You're All Mine by Suneha Rauf NovelR50405 You're All Mine Episode 12
Rate this Novel
You're All Mine Episode 12
You’re All Mine by Suneha Rauf
چاہت خالد بہت دل سے تیار ہوئی تھی یہ اس کی زندگی کا بڑا دن ہونے والا تھا۔
کالا پاؤں کو چھوتا ریشمی فراک جس کے گلے پر نفیس موتیوں کا کام ہوا تھا اوپر ہم رنگ ہجاب لیتے اس نے ہلکا سا میک اپ کیا تھا۔
“کیا مجھے سچ میں انہیں بتانا چاہئے؟” اس نے خود سے سوال کیا۔
ہاں میں بتانا چاہتی ہوں میرا حق ہے خوشیوں پر اور میں نے محسوس کی ہے ان کی پسندیدگی خود کے لیے۔
وہ وہاں پہنچ گئی تھی لیکن سب کو دیکھتی گھبرا رہی تھی آنکھیں اس شخص کی متلاشی تھی جس کا کچھ اتا پتا نہ تھا۔
وہ سامنے اسد کو دیکھتی قدم قدم اٹھاتی اس کے پاس چلی گئی۔
“حسین!” اسد نے ہونٹوں کو گول کرتے اووو کے انداز میں اس کی تعریف کی تو وہ جھینپ گئی۔
آپ بھی اچھے لگ رہے ہیں! اس نے مسکراتے شائستگی سے کہا۔
بہت شکریہ لڑکی!
“امممم! سر وجدان آئے ہیں؟”
ہاں آیا تو ہے یہیں کہیں ہو گا! تیار ہو پریزنٹیشن کے لیے؟
“مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔”
کچھ نہیں ہوتا ایک بار کرو گی تو ڈر نکل جائے گا او جان لو کہ کوئی کتنی بھی تیاری کیوں نہ کر لے تمہاری خوشبو کو صرف تم ہی اچھے طریقے سے بیان کر سکتی ہو۔
وجدان چوہدری کو سامنے سے آتے دیکھ اس کے دل نے اسے دغا دیتے تیزی سے دھڑکنا شروع کیا تھا۔
مِس چاہت! سب آ چکے ہیں آپ پریزنٹیشن دیں وجدان چوہدری نے آتے ساتھ اسے کہا۔
اس نے گہری سانس بھری اور اسٹیج پر چڑھ گئی اس کو دیکھتے ہی لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں۔
اس کے حجاب کو کچھ لوگوں نے پسند کیا تھا تو کچھ حقارت سے دیکھ رہے تھے۔
“اسلام علیکم!” مائی سیلف چاہت خالد۔
اور پھر اسنے بولنا شروع کیا اپنی خوشبو کے ایک ایک اجزاء کو اچھے سے بیان کیا تھا اس نے۔۔۔۔اس کے بیان کرتے ہی ٹیسٹر پوری دعوت میں بانٹے گئے۔
اب لوگوں کی نظر میں اس کے لیے تعریف تھی۔۔۔۔سب حیران تھے کیونکہ وہ پرفیوم واقع ہی سحر انگیز تھی۔
“میں نے کہا تھا نا تم کر لو گی!” اس کے آتے ہی اسد نے کہا تو وہ کھلکھلائی۔
جاؤ اب تمہیں وجدان کے ساتھ رہنا ہے پارٹی کے اختتام تک۔
“کیوں؟”
“کیوں کیا؟ لوگ تم سے ملنا چاہیں گے مزید معلومات لینا چاہیں گے جاؤ وہ سامنے ہے وجدان۔”
وہ قدم قدم اٹھاتی اس کی طرف گئی اور اس کے ساتھ جا کر کھڑی ہوئی۔
وہ بھی کالے ٹکسیڈو میں اس ماحول پر چھایا ہوا تھا۔۔۔۔لڑکیاں اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔
“امممم وجدان!”
وجدان نے اس کی طرف دیکھا جس کا چہرہ گلابی تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟” اچانک سے اس نے پوچھا۔
“کیا ہم فارغ ہو گئے ہیں؟ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے؟”
“ٹھیک ہے آجاؤ” وہ اسے سائیڈ پر لے گیا اسے لگا شاید وہ پرفیوم کو لے کر کچھ کہنا چاہتی ہے۔
“نائس فریگرینس!” پاس سے گزرتی عورت نے اس سے کہا تو وہ مسکرائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمہیں سپین جانا ہو گا!” اسپیکر سے آواز گونجی اس نے حیات کے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے وہ اندر گئی تھی۔
کب؟
“میں تمہیں بتا دوں گا۔۔۔۔۔کیونکہ اگلے مہینے ان کی آمد وہاں متوقع ہے۔”
ٹھیک ہے!
