You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 16
Rate this Novel
You're All Mine Episode 16
You’re All Mine by Suneha Rauf
“تم کب جاؤ گے؟”
رات کے کھانے پر اس نے ایک بار پھر پوچھا تو میر نے سرد تاثرات کو چھپاتے آہ بھری۔
“کل رات کو!”
اووو! حیات حیران ہوئی اسے اندازہ نہیں تھا وہ اتنی جلدی چلا جائے گا۔
“میرے جانے کے بعد یہ تم پر منحصر ہے جانا ہوا تو چلی جانا یا یہاں قیام کرنا ہے تو تمہاری مرضی۔”
“نہیں! میں جانا چاہتی ہوں۔”
میر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نگاہیں پھیر لیں۔
اس کے نگاہیں پھیرنے پر حیات کو نجانے کیوں لیکن یک دم عجیب لگا تھا یا شاید بُرا۔
“تم واپس کب آؤ گے؟”
“پتا نہیں!”
“جب بھی آؤں تم نے کون سا میرا انتظار کرنا ہے” وہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے سرد لہجے میں بولا۔
حیات لاجواب ہوئی۔۔۔ہاں وہ کیوں اس کا انتظار کرتی اس کی اپنی زندگی تھی۔
“کل آخری بار ہم اصطبل جائیں گے۔۔۔۔ایک آخری دن شاید ساتھ گزاریں گے” ڈارک ویزرڈ نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
“میں اچھی گُھر سوار بن گئی ہوں تمہاری وجہ سے۔۔۔۔میرا خواب پورا ہو گیا” وہ یک دم مسکرائی۔
میر کو لگا کہ رات کے اس اندھیرے بھی جیسے قوسِ قزح کے رنگ دیکھیں ہوں اس نے۔
“آج ہم میری پسندیدہ مووی دیکھیں گے۔۔۔”وہ جو اس سے پہلے کچھ خوفزدہ ہوئی تھی اب خوش تھی کیونکہ اس نے چلے جانا تھا کل اور پھر وہ آزاد تھی۔
“ٹھیک ہے!”
سب سمیٹ کر وہ لاؤنچ میں آیا جہاں وہ سیٹ اپ کرتی اب صوفے پر بیٹھ کر ریموٹ تھام چکی تھی۔
وہ خاموشی سے جا کر بالکل اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔وہ جو ریموٹ سے بٹن دباتی کچھ لگا رہی تھی تھمی۔
“اممم۔۔۔۔”
میر نے آئیبرو اچکائی۔
“کچھ نہیں!”
وہ اسکا ایک خواب پورا کر چکا تھا تو بدلے میں ایک دن کے لیے وہ اس کے ساتھ اچھے سے تو رہ ہی سکتی تھی۔
میر نے سکرین پر باربی مووی دیکھتے جھٹکے سے اسے دیکھا جو مسکرائی تھی۔
“یہ پسند ہے تمہیں؟”
“ہاں! میں اور الہا ہر اتوار کی رات یہی دیکھتے ہیں۔۔۔۔کاش میری زندگی بھی فیری ٹیل کی طرح ہوتی۔”
اچھا دیکھو تو تمہیں بھی پسند آئے گی! وہ اس کا ہاتھ تھامتی سکرین پر نظر رکھتی بولی۔
میر کی نظر سکرین پر نہیں اس کے ہاتھ میں تھامے اپنے ہاتھ پر تھی پھر آہستہ آہستہ نظروں کا زاویہ بدلنے لگا۔
اب اس کی نظر اس کی گردن کے اس کالے تِل پر جا ٹہری۔۔۔۔بہت کوشش کے بعد بھی وہ نظروں کو وہاں سے ہٹا نہیں پایا۔
پھر دل کی بات پر لبیک کہتے جھکا تو وہ جھٹکے سے دور ہوئی۔
“کیا۔۔۔کر۔۔۔رہ۔۔رہے ہو۔۔۔؟”
لیکن میر نے اسے جھٹکے سے واپس سیدھا کرتے اپنے لب اسکی صاف شفاف گردن پر رکھے۔
حیات میر کے جسم پر سنسنی طاری ہوئی۔۔۔اس کے ہاتھوں کی لرزش وہ صاف محسوس کر سکتا تھا۔
می۔۔۔
“میر!”
