You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405

You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 33 & 34

207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 33 & 34

You’re All Mine by Suneha Rauf

“چاہت اُٹھ جاؤ!”

وہ کب سے اسے اٹھا رہا تھا جو جب سے اس گھر میں آئی تھی صرف سو ہی تو رہی تھی۔

یا شاید وہ لمبے عرصے کے بعد سکون کی نیند لے رہی تھی۔

“مجھے ابھی نیند آئی ہے وجدان۔۔۔۔”وہ آنکھیں کھولتی بولی۔

“مجھے آفس بھی جانا ہے آج سے!” وجدان نے کہا تو وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی۔

“لیکن کیوں؟” سوال کرنے کے بعد اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ نہایت فضول سوال پوچھا ہے اس نے۔

“کیونکہ گھر سے مزید کام نہیں کر سکتا میں۔۔۔۔سب میرے زمہ ہے۔۔۔کتنے دن سب چیزوں کو نظرانداز کروں گا۔۔۔؟اور اٹھو خانساماں اور کام والی بھی آجائیں گی کچھ دیر میں۔”

وجدان؟

ہممممم وہ اسے دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔

“کیا یہی حقیقت ہے ہمارے رشتے کی؟”

“بالکل! یہی ہے مان لو اسے۔۔۔کیونکہ جتنا بُرا ہونا تھا وہ ہو گیا اب مزید کچھ بُرا میں اپنے رشتے میں نہیں ہونے دوں گا۔۔۔وعدہ کرتا ہوں۔”

چاہت مسکرا دی۔۔۔۔جیسے وہ اس کی بات پر ایمان لے آئی ہو۔

چلو آؤ۔۔۔! وجدان نے اسے اٹھا کر واش روم میں بھیجا پھر خود باہر نکل گیا۔

چاہت نے سکون کی سانس بھرتے آنکھیں بند کر کے کھولیں یہ حقیقت تھی سچ میں خوبصورت حقیقت اس کے رشتے کی۔۔۔چار مہینے پہلے جب وہ اس کے گھر سے نکلی تھی اس نے نہیں سوچا تھا کہ وہ کبھی دوبارہ وجدان چوہدری کے پاس آئے گی۔۔۔لیکن ان چار مہینوں میں کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جب اس کا دل تڑپا نہیں تھا وجدان چوہدری کے لیے۔۔۔۔بات یہ نہیں تھی کہ اس نے اپنی عزتِ نفس کو مار کر اسے معاف کیا تھا بات یہ تھی کہ وہ شخص محبت تھا اور اس کی اولاد کا باپ۔۔۔وہ کتنا بھی جھٹلاتی لیکن آخر میں دل سے نا سہی زبردستی اسے اس کی اولاد کو وجدان کا ساتھ دلوانا پڑتا۔۔۔۔لیکن یہاں آنے کے بعد چار مہینوں کی تڑپ ختم ہو گئی تھی، وجدان چوہدری کی توجہ، محبت نے اسے نکھار دیا تھا۔

وہ باہر نکلی جہاں سامنے کا منظر دیکھتے اس کے قدم اپنے کمرے کے دروازے پر ہی رُک گئے۔

وجی میری جان! تم تو بھول ہی گئے ہمیں۔۔۔تم نہ آئے تو ہم نے صباء کو بولا کہ چلو ہم ہی چلتے ہیں اپنے پوتے سے ملنے۔

صباء نے مسکرا کر وجی کو دیکھا۔۔۔اس مسکراہٹ میں وجدان کو پا لینے کا جنون اب اور تقویت پکڑ چکا تھا۔

“وجی تمہارا گھر کتنا۔۔۔۔”اس کے لفظ لبوں پر رہ گئے جب اس کی نظر سامنے چاہت پر پڑی۔

دادی نے بھی چاہت کو دیکھ لیا تھا پھر حیرت سے وجدان کو دیکھا۔

“چاہت آجاؤ!” اس نے چاہت کو کہا لیکن چاہت ایک بھی قدم آگے نہ بڑھا پائی۔

“چاہت؟” وجدان نے سنجیدگی سے کہا لیکن چاہت واپس مُڑتی اندر کمرے میں چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا۔

“لحاظ مروت بچا ہے یا نہیں اس لڑکی میں؟” اور کیا ہم اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتے وجی کہ تم ہمیں بتاتے کہ اسے واپس لے آئے ہو؟” وہ رعب دار لہجے میں بولی بیشک چاہت کے لیے ان کا دل اب اتنا بُرا نہ تھا لیکن انہیں اس کا یوں ان کے منہ پر دروازہ بند کرنا ناگوار گزرا تھا۔

“وہ بیوی ہے میری دادی!” وجدان نے سنجیدگی سے کہا۔

“اور ہم دادی!”

“چلو صباء واپس چلیں!” انہوں نے صباء سے کہا جو کنگ سے اب بھی وہیں کھڑی تھی۔

“اسے لگا چار سال پہلے کی جانے والی اس کی وہ چال رائیگاں چلی گئی ہو۔۔۔چاہت کو وجدان کے گھر میں اس کے قریب دیکھ کر۔”

“دادی پلیز! آپ میری دادی ہیں اور وہ میری بیوی دونوں بے حد ضروری ہیں دونوں میں سے کسی کو بھی چھوڑنے کا تصور نہیں کر سکتا میں۔

آپ اندر آئیں ہم اس معاملے پر بھی بات کریں گے۔۔۔”وہ زبردستی اندر لاتا انہیں بٹھا چکا تھا۔

اسے چاہت کا یوں اندر جانا ناگوار گزرا تھا لیکن اس وقت وہ دونوں ہستیاں ہی اس کے لیے ضروری تھی اور وہ اور دادی تو اب تک انجان تھے کہ چار سال پہلے ہی حقیقت کیا تھی۔

