You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 22
Rate this Novel
You're All Mine Episode 22
You’re All Mine by Suneha Rauf
اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔
“نکاح تو کرنا تھا کیونکہ مرد محبتوں سے اور زبان سے ہٹتے اچھے نہیں لگتے۔۔۔”
اس نے چاہت کے باپ کو زبان دی تھی اور چاہت نے جو بھی کیا تھا وہ بدلے میں اپنے دل کو یہ کبھی نہیں سمجھا سکتا تھا کہ وہ غلطی پر ہے۔
چاہت کے ساتھ بیٹھتے اس نے مولوی صاحب کو دیکھا جو رب العالمین کے نام سے اس رشتے کا آغاز کر چکے تھے۔
چاہت کی نظر اپنے ہاتھوں پر تھی۔
“کیا اتنا آسان ہے اپنی محبت کو پا لینے؟” اس نے خود سے سوال کیا۔
لیکن نہیں جانتی تھی کہ یہ محبت کی آزمائشیں اسے کہاں لے جائیں گی۔
“نکاح مبارک!”
یہ لفظ دونوں نے سُنتے یک دم سر اٹھایا تھا۔۔۔۔اور پھر ایک مسکراہٹ چاہت خالد کے ہونٹوں کو چھو گئی لیکن۔۔۔۔۔
وجدان چوہدری یوں ہی بیٹھا رہا بے حس و حرکت۔۔۔پھر خالد صاحب کے متوجہ کرنے پر کھڑا ہوا اور ان سے مبارک باد وصولنے لگا۔
نظر سامنے تہر گئی جہاں چاہت کی ماں اس کا چہرہ بار بار چوم رہی تھیں۔
اپنی دادا کی یاد آتے اس نے آنکھیں میچی۔
فون پر اب صباء کا نام چمکنے لگا تھا جو اس نے نظرانداز کیا تھا ابھی کے لیے۔
“میرا پتر خوش رہیں صدا۔۔۔۔”
“اس بات کو زہن میں رکھ کے نا زیادہ جھکنا ہے اور نا زیادہ اکڑ کر کھڑے رہنا ہے۔
اگر زیادہ جھکے گی تو اپنی قیمت کھو دے گی اور اگر زیادہ اکڑے گی تو اپنی محبت کھودے گی۔۔۔”اس کی ماں نے کتنی خوبصورت بات کہی تھی۔
“مجھے امید ہے تو میری دھی کو خوش رکھے گا” انہوں نے وجدان چوہدری کو پیار دیتے یقین سے کہا تو وہ سر ہلا گیا۔
چاہت اسے دیکھ کر مسکرائی تو وہ رُخ موڑ گیا۔
چاہت وجدان چوہدری کا دل پہلی بار کانپا تھا۔۔۔وہ اسے اتنے خاص لمحے پر کیسے یوں نظر انداز کر سکتا تھا۔
دل نے کئی بار کہا کہ یہ محض لمحے کا حادثہ تھا لیکن اس کا دماغ ماننے کو تیار ہی نہ تھا۔
اس کے والدین جا چکے تھے وجدان چوہدری کی گاڑی پر۔۔۔اب وہ دونوں ہی بچے تھے۔
“وجدا۔۔۔۔۔۔”
اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔۔۔وہ چاہت کو نظرانداز کرتا کال اٹھاتا باہر نکل گیا۔
چاہت کئی لمحے اس کی پشت کو دیکھتی رہی۔۔۔ہاں یہ دوسری بار تھا اور اب کی بار دماغ کی دلیلیں ناکام گئی تھیں۔
“بولو صباء!”
“وجی! دادی!”
“کیا ہوا ہے دادی کو؟ کیا وہ ٹھیک ہیں؟”
“نہیں! وہ ٹھیک نہیں ہیں۔۔۔۔ابھی ہسپتال سے آئیں ہیں ہم۔۔۔شکور چچا ساتھ تھے شام سے۔”
“کیا ہوا ہے؟ تم مجھے اب بتا رہی ہو؟ دماغ سیٹ ہے اور شکور نے کیوں نہیں بتایا مجھے؟”
“دادی تم سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔۔”صباء کے کہے جملے نے اس کا سانس روک لیا۔
“تو کیا وہ وقت آ گیا تھا۔۔۔سات سال ہو گئے تھے۔۔۔سات سال ۔۔۔۔”اس نے ان لفظوں کا انتظار کیا تھا۔
“وجی؟” یہ آواز وہ پچھلے سات سالوں سے سننا چاہتا تھا۔
“دادی؟”
تُو آ جا! کاٹ کٹ گئی تھی وہ اندر کی طرف دوڑا۔
چاہت نے اسے برق رفتاری سے اپنے کمرے میں جاتے دیکھا تھا۔
شاکر!
