207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 6

You’re All Mine by Suneha Rauf

رات بستر پر لیٹے ایک عام لڑکی کی طرح اس نے بھی کئی بار وہ منظر یاد کیا تھا اور ہر بار دل دھڑکنے کی رفتار بڑھی ہی تھی۔

ہاں شاید چاہت خالد کسی نئے جزبے سے آشنا ہونے والی تھی۔

“میں مسٹر اسد سے کیا کہوں گی؟” امم۔۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور سوچنے لگی۔

میں کہہ دوں گی کہ وہ نہیں بنائی اس کے پھول نہیں ملے ہاں یہ ٹھیک ہے اب وہ مطمئن سے لیٹی اور سو گئی۔

“اسلام علیکم!”

“وعلیکم السلام!”

وجدان چوہدری نے اپنے کیبن سے انہیں ساتھ کھڑا دیکھا تھا پھر کچھ سوچتے اپنا لیپ ٹاپ بند کیا اور باہر آیا۔

“کیسی ہیں چاہت؟”

“میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں!”

وجدان چوہدری نے ہونٹ بھینچے کیا وہ سب سے اسی شائستگی سے بات کرتی تھی۔

“میں ٹھیک بلکہ پرفیکٹ۔۔۔۔آپ بتائیں میرا تحفہ کہاں ہے؟”

“کون سا تحفہ؟”

اس نے دوپٹے کے ہالے سے نکلی آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑسا۔

“وہ پرفیوم؟” اب کہ وجدان چوہدری بھی قریب آیا تھا۔

وہ میں نے ابھی بنائی ہی نہیں۔۔۔اس کے پھول ابھی بہار کے موسم میں آئیں گے۔۔۔۔اسے جھوٹ بولتے بے حد بُرا لگ رہا تھا۔

اووو ۔۔۔!

“چلیں میں انتظار کروں گا۔۔۔اتنے قیمتی تحفے کے لیے تو میں زندگی بھر انتظار کر سکتا ہوں۔”

وہ بولا تو چاہت نے نظریں جھکائیں۔

اسد ندیم صاحب سے نئی پرفیوم کا بجٹ ڈسکس کر لو وجدان نے چاہت پر نظر رکھے ہی کہا۔

اوکے! وہ کہتا چلا گیا۔

“اسلام علیکم!” چاہت نے آنکھیں بڑی کرتے شائستگی سے کہا۔

“وعلیکم السلام! مجھے نیو پرفیوم کے سارے اجزاء کو ڈسکس کرنا ہے آجائیں” وہ کہتا چلا گیا۔

تو وہ بھی اس کے اس ٹھنڈے جواب پر اس کے پیچھے چل پڑی۔

وہاں جاتے اسے سب تفصیل سے بتایا۔

“کیا آپ وہ پہلے والی پرفیوم گھر میں بناتی ہیں؟”

“جی!”

“مجھے اس کا ایک اور ٹیسٹر چاہیے!” وہ کام میں مصروف دکھائی دیا۔

“آپ کو دیا تھا میں نے۔۔۔۔”وہ کنفیوژن کا شکار ہوئی۔

“تو آپ دوبارہ نہیں دے سکتیں؟”

نہیں ایسی بات نہیں ہے مجھے لگا آپ سے کھو گیا۔۔۔۔میں بنا دوں گی آپ کو۔۔

اوکے۔۔۔!

وہ کیا بتاتا اسے کہ وہ ٹیسٹر تو وہ گھر لے گیا تھا لیکن اب اسے اور کی ضرورت تھی جو وہ آفس میں رکھ سکتا اپنے پاس۔

وہ ایسا کیوں کر رہا تھا خود نہیں جانتا تھا۔۔۔۔کیوں اس خوشبو اس پرفیوم کو اتنا پسند کر رہا تھا نہیں جانتا تھا۔۔۔۔وہ خوشبو اس پر حاوی ہو رہی تھی۔