میں آتی ہوں۔۔۔صباء اٹھ کر چلی گئی تو وجدان دادی کے ہاتھ تھام گیا۔

“تمہیں یوں دیکھوں گی مجھے اندازہ نہیں تھا؟” صباء اندر آتے صوفے پر بے تکلفی سے بیٹھتے بولی۔

“ہاں میں مان سکتی ہوں۔۔۔کیونکہ ہمیں علیحدہ بھی تو تم نے کروایا تھا۔۔۔”چاہت نے اسے دیکھتے کہا۔

“کیا مطلب ہے اس بات کا؟”

تم بتاؤ! چاہت نے اسے دیکھتے کہا۔۔۔اس حقیقت سے وہ واقف تھی کہ دھکا اس دن صباء نے ہی دیا تھا۔

“ہاں وہ سب میں نے کیا تھا۔۔۔۔صرف تمہیں وجدان کی زندگی سے نکالنے کے لیے لیکن لگتا ہے میری چال میں اتنا دم نہیں تھا۔”

“بالکل! کچھ اور گھٹیا سوچو۔۔۔اور مزید گر جاؤ یہی سب تمہاری شخصیت پر جچتا ہے۔۔۔۔”چاہت نے تمسخر اڑاتی نظروں سے اسے دیکھتے کہا۔

تمم۔۔۔۔وہ اس کے نزدیک ہوئی۔

“دورررر۔۔۔!” چاہت نے ڈر کر یک دم دور ہوتے کہا۔۔اور اس کی حالت صباء اب سمجھی تھی۔

“اووو! تو میڈیم۔۔۔۔”

“کیا یہ اولاد وجدان چوہدری کی ہے؟” صباء نے مسکراتے کہا۔

“کیا مقصد ہے اس قسم کی بکواس کا؟”

بس ویسے ہی پوچھ لیا تھا! صباء ناخنوں کو دیکھتی ادا سے بولی۔

“میں تو ہر مہینے یہاں آرہی تھی وجدان کے پاس جب تم نہیں تھی اور کافی اچھا وقت ہم نے ساتھ گزارا ہے” وہ “کافی” پر زور دیتے بولی۔

“اچھی بات ہے وہ بھائیوں جیسا ہے تمہارا” چاہت بیٹھتے بولی کیونکہ کھڑے رہتے تھک گئی تھی۔

چار مہینوں پہلے وہ صباء جیسی لڑکی سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ رکھتی تھی لیکن اب ان چار مہینوں نے اسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔

“شٹٹٹ اپپپ۔۔۔بھائی نہیں ہے وہ میرا۔۔۔۔”

“جو تمہارا ہے جلد میرا بھی ہو گا۔۔۔شادی تو میں کر کے رہوں گی اس سے۔۔۔”

“یہ تمہاری بھول ہے صباء پچھتاؤ گی مت کرو یہ سب۔۔۔۔ہم اپنی زندگی میں خوش ہیں ہمیں خوش اور مطمئن رہنے دو۔۔۔۔یہ اس شخص کی اولاد ہے اور مجھے نہیں لگتا کہ وجدان چوہدری کو ہم دونوں سے زیادہ ضروری تم ہو گی۔”

“یہ تو وقت بتائے گا چاہت صاحبہ۔۔۔کہ ضروری کون رہتا ہے” وہ اس پر گہری نگاہ ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی اور باہر نکل گئی۔

جیسے سوچ لیا ہو کہ آگے کیا کرنا ہے۔

چاہت پر خوف کی کپکپی طاری ہوئی۔۔۔۔کیا وہ سب پھر سے تباہ کر دے گی؟ ابھی تو سب اچھے سے معمول پر آیا بھی نہیں تھا اور وہ واپس آگئی تھی جس نے سب پہلے بھی بگاڑا تھا اس کی زندگی میں زہر گھولا تھا اپنی زات سے۔

“یا رب العالمین حفاظت فرمانا؟” وہ بولی تو وجدان نے اندر آتے دروازہ بند کیا۔

“یہ کیا طریقہ ہے چاہت دادی سے ملنے کا؟”

“کیا آپ نہیں جانتے وجدان کے چار مہینوں پہلے ان دونوں کے اس جھوٹے ڈرامے پر ہم دور ہوئے تھے۔”

“چاہت ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔دھیان سے لفظوں کا چناؤ کرو۔۔۔”

“مجھ پر بھروسہ تو آپ کو تب بھی نہیں تھا اب بھی نہیں ہے تو میں یہاں کیوں ہوں؟”

“بات کو دوسرا رخ مت دو چاہت۔۔۔میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم دادای اور صباء سے اچھے سے ملو۔”

اچھا!

“کیا آپ کے لیے ہمیشہ وہی دونوں ضروری رہیں گی اور میری زات یوں ہی معمولی؟” وہ نم لہجے سے استسفار کرنے لگی۔

“وہ دادی ہیں میری۔۔۔”

“اور میں بیوی۔۔۔۔اور میں حق پر ہوں۔۔۔چار مہینوں پہلے انہوں نے زیادتی کی میرے ساتھ۔۔۔۔مجھ پر دھکا دینے کا جوٹھا الزام لگایا گیا۔۔۔جب کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور پتا ہے یہ سب کیوں کیا گیا؟ کہ مجھے آپ کی زندگی سے نکال دیا جائے۔۔۔اور ایسا ہی ہوا جیسا وہ چاہتی تھی۔۔۔آپ نے مجھے نکال دیا۔”

“یہ سب کیا بول رہی ہو چاہت؟ دماغ درست ہے؟” وہ غصے سے اس کے پاس آتا بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آحل نے اسے دیکھا جس کے بال بیڈ پر بکھرے پڑے تھے۔۔۔اس نے سکون بھرا سانس بھرا۔

زندگی میں سب سے خوش کُن لمحہ پتا ہے کیا ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔

اپنی محبت کو پا لینا رب کی رضا سے۔۔۔۔اس کہانی کے آغاز میں اسے یقین نہیں تھا کہ وہ ایک عام سا باڈی گارڈ اس لڑکی کو پا لے گا جس کے لیے اس نے جذبات بھی چھپا کر رکھے تھے۔

الہام نے خود پر نگاہیں محسوس کرتے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تو کمرے میں آحل فیاض کا قہقہہ گونجا۔

“جاگ رہی ہو تو اٹھو۔۔۔میرا بازو سو گیا ہے تمہارے وزن سے” اس نے شرارت سے کہا۔

“اففف آحل!” وہ جلدی سے اپنا سر تکیے پر رکھ گئی تو وہ پھر سے مسکرایا۔

“اٹھ جاؤ اب!”

