207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 11

You’re All Mine by Suneha Rauf

وہ ناچاہتے ہوئے بھی اس سے قریب ہو گئی تھی۔۔۔۔ہر روز اس سے گُھر سواری سیکھتے اب وہ اچھی ہو گئی تھی۔

ڈارک ویزرڈ نے اپنا کام بھی کم کر دیا تھا۔۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کے عادی ہوتے جا رہے تھے۔

“سنو!”

ڈارک ویزرڈ نے مُڑ کر اسے دیکھا جو کچن میں کھڑی تھی۔

“تمہیں پاستہ پسند ہے؟”

کیوں؟

سوال کے بدلے سوال نہیں کرو بتاؤ! اس نے مصنوعی غصے سے کہا۔

“تم بنانے والی ہو تو دیکھوں گا اگر اچھا لگا تو” وہ کہتا اندر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

“دیکھوں گا” وہ منہ ٹیڑھا کرتی اس کی نقل اتارنے لگی۔۔۔کہہ کر ایسے گیا ہے جیسے شیف بُراک ہو اب میں بھی نہیں بناؤں گی اس کے لیے۔

اور اس نے ایسا ہی کیا تھا اپنے لیے تھوڑا سا نکال کر اس نے بوائل کیا اور اپنا بنا کر اب وہ میز پر بیٹھی تھی جب وہ باہر آیا۔

“لاؤ!” وہ اسکے سامنے آ کر بیٹھا جہاں وہ اپنی پلیٹ سے کھا رہی تھی۔

“کیا؟”

پاستہ! ڈارک ویزرڈ نے سنجیدگی سے کہا۔

“کون سا پاستہ؟”

” تمہیں پتا نہیں پسند بھی آتا یا نہیں اسی لیے میں نے تمہارے لیے نہیں بنایا” وہ بال ادا سے پیچھے کرتی آنکھیں پٹپٹاتے بولی۔

ڈارک ویزرڈ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا پھر جھٹکے سے اس کی کرسی کھینچتے اپنے قریب کی۔

“کی۔۔۔کیا۔۔۔کر رہے ہو؟”

لیکن تب تک وہ اس کی پلیٹ میں سے اس کا چمچ اٹھا کر کھانا شروع کر چکا تھا۔

“اےےے۔۔چھوڑو۔۔جوٹھا مت کرو!” وہ اپنا چمچ اس سے چھیننے کی جدوجہد کرنے لگی۔

بیکار ہے کوشش مت کرو!

ڈارک ویزرڈ نے آدھا کھا کر اس کے گلے میں موجود سکارف سے منہ صاف کیا اور فون پر کسی کا نمبر ملاتا اٹھ گیا۔

حیات نے ایک نظر اپنی پلیٹ کو دیکھا اور پھر اپنے سکارف کو!

پھر اسی چمچ کو اٹھایا اور کچھ سوچتے اسی سے کھانے لگی۔۔۔

ڈارک ویزرڈ نے اس کی یہ حرکت دیکھی تھی۔۔۔۔یعنی وہ قریب تھا اپنے مقصد کے۔

وہ سارا پاستہ کھاتی اس کے نزدیک آئی جو فون کال پر بات کر رہا تھا۔

“چلیں؟”

کہاں؟ وہ ٹھٹکا۔

“گھر سواری کے لیے؟”

“نہیں آج موسم بہت خراب ہے ہم نہیں جائیں گے!”

