207.1K
36

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

You're All Mine Episode 25

You’re All Mine by Suneha Rauf

وجدان نے اپنے کندھے پر اس کا سر دیکھا تو مسکرا دیا۔

“چاہت وجدان آپ میری زندگی میں موجود وہ واحد وجود ہیں جو مجھے دل و دماغ تک پرسکون اور مجھے ہر حال میں مطمئن رہنے پر مجبور کر دیتی ہے۔”

اس کے بال چہرے سے ہٹاتے اسے اٹھانا چاہا۔

“چاہت؟”

ہمم۔۔۔

“اٹھو! دادی جان سے بات کرنی ہے مجھے، انہیں بتانا ہے ہماری شادی کا۔”

آپ بتا دیں۔۔۔وہ نیند میں ہی بولی تھی۔

“ساتھ بتائیں گے۔۔۔اٹھو!” وجدان نے اٹھتے کہا لیکن اس کا اٹھنے کا کوئی ارادہ نہ دیکھتے وہ باہر نکل گیا۔

آج بہت خوش ہیں! دادی نے اسے فریش سا مسکراتے باہر نکلتے دیکھ کہا۔

جی آپ سے کچھ بات کرنی ہے! لیکن ابھی میں واک پر جا رہا ہوں واپس آ کر بات کریں گے۔

“تو تم نے فیصلہ کر لیا ہے صباء سے شادی کا؟”

صباء باورچی خانے سے نکلتی یہ سُن کر رک گئی تھی۔۔۔وہ پہلے ہی جانتی تھی کہ دادی وجدان کو معاف کرنے کی کیا شرط رکھیں گی۔

وہ خوش تھی۔۔۔۔وجدان اسے بچپن سے پسند تھا۔۔۔اور یہ بات اس نے دادی کے دماغ میں سالوں سے ڈال رکھی تھی۔

اور اب یہ بات دادی کے دماغ میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی اس لیے وہ خوش تھی۔

اس بارے میں بھی بات کریں گے۔۔۔وہ سنجیدگی سے بولا۔

دادی اور صباء دونوں خوش ہوئے تھے کہ شاید وہ اس بارے میں بات کرے گا اور وہ راضی ہے ظاہر سی بات ہے سات سال بعد اپنے گھر لوٹ کر آیا ہے سالوں اپنی دادی سے معافی کی امید کی ہے اس نے۔

دونوں کو یقین تھا کہ وہ مان جائے گا.

وہ چلا گیا تھا دادی نے اوپر سے نیچے دکھتے وجدان کے کمرے کو دیکھا۔

سالوں یہ کمرہ بند رہا تھا اور اب۔۔۔۔۔

وہ ٹھٹکی تب جب اس کمرے سے چاہت کو باہر نکلتے دیکھا۔

“لڑکی!”

ان کی دھاڑ پر چاہت جو وجدان کو ڈھونڈنے باہر نکلی تھی تھم گئی۔

جی! اس نے آنکھیں میچی!

وہ وجدان کی بیوی تھی یہ کمرہ اسکا بھی تھا لیکن یوں سچائی کا سامنے آنا اسے پسند نہیں آیا تھا۔

وجدان نے کہا تھا وہ خود بتائے گا۔۔۔۔لیکن اب!

“یہاں آؤ!”

چاہت نے ہچکچاتے سر پر دوپٹہ اوڑھا۔۔۔وہ فریش ہو کر وہاں سے نکلی تھی۔

“کیا کر رہی تھی وہاں؟”

انہوں نے اسے اوپر سے لے کر نیچے تک گہری نظروں سے دیکھتے کہا۔

چاہت کا دل کیا کہ سب بتا دے۔۔۔۔

اممم۔۔۔وہ۔۔۔

“بے حیا لڑکی! تجھے شرم نہ آئی۔۔۔یہ کیا بیہودہ حرکت ہے۔۔۔۔”

