You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 26
Rate this Novel
You're All Mine Episode 26
You’re All Mine by Suneha Rauf
وہ وہاں سے نکل آئی تھی۔۔۔۔اسے کہاں جانا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔
بابا؟
اس نے فون اٹھاتے اپنے باپ کو فون ملایا تھا۔
“میرا پتر۔۔۔؟
بابا؟ وہ ہچکیاں لیتی رونے لگی تھی۔۔۔
اسے یقین تھا بلکہ اندھا اعتماد تھا کہ دنیا میں ہر شخص اسے جھٹلا سکتا ہے لیکن اس کے ماں باپ نہیں۔
“کہاں ہے میری دھی؟
“بابا میں آ رہی ہوں!” وہ نم لہجے میں بولی اور پھر بس پکڑتی اپنے گاؤں چلی گئی تھی۔
اپنے باپ کو سب بتاتے اپنی ماں کی گود میں لیٹتے نجانے وہ کتنی دیر روتی رہی تھی۔
تُو اب واپس نہیں جائے گی! میری دھی۔
“ہم خلا لے لیں گے!” اس کی ماں نے کہا تو اس کا دل زور سے دھڑکا۔
ایسی باتیں یوں حل نہیں ہوتی بیگم ۔۔۔۔۔خالد صاحب بولے
“ہم اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے!”
وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔اب اس واقعے کو اسے ہضم کرنے میں نجانے کتنا عرصہ لگتا۔
بابا؟
جی میرے پتر؟ انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اسے مان بخشا۔
“میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں!”
“کہاں جائے گی؟”
“وہاں جہاں وہ مجھے ڈھونڈ نہ سکے۔۔۔”
تُو اس کا سامنا کیوں نہیں کرنا چاہتی؟ اس کی ماں نے استسفار کیا۔
“میں سامنا کروں گی شاید مستقبل میں۔۔۔لیکن ابھی نہیں۔۔۔اس دنیا میں وہ وہ واحد شخص ہے جسے میں دیکھنا نہیں چاہتی۔”
“ٹھیک ہے!” جیسا چاہت چاہے گی ویسا ہو گا اس کے باپ نے کہا۔
چاہت نے اب خود فیصلہ کرنا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔
“آپ کی دادی اب بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔بس کچھ دن انہیں چلنے میں دشواری ہو گی۔”
ڈاکٹر دوا دے کے جا چکا تھا۔
“یہ سب تمہاری اس بیوی نے کیا ہے۔۔۔پتا نہیں بیوی ہے بھی یا نہیں۔”
“صباء آرام سے۔۔۔اس معاملے پر ہم آرام سے بات کریں گے۔
دادی وہ میری بیوی ہے۔۔۔۔اور آپ نے اسے کیا کہا میں نہیں جانتا لیکن میں آج ہی آپ کو یہ بتانے والا تھا کہ میری محبت ہے وہ لڑکی۔”
وجدان؟
“بالکل! آج صبح میں یہی بات بتانے کا کہہ رہا تھا۔۔۔اور دادی صباء کی شادی ہم اچھی جگہ ہی کریں گے۔
لیکن میں چاہت کے علاؤہ کسی کو وہ مقام نہیں دے سکتا۔”
“تو تم ہمیں قصور وار کہہ رہے ہو؟” دادی نے جلال سے کہا۔
نہیں!
