207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 10

You’re All Mine by Suneha Rauf

وہ بال سکھا کر آئی اور اپنی گرما گرم کافی پی اور ننگے پاؤں یہاں سے وہاں گھومتی گھر کو تفصیل سے دیکھنے لگی۔

“یہ سب کس نے سجایا ہے؟”

میں نے!!

اس نے وہیں صوفے پر بیٹھتے اپنے لیپ ٹاپ کو کھولتے جواب دیا۔

میں تمہاری کزن سے یہ گھر خرید لوں گی وہ پُرجوشی سے بولی۔

“تم یہاں کوئی اور گھر بھی لے سکتی ہو یہ ہی کیوں؟”

بس اس پر میرا دل آ گیا ہے اور جس پر میرا دل آجائے میں اس چیز کو نہیں چھوڑتی۔

ڈارک ویزرڈ اسے دیکھ کر رہ گیا۔

“کیا مجھے میرا فون ملے گا؟”

نہیں!

“میرے بابا پریشان ہوں گے!”

“جتنی معلومات تمہارے گھر تمہاری خیریت کی پہنچانی تھی میں پہنچا چکا ہوں اس موضوع پر مزید کسی قسم کی کوئی بحث نہیں۔”

ٹھیک ہے اپنا فون دو!

میں اپنی پرسنل چیزیں کسی کو نہیں دیتا وہی سرد لہجہ۔

“امممم۔۔۔۔۔تو کس کو دیتے ہو؟”

جو خاص بے حد خاص ہوں مجھے صرف انہیں۔

تو تمہارے لیے خاص کون ہے؟

“تم تو نہیں ہو۔۔۔۔!” وہ یک دم کچھ سوچتا بولا۔

حیات کو لگا اُس نے اس پر ٹھنڈا پانی لا گرایا ہو۔۔۔جیسا وہ خود سرد تھا اس کی باتیں بھی اتنی ہی سرد تھیں۔

“میں تمہاری خاص بننا بھی نہیں چاہ رہی کیونکہ تم میرے لیے خاص نہیں ہو ۔۔۔۔۔اگر تم میرے لیے خاص ہوتے تو میں تمہاری نظر میں خاص بننے کی خواہش ضرور کرتی” وہ کندھے اچکاتی بولی۔

جوتے پہنو! تھوڑی دیر بعد وہ بولا۔

وہ خاموشی سے سامنے پڑے اسی کے سلیپرز پہن گئی۔

“فون کیوں چاہیے تھا میرا؟ “

حیات نے مسکراہٹ دباتے اسے دیکھا۔

“کیوں اچانک میں خاص ہو گئی ہوں؟”

“چاہیئے یا نہیں؟”

اچھا دو وہ اس کا فون لے کر کیمرہ کھولتی اپنی اور گھر کی تصویریں لینے لگی تو وہ اسے دیکھنے لگا۔

اس گھر میں آج اس کے وجود کے علاؤہ بھی کوئی تھا اس نے گہرا سانس بھرا۔

حیات نے آنکھیں گھماتے یہاں وہاں دیکھا اور پھر اسے وہ کام میں مصروف تھا اس نے اس کے آگے کھڑے ہوتے اپنی تصویر اتارنے کا ڈرامہ کیا۔

اور اسے کیمرہ میں اپنے پیچھے لیتے زبان چِراتے اس تصویر کو محفوظ کیا اور پھر مسکراتے اسے پکڑاتی اندر چکی گئی۔

وہ بھول گئی تھی کہ وہ اسی کا فون تھا۔

اس کے جانے کے بعد ڈارک ویزردڈ نے گیلری کھولی اور پہلی تصویر پر نظر پڑتے ہی مسکرایا۔

اب یہ تصویریں اس کے کیمرے میں ہمیشہ محفوظ رہنے والی تھیں۔

وہ اس گھر کی عادی ہو رہی تھی اسے یہ گھر بے حد پسند آیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ دو بار اسے خریدنے کا کہہ چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رابیل اور غازیان نے اپنی زندگی اچھے سے ایک دوسرے کے ساتھ گزاری تھی کہ زندگی کے اس حصے میں آ کر بھی انہیں ایک دوسرے کا وقت چاہیے ہوتا تھا۔

الہام آرہی ہے آج؟ غازیان نے آتے ہی رابیل سے استسفار کیا۔

“جی آرہی ہے آپ کی لاڈلی۔۔۔!”