“آپ غلط سمجھ رہی ہیں” وہ منمنائی۔

وجدان کے کمرے میں کیا کر رہی تھی تم؟ صباء اسے دیکھتے ہی ٹھٹک کر رُکی تھی۔۔۔

چہرے کی شادابی اس بات کی گواہ تھی کہ وجدان چوہدری کے ساتھ اس کا رشتہ ایک دوست کا تو ہرگز نہیں ہے۔

میں۔۔۔۔چاہت کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے۔

“دادی رات کو میں اس کے کمرے میں گئی تھی یہ پوچھنے کہ اسے کچھ چاہیے تو نہیں لیکن موجود نہیں تھی یہ وہاں۔

مجھے لگا باہر لان میں ہے یا پانی پینے باورچی خانے تک گئی ہے۔۔۔”

“اس سے پوچھیں یہ وجدان کے کمرے میں کیوں تھی کس حق سے تھی!”

صباء نے رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔

اس نے بات اپنے سے بنائی تھی۔۔۔وہ دادی کو طیش دِلا رہی تھی۔

چاہت کا وجود اسے کھٹک رہا تھا اب۔

وجدان کی زندگی میں یقیناً وہ خاص معنی رکھتی تھی اور یہی بات صباء کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔

“دادی پوچھیں اس سے؟”

“یہ وجدان پر کیوں نظر رکھے ہوئے ہے؟”

“صباء بس کر دیں۔۔۔۔آپ حد سے بڑھ رہی ہیں۔۔۔۔چاہت نے سرد لہجے میں کہا۔”

“وہ حد سے بڑھ رہی ہے یا تم بڑھ گئی ہو لڑکی۔۔۔”

“کس طرح کی پرورش ہے تمہاری۔۔۔۔کہ ایک غیر مرد کے کمرے سے۔۔۔۔۔”

بسسس۔۔!

“میرے والدین پر مت جائیں نہیں تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔”

دادی اسے تمیز نہیں ہے تو ہم کیوں اس کا لحاظ کریں” “ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری کر رہی ہے۔”

“تم نکلو یہاں سے!”

دادی نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھاما اور سیڑھیاں اترنے لگی۔

اسے گھسیٹتے۔۔۔۔اس عمر میں بھی وہ اچھی صحت کی مالک تھی۔

صباء کے ہونٹوں پر تمسخر بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔

“منہ کالا کروایا ہے تو نے اپنے ماں باپ کا۔۔۔۔”

تجھ جیسی بیٹیاں ہونی ہی نہیں چاہیے۔۔۔دادی نے آخری جملے بولے۔

اور اس کی برداشت بس یہی تک تھی۔

“خاموش۔۔۔۔۔کیا جاننا چاہتے ہیں آپ لوگ۔۔۔وہ وہیں سیڑھیوں پر رُک گئی۔”

“وجدان شوہر ہیں میرے۔۔۔نکاح ہوا ہے ہمارا۔۔۔میں بہت دیر سے یہ سب برداشت کر رہی تھی آپ کو بڑا سمجھ کر آپ کو عزت دے رہی تھی۔”

“کیونکہ یہ میری تربیت تھی لیکن کاش آپ نے اس۔۔۔۔۔اُس نے صباء کی طرف اشارہ کیا اس کو کچھ سکھایا ہوتا۔”

“ایک اچھی تربیت بھی آپ نہیں کر سکیں۔۔۔”

عورت ہو کر عورتوں کو یوں زلیل کرنے والے کبھی خوش نہیں رہتے اور۔۔۔۔

وہ کسی ڈرامے کی ہیروئن نہیں تھی ڈری ہوئی جو خود کے زلیل کیے جانے پر آنسو بہاتی اور خاموش رہتی۔۔۔بات اس کے ماں باپ کی تربیت اور اس کی عزت پر تھی۔

صباء نے آگے بڑھتے اسے دھکا دینا چاہا تھا لیکن چاہت نے خود کے بچاؤ کے لیے سامنے موجود دادی کا ہاتھ تھامنا چاہا تھا۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ دادی اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے گِر گئیں تھی۔

وجدان نے چاہت کے آخری کے ادا کیے الفاظ اور یہ حرکت دور سے دیکھی تھی۔

“دادایییی!”