تم جاؤ گے؟ مخالف نے استسفار کیا۔
“بالکل!” اس نے تیزی سے کہا۔۔۔۔اُس مقصد جس کے پیچھے اس نے سال لگائے تھے کیسے نا جاتا۔
تمہیں پوری تیاری کرنی ہو گی۔۔۔۔۔
مجھے ان کا کوئی بندہ چاہیے جو ان کی لوکیشن جانتا ہو۔۔۔۔
یہ کام ہم کر چکے ہیں اور جب تم باہر تھے اسے وہاں پہنچا دیا گیا ہے جہاں اسے ہونا چاہیے۔
“ٹھیک ہے!”
حیات؟ مخالف نے کچھ پوچھنا چاہا۔۔۔لیکن ڈرتے خاموش ہوا کیونکہ حیات غازیان کا وجود ڈارک ویزردڈ کسی سے ڈسکس کرنا پسند نہ کرتا تھا۔
“میں دیکھ لوں گا کیا کرنا ہے! لیکن اس شخص کو کہیں اور نہیں رکھ سکتے تھے؟”
مخالف حیران ہوا۔۔۔۔تو کیا یہ تبدیلی حیات غازیان کی وجہ سے تھی کیونکہ اس سے پہلے ڈارک ویزرڈ اپنے ہر حریف سے اسی سرد کمرے کی در و دیوار میں ہی ملتا تھا۔
“کیا اسے کہیں اور شفٹ کر دیں؟” مخالف نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔
ضرورت نہیں! ڈارک ویزرڈ نے کہتے کال کاٹ دی اور اندر کی طرف بڑھا۔
حیات بارش کا موسم دیکھتے چھت کی طرف چلی گئی۔۔۔اسے بارش میں نہانا بے حد پسند تھا۔
بارش ہوتے ہی وہ یہاں وہاں چلتی بارش کے قطروں کو خود پر گرتا محسوس کرنے لگی۔
وہ نیچے سے اس کو اوپر دیکھتا وہاں پہنچا جو کھلکھلاتے وہاں کھڑے پانی میں پاؤں مار رہی تھی۔
“حیات؟”
ہمم۔۔۔۔ وہ چونکی۔
“دوپٹہ کہاں ہے تمہارا؟” اس کے چند ایک کپڑے اسی نے یہاں منگوائے تھے پہلے سے۔
“وہ کمرے میں ہو گا۔”
“چلو پہنچو کمرے میں تم بھی” وہ سرد لہجے میں بولا۔
“لیکن کیوں؟ ابھی مجھے اور بھیگنا ہے۔۔۔”اس نے گردن پر چپکے بالوں کو پیچھے کرتے کہا۔
ڈارک ویزرڈ نے اپنے کندھے پر موجود شال کو اتارا اور آگے بڑھتے اس کے اوپر دی تو اس نے منہ بسوڑا۔
مجھے ابھی۔۔۔۔
“ٹھیک ہے لیکن مزید دس منٹ اس کے بعد اگر تم نیچے نہ آئی تو تمہیں سزا ملے گی” وہ کہتا اس پر گہری نگاہ ڈالتا چلا گیا۔
اسے حیات کے آنے سے پہلے اُس شخص کو اس کے اصل تک پہنچانا تھا۔
وہ سیڑھیاں اترتا بیسمنٹ میں گیا اور اس شخص کے سامنے بیٹھا۔
“پہلی بات میں تمہیں اچھے سے سمجھا دوں کہ تمہاری آواز یہاں سے باہر نہیں جانی چاہیے دوسری یہ کہ میرے سوالوں کا پہلی ہی بار میں جواب ملنا چاہیے نہیں تو تمہاری آواز ہمیشہ کے لیے تمہارا ساتھ چھوڑ دے گی اور تیسرا زبان تیزی سے چلانا” وہ سامنے موجود رسیوں سے جکڑے شخص کے منہ سے ٹیپ ہٹاتا دھاڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان اعجاز اسی روز روانہ ہوا تھا اس لڑکے سے ملنے جس کا نام اس کی بیٹی عنودگی تک میں لے رہی تھی۔
آحل کو دیکھتے اس نے اشارے سے پاس آنے کو کہا تو آحل نے آنکھیں بند کر کے کھولیں اور گہرا سانس بھرا۔
“اسلام علیکم!”
“وعلیکم السلام!”
سر کیسے ہیں آپ؟ اسے بولتے نہ دیکھ آحل نے آغاز کیا۔
“الہام کو کیا کہا ہے تم نے؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس کے نزدیک جانے کی۔”
آپ میری بات!
