You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 15
Rate this Novel
You're All Mine Episode 15
You’re All Mine by Suneha Rauf
میر(ڈارک ویزرڈ) اُس کے لیے سینڈوچ بنانے لگا وہ وہیں بیٹھی اسے چیزیں تیار کرتے دیکھنے لگی۔
“مجھے کھیرا نہیں پسند” اسے کھیرا کاٹتے دیکھ وہ بولی۔
“میں کھالوں گا۔۔۔۔”وہ اسے دیکھتا بولا تو وہ خاموشی سے سر ہلا گئی۔
کھا کر اب وہ دونوں باہر جانے کی تیاری میں تھے کیونکہ برف باری ہونے والی تھی۔
“مجھے برف باری دیکھنی ہے!” وہ دھیمے سے بولی اس کو بتانا نہیں چاہتی تھی کہ اسے برف باری کتنی پسند ہے۔
“ٹھیک ہے آجاؤ!” وہ اندر سے اپنی جیکٹ وغیرہ لے کر اس کے سامنے آیا جو بالوں کی پونی بنا رہی تھی۔
اپنی جیکٹ جو اندر سے دوسری ساتھ لایا تھا اسے پہنائی اور اپنی ٹوپی پہنائی۔
حیات نے اسے قریب سے دیکھا۔۔۔وہ حسین تھا۔
“تمہارے بال؟” وہ کچھ کہتے کہتے رُک گئی۔
کیا؟ وہ جانتا تھا وہ ہمیشہ سے اس کے بالوں کے بارے میں سوچتی ہے کچھ لیکن کہتی نہیں۔
“چلو چلیں!” وہ باہر ہلکی ہلکی برف دیکھ کر چہچہائی۔
“دستانے پہنو اپنے!” وہ سنجیدگی سے بولا تو حیات نے پہلے اپنے دستانے پہنے پھر باہر نکلی تو وہ بھی پیچھے نکل کر دروازہ بند کرنے لگا۔
وہ کافی دور آگئے تھے۔۔۔۔وہ یہاں کے راستے جانتا تھا اس لیے بے فکر تھا لیکن اب کافی وقت گزر گیا تھا۔
حیات یہاں وہاں دیکھتی پرجوش تھی۔
برف اب تیزی سے گِر رہی تھی۔
“حیات چلو ہمیں واپس جانا ہے” وہ اس کے قریب جاتا بولا۔
“نہیں بس تھوڑی دیر!”
“نہیں! راستے بند ہو جائیں گے” اس نے حیات کو سمجھانا چاہا جو اب اردگرد کی دکانوں کو شوق سے دیکھ رہی تھی۔
“بس تھوڑی دیر۔۔۔دیکھو پھر تو تم چلے جاؤ گے واپس ابھی میری بات مانو” حیات نے اسے کہا تو وہ خاموش ہو گیا۔
“تم انتظار کر رہی ہو میرے جانے کا؟” وہ جھٹکے سے اسے اپنے سامنے کھڑا کرتا بولا۔
“سچ بولوں یا جھوٹ؟”
“بالکل سچ!”
“ہاں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔تم مجھے خوفزدہ کر دیتے ہو نا اور میں کسی سے ڈر کے زندگی نہیں گزارنا چاہتی اور۔۔۔”
“ٹھیک ہے!” وہ اس کی بات کاٹتا بولا شاید اس سے زیادہ وہ سننا نہیں چاہتا تھا۔
“لیکن میں اس جگہ کو مِس کروں گی!”
لیکن کیا تم وہ تصویریں ہٹوا چکے ہو جو ہماری پہلی ملاقات پر لی گئی تھیں جس کی وجہ سے آج میں یہاں ہوں؟ وہ اپنی ہی لے میں بولی چلی جا رہی تھی۔
“
“ہاں تم محفوظ ہو۔۔۔۔تم ان سب سے الگ ہو بالکل اب!
