207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 18

You’re All Mine by Suneha Rauf

“اسلام علیکم!” انجانی آواز پر وہ ٹھٹکی۔

“وعلیکم السلام!”

“مِس چاہت بات کر رہی ہیں؟”

وہ جو ابھی آ کر پانی کا گلاس منہ کو لگائے تھی کہ فون بجا اور پھر بجتا ہی گیا۔

“جی آپ کون؟” وہ وہیں بیٹھ گئی۔

“ہم فلائیر کمپنی سے بات کر رہے ہیں۔۔۔میں اس کمپنی کے سی ای او کا سیکرٹری پرویز بات کر رہا ہوں۔”

چاہت نے اس کمپنی کا نام کہیں سُن رکھا تھا لیکن کس سے اسے یاد نہ آیا۔

“جی میں کیا مدد کر سکتی ہوں آپ کی۔۔۔؟”اس نے خالص پیشہ ورانہ انداز میں پوچھا۔

“ویسے تو ہم چاہتے تھے کہ آپ آفس میں آئیں اور ہم آمنے سامنے بات کریں لیکن سر کا کہنا ہے کہ آپ کو کسی قسم کا تکلف نہ کروایا جائے۔”

وہ خاموش رہی اس کے جواب میں کیا بول سکتی تھی۔

“آپ کی پرفیوم چاہیے ہمیں! مخالف سیدھا مدّعے پر آیا۔”

“میں ابھی ایک مقبول کمپنی کے ساتھ کام کر رہی ہوں” اس نے گہرا سانس بھرا۔

“تو اس کے بعد آپ ہمارے ساتھ کام کر سکتی ہیں اس کام کی آپ کو اچھی رقم دی جائے گی۔”

“سر میری بات سمجھیں۔۔! میرا کنٹریکٹ ہے اس کمپنی کے ساتھ۔۔۔میں کہیں اور کام نہیں کر سکتی اگر چاہوں بھی تو۔۔۔۔”آج کے واقعے کے بعد وہ واقع وہ جگہ چھوڑنا چاہتی تھی۔

“تو ٹھیک ہے آپ صرف ہمیں پرفیوم کا فارمولا دے دیں۔۔۔کاپی رائٹس آپ کے، نام آپ کا اور قیمت آپ کو دے دی جائے گی۔”

“میں ایسے کیسے آپ کو دے سکتی ہوں” وہ شش و پنج کا شکار ہوئی۔

“آپ اپنے آفس اوقات کے بعد ہماری کمپنی کو ایک گھنٹہ بھی دیں تو ہمیں اچھا لگے گا ہمیں آپ کی وہ خاص پرفیوم چاہیے۔۔۔”مخالف اب گلہ کھنگاڑتا بولا۔

“کون سی پرفیوم؟” وہ سیدھی ہوئی۔

“وہی جو سب سے پہلے آپ مارکیٹ میں لانا چاہتی تھیں لیکن وجدان چوہدری نے ایسا ہونے نہیں دیا۔”

“آپ کو یہ سب کیسے معلوم ہے؟”

“ہمارے اپنے ذرائع ہیں میڈیم۔۔۔۔اور شاید آپ یہ بات جانتی نہیں کہ وجدان چوہدری جلد یا بدیر وہ پرفیوم مارکیٹ میں لے آئے گا۔۔۔۔”مخالف کا لہجہ بدلا۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”اس نے ہلکی سی مزاحمت کی۔

“اگلے مہینے فورن کمپنیز یہاں پاکستان میں دورے پر آ رہی ہیں اور ساری کمپنیز کی جانچ پڑتال ہو گی جو پسند آئی اس کے ساتھ کام کیا جائے گا اس سے کمپنی راتوں رات آسمان پر ہو گی” وہ اسے سب بتا گیا۔

“لیکن یہ سب؟”

“میں جانتا ہوں آپ کو نہیں پتا ہو گا۔۔۔وجدان چوہدری اس طرح کی باتیں صرف اپنے خاص لوگوں کو بتاتا ہے” وہ خاص پر زور دیتا بولا۔