“شاکر۔۔۔میرا سامان باندھو!”
گھر میں افراتفری سے مچ گئی تھی۔۔۔۔وہ بھی شش و پنج کا شکار خود ہی اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔
“وجدان کیا ہوا؟ کیا آپ کہیں جا رہے ہیں؟”
“ہم جا رہے ہیں!” وہ سنجیدگی سے بولا۔
“لیکن کہاں؟”
“وہ تمہارا جاننا ضروری نہیں ہے۔۔۔کچھ سامان ساتھ لینا ہے تو لے لو اور گاڑی میں پہنچو میں آ رہا ہوں” حد درجہ سرد لہجہ۔
چاہت نے حیرت سے اسے دیکھا اور وہیں ساکت سی کھڑی رہ گئی۔۔۔۔یہ وہ لہجہ تو نہ تھا۔۔۔۔ کیا محبت کے حصول پر یہ سلوک ہوتا ہے؟
“کیا عام زندگی میں بھی نکاح کے بعد ایسا ہی رؤیہ اختیار کیا جاتا ہے؟”
نہیں!
“ایسا نہیں ہوتا!”
“دیکھ کیا رہی ہو مجھے جانے کا بولا تھا میں نے۔”
“وجدان یہ کیسے بات۔۔۔؟”
“ابھی وقت نہیں ہے۔۔۔اس موضوع پر بات کریں گے بلکہ اسی موضوع پر ہی تو بات کرنی ہے اب ہمیں۔”
چلو ابھی! اس کے ہاتھ کو پکڑتے اپنے ساتھ لے جاتے وہ بولا۔
سارے راستے وہ کچھ نہیں بولا تھا۔۔۔بلکہ تیزی سے ڈرائیو کرتے اس نے ایک بھی بار اسے نہیں دیکھا تھا۔
اپنی دو گھنٹے پہلی ہوئی شادی اور محبت کی دلہن کو ایک نظر دیکھا تک نہ تھا اس نے بات کرنا تو دور کی بات تھی۔
نجانے کتنے گھنٹے وہ ایک ساتھ بیٹھے رہے تھے بنا ایک بھی لفظ ادا کیے۔
مسلسل چار گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ ایک گھر کے سامنے رُکے تھے اس نے ہارن دیتے گاڑی اندر بڑھائی۔
وہ خوبصورت گھر تھا، پرانی طرز کا بنا لیکن نفاست سے بھرپور حسن کا شاہکار۔
وہ اتراتا بنا اسے کچھ کہے اندر تیزی سے گیا وہ کئی لمحے پاگلوں کی طرح وہاں کی دیواروں کو دیکھتی رہی شاید اینٹوں کے رنگ کو اس نے پہلی بار اتنے غور سے دیکھا تھا۔
“دادی؟”
اس نے اندر جاتے سامنے ہی وجدان کو ایک بوڑھی عورت سے لپٹے دیکھا تھا۔
پاس ہی ایک وجدان کی عمر کی لڑکی انہیں مسکراتا دیکھ رہی تھی۔
اسے لگا وہ مجسمہ ہے شاید ایک بیکار سا۔۔۔جو اس جگہ تو بالکل نہیں ہونا چاہیئے تھا۔
“وہ۔۔۔؟”
دادی نے اس کے پیچھے دیکھتے کہا تو وہ چونکا پھر پیچھے دیکھا۔
“وہ کون ہے وجدان!” لہجہ اب بھی بیگانہ تھا۔
وجدان نے چاہت کو دیکھا جو وہیں کھڑی تھی۔۔۔
“کیا کوئی اپنی بیوی کا تعارف کرواتے یوں ٹھٹک کر رُکتا ہے؟ کیا اتنا وقت لگتا ہے لفظوں کے چناؤ میں؟”
“”یہ میری دوست ہے!””