وہ بھاگتا تیزی سے ان کے قریب آیا تھا۔

اس جاہل عورت نے دادی کو دھکا دیا ہے۔۔۔صباء چِلائی تھی۔

ایک آخری کیل ٹھونکی تھی اور کام تمام۔

چاہتتت۔۔۔۔۔! وجدان نے دھاڑتے کہا تو وہ وہیں تھم گئی۔

“ڈاکٹر کو فون کرو۔۔۔۔”اس نے دادی کو اٹھا کر صوفے پر لٹایا۔۔ جن کے سر سے خون نکل رہا تھا

“وجد۔۔۔۔”

“چپ۔۔۔ایک دم چپ۔۔۔”

“دادی صحیح کہہ رہی تھیں یہ تربیت ہے تمہاری۔۔۔ بزرگ کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے تمہارے ہاں؟۔۔۔”

“وہ مجھ پر تہمات لگا رہی تھیں۔۔۔”وہ روتی چیخ پڑی۔۔۔

اس شخص کو خود سے متفر دیکھتے وہ تڑپ گئی تھی۔

ہوتی دنیا آپ کے ساتھ ہو اور وہ ایک شخص جس پر اندھا اعتماد کرو کے وہ آپ کا ساتھ دے گا وہ چھوڑ دے نا ساتھ تو درد رگوں میں سما جاتا ہے۔

“تو کیا تم کسی کو جان سے مار دو گی؟”

چاہت خالد۔۔۔۔! وہ تھما۔۔

چاہت نے اپنا سانس روک لیا وہ ساتھ پڑے میز سے ریموٹ اٹھا کر سامنے دیوار پر مار گیا تھا۔

جب صباء نے اسے بتایا کہ وہ دادی سے کتنی بدتمیزی سے پیش آئی ہے۔

“نکلو!”

وجدان۔۔!

چاہت نے اسے دیکھا۔۔۔چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔

“نکلو یہاں سے۔۔۔۔”

“میری نظروں سے دور ہو جاؤ!”

“یہ نہ ہو کہ میں غصے میں اس رشتے کا بھی پاس نہ رکھو۔۔۔نکلو!” وہ دھاڑا۔

سارے ملازم کھڑے تھے۔

چاہت نے دیکھا۔۔۔ایک بار پھر وہ شخص اسے مجمعے میں رسوا کر گیا تھا۔

اس کی بات اس کی کوئی دلیل سنے بغیر اسے مجرم بنا گیا تھا۔

اسے وہ محبت کہتا تھا؟

نہیں!

یہ محبت ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔یہ صرف وقتی اٹریکشن تھی شاید وجدان چوہدری کی طرف سے۔

اس نے قدم آگے بڑھائے۔۔۔ملازم اسے ہمدردی سے دیکھ رہے تھے۔

لیکن اسے یہ نظریں خود پر مسکراتی اور قہقہ لگاتی لگیں۔

اسے لگا ایک بار پھر اسے بھرے مجمعے میں کھینچ کر کسی نے تھپڑ دے مارا ہو۔

میں ہی کیوں ہر بار؟ اس کے لب ہلے۔

“یہ رسوائی میرا مقدر ہی کیوں ٹھہرتی ہے؟”

“وجدان چوہدری تم پچھتاؤ گے۔۔۔۔پچھتاؤ گے تم یاد رکھنا۔۔۔”وہ دروازے کے پاس جاتی پیچھے مُڑتی چلائی۔

“کمرے میں جاؤ بعد میں بات ہو گی۔۔۔اور آواز آہستہ رکھو۔۔۔!” وجدان چوہدری نے دادی کے سر سے خون صاف کرتے کہا۔

چاہت مسکرائی۔۔۔تلخ مسکراہٹ۔

“تمہیں لگتا ہے تمہیں اب موقع دوں گی میں؟”