وہ اسے نام سے پکارتی کم از کم اسے تو اپنی سی تھی بالکل اپنی۔۔۔اپنا واحد رشتہ۔
“میں کل چلا جاؤ گا حیات۔۔۔نجانے واپس بھی آ پاؤں یا نہیں” وہ وہیں سے بولا تو وہ اسے دور کرتی اسکا چہرہ دیکھنے لگی۔
میر نے کمفرٹر کو اس پر اچھے سے دیتے اس کے گال چومنے چاہے۔
“میر۔۔۔۔پلیز۔۔۔”وہ سمجھ نہیں پائی تھی ان جذبات کو۔
“شوہر ہوں تمہارا بھولو مت۔۔۔۔”اب کہ وہ سرد آواز میں بولا۔۔۔وہ چاہتی تو اسے غصے سے روک سکتی تھی لیکن وہ روک نا پائی اور خاموش ہو گئی۔
میر نے جُھکتے اس کے دونوں گال چومے اور اپنے ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھاما۔
“مجھے مِس کرو گی؟”
“پتا نہیں!” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی بولی۔
“میں واپس آیا تو سب سے پہلے یہیں آؤں گا اور اگر تم مجھے یہاں نہ ملی نا حیات میر تو تمہاری شکل تک نہیں دیکھوں گا دوبارہ۔۔۔”وہ اسے دھمکا رہا تھا یا شاید آئیندہ آنے والے حالات سے آگاہ کر رہا تھا۔
حیات نے تیزی سے سر ہلایا ۔۔۔وہ لمحے اسے بُرے ہزگز نہیں لگے تھے۔۔۔کیا وہ اس کے لیے یہاں واپس آتی؟
کون جانتا تھا؟
“نیند آئی ہے!” وہ اسے یوں ہی دیکھتا رہا تو وہ منمنائی۔
“ٹھیک ہے سو جاؤ!” وہ اس کا سر اپنی گود میں فوراً رکھتا بولا۔
“اپنے کمرے۔۔۔۔”
لیکن اس کی سخت نگاہوں کو دیکھتے وہ فوراً آنکھیں بند کر گئی۔۔۔سکرین پر لگی فیری ٹیل تو کب کی اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی لیکن ان کی فیری ٹیل کا ابھی آغاز ہوا تھا۔
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتا خود میں سکون اترتا محسوس کر رہا تھا اس کے سوتے ہی فون اٹھا کر اپنے کل کا سارا کام سمجھایا اور ٹکٹ کروائی۔
پھر جھٹکے سے اسے باہوں میں بھرتے اس کے کمرے میں لٹایا اور اس پر جھکا۔
“بہت کام ہیں مجھے نہیں تو کبھی نہ جاتا حیات میر۔۔۔۔تم پر اتنا اثر تو میں نے چھوڑ دیا ہے کہ میرے جانے کے بعد تم مجھے ہی سوچو گی۔۔۔۔”
پھر جھکتے اس کے نیم وا لبوں پر اپنے لب ہلکے سے رکھے۔۔۔۔۔اگر زیادہ دیر وہاں رہتا تو کل واپس نہ جا پاتا ۔۔کبھی فرصت نکالیں گے آپ کے لیے حیات میر اور پھر۔۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔اور باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے الہام کو دوبارہ کئی بار فون کیا تھا لیکن اس نے نہیں اٹھایا۔
آج اس کی پہلی شوٹنگ تھی۔۔۔وہ اس سے بات کر کے اس کی غلط فہمی دور کرنا چاہتا تھا۔
وہاں پر اسے مشکل تو ہوئی تھی۔۔۔۔ہزاروں کیمروں کے سامنے کام کرنا آسان تو بالکل نہ تھا۔