جیسے چاہت خالد کی کمزوروں سے واقف ہو۔

“میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتی۔۔۔”

چاہت نے کال کاٹتے فون بند کر کے سائیڈ پر پھینک دیا۔

اسے کسی سے بات نہیں کرنی تھی پھر بنا چینج کیے بستر پر اوندھے منہ گری۔

تکیہ بھیگنے لگا تھا۔۔۔۔وہ ایسی ہی تھی کبھی بھی کسی کے سامنے نہ رونے والی۔۔۔بظاہر مضبوط نظر آنے والی اپنے کمرے میں، اپنے تکیے میں منہ دے کر گھنٹوں رونے والی۔

“یہ دنیا میرے لیے نہیں ہے” وہ چِلائی پھر خاموشی چھا گئی۔

دوسری طرف زید کو گھر دیکھتے وجدان چوہدری نے آئبرو اچکائی پھر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔

“تم تو مصروف ہو میں نے سوچا میں ہی اپنا دیدار کروا آؤں۔۔۔”وہ اندر آتا ٹانگ پر ٹانگ رکھتا بولا۔

“کیا کھاؤ گے؟”

کافی!

“پھر بزنس کی باتیں کافی دیر تک ہوتی رہیں تو زید جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔”

“شادی کب کر رہا ہے؟”

“اس کا ان سب سے کیا تعلق؟”

وجدان چوہدری نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے سنجیدگی سے کہا۔

“کہیں اپنی سیکرٹری کے انتظار؟”

“بکواس نہیں زید۔۔۔نکلو!”

“ٹھیک ہے! لیکن اُس کے تو ایسے ہی خیالات لگتے ہیں مجھے آج ملی تھی مجھے آفس میں۔”

“کچھ کہا تم نے اسے؟”

وجدان چوہدری نے فوراً آج کے چاہت کے لب و لہجے کو یاد کرتے اس سے پوچھا۔

“کہنا کیا تھا میڈیم کے مزاج ہی نہیں ملتے۔۔۔۔”

“تم دور رہو اس سے زید” وجدان چوہدری نے سنجیدگی سے کہا۔

“کیوں؟”

“جو کہہ رہا ہوں اس پر عمل کرو!” زید کندھے اچکاتے نکل گیا تو وہ وہیں بیٹھ رہا۔

چاہت خالد کی باتیں، اس کے تاثرات سب وہ باری باری یاد کرنے لگا۔۔۔ہاں وہ بہت خاص نہیں تھی لیکن کوئی اس کے جیسا عام بھی نہیں تھا۔

وجدان چوہدری کے زہن پر اس رات کا منظر چھن سے برسا۔۔۔۔

“ڈیم۔۔!”

اس نے اپنے ردِعمل کو یاد کرتے اپنے ہاتھوں کو مٹھیوں میں بھینچا۔۔۔اسے وہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا۔

“آئیم سوری چاہت!” اس کے لب پھڑپھڑائے۔

اور وجدان چوہدری نے زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی سے معافی طلب کرنے کی تمنا کی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چلا گیا تو حیات غازیان کو لگا وہ اس گھر کی رونق کو ساتھ لے گیا ہے۔

“میڈیم آپ نے جانا ہے واپس؟”

ڈرائیور اور گارڈ دونوں کو میر چھوڑ کر گیا تھا وہ جانتا تھا اس کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔

“نہیں چاچا! ابھی نہیں!”

وہ کہتی اندر چلی گئی تو وہ بھی سر ہلاتے باہر نکل گئے۔

آج وہ اس گھر میں اکیلی تھی۔۔۔ وہ اس کا فون اسے لوٹا گیا تھا لیکن پھر بھی اس نے کسی کو فون نہیں کیا۔

وہیں بیٹھی باربی مووی دیکھتے وہ سو گئی تھی۔۔۔۔اور پھر اٹھتے اس نے یہاں وہاں دیکھا آج کسی نے اسے نہیں اٹھایا تھا۔

اسے شدت سے بھوک لگی تھی۔۔۔لیکن کھانا پکانے والا نہیں تھا۔۔۔۔پہلی بار میر کی یاد شدت سے آئی تھی اسے۔

“تو کیا ہوا میں خود بنا سکتی ہوں کھانا!”

وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور کچن میں گئی جو صاف ستھرا تھا۔

اس نے انڈے نکالے کیونکہ اسے سب سے آسان یہی لگا تھا بنانا۔۔۔لیکن اسے وہ آسان چیز بھی بنانی نہیں آتی تھی۔

“کیا یہاں نوڈلز نہیں ہیں؟ اس میں تو مجھ سے کوئی جیت نہیں سکتا۔”

دور بیٹھا وہ شخص پہلی بار مسکرایا تھا۔۔۔۔جس کا فون اس گھر کے ہر کونے میں نصب کیمرے سے منسلک تھا۔

ایسا ممکن نہیں تھا میر صاحب اپنی زوجہ کو اکیلے چھوڑ جائیں۔

حیات کو ڈھونڈنے پر بھی کوئی نوڈلز وہاں نہیں ملے تھے۔۔۔اس لیے انڈے توڑتے سیدھی پلیٹ میں ڈالے جو آدھے اچھل کر باہر گرے تھے اس کے کپڑوں پر۔۔۔

“آخخخخخخ!”

اس نے اپنے ہاتھوں کو ناک کے نتھنوں کے پاس لے جاتے کہا۔

پھر اندر بمشکل روتے ہوئے پیاز کاٹا اور بنا تیل ڈالے اسے جلتے ہوئے پین میں ڈال دیا۔۔۔جو لمحے میں اس کے ساتھ چپکتا کالا ہو گیا تھا۔

“اففف۔۔۔۔”

اس کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔چولہا بند کرتے وہ سب وہیں چھوڑے باہر آگئی۔

چینج کر کے وہیں صوفے پر اوندھے منہ پڑی رونے لگی۔۔۔مجھے بابا کے پاس جانا ہے اسے بے حد بھوک لگی تھی۔

اور بھوک اس سے کبھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔وہ اٹھی اور اپنا سامان سمیٹنے لگی کہ دروازہ کھٹکایا گیا۔

“جی؟”

دروازہ کھولتے اس نے گارڈ کو دیکھا جس کے ہاتھ میں میک ڈی تھا۔

“آپ کو بھوک لگی ہو گی۔۔۔سر نے کہا تھا میں آپ کے لیے لے آؤں معذرت میں تھوڑا لیٹ ہو گیا اور اگلی بار دروازہ پوچھے بغیر مت کھولیے گا۔”

“یہ بھی سر نے کہا تھا؟” اس نے دروازہ پوچھ کر کھولنے والی بات کا زکر کرتے حیرانی سے کہا تو گارڈ نے ہاں میں سر ہلایا اور چلا گیا۔

حیات اندر آ گئی۔۔۔تو کیا وہ شخص اسے اس حد تک جان گیا تھا۔۔۔۔وہ کھانے کے دوران یہی سوچتی رہی۔

لیکن پھر بھی یہاں نہیں رہ سکتی تھی وہ ایسے۔

باہر کا زیادہ دن نہیں کھا سکتی تھی کہ اس کی طبیعت خراب ہو جاتی تھی۔

دروازہ کھولا اور ڈرائیور کے پاس جاتے اسے متوجہ کیا۔

“چاچا!”

“جی بیٹا؟”

“مجھے واپس کشمیر جانا ہے۔۔۔میرے بابا میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔”

“ٹھیک ہے سارے انتظامات پورے ہوتے ہی میں آپ کو اطلاع کر دیتا ہوں۔”

“ٹھیک ہے!”