“مسٹر اسد آپ کے باس نہیں میں ہوں۔۔۔”اس نے تصحیح کی۔

اور چاہت میڈیم جن کو پتا بھی نہیں تھا کہ اسد بھی شئیر ہولڈر اور بوس ہے منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔

وہ بھی باس ہیں؟

ہاں لیکن تھرٹی پرسنٹ بس۔۔۔۔۔اس نے اس کی حیرانی پر اسے غور سے دیکھا۔

“اففف۔۔۔۔میں نے کل ان سے مزاق کر لیا تھا۔۔۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا وہ تو باس ہیں اور بوس کے ساتھ مزاق کون کرتا ہے۔۔۔۔”وہ انگلیاں مڑوڑتے شرمندہ سی دکھائی دی۔

“آئیندہ سے دھیان رکھیے گا” وہ کہتا چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ عنودگی میں تھی وہ سمجھ گیا تھا۔۔۔۔لیکن وہ کس بارے میں بات کر رہی تھی۔

“الہام؟”

ہممم۔۔؟

“کیا تمہارا ہے؟”

تم ۔۔۔۔

یہ جواب سنتے وہ تھک گیا تھا۔۔۔۔۔کیا اس نے غلط سنا تھا وہ خود کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اور؟

“تمہارا مفلر۔۔۔۔تم نے اس کو کیوں دیا؟” وہ اس کے ہاتھ کو زور سے اپنے ہاتھوں میں بھینچتے بولی۔

کیا وہ آپ نے اس سے واپس لے لیا؟ اس نے کسی احساس کے تحت کہا۔

“ہاں! کیونکہ ۔۔۔”

کیونکہ؟

“وہ میرا تھا۔۔۔میرا تحفہ۔۔۔۔۔”وہ کہتی مسکرائی تو وہ بھی مسکرایا۔

“تمہیں پتا ہے میں تمہیں نہیں پا سکتا؟ ہاں لیکن معجزے کی امید آخری دن تک رہے گی مجھے” وہ کہتا ہٹا اور دوبارہ گاڑی سٹارٹ کی۔

الہام؟

الہام ۔۔۔۔

“گھر پہنچ گئے ہیں ہم ۔۔۔۔۔”اس نے اس کے کندھے کو ہلاتے اسے بیدار کرنا چاہا۔

ٹھیک ہے وہ اٹھ کر گاڑی سے اتری اور اس کا انتظار کرنے لگی۔

“آحل؟”

آحل نے پہلی بار محسوس کیا تھا اس کا بھائی نا لگانا اس کے نام کے ساتھ۔

“بولو؟”

کیا میں نے راستے میں کچھ ایسا ویسا کہا تھا؟ وہ اضطرابی کیفیت میں بولی۔

“اممم۔۔۔خود سے پوچھیں۔۔۔!”

وہ کہتا اس کا سامان نکال کر چلا گیا تو وہ بھی کچھ یاد نہ آنے پر اندر چلی گئی۔

الہام کی طرف سے محبت کا آغاز۔۔۔۔اور آحل فیاض کی طرف سے محبت کی ایک اور سیڑھی پر قدم۔

وہ رات کو اپنے کمرے سے نکلی اب بہتر محسوس کر رہی تھی اور آحل کا کمرہ جو گھر کے دوسری طرف تھا وہاں گئی۔

“آحل؟”

آحل؟

آحل نے پیچھے سے آتے اسے ڈرایا تو وہ چیخ کر اس سے دور ہوئی اور پھر اسے ہاتھوں سے مارنے لگی۔

ہاہاہاہا۔۔۔۔اس کے قہقہے چاروں اور گونجنے لگے تو الہام نے اسے مسکراتے دیکھا۔

“میں آپ کے لیے کچھ لائی ہوں!” وہ بولی تو آحل سنجیدہ ہوا۔

“اچھا!”

