے فون سے اپنی لوکیشن بھیج دی تھی۔
ایک نظر مُڑ کر دروازے کو دیکھا۔۔۔۔اس کا دل دھڑکا تھا بُری طرح اس کی بیوی اندر موجود تھی اُسے یہاں سے نکالنا چاہیے تھا پہلے لیکن ۔۔۔۔۔
نیازی کو لاؤنچ میں بیٹھے دیکھ کر وہ قدم قدم چلتا اس کے سامنے آیا۔
اس کے اپنے ہی بندوں نے اسے دھوکا دیا تھا کہ نیازی جسے قید کر کے لانا تھا وہ وہاں اس کے گھر تک پہنچ گیا تھا اور اب آزادی سے گھوم رہا تھا۔
“آؤ۔۔۔۔یار گلے تو ملو۔۔۔۔”نیازی اسے دیکھتا بولا تھا۔
“میرے گھر میں کیسے گُھسے تم؟”
“جیسے تم نے اپنے اس دم چھلے کو بھیجا تھا مجھے قید کرنے!” وہ کہتا قہقہہ لگا گیا۔
“بیوی گھر ہے تمہاری؟” نیازی نے کہا تو میر حاد اس پر جھپٹ پڑا تھا۔
اپنے آدمیوں کو تو وہ بعد میں جہنم واصل کرتا اب۔۔۔جنہوں نے اس سے غداری کی تھی۔
نیازی نے اپنے چھپے آدمیوں کو اشارہ کیا تو وہ یک دم اس پر حملہ آور ہوئے تھے کہ وہ سمجھ نہ پایا۔
اس کے بازو میں سوئی گھساتے اسے بیہوش کر کے نیازی نے دور پھینکا تھا۔
میر حاد ابراہیم ان سب کے لیے تیار نہ تھا اسی لیے سمجھ نہ پایا یہ اس کی بڑی غلطی ہونے والی تھی۔
“میر حاد ابراہیم۔۔۔۔اچھے کھلاڑی نہیں ہو اپنے باپ کی طرح۔۔۔۔لوسیفر بتایا کرتا تھا تیرے باپ کے نام پر ہی لوگ کانپتے تھے لیکن بیٹا تو دیکھو کیسے بے حس و حرکت پڑا ہے” وہ قہقہہ لگا گیا۔
سر اگلا حکم؟ اس کےآدمیوں نے اسے دیکھتے کہا۔
“اس کی بیوی کہاں ہے؟”
وہ حاد کو دیکھتا بولا۔۔۔جیسے یقین کر رہا ہو کہ وہ سچ میں بیہوش ہے نا کیونکہ میر حاد ابراہیم اپنی بیوی کے نام پر پاگل سا ہو جاتا تھا۔
“اندر والے کمرے میں ہے سر۔۔۔لیکن وہ لاک ہے۔۔۔باہر سے۔۔۔۔”اس کے آدمی نے بتایا۔
“تو توڑ دو دروازہ۔۔۔۔۔۔”
وہ کہتا خباثت سے مسکرایا اور حاد ابراہیم کے وجود کو ٹھوکر مارتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
“افسوس! اِس ہیر رانجھے کی کہانی کبھی پوری نہیں ہو پائے گی۔۔۔”
اس گھر میں اس شیطان صفت انسان کی آواز دور دور تک گونجی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجدان گھر آیا تھا جب وہ سو رہی تھی۔۔۔۔اسے دیکھتا چینچ کرنے چلا گیا وہ اس کا سارا سامان لے آیا تھا اور اتنے دنوں کا کام بھی سب رہتا تھا اسی لیے آج وہ دیر سے آیا تھا اور وہ سو گئی تھی۔
آج صبح ہی اس نے دادی کو بتایا تھا کہ اسے ایک بڑی ڈیل کے لیے دبئی جانا تھا کل لیکن چاہت کو اب تک نہیں بتایا تھا۔
چاہت کے قریب بیٹھتے اسے دیکھا جس کے چہرے کا سکون اس کے دل پر ٹھنڈی پھوار سا کام کرتا تھا۔
“بیوی اٹھو!” چاہت کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ بولا تھا۔
“مجھے نیند آئی ہے!”
