You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 13
Rate this Novel
You're All Mine Episode 13
You’re All Mine by Suneha Rauf
چاہت گھر جاتے بنا چینج کیے بستر پر ڈھے گئی۔۔۔کیا وہ اِن سب کے قابل تھی؟
وجدان چوہدری! اس کے منہ سے سرگوشی نما نکلا اور کئی آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ گئے۔
“مجھے افسوس صرف اس بات کا ہے کہ آپ نے مجھے میری محبت سمیت ان ہزاروں لوگوں میں رسوا کیا۔۔۔آپ کہہ دیتے کہ چاہت خالد تمہاری اتنی اوقات نہیں ہے کہ تم مجھ تک رسائی حاصل کرو لیکن یہ نہیں کرتے میں نے خود کو بہت مشکل سے اس دنیا کے قابل بنایا تھا اور آج تمہاری وجہ سے میں وہی کھڑی ہوں جہاں سے میں نے آغاز کیا تھا۔”
“مجھے تم سے زیادہ خود سے نفرت ہو رہی ہے اس حال میں میں نے خود کو خود پہنچایا ہے میں اتنے لوگوں کا سامنا کیسے کروں گی” وہ یہ سب سوچتے ہی سو گئی۔
“ایک دن ایک دن میرا بھی آئے گا وجدان چوہدری!”
وجدان چوہدری نے گھر جاتے ہی شاور لیا تھا۔۔۔۔سر پر پڑتا ٹھنڈا پانی بھی اسے حالات کی سنگینی نہیں سمجھا پایا۔
وہ کتنی ہی دیر کمرے میں موجود اس واحد کرسی پر بیٹھا رہا۔
“کیا واقعی اس کی آنکھوں سے چاہت خالد کے لیے پسندیدگی جھلکتی ہے؟” اس کے دل سے آواز آئی۔
“نہیں!”
“مجھے وہ پسند نہیں! زید ٹھیک کہتا ہے ہمارا کوئی میل نہیں۔۔۔۔وہ میرے سرکل میں کبھی موو نہیں کر سکتی” وہ خود کو باور کروا رہا تھا۔
اگلے آنے والے دِنوں میں کیا ہونا تھا ان دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا اتھا۔
چاہت خالد اگلے ایک ہفتے اسے نہیں دِکھی تھی۔۔۔۔اس کی پرفیوم اُن کی توقعات کے عین مطابق مارکیٹ میں اپنی چھاپ چھوڑ چکی تھی۔
ابتدا کے دنوں میں ہی اتنا اچھا رسپانس دیکھ کر سب حیران تھے۔
ایسے موقع پر چاہت خالد کا انعام اس کا منتظر تھا۔۔۔۔۔کمپنی کے اصولوں کے حساب سے لیکن وہ غائیب تھی۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام”
“کیسی ہو میڈیم؟ کتنا آرام کرو گی آجاؤ اب” اسد کی آواز اسپیکر پر گونجی۔
“میری طبیعت!”
“ٹھیک ہو جائے گی نہیں بھی ہے تو۔۔۔۔تم چمکتا ستارہ ہو اپنے ہاتھ سے اپنی کشتی کو ڈبو مت دینا۔”
“کیا مطلب؟”
وہ سیدھی ہو کر بیٹھی۔۔۔اسے پچھلے ایک ہفتے سے آفس سے فون آرہے تھے لیکن اس نے ایک بھی کال ریسیو نہیں کی تھی یہ پہلی کال تھی۔
لیکن آج وہ کچھ بہتر محسوس کر رہی تھی اسی لیے صرف اسد کی کال اٹھا لی تھی۔
“مطلب یہ کہ تمہاری پہلی خوشبو نے مارکیٹ میں چاہت خالد کو روشناس کروا دیا ہے۔۔۔۔ فوراً پہنچو اور اپنی اگلی خوشبو پر کام کرو۔۔۔تم سے بہت سے لوگ ملنا چاہتے ہیں اور جانتی ہو اس کامیابی کے بعد اُس دن کیا ہوا تھا لوگ بھوگ جائیں گے۔”
“لیکن میں کبھی نہیں بھول پاؤں گی۔۔۔۔”
“تو کیا ایسے ہی زندگی گزار دو گی۔۔۔؟”
چاہت زندگی بہت چھوٹی ہے اور لوگوں کی اذیتیں اور دُکھوں کی کہانی اس سے کئی زیادہ طویل اور درد بھریں ہے۔”
چاہت نے گہرا سانس بھرا۔۔۔وہ ٹھیک کہہ رہا تھا اس کا مستقبل اس کے انتظار میں تھا جسے وہ وجدان چوہدری کی خاطر ضائع کر رہی تھی۔
“میں کمپنی۔۔۔”
“تم کمپنی چھوڑ نہیں سکتی۔۔۔تم نے سال بھر کا کنٹریکٹ کیا تھا یاد ہے۔۔۔”اسد نے فوراً اس کی بات سمجھتے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حیات!” ڈارک ویزرڈ نے اسے پکارا جو سیدھا چلتی بلکہ تقریباً بھاگتی وہاں سے نکل رہی تھی۔
“سٹاپ!”