“اس کی غلطی ہے۔۔۔وہ آپ سے معافی مانگے گی۔۔۔
لیکن میں اس کا موقف بھی سنوں گا۔۔۔۔شاید پہلے ہی میں زیادہ بول گیا۔۔۔۔”وہ کہتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
لیکن نہیں جانتا تھا کہ معافی تو اب اس کو چاہت سے مانگنی تھی شاید کسی روز۔
“چاہت؟”
وہ صبح سے دادی کے ساتھ تھا نجانے کتنے گھنٹوں بعد وہ اپنے کمرے میں آیا تھا۔
اس کی آواز گونج کر واپس خالی ہاتھ لوٹ آئی۔
وہ اپنا خالی کمرہ اور واش روم دیکھتا اس کے کمرے میں گیا اور پھر سارے گھر میں دیکھا تھا اس نے۔
“چاہت کہاں ہے؟” اس نے ملازم سے پوچھا۔
ہمیں نہیں پتا۔۔۔۔باری باری سب نے ایک ہی جواب اسے دیا تھا۔
“کیا مطلب تم لوگوں کو نہیں پتا۔۔۔۔”
“وہ بچی ہے جو گُم گئی ہے۔۔۔۔دیکھو اوپر چھت پر۔۔۔۔”وہ دھاڑا۔
ساتھ ہی باہر نکل گیا۔۔۔۔
چاہت؟ اس نے گارڈ کو دیکھتے ابھی صرف نام ہی تھا۔
جی صاحب وہ تو صبح ہی اپنی چادر لے کر چلی گئیں تھیں۔
“واٹ ربش۔۔۔۔”
“کیا بکواس کر رہے ہو جانتے ہو؟۔۔۔۔دادی نے کہا ہے یہ کہنے کے لیے؟”
“نہیں صاحب؟
صبح جب اندر سے لڑنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔اس کے کچھ لمحوں بعد وہ یہاں سے نکل گئیں تھیں۔”
“مجھے لگا آپ نے نکالا۔۔۔”
“ڈیم اٹٹٹ۔۔۔۔
مجھے کس نے بتانا تھا؟ بیوی ہے میری بیوقوف میں نے کیوں نکالنا تھا۔”
“تم سب پاگل ہو کس چیز کا پیسہ میں دیتا ہوں تم لوگوں کو؟
“اسے روکا کیوں نہیں یا مجھے کیوں نہیں بتایا؟” وہ پاگل ہونے کو تھا۔
صباء باہر آتی اسے یوں اس عام سی لڑکی کے لیے پاگل ہوتا دیکھ رہی تھی۔
اس نے اندر آتے ہی فون نکالا اور اضطرابی کیفیت میں خالد صاحب کا نمبر ملایا۔
“اسلام علیکم!” اس نے آنکھیں میچتے سوال کیا۔
“وعلیکم السلام!” اور پھر خاموشی چھا گئی۔
کیا چاہت وہاں ہے؟ اسے سمجھ نہ آیا کہ کیسے پوچھے؟
بالکل!
“جو سلوک تم نے میری دھی کے ساتھ کیا ہے ہم ساری زندگی یاد رکھیں گے۔۔۔میں نے کہا تھا ہمارے ہاں زبان کا بہت پاس ہوتا ہے جو تو نہیں رکھ پایا۔۔۔اب ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے۔”
“انکل! پلیز میری بات سنیں!”
آپ۔۔۔۔
“مجھے افسوس رہے گا کہ میں اپنی بیٹی کے لیے ایک اچھا شخص بھی ڈھونڈ نہ پایا” ان کی آواز بھرا گئی۔
یہ بات وجدان چوہدری کو کسی تازیانے کی طرح لگی تھی۔
اس نے دادی سے۔۔۔۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا شاید لیکن آگے بول نہ پایا۔
“آپ لوگ بڑے لوگ ہیں برخودار۔۔۔۔آپ سے ہم کہاں بحث کر سکتے ہیں۔۔۔
آپ کے ہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔۔ہماری بیٹیاں چھوٹے شہروں سے آئی بیوقوف ہیں جنہیں نہیں پتا کہ کوئی تہمات لگائے تو خاموش رہنا چاہیے، اپنی بے عزتی پر مسکرا کر رہ جانا چاہیے اور کسی کی غلط باتوں کو بھی سکون سے سننا چاہیے۔۔۔
یہ سب میں اپنی بیٹی کو نہیں سکھا پایا۔۔۔میں معزرت خواہ ہوں۔۔۔”
“لیکن امید کرتا ہوں کہ رب العالمین اب میری دھی کے حق میں بہتر کرے۔”
وجدان چوہدری وہیں بیٹھا رہ گیا۔۔۔۔
ہاں!