چاہت نے جھٹکے سے سر اٹھاتے اسے دیکھا۔۔۔۔بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
“اس کے والدین دور رہتے ہیں۔۔۔یہ میری سیکرٹری بھی ہے تو جب تک میں یہاں ہوں ہم یہیں سے کام کریں گے۔۔۔۔یہ بھی نئی جگہ گھومنا چاہتی تھی تو۔۔۔۔۔”
چاہت کے لبوں پر تمسخر اڑاتی مسکراہٹ پھیلی۔
“دوست۔۔۔ہاں دوست تھی وہ اس کی۔۔۔”
“اس بات کی معافی کبھی نہیں ہو گی وجدان چوہدری۔۔۔”وہ دل میں خود سے عہد کر گئی۔
“کیسے ہو کرائم پارٹنر؟”
صباء آگے بڑھتی اس کے کندھے سے لگی تو وہ مسکرایا پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھتا اس سے باتیں کرنے لگا۔
“خوش آمدید بیٹا!”
دادی نے اسے اپنے پاس بلایا تو وہ قدم قدم چلتی ان کے پاس آئی پھر سر جھکا کر پیار لیا۔
وجدان کے لیے اس نے ان کی طرف سے ایسی گرمجوشی نہ دیکھی تھی لیکن وہ اس سے اچھے سے مل رہی تھیں۔
“تم خوبصورت ہو بیٹی!”
“تمہارا گندمی رنگ تم پر خوب جچتا ہے اور ایسا بہت کم لوگوں کے لیے ہے، تمہاری آنکھیں بے حد خوبصورت ہے کیا کسی نے اس سے پہلے تمہیں بتایا ہے؟”
وہ بس جواباً مسکرا ہی سکی۔
“صباء دونوں کو کمرے دکھاؤ۔۔۔”
“وجدان چوہدری آرام کے بعد مجھے میرے کمرے میں ملیں” وہ کہتی اپنی لاٹھی کا سہارا لیتے کھڑی ہوئی۔
تو صباء نے مسکرا کر انہیں ان کے کمرے دکھانے کا کہا تو انہوں نے قدم آگے بڑھائے۔
“وجدان یہ تمہارہ کمرہ ہے تم جانتے ہو اور چاہت آپ میرے ساتھ آئیں” وہ کہہ کر نکل گئی۔
“مجھے واپس گھر جانا ہے اپنے!” چاہت نے وجدان کی پشت کو دیکھتے کہا۔
جو اپنا کمرہ دیکھ رہا تھا جو آج بھی ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
“یہاں کسی قسم کا کوئی ہنگامہ میں برادشت نہیں کروں گا! خاموش رہو جب تک میں چاہتا ہوں”
وجدان نے اسے کھینچ کر اس کے ہاتھ کو اپنی سخت گرفت میں لیتے کہا۔
چاہت کی آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئیں۔۔۔۔اپنا ہاتھ چھڑواتے وہ تیزی سے وہاں سے نکل گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آحل نے اسے بتایا تھا کہ وہ آج اس کے گھر جا رہے ہیں اس کی ماں اور باپ سے ملنے۔
وہ صبح سے تیاریوں میں لگی تھی کیونکہ آحل جا چکا تھا شوٹنگ پر۔
اس نے دس جوڑے نکال کر انہیں رد کیا تھا اب وہ بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اسے کیا پہننا چاہیے۔
چاہت جا چکی تھی۔۔۔اس نے فون پر الہام کو سب بتا دیا تھا۔۔۔الہام اس کے لیے بہت خوش تھی لیکن ناراض بھی کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے نکاح میں شریک نہ ہو پائیں تھیں۔
“امممم۔۔۔کیا پہنوں؟”
آحل سے پوچھتی ہوں۔۔۔اس نے ویڈیو کال کر کے فون سامنے سیٹ کیا تاکہ باری باری اسے جوڑے دکھا سکے۔
“کیا ہوا الہام؟” آحل نے فون اٹھاتے ہی استسفار کیا۔
“کچھ نہیں!”
“آپ بتائیں کیا کر رہے ہیں؟”
“تیار ہو رہا ہوں۔۔!”