“تمہیں نیند کب نہیں آتی یار۔۔۔اٹھو!” وجدان نے اسے زبردستی اٹھا کر بٹھایا تھا جو اسکے کندھے پر سر رکھ گئی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟”
“ہوا کچھ نہیں ہے اٹھو میرے ساتھ کھانا کھاؤ!”
“میں نے کھا لیا تھا” اس نے وجدان کو دیکھتے کہا۔
“تو پھر سے میرے ساتھ کھاؤ۔۔۔۔پھر ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے۔”
“کیا؟
منہ دھو کر آؤ پہلے گرم پانی آرہا ہے ابھی ۔۔۔۔” وجدان نے اسے دیکھتے کہا اور خود وہیں بیٹھ گیا تو وہ منہ دھو کر واپس آئی۔
“بھوک لگی ہے!”
“میں کھانا لا دیتی ہوں۔۔۔”چاہت نے کہا اور باہر نکل گئی وجدان نے اس کے تحفے سارے نکال کر بیڈ پر رکھ دیے تھے۔
“تمہیں لگتا ہے وجدان تم سے محبت کرتا ہے؟”
صباء نے اسے کچن میں کھانا گرم کرتے دیکھ پوچھا۔
“یہ تم انہیں سے پوچھنا۔۔۔”
چاہت نے سنجیدگی سے کہا تو صباء نے اس کے آگے پاؤں کیا تو وہ گرتے گرتے بچی۔
“اووو۔۔۔ڈارلنگ دھیان سے۔۔۔۔۔وجدان تمہیں جس لیے یہاں لایا ہے وہی خوشی چھوٹ گئی تو تمہارا ٹھکانہ وہی ہو گا جہاں سے آئی ہو۔۔۔”صباء کہتی چلی گئی۔
تو کیا وجدان صرف اس کی اولاد۔۔۔۔وہ یہی سوچتی اندر داخل ہوئی۔
جہاں اس نے ان تحفوں کو بھی نظرانداز کیا تھا اور جا کر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔
“چاہت یہاں آؤ!” وجدان نے سنجیدگی سے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی خالی نگاہوں سے۔
چاہت!
“کھانا کھا لیں پہلے۔۔۔۔۔”چاہت نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے کہا۔
“آرہی ہو یا میں وہاں آؤں”؟ وجدان نے سرد لہجے میں کہا تو وہ اٹھتی اس کے پاس گئی۔
وجدان نے اپنا بنایا لقمہ اس کے آگے کیا جو وہ کھا گئی۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
“میں ضروری ہوں؟”
“یہ کیسا سوال ہے؟” وجدان نے اسے گھورا۔
“میں زیادہ ضروری ہوں یا ہماری اولاد؟” وہ اب بھی صباء کی باتوں کے زیرِ اثر تھی۔
“دماغ جگہ پر نہیں ہے تمہارا چاہت یہ کس قسم کے فضول سوالات ہیں۔۔۔۔۔میری اولاد بے حد ضروری ہے ہر شخص ایک مکمل زندگی چاہتا ہے” چاہت کے دل پر بوجھ سا پڑا۔
لیکن۔۔۔۔۔
“لیکن چاہت وجدان تم سے آگے یہاں کوئی نہیں ہے، کچھ نہیں ہے اور یہ بات میں آج آخری بار بتا رہا ہوں تمہیں۔۔۔۔آئیندہ اس قسم کے فضول سوالات مت کرنا۔”
چاہت نے اسے دیکھا جو اب کھانا کھا رہا تھا۔
“بال برش کر کے آؤ کیا حال بنایا ہوا ہے!” وجدان نے کہا تو وہ اٹھ گئی پھر اس کے برتن واپس رکھتی اندر آگئی۔
وجدان بیشک اپنا فون استعمال کر رہا تھا لیکن اس کے آنے کو محسوس کرتا اپنی جگہ سے تھوڑا سا پڑے ہوتا اس کی جگہ بنا گیا تو وہ بیٹھ گئی۔
“کس بات سے پریشان ہو؟” نظریں اب بھی فون پر تھیں۔
“صباء نے کہا ہے کہ اگر یہ سب نہ ہوتا تو میں یہاں نہ ہوتی” وہ بولی تو وہ چونکا۔
“کب کہا اس نے؟”
ابھی باہر!