پرفیکٹ ۔۔۔۔کھچا کھچ تصویریں اتارتے فوٹوگرافر اور اس عورت نے کہا جس کی آفر اس نے قبول کی تھی۔
“لڑکے یہاں آؤ!” وہ عورت بولی۔
“جی؟”
“اچھا کام کر رہے ہو یہی سب کرتے رہے تو بہت آگے جاؤ گے۔”
“آپ میری اتنی مدد کیوں کر رہی ہیں؟”
“کیونکہ میں بھی تمہاری طرح ایک عام غریب گھرانے کی لڑکی تھی اور مجھے بھی اُس نے یہی کہا تھا کہ میں ایک عام لڑکی ہوں۔”
“کس نے؟”
“جس سے میں محبت کرتی تھی۔۔۔۔اس کی برابری کی نہ تھی میں۔۔۔اس کے گھر والوں نے مجھے اپنایا نہیں پھر میں نے اپنی پہچان بنا لی اور تمہیں معلوم ہے؟” وہ قہقہہ لگانے لگی۔
کیا؟
وہ حیران ہوا۔۔۔اس کا مطلب اس روز وہ الہام کی بات سن چکی تھی جب اس نے کہا تھا کہ وہ اس کا باڈی گارڈ ہے بس۔
“آج اس کی بیٹی میری بہت بڑی فین ہے۔۔۔۔”وہ خشک قہقہہ لگاتی بولی۔
“تو اس نے آپ کو اپنایا نہیں؟”
“نہیں میں تو عام تھی نا اور عام لوگوں کو خاص لوگ جہاں کچھ سمجھتے ہیں۔۔۔؟”وہ عورت بولی۔
اسے وہ لڑکا بھی اپنے جیسا لگا تھا۔۔۔اسے آفر اس کی وجیہہ شخصیت کی وجہ سے ہی کی گئی تھی لیکن وہ الہام کی باتیں اور آحل کی آنکھوں میں الہام کے لیے چاہت دیکھ چکی تھیں۔
“مجھے افسوس ہے!” آحل اس کے سوا کچھ نہ کہہ پایا۔
“مجھے بھی ۔۔”وہ عورت مسکرا کر بولی۔۔۔لیکن اس مسکراہٹ نے اس کی آنکھوں کا ساتھ نہ دیا تھا۔
وہ وہاں سے نکل گیا اور ان کی باتیں یاد کرنے لگا۔۔۔اس عورت کو اس کی محبت نہ ملی تھی لیکن آحل فیاض کبھی الہام غازیان کی محبت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔
وہ عورت تھی اپنے لیے لڑ نہیں سکی تھیں۔۔۔لیکن وہ تو مرد تھا اور مرد مجبوریوں کا بہانہ نہیں بنایا کرتے۔۔۔کیونکہ مرد اگر محبت پر بھی نہ اتر سکے اور اسے پا نہ سکے تو تف ہے ان مردوں پر جو محبت کے دعویدار ضرور ہیں لیکن مجبوریوں کا نام لیتے بہانہ بناتے ہیں۔
اس نے الہام کو فون کیا جو اٹھایا نہیں گیا تھا اس بار بھی۔
“ڈیممم اِٹ!”
وہ جو اس سے ناراض تھی کلاس سے نکلتے ہی اس کا نمبر دیکھا لیکن اٹھایا نہیں اور نہ کال کاٹ دی۔
“الہام غازیان آپ نے اب بھی کال نہ اٹھائی تو اس کال کو ترسو گی۔۔۔”اس کا میسیج پڑھتے اس کی روح فنا ہوئی فوراً اس کی کال اٹھائی جو پھر سے آنے لگی تھی۔
“کیا چاہتی ہو الہام؟” وہ غصے میں معلوم ہوتا تھا۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام۔”
کیسے ہیں آحل؟
“تمہیں فرق پڑتا ہے کہ میں کیسا ہوں۔۔۔؟
تم مجھے نظرانداز کر رہی ہو الہام۔۔۔اور اگر ایسا میں نے کیا تو تم برداشت نہیں کر پاؤ گی اور یہ بات تم خود بھی جانتی ہو”
“آئیم سوری!”
