You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405

You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 36 (Last Episode Part 2)

207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 36 (Last Episode Part 2)

You’re All Mine by Suneha Rauf

حیات نے ان آوازوں پر بمشکل آنکھیں کھولیں تھیں۔۔۔۔۔اتنا تو احساس ہو گیا تھا اسے کہ باہر کافی لوگ ہیں۔

میر حاد ابراہیم کی آواز ان لوگوں میں اسے سنائی نہیں دی تھی اور یہی بات پریشانی کا باعث تھی۔

اس نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔۔۔۔دل خوف سے کانپ رہا تھا باہر نکلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

میر حاد ابراہیم کی تنبیہہ اسے اچھے سے یاد تھی اور اس بار وہ دوبارہ اس کی بات کے خلاف نہیں جانا چاہتی تھی۔

“یا رب العالمین مدد!” اس کی آنکھ سے آنسو گرا۔

قدموں کی آواز اسے دروازے کے نزدیک سنائی دے رہی تھی۔

اس شیطانی قہقہے کی آواز بخوبی اس کے کانوں تک پہنچی تھی۔

وہ روتی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔دروازے پر اب زربیں لگائیں جا رہی تھی دشمن گلے تک پہنچ آیا تھا۔

لیکن میر حاد ابراہیم کہاں تھا۔

“حاددددد۔۔۔۔۔۔”اس کے لب کانپے۔۔۔

واش روم میں چھپتی تو اس کا دروازہ بھی یوں ہی توڑ دیا جاتا۔۔۔۔اس نے سر پر چادر اوڑھی اور کھڑکی کو دیکھا۔

وہ کھڑکی اگر اونچی نا تھی تو زیادہ زمین سے قریب بھی نہ تھی۔

مجھے یہاں سے کودنا چاہیے یا میر کا انتظار کرنا چاہیے۔۔۔؟ وہ روتے پاگلوں کی طرح چیزوں سے ٹکراتے سوچنے لگی۔

“حاددددد!”

اس کے منہ سے چیخ برآمد ہوئی کیونکہ دروازہ بس ٹوٹنے ہی والا تھا۔

اس نے آنکھیں بند کی اور کھڑکی سے کود گئی۔

کھڑکی سے کودتے ہی زمین پر گرتے اس کے منہ سے کئی چیخیں برآمد ہوئیں تھیں۔

اس نے پیٹ کو پکڑتے بے حال ہوتے سامنے سے دیکھا جہاں سے ایک آدمی بھاگتا اسکی طرف آرہا تھا۔

“مجھ سے دور رہووووو!”

وہ چکراتے سر، پیٹ میں اٹھتے برداشت سے باہر ہوتے درد اور دھندلاتی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی۔

آپ سیو ہیں۔۔۔۔!آخری لفظ اس نے یہ سنے تھے۔

دروازہ ٹوٹتے ہی وہ اندر داخل ہوئے تھے جہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔

“تم لوگوں نے کہا تھا وہ اندر ہے!” نیازی دھاڑا۔

“سر باہر سے لاک تھا ہمیں لگا وہ اندر موجود ہو گی۔”

“گھر کی تلاشی لو۔۔۔۔۔وہ مجھے ہر حال میں چاہیے!”

اس سے پہلے کہ وہ تلاشی لیتے پولیس کے سائرن کی سنائی دینے لگیں تھیں۔

نیازی نے حواس باختہ ہوتے یہاں وہاں دیکھا اور پھر کھڑکی سے کھودتا وہ وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔

میر حاد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

نیازی کے فرار ہونے کی خبریں ایک بار پھر گردش کرنے لگیں تھیں۔

حاد کو ہوش آتے ہی اس نے چھت کو دیکھا۔۔۔۔۔وہ کئی لمحے حالات کو سمجھنے میں کوشاں تھا۔

“حیات!” اور پہلا لفظ اسے کے منہ سے یہی نکلا تھا۔

“حیات! حیات کہاں ہے؟”

وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا وہی آدمی اندر داخل ہوا جسے اس نے نیازی کو پکڑنے کا کہا تھا۔

میر حاد ابراہیم نے سُرخ ہوتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“موت کے قریب آتے خوف نہیں محسوس ہو رہا تمہیں؟” حاد نے کہتے اسے دیکھا جو شرمندگی سے سر جھکائے ہوا تھا۔

“نکل جاؤ یہاں سے!”