وجدان نے ہونٹ بھینچے۔۔۔۔۔وہ عورت کیا چاہتی تھی۔۔۔۔اس کا علاج صبح کرنے کا سوچتا وہ اس کی طرف متوجہ ہوا۔
“دیکھو چاہت! گناہ کرنا آسان ہے اور معافی مانگنا بے حد مشکل جو مجھے ہمیشہ سے لگا ہے میں بے حد شرمندہ ہوں۔۔۔مجھے نہیں معلوم اس دن کیا ہوا تھا لیکن میرا غصہ ہمارے رشتے کو نقصان پہنچا گیا۔”
“تو آپ اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اس دن کی بات پر آپ نے مجھ پر یقین نہیں کیا؟”
وہ یک دم کھڑی ہو گئی تو وجدان نے اسے کھینچ کر واپس بٹھایا۔
“میں نے یقین کر لیا تم پر اور کیا چاہتی ہو؟ ماضی کیا تھا میں نہیں ڈسکس کر رہا۔۔۔۔۔میرا حال تم ہو اور مستقبل بھی چاہت وجدان اور اس بات کو سمجھ جاؤ۔”
“میں نے اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت دادی سے کی ہے کیونکہ وہ میرا واحد رشتہ رہ گئیں تھی ان کے بار بار اصرار پر بھی میں نے صباء کو نہیں اپنایا اور تمہارے آنے کے بعد تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا لیکن تمہیں ان کے ساتھ اس طرح بولتے میں برداشت نہیں کر پایا تھا وہ گر گئیں تھیں میں اپنا واحد رشتہ بھی نہیں کھونا چاہتا تھا لیکن میں نے تمہیں ہرگز ہرگز اس گھر سے جانے کو نہیں کہا تھا” وہ ٹھنڈی سانس بھر گیا۔
“میں ڈر گئی تھی!” چاہت نے اس کے کندھے پر سر رکھتے کہا۔
وجدان نے اس کے کندھے پر بوسہ دیا پھر اسے دیکھا۔
“میرے اس غصے کا نتیجہ اور سبق پچھلے چار مہینے تم سے دور رہ کر سیکھا ہے میں نے چاہت۔۔”
“میں نے ہر روز صبح تمہیں ڈھونڈا ہے اور شام کو اپنی امید ختم ہوتے پائی تھی۔”
چاہت نے اسے دیکھا وہ تھکا ہوا تھا شاید۔۔۔۔اور اگر اس نے سب کچھ دیکھا تھا تو وجدان نے بھی بہت کچھ برداشت کیا تھا۔
خاموشی کا دورانیہ بڑھا۔
“اچھا کان پکڑیں۔۔۔۔”
وہ سب بھولتی ماحول کا اثر زائل کرنے کی خاطر بولی۔
اس نے وجدان کو دیکھتے کہا جس نے پہلے حیرت سے اور پھر گھور کر اسے دیکھا تھا۔
“پکڑیں جلدی کریں!”
