You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 31
Rate this Novel
You're All Mine Episode 31
You’re All Mine by Suneha Rauf
وجدان نے اس کے لیے سوپ بنایا تھا۔۔۔یوٹیوب سے دیکھ دیکھ کر ۔۔۔۔اور ایسا کرنے میں اسے کافی دیر لگی تھی۔
وہ کچن سے نکل کر اسے بھی دیکھ لیتا جو واپس سو گئی تھی۔۔۔اندر سے کمفرٹر لاتے واپس اس پر اوڑھا۔
چاہت کی آنکھ ساڑھے بارہ کُھلی تھی اور چار مہینوں میں پہلی بار وہ سکون کی نیند سوئی تھی۔
تو کیا یہ اس کا اپنا گھر تھا؟
جی مجھے یہ کام جلد ہی کروانا ہے اسے وجدان کی آواز آرہی تھی وہ شاید فون پر بات کر رہا تھا کسی سے۔
“جی چاہت وجدان!”
اپنا نام سن کر وہ ٹھٹکی اور قدم بڑھاتی کچن کی طرف گئی جہاں وہ شلف پر کچھ کر رہا تھا پشت دروازے کی طرف تھی۔
“میں کروا لوں گا سائن لیکن یہ گھر کے کاغذات مجھے چاہت وجدان کے نام جلد سے جلد چاہئے۔۔۔”
چاہت وہیں تھم گئی۔۔۔
یہ گھر؟ اس کا گھر؟ اسکے نام؟ حقیقت تھا یہ سب یا محض خواب؟
وجدان نے گھومتے اسے دیکھا پھر ہاتھ بڑھاتے اسے پاس بلانا چاہا۔
جی! وہ ساتھ فون پر بھی مصروف تھا۔
چاہت نے اس کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا بس نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تو وجدان اس کا ہاتھ تھامتا باہر لایا پھر صوفے پر اسے بٹھاتے خود اس کی گود میں سر رکھا۔
چاہت نے اسے ایسا کرنے سے روکا نہیں کیونکہ وہ کھوئی تھی ابھی تک اسی جملے میں کہ یہ گھر اس کا ہونے والا تھا۔
اوکے پھر بات ہو گی کام ہو جائے تو اطلاع دیجیے گا خدا حافظ۔
فون رکھتے اس کی چہرے کی طرف دیکھا پھر اس کا سر جھکایا تو دونوں کی نظریں ملی۔
“کیا سوچ رہی ہو؟”
“یہ سب کیوں؟”
“کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کبھی بھی اب کہیں جانا پڑے ہزار لڑائیاں، ہزار ناراضگیاں سہی لیکن اب کے بعد اگر کوئی اس گھر سے جائے گا تو وہ میں ہوں تم نہیں۔”
“اور ایسا کیوں؟”
“کیونکہ تم میری بیوی ہو میری اولاد کی ماں۔۔۔میری واحد محبت۔”
“تو وہ محبت اس دن کہاں تھی؟”
وہ بس میرا غصہ تھا! وجدان نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں چاہت نے اب کی بار بھی اسے نہیں روکا تھا شاید وہ تھک گئی تھی یا اس وقت اس سے مخالفت کی ہمت خود میں نہ پاتی تھی۔
“میں تمہیں وضاحت۔۔!”
نہیں مجھے بھوک لگی ہے وہ وہ تلخ یادیں نہیں یاد کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔کم از کم ابھی تو نہیں۔
“ہاں سوپ بن گیا ہے لاتا ہوں۔۔۔۔”وجدان نے اٹھنے سے پہلے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کھڑا ہوتا کچن میں چلا گیا۔۔۔۔
چاہت کو پکڑاتے وہ اپنا باؤل تھام کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا چپک کر۔۔۔۔چاہت نے دور ہو کر بیٹھنا چاہا تو اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے جیسے اسے روکا ہو۔
پیو!