حیات کو ڈر لگا تھا اب اُس سے، اس گھر سے جسے وہ خریدنے کا سوچ رہی تھی اسے اندازہ نہ ہوا کہ اس گھر کی حقیقت اتنی بھیانک ہو گی۔
حیات! ڈارک ویزرڈ نے قدموں میں تیزی لاتے اسے جا لیا اور بازو سے کھینچتے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
چھوڑو۔۔۔
“چھوڑو مجھے وحشی انسان۔۔۔”
“میں کیا سمجھ رہی تھی تمہیں۔۔۔اور تم؟”
تم تو میری سوچ سے زیادہ گھٹیا نکلے۔
“زبان سنبھال کر!” ڈارک ویزرڈ نے اسے جھنجھوڑا۔
“میں زبان سنبھال کر۔۔۔سچ میں؟ تم تم۔۔؟ تمہارا تو مجھے بھی یہاں لانے کا کوئی مقصد ہو گا یقیناً۔۔۔”وہ۔جیسے ساری پچھلی باتوں کو جوڑتی بولی۔
“اندر اپنے کمرے میں جاؤ!” وہ خود کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن یہ کوشش زیادہ دیر تک نہیں چلنی تھی۔
کیوں جاؤں؟
میں اس گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رُکوں گی تم سے مجھے پہلے صرف ڈر لگتا تھا اب میری روح بُرے طریقے سے خوفزدہ ہے۔۔۔۔۔وہ چِلائی۔
ابھی کچھ لمحے پہلے دیکھے جانے والا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے سے جا ہی نہیں رہا تھا۔
“حقیقت تمہیں معلوم نہیں ہے۔۔۔اسی لیے تب تک خاموش رہو ۔۔” وہ دھاڑا۔
“نہیں! مجھے جانا ہے۔”
“تم مجھے مار دو گے۔۔۔”
اسی شخص کی طرح اب وہ اپنا آپ اس سے چھرواتی رونے لگی تھی۔
ڈارک ویزرڈ نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا پھر کچھ سوچتا گھسیٹتا اسے بیسمنٹ میں لے جانے لگا۔
نہیں!
اسے وہاں جاکر جھٹکے سے چھوڑا اور دروازہ بند کیا۔۔۔اس شخص کو لے جایا جا چکا تھا۔
حیات خوفزدہ ہوتی رونے لگی تھی۔
“تمہیں مجھ سے کیا چاہیے؟ میں سب دوں گی مجھے جانے دو!”
“تم چاہیے ہو مجھے!” وہ پھنکارتا دو قدم قریب آیا۔
پلیز! وہ روتی نیچے بیٹھ گئی۔۔۔ڈارک ویزردڈ نے لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
“کیا اسے یہ کرنا تھا؟”
“ہاں!”