نہیں! ہم جائیں گے پلیز چلو میرا بہت دل ہے موسم بھی اچھا ہے۔

“نہیں کا مطلب نہیں ہے۔۔۔۔۔تھوڑی دیر میں بارش شروع ہو جائے گی اور گھوڑا بیمار پر سکتا ہے” اس نے سختی سے کہا۔

حیات نے ایک نظر اسے دیکھا اور باہر نکل گئی۔

ڈارک ویزرڈ نے زیادہ دھیان نہیں دیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ واپس نہیں آئی ہے۔

ڈیممم!” وہ چِلایا اور باہر نکلا جہاں شام پڑنے لگی تھی اور وہ کہیں نہیں تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے دوبارہ جانے کا نام نہیں کیا تھا لیکن صرف دو دن اب پانچ دن بیت گئے تھے۔

آحل فیاض اسے بُرے طریقے سے یاد آنے لگا تھا۔

اس نے خود پر قابو نہ پاتے اس کا نمبر ملایا۔

دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا تھا لیکن وہ بولا کچھ نہیں۔

“آحل۔۔۔۔”آواز میں بے قراری تھی۔

کیا ہوا؟

مجھے واپس آنا ہے وہ روتے بولی۔

“کیا ہو اہے؟ الہام؟” آحل جو اس وقت اپنی کتاب پڑھ رہا تھا اس کا نام دیکھتا مسکرایا۔

لیکن اس کی رندھی آواز سنتا یک دم سیدھا ہوا۔

“آپ ۔۔۔؟”

“مجھے مِس کر رہی ہو؟”

ہاں! وہ صاف گوئی سے بولی۔

“تم نے کہا تھا تم میرے بغیر رہ سکتی ہو” آحل نے اسے اس کی بات یاد دلائی۔

میں واپس آجاؤں گی آج ہی وہ فون کاٹ کر اپنے باپ کو ڈھونڈنے لگی۔

الہاممم۔! لیکن وہ تو کال کاٹ چکی تھی۔

“بابا بابا! وہ پورے گھر میں انہیں پکار رہی تھی۔”

کیا ہوا ہے میری جان؟ رابیل اپنے کمرے میں سے گھبرائی سے نکلی۔

“ماما بابا کہاں ہیں؟”

“باہر گئے ہیں کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ؟”

مجھے واپس جانا ہے! وہ بے چینی سے یہاں وہاں چکر لگاتی بولی۔

“لیکن کیوں؟”

بس مجھے جانا ہے بابا کو بلائیں مجھے چھوڑ کر آئیں یا آحل کو بلائیں۔

رابیل نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا ابھی وہ کچھ کہتی کہ غازیان اعجاز اندر داخل ہوا۔

“کیا ہوا ہے میری جان؟” غازیان اعجاز نے الہام کو فوراً ساتھ لگاتے استسفار کیا۔

بابا مجھے گھر جانا ہے!

“لیکن کیوں؟ ابھی تمہاری چھٹیاں چل رہی ہیں۔”

لیکن میرے پیپیرز ہیں مجھے تیاری کرنی ہے بے چینی اس کے انگ انگ سے جھلک رہی تھی۔

آپ اپنی کتابیں ساتھ لائیں ہیں بھول گئی؟

غازیان نے اسے یاد دلایا لیکن وہ پیر پٹکتی اس سے دور ہوئی۔

“نہیں بابا آپ سمجھ نہیں رہے ہیں نا۔۔۔۔”رابیل اور غازیان نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا۔

یہ کون سا روپ تھا اس کا وہ یہ سب کیوں کر رہی تھی۔

اچھا تھوڑے دن میں میں چھوڑ آؤں گا اپنی جان کو وہ بھی خود! اس کے باپ نے اسے لالچ دی۔

مجھے آج ہی جانا ہے وہ چِلائی۔

الہامممم! غازیان نے سختی سے کہا تو وہ خاموش ہوئی اور پھر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

“غازیان یہ ایسا کیوں کر رہی ہے؟” رابیل نے فکرمندی سے کہا۔

میں جان لوں گا فکر مت کرو! اُسے ساتھ لگاتے اس کی نظریں الہام کے کمرے کے بند دروازے پر تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاہت خالد کے دل نے وجدان چوہدری کو چّن لیا تھا محبت کے لیے۔

اسی لیے ہر وقت اس کے بارے میں سوچتے رہنا اس کی زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔

“مس چاہت؟”