“اوکے!” الہام دیکھ سکتی تھی پیچھے کا ماحول۔۔۔آحل زرا ہٹ کر تھوڑا سا دور ہوا۔
“اچھا آج آپ کیا پہنیں گے؟”
“جو نکال دو گی میں پہن لوں گا! میں کون سا اپنے والدین سے پہلی بار ملنے جا رہا۔۔۔۔”وہ شرارت سے بولا۔
“لیکن میں تو پہلی بار جا رہی نا!”
“مجھے بتائیں کیا پہنوں میں۔۔؟” وہ باری باری اسے جوڑے دکھانے لگی۔
‘ناں۔۔۔کچھ خاص نہیں۔۔۔”وہ کوئی ساتویں جوڑے کو رد کر چکا تھا۔
الہام تھک کر بیٹھ گئی۔
“میں لیتا آؤں گا۔۔۔”آحل نے اپنے نام کی پکار پر اسے کہتے کال کاٹی۔
الہام نے اس کے لیے کالے رنگ کی شرٹ نکالی اور ڈریس پینٹ نکالتے ساتھ جوتے نکالے۔
اپنا ہلکا سا میک اپ کیا اور اب اس کے انتظار میں وہاں موجود تھی۔
آحل نے آتے اسے ساتھ لگاتے اس کے کپڑے تھمائے جو آتے وہ خرید کر لایا تھا۔
“کیا ہے اس میں؟” وہ پُرجوشی سے بولی۔
“خود دیکھو! کھولو جلدی سے!” آحل نے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑتے کہا۔
الہام نے دیکھا وہ کالے رنگ کا شفون کا لمبا پاؤں کو چھوتا فراک تھا اس کے سائز کا۔۔۔ساتھ ہم رنگ کُھسا۔
“خوبصورت۔۔۔۔”
“پسند آیا؟”
“بہتتتتت۔۔! اچھی پسند ہے آپ کی۔۔۔”الہام نے واہ واہ کرتے کہا تو وہ مسکرا دیا۔
“جاؤ اب جلدی سے تیار ہو کر آؤ۔۔۔ہم لیٹ ہو جائیں گے۔”
الہام فوراً اندر چلی گئی۔۔۔تیار ہوتے اس نے اپنے لائے بھاری جھمکے پہنے۔
یہ جھمکے اس نے ضد پر لیے تھے کیونکہ حیات کا کہنا تھا وہ یہ نہیں پہن پائے گی لیکن اسے بے حد پسند آئے تھے۔
آہ!
پہننے اس کے منہ سے سسکی برآمد ہوئی کیونکہ وہ بھاری تھے ۔۔لیکن وہ اس کے فراک کے ساتھ بے حد جچ رہے تھے اسی لیے اتارے نہیں۔
آحل نے اسے دیکھتے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ جھجکتی قدم قدم چلتی اس کے پاس آئی۔
“آج تو ہمیں مارنے کا ارادہ کیا ہوئے ہیں آپ محترمہ۔۔۔”وہ جھینپ گئی۔
“اففف۔۔چلیں؟”
“اسے اتار کر کچھ اور پہن لیں!” آحل نے اس کے جھمکوں کو دیکھتے کہا۔
“نہیں! یہ اچھے لگ رہے ہیں چلیں!” اس نے آحل کو دیکھتے کہا۔
“مجھے بائیک پر بیٹھنا نہیں آتا۔۔۔”وہ پہلی بار ساتھ نکاح کے بعد اب جا رہے تھے کہیں۔
“میں بابا کو بول کر گاڑی۔۔۔۔۔”
“ہرگز نہیں! میں انتظام کر رہا ہوں۔۔۔پیسے ہوتے ہی ہم اپنی لے لیں گے!” آحل نے سنجیدگی سے کہا۔
“کیب کروا لیتے ہیں پلیز۔۔۔!”
“الہام یہ میرا اصل ہے اسے قبول کریں۔۔۔اور عادت ڈال لیں جب تک میں گاڑی نہیں خریدتا۔”
“اندر سے چادر لے کر آؤ میری!”
