You’re All Mine by Suneha Rauf NovelR50405

You’re All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 Last updated: 26 November 2025

207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine by Suneha Rauf

وہ ساری رات سو نا پائی۔۔۔اس شخص کی آنکھوں کی الجھن اسے بھول ہی نا رہی تھی۔
یا رب آپ نے کچھ لوگوں کو بہت دولت دی ہے کہ وہ ہمیں کچھ سمجھتے ہی نہیں کیا یہ ناانصافی نہیں؟؟۔۔۔۔ایک شکوہ اس کی زبان پر آیا۔
"میں ایک دن ثابت کر دوں گی کہ میں عام نہیں ہوں!" اس نے نم آنکھوں کو تیزی سے رگڑنے کہا اور اپنے گلے میں موجود پتھر پر ہاتھ پھیر کر گہرا سانس بھرا۔
یہ پتھر اسے ہمیشہ پرسکون کر دیتا تھا۔
صبح اس نے ناشتہ بنتے ہی الہام کو بلایا اور بیٹھ کر اپنی کتاب پڑھنے لگی اس نے بی اے کیا تھا بس اور وہ بیس سالوں کی تھی۔
کل وجی بھائی نے جو کیا۔۔۔الہام نے آغاز کیا۔
"مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی ۔۔"
الہام جانتی تھی اس کی دوست باتوں کو گھسیٹتی نہیں ہے۔۔۔۔بس دل میں چھپا لیتی ہے۔
تم آج شام میرے ساتھ آؤ گی مجھے اکیلے ڈر لگے گا۔
کہاں؟
وجی بھائی نے اپنے یہاں آنے کی خوشی میں پارٹی رکھی ہے ۔
نہیں! تم چلی جانا۔۔
میں اکیلے کیسے جاؤں گی۔۔۔پلیز مان جاؤ۔۔۔
چاہت نے اسے دیکھا۔۔۔ہاں وہ اس کی حفاظت کے لیے رکھی گئی تھی ناچاہتے ہوئے بھی اسے جانا پڑنا تھا۔۔۔۔اسے خود پر ہنسی آئی۔۔۔بھلا اس انکار کا کیا مطلب تھا۔
ہاں میں چلوں گی کیونکہ میں انکار نہیں کر سکتی اس کا حق میرے پاس نہیں۔
نہیں چاہت تم نہیں چاہتی تو میں بھی نہیں جاؤں گی ایسا تو مت کہو۔۔۔۔الہام نے فوراً کہا۔
نہیں میں جاؤں گی تمہارے ساتھ کون سے کپڑے پہنو گی میں نکال دیتی ہوں۔۔۔
آؤ میں بتاتی ہوں ۔۔الہام نے اپنے ساتھ اپنا ایک نیا جوڑا اس کو بھی آج رات زبردستی پہننے کے لیے دیا تھا۔
کیا آحل بھائی جائیں گے ہمیں چھوڑنے؟چاہت نے استسفار کیا۔
ہاں۔۔۔بابا جان نے انہیں ہی کہا ہے الہام کہتی تیار ہونے چلی گئی۔
چاہت نے وہ فراک پہنا تھا دوپٹے کو اچھے سے سینے پر پھیلایا تھا آنکھوں میں کاجل لگائے ہی وہ تیار تھی،بلاشبہ اسے کسی میک اپ کی ضرورت نہیں تھی۔
اس کا بادامی رنگ تھا لیکن آنکھیں بڑی بڑی جو کسی کی بھی توجہ کا مرکز بن جاتی تھیں۔
پارٹی کا ماحول دیکھتے ہی اس کا منہ کُھلا۔۔۔۔وہ بڑے پیمانے پر نہیں تھی گھر پر ہی تھی لیکن بہت خوبصورت سجاوٹ تھی یا شاید وہ گھر ہی بے حد خوبصورت تھا۔
وجدان چوہدری ان سے ملنے آیا تھا اور بس الہام سے ہی مل کر گیا تھا اسے تو دیکھا بھی نہیں تھا کہ وہ ساتھ آئی ہے۔
ہاں اس کی اتنی اوقات کہاں۔۔۔؟ اس کے اندر سے آواز آئی۔
پارٹی چل رہی تھی مہمان آ جا رہے تھے۔۔۔۔وہ سب الیٹ کلاس سے تھے یہ ان کے رکھ رکھاؤ سے پتا چل رہا تھا۔
چاہت تم وہ سامنے کچن سے پانی لے آؤ میں کھانا ڈال کے لاتی ہوں الہام نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔
وہ پانی لینے گئی۔
مجھے بھی دینا۔۔۔۔ایک عورت نے کہا تو اس نے الہام کے لیے لایا پانی اس کو دے دیا۔
اوو مجھے بھی ایک گلاس سویٹی ایک اور آواز۔۔۔ہاں پانی پلانا ثواب ہے اس نے ایک گلاس انہیں بھی دیا۔
مجھے بھی مل سکتا ہے ایک آدمی نے کہا وہ دوبارہ اندر سے بھر کر ان تک لے جاتی لیکن اس کے ساتھ کھڑی عورت کے زمین پر پھیلے گاؤں میں اٹکی اور پانی سامنے موجود اسی شخص پر الٹ گیا۔
واٹ دا ہیل؟ اندھی ہو؟
وجدان؟
وہ جو یہ منظر دیکھ چکا تھا آگے بڑھ کر اس شخص سے معزرت کی جو اس کا بزنس پارٹنر تھا۔
کیسے نوکر رکھے ہیں؟ انہیں کچھ سکھاؤ بھی۔۔۔بیشک وہ لڑکی حسین تھی لیکن اس کے خود کو چھپائے دوپٹے میں، دھلے چہرے کے ساتھ وہ سب کو ایک ملازم ہی لگی تھی اسی لیے سب نے اس سے پانی مانگا تھا۔
ایک اور چوٹ اس کے دل پر لگی تھی۔۔۔
اس نے یہاں وہاں دیکھا الہام باہر لان میں کھانا نکال رہی تھی پلیٹ میں۔
"وہ نوکر نہیں ہے۔۔۔"اس کی بڑی آنکھوں کو نم دیکھ وجدان چوہدری نے ناجانے کیوں لیکن سب کی تصحیح کی۔
سب نے سنا ان سنا کر دیا کیا ہی فرق پڑتا تھا اس عام لڑکی سے کسی کو۔
"اگر لوگوں کو دل دکھانے کی سزا ہوتی تو یہ سب آج سزا کاٹ رہے ہوتے" وہ دھیمے سے بولی لیکن وہ سن چکا تھا۔
پھر بیزاری سے یہاں وہاں دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔
ایک عام بی اے پڑھی، کسان کی بیٹی سے کسی کو کیا ہی مطلب ہو سکتا تھا۔