مخلاف نے لیپ ٹاپ کی سکرین کو زور سے بند کیا تھا۔۔۔”یعنی وہ اس کے گھر میں دو دن بھی نہیں رُک پائی تھی۔”

حیات نے اپنے بستر پر لیٹتے اس شخص کو یاد کیا۔۔۔اس کے ساتھ گزارے شروع سے لے کر اب تک کے سارے لمحات۔

اس کا حیات کو ڈرانا۔۔۔۔خوفزدہ کرنا۔۔۔اپنے ساتھ لے آنا۔۔۔اس کے بال۔۔۔۔اس کا جُھک کر اس کے ٹراؤزر کو اوپر کرنا۔۔۔۔۔اس کے کپڑے منگوانا۔۔۔اس کی قربت۔۔۔اس کی خوشبو۔۔۔اس کی مہک۔۔۔اس کا لہجہ ۔۔۔۔اس کا بولنا۔۔۔اس کا دیکھنا۔۔۔اس کا ڈرانا۔۔۔۔اس کا گھر سواری سِکھانا۔۔۔۔سب ہی تو اسے یاد آیا تھا۔

“میں تمہیں مِس نہیں کروں گی میر!۔۔”

وہ خود کو باور کروا رہی تھی کہ اسے ایسا نہیں کرنا ہے نا آج نا کبھی۔

اور پھر اگلے ہی روز وہ اس گھر کو چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھتے اسے احساس ہوا جیسے وہ اپنی روح کا کچھ حصّہ ان در و دیوار میں کہیں کھو آئی ہو۔

“دھیان سے گاڑی چلاؤ ۔۔۔۔۔۔اس کی سیٹ کے نیچے بھی گن ہے۔۔۔۔اختاط ضروری ہے بے حد۔۔۔وہ جب تک اپنے باپ کے ساتھ نہ دِکھے تم واپس نہیں آؤ گے۔۔۔دو گھنٹے میں اسے ناشتہ کروانا ہے اور کچھ ہیوی مت خرید دینا اس کے کہنے پر بھی۔۔۔۔صرف فریش جوس اور ایک کیک بس۔۔۔۔گاڑی میں پانی کی بوتل یاد سے رکھو۔۔۔اس کی طرف کے شیشے بلٹ پروف ہیں اس کے کہنے پر بھی نیچے نہیں ہونے چاہیے اور ایسے کئی فرمودات میر صاحب کی طرف سے ڈرائیور کے لیے جاری ہوئے تھے جس پر ڈرائیور نے عمل کیا تھا۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آج وہ میرے ہاتھ سے نہیں بچے گا اس کی ہمت کیسے ہوئی الہام سے آ کر ملنے کی۔”

“غازیان پلیز۔۔۔۔!!!!”

رابیل نے اسے غصے میں دیکھ کر پُرسکون کرنا چاہا جو مشکل تھا۔

“کیا کروں میں اس کا؟ یہ عمر نہیں ہے آج۔۔۔ابھی وہ اٹھارہ سالوں کی ہوئی ہے۔۔۔”

“کیا یہی زندگی ہے؟”

“کہ وہ شادی کر لے اور زمہ داریاں سنبھالے۔۔۔۔ہم نے حیات کو اب تک شادی کے قابل نہیں سمجھا الہام تو بہت چھوٹی ہے” وہ یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔

“آپ کو مسئلہ شادی سے ہے یا آحل فیاض سے؟”

“دونوں سے!”

“شادی سے مسئلہ ہے تو میں اس مسئلے پر آپ کی رائے کا احترام کرتی ہوں لیکن اگر مسئلہ ہماری الہا کےلئے آحل کا چناؤ ہے تو۔۔۔۔”

“ہاں وہ لڑکا مسئلہ ہے!” وہ الہام کے قابل نہیں ہے۔

“کیوں قابل نہیں ہے؟”

” وہ ہرطرح سے قابل ہے۔۔۔اتنی مار، اتنی زلت کے بعد وہ شخص آپ کی بیٹی سے پیچھے نہیں ہٹا۔۔۔۔آپ سے مقابلے میں نہیں اترا۔۔۔۔آپ کے سامنے اُف تک نہ کہا۔۔۔ کیا یہ بات کافی نہیں اس کی محبت کی سچائی کو ماننے میں؟”

“رابی مہربانی کرو اس وقت خاموش رہو۔۔۔” غازیان اتنی حقیقت کو سننے کا متمحل نہ تھا شاید۔