چاہت نے سوپ پیا۔۔۔۔جو کافی اچھا تھا۔۔۔۔اس کی گھنٹوں کی محنت تھی یہ۔
وجدان اس کی طرف ہی متوجہ تھا۔
“پسند آیا؟”
چاہت نے اسے دیکھا لیکن جواب نہ دیا تو وہ کئی لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹاتے سامنے موجود میز کی کرسی پر بیٹھ گیا۔
چاہت نے اس کا ایسا کرنا شدت سے محسوس کیا لیکن کچھ بولا نہیں۔
سوپ ختم ہونے پر اسے دیکھا جو اپنے فون کی طرف متوجہ تھا۔
وہ اسے متوجہ کرنے میں جب ناکام رہی تو خود ہی اٹھی اور کچن کی طرف بڑھی اور اپنا باؤل پھر سے سوپ سے بھرتے واپس آ کر اپنی جگہ پر بیٹھی۔
وجدان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری جو اس نے چھپا لی تھی۔
وہ اس کے بعد ٹی وی کے سامنے ہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔اور وجدان نے گھر سے ہی سارا کام کیا تھا۔
شام کے سات اسے پھر بھوک لگ چکی تھی اب وہ وجدان کو دیکھ رہی تھی جو دوسرے کمرے میں موجود تھا۔
اس نے دوا بھی لینی تھی اب لیکن وجدان نہیں باہر آیا تھا۔
صبح کیسے اس کی توجہ حاصل کرنے کے کیے سب کر رہا تھا اور اب بالکل لاتعلق ہو گیا تھا۔
وہ کچن میں گئی جہاں کچھ بھی موجود نہیں تھا اب اسے رونا آنے لگا تھا۔
اس حالت میں وہ ویسے بھی حساس ہو گئی تھی اور اب وجدان کے پاس آنے کے بعد اس کے احساسات مزید بدل گئے تھے۔
اس نے یہاں وہاں چکر لگائے کہ شاید وہ باہر آجائے لیکن آدھے گھنٹے میں بھی وہ باہر نہیں آیا تھا۔
جب اس کی ہمت جواب دے گئی تو دروازہ دھیرے سے کھولا اور اسے دیکھا جو سامنے ہی بیٹھا تھا کرسی پر۔
وجدان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی پھر دروازہ بند کیا اور اسے دیکھا۔
وجدان نے اب کی بار نہ ہاتھ بڑھایا تھا اور نہ ہی اسے اپنے پاس آنے کا بولا تھا۔۔۔۔اس کا دل چاہا دھارے مار کر روئے اب کی بار۔
وہ ایک پل میں مہربان اور اگلے ہی پل ظالم بن جاتا تھا اس کے لیے۔
وہ اس کے پاس آئی اور اس کے آگے سے اس کی چیزوں کو جھٹکے سے ہٹایا۔
“کیا ہوا؟” وجدان نے پرسکون انداز میں پوچھا۔
چاہت نے اسے دیکھا پھر اس کا فون اس کے ہاتھ سے لیتے نیچے پھینک دیا۔
“چاہت!”
اس کی آواز میں تنبیہ تھی لیکن چاہت اسے یوں ہی بے خوف نگاہوں سے دیکھتی رہی تو وجدان نے جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا اور گود میں بٹھایا۔
“کیا چاہ رہی ہو؟”
چاہت نے اس کے کندھے پر سر رکھے آنسو بہا دیے تھے۔
“بھوک لگی ہے؟”
“آپ کو فرق پڑتا ہے؟”
اس نے وجدان کی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچتے کہا تو وجدان مسکرایا پھر اس کے بالوں میں بوسہ دیا۔
میں پچھلے ڈھائی گھنٹے سے تمہارے آنے کا انتظار کر رہا تھا وہ حقیقت بتانے لگا۔۔۔کیونکہ وہ چاہتا تھا وہ خود اس کے پاس آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اففف میری رخصتی ہے میں چلی جاؤں گی۔۔۔۔”وہ سوچتے سوچتے اب رونے لگی تو حیات نے مسکراتے اسے دیکھا جو خود بھی آج جانے والی تھی۔