ناجانے کیسا جادو کیا ہے آپ نے وہ مجھ سے زیادہ آپ کو محبت کرتی ہیں رابیل غازیان نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔

“ہاں تو جب ان کا باپ تم پر فدا ہے تو تمہیں کیا ضرورت ہے کسی اور کی محبت کی؟” غازیان نے اسے حصار میں لیتے کہا۔

میرال مجھے بہت یاد آتی ہے وہ کیسی دِکھتی اس عمر میں اور میر بھائی۔

ہممم۔۔۔بس وقت کا تقاضا تھا رب کی جو مرضی۔

“تم بتاؤ میری بیٹی کے لیے کیا بنایا ہے تم نے؟”

سب اس کی پسند کا بنا لیا ہے؟ آپ مجھ پر دھیان دیں۔

“ساری عمر تم پر ہی دھیان دیا ہے میں نے” اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے غازیان اعجاز بولے۔

(آہ کتنا مشکل ہے اپنے لکھے کرداروں کو یوں بوڑھا ہوتے دیکھنا۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔)

الہام نے آتے ہی ماں سے پہلے باپ کو گلے لگایا تھا۔

ایسا نہیں تھا کہ انہیں اپنی ماں سے محبت نہیں تھی لیکن باپ ان کے ہر نکھرے کو سر آنکھوں پر رکھتا تھا۔

پھر باپ سے ہی ملنا پہلے! رابیل نے کہا تو سب مسکرائے۔

“جلو نہیں ڈارلنگ!” غازیان اعجاز نے الہام کو آنکھ مارتے رابیل کو دیکھ کر کہا۔

میں نہیں جل رہی۔۔۔۔رابیل کہتی اندر کھانا دیکھنے چلی گئی تو غازیان نے الہام کو ساتھ لگایا۔

کیسی ہے میری جان؟

“بالکل ٹھیک بابا جان آپ کیسے ہیں؟”

“میں اپنے بیٹے کو دیکھ کر خوش ہوں۔۔۔”

بابا آپی کب آئیں گی؟

تمہاری آپی ٹھیک ہیں انجوائے کر رہی ہے غازیان نے گلہ گھنگاڑتے کہا۔۔۔

“میں انہیں مِس کر رہی ہوں؟ کیا میں انہیں فون کر لوں؟”

نہیں ابھی وہ مصروف ہو گی۔۔۔اس کی کلاسس چل رہی ہیں نا۔۔۔ایک کامیاب وکیل اپنا وقت ایسے ضائع نہیں کرتے تمہاری طرح غازیان اعجاز نے اسے چھیرا۔

“باباااااا! آپ آپی کو مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔”

میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا! اس نے ہاتھ اٹھاتے خود کو بری الزمہ کرتے کہا۔

“میر بابا جان کاش مجھے واپس مل جائیں وہ آپ سے زیادہ مجھے پیار کرتے تھے” وہ بولی تو وہ دونوں افسردہ ہو گئے۔

سب نے کھانا کھایا اور باتیں کی ان سب میں الہام کو آحل فیاض یاد نہیں آیا تھا لیکن کب تک؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح اس نے چاہا تھا کہ وہ جائے لیکن کمزوری کے باعث نہیں جا پائی تھی۔

وہ منتظر رہی تھی وجدان چوہدری کے فون کال کی لیکن اس نے نہیں کیا تھا۔

کیا پتا وہ غصہ ہوں۔

ہو سکتا ہے وہ ناراض ہوں۔۔۔

انہوں نے کہا تھا کہ میں کل آؤں لیکن میں نہیں جا پائی۔

اگر وہ ناراض ہو گئے تو؟

کیسے مناؤں گی؟

ایسے ہزار خیالات اس نے دن بھر میں سوچ لیے تھے۔۔۔۔۔یہ سچ تھا کہ وجدان چوہدری چاہت خالد کے دل و دماغ پر چھا گیا تھا، اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کر گیا تھا۔