“نہیں مجھے ابھی اور سونا ہے آپ تب تک ناشتہ بنائیں” وہ اسے حکم جاری کرتی بولی۔

“نہیں ناشتہ آج آپ بنائیں گی!”

“میں ابھی پہلے دن کی دلہن ہوں کچن میں نہیں جاؤں گی” وہ آنکھیں موندے ہی بولی۔

“آپ نے کون سا میرے لیے مہندی لگائی ہے جو ہلکی پر جائے گی” وہ پھر سے شکوہ کر گیا تو الہام نے آنکھیں کھولیں۔

“اب بھول بھی جائیں اس بات کو!” اس نے آحل کو گھورا۔

“اگر اپنی منہ دکھائی چاہیے تو مان جائیں کہ ناشتہ آپ بنائیں گی آج؟”

آحل! وہ ہونٹ نکالتی بولی ایسا کرتے وہ کیوٹ لگی تھی اور وہ شاید جانتی تھی یہ۔

“آجائیں ظالم عورت میں بنا دیتا ہوں! لیکن ہم باریاں لگائیں گے روز میں نہیں بناؤں گا۔”

“اوکے! لیکن یہ عورت کِسے کہا ہے؟”

“شادی کے بعد آپ عورتیں ہی بن جاتی ہیں۔۔۔”آحل کی اپنی ہی منتقل تھی۔

اور آپ لوگ انکل! وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“اچھا یار یہاں آئیں ابھی میں نے جانے کا تو نہیں کہا” آحل نے کہا لیکن الہام اس کی بات سنتے ہی دو سو کی سپیڈ سے بھاگی تھی۔

آحل جانتا تھا وہ کتنا شرماتی ہے۔

وہ جلدی سے تیار ہوتی باہر تھی جہاں کچن میں وہ ناشتہ تیار کر رہا تھا۔

“آحل میرا تحفہ؟” وہ اس کے پاس آتی بکھرے بالوں کو ہاتھ سے سلجھاتے بولی۔

“انہیں پہلے سکھا کر باندھ کر آئیں پھر ناشتہ کریں!”

پلیز نا! لیکن آحل کے آنکھیں دِکھانے پر وہ منہ بناتی اس کے بتائے کام کرنے چلی گئی۔

ناشتہ بھی اس نے منہ میں ٹھوسا ہی تھا جو آحل کے گھورنے پر بھی اسے فرق نہیں پڑا تھا۔

چلیں اب جلدی کریں!

“میں نے اتنا بھوکا ویسے کوئی نہیں دیکھا الہام!” آحل نے کہا لیکن وہ بنا بُرا منائے باہر کی طرف بھاگی تو آحل بھی پیچھے گیا۔

وہ وہیں ششدر سی کھڑی رہ گئی جہاں سامنے ہی وہ گاڑی موجود تھی جو بڑی تو نہیں تھی لیکن سفید رنگ میں وہ چمچماتی گاڑی اسے دنگ ہی تو کر گئی تھی۔

“یہ آپ کی ہے؟” وہ خوشی سے چہکتی بولی۔

“نہیں تو!” آحل نے اس کی آنکھوں کی چمک فوراً کم ہوتے دیکھی تھی۔

“یہ میری نہیں ہے لیکن آپ کی ضرور ہے الہام آحل فیاض!” اس نے الہام کو دیکھتے کہا۔

الہام نے جھٹکے سے اسے دیکھا جیسے تصدیق چاہی ہو کہ وہ سچ کہہ رہا ہے یا نہیں۔

“کیا سچ میں؟”

“بالکل! شادی مبارک الہام آحل فیاض!” اس نے الہام کو ساتھ لگاتے اس کے کندھے پر بوسہ دیتے کہا۔

الہام کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔۔وہ گاڑی بہت قیمتی تھی بیشک اس کے باپ کی گاڑیوں کی طرح نئے ماڈل اور سائیڈ میں بڑی نہ تھی لیکن ایک چھوٹی لیکن برینڈ نیو گاڑی تھی وہ۔

میں! اسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے تو حل کے ساتھ لگتے رو دی۔

“کیا ہو گیا ہے یار؟ اسی لیے تو نہیں دلوائی میں نے۔۔۔”

“یہ تو بہت مہنگی ۔۔۔”

“دن رات کام کیا ہے میں نے اس کے لیے محترمہ۔۔۔اچھے سے حفاظت کرنا اس کی۔۔۔بڑھاپے میں بھی ہم اسی پر اپنے پوتے پوتیوں کو گھمانے لے کر جایا کریں گے” وہ بولا تو الہام کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا۔

“ٹھیک یو۔۔۔تھینک یو سو مچ۔۔۔۔”

الہام اس کے گال پر بوسہ دیتی بھاگ کر گاڑی کے قریب جاتی اس کے اندر بیٹھ کر ہارن دیتی اسے بلانے لگی۔

آحل نے اس کے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔جو خوشی سے تقریباً سرخ پر گیا تھا۔

اسے دیکھوں اور دیکھتا بھی نہ رہوں

احمق ہو کیسی بات کرتے ہو؟

اسے محبت کروں لیکن اظہار بھی نہ کروں

احمق ہو کیسی بات کرتے ہو؟

جو سب مکمل کر دے اسے زندگی بھی نہ کہوں

احمق ہو کیسی بات کرتے ہو؟

محبت پا لوں اور سجدے میں بھی نہ گروں

احمق ہو کیسی بات کرتے ہو؟

از قلم سُنیہا رؤف۔

یہ گاڑی کبھی بھی اس کی ضروت نہیں رہی تھی لیکن الہام کی ترجیح تھی یہ وہ کیوں نا خریدتا۔۔۔۔اس نے اس کے جانے کے بعد دن رات اسی لیے تو کام کیا تھا۔