“بس کرو الہا۔۔۔میں بھی جا رہی ہوں تم بھی جاؤ اپنے گھر یہاں بیٹھ کر ماما سے اکیلے محبت نہیں سمیٹ سکتی تم۔۔۔”حیات نے کہا۔
رابیل نے ان دونوں کو دیکھا جو اس کے دونوں طرف بیٹھیں تھیں۔۔۔۔اس کے کندھے پر سر رکھے۔
“کیونکہ ماما مجھ سے زیادہ پیار کرتی ہیں وہ اتراتی بولی۔”
“ٹھیک ہے لیکن بابا تو مجھ سے کرتے ہیں نا۔۔۔”حیات نے بھی سر اٹھاتے کہا۔
“مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔۔مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ یہ سب کب ہوا لیکن مجھے تم پسند آگئے ہو۔۔۔۔”
وہ آنکھیں جھکائے مشرقی لڑکیوں کی طرح شرماتے بولی تو آحل نے حیرت سے اسے دیکھا الہام صحیح کہتی تھی۔
“تمہارا دماغ درست جگہ پر نہیں ہے فزا۔۔۔تم میری بہنوں جیسی ہو اور تم جانتی ہو میں شادی شدہ ہوں۔”
“نکاح ہوا ہے بس اور وہ ٹوٹنا عام سی بات ہے وہ آرام سے بولی۔”
“گھٹیا ذہنیت ہے تمہاری۔۔۔۔”اب لوگ انہیں دیکھنے لگے تھے۔
تم بھی مجھے پسند کرتے ہو۔۔۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔فزا نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔
“محبت ایک بار ہی ہوتی ہے اور مجھے اپنی بیوی سے ہے وہ۔۔۔۔ہماری رخصتی ہے آج۔۔۔میں تمہاری بہت عزت کرتا ہوں فزا اس عزت کو برقرار رکھنا چاہتا ہوں میں۔”
“مت رکھو تم برقرار۔۔۔اور اسلام میں چار کی اجازت ہے تم مجھے بھی اپنا سکتے ہو۔۔۔تمہاری اس چھوٹی عمر کی ناسمجھ بیوی سے زیادہ میں ساتھ نبھا سکتی ہوں تمہارا۔”
“اسلام اجازت دیتا ہے لیکن میری زندگی میں ایک کے بعد کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی اور الہام آحل وہ لڑکی ہے جس کی زات سے زیادہ مجھے کوئی زات اپیل نہیں کرتی، کوئی مجھے پُرکشش نہیں لگتا کوئی مجھے اپنی طرف یوں نہیں کھینچتا۔۔۔۔اپنے دماغ کے گند کو نکال دو میں ایک شادی شدہ انسان ہوں اور اپنی زندگی میں خوش ہوں۔”
“یہ کام تمہیں میری وجہ سے ملا ہے مت بھولو۔۔۔”وہ پیچھے سے چِلائی تو وہ رُکا۔
“میں قیمت ادا کر دوں گا بتا دینا۔۔۔۔”وہ کہتا چلا گیا۔
میک اپ روم میں سب کی توجہ کا مرکز وہ عورت تھی۔۔۔۔۔فزا نے طیش سے سارا میک اپ اٹھا کر پھینک دیا۔
“تمہیں تو میں پا کر رہوں گی آحل فیاض ۔۔۔کیا اوقات ہے تمہاری کہ تم مجھے منع کرو۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔۔”وہ چِلانے لگی۔
“کون سا تماشہ لگا ہے جو دیکھ رہے ہو؟” وہ چِلائی تو سب واپس اپنے کام پر لگ گئے۔
“وہ ثبوت مٹا دو۔۔۔۔”
اس نے کال کرتے کہا۔۔۔وہ سارے ثبوت مٹا دیے اس نے جو آحل نے دن رات پاگلوں کی طرح جمع کیے تھے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے۔
آحل گھر آیا اور الہام کے لیے تحفے خریدے۔۔۔۔فزا کے اقرار سے اس کا دماغ بھک سے اڑا تھا لیکن وہ اپنا خاص دن یونہی برباد نہیں کر سکتا تھا۔