ہاہاہا۔۔۔۔خشک قہقہہ لگا گئی۔

وہ اپنی چادر اٹھاتی اس گھر کی دہلیز پار گئی۔۔۔۔ہمیشہ کے لیے۔

“تم ترسو گے وجدان چوہدری چاہت خالد کے لیے اور پتا ہے تمہاری یہ تڑپ بھی مجھے تمہارے پاس آنے پر مجبور نہیں کر پائے گی۔”

“کبھی کبھی محبت کہہ دینے کا نام نہیں ہے۔۔۔محبت تین لفظوں کا نام نہیں ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے کسی کو آئی لو یو کہنا بے مقصد ہے۔۔۔دنیا میں ہر لفظ معنی رکھتا ہے سوائے اس تین لفظوں کے۔۔کیونکہ محبت لفظوں کی قائل ہرگز نہیں ہے۔۔۔۔یہ صرف ہم سامنے والے کو خوش کرنے کے لیے بول دیتے ہیں کہ مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔نہیں تو محبت خود میں ہی ہزار پوشیدہ معنی رکھتی ہے جسے بہت کم لوگ سمجھتے ہیں۔۔۔محبت کو لوگوں نے اپنے حساب سے ایک دوسرے کی طرف جھکاؤ کا نام سمجھ لیا ہے۔۔۔۔کوئی پسند آجائے تو اسے محبت کا نام دے دیتے ہیں لوگ۔۔۔نہیں! محبت یہ کہ لوگ کہیں یہ شخص غلط ہے تم مسکرا کر ان کی ہر بات، ہر دلیل کو جھٹلا دو۔۔۔محبت عزت اور اعتبار کا نام ہے ۔۔۔صورتوں کی کشش کو محبت کا نام دینے والے عشق کی منازل کو طے کرنے کے خوابوں میں ہیں افسوس۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہاں پہنچتے ہی باہر نکلتے ایک تیز ہوا کے جھونکے نے اسے کانپنے پر مجبور کر دیا تھا۔

میر نے اس کے پاس آتے اپنی چادر اتارتے اسکے کاندھوں پر رکھی اور اپنا فون دیکھنے لگا۔

حیات کئی لمحے اسے دیکھتی رہی۔

وہ مرد الگ تھا سب سے! بنا کہے سب سمجھ جانے والا، بنا جتائے اس کا ہر کام کر دینے والا، بنا جتائے اس کے آگے جھک جانے والا۔

وہ پُراسرار شخصیت کا مالک تھا، اس کے اپنے اصول تھے جن پر وہ سمجھوتہ نہیں کرتا تھا لیکن جس کو وہ چُن لیتا تھا اسے آسمان سمجھ لیتا تھا۔

چلو! اس کا ہاتھ تھامتے اسے اندر لے گیا۔

“مجھے یہ جوتے نہیں پہننے چاہیے تھے۔۔۔”حیات نے سرگوشی کی لیکن میر سُن چکا تھا۔

“گھر میں شاید اپنا دماغ چلاتی تو احساس ہو جاتا تمہیں۔۔”۔اس کے پاس جھکتے سرد لہجے میں کہا گیا۔

کیونکہ اس وقت وہ کالی ہائی پینسل ہیل میں تھی۔۔۔یہ بھی اس نے کافی شوق سے لی تھی۔

اور یہاں وہ اپنے ساتھ لے آئی تھی اور آج پہلی بار پہننے کا موقع اس نے ہاتھ سے جانے نہ دیا تھا۔

لیکن شیشے جیسے فرش کو دیکھتے اس نے سرد آہ بھری وہ غلطی کر چکی تھی۔

“وہ وہاں بیٹھ جاؤ!