“ایک اور اچھی خبر سناؤں؟”

اس نے الہام کو دیکھتے کہا جو اپنی اور اس کی تصویریں گاڑی میں بیٹھے بناتی اپنی آپا اور بابا، ماما کو بھیج رہی تھی۔

کیا؟ وہ فون رکھتی متوجہ ہوئی۔

“ہم نیا گھر بھی خرید رہے ہیں!” اس نے الہام کو بتایا جو منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔

“سچ میں؟”

“بہت بڑا نہیں ہے چھوٹا سا ہے پانچ مرلے کا۔۔۔ابھی آدھی رقم دی ہے باقی کی کچھ دنوں میں دوں گا۔۔”

“لیکن آحل آپ نے ابھی تو اپنا بزنس۔۔۔یہ سب کیسے؟”

“بس کر کیا۔۔۔۔آپ خوش ہیں؟”

بہتتتتتتت!

الہام کو سمجھ نہ آیا وہ اس شخص کو کیا کہتی۔۔۔اپنی خوشی کا اظہار کیسے کرتی۔۔۔۔وہ جانتی تھی اس کے شوہر نے یہ سب کیسے کیا تھا دن رات کی پرواہ کیے بغیر کام کر کے۔

آحل نے اسے دیکھا۔۔۔۔ہمیشہ ڈیمانڈز کی جانے والی لڑکیوں کو معاشرے میں بُرا سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ خیال اپنے آپ میں ہی غلط ہے۔۔۔۔ایک عورت اپنی آسائش کی چیزیں اسی سے مانگتی ہے جس کے ساتھ اس نے عمر گزارنی ہے بجائے یہ کہ انہیں بُرے القابات اور پیسے اور آسائشوں کی بھوک رکھنے جیسے لفظ دیے جائیں ان کے لیے وہ کر دیا جائے محنت سے تو اس سے زیادہ محبت کا ثبوت کیا دیا جا سکتا ہے۔

الہام نے اسے دیکھا اور مسکرا دی۔

آحل فیاض یہ آپ کر سکتے تھے بس میرے لیے۔۔۔۔وہ فخر محسوس کر رہی تھی آج۔

“اب میں آپ کے لیے کھانا بنانا سیکھ لوں گی لیکن مجھے جلد سے جلد گاڑی چلانا سکھائیں” وہ اسے اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی۔

آحل نے اسے اندر جانے کا کہا اور کال اٹھائی فون اس کا کب سے وائبریٹ ہو رہا تھا۔

“سر انہوں نے سب ڈیلیٹ کرنے کا بولا ہے!”

“اور تم نے کیا کیا؟”

“سب ڈرائیو میں محفوظ ہے آپ کو میل کر دیا ہے اور ان کے سامنے سب ڈیلیٹ کر دیا ہےا۔”

بیت شکریہ!

“تمہیں میں نے اپنی بہن سمجھا تھا فزا لیکن تم اپنی حد سے تجاوز کر رہی ہو۔”

اس نے آخری انٹرویو میں جو آج شام شائع ہونا تھا اس میں واضح بتا دیا تھا کہ وہ اس انڈسٹری سے رخصت ہو رہا ہے بے شک وہ بے حد مقبول نہ تھا لیکن ایسا نہیں تھا کہ اس کا نام نہ تھا ماڈلنگ کے پیشے میں ہزاروں لوگ اس کے مداح تھے۔

وہ اپنا بزنس/برینڈ شروع کر چکا تھا جوتوں کا۔۔۔۔وہ اس انڈسٹری میں ہر کام تو ہوتا دیکھ چکا تھا جس میں وہ کبھی نہیں پڑنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ سب چھوڑ چکا تھا اور وہ بے حد مطمئن تھا اپنے اس فیصلے سے۔

شام کو اس کا انٹرویو جس میں اس نے اپنی شادی کا اور اپنے انڈسٹری سے الوداع کا بتایا تھا وہیں اس کی بے گناہی بھی ثابت ہو گئی تھی اس نے سارے گناہ سب کے سامنے پیش کر دیے تھے وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی اچھے سے وہاں سے جانا چاہتا تھا جو اسنے کر دیا تھا۔

سب خوش تھے سوائے فزا کے جو تلملا کر رہ گئی تھی آخری حربہ بھی ہاتھ سے نکل گیا تھا وہ اپنی بے گناہی ثابت کر کے جا چکا تھا اس فیلڈ سے ہمیشہ کے لیے۔

اتنی آسانی سے ہار نہیں مانوں گی میں ۔۔۔۔

“شوٹ ہِممم۔۔۔!”

اس نے کہا تو ساتھ کھڑے اس کے آدمی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“لیکن آپ تو ان سے محبت۔۔۔۔”

“کیسی محبت؟ وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے اگر مجھے میری محبت نہیں ملی تو مجھے فرق نہیں پڑتا وہ جیے یا مرے۔۔۔۔”وہ سفاکیت سے کہتی آگے بڑھ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حیات نے آنکھیں کھولتے خالی کمرے کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔

اس کی ٹانگ پر چوٹ تھی وہ کیسے جا سکتا تھا۔۔۔لیکن باہر سے آواز آتے وہ باہر نکلی جہاں وہ پر وہ صوفے پر بیٹھا کام کروا رہا تھا۔

“میر؟”

اس نے حیرت سے اسے پکارا لیکن وہ اب تک ناراض تھا شاید اس لیے جواب نہ دیا۔

“آپ سے مخاطب ہوں میں میر صاحب!” وہ اس کے پاس جاتی اس کے سامنے کھڑی ہوئی۔

“چینج کر کے آؤ پہلے” میر نے بنا اسے دیکھتے کہا کیونکہ اس وقت بہت سے ملازم وہاں کام کر رہے تھے۔

حیات نے اسے دیکھا اور اندر جاتے چینج کر کے اس کی چادر اوڑھتے واپس آئی۔

“بھوک لگی ہے!” اس نے میر حاد ابراہیم کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کی خاطر کہا۔

“کچن میں سب کچھ ہے بنا لو!” اس نے کہا تو حیات نے گہری سانس بھری اور کچن کی طرف چلی گئی۔

جہاں سب موجود تھا۔۔۔۔اس نے اپنے اور اس کے لیے ٹوسٹ گرم کیے اور انڈا بنا کر اس کے آگے رکھا۔

مجھے نہیں کھانا!

