207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 14

You’re All Mine by Suneha Rauf

رات کو دعوت پر جانے کا اس کا بالکل موڈ نہیں تھا لیکن یہ دعوت اسے کے لیے ہی تو رکھی گئی تھی۔

چاہت خالد ایک عام لڑکی نے خوابوں کی زندگی میں پہلا قدم رکھا تھا اور آج وہ اس پہلے قدم کی کامیابی کا جشن منانے جا رہی تھی۔

پچھلی دعوت میں کیا ہوا تھا یہ سوچ کر وہ کانپ گئی اس لیے اس دعوت میں وہ وجدان چوہدری سے دور ہی رہنا چاہتی تھی۔

اس نے سفید رنگ کا سوٹ نکالا ہاں یہ اس کے باپ نے اسے تحفے میں دیا تھا۔۔۔یہ سوٹ اسے دیکھتے ہی پسند آ گیا تھا اور اس نے پہلی بار اپنے باپ سے کوئی فرمائش کی تھی۔

سفید خوبصورت نفیس سوٹ پر ہلکی گلابی کڑھائی اور اورگینزا کا دوپٹہ لیے وہ جاذب نظر آ رہی تھی۔

الہام کے ساتھ جو ہوا تھا وہ اسے گارڈ سے پتا لگ گیا تھا۔

وہ حد درجہ اس کے لیے پریشان تھی۔۔۔اور فون بھی کر رہی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ ابھی وہ کال نہیں اٹھائے گی لیکن بعد میں سب سے پہلے اسے ہی کرے گی۔

“کہاں جا رہی ہو چاہت؟”

آحل نے اسے تیار ہو کر باہر نکلتے دیکھ استسفار کیا۔

“آحل بھائی میں آپ کے پاس ہی آ رہی تھی مجھے ایک دعوت میں جانا ہے۔”

“چلو میں چھوڑ دیتا ہوں” اس نے کہہ کر قدم آگے بڑھائے۔

یہ گھر اصل میں غازیان اعجاز نے لے رکھا تھا الہام کے لیے لیکن اب اس گھر کا کرایہ چاہت اور آحل کو بھرنا تھا کیونکہ وہ یہاں رہتے تھے۔

“آپ کی بات ہوئی مالک مکان سے؟”

ہاں اسے پیسوں سے مطلب ہے ہم پیسے دے دیں گے آحل نے کہا تو اس نے سر ہلایا اور اسے چھوڑنے چلا گیا۔

“الہام۔۔۔”

“بس قسمت پر چھوڑ دیا۔۔۔” آحل شاید اس موضوع پر بحث و مباحثہ نہیں کرنا چاہتا تھا کسی سے۔

“آپ آگے کیا کریں گے آحل بھائی؟”

“ماڈلنگ؟”

سچ میں؟ بہت اچھا ہے آپ اپنا مستقبل بنائیں شاید غازیان انکل مان جائیں۔

آحل آسودگی سے مسکرا دیا تو وہ اندر چلی گئی۔

آج پارٹی کی شان و شوکت کا واحد ستارہ اس کی زات تھی سب اسے مبارکباد دے رہے تھے۔

زندگی یہی ہے کبھی لوگ آسمان پر بٹھاتے ہیں تو کبھی آسمان سے زمین پر پٹکنے میں لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرتے۔

کل تک سب اس دعوت میں ہوئی اس تذلیل کو یاد کر رہے تھے اور آج سب اس کی بنائی پرفیوم کی کامیابی پر اسے سراہ رہے تھے۔

اب وہ پوری کمپنی کے لوگوں کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔یہ خواب شاید وہ دیکھ بھی نہیں سکتی تھیں لیکن آج رب نے اسے کتنا عطا کیا تھا۔

“آپ کی نئی خوشبو کا کتنا انتظار کرنا پڑے گا ہمیں” کسی کولیگ نے چاہت سے پوچھا۔

“زیادہ نہیں میں تیار کر چکی ہوں!” اس نے شائستگی سے کہا تو وجدان نے جھٹکے سے اسے دیکھا۔

ابھی صبح ہی تو اس نے کہا تھا کہ اس بارے میں اس نے ابھی کچھ نہیں سوچا تو اب یہ جواب؟

“کیا آپ مسٹر وجدان کے بارے میں سنجیدہ تھیں اس دعوت میں اور۔۔۔۔”

“وہ سب ایک مزاق تھا۔۔۔۔!!!