چاہت نے کہتے اس کے ہاتھوں سے اس کو زبردستی اس کے کان پکڑائے تھے پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
اس کا شوہر چار مہینے ایسے نہیں بیٹھا تھا اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈتا رہا تھا، اس کے ملنے کے بعد اس کا حد سے زیادہ دھیان رکھا تھا اور ہر رشتے میں مسئلے تو ہوتے ہیں وہ مزید یہ رشتہ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“بولیں چاہت میری جان آئیم سوری۔۔۔۔میں اب سے تم پر بالکل غصہ نہیں کروں گا۔۔۔”
وجدان مسلسل اسے گھور رہا تھا وہ شرارت سے اسے دیکھتے بول رہی تھی۔
وجدان نے کھینچ کر اس کے گرد حصار باندھا اور اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپایا تھا۔
“ان چار مہینوں کی ازیت جو ہم نے برداشت کی ان کا اثر میں زائل کر دوں گا وعدہ کرتا ہوں” اس سے دور بولا تو چاہت مسکرا دی۔
“تم ہنستے مجھے بالکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔”
وجدان نے کہا تو چاہت نے پہلے حیرت سے اور پھر اسے غصے سے دیکھا جو اس پر جھک چکا تھا۔
دور ہوتے اسے دیکھا جو اسے ناراض نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“تم جب جب مسکراتی ہو مجھے اپنا آپ بے قابو ہوتا محسوس ہوتا ہے اور یہ اسی کی سزا تھی” وہ کہتا اس کے بالوں کی لٹ کو انگلی پر گھمانے لگا۔
“اچھا اٹھیں تو یہ تحفے کس کے ہیں؟”
“صباء کے!”
وجدان نے کہا تو چاہت نے اسے کئی ہاتھ جڑے تھے کمرے میں وجدان چوہدری کے ساتھ اب اس کے قہقہوں کی آواز بھی گونج رہی تھی۔
سب تحفے اس کے لیے تھے اس کے پینڈنٹس، جھمکے، چوڑیاں سونے کے وہ سارا ازالہ کر چکا تھا۔
“بعد میں پہن لینا یار ابھی مجھے تم میرے قریب چاہیے ہو۔۔۔۔”
وجدان نے اس اسے کہا جو سب پہن کر دیکھ رہی تھی۔
چاہت سب چھوڑتی اس کے قریب آئی تو وہ اسے خود میں بھینچ گیا۔
“بہت شکریہ وجدان۔۔۔۔۔”اس کے گال کو چومتے اس نے کہا تو وجدان چوہدری کو اپنے دل میں ڈھیروں سکون اترتا محسوس ہوا۔
“کل مجھے میٹنگ کے سلسلے میں دبئی جانا ہے!”
چاہت نے ناراض نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“ایک دن کا کام ہے بیوی۔۔۔۔اگلے دن تمہارے پاس موجود ہوں گا وعدہ کرتا ہوں۔”
“مجھے ساتھ لے کر جائیں۔۔۔۔”چاہت نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے کہا۔
“تمہارہ پاسپورٹ بننے دیا ہے جو اتنی جلدی تو نہیں ملے گا لیکن اگلی بار ساتھ ہی لے کر جاؤں گا اور ابھی تمہارا سفر کرنا سیف بھی نہیں ہے”
وہ اسے پیار سے سمجھاتا بولا تو وہ سر ہلا گئی۔
“میری پرفیوم بنا دی ہے تم نے؟” وجدان نے پوچھا تو اس نے سر نفی میں ہلایا۔
“میں واپس آؤں تو مجھے سب سے پہلے وہ چاہیے سمجھ رہی ہو۔۔۔۔”
وجدان نے اس کی انگوٹھی ساتھ دراز سے نکال کر اسے پہنائی اور اپنا ہاتھ اس کے سامنے لہرایا یہ وہیں تھیں جو اس نے اپنی پرفیوم سے بنائیں تھی۔
“یہ کہاں سے ملیں؟”
تمہارے سامان سے جو تم چھوڑ گئی تھی۔۔۔وجدان نے کہتے باری باری اس کے گال چومے تو چاہت کا دل تشکر سے بھر گیا۔
اگلے روز وجدان جا چکا تھا۔۔۔۔اور وہ اس کی خوشبو بنانے کے لیے اجزاء اکٹھے کرنے لگی واپسی پر اسے چاہیے تھا وہ صبح بھی اسے یاد کروا کر گیا تھا۔
چاہت؟
“جی دادی!”