چاہت خالد کی سوچوں میں صرف اسی کا عکس تھا، اسی کے خیالات۔

اس نے کچھ سوچتے فوراً قدم بستر سے اتارے اور اس کے لیے وہی پرفیوم تیار کی۔

اب ٹھیک ہے اس خوشبو کو ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے سونگھا اور مطمئن ہوئی۔

اگر وہ غصہ ہوں گے تو انہیں یہ دے دوں گی! اسے بس اگلی صبح کا انتظار تھا۔

اسلام علیکم! اگلی صبح وہ وقت سے پہلے ہی وہاں موجود تھی اس کے آتے ہی اس کے کیبن میں گئی۔

“وعلیکم السلام!”

“امم۔۔کیسے ہیں آپ؟”

یہ سوال مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے! آپ کیسی ہیں؟

“میں ٹھیک ہوں! کل نہیں آ پائی۔”

“میں نے تو نہیں پوچھا آپ سے!”

وہ سنجیدہ سا بولا تو کل کا سارا جوش اور خوشی یک دم ماند پڑی چاہت خالد کی۔

ٹھیک ہے! اسے سمجھ نہ آیا کہ مزید کیا کہے۔

جا سکتی ہیں آپ! وجدان چوہدری نے ڈیل نہ ملنے کا غصّہ اس پر اتارا تھا۔

وہ خاموشی سے باہر نکل گئی تو وہ بھی کام کرنے لگا۔

چاہت کا دل دُکھا تھا۔۔۔وہ ایسا کیوں ہو جاتا تھا؟ کبھی بالکل اپنا کبھی بالکل بیگانہ۔

اس نے سارا دن بے دلی سے کام کیا اور جاتے ہوئے اس کے کیبن کی طرف ایک بار دیکھتی لفٹ کی اور چل پڑی۔

لفٹ میں وہ پہلے سے موجود تھا۔۔۔۔اب کی بار چاہت نے کچھ نہ کہا۔

وجدان چوہدری نے انتظار کیا۔۔۔۔۔کہ شاید وہ کچھ بولے اور اس کا انتظار رائگاں نہیں گیا تھا۔

میں آپ کے لیے کچھ لائی تھی۔

کیا؟

“صبح یہی دینے آئی تھی” اس نے پرفیوم کی بوتل نکالتے اسے دی اب کی بار ٹیسٹر نہیں دیا تھا وہ جان گئی تھی اس شخص کو وہ خوشبو کتنی پسند ہے۔

وجدان چوہدری نے وہ خوشبو ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے گہرا سانس بھرا۔۔۔۔

“بہترین!”

بہت ۔۔۔۔۔

ابھی وہ کچھ کہتا لیکن چاہت لفٹ کے رکتے ہی باہر نکل کر چلی گئی تھی۔

ڈیمممم۔۔۔اس نے لفٹ کی دیوار پر ہاتھ مارتے پرفیوم کو دیکھا۔

وہ ایسے ہی اداس رہی تھی سارا دن۔۔۔الہام بھی چلی گئی تھی وہ کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی۔

گھر بات کر کے اس نے فون سائیڈ پر رکھا جب وجدان چوہدری کا نام سکرین پر لکھا آنے لگا۔

اسلام علیکم! وجدان چوہدری نے آغاز کیا۔

وعلیکم السلام!

کیسی ہو؟

“ٹھیک ہوں اب!”

پرفیوم کے لیے بے حد شکریہ! کسی روز اس کے بدلے میں میں بھی کچھ دوں گا۔

میں نے تحفے کے بدلے تحفہ لینے کے لیے تو نہیں دی آپ کو۔

“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا!”

میں رکھوں اب!