“دوسرا جھٹکا وجدان چوہدری کو لگا تھا لیکن وہ سنجیدہ تھی حد درجہ سنجیدہ۔

“اسد کھانا کھالیں مجھے بھوک لگی ہے!”

اس نے سب کے ہٹتے ہی اسد کو مخاطب کرتے کہا وجدان چوہدری نے اس کا اسد کو پکارنا اور اس کے ساتھ جانا دور تک دیکھا تھا۔

“کیا کھاؤ گی؟”

اسد نے اسے کھانا پلیٹ میں ڈال کر دیا۔۔۔وہ مسکراتی نجانے اس کے ساتھ کیا بات کر رہی تھی لیکن وجدان چوہدری کی نظر اسی پر تھی لیکن کیوں؟

پھر وہ ساری پارٹی میں اسد کے ساتھ ہی سب سے ملی تھی وجدان چوہدری تو جیسے تھا ہی نہیں کہیں۔

ہاں محبت کی قدر کرنے والے بیشک دل میں رہ جائیں لیکن اپنی عزتِ نفس کو مرنے نہیں دینا چاہئے۔

“کس کے ساتھ جاؤ گی واپس؟” اسد نے پوچھا۔

“آحل بھائی سے پوچھتی ہوں۔”

“میں چھوڑ دیتا ہوں یہیں رُکو میں لاتا ہوں گاڑی۔۔۔”اسد کہہ کر چلا گیا تو وجدان چوہدری اس کے قریب آیا۔

“میں چھوڑ دیتا ہوں!” سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی۔

“شکریہ! اسد چھوڑ دیں گے۔۔۔”اس نے ہلکی آواز میں بنا اسے دیکھے کہا۔

“چاہت؟”

مِس چاہت! اس نے وجدان چوہدری کی تصحیح کی۔

“میں اپنے حساب سے چلتا ہوں مجھے مت سکھاؤ جو میرا دل چاہے گا میں ویسے ہی پکاروں گا تمہیں۔”

“مجھے جانا ہے!”

وہ کہتی بنا اس کی طرف دیکھے آگے بڑھ گئی۔۔۔اس نے خود کو بمشکل سنبھالا تھا۔

اب وہ پھر سے بکھر جاتی تو اس شہر میں مزید قیام نہ کر پاتی۔

وجدان چوہدری تیزی سے گاڑی بھگاتا گھر آیا تھا۔۔۔۔۔لوئچ میں آتے ہی ریموٹ اٹھا کر سامنے ایل سی ڈی پر دے مارا۔

غصہ ناجانے کیوں تھا۔۔۔؟ یہ وجہ وہ خود جان کر بھی جاننا نہیں چاہتا تھا لیکن کب تک آخر حقیقت سے منہ موڑتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بھوک لگی ہے؟”

اندر آتے اسے دیکھتے میر نے استسفار کیا۔

“میرے ہاتھ ہیں میں کھا سکتی ہوں!” وہ درشتگی سے چِلا کر بولی۔

“آواز آہستہ رکھو حیات!” وہ دو قدم قریب آیا۔

“تم مجھ سے زبردستی شادی کر لو! مجھے یہاں قید کر دو اور میں آواز بھی اونچی نہ کروں” وہ پھر سے چِلائی۔

“تمہاری زندگی میں مجھ سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا یہ بات ذہن میں بٹھا لو۔۔۔۔ آج اور ابھی!” وہ سرد لہجے میں بولا۔

“یہ تمہاری غلط فہمی ہے!” وہ روتے ہوئے بولی۔

“میں چلا جاؤں گا کچھ دنوں میں تب تک میرے ساتھ رہو واپسی پر اگر تم مجھے میرے گھر پر ملی تو ہم رشتے کو آگے بڑھائیں گے نہیں تو راستے علیحدہ کر لیں گے” بھاری گھمبیر آواز گونجی۔

“میں وہاں موجود نہیں ہوں گی!” وہ یقین سے بولی۔

“تم ترسو گی میرے لیے حیات میر یہ وعدہ رہا میرا!” وہ کہتا اندر کمرے میں چلا گیا۔

حیات بھی وہیں صوفے پر روتے لیٹ گئی۔

آئی ہیٹ یو میر! وہ روتے وہیں جوتوں سمیت سو گئی تھی اور اسے جیسے پتا تھا وہ روتے سو جائے گی۔