“یہ لیں۔۔۔۔”اس نے اس ڈبہ آگے کیا۔۔۔

“کیا ہے یہ؟”

دیکھیں تو۔۔۔۔

“نہیں میں یہ نہیں لے سکتا۔۔”آحل نے صاف انکار کیا۔

لیکن کیوں؟

” آپ کا مفلر میرے لیے تحفہ تھا نا وہ میرے پاس ہے تو بدلے میں آپ میرا تحفہ کیوں نہیں لے رہے؟”

“نہیں لے سکتا بس۔۔۔۔اس کے بعد مجھے امید ہے آپ مجھے فورس نہیں کریں گی” آحل نے سنجیدگی سے کہا تو وہ اسے شکوہ کناہ نگاہوں سے دیکھتی اٹھی اور چلی گئی۔

اور پھر وہ اس سے ناراض ہی رہی تھی۔۔۔آحل فیاض وہ تحفہ بھی نہیں لینا چاہتا تھا اور اسے خود سے ناراض بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔

ابھی وہ اِنہیں سوچوں میں تھا کہ وہ کالج سے باہر اپنی ہم جماعت کے ساتھ نکلتی دکھائی دی تو وہ سیدھا ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“جو انہوں نے کیا وہ ایک حادثہ تھا تم اس بات کو کیوں نہیں سمجھتے؟” وہ اسے ایک بار پھر سمجھا رہے تھے۔

“اچھا تو آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ وہ جہاز اپنے آپ کریش ہوا تھا۔”

“ٹیکنیکل مسئلہ تھا یہ بات سامنے آچکی ہے اور صرف وہ دونوں ہی اس حادثے کا شکار نہیں ہوئے تھے ڈیڑھ سو لوگ اور مرے تھے۔”

“میں تو چلیں ان دو لوگوں کی جانوں کے لیے لڑ رہا ہوں نا آپ کم از کم ان ڈیڑھ سو معصوم لوگوں کو تو انصاف دلوائیں۔”

ایک ہی بکواس بار بار سننے کا متمحل نہیں ہوں میں۔

تم نئے مشن پر جا رہے ہو۔

“اوو تو اب صدیقی صاحب کو لگتا ہے کہ میں ان کی بات مان جاؤں گا” وہ کہتا استہزایہ ہنسا۔

“اپنی حد میں رہو۔۔۔۔تم میری اجازت کے بغیر۔۔۔۔”

جان لیں کہ حاد ابراہیم قریشی کوئی بھی کام کسی کی اجازت اور مرضی پر نہیں کرتا وہ مسکرایا اس کی آنکھیں بھی مسکرائی تھیں۔

“ٹھیک ہے۔۔۔! ایک کوششش۔۔۔لیکن ایک آخری کوششش۔۔۔دو مہینے ہیں تمہارے پاس۔”

اور اگر ان دو مہینوں میں تم کچھ نا کر پائے تو دوبارہ کبھی مر کر ہم اس موضوع کو زیرِ بحث نہیں پائی گے۔

“مجھے منظور ہے!”

اس سے دور رہنا۔۔۔وہ جو نکلنے لگا تھا ان کی بات سُن کر واپس مُڑا۔

صدیقی صاحب آج کل لگتا ہے آپ کی یاداشت کام نہیں کر رہی جو یہ بھول گئی ہے میں کون ہوں اور وہ کون ہے۔

“اُسے ان سب میں مت گھسیٹو”

“اچھا اور اس کے گناہوں کی سزا کون دے گا اسے؟”

وہ بعد کا معاملہ ہے! میں اپنے طریقے سے دیکھوں گا وہ سب۔۔۔۔ایک آخری کوشش انہوں نے کی تھی اس ڈھیٹ آدمی کے سامنے۔

“نہیں نہیں!”

“اتنے سالوں آپ نے مجھے روکے رکھا لیکن اب نہیں وہ بھی تو ازیت محسوس کرے اب۔۔۔۔درد کیا ہوتا ہے چکھے۔”

“تو تم اسے ازیت میں مبتلا کرو گے۔”

بلکل!