وہ آتا ہی ہو گا اس کو میں آج بتاتا ہوں کہ میری بیٹی کا پیچھا کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔کیا اوقات ہے اس شخص کی؟ کیا وہ ہماری بیٹی کے قابل ہے۔

“غازیان اعجاز بھولیں مت آپ کے حالات جب آپ نے مجھ سے شادی کی تھی۔۔۔۔”رابیل غازیان یہ بات کہنا نہیں چاہتی تھی لیکن کہہ گئی۔

غازیان نے جھٹکے سے مُڑتے اسے دیکھا۔

“تمہارا ڈرائیور نہیں تھا میں رابی۔۔۔۔پولیس میں تھا میں۔۔۔اچھا کما رہا تھا۔۔۔۔”وہ حیران تھا اپنی بیوی کو اس کا اور آحل کا موازنہ کرتے دیکھ۔

لیکن شاید وہ سچ کہہ رہی تھی۔۔۔۔یک دم وہ تھما۔

ہمیشہ کی طرح رابیل غازیان۔۔۔اسے اپنی باتوں سے متاثر کر گئی تھی۔۔۔یہی تو کرتی آ رہی تھی وہ سالوں سے۔۔۔وہ یک دم ُپرسکون ہو گیا۔

آحل کو آتے دیکھ وہ دونوں خاموش ہوئے تو الہام نے اپنے آپ کی طرف دیکھا۔

“اندر جائیں الہام!”

حکم جاری ہو گیا تھا اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا جس نے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا تھا۔

“بابا! آپ آحل کو کچھ نہیں کہیں گے!”

“الہام۔۔۔۔!”

آواز میں سنجیدگی اور سرد پن دونوں تھا۔۔۔وہ فوراً اپنی ماں کے پاس گئی۔

“بولو کیوں آئے ہو؟”

“آپ جانتے ہیں سر میں کیوں آیا ہوں!”

“کیا اس دن کی بےعزتی کافی نہیں تھی؟” غازیان نے اس شخص کو دیکھا جو بے شک وجیہہ شخصیت کا مالک تھا۔

“نہیں! کیونکہ اگر آپ حق پر ہیں تو میں بھی حق پر ہوں آپ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کی بیٹی سے پیچھے ہٹ جاؤں گا تو اس سوچ کو دل و دماغ سے کہیں نکال پھینکیں۔”

“زبان سنبھال کر لڑکے!” غازیان دھاڑا۔

“الہام غازیان سے تو میں مر کر بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا سر۔۔۔۔۔!”

وہ انہیں باور کروا رہا تھا۔۔۔اس کے لہجے کی پختگی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ ایسا کر گزرے گا۔

“کتنا کما رہے ہو؟ تمہیں اندازہ ہے میری بیٹی کے خرچوں کا؟ تمہاری اب تک کی زندگی کا خرچہ اس کے پیدا ہونے پر لگا دیا تھا میں نے” غازیان اب بیٹھ گیا تھا۔

“دنیا پیسوں سے چلتی ہے سر میں مانتا ہوں لیکن رشتے نہیں۔۔۔آپ چاہ کر بھی رشتوں کی قیمت دولت سے نہیں لگا سکتے۔۔۔اور کیا ضمانت ہے اس بات کی کہ الہام غازیان کے لیے جو لڑکا آپ پسند کریں گے وہ اسے خوش رکھے گا، ایک مطمئن زندگی دے پائے گا”

“بیٹھ جاؤ!”

غازیان نے کہا تو الہام نے دور سے اسے بیٹھتے دیکھا ان کی آواز اس تک نہیں جا رہی تھی۔

“کیا کر رہے ہو؟”

“ماڈلنگ شروع کی ہے!”

“بہت اچھے!” آواز میں طنز کا عنصر نمایاں تھا۔

“لیکن جلد ہی چھوڑ دوں گا!”