میرے کیبن میں آئیں وہ کہہ کر چلا گیا تھا۔

وہ مسکرائی اور اسکے پیچھے اس کے کیبن میں گئی۔

جی؟

پرفیومز ہم اسی ہفتے لونچ کر دیں گے جس کے لیے ایک پارٹی منعقد کروائی جائے گی وہاں آپ نے اپنی خوشبو کے بارے میں بتانا ہے۔

“لیکن میں کیسے؟”

“کیسے کا کیا مطلب؟” یہ آپ کی بنائی ہوئی ہے آپ بہتر جانتی ہیں۔

“ہاں لیکن وہاں بہت لوگ ہوں گے۔۔۔پلیز ایسا کریں میں سب کچھ لکھ دیتی ہوں پریزنٹ کوئی اور کر دے” وہ منمنائی۔

آپ کو سچ میں نہیں کرنا یہ؟ وجدان نے پوچھا کیونکہ اس کے آفس میں موجود ہر لڑکی بہت پُرجوش رہتی تھی ان سب کاموں کے لیے۔

جی میں نہیں کرنا چاہتی۔

اوکے!

“بہت سے لوگ آپ سے ملیں گے۔۔۔یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ نے کس سے کیسے ملنا ہے یہ آپ کا فعل ہے جس میں کسی کا عمل دخل نہیں ہو گا۔”

“جی مجھے معلوم ہے!”

ٹھیک ہے پھر۔۔۔۔آپ لیب میں چیک کر لیں تیاری مکمل ہے۔

جی میں دیکھ لیتی ہوں وہ کہتی مسکرائی۔

امممم۔

“کچھ پوچھنا چاہتی ہو؟”

وجدان کو لگا تھا وہ چلی گئی ہے لیکن وہ وہیں کھڑی انگلیاں چٹکا رہی تھی۔

جی!

“بولیں؟”

آپ کس رنگ کا سوٹ پہنیں گے؟ وہ یک دم بول گئی لیکن پھر احساس ہونے پر دانتوں تلے زبان دبائی۔

آئیم سوری! وہ کہتی تیزی سے باہر نکلنے لگی۔

کالا رنگ! اپنے پیچھے اس کی آواز سنتے وہ مسکرائی اور باہر نکل گئی۔

اس کے نکلتے ہی زید اندر داخل ہوا تھا جو اس کا دوست تھا۔

“خیریت ہے؟”

“ہاں کیوں؟”

مس چاہت آفس کی ہر دل عزیز بن گئیں ہے مجھے لگتا ہے۔

“مجھے معلوم نہیں” وجدان چوہدری نے غیر دلچسپی سے کہا۔

اچھا مجھے تو لگا تمہاری بھی ہو گی کیونکہ ابھی اسے میں نے یہاں سے مسکراتے نکلتے دیکھا ہے۔

تو جو مسکرا کر یہاں سے نکلے گا تم ایسا کچھ سمجھو گے وجدان چوہدری نے آئیرو اچکاتے استسفار کیا۔

“نہیں لیکن وہ کم ہی لوگوں کے ساتھ مسکراتی ہے۔”

تمہیں بہت معلومات ہے اس کے بارے میں؟ وجدان چوہدری نے تیکھے لہجے میں پوچھا۔

“نہیں بھئی وہ میرے لیول کی نہیں ہے اور تمہارے کی بھی نہیں ایسی لڑکیاں ہمارے سرکل میں موو نہیں کر سکتیں تم ایسی لڑکی کے ساتھ نہیں چل پاؤ گے۔۔۔”

تم بات کو آگے بڑھا رہے ہو خوامخواہ وجدان چوہدری نے آنکھیں چُراتے کہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“حیات”

حیات ۔۔۔۔

“حیات!”