“کس بات کی جلدی ہے تمہیں؟” وہ یک دم بولا۔

“جیسے آپ کو جلدی تھی صبح مجھے اپنے آفس سے نکالنے کی” وہ دوبدو بولی۔

“میں معذرت کرتا ہوں۔۔۔۔”کچھ لمحے کے بعد اسپیکر پر اسکی آواز گونجی۔

وجدان چوہدری کہاں کسی سے معافی مانگا کرتا تھا لیکن وہ نہیں چاہتا تھا چاہت چوہدری اس کے بارے میں کچھ بُرا سوچے۔

“اس کی ضروت نہیں” وہ مسکرائی۔

دل میں کئی پھول ایک ساتھ کِھلے تھے وہ فون رکھ چکا تھا لیکن چاہت خالد اب تک اس کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی۔

“محبت بارش کی برستی بوندوں جیسی ہے ہاتھوں میں ہم سمیٹ نہیں سکتے صرف محسوس کر سکتے ہیں، آنکھیں بند کر کے جب ہم بارش کی بوندوں کو خود پر گرتے محسوس کرتے ہیں بس ویسے ہی محبت کے احساسات بھی ایسے ہی دل پر قطرہ قطرہ برستے ہمیں بھگا دیتے ہیں مکمل طور پر۔۔۔جیسے بادل آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے یوں ہی اس شخص کے خیالات ہمیں مفلوج کر دیتے ہیں ہاں محبت بارش جیسی ہے جو سکون پہنچاتی ہے۔۔۔اسے ہاتھ میں سمیٹے کی کوشش کی بجائے خود پر برستے محسوس کرو۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہم کب تک یہاں رہیں گے؟”

وہ اپنے بال باندھتی منہ ہاتھ دھو کر واپس اس کے پاس آئی۔

“جب جانا ہو گا بتا دوں گا!”

“میں بور ہو رہی ہوں!”

تمہاری تفریح کے لیے میں کچھ نہیں کر سکتا بدقسمتی سے! وہ اپنا کام ختم کر چکا تھا اسی لیے لیپ ٹاپ بند کر کے بولا۔

“امممم! کیا یہاں کوئی اصطبل ہے؟”

تمہیں کیا کام؟

اب چونکے میں فری ہوں تو مجھے گھڑ سواری سیکھنی ہے یہ میرا خواب ہے؟

” مجھے گھوڑے بے حد پسند ہیں مجھے بچپن سے شوق تھا کہ میں ایک دن اچھی گھڑ سوار بنوں” وہ آنکھوں میں چمک لیے اسے بتانے لگی۔

چلو چلتے ہیں وہ اسے اس جگہ لایا جہاں وہ ہمیشہ آتا تھا جب گھر پر موجود ہو۔

“یہ بھورا گھوڑا کس کا ہے؟”

میرا!

“کیا سچ میں؟” آواز حیرت سے ڈوبی تھی۔

“اور یہ سفید گھڑا؟”

“یہ گھوڑی ہے!”

“بہت خوبصورت ہے!”

“اور یہ کس کی ہے؟”

میں نے کسی کے لیے خریدی تھی! وہ کہہ کر اپنے گھوڑے کو پیار کرنے لگا جس نے سر جھکایا ہوا تھا اپنے مالک کے سامنے۔

“امممم! کیا میں اس پر بیٹھ سکتی ہوں؟”

“میرے والے پر بیٹھ جاؤ!” اس نے اپنے بھورے گھوڑے کی پیشکش کی۔

“نہیں مجھے اسی پر بیٹھنا ہے۔۔۔دیکھو جس کے لیے تم نے خریدا ہے اس کو کیسے پتا چلے گا کہ میں بیٹھی ہوں یا تم ایسا کرو یہ مجھے دے دو میں جا کر تمہیں پیسے دے دوں گی تم اُسے نیا دلوا دینا” وہ آنکھیں پٹپٹاتے اسے حل بتانے لگی۔