وہ چلی گئی تھی۔۔۔۔اس کی آنکھیں ضبط کے مارے سرخ پر گئیں۔۔۔۔۔
“وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے؟”
اس نے اسے کمرے میں جانے کا کہا تھا گھر سے یا اس کی زندگی سے نہیں۔
آہ۔۔۔۔۔پہلی بار اسے اپنے غصے پر طیش آیا تھا۔۔۔وہ غصے میں کیوں سب بھول جاتا تھا۔
اپنے سامنے موجود گلاس کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔
“چاہتتت۔۔۔۔تم ایسا نہیں کر سکتی۔۔۔۔”وہ وہیں بستر پر گِر گیا۔۔۔۔
پھر تیزی سے کچھ سوچتے اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر نکل گیا۔
وہ وہاں جا کر اسے منا لیتا۔۔۔۔
اس کے باپ کی ساری باتیں وہ سُن لیتا…لیکن اسے وہ ساتھ لے کر آتا۔
اپنی غلطی پر پشیمان تھا وہ بے حد۔
اس کے باپ نے اسے بتایا تھا کہ وہ یہاں سے چلی گئی ہے۔۔۔اب یہ اس کی زندگی ہے شاید مستقبل میں وہ اسے مل جائے۔
وہ وہاں سے بھی خالی ہاتھ لوٹا تھا۔
اور پھر اس نے کمپنی، الہام کے گھر اور شہر میں ہر جگہ جہاں اس کے ہونے کے امکان تھے چھان مارا تھا لیکن چاہت وجدان نے نا ملنا تھا نہ وہ ملی تھی۔
“چاہت وجدان۔۔۔۔۔!”
اپنے تکیے پر اس نے گہری سانس بھری۔۔۔اب کتنی دیر نجانے اس نے چاہت وجدان سے دور رہنا تھا۔۔۔یہ ازیت اسے کہاں لے جاتی کون جانتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے جانا ہے!” وہ دھیمے سے بولی۔
‘ابھی کچھ دیر میں چلتے ہیں میں بتا چکا ہوں۔”
مجھے ابھی جانا ہے۔۔۔وہ اس کی گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
“حیات حاد ابراہیم خاموشی سے کھڑی رہو یہاں جب تک میں کہہ رہا ہوں۔”
وہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔!
سب اسے بارے باری ملنے اسے مبارکباد دے رہے تھے جسے وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ قبول کر رہا تھا۔
“ہیلو میر صاحب!”
ایک شخص نے جس کی عمر لگ بھگ تیس تھی اس کے آگے ہاتھ کیا گھنگڑالے بال اور آنکھوں میں عجیب سی چمک۔
“میں ہاتھ ملانا پسند نہیں کرنا!” حاد نے کہتے اپنا ہاتھ اپنی جیب میں ڈالا۔
“اففف۔۔۔تمہارے باپ میں بھی یہی اکڑ تھی۔۔۔”
“ہاہا۔۔۔اسی لیے تمہار باپ اس دنیا میں نہیں ہے ۔۔۔۔”حاد ابراہیم نے مسکراتے تھا۔
“باپ تو تمہارا بھی نہیں ہے حاد صاحب۔۔۔۔”وہ شخص مسکرایا۔
“میرا باپ کو قتل کیا گیا اور تمہارے باپ کو عبرت کے نام پر مارا گیا۔۔۔۔فرق بہت بڑا ہے۔۔۔۔”