میں کچھ لوگوں سے مل لوں!” آج اس نے اپنے بالوں کو ہلکا سا باندھ لیا تھا۔

حیات خاموشی سے وہاں بیٹھ گئی جہاں اس نے کہا تھا۔۔۔

جوس کا گلاس لبوں سے لگاتی اس کی نگاہیں میر صاحب کے اوپر ٹکی تھیں۔

اس پوری دعوت میں سب سے منفرد دکھنے والا وہ مرد تھا وہ۔

یہی وجہ تھی کہ کافی صنفِ نازک کی نظروں کا مرکز وہی تھا۔

حیات نے اردگرد دیکھا ایسا ہی تھا۔۔۔کافیوں کی نظر اس پر تھی۔

زیادہ تر لڑکیاں ماڈرن لباس میں موجود تھیں لیکن ایک لڑکی وہاں سب سے الگ تھلگ اس کی طرح فراک پہنے اوپر حجاب کیے ہوئے تھے۔

اس نے اردگرد دیکھا۔۔۔ہاں وہ واحد عورت تھی جس کے بال ڈھکے ہوئے تھے۔

اسے یک دم اس میں کشش دکھی۔۔۔لیکن دعوت میں موجود کوئی ایسا شخص نہ تھا جو اس عورت کی طرف دیکھ رہا ہو۔

کیونکہ مرد مکھیوں پر بھنبھنا رہے تھے۔

اسے یک دم محسوس ہوا کہ وہ بھی ایسا کرتی۔۔۔

“تم اگلی بار کر سکتی ہو ایسا! یقین کرو تم اس میں بھی حسین لگو گی!” اپنے کان کے پاس سرگوشی سنتے وہ مڑی۔

ٹھیک ہے!

“میں اب واپس جاؤ گی تو خرید لاؤں گی یہ۔۔۔”اس نے اس کے حجاب کو پھر سے دیکھتے میر کو دیکھا۔

“میں منگوا دوں گا۔۔۔اور واپس تم نہیں جاؤ گی۔”

وہ اپنی مرضی کے مطابق سنجیدگی اختیار کر لیتا تھا۔

ٹھیک ہے!

“لیکن ہر رنگ میں مجھے چاہیے۔”

“مل جائیں گے تمہیں کل!” میر کہتے پھر سے سامنے کسی کو ملنے چلا گیا۔

حیات نے گلاس کو دیکھا جو اس نے پیا تھا وہ جوس تھا۔۔۔

لیکن اس نے سامنے سب لوگوں کے ہاتھوں میں عجیب رنگ کے مشروبات دیکھے تھے۔

“بھائی۔۔۔یہ ان گلاسوں میں کیا ہے؟”

“الکوحل!”

اس کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔پھر اس نے وہاں موجود ایک بھی چیز کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔

وہ بولڈ رہی تھی ایک زمانے میں لیکن ان سب کو کبھی ہاتھ نہ لگایا تھا اس نے۔

اس نے اس عورت کو دیکھا جو مسکرائی تھی اس کی توجہ خود پر دیکھ کر۔

حیات کو اپنے ٹاپس یاد آئے جو کبھی اس کی قمر تک کو ڈھانپنے میں ناکام رہتے تھے۔

افففف۔۔!

شرمندگی سے اس کا چہرہ جُھک گیا۔

لیکن اب اسے دھیان سے چلنا تھا۔۔۔اسے ڈھانپنا تھا خود کو۔۔۔کسے کے لیے نہیں صرف رب کی رضا کے لیے۔

میر کو دیکھا جو کسی بات پر ہلکا سا مسکرایا تھا۔

اس نے آنکھیں چھوٹی کی۔۔۔سامنے موجود لڑکیاں شوخی سے ہنسی تھیں میر کو دیکھ کر۔

اس کے گال یک دم سرخ ہوئے۔

“بدتمیز لڑکیاں۔۔۔”

دیکھو کوئی شرم حیا ہی نہیں ہے ایک آدمی کو گھورتی سالم نگل جائیں یہ لوگ ان کا بس چلے تو۔۔۔

میر نے اسے کو دیکھتے آئیبرو اچکائی تو اس نے سر نہ میں ہلایا۔

جیسے جیسے لوگ بڑھ رہے تھے میر صاحب پر نظروں کا ارتکاز بھی بڑھتا جا رہا تھا۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھی۔۔۔پاؤں مُرتے مُرتے بچا تھا۔۔۔

میر کو دیکھا جو سامنے دو تین آدمیوں کے پاس کھڑا تھا ان میں سے ایک کی بیوی بھی ساتھ تھی شاید۔