“ہاہاہا۔۔۔۔یہ مسٹر حاد ابراہیم قریشی کہہ رہا ہے مجھے تو یقین ہی نہیں ہو رہا۔۔۔وہ حاد ابراہیم قریشی جس نے اس وجود کے ساتھ نہ ہوتے ہوئے تڑپتے یہ ماہ و سال گزارے ہیں، جس نے اس پر نظر نہ رکھی کہ کہیں اپنا ضبط نہ کھو دے، وہ حاد ابراہیم قریشی جس نے اس نام کا ورد ہر رات کیا ہے۔۔۔وہ اس کا مزاق اڑا رہے تھے یا حقیقت سے آگاہ کر رہے تھے شاید۔”

وہ دروازہ دھاڑ سے بند کرتا باہر نکل گیا تو وہ مسکرائے۔۔۔۔”چلو امانتیں واپس ان کے حقداروں کو مِل جائیں اس میں قباحت کیا ہے؟”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اسلام علیکم!”

“وعلیکم السلام!”

اسی ہم جماعت کے بھائی کے پاس وہ رُکی تھی اور بات کر رہی تھی۔

اس نے قدم آگے بڑھائے وہ ایسے کسی بھی انجان سے بات نہیں کیا کرتی تھی تو آج کیوں؟

تمہاری دوست تو کافی پیاری ہے نیلوفر۔۔۔اس کے بھائی نے کہا۔۔۔جو وہ سُن چکا تھا۔

الہام بھی آحل کو دیکھ چکی تھی۔۔۔۔وہ آگے کیا کرتا یہی دیکھنے کے لیے وہ وہاں رُکی رہی۔

کیسی ہیں آپ؟

ٹھیک ہوں۔۔۔الہام کو وہ عجیب سے لگا۔

“الہام؟ “آحل نے قریب آتے اسے پکارا تو سب متوجہ ہوئے۔

جی؟

“آجائیں ہمیں دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔”اس نے کہتے ایک سرد نگاہ اس لڑکے پر بھی ڈالی۔

“میں ابھی بات کر رہی ہوں۔۔۔”اس نے کہا تو آحل نے اسے بھی گھورا۔

نیلوفر اپنی دوست کو ہمارے گھر کی دعوت دو۔۔۔۔اس لڑکے نے بلاوجہ ہی دانت نکالتے کہا۔

“ہاں الہام تم آنا۔۔۔۔”نیلوفر نے بھی بھائی کے کہنے پر اسے دعوت دے ڈالی۔

“الہام آجائیں” وہ وہیں کھڑا پھر سے بولا۔

میں۔۔۔۔۔

آحل کو جب مزید اس لڑکے کی آنکھیں الہام پر برداشت نہ ہوئی تو آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ تھامتا وہاں سے لے آیا۔

“آحل بھائیییییی!”

خاموش رہو فلحال۔۔۔وہ غصے سے بولا۔

“کیا ہوا؟؟”

“مجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ کیا ہوا۔۔۔۔کیا پہلے کبھی آپ ایسے لڑکوں کے پاس کھڑی ہوئی ہیں اور گفتگو کی ہے فضول کی۔”

ہاں لیکن! آگے میں یونیورسٹی جاؤں گی تو یہ سب تو ہو گا نا۔۔۔۔وہ اسے قائل کرنے لگی۔

وہ خاموش رہا۔۔۔

ہاں یہ اس کی زندگی تھی اسے ابھی آگے بڑھنا تھا لیکن اس ماحول میں جاتے اگر کسی اور کو اس سے محبت ۔۔۔یہی سوچتے اس کی دماغ کی نسیں تن گئی۔

اسپیڈ بڑھاتے اس نے بالکل یہاں وہاں نہ دیکھا۔

“آحل بھائی۔۔۔۔۔آرام سے چلائیں مجھے آئسکریم بھی لینی ہے۔”

آحل اس کی آئسکریم لایا اور اسے پکڑائی غصہ اور بے بسی کسی طور کم نہیں ہو رہی تھی۔

“آپ کھائیں گیں؟”