کیوں؟ حیات نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“بس نہیں کھانا لے جاؤ۔۔۔۔”

“کیا مسئلہ ہے حاد۔۔۔۔مسئلہ مجھ سے ہے آپ کو کھانے سے نہیں۔۔۔۔کھائیں دوا بھی لینی ہے پھر اس کے بعد” اس کے آگے نوالہ کیا تو وہ کھا گیا۔

لیکن خود پہلے ہی نوالے پر اسے ابکائی سی آتی محسوس ہوئی۔

کیا ہوا؟ حاد نے اسے صرف اُسے کھلاتے دیکھ استسفار کیا۔

مجھے اچھا نہیں لگ رہا!” اس نے انڈے کو دیکھتے کہا۔

“خود ہی تو بنا کر لائی ہو اب پسند کیوں نہیں آرہا؟”

کیا زبردستی ہے کھانا! اس نے چڑتے کہا تو حاد نے سنجیدگی سے دیکھا تو وہ سنبھلی۔

میں دوا لاتی ہوں وہ اٹھ کر چلی گئی حاد نے کیمراز لگتے ہی سب کو جانے کا اشارہ کیا تو سب چلے گئے۔

وہ بمشکل اٹھتے اندر کمرے میں گیا جہاں وہ آڑھی ترچھی سے بیڈ پر پڑی تھی۔

“حیات؟”

ہمممم! اس نے اٹھتے کہا اور اٹھ کر اسے سہارا دیتے بیڈ پر بٹھایا۔

کیا ہوا ہے؟ اسے لگا تھا شاید اس دن اسے کہیں چوٹ لگی ہے اندرونی جو وہ یوں بیچین سی ہے۔

پتا نہیں! اس نے اپنا سر اس کے کندھے پر رکھتے کہا۔

“ڈاکٹر کو بلوا لیتا ہوں!” حاد نے اس کے چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتے کہا تو وہ خاموش رہی۔

لیکن فون بجنے پر حیات نے اس کے اشارے پر اس کا فون اٹھایا۔

“ابراہیم صاحب!”

بولو!

“بولنا کیا ہے میں تو کہتا ہوں آمنے سامنے ملاقات کرتے ہیں ہم جیسوں کو بھی ملاقات کا شرف بخشیں۔۔۔۔”نیازی نے قہقہہ لگاتے کہا۔

“اپنے کام سے کام رکھو نیازی میرے پاس تم جیسوں کے لیے وقت ہرگز نہیں ہے۔”

“چچچچ۔۔۔۔۔ابھی زخم نہیں بھرے مجھے لگتا ہے۔۔۔۔۔بس میری خبریں میڈیا تک پہنچا کر اچھا نہیں کیا تم نے اسی کا ایک چھوٹا سا جواب تھا یہ۔۔۔ لیکن کافی حسین بیوی ہے تمہاری۔۔۔۔”

“اوقات میں رہ نیازی اور زبان سنبھال کر تم نے تو جواب دے دیا میری باری کا انتظار کرنا کیونکہ یہ آخری کیل میں ہی ٹھونکوں گا” اس نے حیات کو دیکھتے کہا جو ابھی بھی اس کے کندھے پر سر رکھے بے حال سی تھی۔

“چلو دیکھ لیتے ہیں لیکن اپنی بیوی کو سنبھال کر یار میری نظر پر گئی ہے اس پر۔۔۔۔۔”نیازی نے میر حاد ابراہیم کی کمزوری ڈھونڈ لی تھی۔

میر حاد ابراہیم نے فون اٹھا کر سامنے دیوار پر دے مارا تو حیات جھٹکے سے اس سے دور ہوئی۔

“سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔۔تم کیوں آئی یہاں مجھے بتائے بغیر؟” وہ دھاڑا تو وہ سہم گئی۔

“وہ جان چکا ہے میر حاد ابراہیم کی ایک ہی کمزوری ہے جو تم ہو اور یہی میں نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔”

اپنی ٹانگ پر زور ڈالتا وہ کھڑا ہوا تو درد سے ہونٹ بھینچ لیے۔

اپنا فون جھک کر اٹھاتے باہر نکل گیا تو حیات اوندھے منہ بستر پر گری۔۔۔

وہ اس سے پہلے اس پر یوں نہیں چیخا تھا کبھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کاش ہم دوبارہ ملے ہی نا ہوتے۔۔۔”

“یہ بات اب بولی ہے دوبارہ مت دہرانا میرے سامنے۔۔۔ہمیں ملنا تھا اور بس ملنا ہی تھا اور کیوں نا ملتی تم چار مہینے اس شہر کی اور تمہارے گاؤں کی خاک چھانی ہے میں نے اور تم یہ لفظ بول کر بری الزمہ ہو جاتی ہو۔”

“حقیقت پتا ہے کیا ہے وجدان چوہدری کے آپ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے اور یہی چیز ہم دونوں کو، ہمارے رشتے کو نقصان پہنچائے گی۔”

“ایسا کچھ نہیں ہو گا!” وہ سنجیدگی سے بولا۔

“باہر آ کر دادی سے ملو اگر صباء سے نہیں بھی ملنا تو۔میں معزرت چاہوں گی کیونکہ میں ایسا نہیں کروں گی۔”

چاہت! اس کی آواز میں تنبیہ تھی لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی بھی نہ۔

وہ پاس آتا اس کے ہاتھ تھامتا گھٹنوں کے بل بیٹھا۔

ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تم سمجھتی ہو شاید وہ بس ایک حادثہ ہو۔

حادثہ۔۔۔وہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔یہ آپ کو پانے کی اس صباء کی ایک گھٹیا کوشش تھی۔

وجدان خاموش ہوا۔

“اچھا بس دادی سے مل لو۔۔۔۔رکنا نہیں بس واپس آجانا اوکے؟”

چاہت نے اسے شکوہ کناں نگاہوں سے دیکھا اور دوپٹہ خود پر اچھے سے پھیلاتی اس کے ساتھ باہر نکل آئی۔

“اسلام علیکم!”