الہام کے گرد اچھے سے چادر دیتے اس کا فراک سنبھال کر اسے پکڑاتے اس نے بٹھایا تھا۔
الہام نے رب العالمین کا نام لیتے وہ سفر کاٹا تھا۔۔۔اسے آج پتا چلا تھا کہ بائیک پر سفر کرنا کرنا مشکل ہے۔
شاید کسی روز وہ اس کی عادی ہو جائے۔۔۔یا شاید نہیں۔۔۔۔!
وہاں پہنچ کر فیاض صاحب اور ان کی اہلیہ اچھے سے ملیں تھی الہام سے۔
سب اچھے سے گزرا تھا۔۔۔۔کرن صاحبہ نے اس سے کچن میں لے جاتے روٹی ڈالتے کئی ساری باتیں کیں تھیں۔
“کیا آپ کھانا پکانا جانتی ہیں الہام؟”
“نہیں!” وہ نجانے کیوں لیکن شرمندہ ہوئی۔
“میں جانتی ہوں آپ کو ان سب کی عادت نہیں ہے لیکن کھانا پکانا ہر عورت کو آنا چاہیے۔۔گھر کے باقی سارے کاموں کے لیے بیشک کام والی لگوا لیں لیکن کچن کا کام اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہیے۔”
میں سمجھ گئی ہوں۔۔۔الہام نے مسکراتے کہا تو وہ بھی مسکرائی۔
واپسی پر ان کو الوداع کیا تو آحل نے الہام کی طرف دیکھا وہ کچھ پریشان سی تھی۔
شاید دوبارہ بائیک پر بیٹھنے کی وجہ نہ سے یا کیا وہاں کوئی بات ہوئی تھی۔
آحل نے اسے دیکھتے اس کے کانوں میں لٹکتے وہ لمبے جھمکے اتارتے اپنی جیب میں رکھے۔
“دیکھو کیا حال کر لیا ہے تم نے اپنے کانوں کا” وہ اس کے کانوں کو اپنی انگلیوں سے سہلاتا بولا تو وہ مسکرائی۔
“اب یہ نہیں پہنو گی تم۔”
“مجھے بے حد پسند ہیں یہ۔۔۔!” وہ اب بھی ضد پر اڑی تھی۔
“میں ایسے نئے دلوا دوں گا لیکن چھوٹے سے۔۔۔لیکن یہ دوبارہ نہیں پہننا سمجھ رہی ہو۔۔۔”اسے بٹھاتے وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ سر ہلا گئی۔
پھر گھر آتے اس نے چینج کرتے آحل کو دیکھا جو اپنی چائے خود بنا رہا تھا۔
کرن صاحبہ کی بات یاد آتے اس نے سر نفی میں ہلایا پھر اسے شب خیر کہہ کر اپنے پورشن میں چلی گئی سونے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات نے کسمساتے اپنے ہاتھ بستر پر پھیلائے پھر دھیرے سے آنکھیں کھولیں۔
آنکھیں منتظر تھیں اس شخص کے دیدار کی لیکن وہ ہوتا تو پھر نا۔
حیات نے سلیپرز پہنے بغیر تیزی سے دروازہ عبور کیا اور پھر سارا گھر ہی تو اس نے چھان مارا تھا۔
“کیا ہوا بیٹی کچھ چاہیے؟” گارڈ نے اسے باہر نکلتے دیکھ پوچھا۔
“چچا؟ میر کہاں ہیں؟”
“وہ تو چلے گئے تھے صبح ہی فجر کی نماز ادا کر کے!” چچا نے اسے بتایا تو وہ ساکت رہ گئی پھر دھیرے سے اندر چلی آئی۔
“ٹھیک ہے تم مجھے ایک بار پھر چھوڑ گئے ہو۔۔۔اب میں تمہیں بتاؤں گی کہ نظرانداز کرنا کِسے کہتے ہیں۔”
اس نے واقع یونیورسٹی کی لسٹ میں اپنا نام دیکھتے کورس پورا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہاں آنے سے پہلے اس کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا لیکن اب اسے کچھ تو کرنا ہی تھا۔
اس نے اپنا فون اٹھایا اور میر صاحب کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال دیا۔۔۔اب وہ بظاہر مطمئن دِکھتی تھی لیکن اندر سے اسے یہ بات ناگوار گزری تھی بے حد۔
میر نے وہاں پہنچتے ہی گارڈ سے ساری صورتحال پوچھ لیں تھی
“اسے وقت پر یونیورسٹی پہنچانا۔۔۔اور اس کے واپسی کے وقت تک وہیں رُکنا ہے تمہیں۔”
“اوکے سر!”