“چلو میں تو اپنے باپ کے قاتل کو جانتا ہوں لیکن تم نہیں جانتے” وہ شخص پھر سے مسکرایا۔
“معلوم ہونے میں کون سی دیر لگتی ہے۔۔۔جس دن میں جان گیا اس دن وہ شخص بھی کتوں کی موت مرے گا” میر حاد نے اسے دیکھتے کہا۔
“میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔۔۔۔”
“کیونکہ میں اس دعوت میں بھی تمہارا لحاظ نہیں کروں گا۔”
اوکے! جا رہا ہوں پھر ملاقات ہو گی لیکن۔۔۔۔
“لیکن یہ حسینہ کون ہے؟” اس نے حیات کو دیکھتے کہا۔
“چلو حیات!” میر نے حیات کو ساتھ لے جانا چاہا۔
“اااااہ۔۔۔حیات۔۔۔یعنی زندگی۔۔۔دلچسپ۔۔۔جانتے ہو تمہاری ماں بھی بہت خوبصورت تھی اور اب تمہاری بیوی بھی۔۔۔”
“میر صاحب کا ٹیسٹ کافی اچھا ہے لڑکیوں میں۔۔۔”
حاد نے آگے بڑھتے اس کا گریبان تھاما۔
“میرے خاندان سے دور رہ۔۔۔تیرے لیے یہی اچھا ہے۔۔۔نہیں تو تیرا بچہ ابھی ابھی چلنے کی کوشش کر رہا ہے میں جانتا ہوں۔۔۔”
میر حاد ابراہیم جانتا تھا مخالف کو زِیر کیسے کرنا ہے۔
حیات نے گھر آنے تک کچھ نہیں پوچھا تھا اس سے۔
میں جا رہی ہوں سونے! وہ دوسرے کمرے کی طرف مُڑی۔
“میرے کمرے میں میرے ساتھ رہو گی تم!” میر نے اس کی کلائی تھماتے کہا۔
“اچھا اور ایسا کیوں؟”
“کیونکہ بیوی ہو میری! اور میاں بیوی ایک ہی کمرے میں رہتے ہیں” وہ آگے بڑھتا اسکے بال ہٹاتا اس کے کان دیکھنے لگا جو اب گلابی تھے ہلکے سے بس۔
“پہچان چھپانے والوں میں اتنے مضبوط رشتے نہیں ہوتے میر صاحب کہ وہ ایک جگہ پر رُکیں۔”
“حیات اندر جاؤ! میں ایک کال کر کے آرہا ہوں” وہ سنجیدگی سے کہتا اپنا فون نکال کر دیکھنے لگا۔
حیات نے اس کی بات ان سنی کی تھی اور پھر دوسرے کمرے میں چلی گئی جہاں وہ اکثر رہ لیتی تھی۔
وہ کال کاٹنے کے بعد اپنے کمرے میں گیا جو خالی تھا۔۔۔۔پھر لب بھینچتے فریش ہوا اور اسکے کمرے کے دروازے کا نوب گھمایا۔
جو کہ لاک تھا۔۔۔کچن سے چابیاں لاتے دروازہ کھولا اور اندر جاتے دورازہ دوبارہ سے لاک کیا۔
“تو بیوی تم کس سے بھاگ رہی ہو؟”
“ابھی جاؤ یہاں سے؟” وہ وہیں سے چلائی تھی۔
“آواز آہستہ رکھو!”
“اور اگر میں ایسا نہ کروں تو؟”
حیات! میر نے اسے تنبیہ کی تھی لیکن وہ۔۔۔وہ تو وہیں تکیے میں منہ دیتی لیٹی رہی تھی۔
“یہ کپڑے بدل کر آؤ پہلے۔۔۔ان میں سو نہیں پاؤ گی۔”
“تم یہاں سے جاؤ!”
لیکن اپنے ساتھ اسے جگہ بناتے دیکھ بھی اس نے تکیے سے منہ نہیں نکالا تھا۔
“کیا چاہ رہی ہو حیات؟”
تم نے۔۔۔۔تم نے مجھ سے اپنی پہچان چھپائی۔۔۔!