آحل نے انہیں بتایا کہ وہ اس انڈسٹری میں زیادہ دیر رُکنے کا ارادہ نہ رکھتا تھا۔

غازیان اعجاز اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ وہ شخص ان کی بیٹی سے پیچھے نہ آج ہٹے گا اور نہ کل کبھی مستقبل میں۔

“ہمیں ابھی الہام کی شادی نہیں کرنی!” وہ ناجانے اسے کیوں بتا رہے تھے۔

“مجھے بس اسے نکاح میں لینا ہے باقی سب آپ کی مرضی سے ہو گا! میں وعدہ کرتا ہوں۔”

“میں اب تک مانا نہیں ہوں لڑکے!” غازیان نے کہا۔

آحل مسکرایا۔۔۔۔”بیٹھنے کی آفر ایسے ہی نہیں کی سر آپ نے مجھے۔”

“میں بہت بڑے بڑے لفظ بولنے پر بھروسہ نہیں رکھتا۔۔۔کیونکہ یہ میری زاتی زندگی ہے اور میں ایسا ہی ہوں۔۔۔شاید الہام کے سامنے بھی میں اسے کبھی نہ بول پاؤں کہ اس کی میری زندگی میں کیا اہمیت ہے۔۔۔ وہ میری زندگی میں آنے والی پہلی صنفِ نازک ہے یا میں نے اس سے خود سے زیادہ محبت کی ہے۔۔۔۔پیسہ کمانا میری زندگی کا مقصد نہیں رہا لیکن اب بن گیا ہے کیونکہ یہ سہولیات۔۔۔۔”

اس نے غازیان اعجاز کے گھر کو دیکھتے خشک سا قہقہہ لگایا۔

“یہ سہولیات اسے فراہم کرتے مجھے سالوں لگ جائیں گے۔”

“تو تم ماڈلنگ میں بہت کما سکتے ہو آخر۔۔۔وہاں اِس سے بہتر زندگی لوگو پا لیتے ہیں”وہ کیا کہنے چاہتے تھے آحل فوراً سمجھ گیا۔

“میں پہلے بھی بتا چکا ہوں۔۔۔میں محبت کے ایک بار ہو جانے پر یقین رکھتا ہوں۔۔۔جیسے ہم مسلمان ایک عقیدے اور اپنی موت پر بھروسہ رکھتے ہیں” وہ انہیں دیکھتا بولا۔

“اپنے باپ سے کب ملواؤگے؟”

“وہ تو عام دیہاڑی دار مزدور ہیں سر۔۔۔جب کہیں گے حاضر ہو جائیں گے وہ آپ کی خدمت میں۔”

“کل بھیج دینا انہیں!”

“لیکن یاد رکھیں سر۔۔۔میرے والدین کی عزتِ نفس کو مجروح کیا گیا تو حالات پیچیدہ ہو جائیں گے” وہ کھڑا ہوتا بولا۔

“تم مجھے دھمکا رہے ہو؟” وہ بھی کھڑے ہو گئے۔

الہام نے دل تھاما انہیں یوں ایک دوسرے کے روبرو کھڑا ہوتے دیکھ۔

“نہیں بس بتا رہا ہوں!” میری زندگی ان دو لوگوں پر مشتمل ہے میں نہیں چاہوں گا کہ۔۔۔

ہم عزت دینے والے لوگ ہیں آحل صاحب۔

“مجھے اسی ہفتے نکاح کرنا ہے”

آحل نے جاتے کہا لیکن غازیان اعجاز کی سرد نگاہوں کو دیکھتے بنا کچھ کہے نکل گیا۔

ہاں وہ کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔آسمان کو دیکھتے وہ مسکرایا۔۔۔۔

“الہام غازیان میں نے کہا تھا نا۔۔آحل فیاض تمہارے معاملے میں کسی معجزے کا انتظار کرے گا”

اہلِ دنیا نے اُسے میری

“محبت” کا نام دے دیا

ارے نہیں!

وہ تو بس واحد اثاثہ ہے میرا

دلِ شکستہ تو قافلہ تھا

محبت کا جسے لُوٹا گیا

ارے نہیں!

دلِ ناداں کوئی بازار تو نہیں میرا

میرے نام کے ساتھ اس

کا نام نہ لکھو ہر دیوار پر

ارے نہیں!

اس کا نام تو بس پسندیدہ ہے میرا

از قلم سُنیہا رؤف۔