“وہ اس کے علاؤہ کہیں بھی جائے اس کے ساتھ جاؤ۔۔۔گن تمہارے پاس موجود ہے۔”
“اوکے سر!”
میر نے فراغت پاتے ہی اس کے نمبر پر کال کی تھی۔۔۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ اس کے جانے کے بعد کیسا ردِعمل دیتی ہے۔
لیکن وہ خاموش تھی۔۔۔۔اس کے سارے کیمراز کنکٹ تھے لیکن وہ اپنے کمرے سے باہر ہی کہاں نکلتی تھی۔
“حیات پِک اپ دا فون ڈیمم۔۔۔۔”کوئی سولویں کال پر بھی اس کا نمبر نہیں مِلا تھا۔
اس نے گارڈ کو فون کیا۔
“حیات کو فون دو مجھے اس سے بات کرنی ہے۔۔۔۔!”
اوکے سر!
گارڈ دروازہ کھٹکھٹاتا حیات کو فون دے کر چلا گیا۔۔۔پہلے وہ حیران ہوئی کہ آخر کسے بات کرنی ہے اس سے۔۔۔پھر سمجھ آتے ہی تلخ مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔
“حیات!”
“جی؟”
“اَن بلوک کرو مجھے فوراً۔۔۔یہ کیا حرکت ہے دماغ درست ہے تمہارا؟” وہ غصے سے دھاڑا۔
“کیا میں آپ کو جانتی ہوں مسٹر میر؟”
“حیات میرا اس وقت مزاق کا کوئی موڈ نہیں ہے تم پہلے ہی مجھے بہت زِچ کر چکی ہو۔۔مجھے مزید مت آزماؤ۔”
“سچ بتاؤں تو میں آپ کو نہیں جانتی۔۔۔بلکہ میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتی جو چھوڑ کر فرار ہو جائے۔
مہربانی کریں مجھ سے دوبارہ رابطہ کرنے کی کوشش کو ترک کر دیں اور کال کاٹ دی گئی۔”
میر نے کال کٹتے ہی اپنا فون سامنے دیوار پر دے مارا۔
یہ لڑکی اسے پاگل کررہی تھی۔
“میر تمہاری فلائیٹ کا وقت ہو گیا ہے تمہیں نکلنا ہے!” اس کے ساتھی نے آ کر بتایا تو وہ پلٹا۔
اوکے!
اسے یہ کام جتنا جلدی ہو سکے مکمل کرنا تھا تاکہ اس لڑکی کا دماغ ٹھکانے لگا سکے۔
لیکن وہ کام جلدی کرتے ہوئے بھی سات دنوں کا ہو گیا تھا۔۔۔وہ گارڈ سے اس کے بارے میں ساری معلومات لے لیتا تھا۔
اس کے نمبر پر دن میں دس بار کالز کرتا لیکن وہ اپنی ضد پر اڑی تھی اور ابھی تک اس کا نمبر بلاک لسٹ میں ہی تھا۔
حیات نے بوریت کو دور کرنے کے لیے بیکنگ کا سارا سامان منگوایا تھا اب وہ کیک بنانے کی روز ایک ناکام کوشش کرتی تھی جو نجانے کب ہی ٹھیک بنتا۔
میر کا نمبر چاہتے ہوئے بھی اس نے ان بلاک نہیں کیا تھا۔
اور نہ گارڈ کا فون اس کے ہاتھ سے پکڑا تھا جب جب وہ اسے میر سے بات کرنے کا کہنے آیا تھا۔
آج وہ پھر کیک بنانے کی تیاریوں میں مصروف تھی۔
آج اس نے عزم کر لیا تھا کہ وہ بنا کر ہی رہے گی۔
چاکیپٹ کو میلٹ کرنے کے لیے اس نے رکھ دیا تھا۔۔۔آج سب وہ دھیان سے کر رہی تھی۔
“بس اب چاکیپٹ ڈالیں گے اوپر سے” وہ چہکتی تالی بجاتی بولی۔
چاکلپٹ کو اتارتے اس نے پلٹنا چاہا تھا جو اس کے ہاتھ سے گرتی اس کے پاؤں پر اور فرش پر پھیل گئی تھی۔
ایک دل خراش چیخ اس کے لبوں سے برآمد ہوئی تھی۔
گارڈ اور ڈرائیور دونوں ہی اندر بھاگتے آئے تھے۔۔۔انہیں بنا ضرورت کے اندر آنے کی اجازت نہ تھی لیکن چابیاں ان کے پاس موجود تھی اسی لیے وہ اندر موجود تھے۔
اسے روتے دیکھ انہوں نے فوراً میر کو فون کر کے حالات بتا دیے تھے۔