نہیں۔۔۔۔

آحل بھائی کیا ہو گیا ہے۔۔۔میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا اسے جو آپ یوں غصہ ہو رہے ہیں وہ بار بار بھائی لگا رہی تھی ساتھ نجانے کیوں۔

“ٹھیک ہے میں نے آپ سے مزید کچھ پوچھا؟”

اچھا یہ لیں اس نے اپنا آئسکریم کا چمچ آگے کیا۔

نہیں کھانی مجھے میں بتا چکا ہوں۔

پلیز نااا۔۔۔وہ بضد ہوئی۔

آحل نے ہاتھ مارتے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔۔سمجھ آرہی ہے میں کہہ رہا ہوں نہیں کھانی وہ دھاڑا تو وہ سہم گئی۔

اتریں۔۔۔۔

گھر آتے ہی اس نے کہا تو وہ نم آنکھوں سے اندر چلی گئی تو وہ بھی شاور لینے چلا گیا۔

سر پر پڑتا ٹھنڈا پانی بھی اس کے غصے کو کم نہیں کر پایا تھا۔۔۔غصے سے زیادہ بے بسی تھی وہ کسی چیز کو روک نہیں سکتا تھا وہ ٹھیک کہہ رہی تھی اس کا مستقبل تھا ابھی آگے۔

“تو کیا مجھے بھی کوئی فیصلہ لینا چاہیے؟”

اگلے ایک دو ہفتے میں وہ کالج سے فری ہو جاتی اور پھر یونیورسٹی۔۔۔۔اسے بھی اپنی مصروفیات کے لیے کچھ ڈھونڈنا تھا۔

ٹھیک ہے! میں یہ کروں گا وہ سوچتا پُرسکون ہوتا باہر نکل آیا جہاں وہ پہلے سے موجود تھی۔

کیا ہوا؟ کچھ چاہیے؟ اب کہ وہ سکوں سے بولا۔

“آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”

“تمہیں فرق پڑتا ہے؟” آئبرو اچکا کر استسفار کیا گیا۔

الہام نے اسے گھورا اور پھر اپنے ہاتھوں سے کھیلنے لگی۔

“مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔۔”

کچھ منگوا دیتا ہوں؟ خانساماں نے کھانا نہیں بنایا؟

آپ بنا دیں پلیززز۔۔۔وہ بولی تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔

کیا کھائیں گی؟

امممم۔۔۔۔براؤنی۔۔

“وہ مجھے بنانی نہیں آتی اور نا یہاں اوون ہے۔۔۔”

تو کیا آتا ہے آپ کو بنانا؟

“سینڈوچ بنا دوں؟” وہ تھکا تھا لیکن اس نے پہلی بار فرمائش کی تھی وہ ٹال نہیں سکتا تھا۔

ٹھیک ہے وہ اٹھ کر اس کے ساتھ اس کے چھوٹے سے کچن میں آ گئی اور اسے کام کرتا دیکھنے لگی۔

“آپ کو بُرا کیوں لگا میرا اس سے بات کرنا۔۔۔؟”

اس موضوع کو کسی اور دن کے لیے رکھ لیتے ہیں۔

“آپ کو بُرا لگا تو میں ایسا دوبارہ نہیں کروں گی” اس نے کہا تو آحل نے اسے دیکھا۔

الہام آپ کو یاد ہے اس عورت کا جو اس دن کالج پر واپسی پر ملی تھی ہمیں؟

ہاں وہ جو آفر دے رہی تھی مجھے بالکل بھی پسند نہیں آئی کیسے تیار ہوئی تھی جیسے شادی پر آئی ہو ۔۔۔افف۔۔

میں!