لیکن ابھی نہیں کرنا تھا۔۔۔پر اس وقت اگر نہ کرتا تو سب تباہ ہو جاتا۔۔۔وہ چلی جاتی اور پھر دوبارہ کبھی نہ آتی۔
اسے یہ انتہائی قدم ابھی ہی اٹھانا تھا۔
وہ گھنٹوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا۔
حیات حاد ابراہیم! سرگوشی میں کہا گیا لیکن وہ سُن ہی کہاں رہی تھی۔
“آزادی چاہیے؟”
حیات نے تیزی سے سر ہلایا۔۔۔۔اس کا دل اس منظر سے خوفزدہ تھا لیکن اسے نجانے یہ اطمینان کیوں تھا کہ وہ شخص اس کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرے گا۔
لیکن یہ اطمینان بھی لمحوں میں ختم ہوا اس کی بات سُن کر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“آحل۔۔۔!” اپنے باپ کی چنگاڑھتی آواز سنتے وہ فوراً باہر آئی۔
“بابا!” اس کا باپ رات میں ہی سفر کرتا اب وہاں موجود تھا۔
“بلاؤ اس لڑکے کو!”
“بابا میری بات سنیں!”
ماما بابا کو سمجھائیں اس نے رابیل کو کہا جو خود بھی گھبرائی ہوئی تھی۔
اس کو بلا کر لاؤ! غازیان اعجاز نے گارڈ کو دیکھتے کہا جو فوراً اس کے کمرے کی طرف گیا تھا۔
“بابا سٹاپ!”
غازیان اعجاز نے سخت نگاہوں سے اسے گھورا جو اپنی ماں کے ساتھ چپکی کھڑی تھی۔
آحل نے آتے ان سب کو دیکھا اور ایک نظر الہام کو جس کی سوجی آنکھیں اس کے رات جگے کی گواہ تھیں۔
غازیان نے آگے بڑھتے آحل کے منہ پر پنچ مارا تھا۔
بابا! الہام نے حیرت سے کنگ اپنے باپ کو پکارا۔
“تجھے میں نے منع کیا تھا نا؟”
“ہاں کیا تھا لیکن میں منع نہیں ہوا اور نہ کبھی ہوں گا آپ کی بیٹی سے محبت ہے مجھے۔”
غازیان نے اسے دھکا دیتے دھنک کر رکھ دیا تھا اور آگے سے اس نے اُف تک نہ کیا تھا۔
“میرا حق ہے، حق ہے میرا اپنی محبت کو باعزت طریقے سے مانگنا” وہ چِلایا۔
“بکواس نہیں!” غازیان نے اسے ایک پنچ مارا۔۔۔اس کا ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا تھا۔۔
میں نے وارن کیا تھا تمہیں کہ میری بیٹی سے دور رہنا۔۔۔۔
“بابا!”
“غازیان۔۔۔!”
رابیل اور الہام دونوں کی آوازیں وہاں گونج رہی تھیں لیکن یہ لڑائی غازیان اعجاز اور آحل فیاض کے درمیان تھی ایک ہی زات کو لے کر۔
بابا! الہام اپنی ماں سے اپنا آپ چھڑواتی باپ کی طرف بھاگی تھی اور انہیں کھینچ کر آحل سے دور کیا تھا۔
بابا سٹاپپپپ!
“وہ گارڈ ہے تمہارا جس نے تمہاری حفاظت کرنی تھی لیکن وہ تم پر غلط نیت رکھے بیٹھا ہے” اسکا باپ اسے جھنجھوڑ کر بتانے لگا۔
“نہیں! انہوں نے کبھی م۔۔۔مجھ۔۔۔پر غلط۔۔نظر۔۔۔”وہ بمشکل بول پائی نظر اس شخص پر تھی جو زمین پر پڑا کراہ رہا تھا۔
بیشک وہ مقابلہ کرتا تو اس کے باپ کو دھول چٹا سکتا تھا لیکن اس نے ایسا کیوں نہیں کیا تھا کیوں مار کھائی تھی۔
“یہ میرا حق ہے۔۔۔”وہ وہیں سے ایک بار پھر چِلایا تھا۔
غازیان جھٹکے سے واپس آیا اور اسے کھڑا کرتے ایک اور پنچ اس کے چہرے پر مارا۔۔۔۔