وہ خاموش رہا۔۔۔۔اس سے آگے کیا ہی کہہ سکتا تھا اسے۔
“کام کیسا جا رہا ہے آپ کا؟ شوٹنگ ہو گئی؟”
“ہاں پرسوں تک آجائے گی سکرینز پر۔۔۔۔۔”وہ اسے ساری تفصیلات بتانے لگا۔
“آئی مِس یو آحل!” وہ خاموش ہوا تو وہ بولی۔
“میں جلد آؤں گا آپ سے ملنے الہام” وہ کہتا ایک دو باتیں کرتا کال کاٹ گیا۔
کل اس کی سالگرہ تھی اور وہ جا کر اسے تحفہ دینا چاہتا تھا۔۔۔۔اس نے اس کے لیے تحفہ خرید لیا تھا پھر باقی انتظامات مکمل کیے کیونکہ کل ایک بار پھر وہ غازیان اعجاز کے روبرو ہونے والا تھا۔
نجانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔۔۔اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوتا یا نہیں۔۔۔لیکن یہ تو طے تھا کہ وہ اپنی محبت سے پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاہت گھر جا کر کافی دیر اس کے بارے میں سوچتی رہی تھی یا شاید سوچنے کے لیے اب اس کے پاس بس اسی کی زات تھی۔
اپنی وہی پرفیوم بناتے اس نے گہری سانس بھری۔۔۔کیا اسے یہ سب کو دینا تھا۔۔۔وہ پرفیوم جو وجدان چوہدری کو بےحد سپند تھی جس میں وہ کسی کی شراکت نہیں چاہتا تھا۔
کیا وہ اسے دنیا میں ہر عام انسان کے ہاتھ میں دیکھنا چاہتی تھی؟
دل نے فوراً شور مچایا تھا۔۔۔نہیں کی گردان اس کے دل و دماغ پر چھا گئی تو اس نے فوراً وہ پرفیوم سنبھال کر رکھ لی۔
اور ایک نئی پرفیوم کے بنانے کے لیے اجزاء چُننے لگی اور پھر گھنٹہ دو گھنٹہ اور صبح کے پانچ بجے تک ایک نئی خوشبو وہ بنا چکی تھی۔
ہاں ان سب میں وہ ماہر تھی اس نے منہ پر ہاتھ پھیرتے گھڑی کی طرف دیکھا نیند سے بُرا حلال تھا۔
لیکن اب سونے کا وقت نہیں بچا تھا۔۔۔اسے لیے نماز پڑھی اور ہاتھ اٹھاتے مسکرائی۔
“کوئی گلہ نہیں ہے مجھے یا رب۔۔۔جب جب مجھے لگتا ہے میں اپنا آپ کھو رہی ہوں اس کے فوراً بعد ہی مجھے یہ احساس بھی ہو جاتا ہے کہ میرے پاس وہ ہنر ہے جو کسی کے پس نہیں۔۔۔۔میرا دل الحمداللّہ کے زکر سے بھر جاتا ہے” وہ ایک بار پھر مسکرائی۔
پھر تیار ہوتے ناشتہ کیا اور آفس کے لیے آج جلدی ہی نکل گئی۔۔۔۔آنکھیں نیند کی وجہ سے بند ہو رہی تھیں اور ہلکی سوجن کا شکار بھی تھیں۔
وہ وہیں بیٹھی اپنا کام فوراً سے کرنے لگی یہ سوچ کر کہ واپس جلدی چکی جائے گی آج۔
“زہے نصیب آج کون صبح صبح ہی آ گیا ہے؟”
اسد نے اسے دیکھتے کہا ساتھ ہی اس کی میز پر آ کر بیٹھ گیا۔
“آج میں ساری رات سوئی نہیں تھی نا اسی لیے جلدی آگئی واپس بھی جلدی چلی جاؤ گی۔”
ٹھیک ہے اسد مسکرایا۔۔۔اسے یہ لڑکی نجانے کیوں لیکن بے حد پسند تھی۔
لفٹ کے کھلتے ہی وجدان باہر آیا تو وہ سامنے ہی موجود تھی لیکن اکیلی نہیں۔
وہ جھکی کچھ لکھ رہی تھی لیکن سامنے بیٹھا اسد اسے بنا پلک جھپکے دیکھ رہا تھا اس نے مٹھیاں بھینچی۔
اس کی آنکھوں میں نظر آنے والے رنگ وجدان چوہدری پہچانتا تھا اچھے سے۔۔۔۔ تیزی سے قدم آگے بڑھائے۔
“آج لنچ ساتھ کریں؟”
وہ پاس پہنچا تو اسد کی آواز سنائی دی چاہت نے بھی سر اٹھایا۔
“ٹھیک ہے!” چاہت سے یہ سب سنتے اس نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا جیسے وہ سامنے ہوتی تو اسے ایک لگا دیتا یہ سب کیوں تھا وہ جاننے لگا تھا شاید اب۔
“چاہت؟”
جی! وہ گھبرائی اور اسے دیکھا جو کچھ قدم دور ہی کھڑا تھا۔
“آفس میں آئیں!” وہ کہتا چلا گیا تو وہ فوراً اٹھی اسد بھی اٹھ کر چلا گیا تھا۔
“جی سر؟”
“بیٹھو!”