“آج ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے شام کو! دھیان رکھنا بیٹا اپنا۔”
اوکے!
صباء نے عجیب سے نگاہوں سے اسے دیکھا تھا جو اس سے مخفی نہ رہ سکیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چلیں؟”
کہاں؟
“مجھے ڈرائیونگ سکھائیں۔۔۔الہام نے اسے دیکھتے کہا۔
آج تھک گیا ہوں کل سکھاؤں گا۔۔۔۔”آحل نے اسے ٹالا۔
“بالکل نہیں! میں نے آج چار گھنٹوں میں یوٹیوب سے اور ماما سے پوچھ پوچھ کر آپ کے لیے چائینیز بنایا ہے جو آپ تب سے تین بار کھا چکے ہیں اور اب مجھے منع کر رہے ہیں۔”
“آپ میرا کھانا گِن رہی ہیں الہام؟” اس نے صدمے سے کہا۔
بالکل! کوئی شرمندگی نہ تھی۔
“اچھا آجائیں ۔۔۔۔امی ابو سے مل آتے ہیں واپسی پر” آحل کچھ سوچتا بولا تو وہ بھی جھٹ سے تیار ہو گئی۔
“چینج کر کے آئیں پہلے ایسے جائیں گے ہم گاؤں؟”
اس نے الہام کو دیکھتے کہا جو شرٹ ٹراؤڈر میں موجود تھی۔
اووو! میں آتی ہوں۔۔۔۔الہام فوراً اندر چلی گئی اب وہ آحل کے مطابق خود کو ڈھالنے لگی تھی۔
باہر آتے اس نے بازوؤں پر لگے رِبن آحل کے سامنے کیے۔
باندھ دیں!
آحل نے باندھ کر اس کی آنکھون کا ہلکا سا پھیلا کاجل اپنی پوروں سے صاف کیا۔
“حسین ہوتی جا رہی ہو!”
“کاش میں بھی آپ کو یہ کہہ سکتی” وہ کہہ کر باہر بھاگ گئی تو آحل مسکرا دیا۔
“ہم ناچیز تو عام سے باڈی گارڈ ٹہرے آپ کے ہم کہاں اپنی مالکن جیسے حسین ہو سکتے ہیں” وہ مصنوئی دکھ سے بولا۔
“توبہ آحل کوئی باتیں بنانا آپ سے سیکھے” الہام نے اسے دیکھا جو گاڑی مین روڈ پر ڈال گیا تھا۔
گاؤں کی سب عورتیں اس سے ملیں تھیں۔۔۔۔۔وہ سب سے مل کر اب اپنی ساس کے ساتھ برتن لگا رہی تھی کھانے کے۔
“مجھے تو بہت بھوک لگی ہے” وہ وہیں بیٹھ گئی۔
بیٹا ہاتھ دھو کر آؤ۔۔۔۔آحل کی ماں نے سنجیدگی سے کہا تو وہ اٹھ گئی۔
آحل نے اپنی ماں کو دیکھا جو مہمانوں کے جانے کے بعد کچھ خاموش سی تھی۔
“کیا تم نے کھانا بنانا سیکھ لیا ہے؟” کھانے کے دوران انہوں نے الہام سے پوچھا تھا۔
“سیکھ رہی ہوں ۔۔۔لیکن آپ کو پتا ہے آحل کتنا زبردست کھانا بناتے ہیں میں تو انہیں کہتی ہوں کہ انہیں جوتے کے بزنس کو چھوڑ کر شیف ہونا چاہیے” وہ بنا ان کی آنکھوں کی سنجیدگی دیکھتے بولے چلی گئی تھی۔