تم حاد۔۔۔۔
اس کی ہچکی بندھی۔۔۔۔وہ حاد تھا وہ جو اسے بچپن میں چھوڑ گیا تھا۔۔۔وہ کتنی ہی دیر تو ڈپریشن میں رہی تھی بیمار بستر پر۔۔۔۔اس کے جانے کے بعد۔۔۔۔اور اب جب وہ پاس ہی تھا اس کے تو وہ پہچان نہیں پائی تھی۔
“میں نے صرف پہچان چھپائی اور تم نے۔۔۔تم نے سب بھلا دیا۔”
“کیا مجھے یاد رکھنا چاہیے تھا؟” وہ اٹھ کر بیٹھتے چلائی۔
“ہاں! اور کچھ نہ سہی لیکن ہمارا نکاح یاد رکھنا چاہیے تھا۔۔۔۔تم نے گناہ کیا ہے ہمارا نکاح بھول کر۔”
“ایسا ممکن نہیں!” حیات کی زبان لڑکھرائی۔
حاد نے اپنے ہاتھ میں موجود کاغز اسکو دکھائے۔۔۔۔جو وہ ابھی اپنے کمرے سے لایا تھا۔
“یہ نکاح کے کاغذات تھے لیکن ابھی کے نہیں بلکہ بہت پرانے۔۔”
یہ کب۔۔۔۔۔؟
اپنے بابا سے پوچھنا۔۔۔
“کیا بابا جانتے ہیں؟”
“بالکل! تمہیں لگتا ہے حیات صاحبہ کہ وہ یہاں دوسرے شہر تمہیں خود سے دور بالکل یہاں کا پتا نہ رکھتے ہوئے بھیجیں گے اور اسکے بعد ایک دفعہ بھی نہیں آئیں گے؟”
“وہ جانتے ہیں کہ تم۔۔۔؟”
“ہاں سب جانتے ہیں کہ مجھے اپنی ہی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا پڑا۔۔۔۔”
حیات نے خاموشی سے اسے دیکھا پھر کمفرٹر خود پر اوڑھتی لیٹ گئی۔
یہ سب نیا تھا۔۔۔۔ان سب نے دھوکا دیا تھا اسے۔۔۔لیکن وہ گناہگار تھی میر حاد کی۔
“حیات!”
جاؤ یہاں سے! وہ روتے بولی تو حاد نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائی جو اس نے جھٹکے سے دور کیں تھی۔
حاد نے پھر سے ایسا کرنا چاہا۔۔۔
“اب کی بار میرا ہاتھ جھٹکا تو تمہارے ہاتھ توڑ دوں گا” میں وہ اس کے کان کے پاس غرایا۔
“تم دور رہو!”
“کیوں؟ شوہر ہوں تمہارا اور مجھے کچھ سخت کرنے پر مجبور نہ کرو حیات۔۔۔مجھے جانا تھا تب کیونکہ اپنے ماں باپ کا مجرم ڈھونڈنا تھا میں نے لیکن تم نے تم نے تو سب بھلا دیا۔”
“تم مجھے چھوڑ گئے تھے۔۔۔”وہ ابھی تک وہیں اڑی تھی۔
“ہاں! کیونکہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہ تھا۔۔وہاں سخت ٹریننگ کی ہے میں نے۔۔۔اس جگہ پر پہنچنا تھا مجھے جہاں میرا باپ تھا۔”
اور پھر یہ سب غازیان ڈیڈ کی وجہ سے ممکن ہوا۔۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ میں اپنا سفر طے کروں اپنی بیٹی کو وہ خود سمجھا لیں گے۔
“لیکن وہ میری امانت کی اچھے سے حفاظت نہ کر پائے مجھے ان سے یہ شکوہ ہمیشہ رہے گا۔”
“کیا کیا ہے میں نے؟”
“اپنا حلیہ یاد ہے تمہیں؟ جس میں تم مجھے ملی تھی۔۔۔۔مجھے امید نہیں تھی کہ تم مجھے ایسے ملو گی۔
میری زندگی تھی وہ۔۔۔وہ زندگی جس میں تم مجھے چھوڑ گئے تھے۔”
“اپنی سزا بتاؤ؟”
حاد نے اسے اپنے سخت حصار میں لیتے استسفار کیا۔
چھوڑو۔۔۔۔
“شششش! سزا بتاؤ اپنی!” “مجھے بھولنے کی، اس گھٹیا ڈریسنگ کی، اس بولڈ کردار کی، ہمارے نکاح کو بھولنے کی اور۔۔۔۔”
“مجھے نیند۔۔۔۔”
“سزا تو تمہیں ملے گی حیات صاحبہ ۔۔۔۔۔نیند بھی تمہیں آئے یا نہیں” وہ کہتا اسکی گردن پر اپنے دانت رکھ چکا تھا۔
میر۔۔۔۔!