وہ بیٹھ گئی تو وجدان چوہدری نے اسے غور سے دیکھا آنکھیں ہلکی سوجی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکاوٹ کے اثرات واضح تھی۔
“روئی ہو؟”
جی؟؟ وہ حیرت سے بولی۔
“ایک بار نہیں سنائی دیتی میری بات تمہیں؟” وجدان غصے بولا۔
“نہیں روئی نہیں ہوں” وہ منمنائی۔
تو پھر؟ وہ پھر سے بولا تو چاہت نے اسے دیکھا کیا اس نے اس کے چہرے کی تھکاوٹ کو نوٹ کر لیا تھا۔
“وہ میں ساری رات سو نہیں پائی تھی کیو۔۔۔”
کیوں؟ وہ اس کی بات کاٹتا جلدی سے بولا۔
“کچھ بنا رہی تھی۔۔۔”
اس نے اپنے بیگ میں سے جو ساتھ لائی تھی ایک شیشی لگال کر اسے دی تو اس نے آئیبرو اچکائی۔
“دیکھیں کیسی ہے؟”
وجدان چوہدری اسے اپنے نتھنوں کے پاس لے گیا اور پھر گہری سانس بھری۔۔۔اس خوشبو نے بھی اس پر اچھا تاثر ڈالا تھا۔
“بہت اچھی ہے لیکن اسے بھی ہم مارکیٹ میں نہیں لائیں گے” وہ فوراً بولا۔
“لیکن کیوں؟” وہ کھڑی ہوئی۔
بس میں کہہ رہا ہوں! وہ نگاہوں کا زاویہ بدل گیا۔
“آپ کو کچھ بھی پسند نہیں آتا ہے میرا۔۔۔میں سر اسد کو دِکھا دیتی ہوں” وہ کہتی جانے لگی جب وہ اس کے پاس آتا اس کے آگے کھڑا ہوا۔
“کیا ایسا نہیں ہو سکتا ہے تم صرف میرے لیے پرفیومز بناؤ؟”
جی! وہ آج بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا کم از کم چاہت کو تو ایسا ہی لگا۔
“اچھا یار ٹھیک ہے بنا لیتے ہیں۔۔ کام شروع کرتے ہیں” وہ اُکتا کر بولا۔
“کیا آپ کو پسند نہیں آئی؟”
وجدان نے اس کی طرف دیکھا پھر ایک قدم قریب ہوا۔
“اب وہ والا پرفیوم کیوں نہیں دیا تم نے؟ وہ اُس پرانی پرفیوم کی بات کر رہا تھا” جس پر ہنگامہ کیا تھا اس نے۔۔۔
“میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا شاید کبھی مستقبل میں۔۔۔”
“اسد کے پاس ہے وہ؟”
“میں جاؤں؟”
“چاہت میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔۔اسد کے پاس ہے وہ پرفیوم؟”
نہیں لیکن میں نے انہیں دینے کا بولا تھا۔
“بولا تھا نا وعدہ بھی کیا ہوتا تم تب بھی نا دیتی۔۔۔سمجھ رہی ہو۔”
“آپ کس حق سے مجھے روک رہے ہیں”وہ خود کو مضبوط کرتی آج سوال کر گئی تھی اس سے جو ہمیشہ اس کے دل میں آتا تھا۔
“جا سکتی ہو لیکن میری باتیں بھولنا مت۔۔”وہ رخ پھیرتا بولا تو وہ مسکراتی باہر نکل گئی وہ اس کے جانے کے بعد کئی لمحے دروازے کو گھورتا رہا۔