لیکن اس نے آواز نہیں دی تھی یعنی وہ کہیں آس پاس نہیں تھی۔

وہ اسے قریب کی جگہوں پر دیکھتا اصطبل گیا اور اس کا شک ٹھیک تھا وہ وہیں تھی۔

لیکن سواری نہیں کر رہی تھی وہیں بیٹھی تھی گھوڑی کے پاس اس سے ناجانے کیا کیا کہہ رہی تھی۔

وہ قریب گیا۔

“امممم! کاش تم میری ہوتی!”

“تمہیں میں خرید لوں گی اس لڑکی سے۔۔۔اگر اس نے نہیں دیا تو تمہیں چوری کر لوں گی” وہ اس کو پیار کرتی سمجھا رہی تھی۔

اور وہ۔۔۔۔!!

وہ چاہتا ہی نہیں کہ میں اس کی گرل فرینڈ جو بھی ہے وہ اس کی گھوڑی پر بیٹھو بہت بھوکا شودا آدمی ہے وہ لیکن وہ جب مجھے سردنگاہوں سے دیکھتا ہے تو یہ سچ ہے کہ میں ڈر جاتی ہوں لیکن بھرم بھی تو مارنا ہے نا۔

وہ وہیں کھڑا اسے سننے لگا۔۔۔وہ چاہتا تھا وہ اسے سنے وہ کیا سوچتی ہے اسکے بارے میں۔

“اممم۔۔۔اور اس کے بال۔”

“کسی دن باندھ کر ان کا سٹائل بناؤں گی۔۔۔ہاہاہا۔۔۔”اس نے جیسے اپنی ہی بات سے لطف اٹھایا تھا۔

پیچھے کھڑے ڈارک ویزرڈ نے آنکھیں سکیڑتے اس کی پشت کو گھورا۔

“حیات؟”

ہاںںںںں! وہ اس کے پکارنے پر ڈر گئی تھی۔

کیا کر رہی ہو یہاں؟ میں نے منع کیا تھا ناں؟ وہ قریب آتا سرد لہجے میں بولا۔

پر میرا دل تھا اس سے ملنے کو! اس نے گھوڑی کو پیار کرتے کہا۔

“چلو آؤ! آج میرے گھوڑے پر بیٹھو۔۔۔۔”

وہ بضد تھی وہ اس کی ضد کو پورا کرنا چاہتا تھا نجانے کیوں۔

وہ جلدی سے آگے بڑھی اور بیٹھ گئی لیکن گھورے کی رفتار بہت تیز تھی۔

یہ بہت تیز دوڑ رہا ہے وہ چِلائی۔

“آہستہ کرو۔۔۔۔”

یہ صرف میرے کہنے پر رُکے گا۔

“تو روکو اسے!”

“پہلے مجھے اپنی زندگی کا کوئی راز بتاؤ۔”

“تمہارا دماغ خراب ہے؟ اس طرح کے حالات میں تم اس طرح کی فضول باتیں کیوں کرتے ہو۔”

وہ ڈارک ویزردڈ تھا اس سے کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی تھی۔

یہ رُکے گا جب تم اپنا کوئی راز مجھے دو گی جو تم نے کسی کو بھی نہ بتایا ہو وہ اس کے کان کے پاس بولا۔

ٹھیک ہے! روکو اسے۔

ابھی بتاؤ وہ گھوڑے کی لگام کھینچتا اس کی اسپیڈ کو کم کر گیا۔

“مجھے وہ اب بھی یاد آتا ہے جب میں خواب میں اسے دیکھتی ہوں۔۔۔وہ مجھ میں کہیں بس گیا ہے لیکن میں اسے یاد نہیں کرنا چاہتی۔”

“کون ہے وہ؟” وہ آہستگی سے بولا۔

“بس یہی راز تھا وہ کہتی چلتے گھوڑے سے اترنے لگی۔”