اس کی سانسوں کو قطرہ قطرہ پیتے وہ کسی اور ہی جہان میں تھا۔
“مجھے بھوک لگی ہے!” وہ تیز ہوتی سانسوں کے درمیان بولی۔
میر نے گھور کر اسے دیکھا!
“اب ناشتہ تمہیں صبح ہی نصیب ہو گا!” وہ کہتا اس کی شرٹ کندھے سے سِرکا چکا تھا۔
حیات نے آنکھیں زور سے بند کرتے اس شخص کو محسوس کیا جس کے لیے اس کا دل بچپن سے باغی تھا۔
جسے سوچتے اس نے اپنی ساری زندگی گزار دی تھی، آج وہ اس کے سامنے موجود تھا، اس کا شوہر تھا، اس کی محبت تھا وہ شخص، وہ کتنا تڑپے تھے ایک دوسرے کے لیے۔
حیات نے اس کے کندھے پر سر رکھا تو میر نے اس کا ماتھا چوما اور پھر اسکے بال چومتے اسے معتبر کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الہام اپنی چیزیں سمیٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ جا رہی تھی لیکن آحل کو یوں ناراض کر کے جانا نہیں چاہتی تھی وہ۔
وہ واپس جا رہی تھی اپنی آسائشوں سے مزین زندگی میں، جہاں اسے ہر طرح کی سہولیات میسر تھیں لیکن وہاں آحل فیاض نہیں تھا۔
وہ تیار ہو کر باہر اس سے ملنے آئی۔
اس کے پورشن میں داخل ہوتے ہی اسے کسی صنفِ نازک کی آواز آئی تھی۔
اور یہ حیران کُن تھا۔۔۔وہ اندر گئی جہاں ایک ماڈرن سی لڑکی صوفے پر بیٹھی تھی اور آحل کچن میں موجود شاید کافی بنا رہا تھا۔
“اسلام علیکم!”
ہیلو! اس لڑکی نے الہام کو اوپر سے لے کر نیچے تک عجیب سی نگاہوں سے دیکھتے کہا۔
“یہ میری منکوحہ ہیں الہام آحل!” آحل نے باہر نکلتے اس کا تعارف اس لڑکی سے کروایا تھا۔
“اچھا یہ راز تو تم نے ہم سب سے چھپایا ہوا تھا۔۔۔اور اتنی چھوٹی ہے یہ ابھی۔۔۔”اس نے عجیب سے انداز میں کہا۔
بس میں اپنی نجی زندگی ہر کسی سے ڈسکس نہیں کرتا۔
“یہ فزا ہے الہام۔۔۔میری ماڈل۔۔۔۔اور یہ میرے ساتھ تھیں اس شوٹ میں۔”
ہم مل کر سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کر کے پتا کریں گے کہ کس نے شوٹ کی کاپی چُرا کر دوسرے برانڈ کو دی۔
الہام نے سر ہلایا۔
“میں جا رہی ہوں!” الہام نے آہستگی سے کہا۔
ہم آتے ہیں۔۔۔۔آحل نے فزا سے کہا اور اس کا ہاتھ تھام کر کمرے میں لے گیا۔
“وہاں پہنچ کر مجھے بتا دینا۔۔۔فون کرتی رہنا راستے میں مجھے۔۔۔۔ناشتہ کر لیا ہے؟”
“آپ میری فکر کیوں کر رہے ہیں؟”
“کیا مطلب ہے اس سوال کا؟ بیوی ہو میری!”