اس آفر کے بارے میں سوچ رہا تھا اور مجھے لگتا ہے مجھے وہ قبول کرنی چاہیے اس نے کہا تو الہام نے اسے دیکھا۔

پھر اپنا سینڈوچ پکڑا۔۔۔۔ٹھیک ہے اچھی بات ہے نجانے کیوں لیکن اسے برُا لگا تھا۔

آپ کا بھی مستقبل ہے آگے یونیورسٹی جائیں گی نئے لوگوں سے ملیں گی۔

“تو میں نہیں جاتی۔۔۔۔آپ بھی نا جائیں” وہ فوراً اس کے قریب آتی بولی۔

سینڈوچ کھائیں پھر کبھی بات کریں گے اس موضوع پر اس نے کہا تو الہام نے سر ہاں میں ہلایا۔

“یا الٰہی پلیز پلیزززز۔”

“آحل وہ آفر قبول نہ کریں۔۔۔پلیز۔۔۔”وہ دل میں دعا کرتی اسے دیکھنے لگی پھر اپنا کھایا سینڈوچ اس کے آگے کیا جو اس نے کھا لیا۔

“آئسکریم کیوں نہیں کھائی تھی؟” وہ بھی تو جوٹھی تھی ۔۔۔

“معزرت چاہوں گا اس غلطی کی۔۔۔۔”اس نے جھک کر کہا۔

بدلے میں الہام کا قہقہہ گونجا تو وہ بھی مسکرا پڑا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مسٹر اسد؟”

وہ جو گھر جا رہا تھا رُکا اور اسے دیکھ کر مسکرایا۔

“زہے نصیب” وہ جھکا۔۔۔۔۔

چاہت کو وہ اچھا انسان لگتا تھا خوش مزاج اور بالکل غرور والا نہیں یہی وجہ تھی وہ جان نا پائی کہ وہ بھی باس ہے۔

“ام۔۔۔۔میں معافی چاہتی ہوں۔۔۔۔”اس نے نظریں جھکائے ہی کہا۔

“اچھا اور وہ کیوں؟”

کل میں نے کافی دیتے وقت اس میں چینی زیادہ ملا دی تھی غلطی سے اور میں نے کہا تھا کہ میں نے آپ کو تنگ کرنے کے لیے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔

ہاں مجھے یاد ہے!

“تو مجھے معاف کر دیں۔۔مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ بھی بوس ہیں اور میں نے بس ایسے ہی۔۔۔”

ایک منٹ۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔

“تو یعنی میں ایک دوست نہیں صرف ایک بوس ہوں۔۔۔؟”

نہیں وہ۔۔۔۔۔اسے سمجھ نہ آئی اس نے کبھی دوست نہیں بنایا تھا کسی مرد کو۔

آپ دوست ہیں میری چاہت اور میں اس رشتے کی اور آپ کی بہت عزت کرتا ہوں اس نے کہا تو وہ مسکرائی سچے دل سے۔

تھینک یو!

“لڑکی تمہیں پتا ہے تمہاری آنکھیں بہت حسین ہیں۔۔۔۔گورا رنگ سب کے پاس ہے لیکن بادامی رنگ پر ایسی آنکھیں تباہ کُن ہیں یقین جانو۔۔۔اور اوپر سے جو ہنر تمہارے پاس ہے تم بہت آگے جاؤ گی۔”

اسکی آنکھیں نم ہوئی کسی نے پہلی بار اسے سراہا تھا۔

“بہت شکریہ۔۔۔۔!”

اور خدا حافظ کل ملیں گے وہ کہتی چلی گئی تو وہ بھی مسکراتا چلا گیا۔

لفٹ میں جاتے ہی وجدان چوہدری نے اسے دیکھا۔

“مس چاہت آپ رو رہی ہیں کچھ ہوا ہے؟”

“نہیں ۔۔۔۔۔میں خوش ہوں۔۔۔مسٹر اسد بہت اچھے انسان ہیں اور ایک اچھے دوست بھی۔”

وجدان ٹھٹکا ۔۔

شاید میں نے آپ کو اس کی حقیقت بتائی تھی کہ وہ باس۔۔۔

جی میری بات ہو گئی ہے انہوں نے کہا کہ وہ دوست ہیں میرے باس نہیں۔۔۔۔اس نے چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتے بتایا۔