“سنائی دے رہا ہے میں کیا بکواس کر رہا ہوں۔۔۔۔۔نکلو یہاں سے!”

اس کے باقی کے افسران اندر داخل ہوئے تو وہ خاموش ہو گیا۔

“مجھے جانا ہے ابھی!”

“چلے جانا! لیکن اب سے نیازی کا کیس تم نہیں جبار دیکھے گا۔۔۔۔۔”اس کے ہیڈ نے کہا تو وہ تمسخر اڑاتی مسکراہٹ سے انہیں دیکھنے لگا۔

“مجھے منظور ہے!”

وہ بولا تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا کسی کو اس کے اتنے جلدی مان جانے کی امید ہرگز نہ تھی۔

مجھے ابھی جانے دیں!

“اجازت نہیں ہے تم ابھی بھی خطرے میں ہو۔۔۔۔”انہوں نے اسے سمجھانا چاہا۔

“میری بیوی؟”

اس نے سامنے دیکھا جہاں وہ شخص جو تب سے سر جھکائے کھڑا تھا اس نے میر کی آنکھوں میں دیکھتے سر ہلاتے اسے بتا دیا تھا کہ اس کی بیوی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

“میں ٹھیک ہوں! اپنی حفاظت کر سکتا ہوں!”

کل ڈیوٹی ٹائمنگز پر ملیں گے! وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا اور بنا کچھ بھی سنے باہر نکل گیا۔

“کہاں ہے وہ؟”

سر۔۔۔۔وہ۔۔۔۔

“تمہیں میں اب تک بخشے ہوئے ہوں اہتشام۔۔۔۔میری اتنی ڈھیل کا فائدہ مت اٹھاؤ۔”

وہ ہسپتال۔۔۔۔۔وہ بمشکل بول پایا کہ چہرے پر پڑنے والے پانچ سے اس کے لفظ ادا نہ ہو پائے۔

“اپنی ڈیوٹی تم اچھے سے نہیں کر پائے، میرے ساتھ غداری کی تم نے، میرے ساتھ۔۔۔اور میری بیوی کو بھی محفوظ نہیں رکھ پائے تم۔۔۔تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ میر حاد پر حملہ ہونے سے پہلے تم ڈھال بن کر کھڑے ہو گے!”

وہ دھاڑا تو اہتشام کا چہرہ مزید جھک گیا کیونکہ سامنے کھڑے شخص کے انگنت احسانات تھے اس پر۔

“سر میں وقت پر پہنچنے سے چُوک گیا لیکن یقین جانیں میں نے غدادی نہیں کی میرا بیٹے اس نے اگواہ کر لیا تھا۔”

میں نے بس ڈیوٹی پر اپنے بیٹے کو فوقیت دی وہ شرمندگی سے بتاتا چلا گیا۔

بعد میں بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔اڈریس دو۔۔۔میر حاد آگے بڑھ گیا۔

سر!

میر حاد نے مُڑ کر اسے دیکھا۔

“آپ کی بیوی ٹھیک ہیں لیکن۔۔۔۔”

لیکن؟ حاد نے دھڑکتے دل سے اسے دیکھا لیکن تاثرات میں تبدیلی نہ آنے دی۔

“آپ کی اولاد۔۔۔۔۔۔”وہ بول نہ پایا۔۔۔۔

میر حاد نے ضبط سے آنکھیں میچی۔

“اس وقت نیازی کا ٹھکانہ کہاں ہے؟”

شہر سے باہر والے فارم ہاؤس! وہ بولا تو میر حاد نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔

دو دن بعد تمام خبریں ایک ہی بات دہرا رہی تھی کہ نیازی کے فارم ہاؤس پر یک دم آگے بھڑک گئی جس میں وہ جھلس کر مر گیا۔

حیات نے یہ خبر سنی تو سکون کا سانس لیا۔۔۔۔چار دن گزر گئے تھے اسے اس شخص کو دیکھے۔

اسے غازیان اعجاز کے پاس پہنچا دیا گیا تھا۔

لیکن وہ خبر سن کر میر حاد ابراہیم کا کیا ردِعمل ہوتا وہ اس بات سے خوفزدہ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صباء اور دادی جا چکی تھیں وہ اکیلی اس وقت گھر میں موجود تھیں۔

جب اسے اوپر چھت سے آواز آئی جیسے کسی نے دروازہ کھولا ہو لیکن کئی لمحے خاموشی کے بعد جب کوئی آہٹ دوبارہ نہ ہوئی تو وہ اپنا کام دوبارہ کرنے لگی۔

“تم جا سکتے ہو!” صباء نے فون کرتے اس لڑکے کو بتایا تھا۔

“میری قیمت؟”

“لڑکی مل رہی ہے عیش کرو قیمت کا کیا کرو گے!” صباء نے بیزاری سے کہا۔

“لڑکی زیادہ ہوشیاری مت کر۔۔۔۔قیمت مجھے ملے گی تو تیرا کام ہو گا! اور تو نے بولا ہے لڑکی کو صرف کچھ زخم دینے ہیں۔”

ہاں ہاں دے دوں گی جاؤ اب! صباء نے دادی کو دیکھ کر کہا جنہیں ان کی دوست مل گئی تھی کوئی پرانی۔

ٹھیک ہے!

“لیکن جلدی نکل جانا! مجھے صرف چند تصویریں ہی چاہیے ہیں اس کے ساتھ تمہاری!”

ٹھیک ہے!

“کیا ہوا دادی چلنا نہیں ہے؟”

“نہیں میں ندرت کے ساتھ اس کے گھر تک جا رہی ہوں جو اسی کالونی میں ہے وہ واپسی مجھے ڈرائیور کے ساتھ بھیج دے گی تم ایسا کرو گھر چلی جاؤ یا ساتھ ہی آجاؤ۔۔۔۔”

نہیں میں کیا کرو گی آ کر میں چلتی ہوں! وہ کہتی نکل گئی۔

گھر آ کر اس نے دیکھا بتی بند تھی۔۔۔۔۔شاید اسی نے کی ہو یہ سوچ کر وہ چاہت کے کمرے کی طرف بڑھی دروازہ اندر سے بند تھا وہ مسکراتی اپنی کمرے کی طرف چلی گئی۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کسی نے اس کی آواز بند کی تھی۔

اسے بستر پر گراتے وہ شخص اندھیرے میں ہی اس پر حملہ آور ہوا تھا۔

یہ وہی شخص تھا جسے اس نے چاہت کے لیے بلایا تھا۔

وہ شخص اس پر جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑا تھا۔۔۔۔ بہت کوشش سے بھی اپنے منہ سے اس کا ہاتھ نہیں ہٹا پائی تھی وہ۔

کہ بتا پاتی کہ اس کا شکار وہ نہیں ہے لیکن یہ اسی کا انجام تھا جو اس نے کسی کے لیے سوچا تھا۔

رب بڑا بے نیاز ہے وہ بھول گئی تھی۔

وہ شخص پیچھے ہٹتا بتی چلاتا اس کی تصویریں لیتا جا چکا تھا کیونکہ اس نے نا صباء کو دیکھا تھا نہ چاہت کو۔

وہ وہیں بستر پر بے حس و حرکت پڑی رہی بیشک اس کی عزت محفوظ رہی تھی لیکن اس کا بُرا حال شاید یہ بات ثابت نہ کر پاتا۔

وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔گھر میں اس کی سسکیوں کی آوازگونجنے لگی۔

تو چاہت اپنے کمرے سے نکلتی فوراً اس کے کمرے کی طرف بڑھی اور اندر داخل ہوتے اس کے منہ سے بلند چیخ برآمد ہوئی تھی۔