وعلیکم السلام! دادی نے اسے دیکھتے سنجیدگی سے کہا۔

“کیسی ہو چاہت؟” صباء آگے بڑھتی جلدی سے اس کے گلے لگ گئی تو چاہت گھبرا گئی۔

وہ ٹھیک ہے صباء! وجدان نے سنجیدگی سے کہا۔

کیونکہ ان چار مہینوں میں وہ صباء کا اپنی طرف بڑھتا رجحان اچھے سے سمجھتا تھا اسی لیے گریز برتتا تھا کیونکہ اس نے اپنی زندگی کی محبت کر لی تھی چاہت وجدان سے اور اب کسی اور کی گنجائش تو قطعاً نہیں نکلتی تھی۔

“اووو۔۔۔اچھی لگ رہی ہو!” اس نے کہا تو چاہت نے جواب نہ دیا۔

“میں آرام کروں گی”چاہت نے کہتے اٹھنا چاہا۔۔۔

جب صباء جلدی سے اس کے سامنے آئی جس سے چاہت اس سے ٹکرانے سے نچنے کی خاطر سائیڈ پر ہوتی صوفے پر گرنے لگی تھی جب وجدان نے تھام لیا۔

“تمہارا دماغ درست جگہ پر ہے صباء یہ کیا حرکت تھی؟”

وہ دھاڑا تو صباء کے ساتھ دادی بھی حیران ہوئی۔

“کیا ہوا وجدان؟ کچھ نہیں ہوا تمہاری بیوی کو!” دادی نے کہا

“ہونا بھی نہیں چاہیے!” وہ صباء کو دیکھتا بولا تو وہ گڑبڑا گئی۔

“دادی آپ کے زاتی اختلاف ایک طرف لیکن چاہت کی اس حالت میں میں کسی قسم کی کوئی بدمزگی نہیں چاہتا ہوں اس گھر میں۔۔۔۔یہ گھر اب چاہت کے نام ہے یہاں کا سب اس کا ہے سب اس کے مطابق ہوتا ہے یہاں۔۔۔۔آپ اگر یہاں آرام دہ محسوس نہ کریں تو مجھے بتا دیجئے گا میں کسی اور گھر کا انتظام کر دوں گا لیکن چاہت اور اپنی اولاد پر میں کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا۔”

چاہت نے اس شخص کو دیکھا۔۔۔۔وہ کھویا مقام ایسے دلاتا تھا کہ چاہت خالد دنگ ہی تو رہ جاتی تھی۔

اس دن شاید حالات ان دونوں کے حق میں نہ تھے دونوں ایک دوسرے کو غلط سمجھے تھے جس کے نتیجے میں ان دونوں نے چار مہینوں کی دوری سہی تھی۔

“وجی۔۔۔تیری اولاد!”

دادی اس کی اولاد کا سنتی یک دم کھڑی ہوئیں۔

جی! اس نے چاہت کو ساتھ کھڑے کرتے مسکراتے دیکھا۔۔۔وہ مسکراہٹ سچی تھی۔

دادی نے چار مہینوں بعد اسے مسکراتے دیکھا تھا۔۔۔۔اور یہیں سب دم توڑ گیا تھا۔۔۔۔

وہ اپنی ناراضگی یا ناپسندیدگی کبھی بھی نہیں لانا چاہتی تھیں ان دونوں کے درمیان جو ایک ساتھ مکمل تھے اور سب سے بڑھ کر ان کا پوتا خوش تھا اپنی زندگی میں۔

“یہاں آؤ!”

انہوں نے چاہت کو دیکھتے سنجیدگی سے کہا تو چاہت نے سر اٹھاتے وجدان کو دیکھا جس نے آنکھوں سے اسے جانے کا اشارہ کیا تھا۔

وہ قدم بڑھاتے ان کی طرف گئی یوں بھی اس کے دل میں ان کے لیے زیادہ ناراضگی تو نہ تھی کیونکہ جیسے وجدان لاعلم تھا صباء کی اصلیت سے وہ بھی تھیں شاید۔

انہوں نے اس کا ہاتھ تھامتے اسے سر پر پیار دیا۔

“مجھے یقین ہی نہیں ہو رہا!”

وہ سمجھ نہیں پائیں تھیں یوں بھی انہیں اس کے جانے کے بعد اپنی سختی کا اندازہ ہو گیا تھا جب انہوں نے وجدان کی وہ حالت دیکھی تھی۔

لیکن صباء نے ان کا دل پوری طرح سے چاہت کے لیے کبھی صاف ہونے دیا ہی نہیں تھا۔

لیکن آج وجدان کو خوش دیکھ کر وہ سب بھول گئی تھیں اس کا دھکا، اس کی باتیں سب!