وہ آدھے گھنٹے بعد باہر بلینکٹ کے ساتھ آیا تھا جیسے جانتا ہو وہ ایسے ہی سو جائے گی۔

اس کے اوپر بلینکٹ دیتے اس کے پاؤں سے سلیپرز اتارے اور اس کے پاس جگہ بناتے بیٹھا۔

“”تمہیں میری ہی ہونا تھا زندگی آج نہیں تو کل سہی کیونکہ حیات غازیان تمہیں بھیجا ہی میرے لیے گیا ہے۔””

“تمہیں اتنا عادی بنا دوں گا کہ ترسو گی میری ایک نظر تک کے لیے” وہیں اس کے ساتھ جگہ بناتے وہ لیٹ گیا۔

نگاہیں اسی پر ٹکی تھیں خاموش نگاہوں سے اسے تکتے دل میں ہزار ارمان جاگے تھے۔

حیات نے کسمساتے ہاتھ سیدھے کیے جو سیدھا اس کے منہ پر جا لگے تھے۔

“ہٹو الہا۔۔۔۔۔”وہ نیند میں بڑبڑائی تھی۔

ڈارک ویزردڈ نے کچھ سوچتے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے تھے وہ مسلسل چھڑواتی اب جاگ گئی تھی۔

اسے نزدیک دیکھ کر سانس سوکھا جو اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے اسے ہی تَک رہا تھا۔

“ہٹو!”

“لیٹی رہو!”

“تم پلیز دور ہٹو مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔”وہ کنفیوژ ہوئی اس قدر قربت پر۔

شششش لیٹی رہو! اس کے لہجے میں کچھ تو تھا جو وہ رُک گئی۔

“”آج تم کافی روئی ہو جو میں نے برداشت کر لیا ہے لیکن آئیندہ تمہیں میں روتا نہ دیکھوں”” میر نے اس کے بال کان کے پیچھے اڑسنے چاہے۔

“مجھ پر حکم مت چلاؤ!” وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی بولی۔

“مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کرو حیات۔۔۔ یقین کرو تم میرے سرد رویے کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہو۔”

وہ خاموش ہو گئی۔۔۔۔وہ ڈراتا تھا اسے اور وہ ڈر جاتی تھی یہ حقیقت تھی۔

“تم ہر مشکل وقت میں مجھے یار کرو گی سب سے پہلے۔۔۔۔”وہ اسے آہستہ آہستہ شاید حکم نافذ کر رہا تھا اُس پر۔

“اور تم؟”

“تم میرے لیے کیا کرو گے؟” وہ تیزی سے بولی تھی۔

“تم بتاؤ کیا چاہتی ہو مجھ سے؟” وہ دوبدو بولا۔

“کچھ نہیں!” وہ آنکھیں یہاں وہاں گھماتی اٹھتے ہوئے بولی۔

میر نے جھٹکے سے اسے اپنے اوپر جھکایا۔

“کہا ہے نا خاموشی سے لیٹی رہو! کھا نہیں جاؤں گا تمہیں” اس کی قمر پر ہاتھ باندھتے وہ بولا تو اس کا سانس خشک ہوا۔

“تم۔۔۔۔”

“ہم کچھ دن ساتھ گزاریں گے تم جو چاہو مجھ سے کروا سکتی ہو وہ” اس کے کان کے پاس سرگوشی میں بولا اور نامحسوس انداز میں اپنے لب اس کے بالوں پر رکھتا جھٹکے سے اٹھا۔

حیات نے تھوک نگلا اور بال ٹھیک کرتے اسے دیکھا۔

آؤ کھانا کھائیں!