“کس بات کا حق؟ میری بیٹی پر کوئی حق نہیں ہے تمہارا۔۔۔۔”
“میرا حق ہے میں اسے مانگ سکتا ہوں آپ سے۔۔۔”
“اور میں منع کر چکا ہوں۔۔۔”غازیان نے کہتے اسے دھکا دیتے دروازے کے پاس لے گیا اور گارڈز کو اشارہ کیا تو وہ اسے گھسیٹتے باہر لے گئے۔
وہ وہیں روتے ہوئے بیٹھ گئی۔
رابیل نے غازیان کو سخت نگاہوں سے گھورا تو وہ اپنی بیٹی کے پاس آیا اور گھٹنوں کے بل اس کے پاس جھکا۔
“تمہاری حفاظت کے لیے ہم کوئی اور رکھ لیں گے۔۔۔۔”پیار سے پچکارا گیا۔
“نہیں۔۔۔۔الہام غازیان کی حفاظت وہی کر سکتا ہے مجھے وہی چاہیے” وہ ضد کرنے لگی تھی جیسے۔
“وہ کھلونا نہیں ہے۔۔۔۔۔جس کی ضد تم کر رہی ہو الہا۔۔۔۔”
“آپ نے اسے مارا ہے۔۔۔اسے چوٹ لگی ہے۔۔”
آپ کو بُرا لگا؟ رابیل نے اس کے پاس بیٹھتے پوچھا تو غازیان نے رابیل کو سرد نگاہوں سے گھورا۔
“مجھے بُرا گا بہت بُرا۔۔۔۔بابا آپ ایسے کیسے کر سکتے ہیں ۔۔۔؟؟اسے بلائیں۔۔۔”
“آپ نے اسے چوٹ پہنچائی ہے اسے درد ہوا ہو گا۔۔۔۔اس کا خون نکل رہا تھا۔۔۔۔آپ نے ہاتھ اٹھایا اُس پر۔۔۔کیوں؟؟ وہ درد میں ہو گا۔۔۔اُسے کیوں نکالا؟”
وہ چیخی تو وہ دونوں ساکت رہ گئے اس نے تو کبھی اونچی آواز میں کسی سے بات تک نہیں کی تھی آج وہ ایک غیر شخص جس کی حیثیت ان سے کئی گنا کم تھی ایک عام معمولی گارڑ تھا اس کا اس کے لیے وہ لڑ رہی تھی سب سے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں مجھے یاد ہے۔”
“تو کب آرہی ہو؟”
کل! چاہت نے فیصلہ کرتے ایک دو باتیں اور کی اور کال کاٹ دی۔
خود کو تیار کرنا تھا لوگوں کی ہتک آمیز باتوں اور نگاہوں کے لیے۔۔۔۔ہاں وہ تیار تھی لیکن وجدان چوہدری کے لیے محبت ختم نہیں ہوئی تھی۔
“یہ اس نے جان لیا تھا کہ پہلی محبت ختم نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ دل کے کسی کونے میں قید رہتی ہے اور جب محبوب سامنے دِکھ جائے تو دل کا وہ کونہ پھر سے شور مچانے لگتا ہے، اُکساتا ہے نظر بھر کر دیکھنے کے لیے۔۔۔۔ہاں محبت تب بھی ختم نہیں ہوتی جب وہ شخص کسی اور کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھ جاتا ہے یا تب جب وہ شخص رب کی رضا پر اس دنیا سے اپنا رشتہ توڑ کر اس فانی دنیا کو چھوڑ جاتا ہے۔۔۔ہاں کسی صورت بھی محبت ختم نہیں ہوتی۔۔۔بس ہم اُس شخص کو، اس کی یادوں کو، اور باتوں کو سینے کے کسی کونے میں قید کر دیتے ہیں اور اس دروازے کو بند کر کے۔۔۔ تالہ لگا دیتے اور چابی اتنی دور پھینک دیتے ہیں کہ ہمارے خود ڈھونڈنے پر بھی ہمیں کبھی نہ ملے”
اگلے ہی روز وہ آفس میں موجود تھی دھڑکتے دل کے ساتھ ہر قدم پر گہری سانس بھرتی خود کو پُرسکون کرنے کی کوششوں میں ہلکاں۔
“کیسی ہو چاہت؟” سب نے ہی اس سے پوچھا تھا اس نے سر ہلا کر اپنے ٹھیک ہونے کا بتایا اگرچہ وہ ٹھیک نہ تھی۔