“میں خوش ہوں تمہارے لیے” وہ مسکرائی تو چاہت بھی مسکرا دی۔

“آپ بڑی ہیں مجھ سے میں بہت عزت کرتی ہوں آپ کی کیونکہ یہی میری تربیت ہے۔۔۔چار مہینوں پہلے جو ہوا مجھے اسے موضوعِ بحث کبھی نہیں لانا۔”

وہ بولی تو دادی کے دل میں اس کے لیے آخری گرہ بھی کھل گئی تو وہ اسے گلے لگا گئی۔

وجدان انہیں دیکھتے مسکرا دیا تو وہیں صباء کڑوا گھونٹ بھرتی رہ گئی۔

ناشتہ کرتے وجدان چلا گیا تھا وہ دادی کے پاس بیٹھی نجانے کب تک وجدان کی بچپن کی باتیں سنتی رہی تھی۔

اپنے فون کی آواز سنتے وہ دادی کے کہنے پر کمرے میں آئی تھی۔

جی! اس نے وجدان کی آواز سنتے کہا۔۔۔چار مہینوں بعد اس کا نام سکرین پر چمکا تھا۔

“کھانا کھا لیا ہے؟”

جی!

“کیا کھایا ہے؟”

بریڈ انڈا ۔۔

“وہ ناشتہ ہوتا ہے چاہت۔۔۔کھانے کے وقت یہ سب دوبارہ مت کھانا۔۔۔”اور دوا لی ہے؟ وہ مصروف سا بولا۔

“ابھی وہی لینے لگی تھی!”

“تو اگر میں فون نہ کرتا تو تم کبھی نہ کھاتی۔۔۔۔اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ چاہت میں بتا رہا ہوں۔”

واپسی پر آئسکریم لیتے آئیں۔

اوکے! اور کچھ؟ وہ اب اپنا کام چھوڑ چکا تھا اس لیے مسکراتے بولا۔

“کپ کیکس کا بھی دل تھا کل۔۔۔۔”

وہ بھی لے آؤں گا اور بولو!

“نہیں اور کچھ نہیں!”

“تمہارے کپڑے میں منگوا چکا ہوں چاہت۔۔۔۔باقی سب جو چاہیے وہ پرچی پر لکھ کر کل ملازمہ کو دے دینا۔

ملازمہ کو کیوں؟ آپ کو کیوں نہیں؟”

کیونکہ میں مصروف ہوتا ہوں۔۔۔۔کیسے سب خریدتا رہوں گا۔

“تو شادی میری ملازمہ سے نہیں ہوئی نہ میں اس کی زمیداری ہوں۔۔۔۔میں ابھی بھیج رہی ہوں سب کچھ لکھ کر واپسی پر مجھے اپنی ساری چیزیں چاہیے وجدان اور آج ہی چاہیے۔”

ٹھیک ہے میں لے آؤں گا بھیج دو مجھے! وہ جانتا تھا وہ چار مہینوں سے اپنے لیے سب خود کر رہی تھی وہ جانتا تھا سامان لانا بہت چھوٹی بات تھی اصل بات اسے چاہت کا زاتی کام خود کرنا تھا وہ یہ بتا رہی تھی۔

“مجھے اب نیند آرہی ہے!”

“بیوی تم جب سے یہاں آئی ہو صرف سو رہی ہو!

آپ مجھ سے سوری کب بولیں گے؟” چاہت نے لیٹتے پوچھا۔

“اب تو تم مان گئی ہو۔۔۔رات گئی بات گئی والا کام ہو گیا ہے اب تو۔”

“ہرگز نہیں” وجدان چوہدری وہ سنجیدگی سے بولی تو خاموشی چھا گئی۔

اچھا میں رکھتا ہوں مجھے میٹنگ میں جانا ہے وہ کہتا کال کاٹ گیا تو چاہت نے دوبارہ سے ملایا۔

کیا ہوا؟

“کال میری طرف سے کاٹی جائے گی ہر بار آپ نہیں کاٹیں گے سمجھیں؟” وہ یہ کہہ کر کال کاٹ گئی تو وجدان وہاں بیٹھا مسکرا دیا۔

آج اس کے آفس کے لوگ اُس پہلے والے وجدان چوہدری سے ملے تھے۔

“ہاں بس کام اتنا ہے کہ اسے مرنے کی حالت پر لا کر تڑپتا چھوڑنا ہے” صباء نے اس کے چہرے کی مسکراہٹ کو کھڑکی سے دیکھتے کہا۔

“قیمت مل جائے گی تمہیں۔۔۔۔۔”

“تصویر کا کیا کرو گے؟”

“اس دن صرف وہی ہو گی گھر”۔۔۔وہ شخص شاید چاہت کی تصویر مانگ رہا تھا جو اس کا شکار بننے والی تھی۔

ٹھیک ہے! وہ کال کاٹ گئی اور چاہت کے چہرے پر پھیلی شادابی اور سکون کو دیکھتے لگی۔

“بس زیادہ دیر نہیں مس چاہت۔۔۔وجدان چوہدری کو نا چار مہینے پہلے تمہارا ہونے دیا تھا نہ اب ہونے دوں گی۔۔۔”

وہ کہتی چلی گئی تو چاہت پر نیند کا غلبہ چھا گیا۔۔۔۔وہ سب سے انجان سکون کی وادی میں کھو گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مجھے وہ شخص آج ہی جیل کی سلاخوں میں چاہیے” اس نے فون کال کے ساتھ لگاتے کہا۔

“ہم ایسا نہیں کر سکتے میر۔۔۔۔ہمیں پیچھے سے حکم۔۔۔۔”

“پیچھے حکم کا انتظار کرتے رہیں گے آپ۔۔۔وہ دوبارہ میرے گھر میں گُھس کر میری بیوی کو نقصان پہنچا دے گا۔۔۔۔”وہ چیخ رہا تھا۔

“ہوش سے کام لو” وہ سنجیدگی سے بولے۔

“ہوش۔۔۔سے کیا کام لوں سر؟ وہ میری بیوی کو زیرِ بحث لایا ہے میں اسکی نسلیں تباہ کر دوں گا۔۔۔۔”

وہ وہیں بیٹھتا ٹانگ میں اٹھنے والے درد کو ضبط کرنے لگا۔

“نہیں کا مطلب نہیں! تمہاری ریکوری کے بعد حملہ کیا جائے گا کیونکہ نیازی کا کیس تمہارے پاس تھا۔”