وہ وہیں سے فلائٹ بُک کروا چکا تھا۔۔۔۔وہ لڑکی اسے چین سے جینے نہیں دے رہی تھی۔
“تم ایسا نہیں کر سکتے میر! ہم کامیابی کے بہت قریب ہیں۔۔۔۔”انہوں نے سختی سے کہا۔
“میرا جانا بے حد ضروری ہے!” وہ دھاڑا۔
“ہمارے اس کام سے ضروری نہیں ہو سکتا۔۔۔آج رات کی بات ہے صبح تم آ سکتے ہو۔”
“آج رات ان کے خلاف آخری ثبوت جمع کر لو!”
نہیں!
“مت بھولو میر یہ سب کرنا تمہاری زندگی کا مقصد رہا ہے۔۔۔بات تمہارے والدین کی ہی نہیں بلکہ ان ہزار لوگوں کی بھی ہے۔”
میر نے اپنا کام پسِ پشت ڈال دیا تھا اور بنا کسی کی سنے اپنا کام خاموشی سے اسی رات کو ہی سر انجام دیتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
“کام ہو گیا ہے! میں نے ثبوت بھجوا دیے ہیں۔۔
چھان بین کے بعد اسے آگے بھجوا دو۔۔۔ہمیں صرف اجازت درکار ہے اب اس پر ہاتھ ڈالنے کے لیے۔”
اوکے!
وہ فلائیٹ کے لینڈ ہوتے ہی تیزی سے گھر پہنچا۔۔۔ڈرائیور کو ایک بار پھر ڈاکٹر کے بلانے کا کہتا وہ اندر چلا گیا۔
“میررررر!”
وہ جو اسے بلانے کا ارادہ نہ رکھتی تھی اسے دیکھتی رونے لگی تھی۔
ڈرائیور اور گارڈ نے اسے فوراً ہسپتال پہنچایا تھا تب اس کا دایاں پاؤں ہلکا سا جلا تھا لیکن پاؤں کی انگلیاں کافی جلی تھیں کیونکہ چاکلیٹ گرم تھی بالکل۔
“کیا کرتی رہی ہو تم میری پیچھے سے؟” میر نے اپنا سامان رکھتے سنجیدگی سے پوچھا۔
میں۔۔۔!
“جب تمہیں یہ سب نہیں آتا تو کیوں کرنے کی کوشش کرتی ہو۔۔۔خانساماں کو تم نے اپنی ضد سے بھجوا دیا میں خاموش رہا کہ وہ اپنے گھر سے بنا کر بھیج دیں گی لیکن یہ سب کیا ہے؟”
اس نے سامنے کچن کی حالت دیکھتے سختی سے پوچھا۔
حیات نے تیزی سے اٹھنا چاہا لیکن لڑکھراتے اسے دیکھا جو اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلا تھا۔
“میں واپس جا رہی ہوں!” وہ روتے چِلائی۔
میر قدم قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا اور جھٹکے سے اسے بٹھاتے اس کے قریب بیٹھا۔
“تم سے بہت سے حساب نکلتے ہیں میرے لیکن ابھی خاموش رہو گی تو بہتر ہو گا” وہ غرایا۔
پھر جُھکتے نیچے بیٹھتا اس کا پاؤں چیک کرنے لگا جو جلا تھا اور یقیناً وہ بہت درد میں تھی۔
لب بھینچ کر اسے دیکھا جس کا چہرہ سرخ تھا۔۔۔
ڈاکٹر کے آنے پر دوبارہ اپنی نگرانی میں چیک کرواتے ٹیوب لیتے اس نے ان سے پین کلرز بھی لی تھیں خاص طور پر اس کے لیے۔
اب وہ انہیں چھوڑتا واپس آیا تو وہ اپنے کمفرٹر میں لیٹی تھی آنکھیں بند کیے۔
“کھانا کھایا ہے؟”
حیات نے جواب نہیں دیا تھا۔
میر نے جھٹکے سے اس کے چہرے سے کمفرٹر اتارا۔
“میری بکواس سمجھ میں آرہی ہے تمہیں؟ اسوقت میں تمہارے نخرے دیکھنے کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں حیات!” وہ دھاڑا تو وہ سہم گئی۔
پھر تیزی سے سر ناں میں ہلایا۔
میر بنا اسے دیکھے باہر نکل گیا پھر ٹرے میں اس کے لیے چائے اور اپنی کافی رکھتا واپس آیا۔
اس کے لیے بریڈ کے دو سلائیڈ بھی لایا تھا اس کے آگے رکھتا اس کے ساتھ بیٹھا۔
“کھاؤ!”