“ٹھیک ہے! شکر ہے میں ایک کرمنل نہیں بننا چاہتی تھی۔”
چلو چلیں وہ اسے دیکھتا بولا! کہنے کو کچھ بچا نہیں تھا جیسے۔
“ایک دن، ایک دن حیات میر تم مجھے یاد کرو گی، مجھے اپنے قریب چاہو گی اور اُس دن میں تم سے دور ہوں گا بہت دور۔”
واپسی کے راستے پر گامزن تھے وہ۔۔۔۔حیات مسلسل اپنے ہاتھ آپس میں رگڑ رہی تھی۔
“کیا تمہیں سردی لگ رہی ہے” میر نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے کہا۔
اس کے دستانے برف سے کھیلتے پورے گیلے ہو گئے تھے۔۔۔میر نے وہ دستانے اتار کر پھینکے اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔
حیات یک دم اس کے قریب ہوئی تھی اس کی خوشبو
۔۔۔۔۔ حیات میر نے گہرا سانس بھرتے خود میں اتاری تھی۔
“امممم! تم کون سا پرفیوم لگاتے ہو؟” وہ خود کو روک نہ پائی تو پوچھ لیا۔
“کیوں؟”
“ایسے ہی بس پوچھا۔”
“تمہیں چاہیے؟” اس نے اچانک پوچھا تو حیات گڑبڑا گئی۔
“نہیں!”
“چاہیے ہوا تو میرے جانے کے بعد میری الماری سے نکال لینا” وہ کہتا اس کے ہاتھوں کو رگڑنے لگا۔۔۔تقویت پہچانے کا ایک طریقہ تھا۔
وہ دیکھو! اس نے اس کی توجہ سامنے کی طرف کروائی جہاں ایک لڑکا گھٹنوں کے بل بیٹھا لڑکی کو پرپوز کر رہا تھا۔
“ام ہممم ۔۔لڑکا کتنا ہینڈسم ہے۔۔۔۔”وہ پاس سے گزری تو میر سے بولی لیکن وہ لڑکا سُن چکا تھا۔
“تھینک یو ہنی بٹ یو آر مور بیوٹیفل” وہ لڑکا مسکرا کر بولا تو اس کی گرل فرینڈ انہیں دیکھنے لگی۔۔۔ان کے لیے یہ عام بات تھی۔
وہ لڑکا ان کی زبان سمجھتا تھا اس لیے اس کی بات سمجھ گیا تھا لیکن میر کی سخت نگاہوں کو خود پر محسوس کرتے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ چلا گیا۔
“آئیندہ ایسی حرکت مت کرنا” وہ سختی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبوپچتا گھر لے آیا۔
وہ سارے راستے خاموش رہی تھی کیونکہ وہ ایک بار پھر اسے ڈرانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ڈر لگتا ہے آپ سے!
اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ میری۔۔۔۔میری بیوی کی تعریف کرے وہ اب تک وہیں اڑا تھا۔
میں اگلی بار باندھ لوں گی بال وہ گہرا سانس بھرتے بولی تو وہ اس پر جھکا اور اس میں سانسوں کو خود میں الجھانے لگا۔
اس کے پیچھے ہٹنے پر علیزے نے گہری سانسیں بھرتے اپنا سر اس کے سینے پر رکھا۔
پھر جھٹکے سے دور ہوئی تو وہ ہوش میں آیا۔
تمہاری یوں دور ہونا مجھے کتنا برا لگتا لگتا ہے میں تمہیں سمجھا دوں تو تمہیں خوف آئے گا اگلی بار مجھ سے دور جانے پر۔
دلم تنگ شُدہ از قلم سُنیہا رؤف۔
Dm me to order this ebook
________________________
ایل ای ڈی کے ٹکرے اس نے بعد میں سمیٹنے چاہے تھے خود سے جو اس کے ہاتھ پر لگ گیا تھا۔
“تم چاہت خالد تم ہو اس کی وجہ۔۔۔۔”
وہ اس شیشے کو زور سے گُھماتا دور پھینکتا بولا جس کے نتیجے میں ایک اور زخم اس کے ہاتھ کی زینت بنا تھا لیکن اسے فرق کہاں پڑتا تھا۔
اگلی صبح بھی اس کا غصہ، اس کی بے چینی کسی طور کم نہیں ہوئی تھی۔
“چاہت آئی ہے؟” اس نے آتے ساتھ ہی پوچھا تھا۔
جی وہ سر اسد کے کیبن میں ہیں انہیں اپنی نئی پرفیوم دِکھانے گئیں ہیں۔
وجدان تیزی سے قدم اٹھاتا اسد کے کیبن میں گیا جہاں وہ مسکرا کر اس سے کچھ کہہ رہا تھا۔
“آؤ وجی! یہ دیکھو کتنی زبردست۔۔۔۔”
لیکن اس سے پہلے ہی وہ ٹیسٹر وجدان چوہدری اس کے ہاتھ سے لیتا زمین پر پھینک چکا تھا۔
چاہت نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔
“مس چاہت یہ سب سے پہلے مجھے دیکھنا تھا شاید آپ کو پتا نہیں ہے آپ میری سیکرٹری ہیں، میرے انڈر کام کرتی ہیں۔”
وجدان!!! اسد نے اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ تن فن کرتا باہر نکل گیا تو چاہت نے سر جھکایا۔
“وہ ایسا ہی ہے چاہت چھوڑو۔۔۔زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔”
چاہت سر ہلاتی باہر نکل گئی۔
آپ نے بلایا؟ کچھ دیر بعد وجدان کا اپنے کیبن میں آنے کا اسے بتایا گیا۔
“بیٹھو!”