اس نے فوراً سے آگے بڑھتے اس کے اوپر چادر دی اور وجدان کو فون کیا تھا جو بس پہنچ گیا تھا اس لیے اسے آنے کا کہتا فون کاٹ گیا۔

“یہ سب کیا ہوا تھا؟”

“کیا سب میں کوئی گھر میں آیا تھا؟ کیا صباء کی کسی سے دشمنی تھی؟”

ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے گھر میں آہٹ جب محسوس ہوئی تو وہ ڈر گئی تھی۔

اس نے فوراً سے وجدان کو فون کیا تھا۔

وجدان؟

“آ رہا ہوں بیوی اتنا مِس کر رہی ہو مجھے؟ ابھی گھنٹہ پہلے میں نے بتایا تھا کہ میں راستے میں ہوں۔”

وجدان! اس کی خوفزدہ آواز نے وجدان کو بھی چونکایا تھا۔

“کیا ہوا چاہت؟ تم ٹھیک ہو؟”

“وجدان مجھے لگتا ہے گھر میں کوئی گُھس آیا ہے!” اس نے آواز دھیمی رکھتے کانپتے کہا۔

“یہ کیسے ممکن ہے؟” تمہارا وہم ہو گا۔

نہیں چھت کا دروازہ کھلا ہے ابھی؟ اس نے چھت کی طرف دیکھتے کہا۔

“چھت کا دروازہ لاک ہوتا ہے چاہت!”

وجدان خود بھی پریشان تھا لیکن چاہت کے ڈر کو نظرانداز نہیں کر سکتا تھا۔

اور پھر دروازہ کھلنے کی آواز اسے ہلکی سی سنائی دی تھی۔

“چاہت کمرے میں جاؤ!”

وجد۔۔۔۔۔وہ ڈر گئی تھی۔۔۔ایک بھی قدم اس سے آگے نہ بڑھایا گیا۔

چاہت اندر کمرے میں جاؤ فوراً دروازہ اندر سے لاک کر لو!

“میں بس پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔”وہ ڈرائیور سے گاڑی تیزی سے چلانے کا بولنے لگا۔

چاہت گھر میں اکیلی تھی یہ اس نے کچھ دیر پہلے ہی بتایا تھا وجدان کو۔

چاہت نے اندر جاتے دروازہ کانپتے ہاتھوں سے لاک کیا اور وہیں بیٹھ گئی۔

“مجھے بہت ڈر۔۔۔لگ۔۔۔رہا ہ۔۔۔ہے۔۔۔وج۔۔۔وجدان۔۔۔”

“واش روم میں جاؤ اور وہ بھی لاک کرو اندر سے!” وجدان نے اسے جیسا کہا تھا اس نے ویسا ہی کیا تھا۔

کمرے کی لائٹ اور واش روم کی بند کر دو اپنے فون کی جلائی رکھو بس!

“آپ کہاں ہیں وجدان؟”

بس مزید بیس منٹ! وہ وہیں بیٹھی رہی تھی وجدان نے فون بند نہیں کیا تھا۔

“کیا اب بھی آواز آرہی ہے؟”

ہاں سارے کمرے کے دروازے کھلنے کی آواز آرہی ہے وجدان! وہ حد سے زیادہ خوفزدہ تھی۔

اس نے صباء کا نمبر ملایا جو وہ اٹھا نہیں رہی تھی دادی کا ملاتے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا اور فوراً کسی کے ساتھ گھر آنے کا کہا۔

“یہ کس کی آواز ہے؟” وجدان نے فون میں ہی کسی کے رونے کی آواز سنتے استسفار کیا۔

پتا نہیں! چاہت نے کہا۔

“وجدان یہ صباء ہے صباء کی آواز ہے یہ!” چاہت فوراً سے کھڑی ہوئی۔

“کیا پتا وہی اوپر گئی ہو۔۔۔۔تم خوامخواہ ڈر رہی تھی چاہت۔”