اس نے گہرا سانس بھرا۔

پھر اس کے قریب آئی تو میر نے اسے دیکھتے بات روک کر آئبرو اچکائی۔

“اممم۔۔۔۔”

وہ کنفیوژ ہوئی تھی شاید زندگی میں پہلی بار۔۔۔میر صاحب کے ساتھ رہتے اس کے ساتھ روز کچھ نیا ہی ہوتا تھا۔

یہ اس نے کچھ سوچتے جھٹ سے اپنے کان دِکھائے اسے جو ہلکے سے سرخ تھے۔

میر نے پہلے تو اسے گھورا۔۔۔

پھر اس کے دائیں کان سے جھمکا اتارا۔۔۔لوگوں نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا پھر بائیں کان کا جھمکا اتارتے اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیا۔

اس کے کانوں کو اپنی پوروں سے سہلاتے وہ اسے مسلسل گھور ہی رہا تھا۔

“شاید میں نے آپ کو گھر میں وارن کیا تھا حیات میر!” اس نے سنجیدگی سے کہا۔

دعوت میں یوں لگتا تھا جیسے خاموشی چھا گئی ہو۔

وہ کتنے ہی لوگوں کی نظروں کا مرکز بننے پر حد درجہ کنفیوژ ہوئی۔

“ہم کب جائیں گے واپس؟” اس نے جلدی سے پوچھا۔

کچھ دیر میں! میر نے اسے ساتھ لگاتے سب کو مسکراتے دیکھا۔۔

“مائی وائف حیات حاد ابراہیم!” اس نے تعارف کرواتے سب کو دیکھا۔

لڑکیوں کے چہرے یک دم پیکے پڑتے دیکھے تھے اس نے۔۔۔۔

“لیکن نہیں کچھ تھا!”

“میر حاد ابراہیم!”

ہاں یہی سنا تھا اس نے۔۔۔۔

“مبارک ہو حاد صاحب!” سب اسے مبارکباد دے رہے تھے اور وہ وہیں گُم سم سی کھڑی تھی۔

“ڈارک ویزردڈ، میر یا میر حاد ابراہیم؟ حقیقت کیا تھی؟”

اس نے اس کے حصار سے نکلنا چاہا تو میر نے اس کے کندھوں پر گرفت سخت کرتے اسے باز رہنے کے لیے آنکھوں سے تنبیہ دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آحل نے صبح اٹھتے ہی اپنے اردگرد دیکھا کوئی نہیں تھا۔

الہام شاید شام کو اس کے سوتے ہی جا چکی تھی۔۔۔لیکن باہر سے آوازیں سنتے وہ باہر نکلا تھا۔

“کیا ہو رہا ہے؟”

وہ اپنے آپ کو سنبھال چکا تھا۔

“آج ناشتہ میں بنا رہی ہوں!” الہام نے اپنے چہرے کو صاف کرتے کہا جہاں ہاتھوں کا آٹا اب چہرے کی زینت بن گیا تھا۔

آحل نے پاس آتے دیکھنا چاہا کہ وہ کیا بنا رہی ہے جہاں وہ آٹا گوندھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ناکام کوشش۔۔۔

کیونکہ اس آٹے سے جھنڈیاں دیوار پر لگائی جا سکتی تھیں لیکن اس کی روٹی تو ہرگز نہیں بن سکتی تھی۔

ایک مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا۔

“کیا ہوا؟”

“یہ اس کا کیا کریں گی آپ؟”

پراٹھا بنا کے دوں گی آپ کو! اس نے ماتھے سے پھر سے بال پیچھے کیے جہاں مزید آٹا لگ گیا تھا۔

الہامم۔۔! آحل نے اس کے ہاتھ تھامتے اسے روکا۔

کیا ہوا؟

“مجھے دو میں کرتا ہوں!” آحل نے اس سے آٹا لیتے اس کے سامنے گوندنا شروع کیا۔

الہام نے حیرت سے اسے دیکھتے منہ کھولا۔

“منہ بند کریں!”