دماغ درست ہے تمہارا؟ اسے کھینچ کر سیدھا کیا اور گھوڑے کو روکا تو وہ فوراً اتری۔

“کون ہے وہ؟” ڈارک ویزرڈ نے اسے جھٹکے سے کھینچتے اپنے سامنے کھڑے کرتے کہا۔

وہ شخص جو مجھے بالکل پسند نہیں! بس اس سے آگے کچھ نہیں اس نے کہتے قدم بڑھائے۔

ڈارک ویزرڈ نے دور تک اس کی پشت کو دیکھا تھا۔

“بہت جلد میری پناہوں میں ہو گی تم حیات حاد ابراہیم بہت جلد تمہاری نفرتیں میری شدتوں میں کہیں ختم ہو جائیں گی وعدہ کرتا ہوں۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بات میں بڑھا نہیں رہا میں تمہیں ہوشیار کر رہا ہوں کہ ایسی لڑکیاں تمہارا معیار کبھی نہیں ہو سکتیں۔”

تم تو کہتے تھے تم اپنے برابر کی لڑکی ڈھونڈو گے؟ جو تمہارے ساتھ تمہارے بزنس کو سمجھے اور تمہاری پسند کے مطابق ہو اور تمہاری پسند ایسی کبھی بھی نہیں رہی اب کی بار اس نے طنزیہ کہا۔

“زید تم جا سکتے ہو۔”

جا رہا ہوں میں لیکن میری باتیں یاد رکھنا اور اپنے معیار کی لڑکی ڈھونڈو۔۔۔۔وہ کہتا نکل گیا۔

وجدان چوہدری کے دماغ میں وہ باتیں چسپاں ہو گئی تھیں جو نجانے کبھی نکلتی بھی یا نہیں۔

آفس میں کام زور و شور سے چل رہا تھا کیونکہ اگلے دو دن میں لونچ تھا سب بے حد مصروف تھے۔

وہ سارے سامان کو دیکھنے کے لیے آیا جب اسے لیب میں چاہت کے ساتھ اسد دِکھا۔

اس کے ٹھٹکنے کی وجہ ان دونوں کا ساتھ ہونا نہیں بلکہ چاہت خالد کے ہونٹوں پر پھیلی مسکراہٹ تھی۔

اور اسد کی نظر میں اس کے لیے پسندیدگی کے رنگ تھے وہ اس کو کافی فرصت سے دیکھا کرتا تھا وجدان چوہدری نے محسوس کیا۔

“کیا ہو رہا ہے؟”

آجاؤ وجدان چیک کر لو ہم نے چیک کر لیا ہے۔۔۔۔۔اسد نے مسکراتے کہا تو چاہت بھی مسکرائی۔

یہ پرفیوم مارکیٹ میں چھانے والی ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اسد بولا۔

“مجھے امید ہے جیسا تم کہہ رہے ہو ویسا ہی ہو گا۔۔۔۔”وجدان چوہدری نے سامان دیکھتے کہا۔

تمہیں پتا ہے چاہت کو میں نے منا لیا ہے اپنی خوشبو کی پریزنٹیشن وہ خود دے گی وہ جوش سے بولا۔

وجدان چوہدری نے جھٹکے سے مڑُ کر پہلے اسے دیکھا اور پھر چاہت کو۔

“ایسا کیا ہوا جو آپ مان گئی مِس چاہت؟”

زید کی باتیں اور اب یہ حرکت۔۔۔جن کا اثر وجدان چوہدری پر اچھا نہیں پڑا تھا اور یہ بات چاہت خالد کو بھاری پڑنے والی تھی۔

اس نے عجیب سے انداز میں پوچھا تھا یا ایسا چاہت کو لگا تھا۔

وہ بس اسد نے کہا وہ میری مدد کریں گے! اس نے شائستگی سے کہا۔

“اچھی بات ہے!” وجدان کہتا وہاں سے نکل گیا۔

چاہت نے اس کی پشت کو دیر تک دیکھا تھا۔

میں بھی چلتی ہوں چاہت اسد سے الوداع لے کر نکل گئی۔۔۔۔لفٹ میں وجدان چوہدری پہلے سے موجود تھا۔