“کیسی ہو دوست؟” اسد نے اسے دیکھتے کہا۔۔۔ہفتے بعد اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری۔
میں ٹھیک ہوں۔
“مجھے امید نہیں تھی کہ تم آؤ گی۔”
“آپ نے کہا تھا میں آگئی۔۔۔دوست کی بات مان لینی چاہیے نا اور آپ تو ویسے بھی میرے اکلوتے دوست ہیں” وہ شائستگی سے بولی۔
اسد نے نظر بھر کر اسے دیکھا۔۔۔”ہاں میں یہی چاہتا ہوں کہ میں تمہارا اکلوتا دوست رہوں ہمیشہ۔”
چاہت نے سر ہلایا۔۔۔
“میرے ساتھ کام کرو گی؟”
“مطلب؟”
“میں وجدان سے بات کر لیتا ہوں اب سے تم میری سیکرٹری ہو گی میرے ساتھ کام کرو گی۔”
“نہیں! اسد آپ میرے لیے بہت کرتے ہیں لیکن مجھے ان حالات سے خود لڑنا ہے اور میں مقابلہ کر سکتی ہوں۔”
“ٹھیک ہے حسین آنکھوں والی لڑکی جیسی تمہاری مرضی۔”
وہ اسے مسکراہٹ دیتی اپنے میز پر جا کر بیٹھ گئی اور پچھلے ہفتے کا اپنا سارا کام کرنے لگی۔
وجدان چوہدری نے آتے اسے دیکھا قدم رُکے تھے لیکن پھر آگے بڑھ گیا اس نے بھی دیکھ کر ان دیکھا کر دیا تھا۔
چاہت سر بلا رہے ہیں! لڑکی نے آ کر اسے متوجہ کیا۔
وجدان چوہدری کے سامنے کھڑے ہونے کے لیے ہی تو اس نے اتنی ہمت اکٹھی کی تھی۔
“جی مسٹر وجدان؟” باقیوں کی طرح وہ شروع سے اسے سر نہیں کہتی تھی، آخر ان کی پرفیوم کی پروڈیوسر تھی وہ۔
“نئی خوشبو کے بارے میں کیا خیال ہے؟۔”
“ابھی میں نے اس بارے میں سوچا نہیں!” سرد لہجہ۔
ٹھیک ہے! اسے سمجھ نہ آئی کہ آگے کیا کہے۔
“آپ کی پرفیوم کامیاب رہی۔۔۔ہماری کمپنی کے اصولوں کے مطابق آپ کے لیے آفس کی طرف سے آپ کی پہلی کامیابی کی دعوت دی جائے گی آپ کو۔”
“اس کی ضروت نہیں!”
“یہ اصول ہے اور ہر امپلوئے کا حق۔۔۔اسد نے کہا تھا کہ آپ راضی ہیں۔۔۔”وہ یک دم بولا تو اس نے سر اٹھایا لیکن اسے دیکھا نہیں۔
“اسد نے آپ سے کہا ہے تو ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔”
کیا کچھ اور کہنا ہے مسٹر وجدان؟ آج اس طرزِ مخاطب میں جذبات نہیں تھے وجدان چوہدری نے شدّت سے محسوس کیا لیکن پھر سر جھٹک گیا۔
نہیں!
“کیا میں اسد کے ساتھ کام کر سکتی ہوں؟” اس نے جاتے ہوئے واپس مُڑتے پوچھا۔
“نہیں!” وجدان چوہدری نے فوراً جواب دیا تو وہ باہر نکل گئی۔
کیوں اس نے اسے اجازت نہیں دی تھی۔۔۔۔اگر کوئی اور امپلوئے ہوتا تو کیا وہ اسے بھی اجازت نہ دیتا؟
مس چاہت کو دی جانے والی دعوت کے انتظامات مکمل کروائیں اس نے فون کرتے سب کو ان کے کام بتائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس!”
وہ دن سادھے سُننے لگی۔
“ہم نکاح کریں گے!” اُس نے حیات کی طرف جُھکتے سرد لہجے میں کہا تو حیات غازیان کی سانسیں اٹکیں۔
نہیں!
” اگر تمہارا جواب ہاں میں ناں ہوا تو تم کھلی ہوا، آسمان اور اپنے خاندان کو دیکھنے کے لیے ترس جاؤ گی یقین کرو۔”
“تم ایسا نہیں کر سکتے! سرگوشی کی گئی۔”
“میں ایسا ہی کروں گا!”