“تو پھر مجھے کیوں بھیج رہے ہیں؟”
“تم نہیں جانا چاہتی؟”
وہ خاموش رہی۔۔۔وہ جا رہی تھی لیکن اس لڑکی کو جو باہر بیٹھی تھی اس کو دیکھتے ناجانے کیوں وہ جانا نہیں چاہتی تھی اب۔
اگر میں کہوں نہیں تو؟
کیا کرو گی یہاں رہ کر؟آسائشوں کے بغیر تو تم سے رہا نہیں جاتا۔
“ایسی بات نہیں ہے آحل!” وہ منمنائی۔
یہ سچ ہے الہام ۔۔۔۔۔آحل نے اسے دیکھتے کہا اور شاید یہ بُری بات نہیں ہے آپ کو ان سب کی عادت ہے مجھے یہ سب کرنا ہے آپ کے لیے۔
جائیں ڈرائیور انتطار کر رہا ہو گا۔
“مجھے بھوک لگی ہے!” الہام نے منہ بسوڑتے کہا۔
“آؤ! میں بنا دیتا ہوں کچھ!” اس کا ہاتھ تھامتا آحل باہر لے گیا پھر کچن میں کھڑے کرتے فزا کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
“”کیا کھاؤ گی فزا؟”
جو تم اپنی بیوی کو کھلاؤ گے میں بھی وہی کھا لوں گی” وہ مسکراتے الہام کو تو زہر ہی لگی۔
کیا کھائیں گی الہام؟
سینڈوچ!
“اوکے! باہر جا کر فزا کو کمپنی دو میں بنا دیتا ہوں۔”
میں کیوں کمپنی دوں وہ آپ کی مہمان ہے۔۔۔
تو میرے مہمان تمہارے کچھ نہیں لگتے؟ آحل نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ منہ بناتی فزا کے پاس جا بیٹھی۔
“ویسے اتنی سی عمر میں شادی کا کیوں سوچا؟ فزا نے حیران ہوتے کہا۔”
“میں اور آحل ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔اور نکاح سے بہتر کیا رشتہ ہو سکتا ہے۔”
“ہمممم ۔۔۔جہاں تک مجھے لگ رہا ہے وہ تمہارا باڈی گارڈ تھا اور۔۔۔”
“میں اور آحل اپنے نجی معاملات باہر کے لوگوں سے ڈسکس کرنا اچھا نہیں سمجھتے” وہ کہہ کر واپس کچن میں چلی گئی۔
میں جا رہی ہوں۔
“سینڈوچ کھا کر جاؤ اب!”
“مجھے نہیں کھانا۔”
“الہام۔۔۔۔”لیکن وہ باہر نکل گئی تو آحل فزا کو دیکھتا اس کا سینڈوچ پیک کرتا اس کے پیچھے گیا تھا۔
“مجھے پہنچ کر فون کرنا۔۔۔”اس کا سینڈوچ اسے پکڑاتے اسکا سامان گاڑی میں رکھا۔
ٹھیک ہے!
اس کے ماتھے کو چوما۔۔۔۔تو وہ بے دلی سے مسکرا کر بیٹھ گئی۔
فزا اندر کھڑکی سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“اب تو آحل صاحب ہماری کہانی کا آغاز ہو گا کیونکہ فزا اشرف کا دل آ گیا ہے آپ پر ۔۔۔”وہ مسکرائی۔