چاہت مسکرائی لیکن وہ مسکرا بھی نہ سکا۔

آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟

“کیا تم سب سے ایسے ہی بات کرتی ہو؟” وجدان چوہدری نے اس کی طرف رُخ کرتے یک دم پوچھا۔

“کیسے؟”

“ایسے مسکرا کر شائستگی سے؟”

“آپ اسد کی بات کر رہے ہیں؟ تو وہ میرے اچھے دوست ہیں میں جب سے یہاں کام کر رہی ہوں وہ ہی ہر کام میں میری مدد کرتے ہیں میرے بھائی جیسے ہیں” اس نے وضاحت دی۔

“کبھی اُس سے پوچھنا وہ تمہیں بہن مانتا ہے” وجدان چوہدری نے مٹھیاں بھینچتے کہا۔

وہ نکل کر چلا گیا تو چاہت بھی نکل گئی اسے سمجھ نہ آئی وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا۔

“کیا میں پارٹی میں انہیں سب بتا دوں؟” بتا دوں کہ آپ مجھے بے حد پسند ہیں۔۔۔۔اتنے پسند کہ جتنا مجھے کوئی بھی نہیں؟

وہ گھر آ کر بھی یہی سوچتی رہی تھی اس نے اپنے جمع کیے پیسوں میں سے نیا جوڑا خریدا تھا کالا فراک۔۔۔۔ہاں کالا۔

وہ بے حد خوش تھی اور کنفیوژ بھی نجانے وہ بھی ایسا محسوس کرتا ہے اس کے لیے یا نہیں۔

لیکن اس کی پوسیسونیس اس کی جلن اس کی پسنددیدگی اس کی آنکھوں سے جھلکتی محسوس کی ہے میں نے۔

وہ مطمئن ہو گئی ۔۔۔۔سب اچھا ہو گا۔۔۔۔ لیکن کون جانتا تھا کہ کیا اچھا ہو گا اور کیا بُرا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آحل کا ایک ہی دوست تھا گاؤں کا جو یہاں ہی نوکری کی تلاش میں تھا۔

آحل یہ ایک بہترین آفر ہے تو کیا سوچ رہی ہے؟ وہ ماڈلنگ کی آفر سنتا بولا۔

“پتا نہیں مجھے کرنا ہے یا نہیں؟” وہ دنیا بہت بھیانک ہوتی ہے راتوں رات آسمان پر بٹھاتی ہے اور اگلی صبح زمین پر پٹک دیتی ہے۔

تیری قسمت تجھے چمکنے کا موقع دے رہی ہے اور تو بیٹھا ہے کیا یہی دوسروں کی بیٹیوں کو پِک اینڈ ڈراپ کی سروس دینی ہے بس؟

آحل نے اسے دیکھا۔۔۔۔بیشک تلخ سہی لیکن حقیقت تو تھا یہ سب۔

ٹھیک ہے میں سوچوں گا وہ گہری سانس بھرتا۔

رابی کھانے پر بلاؤ الہام کو! مجھے کچھ بات کرنی ہے اس سے!

رابیل اس کے کمرے میں گئی جہاں اندھیرا تھا لائٹ چلاتے اسے دیکھا۔۔۔۔اے سی ناجانے کب کا فُل اسپیڈ میں چل رہا تھا وہ بلینکٹ میں دبکی سوئی تھی۔

رابیل نے سے اے سی بند کرتے اسے سیدھا کیا لیکن وہ تو بخار میں تپ رہی تھی۔

“غازیان؟” اس نے غازیان کو آواز دی جو فوراً اندر بھاگا آیا تھا۔

الہام کے بال چہرے سے ہٹاتے وہ اس کے ساتھ بیٹھا اور چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا جو اتنی کولنگ میں بھی آیا تھا۔

“بابا!”

میری جان؟ واپس جانا ہے میں چھوڑ آؤں گا۔

آ۔۔۔۔

آح۔۔۔

“آحللل!”