“کون سی پرفیوم تھی وہ؟” لہجہ حد درجہ سنجیدگی میں ڈوبا تھا۔
وہ۔۔۔
“جلدی بولو وقت نہیں ہے میرے پاس۔”
“وہ جو آغاز میں آپ کو دیا تھا۔۔۔مطلب۔۔۔وہ۔۔۔”
وجدان جھٹکے سے کرسی سے کھڑا ہوا اور اس کا ہاتھ تھامتا اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا اس وقت آفس میں زیادہ ورکر نہ آئے تھے لیکن جو تھے وہ اِنہیں کی طرف متوجہ تھے۔
“سر میرا ہاتھ!”
اسے گاڑی میں بٹھاتے دروازہ زور سے بند کیا اور اپنے گھر لاتے گاڑی کا دروازہ کھولتا اندر چلا گیا۔
چاہت نے پاگلوں کی طرح یہاں وہاں دیکھا وہ کیا کر رہا تھا۔۔۔؟کیا وہ غصے میں اتنا پاگل ہو گیا تھا کہ نہیں جانتا تھا کہ اکیلے آنے کی بجائے ساتھ اسے بھی لے آیا ہے۔
وہ خود ہی گاڑی سے نکلی اور سامنے لان کو دیکھتے دروازے سے چھوٹے قدم لیتی اندر داخل ہوئی۔
گھر خوبصورتی کی مثال آپ تھا۔
وجدان؟
وہ ڈر گئی تھی اس کے غصے سے! کیا اسے واپس چلے جانا چاہیے تھا؟ لیکن اسے تو راستہ بھی معلوم نہیں تھا۔
“وہ کیوں اسے یہاں لایا تھا؟”
وجدان چوہدری سامنے سے آتا دکھائی دیا۔۔۔ٹائی کھینچ کر اتار دی گئی تھی اور پاؤں میں جوتے بھی نہیں تھے۔
“سر؟”
وجدان چوہدری نے اسے دیکھتے آنکھیں زور سے میچی۔۔۔یہ کیا کیا تھا اس نے۔۔۔افففف۔۔۔۔اس نے خود کو دل میں سو سلواتیں سنائیں۔۔۔وہ غصے پر قابو نہ پاتے اسے بھی ساتھ لے آیا تھا۔
غصے سے بے قابو ہو جانے کا مسئلہ تو اس کا بچپن سے تھا۔۔۔۔جس پر وہ کئی ڈاکٹروں سے مِل چکا تھا کیونکہ غصے میں وہ دوسروں کی بجائے خود کو نقصان پہنچا دیتا تھا۔
“واپس چھوڑ آتا ہوں!”