“مجھے نہیں آتا بنانا۔”

“میں بناؤں گا آجاؤ”

اسے ہاتھ سے پکڑتے وہ زبردستی اپنے ساتھ لایا اور اسے شلف پر بٹھایا جیسے ان کا رشتہ بہت اچھا ہو آپس میں۔

حیات اس کے ہر قدم کا جائزہ لے رہی تھی یہ سب نیا تھا اگر اچھا نہیں تھا تو بُرا تو ہرگز نہیں تھا۔

وہ خوفزدہ تھی لیکن فلحال اس سرد کمرے کو بھول گئی تھی ہاں وہ اسے مسمرائز کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الہام غازیان کے ساتھ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔واپسی پر اس نے اس گھر کو مُڑ کر نہیں دیکھا تھا اگر دیکھ لیتی تو شاید وہیں رہ جاتی۔

“یہ کچی عمر کی محبت اس کے دل پر ثبت ہو گئی تھی جس کی چھاپ اب ساری زندگی رہنی تھی۔

یا رب العالمین اگر وہ میری قسمت میں نہیں لکھے تو میرے دل سے اس کو نکال دے۔۔۔۔لیکن دل نے اس دعا پر زوروں سے دھڑکنا شروع کیا تھا۔۔۔اسے بتانا چاہا تھا کہ الہام غازیان یہ دعا تم نہیں کر سکتی کیونکہ تم اسے دل سے کبھی نہیں نکال پاؤ گی۔”

اس نے رابیل اور غازیان سے کوئی بات نہ کی تھی۔۔۔۔۔دن گزر رہے تھے وہ اپنے امتحانات دیتے غازیان کے ساتھ کشمیر چلی گئی تھی۔

لیکن خاموش۔۔۔۔وہ جس کے گھر آنے سے شور ختم نہیں ہوتا تھا آج ویرانی چھائی ہوئی تھی۔

“میری جان!”

” میری گڑیا” رابیل نے اس کا سر اپنی گود میں رکھا جو ناول کو پڑھتے کسی گہری سوچ میں گُم تھی۔

“کیوں کر رہی ہو خود کے ساتھ ایسا؟ زندگی آگے بہت زیادہ طویل ہے ابھی۔”

“کیا محبت کرنے کا حق نہیں ہے مجھے؟” وہ اپنی آنکھیں بند کرتے بولی۔

“ہے بالکل ہے! لیکن یہ صحیح وقت نہیں ہے۔”

“تو کیا محبت انتظار کرتی ہے صحیح وقت کا؟” اس نے اپنی ماں کو لاجواب کر دیا تھا۔

“آپ کے بابا اسے پسند نہیں کرتے” رابیل نے اسے بتانا چاہا۔

“کیا بابا نے آپ سے محبت نہیں کی؟”

” کیا ان کو صحیح وقت پر ہوئی تھی محبت؟ کیا صحیح وقت کا انتظار کیا تھا آپ دونوں نے محبت کے ہونے تک؟”

“الہا۔۔۔۔میری جان!”

“میں کچھ نہیں بولوں گی ماما۔۔۔بابا کو ہرٹ نہیں کر سکتی میں۔۔۔۔وہ بابا ہیں میرے میری جان!

میں چند دنوں کی محبت پر اپنے باپ کی ساری زندگی کی محبت نہیں وار سکتی ہاں لیکن یہ مشکل ہے بہت مشکل لیکن میں کروں گی ہو سکتا ہے کوئی معجزہ الہام غازیان کے لیے بھی لکھا گیا ہو۔”

رابیل نے نم آنکھیں لیے اس کا ماتھا چوما۔۔۔۔غازیان اعجاز تو دروازے سے ہی لوٹ گیا تھا۔

“کون سی یونیورسٹی میں داخلہ لو گی اب؟” رابیل نے بات بدلی۔

“بس یہیں جو پاس ہو کوئی بھی۔۔۔۔ماما مجھے نیند آرہی ہے!” شاید اس سے زیادہ وہ بند آنکھوں میں آنسوؤں کو روک نہیں سکتی تھی۔

ٹھیک ہے میری جان سو جاؤ۔۔۔راںیل اس کا ماتھا چومتی وہاں سے نکل گئی۔

“تمہیں ہم ٹریننگ دیں گے لیکن ہمارے اگلے کیٹالوگ کے لیے ہمارہ چہرہ تم ہو گے۔۔۔۔”

ٹھیک ہے وہ وہاں سے نکل آیا۔۔۔۔ایک بہتر مستقبل اس کا منتظر تھا۔

زندگی اپنا کھیل کھیلنے والی تھی اور وہ دونوں لوگ ہی اس کھیل کے لیے تیار نہ تھے۔