“لڑکے کبھی دوست نہیں ہوتے۔۔۔۔”اسے بُرا لگا تھا بے حد برا ۔۔وجدان چوہدری نے ترش لہجے میں کہا۔

وہ اچھے انسان ہیں۔

تو پھر ہر کسی اچھے انسان کو دوست بنا لو۔۔۔۔۔وہ کہتا باہر نکل گیا تو وہ پیچھے آئی۔

کیا مجھے ان سے دوستی نہیں کرنی چاہیے؟

مجھے کیسے پتا۔۔۔۔آپ کو اپنا اچھا بُرا پتا ہونا چاہیے۔

آپ بتائیں وہ کیسے انسان ہیں؟

“اچھا انسان ہے باقی آپ کی مرضی۔۔۔۔”

اوکے! وہ انگلیوں سے کھیلتی اسکے پیچھے آئی لیکن اس کے یک دم رُکنے پر وہ ٹکرا گئی۔

اُف۔۔؟

“آپ ٹھیک ہیں مِس چاہت؟”

ہممم ۔۔

“آپ سے ایک بات کہوں؟”

“بولیں!”

“آپ مجھے سب کے سامنے مت ڈانٹا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا جب سب کی نظریں مجھ پر ہوتی ہیں میں ایک عام لڑکی ہوں بہت حساس لوگوں کی نظریں جان کر میرا دل دُکھتا ہے آپ مجھے اپنے کیبن میں بلا کر ڈانٹ لیا کریں وہ صاف گوئی سے کہتی اسے معصوم لگی۔”

اب میں چلتی ہوں خدا حافظ۔۔۔وہ غصہ نہ ہو جائے اسی ڈر سے وہ اس کا جواب سُنے بغیر بھاگ گئی۔

اس کے چلے جانے کے بعد وہ مسکرایا۔

“آہ۔۔چاہت خالد یہ دنیا معصوم نہیں ہے بالکل نہیں۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کافی تھک گئی تھی اسی لیے اس نے آج یہیں آس پاس کہیں قیام کرنے کا سوچا اور سامنے ہی اسے ایک چھوٹا سا گھر دِکھا۔

وہاں پر ایک بوڑھے آدمی اور عورت کا قیام تھا جنہوں نے انہیں رہنے کی اجازت دے دی تھی۔

ڈارک ویزرڈ نے انہیں اپنی اور حیات غازیان کی نجانے کیا حقیقت بتائی تھی کہ وہ مان گئے تھے۔

چلو!

“آپ نے ان سے کیا کہا کہ ہم کون ہیں؟”

“یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے چلو اندر۔”

ایک ہی کمرہ وہ دے سکتے ہمیں کیونکہ دوسرا ان کے زیرِ استعمال ہے۔

وہ اتنا تھکی تھی کہ فوراً مان گئی اور اندر جاتے ہی سو گئی۔

وہ اپنی لوکیشن پہنچا کر مطمئن ہوا لیکن تب تک وہ سو گئی تھی۔

وہ سو گئی تو وہ بے بس سا یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔۔سکون کی تلاش میں۔۔۔اتنے سالوں میں اس نے خود کے لیے سکون ہی تو چاہا تھا۔

“ہاں سکون۔۔۔۔اور نظر سامنے اس کمفرٹر میں دبکی صنفِ نازک تک جا پہنچی۔”

یا الٰہی تیری تمام نعمتیں بجا مگر لیکن یہ سکون جو تُو نے بخشا ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔

اس کے تکیے کے پاس بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا۔

“کسی روز تمام حقیقتیں کُھل جائیں گی۔۔۔حالات سازگار نہیں رہیں گے لیکن مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔”درد بھری مسکراہٹ۔