اپنے ماں باپ کو لیتے وہ وہاں پہنچ گیا تھا۔۔۔تقریب اچھی رہی تھی۔۔۔مسکراہٹوں میں کھانا کھایا گیا تھا۔۔۔مہمان صرف چند ہی تھے۔
“مجھے گلہ رہے گا اپنی بار تو مجھے بلایا نہیں تھا اور میری شادی میں بھی نہیں آئے تم۔۔۔”اس نے حاد کو کال پر کہا۔
حاد سے اس کی بات تب سے چل رہی تھی جب وہ اور الہام ساتھ تھے۔۔۔کیونکہ حاد کو الہام بہت پیاری تھی اسی لیے وہ آحل کو سمجھا چکا تھا کہ وہ الہام کو خوش رکھے اور پھر ان کی دوستی مضبوط ہوتی گئی وجہ شاید یہ تھی کہ ان دونوں کے ہی زیادہ دوست نہ تھے یا شاید تھے ہی نہیں۔
“میں مصروف تھا یار۔۔۔۔۔”
“چلو مان لیا۔۔۔لیکن تمہاری بیوی تو اتنی حسین لگ۔۔۔۔”
“بکواس نہ کر۔۔۔”میر حاد کی آواز گونجی تو اس کا قہقہہ گونجا۔
“یار سالی ہے میری۔۔۔۔ “آحل نے شرارت سے الہام کو پاس آنے کا اشارہ کرتے کہا جس نے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“بہن بول۔۔۔اور عزت سے۔۔۔اپنی بیوی کی صرف میں ہی تعریف کر سکتا ہوں زبان سنبھال کر اگلی بار اور مبارک ہو۔۔۔۔تحفہ مل کر ہی دوں گا اب بند کر رہا ہوں۔”
آحل نے مسکراتے کال کاٹی اور پھر رخصتی پر اس نے بمشکل الہام کو خاموش کرواتے گھر لایا تھا۔
“الہام بس کرو۔۔۔”
“میرے نئے کپڑے تم نے برباد کر دیے ہیں۔۔۔۔”
اپنے ماں باپ کو چھوڑتے اس نے الہام کو اپنے گھر کے سامنے گاڑی سے اترنے میں مدد دیتے کہا۔
اب رونے پر بھی پابندی ہے یہاں۔۔۔وہ سوں سوں کرتی بولی۔
اچھا آؤ! وہ اسے اندر لایا اور گھر دِکھایا جسے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
“خوبصورت۔۔۔۔”
پسند آیا؟ آحل نے اسے نظروں میں رکھتے کہا اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
“بہت۔۔۔۔”
“میری منہ دکھائی”
وہ اس کے قریب آتی پُرجوشی سے بولی تو آحل نے اسے جھٹکے سے گراتے اپنے ساتھ بٹھایا۔
“صبح ملے گی وہ!”
“مجھے ابھی چاہیے!”
نہیں صبح تمہارے اٹھنے سے پہلے باہر موجود ہو گی ابھی خاموش رہو! آحل نے اس پر جھکتے گہرا سانس بھرا۔
مجھے چینج کرنا یے۔۔۔۔وہ نم ہوتی ہتھیلیوں سے بولی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“الہام واپس آؤ!”
نہیں میں چینج کروں گی پہلے وہ بنا کچھ سنے کمرے میں چلی گئی تو وہ بھی اٹھ کر اندر چلا گیا۔
کمرے کی سجاوٹ نے مزید الہام کی سانس خشک کی تھی۔
کمرے کا خواب ناک ماحول اس کی سانسوں کی رفتار کو سست بنا رہا تھا۔۔۔۔آحل کے قدموں کی آواز سنتے وہ فوراً واش روم میں بند ہو گئی۔
اور پھر گھنٹہ وہ اندر ہی رہی تھی۔۔۔آحل نے اسے ایک بار ہی بلایا تھا لیکن وہ نہ آئی تھی اور پھر کوئی آواز نہ آنے پر وہ باہر نکلی تو کمرے میں اندھیرا تھا۔
تو کیا وہ سو گیا تھا؟
وہ اس کمرے میں بہت بار آئی تھی لیکن آج سے اسے وہیں رہنا تھا۔
وہ اپنی جگہ بناتے وہاں لیٹی کیونکہ وہ بیڈ زیادہ بڑا نہ تھا۔۔۔۔
آحل نے اسے دیکھا تو وہ پلکیں جھکا گئی۔
“سو جاؤ!”