“لیکن وہ رو کیوں رہی ہے وجدان؟”

جاؤ دیکھو لیکن دھیان سے دروازہ کھولنا۔۔۔۔میں بس کالونی میں داخل ہو چکا ہوں۔

وجدان نے سامنے کا منظر دیکھتے چاہت کو دیکھا جو خود بھی بے پریشان تھی۔

دادی رو رہی تھیں۔

“یہ کیسے ممکن ہے وجی؟ کوئی ہمارے گھر میں گھس کر ہماری ہی بیٹی۔۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اسے صرف ڈرایا گیا ہے اور کوئی نقصان نہیں ہوا تھا اسے۔۔۔

اس کی گردن اور بازوؤں پر نشان تھے بس اس وقت اسے بیہوشی کی دوا دیتے سلایا گیا تھا۔

وجدان نے صباء کے جاگنے کا انتظار کیا اس سے پہلے وہ کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔

صباء نے جاگتے اپنے اردگرد سب کو دیکھا۔۔۔پھر آنکھیں چھت پر ٹکا دیں۔

“صباء یہ سب؟”

“تمہاری بیوی نے کروایا ہے یہ!” یہ لفظ سب کے سروں پر آسمان بن کر ٹوٹے تھے۔

دادی اور وجدان نے بیک وقت چاہت کو دیکھا تھا جو حیرت سے صباء کو دیکھ رہی تھی۔

اس بار وہ خود پر کوئی تہمت برداشت کرنے کی سکت خود میں نہ پاتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے الہام کے آگے ہاتھ رکھتے اس کا سر سٹرینگ سے بچنے سے بچایا تھا لیکن سامنے کا کانچ ٹوٹتا ان دونوں کو زخمی کر گیا تھا۔

“الہام؟”

آحل نے اسے دیکھا جو بیہوش ہو گئی تھی۔

اس کے اپنے چہرے پر کانچ کے ٹکرے گُھس گئے تھے لیکن الہام کے ماتھے پر اور بازوؤں پر لگے تھے۔

اس نے ایمبولینس کو اور اپنے یہاں موجود واحد دوست کو فون کر دیا تھا انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا۔

“یہ سب کیسے ہوا؟” غازیان اعجاز نے اسے دیکھتے استسفار کیا۔

“الہام ڈرائیونگ کر رہی تھی۔۔۔۔”

آحل نے سنجیدگی سے بتایا! اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے اور غازیان اعجاز اور رابیل افراتفری میں یہ سب سنتے وہاں آئے تھے۔

“کیا الہام کو ڈرائیونگ آتی ہے؟” وہ سخت لہجے میں بولے تو رابیل نے ان کے بازو پر ہاتھ رکھا۔

سیکھ رہی ہے ابھی؟

سیکھی نہیں ہے آحل تم اتنے غیر زمہ دار کیسے ہو سکتے ہو؟ حالات اس سے زیادہ بُرے ہو سکتے تھے۔

وہ انہیں کچھ نہ کہہ پایا اس کا دماغ اب تک اس سرخ بتی پر تھا جس کا نشانہ ان کی گاڑی تھی۔

نشانہ وہ تھا یا الہام؟ وہ سمجھ نہیں پایا تھا جب یہ حادثہ ہو گیا۔

“الہام ہمارے ساتھ جائے گی!’

“ہرگز نہیں!”

میں اپنی بیوی کو سنبھال سکتا ہوں!وہ سنجیدگی سے بولا۔

“ہاں وہ ہم دیکھ چکے ہیں آپ نے کتنا اچھے سے سنبھالا ہے۔۔۔۔”غازیان اعجاز اپنی بیٹیوں کے لیے کس حد تک پوسیسو تھے وہ جان سکتا تھا لیکن یہ بات اس کی غیرت نے گوارہ نہ کی تھی کہ اس چوٹ پر الہام ان کے ساتھ جاتی۔

الہام کی ٹانگوں پر بھی لگی تھی وہ کچھ دنوں تک چل نہیں سکتی تھی بنا سہارے کے۔

آپ جو بھی کہہ لیں لیکن الہام آپ کے ساتھ نہیں جائے گی وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتا بولا۔