“کیا آپ ٹھیک ہیں؟”
“تمہیں سچ میں فرق پڑتا ہے؟”
سوال کے بدلے سوال کیا گیا تو وہ خاموش ہو گئی اور اس کا ہاتھ دیکھا جو سرخ تھا۔
“آپ کو چوٹ لگی ہے؟” وہ بات بدل گئی بھلا اس سوال کا کیا ہی جواب دیتی وہ۔
“فرسٹ ایڈ کا ڈبہ کہاں ہے؟”
“میرے کمرے میں!” وہ وہیں بیٹھ گیا۔
“کیا آپ مجھے لا دیں گے میں آپ کے زخم پر پٹی کر دیتی ہوں۔”
میرے کمرے سے لے آؤ وہ سامنے ہے۔۔۔آج پہلی بار کسی نے اس کے زخم کے بارے میں فکر دکھائی تھی۔
وہ دھیرے سے قدم اٹھاتی اس کے پاس سے گزری تو وہ کئی لمحے اس کی خوشبو کے حصار میں رہا باقی سب تو جیسے بھول گیا تھا۔
وہ ڈبہ سامنے ہی پڑا تھا شاید اسے پہلے بھی استعمال کیا گیا تھا اسی لیے وہ اٹھا کر لائی۔
کمرہ سادگی سے سجا تھا لیکن اسے پسند آیا تھا۔
وہ رومال کو گیلا کر کے لائی اور اس کے پاس فاصلے پر بیٹھی اور اس کا ہاتھ مانگا۔
وجدان نے فوراً اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھا تھا جیسے وہ کب سے اسی لمحے کا منتظر ہو۔
چاہت نے دھیرے سے اس کا زخم صاف کیا۔۔۔اور دوا لگاتے پٹی کی اس سارے عرصے میں وجدان چوہدری نے صرف اس کی پلکوں کو اوپر نیچے ہوتے دیکھا تھا۔
“تمہاری آنکھیں خوبصورت ہیں” وہ بے دھیانی میں بول گیا۔
شکریہ۔۔۔۔وہ ٹھٹکی پھر سر اٹھاتی بولی۔
“یہ کیسے ہوا؟”
کیا؟ وجدان نے اسے دیکھا جو اٹھ کر جا رہی تھی۔۔۔اسے لگا جیسے اس کی زندگی سے سویرا یک دم روٹھا ہو۔
“مجھے غصہ زیادہ آتا ہے!” وہ اسے بتا رہا تھا بتانا چاہتا تھا لیکن شاید وہ سننا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔کم۔از کم اسے تو یہی لگا۔
اووو! میں ہاتھ دھو کر آتی ہوں وہ چلی گئی تو وجدان ویسے ہی بیٹھا رہا۔
چلیں؟
چاہت نے آتے اس سے پوچھا تو وجدان چوہدری نے اس کا ہاتھ تھامتے اسے اپنے پاس بٹھایا تو وہ ٹھٹکی پھر آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالا۔
“کیوں کر رہی ہو یہ سب؟”
“آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں وجدان؟”
ہاں! مجھے جواب چاہیے۔
“آپ خود سے پوچھیں! میرا رؤیہ صرف اس کا جواب ہے جو آپ نے میرے ساتھ کیا۔”
“تم وہ پرفیوم؟”
“چلتے ہیں کافی وقت ہو گیا ہے” وہ یک دم کھڑی ہوتی دو قدم تیزی سے آگے بڑھا گئی لیکن پیچھے ہوتے شور پر فوراً مُڑی۔
جہاں وہ ساتھ میز پر موجود چیزوں کو نیچے پھینک گیا۔۔۔اس کے گھر کا سارا سامان ایسے ہی اس کے غصے کی زر میں آتا رہتا تھا۔
جاؤ! وہ چِلایا۔
“میں ا۔۔۔اکیکی۔۔۔کیسے۔۔۔۔؟”
یہاں آؤ! وہ اس کی آنکھوں کو دیکھتا جیسے اسے حکم دے رہا تھا۔
“جا۔۔۔جانا۔۔۔چاہ۔۔۔چاہیے۔۔!” وہ بمشکل لفظ ادا کر پائی۔
چاہت؟
وہ دھیرے سے قدم اٹھاتی اس کی طرف گئی۔
“تم وہ پرفیوم نہیں دو گی کسی کو وعدہ کرو!” وہ اس کا ہاتھ تھامتا پھر سے بولا جو اس نے اس کے ہاتھ سے اب بھی فوراً نکال لیے تھے کیونکہ اُس کے لیے یہ سب عام نہیں تھا نہ ٹھیک۔
“لیکن کیوں؟”
“کیا یہ کافی نہیں کہ میں کہہ رہا ہوں؟”
“کافی ہوتا اگر اس رات وہ سب نہ ہوتا۔۔۔۔”وہ کہہ کر باہر چلی گئی تو اسے بھی مجبوراً جانا پڑا۔
راستے میں دونوں نے کوئی بات نہ کی تھی۔۔۔۔یا شاید کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتر تُو سچ میں یہ سب کرنا چاہتا ہے؟ اس کی ماں نے اس سے ماڈلنگ کے حوالے سے استسفار کیا۔
“جی امّی۔۔۔۔!”