غازیان نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔

آحل کون ہے؟ رابیل نے کندھے اچکائے لیکن کچھ یاد آنے پر جھٹکے سے غازیان کو دیکھا اسے بھی شاید یاد آگیا تھا۔

“وہ باڈی گارڈ؟” اس نے سرد لہجے میں رابیل کو دیکھتے پوچھا جس نے سر ہاں میں ہلایا تھا۔

بابا؟

“غازیان اس کی طرف متوجہ ہوا؟”

“تم واپس نہیں جا رہی ہو الہام!” وہ کہتا کمرے سے نکل گیا رابیل نے اپنی بیٹی کو دیکھا جو اب عنودگی میں ہی رونے لگی تھی۔

الہا۔۔۔میری جان۔۔۔ماما کی جان وہ اس کو ساتھ لگاتی اس کا چہرہ صاف کرنے لگی۔

“آحل۔۔۔آحل چاہیے۔۔۔۔”وہ۔۔۔۔بولی تو رابیل کا دل انجانے اندیشوں سے دھڑکا۔

فیاض؟ غازیان نے آحل کے باپ کو فون کیا۔

“جی صاحب؟ کوئی کام تھا؟”

اپنے بیٹے کو بولو حد میں رہے میری بیٹی سے دور! غازیان نے کہتے کال کاٹ دی۔

فیاض احمد نے فوراً آحل کو فون کر کے بتایا تھا۔۔۔

آحل نے آنکھیں بند کر کے کھولیں۔

“میں نے تجھے سمجھایا تھا پُتر۔”

ابو کچھ نہیں ہو گا۔۔۔۔میں بات کر لوں گا ان سے۔

کیا بات کرے گا۔۔۔۔وہ بُرے لوگ ہیں تجھے نہیں چھوڑیں گے تُو وہاں سے واپس آ جا۔

“آپ چاہتے ہیں میں بھاگ آؤ؟ آپ نے تو کہا تھا آپ دونوں میرے ساتھ ہیں؟”

ہاں کہا تھا میرے پتر میں اپنی بات پر قائم ہوں لیکن تو ان کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔

میں مانگوں گا اس کے باپ سے اُسے! وہ پختہ لہجے میں بولا جیسے ارادہ کر لیا ہو کہ ہار نہیں مانے گا۔

وہ کئی لمحے وہیں بیٹھا رہا کیا یہ اتنا آسان تھا جتنا وہ سمجھ رہا تھا۔۔۔۔

“یا رب میری مدد فرمانا۔۔۔میں اپنی زندگی میں بہت فئیر رہا ہوں خود کو ہر برے سے بچایا ہے میں نے۔۔۔وہ پہلی صنفِ نازک ہے جس کے لیے میرے دل نے گواہی دی ہے میرا دل اسے چاہتا ہے مجھے وہ چاہیے ہر حال میں، میری زندگی کی واحد خواہش۔۔۔۔”وہ نجانے کتنی دیر مسجد میں اُس آخری صف پر بیٹھا رہا۔

“پریشان ہو؟” مولوی صاحب نے اس سے پوچھا۔

ہاں بہت پریشان؟ میرا دل پریشان ہے۔

کیوں؟ وجہ بتانا پسند کروگے برخودار؟

“بس میرے دل نے کسی کی شدت سے طلب کی ہے اور میرے دل کو اطمینان دنیا کی کوئی دوسری چیز نہیں پہنچا سکتی سوائے اس کے۔”

مرد ہو اپنی محنت کے لیے ڈٹے رہو! جو مرد اپنی محبت کے لیے مجبوریاں ہیں کا بہانہ بنائے وہ کیسا مرد؟ لڑو آخری حد تک؟ فیصلہ تمہارے حق میں ہو گا۔

وہ مسکرایا۔

ہاں وہ تیار تھا۔۔۔۔

“رب نگہبان!” انہوں نے اسے پیار کرتے کہا اور چلے گئے۔