انہوں نے اس لڑکی کو دیکھا جس کے پیچھے ان کا بیٹا پاگل تھا وہ انہیں بری ہرگز نہیں لگتی تھی۔
لیکن عورتیں صحیح کہہ کر گئیں تھی کہ ایسی لڑکیاں اپنے شوہروں کو کچھ نہیں سمجھتی۔
الہام نے آحل سے پیزا مانگا تھا جو وہ آتے ہوئے ساتھ لائے تھے آحل نے اس کی پلیٹ میں رکھ دیا تو وہ کنارے چھوڑ کر سب کھا گئی تھی۔
“ہمارے ہاں ایسے رزق کا ضیاع نہیں کیا جاتا”انہوں نے اس کی پلیٹ میں موجود پیزے کے کنارے دیکھتے کہا تو وہ تھم گئی۔
“بچی ہے کوئی بات نہیں۔۔۔”فیاض صاحب نے کہا تو آحل نے اپنی ماں کو دیکھا۔
“بچی نہیں ہے اب شادی ہو گئی ہے اور ہر شادی شدہ لڑکی کو زمہ دار ہونا چاہئے۔”
آحل نے الہام کی پلیٹ سے اٹھا کر وہ کنارے کھا لیے تو الہام نے تشکر کی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
“میں کھا لیتا ہوں امی۔۔۔
ہاں جیسے میں آپ کی چھوڑی بھینڈیاں کھا لیتا ہوں بیگم” وہ ہنس کر بولے تو سب مسکرا دیے۔
“آپ فکر نہیں کریں میں سب سیکھ جاؤں گی آحل صرف چھٹی کے دن ہی کچھ بنائیں گے” الہام نے ان کے ہاتھ کو تھامتے کہا۔
اس کی ماں نے آحل کو دیکھا جس نے سر ہاں میں ہلا کر انہیں آنکھوں سے اشارہ کیا تھا۔
“ٹھیک ہے لیکن یہ کنارے مت چھوڑا کرو۔۔۔۔”وہ مسکرا کر بولی تو الہام بھی مسکرا دی۔
وہ وہاں سے نکل آئے تھے اور اب ضد کر کے ڈرائیونگ سیٹ پر الہام بیٹھی تھی۔
“کیا آپ کی امی مجھ سے ناراض تھیں؟”
“نہیں بس وہ مجھے لے کر پریشان تھیں دیکھا نہیں واپسی پر کیسے آپ کو مجھ سے زیادہ پیار کر رہیں تھیں” اس نے الہام کو کہا تو وہ سر ہلا گئی۔
کتنا مزہ آہا ہے! اس نے گاڑی مین روڈ پر ڈالی۔
“الہام رکیں! میں نے بس اس گلی میں رہنے کو کہا تھا آپ کو نا کہ مین روڈ پر نکلنے کو!”
“کچھ نہیں ہوتا مجھے آرہی ہے چلانی۔۔۔۔”
ایک ہی دن میں نہیں آجاتی۔۔۔۔۔آحل نے سنجیدگی سے کہا اور الہام والی طرف دور سے سرخ روشنی کو اپنی گاڑی کو نشانہ بنتے دیکھ چونکا۔
“کوئی انہیں کیوں مارنا چاہے گا؟”
اس کا دھیان بھٹکا اور سامنے سے گاڑی کو آتے دیکھ الہام نے چیخ مارتے ڈر کر سٹرینگ چھوڑا تو اس نے فوراً سے تھام کر اسے پورا گھمایا تھا جس سے وہ سامنے سے آتی گاڑی سے تو بچ گئے تھے لیکن سامنے درخت سے نہیں جس سے ان کی گاڑی کے بجتے ہی ماحول میں ایک زور دار آواز پیدا ہوئی تھی۔