“الہام سے پوچھ لیتے ہیں ہم۔۔۔۔”

انہوں نے کمرے سے نکلتے الہام کے کمرے میں قدم رکھا جہاں اسے رکھا گیا تھا۔

وہ بھی ان کے پیچھے ہی چلتا اندر داخل ہوا۔

“الہام آپ ہمارے ساتھ جائیں گی بیٹا!” انہوں نے الہام کو دیکھتے کہا جو دروازے کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔

بابا! اپنے باپ سے گلے لگتی وہ رونے لگی تو آحل نے اسے سنجیدگی سے دیکھا۔

“آحل کیا میں جاؤں؟”

وہ نہیں جانتی تھی ان میں کیا بات ہوئی ہے اسی لیے اجازت طلب کرنے لگی۔

نہیں! آحل نے صاف انکار کیا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔

“تم زبردستی نہیں کر سکتے ہماری بیٹی کے ساتھ۔۔”

غازیان اعجاز نے کہا تو اس نے کندھے اچکاتے الہام کو دیکھا کہ وہ کیا کہتی ہے۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔

“بابا! میں کچھ دنوں بعد آجاؤں گی” اس نے کہا تو آحل باہر ڈاکٹر سے ملنے چلا گیا۔

“آپ کی غلطی ہے الہام آپ جانتی ہیں؟” غازیان اعجاز نے کہا تو اس نے سر ہلایا۔

“آپ نے آحل کو کیوں ڈانٹ دیا پھر؟” رابیل نے غازیان کو دیکھتے پوچھا۔

“اس کی بھی غلطی ہے اس نے گاڑی الہام کو کیوں دی؟”

“گاڑی بابا۔۔۔۔گاڑی۔۔۔کیا ہوا میری گاڑی کے ساتھ؟”

کس کی گاڑی؟

“وہ میری گاڑی تھی بابا! آحل نے مجھے تحفے میں دی تھی” وہ حواس باختہ ہوئی ایک تحفے کی بھی حفاظت نہیں کر پائی تھی وہ۔

“میں نے گیراج میں پہنچا دی ہے وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔دوا کھائیں ابھی۔۔۔”آحل نے اندر آتے کہا۔

غازیان اعجاز نے آحل کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔

“لیکن غلطی تمہاری بھی ہے” انہوں نے پھر سے کہا تو وہ سر ہلا گیا۔

غازیان اعجاز نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور شفقت سے مسکرا دیے۔

“آپ نے مجھے کافی ڈانٹا ہے انکل بھولیے گا نہیں اب میں آپ کی بیٹی کو ڈانٹوں گا” وہ ماحول کا اثر زائل کرنے کی خاطر بولا۔

“خبردار میری بیٹی کو کچھ کہا تو!”

غازیان اعجاز نے مصنوئی غصے سے کہا تو وہ ہنس دیا پھر دونوں گلے لگ گئے۔

آحل نے ایف آئی آر درج کروا دی تھی لیکن کوئی بھی سراغ ہاتھ نہیں آیا تھا ابھی۔

“کیا چاہتی ہو؟” اس نے فزا کا نمبر ملاتے کہا۔

تمہیں! وہ بے باکی سے بولی۔

“تم کبھی مجھے نہیں پا پاؤں گی میں لاحاصل ہوں یہ بات زہن میں نقش کروا لو۔”

“ہاہاہا۔۔۔۔تو مر جاؤ کیونکہ اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو بھی میسر نہیں ہو گے تم۔”

یہ تو وقت بتائے گا اب! آحل نے کہتے فون کاٹ دیا۔

“مجھے فزا اکبر کی ساری تفصیلات چاہیے۔۔۔۔کچھ نجی طور پر معلومات چاہیے” اس نے نمبر ملاتے کہا اور پھر کال کاٹ دی۔

اب تم سے تمہاری طرح پیش آؤں گا میں فزا اکبر۔