تُو واپس آ جا اپنے باپ کے ساتھ کام کر۔۔میرے پاس رہیں اس کی ماں کی آواز سپیکر میں گونجی۔
نہیں امّی مجھے اپنا مستقبل بنانا ہے!
“پتر نہ کر اپنی زندگی خراب اس عام سی لڑکی کے لیے۔۔۔کچھ نہیں رکھا تجھے اور مل جائیں گی۔”
“ہاں لیکن وہ الہام غازیان نہیں ہو گی امّی!” وہ کہتا دو چار باتیں کرتا کال کاٹ گیا۔
کل سے اسے جانا تھا۔۔۔۔۔وہ ٹریننگ لے چکا تھا کل اس کا پہلا شوٹ تھا۔۔۔۔اسے ان سب چیزوں کے بارے میں رتی برابر علم نہ تھا لیکن وہ سیکھ رہا تھا۔
دیکھ رہا تھا اس دنیا کو۔۔۔جس کا حصہ بننے کی چاہ اس کے دل نے کبھی نہیں کی تھی، ایک مختلف دنیا رنگون کے ہوتے ہوئے بے رنگ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی جنگ میں ہر انتہا کو پار کر جانے والے لوگ۔
وہ کئی لمحے وہیں بیٹھا رہا پھر فون اٹھاتے اس کی تصویریں دیکھنے لگا جب وہ اس کے گھر آتی تھی تو وہ ایسے ہی چُھپکے سے اس کی تصویریں لیا کرتا تھا۔
جب تصویروں سے ہر روز کی طرح خود کو بہلا نہ سکا تو دل میں کیے کئی عہد و پیمان کو توڑا اور اس کا نمبر ملایا۔
جو اٹھا لیا گیا تھا۔
“آحل؟”
یہی آواز تھی جو وہ سُننا چاہتا تھا۔
“کیسی ہو؟”
“ٹھیک ہوں! آپ کیسے ہیں؟”
“میں بھی ٹھیک ہوں شاید۔۔۔۔”
خاموشی کا دورانیہ بڑھا۔
دونوں جیسے ایک دوسرے کو محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔۔اتنے دنوں کی بے کُلی جیسے جاتی رہی تھی۔
یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا؟ آحل کو سب یاد رہتا تھا اس کے بارے میں تو یہ کیسے بھول جاتا۔
جی! یہیں پاس ہی میں ہے بابا نے کروا دیا ہے آپ کیا کر رہے ہیں؟
“ماڈلنگ کی دنیا میں آج پہلا دن ہے۔۔۔سوچا تمہیں بتا دوں!”
“تو آپ نے وہ آفر قبول کر لی؟” بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
“ہاں لیکن!”
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی!” وہ نم آواز میں آہستگی سے بولی۔
الہا۔۔۔۔۔۔اس نے آنکھیں میچتے اس کا نام دہرایا۔
“یہ سب تمہارے لیے کیا میں نے۔۔۔مستقبل بنانے کے لیے۔”
“نہیں! اپنے لیے کیا آپ نے۔۔۔وہ دنیا اچھی نہیں ہے۔”
“تم۔۔۔”
“تم بدل جاؤ گے آحل فیاض۔۔۔کسی اور کے ہو جاؤ گے۔۔۔میں مار دوں گی تمہیں یا خود مر جاؤ گی” وہ چِلاتی کال کاٹ گئی۔
تو اس نے ماتھا مسلا۔۔۔۔اور بار بار اس کا نمبر ملایا جو اب بند جا رہا تھا۔۔۔
اسے نہیں پتا تھا اس کے آحل کو منع کرنے کے پیچھے یہ مقصد ہو گا۔۔۔۔وہ پاگل تھی۔۔۔۔وہ مسکرایا یہی وجہ تھی کہ وہ اسے منع کرتی تھی ہر بار پہلے بھی۔
“آہ! الہام غازیان اس دل میں آج بھی تمہارا بسیرا ہے اور مستقبل میں بھی یہاں تم ہی قابض رہو گی بے فکر رہو۔”