دو گھنٹوں ہیں سوچ لو! اگر جواب ناں ہوا تو ہمیشہ کے لیے اس کمرے میں قید ہو جاؤ گی۔
“اور اگر ہاں ہوا تو؟”
تو ہم مل کر فیصلہ کریں گے مستقبل کا! وہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے” حیات نے نیم اندھیرے میں اسے دیکھتے کہا۔
“تو ابھی ہاں کرو یہاں یہ نکال لوں گا تمہیں۔”
تم یوں میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے وہ پوری قوت سے چلاتی کھڑی ہوئی۔
“افسوس تمہارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے حیات غازیان” وہ مسکرایا جیسے جیت اُسی کا مقدر بنے گی وہ جانتا ہو۔
“تم بُرے ہو بہت بُرے!”
وہ اسے پُراسراریت سے تکتا پیچھے کی طرف قدم اٹھایا باہر نکل گیا اور جاتے دروازہ بند کرنا نہیں بھولا تھا۔
پیچھے وہ اس اندھیرے میں رہ گئی۔۔۔۔۔سسکیاں دیواروں میں گونجنے لگی۔
یا رب یہ کس چیز کی سزا ہے؟ وہ گھنٹوں میں سر دیتی شکوہ کناں لہجے میں بولی۔
ہاں وہ صحیح کہہ رہا تھا اس کے پاس اس کے علاؤہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا۔
“تو کیا اسے اپنانا تھا اس شخص کو؟”
بابا! اس نے غازیان اعجاز کو یاد کرتے آنکھیں میچی۔
تو کیا یہی زندگی ہے؟ اس نے کبھی کسی مرد کو خود کے لیے اس مقام پر اب تک نہ دیکھا تھا اس کی سوچ اونچی تھی اس معاملے میں ہزاروں خیالات اور خواب تھے ہر عام لڑکی کی طرح، اس نے سوچا تھا ایک خاص شخص ہو گا وہ۔
“عام تو ڈارک ویزرڈ بھی نہیں تھا اس کے دل سے آواز آئی۔”
“ٹھیک ہے میں نے خود کو تیری لکھی میری قسمت پر چھوڑ دیا یا رب”کہتے اس نے گھنٹوں میں سر دیا اب اس کے واپس آنے کا انتظار تھا۔
“کیا فیصلہ کیا ہے؟”
ڈارک ویزرڈ نے اس کے سر کے بالوں کو دیکھتے کہا کیونکہ چہرہ تو گھنٹوں میں چھپا تھا۔
حیات نے چہرہ اٹھایا سوجی آنکھیں اور بکھرے بال۔
“اس کی قیمت ایک دن تم سے ضرور وصول کرو گی میں یہ وعدہ ہے میرا” وہ سرد آہ بھرتی بولی۔
“تو مطلب منظور ہے تمہیں؟” وہ ہاتھ آگے بڑھاتا بولا۔
وہ اس کے ہاتھ کو نظرانداز کرتے کھڑی ہوئی۔
“تمہیں کبھی سکون میسر نہیں کروں گی میں۔۔۔۔”
“”میرررر!”” میر کہتے ہیں مجھے اور سکون تم سے کیسا لینا ہے وہ مجھے پتا ہے تم خود کو تھکاؤ نہیں
ایک دن ایک دن تم اس دن کو یاد کرو گی اور مسکراؤ گی۔”
اگلے گھنٹے میں ان دونوں کی زندگیاں پھر سے بدلی تھی۔۔۔۔چند سال پہلے کی طرح لیکن ایک کو سب یاد تھا اور ایک کو کچھ بھی نہیں۔
“ویلکم ٹو مائی لائف حیات میررر۔۔۔۔۔”وہ اس کے “قبول ہے” کرتے ہی اس کی طرف جھکا۔
حیات نے نفرت بھری نگاہوں سے اس دیکھا۔
“یہ نفرت آج دِکھی ہے مجھے دوبارہ نہ دِکھے” اس پر جھکتے اس کے کندھے پر دانت رکھتا وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا۔
اور وہ ویسے ہی بیٹھی رہ گئی اس سرد لمس کے ساتھ۔۔۔ہاں پہلا لمس۔۔۔۔کسی مرد کا۔۔۔وہ مرد جو اس پر سب سے زیادہ حق رکھتا تھا۔
“”وہ بیوی تھی اب اس انجان میر کی۔”