“آپ ناراض ہیں؟”
“نہیں ہونا چاہیے؟”
کتنی بار وہاں بھی بلایا تھا میں نے آپ کو الہام اور آپ نے مجھے ہر بار نظرانداز کیا ہے اور اب آپ اپنی مرضی سے چینج کر آئیں ہیں مجھے آپ کو دیکھنے اور سراہنے کا موقع دیے بغیر کیا سمجھوں ان سب کو میں؟
“میرا یہ ہزگز مطلب نہیں تھا ۔۔”الہام نے فوراً وضاحت دی وہ تو جھجک میں یہ سب کر رہی تھی۔
نہ آپ نے مہندی لگائی ہے۔
اب الہام کو افسوس ہونے لگا تھا اس نے کیوں نہیں مہندی لگائی تھی یا کیوں اس کی بات نہ سنی تھی اس کے بلانے پر کیوں نہیں گئی تھی۔
آئیم سوری۔۔۔۔اس نے اپنے سرد ہاتھ آحل کے چہرے پر رکھتے کہا۔
تو آحل نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔
الہام نے سوچ لیا تھا وہ اسے یہ سب کر کے کسی روز سرپرائز دے گی۔
اپنی قمر پر اس کے ہاتھ محسوس کرتے اس نے آنکھیں میچ لی اور پھر اس نے آحل فیاض کو خود کے ہر نقوش پر محسوس کیا تھا۔
“تم حسین ہو بے حد، یہ بات جان لو الہام فیاض کہ آحل زندگی میں کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن الہام کے بغیر کسی کو نہیں چُن سکتا۔۔۔”وہ اس کے کان کے پاس بولتا اسے معتبر کر گیا۔
الہام نے اپنی سانسوں میں اس کی سانسوں کو گھلتے محسوس کرتے خود کو اس کے سپرد کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات نے تیاریاں کرنا شروع کر دی تھیں۔۔۔۔اس کے لیے ڈھیر سارے تحفے منگوائے تھے۔۔
شرٹس، پرفیومز، چاکلیٹس جو اس نے ہی آخر میں کھانی تھیں لیکن منگوائیں تھیں زیادہ سارے ہر رنگ کے پھول اور غبارے۔
“بابا میں جا رہی ہوں!” لیکن آپ نے میر کو کچھ نہیں بتانا ٹھیک ہے؟
“لیکن بتا دو اسے حیات کیا معلوم وہ گھر نہ ہو؟”
وہ کشمکش میں تھے حیات کو ہر بار انہوں نے میر کے کہنے پر وہاں بھیجا تھا۔
بالکل نہیں میرا سرپرائز ایسے خراب ہو جائے گا میں پہنچ کر آپ کو فون کر دوں گی۔
انہوں نے ڈرائیور کو اشارہ کیا تو اس نے تابعداری سے سر ہلایا۔
وہ بہت خوش تھی۔۔۔اور صرف اس کا ردِعمل دیکھنے کے لیے پُرجوش تھی۔
سارے راستے اس نے یہی سوچتے گزارا تھا کہ وہ کیا ردعمل دے گااور اگر وہ اسوقت گھر ہی ہوا تو؟
ڈرائیور کی ساری حسیات اپنے اردگرد تھیں۔۔۔۔
حیات نے اپنے فون پر میر صاحب کا نام جگمگاتے دیکھا تو چونکی۔
“اففففف یہ کیوں فون کر رہا۔۔۔کر رہے؟”
میں نہیں اٹھاؤں گی اگر انہیں پتا چل گیا تو؟۔۔۔
فون مسلسل بج رہا تھا۔
“فون اٹھا لیں بی بی جی ضروری نہ ہو۔۔۔”ڈرائیور نے اسے دیکھتے کہا تو اس نے سر نفی میں ہلایا۔
میر کو اریسٹ وارنٹس مل چکے تھے۔۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے وہ اپنے گھر والوں کو محفوظ کرنا چاہتا تھا کیونکہ نیازی یوں ہی بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔
اور اس کے گھر والوں میں محض حیات ہی تو آتی تھی۔
اخبارات اور خبریں ایک ہی بات بتا رہیں تھیں۔۔۔۔نیازی کی گرفتاری اور لوسیفر کے سارے پرانے اللیگل دھندے سامنے دوبارہ سے آئے تھے۔
ان کا آپس کا رشتہ نیازی کو مزید زلیل کروا گیا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ بوکھلا گیا تھا ملک سے باہر جانا ہوائی اور بحری دونوں راستوں سے ممکن نہ تھا۔
وہ پاگل ہوتا دندنا رہا تھا۔
“اس کے گھر پر حملہ کرو!”