الہام نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“سیکھ جائیں اب! میں زیادہ دیر کھانا نہیں بناؤں گا!” آحل نے اسے دیکھتے کہا تو وہ خفیف سی ہوئی۔

“کیوں آپ بھی تو میرے لیے بنا سکتے ہیں اگر میں بنا سکتی ہوں!” وہ فوراً لڑنے لگی تھی اس سے۔

“ہاں بنا سکتا ہوں لیکن کبھی کبھی! ویسے آپ ہی بنائیں گی۔۔۔”آحل نے اس کے ناک پر آٹا لگاتے کہا۔

پھر اس کے سامنے پراٹھا رکھتے اپنی چائے بنائی۔۔۔۔

اپنا فون چیک کیا جہاں سناٹہ چھایا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے؟”

کیا؟ الہام نے تھوک نگلا۔

“میں واپس اس پیشے کو اختیار نہیں کروں گا!” وہ سنجیدہ تھا۔

کیوں؟

“بس انہوں نے مجھ پر جان بوجھ کر تہمت لگائی ہے۔۔۔۔اس جگہ میں کبھی کام نہیں کرنا چاہوں گا۔”

ٹھیک ہے!

“لیکن یہ مسئلہ آپ سلجھا کر نکلیں وہاں سے۔۔۔”الہام نے کیا۔

“تم نے یہ سب کیسے کیا؟”

الہام نے گہری سانس بھر کر ہاتھ بھینچے! وہ اس بات سے کب سے بچ رہی تھی۔

“کیا کریں گے آپ جان کر؟”

“الہام آپ کو لگتا ہے مجھے پتا نہیں ہے۔۔۔وہ لوگ اپنی رقم کے لیے میرے دروازے تک آجاتے۔۔۔۔اور اب سناٹہ یوں چھایا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔”

“بابا نے دے دی ہے ان کو رقم جتنا نقصان ہوا تھا ان کا۔”

آحل کئی لمحے اسے دیکھتا ہی رہا۔۔۔کہ کاش وہ کہہ دے کہ یہ جھوٹ ہے۔

الہام۔۔۔۔

“میں معافی چاہتی ہوں آحل؟ لیکن میں آپ کو ایسے نہیں دیکھ سکتی تھی۔”

آحل نے اپنا ناشتہ چھوڑ دیا۔

“آپ یہ سب کیوں کرتی ہے الہام؟”

“میرے زور بازو میں اتنا دم ہے میں خود کر سکتا ہوں۔۔ان کو رقم دینے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے سچ میں ان کا شوٹ کسی اور کو بیچا ہے۔

ان کے لگائے الزامات درست ہیں” وہ بے بس ہوا۔

“میں نے یہ آپ کے لیے کیا آحل؟”

“الہام آپ کب سمجھیں گی کہ آپ کا یہ سب کرنا مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔مجھے تزلیل لگتی ہے اپنی۔۔۔

میں جانتا ہوں آپ کی نیت بری نہیں تھی لیکن ایسا کر کے آپ ناچاہتے ہوئے بھی مجھے برا محسوس کرواتی ہیں۔”

“میں چاہتا ہوں آپ اپنے گھر چلی جائیں۔”

“آحل۔۔۔؟”

“میں یہی چاہتا ہوں۔۔۔جس دن مجھے لگا کہ میں آپ کی آسائشوں سے بھری زندگی آپ کو دے سکتا ہوں اس دن رخصتی ہو گی آپ کی۔”

“مت بھولیں آپ مجھے یہاں لائے تھے۔”

“ہاں! لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سب ہو گا۔

آپ چاہتے ہیں میں چلی جاؤں؟” اس نے بھرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

“ہاں۔۔۔۔ابھی ہم دونوں کہ لیے یہی صحیح ہے۔۔۔۔آپ کے بابا کے پیسے جلد پہنچ جائیں گے۔”

الہام نے ایک آخری بار اسے دیکھا تھا اور پھر باہر نکل گئی۔

“شاید وہ صحیح کہہ رہا تھا وقت کا تقاضا یہی تھا۔”