اس نے بنا کچھ کہے کال کاٹ کر دوسرا نمبر ملایا۔

“نیازی چاہیے مجھے۔۔۔۔۔چوبیس گھنٹوں کے اندر۔۔۔۔ اب میں زاتی طور پر ملوں گا اس سے۔”

آپ کا کام ہو جائے گا سر! اس نے کال کاٹ دی تو حیات کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔

“کیا اب بھی مجھے حقیقت بتانے کا ارادہ نہیں ہے میر حاد ابراہیم؟”

“کیسی حقیقت؟” وہ اس کے بھیگے گال بخوبی دیکھ سکتا تھا۔

“میر حاد ابراہیم کی حقیقت؟ ڈارک ویزرڈ کی حقیقت؟

میں سمجھ نہیں پائی تم حکومت کے لیے کام کر رہے ہو یا حکومت کے خلاف؟” وہ آج اس کے سامنے سوالیہ نشان بنی کھڑی تھی۔

“حیات یہ سب تمہارے جاننے کی باتیں کبھی نہیں رہیں ان سب سے دور رہو۔”

“اچھا تو مطلب میرا شوہر کیا کام کرتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا اور میں بیوی ہوتے ہوئے بھی خاموش رہوں؟”

یہاں آؤ!

“نہیں! مجھے ابھی جاننا ہے مجھے باتوں میں اب مزید مت الجھائیں؟ وہ سرد کمرہ، خون خرابہ وہ پہلی ملاقات؟ لوگوں پر تشدد؟ میڈیا کی نظروں سے بھاگنا؟ کیا ہے سب؟”

“میں ایجنٹ ہوں سیکریٹ ایجنسی کا۔۔۔۔سب کام حکومت کے لیے کرتا ہوں۔۔۔۔”

“نیازی کون ہے؟”

حیات! وہ بے بس ہوا۔

“نیازی کون ہے؟ ہمارے گھر تک کیوں پہنچا؟”

“میرے ماں باپ کا قاتل!” حاد نے کہتے اپنی نظریں اس پر سے ہٹاتے سامنے دیوار پر جما لی تو حیات نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔

“وہ تو پلین کریش۔۔۔!”

“وہ حادثہ نہیں تھا سوچی سمجھی چال تھی۔۔۔۔۔۔۔”

وہ ایسا کیوں کرے گا؟ حیات نے حیرت سے پوچھا۔

کیونکہ اسی طرح کے ایک شیطان کو جہنم وصل کیا تھا بابا نے بس اس نے بدلہ لیا ہے لوسیفر کا۔۔۔۔اور جب تک میں اسے اس کے انجام تک نہ پہنچا دوں سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔

“اس سے زیادہ تم کچھ نہیں جانو گی حیات ان سب سے دور رہو یہ میری درخواست ہے تم سے” اس نے سنجیدگی سے کہا تو حیات نے سر ہلایا۔

“یہاں آؤ اب!” حیات نے نفی میں سر ہلایا اور واپس مُڑی وہ اس کا خود پر چِلانا اب بھی نہیں بھولی تھی۔

“حیات میں بُلا رہا ہوں!” میر حاد ابراہیم نے سختی سے کہا لیکن وہ نا رُکی۔

“حیات اب تم میرے پاس نہیں آؤ گی جب تم چاہوں گی تب بھی نہیں” اسے دروازہ بند کرتے میر حاد ابراہیم کی آواز آئی تھی۔

“سر وہ آج شام وہاں پہنچا دیا جائے گا!”

اوکے!

“کیا انہیں آپ ہی کہ گھر پہنچانا ہے یہ ضروری ہے؟ کیا یہ سیو ہے؟”

“بالکل! میں سنبھال لوں گا بس اسے یہاں کالی پٹی میں پہنچانا۔۔۔۔بس وہ اپنی موت گاہ کو دیکھ پائے اور کسی چیز کو نہیں۔”

اوکے!

“پچھلے دروازے سے پہنچانا۔۔۔۔شور بالکل نہ ہو۔۔۔یہ بات ہمارے درمیان رہنی چاہیے۔۔۔۔”اور کال کاٹ دی گئی۔

“ٹھیک ہے نیازی آج ملاقات ہو گی!”

وہ کہتا اپنے سامنے لیپ ٹاپ پر کام کرنے لگا۔۔۔۔اس کی موت کے بعد اسے ایک نوٹ بھی چھوڑنا تھا یہ موت ایک خودکشی اور اس کے اقرارِ جرم کے ساتھ کل صبح کی خبروں میں نشر ہونی تھی۔

حیات نے اپنے چکراتے سر کو تھاما اور صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔۔کچھ دیر پہلے حاد کو نظرانداز کرتے آئی تھی وہ اب اسے کیسے آواز دیتی۔

ابکائی آنے پر واش روم کے دس چکر لگاتے اب وہ نڈھال سی تھی۔۔۔چہرہ پسینے سے تر تھا۔۔۔۔اس نے آنکھیں بند کرتے دروازے کو کھلتے محسوس کیا۔

“حیات؟”

میر حاد ابراہیم بمشکل قدم اٹھاتا اس تک آیا تھا۔۔۔اسے سیدھا کر کے بٹھاتے اس کے چہرے کو صاف کرتے فون پر ڈاکٹر کو بلایا تھا اسے اتنا یاد تھا۔

“آپ کی وائف ایکسپیکٹ کر رہی ہیں کوئی بھی پریشانی کی بات نہیں۔۔۔۔”

وہ تب سے انہیں لمحات کے زیرِ اثر تھا ان لمحات میں وہ خوش تھا بے حد لیکن اس وقت وہ حیات کو نہیں بتانا چاہتا تھا وہ اس خوشی کو اچھے سے منانا چاہتا تھا لیکن نیازی کو اس کے انجام تک پہنچانے کے بعد۔