“تم میری ہر خاص چیز کو خریدنا کیوں چاہتی ہو؟” وہ اس کے قریب آیا۔

کیونکہ مجھے وہی چیز پسند آتی ہے وہ گھوڑی کو پیار کرتے بولی۔

“اگر میں تمہیں بیٹھنے دوں تو بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟” وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا۔

کیا چاہیے؟ اس نے ایک قدم پیچھے کو لیا کیونکہ وہ بہت قریب کھڑا تھا اس کے۔

“تم؟”

کیا؟؟

“شادی کرو گی تم مجھ سے بدلے میں!” وہی سنجیدہ لہجہ۔

کیا تم پاگل ہو؟ وہ چلائی۔

آواز آہستہ رکھو ایسا کچھ نہیں کہا میں نے وہ سرد لہجے میں بولا۔

“تمہیں نہیں لگتا یہ قیمت بہت بڑی ہے؟”

پلیز ایسا نہیں کرو یہ میرا خواب ہے تم نہ مانے تو میں کیسے یہ پورا کر پاؤں گی شاید زندگی میں دوبارہ پھر کبھی موقع نہ ملے۔

“جواب چاہیے مجھے!”

پلیز نہیں!

وہ ایسا کیوں چاہ رہا تھا وہ سمجھ نہ پائی بلکہ وہ اسے سمجھ ہی نا پا رہی تھی وہ کب کیا کہتا ہے، کیا چاہتا ہے۔

بیٹھو! اس نے سنجیدگی سے کہا تو وہ مسکرائی۔

اِس کی قیمت لوں گا میں لیکن اپنی مرضی سے وقت آنے پر۔

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے!’ وہ اس وقت سب مان گئی وہ پُرجوش تھی بے حد۔

وہ اس کی مدد سے بیٹھ گئی اور پورے دل سے مسکرائی۔

میں بہت خوش ہوں! وہ چیخی تو اس نے گہرہ سانس بھرا۔

“پرنسس خوشیاں اور اذیتیں دونوں تمہاری منتظر ہیں اور تم دونوں میں مجھے اپنے ساتھ، اپنے پاس پاؤ گی۔” وہ اس کے پیچھے بیٹھتا اسے سب بتانے لگا۔

آہستہ آہستہ اسے سب سمجھاتے وہ رسی اسے پکڑا گیا۔

مجھے ڈر لگ رہا ہے!

“میں موجود ہوں تمہارے پیچھے” وہ اس کے کان کے نزدیک بولا۔

حیات غازیان کے جسم میں سنسنی طاری ہوئی لیکن اس نے سامنے نظریں گاڑھی اور اس سے سیکھنے لگی۔

تم مجھے روز سکھانا میں سیکھ جاؤں گی وہ اترتی اس کے گالوں کو کھینچتی بولی۔

پھر اس کے سخت تاثرات دیکھتے اس سے معافی مانگتی اندر بھاگ گئی تو وہ بھی اندر چلا گیا۔

“تمہارے خواب میں پورے کروں گا پرنسس لیکن بدلے میں تمہیں میرے کرنے ہوں گے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آحل وہیں بیٹھا رہا تھا ناجانے کتنی دیر۔۔۔الہام سے محبت اسے اب سے نہیں تھی کافی مہینے ہو گئے تھے۔

لیکن اسے لگتا تھا کہ وہ بچی ہے ۔۔۔۔اور ابھی صحیح وقت نہیں ہے لیکن جیسے جیسے الہام اس سے اٹیچ ہوتی گئی یہ سب آگے بڑھتا گیا۔

“تُو کن کاموں میں پر گیا ہے میرا پتر؟” اپنے باپ سے ہوئی فون پر کچھ دیر پہلے کی گفتگو اسے یاد آئی۔

ابّو آپ جانتے ہیں میری محبت؟

“لیکن میرے شیر تجھے درد ہو گا جب تو اسے پا نا سکا۔”

“لیکن کیوں؟ کیوں نہیں ملے گی وہ مجھے؟”