حیات نے ناچاہتے ہوئے بھی کھانا شروع کیا اور ایک سلائس کے بعد ہی ہاتھ کھینچ لیا۔
“یہ تمہاری صحت اسی غذا کا نتیجہ ہے” دوسرا سلائیس اس کے ہاتھ میں پکڑاتے وہ حد درجہ سنجیدہ تھا۔
اس کی دوا دیتے اسے لٹایا اور پاؤں کے نیچے تکیہ رکھتے خود اٹھ کھڑا ہوا۔
“سو جاؤ!”
دوسرے کمرے میں جاتے فریش ہوتے اس نے ایک بار پھر کافی پی تھی۔۔۔تھکاوٹ حد سے زیادہ تھی۔
وہیں لیٹتے وہ نجانے کب سو گیا تھا آنکھ ہلکی سی آہٹ پر کُھلی تھی۔
اس نے نیم اندھیرے میں اسے لڑکھڑا کر اندر آتے اور پھر دروازہ بند کرتے دیکھا تھا۔
وہ دھیرے سے اس کے پاس آئی پھر یہاں وہاں نجانے کیا تلاشتے وہ بالکل کنارے پر اپنی جگہ بناتی لیٹ گئی تھی۔
میر کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی پھر لمحوں بعد اس کی آواز گونجی۔
“کیا کر رہی ہو یہاں؟”
حیات نے نیم اندھیرے میں اس کے چہرے کو دیکھا وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا نا آنکھیں کُھلی تھیں۔
“میں یہیں سوؤں گی!” وہ اسے بتا رہی تھی۔
“تو میں پھر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہوں!” سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی۔
“میررررر!”
اب وہ نم لہجے میں کہتی اس کا کارلر اپنے ہاتھوں میں تھام چکی تھی۔
“تم نے آٹھ دن مجھے زلیل کیا ہے وہاں دوسرے ملک میں بھول گئی ہو؟” میر نے اس کے ہاتھ اپنے کارلر سے ہٹاتے کہا۔
“تم بھول رہے ہو تم مجھے چھوڑ گئے تھے۔۔۔”شکوے کے بدلے شکایت تیار تھی۔
“مجھے کام تھا میں بتا چکا تھا۔”
“کون سا کام؟”
“یہ تمہارا جاننا ضروری نہیں ہے!”
خاموشی کا دورانیہ بڑھا۔
“آئیم سوری۔۔۔”حیات نے کہتے اس کے سینے پر پڑے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“میں نے معاف نہیں کیا ابھی!” میر نے کہا تو وہ ہٹتی بیڈ سے اترتی کہ وہ اسے کھینچ کر حصار میں لے گیا۔
“سو جاؤ!”
“تم مجھے بالکل پسند نہیں ہو۔”
“میں جانتا ہوں!”
“درد ہو رہا ہے؟؟”
“نہیں!”
“اوکے شب خیر!”
اپنی گردن پر اس کی گرم سانسیں محسوس کرتے وہ مسکرا دیا تھا۔۔۔اتنے دنوں کی بے چینی یک دم جیسے ختم ہوئی تھی۔