“اس کے گھر کا پتا کسی کو معلوم نہیں سر۔۔۔۔”
“مجھے معلوم ہے!! یہ پکڑو پتا اور جو کوئی بھی ہوا تم جانتے ہو کیا کرنا ہے ہم اگواہ نہیں کریں گے اسے یاد رکھنا۔”
“سر اس کی بیوی ہے وہ۔۔۔۔۔وہ ہمیں چھوڑے گا نہیں۔”
“اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ہم نے اس کی اور اس کی بیوی کی مخبری کی ہے آپ جانتے ہیں اس کے بدلے میں اس نے کیا کیا ہے۔۔۔سوچیں اس کی بیوی کو کچھ ہوا تو وہ کیا کرے گا۔”
“میرے سامنے بکواس نہ کرو ۔۔وہ ایک انسان ہے بندے کھا کر نہیں سوتا جو تم سب کانپ رہے ہو اور میرے سامنے اس کی تعریفوں کے پُل باندھنا بند کرو اور اپنا کام کرو نہیں تو تم لوگوں کی بیویاں تم لوگوں کو کبھی نہیں مل پائیں گی وہ چیخا تو سب کام پر لگ گئے”
پک دا ڈیم فون۔۔۔! اس نے حیات کا فون کوئی دسویں بار ملایا تھا جو اس نے نہیں اٹھایا تھا۔
اس نے غازیان اعجاز کو فون کیا۔
“حیات کہاں ہیں بابا؟”
وہ۔۔۔۔وہ خاموش ہوئے۔
“بابا آپ جانتے ہیں میں اس کی زات پر سمجھوتا نہیں کر سکتا کسی قسم کا۔۔۔۔آپ مجھے بتائیں کہاں ہے وہ؟ ان دنوں اس کا گھر سے نکلنا بالکل بند کریں۔۔۔۔”
“بیٹا وہ تو نکل گئی ہے گھر کی طرف۔۔۔۔”
میر حاد ابراہیم خاموشی ہو گیا۔۔۔۔پھر جب بولا تو آواز سرد تھی بے حد۔
“کس کی اجازت سے؟ میں نے آپ سے کہا تھا بابا کہ وہ کہیں نہیں جائے گی جب تک میں نا کہوں؟ مجھے کیوں نہیں بتایا گیا۔”
میر۔۔۔۔
لیکن کال کاٹ دی گئی تھی۔
میر حاد ابراہیم نے وہاں سے بھاگتے گاڑی اپنے گھر کی طرف بھگائی تھی۔
“حیات حاد ابراہیم اس کی سزا تمہیں ملے گی۔۔۔تمہاری زات پر میں کسی قسم کا سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں ہوں۔۔۔۔تمہاری غلطی پر بھی تمہیں نقصان پہنچا تو تم بھاری قیمت ادا کرو گی۔”
وہ گھر پہنچا تو کوئی گاڑی نہیں کھڑی تھی وہ اندر داخل ہوا جہاں ساری سجاوٹ کی گئی تھی۔
حیات۔۔۔۔
حیات۔۔؟
اس نے چیختے اسے بلایا۔۔۔۔۔جو کہیں بھی نہیں تھی۔۔۔اس کے دل دھڑکنے کی رفتار کم ہوئی تھی۔
حیات نے ساری تیاریاں کر لیں تھیں۔۔۔کیک وہ یونہی راستے سے لے آئی تھی سارے غبارے مشین سے پُھولاتے اس نے پھیلا دیے تھے، پھولوں کی سجاوٹ اب کرتی وہ بے حال ہو گئی تھی۔
اففففف۔۔۔وہ پچھلے صحن میں میز پر جُھکی پھول لگا رہی تھی۔
جب اسے کچھ گرنے کی آواز آئی۔۔۔۔اس نے مُڑ کر دیکھا جب تین اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سات لوگ اس کے سامنے کھڑے تھے۔
اس کے ہاتھوں سے پھول نیچے اس کے پاؤں میں گر گئے۔
“کو ۔۔۔کون۔۔۔؟” اس کی آواز مدھم پر گئی۔
“تمہارے شوہر سے ہمارے مالک کے کئی حساب نکلتے ہیں تو بس۔۔۔۔۔”ان میں سے ایک آگے بڑھا۔
حیاتتتت!