“وہ میری ہے، میں کوشش کرتا رہوں گا۔۔۔صرف اس لیے میں اپنی محبت چھوڑ دوں کہ اس کا باپ امیر ہے اور میرا باپ ایک دیہاڑی دار مزدور۔”

یہ افسانوی زندگی نہیں ہے ہوش سے کام لے میرے شیر۔۔۔۔اکلوتا بیٹا تھا ان کا کیسے نہ اسے سمجھاتے۔

“کیا میں اُس کے قابل نہیں؟”

سچ بولوں نا تو رب نے تجھے بہت حسن اور قابلیت دی ہے میرے شیر۔۔۔لیکن دنیا والے تیری شکل سے پہلے تیرا بینک بیلنس دیکھیں گے لڑکی دیتے ہوئے۔

“میں وہ بھی بنا لوں گا!” وہ یک دم بولا تو وہ شفقت سے مسکرا پڑے۔

“میں اور تیری ماں ہمیشہ دعا کرتے ہیں کہ تجھے تیری محبت مل جائے معجزے کی طرح۔۔۔تو اپنے والدین کو ہمیشہ اپنے ساتھ کھڑا پائے گا۔”

مجھے پتا ہے ابو جان! اس کے دل پر ٹھنڈی پھوار پڑی۔

کیا وہ الہام غازیان تک رسائی حاصل کر سکتا تھا؟ اس کے دل نے پوچھا جواب ناجانے کہاں تھا۔

الہام دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے مِس کرنے لگی تھی ۔۔۔۔آحل نے جاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسے بنا فون کیے رہے گی۔

اسے سمجھ نہ آئی کہ یہ کون سا جزبہ ہے۔

“وہ مجھے بے حد پسند ہیں!” اس نے خود سے کہا۔

الہام غازیان حساس ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد ضدی تھی کیونکہ غازیان اور میر ابراہیم نے اس کی ہر بات کو منہ سے نکلنے سے پہلے قبول کیا تھا۔

میر ابراہیم اس کے ہر نخرے اٹھاتے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ جس چیز کو شدّت سے چاہتی تھی اس سے کبھی جدا نہیں ہوتی تھی۔

“بابا میں واپس کب جاؤں گی؟”

“کیوں یہاں مزہ نہیں آرہا؟” رابیل نے چونک کر پوچھا ٹھٹکا تو غازیان بھی تھا۔

“آ رہا ہے لیکن مجھے واپس بھی تو جانا ہے نا!” وہ منمنائی۔

جہاں تک مجھے یاد ہے الہام آپ کا کوئی دوست نہیں ہے وہاں تو پھر کس کو مِس کر رہی ہو غازیان نے اس کے بالوں کو چومتے کہا۔

“باباااااا!”

“میں سُن رہا ہوں!”

“اچھا نہیں جا رہی!”

چلیں آئیں لڈو کھیلیں وہ بولی تو وہ مان گیا لیکن رابیل غازیان نے اس کا یہ رؤیہ دیکھا تھا غور سے۔

ماں تھی کیسے نا ٹھٹھکتی۔۔۔۔وہ اولاد جو آتی تھی تو واپس بہت مشکل سے جاتی تھی آج تیسرے ہی روز جانے کی بات کر رہی تھی۔

“کاش ایسا کچھ نہ ہو جیسا میں سوچ رہی ہوں میری جان!”

غازیان اور اس کے قہقہے وہ یہاں تک سن سکتی تھی۔

اس ماحول میں اس نے حیات کو بہت مِس کیا تھا جو پڑھائی کے لیے اس وقت ان کے حساب سے کینیڈا میں تھی۔

رب العالمین میری بیٹیوں کی حفاظت کرنا! اس نے دل سے دعا کی اور غازیان کے اشارہ کرنے پر اُن کے پاس چلی گئی۔

وہ یہاں کشمیر میں قیام پذیر تھے یہ جگہ انہیں سکون پہنچاتی تھی لیکن حیات اور الہام دونوں کو پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔

وجہ ان دونوں کو خود اعتماد بنانا تھا، اکیلے لڑنا اور جینا سکھانا تھا۔