اس کے بازو پر لکیریں کھینچتے وہ وہیں جگہ بناتا اس کے ساتھ لیٹ گیا۔

پھر دھیان سے اسے کھینچ کر اس کی کروٹ اپنی طرف کو بدلی اور اسے حصار میں لیا۔

ڈارک ویزرڈ۔۔۔۔جس کے نام سے ہی اس ادارے میں خوف بڑھ جاتا تھا وہ شخص آج سکون کی خاطر یہاں تھا۔

“پرنسس۔۔۔۔”اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں تھاما۔

“تمہاری سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ تم۔۔۔۔۔۔”

اس کی آنکھوں کو دھیرے سے اپنے ہاتھوں کی پوروں سے چھوا دل دھڑکنے کی رفتار بڑھی تو گہرا سانس بھرا۔

یہ تو ہونا تھا۔۔۔۔۔یہ دل اب بھی نہ دھڑکتا تو یوں ہی کسی روز بند ہو جاتا پرنسس۔۔۔

اس کے اوپر جھکتے اپنے لبوں کو اس کی آنکھوں پر رکھا اور اپنا ناک اس کے ناک پر رکھ کر سہلایا۔

وہ بہک رہا تھا۔۔۔اسے یہ کرنا تھا یا نہیں اس نے نہیں سوچا تھا لیکن اب بھی نہ کرتا تو مر جاتا شاید۔

اپنے چہرے پر گرم نرم سانسوں کی تپش کو محسوس کرتے اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں۔

تو وہ قریب تھا بے حد قریب۔۔۔

پہلے پہل وہ سمجھ نا پائی لیکن سمجھ آنے پر ۔۔۔۔۔اس نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھا اور جھٹکے سے اٹھنا چاہا۔

ششش۔۔۔آواز نا نکلے وہ اس وقت کچھ نہیں چاہتا تھا کچھ نہیں۔

“تم۔۔۔۔جاہل انسان۔۔۔تم یہ سب؟”

“خاموش رہو پرنسس۔۔۔۔میں سب بتا دوں گا پلیز ابھی کے لیے کچھ نہیں۔”

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔شاید تم یہی سب کرتے ہو مجھے اسی لیے یہاں لائے ہو یہی فطرت ہے تمہاری مجھے پہلے ہی سمجھ ۔۔۔”

وہ جو تب سے اس کی اونچی آواز کو برداشت کر رہا تھا جھٹکے سے اسے اپنے اوپر کھینچا۔

بکواس نہیں۔۔۔وہ دھاڑا تو وہ لمحے کے لیے خاموش ہوئی۔

“تم میرے قریب۔۔۔۔”

“تو اور کسی کو آنا چاہیے؟”

نہیں۔۔۔ہاں۔۔۔! وہ اپنا آپ مسلسل اس سے چھڑوانے کی جدوجہد میں تھی۔

“اور وہ کون ہو سکتا ہے تمہارے اتنے قریب۔۔۔؟”

اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیے دوسرے سے اس کے بال کان کے پیچھے اڑستے استسفار کیا گیا۔

جس سے میرا رشتہ ہو۔۔۔جو حلال ہو مجھ پر۔۔۔۔ ہر جملہِ حق رکھتا ہو۔

“تو ٹھیک ہے کر لیتے ہیں شادی ۔۔۔”وہ پُرسکون تھا اور اب اس کی نظر حیات کی گردن پر تھی۔

“اگر یہ کوئی مزاق تھا تو نہایت واحیات تھا۔”

“تم نے میرے ساتھ۔۔۔”وہ جب اپنا آپ چھڑوا نا پائی تو بے بسی سے اس کی سخت گرفت میں بے جان ہوتی رونے لگی۔

ڈارک ویزرڈ نے اسے خود پر جھکاتے اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں منتقل کیا اور اپنی مرضی سے چھوڑا۔

سزا کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔وہ کہتا اسے دھکا دیتا خود باہر نکل گیا تو اس در و دیوار میں اس کی سسکیاں گونجنے لگی۔

“میں سب معاف کر بھی دوں نا حیات قریشی یہ معاف نہیں کروں گا کہ تمہیں کچھ یاد نہیں۔”