اب کی بار میر کی آواز اس کے کانوں تک جا پہنچی تھی۔۔۔وہ لوگ بھی تھم گئے جن کے مطابق اسے اس وقت گھر نہیں ہونا تھا۔
میرر۔۔۔۔! وہ چلانا چاہتی تھی لیکن آواز ڈر اور خوف سے نہایت کم تھی کہ شاید اس تک جاتی۔
اسے لے کر ہی جانا پڑے گا۔۔۔۔ان میں سے ایک بولا۔
نہیں یہ حکم نہیں ملا تھا ہمیں اس کو۔۔۔۔۔وہ خاموش ہو گئے میر حاد ابراہیم کے آنے کی دہشت تھی کہ وہ لفظ پورے ادا نہ کر پایا۔
میر حاد نے انہیں دیکھا اور پھر ایک نظر حیات کو جس کے چہرے کا رنگ سفید پر گیا تھا۔
“دور رہو!”
میر حاد ابراہیم نے اپنی گن کا رخ ان کی طرف کیا تھا جس کے بدلے میں ان سات لوگوں نے اپنی گن کا رخ اس کی طرف کیا تھا۔
“اتنی ہمت۔۔۔۔میں حیران ہوں۔۔۔۔جنگ میری اور نیازی کی ہے اسے بول غیرت ہے تو سامنے سے لڑ۔۔۔میری بیوی کو ایک خراش تو کیا نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو میر حاد ابراہیم قبر تک معاف نہیں کرے گا۔”
“حیات یہاں آؤ!”
اس نے گھمبیر آواز میں کہا پر حیات کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔کیونکہ وہ ان سات لوگوں کے درمیان کھڑی تھی۔
“حیات میری طرف آؤ!”
میر حاد نے اسے آنکھوں سے کچھ سمجھایا تھا لیکن وہ اپنے حوش و حواس میں نہ تھی۔
اے لڑکی رک! انہوں نے اس کے کندھے پر گن رکھی اور اسے سرکاتے اس کی قمر تک لائے۔
حاد کی آنکھوں میں سرخی چھانے لگی! اس نے گیس بومب اپنے ہاتھ میں تھام رکھا تھا لیکن اس وقت وہ ان کے درمیان تھی اور وہ ان ایک ان سات پر بھاری نہیں پڑ سکتا تھا یہ ممکن نہ تھا۔
“ہاتھ نیچے کر!” وہ وہیں سے چِلایا تھا۔
دوسرے نے حیات کی گردن سے دوپٹا کھینچا تھا اور میر حاد ابراہیم کی برداشت بس یہیں تک تھی اس نے گن کا رخ اس کی طرف کرتے ایک ساتھ تین کو نشانہ بنایا تھا۔
“کہا تھا نا میری بیوی کو ہاتھ مت لگانا۔۔۔۔”
اپنے قریب گولیوں کی دلخراش آواز سنتے حیات اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتی زمین پر گر گئی۔
باقی چار اب بھی اس کی طرف گن کیے کھڑے تھے۔
“تیری بیوی حسین ہے بے حد۔۔۔۔سر سے پہلے تو ہم ہاتھ صاف۔۔۔۔۔”
میر حاد ابراہیم نے اسے دیکھا اور گولی چلائی لیکن بدلے میں اب کی بار ان میں سے بھی ایک نے اسے نشانہ بنایا تھا جو اس کے بازو میں لگی تھی۔
اس نے دوسرے ہاتھ سے وہ بومب ان کی طرف پھینکا اور فوراً سے حیات کے پاس آیا۔
اپنے بازوؤں میں بھرتے وہ اندر کی طرف بڑھا تھا لیکن ایک اور لگنے والی گولی سے وہ نیچے گرتے گرتے سنبھلا تھا۔
پھر وہ بلٹ پروف شیشے کا دروازہ بند کرتے وہ وہیں زمین پر بیٹھ گیا تھا کیونکہ باہر سے پولیس کے ہارن کی آواز گونجنے لگی تھی۔
اس نے آخری بار حیات کو خود کے پاس دیکھا تھا جس کے ماتھے پر خون کے نشان تھے اور پھر وہ آنکھیں بند کر گیا۔
“حاد ابراہیم اور حیات حاد ابراہیم ہماری کہانی شاید یہیں تک کی تھی اس کے لب ہلے۔”