“مجھے کوئی بات نہیں سُننی تمہارے باپ نے تمہیں رکھنے کی یہاں التجا نہ کی ہوتی تو تمہیں ایک منٹ یہاں برداشت نہ کرتا۔”
الہام میری بیٹی ہے اور ابھی اس کی عمر نہیں ہے ان سب کی اس سے دور رہو۔
“سر مجھے بولنے کا موقع۔۔۔۔۔”
نہیں! اسے خود سے جتنا دور رکھو گے یہ تمہارے اور اس کے حق میں بہتر ہے۔
“تمہارا اور اس کا کوئی میل نہیں آج پہلی بار آیا ہوں اس لیے پیار سے سمجھا رہا ہوں اگلی بار ایسے نہیں سمجھاؤں گا بلکہ ایسی نوبت ہی نہیں آنی چاہیے” وہ کہتا اٹھا اور نکل گیا۔
پیچھے آحل فیاض نے میز پر موجود ساری چیزوں کو ہاتھ سے گرا دیا تھا۔
“یہ سب مشکل ہے الہام غازیان لیکن میں کروں گا۔۔۔۔۔تمہارے باپ نے بولا ہے ہمارا کوئی میل نہیں۔”
پیسے سے تولا انہوں نے ہمارے رشتے کو! پیسہ ہی ہے نا جو لوگوں کو ٹِکنے نہیں دیتا، دولت ہی ہے نا معیار، اسی سے کرتے ہیں نا لوگ جَج۔۔۔۔تو ٹھیک ہے مجھے بھی یہی کمانا ہے۔
اس نے فون اٹھایا اور اس کارڈ کو ڈھونڈتے وہاں سے نمبر ملایا۔
“مجھے وہ آفر قبول ہے لیکن میری کچھ شرائط ہیں۔”
ٹھیک ہے اس نے کہتے فون کاٹ دیا۔
اپنا مستقبل بنانا تھا اسے۔۔۔۔۔الہام غازیان کے والد کو بتانا تھا کہ وہ کم نہیں ہے لیکن تب تک اسے کیا کرنا تھا وہ جانتا تھا۔
“اگر امتحان میرا ہے تو الہام غازیان آپ کا کیوں نہیں” وہ کہتا افسردگی سے مکسرا دیا۔
غازیان!
ہممم! رابیل کا ہاتھ تھامتے اس نے سرد آہ بھری۔
“آپ اپنی بیٹی کو خود سے دور کر رہے ہیں۔”
“تو تمہیں لگتا ہے یہ سب ٹھیک ہے؟”
میں یہ نہیں کہہ رہی۔۔۔وہ بچی ہے اسے سمجھانا ہمارا فرض ہے اور آحل کو میں جانتی ہوں وہ اچھا نسان۔۔۔۔
لیکن غازیان کی سرد نگاہوں کو دیکھتی وہ خاموش ہوئی۔
“اس سے بات ہو گئی ہے میری۔۔۔میں نے وارن کیا ہے اسے۔۔۔۔بس یہ امتحان دے لے الہام پھر ہم اسے حیات کے پاس بھیج دیں گے یا سب خود یہاں سے چلے جائیں گے۔”
رابیل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔اتنا انتہائی قدم۔۔۔
آپ غلط کر رہے ہیں غازیان۔۔۔! وہ ناراضگی سے کہتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بولو!”
“مجھے سمجھ نہیں آرہی میں اپنے جذبات کو لفظوں میں کیسے پیش کروں وہ انگلیاں چٹکانے لگی۔
چاہت جلدی کرو! لوگ ہم سے ملنا چاہتے ہیں۔”
“احساسات پر کسی کا زور نہیں چلتا میرا بھی نہیں چلا، مجھے معلوم ہی نہیں ہوا کب میرے احساسات اور جذبات آپ کے لیے بدلنے لگے، ایسا میرے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہوا شاید اس چیز کی اجازت میں نے کبھی خود کو دی ہی نہیں تھی لیکن آپ کے لیے میرا دل، میرا دماغ مجھے دھوکہ دے گیا۔۔۔”
وہ سانس لینے کے لیے رُکی۔۔۔آنکھیں جھکی ہوئی تھیں اسی لیے وجدان چوہدری کے ماتھے پر پڑتی سلوٹیں نا دیکھ پائی۔
“اسے میں ناجانے محبت کا نام دوں یا نہیں، میں ہمیشہ بہت شفاف رہنے کو ترجیح دیتی ہوں ایک اصول پسند زندگی گزارتی آئی ہوں اس لیے بات کو طویل نہ کرتے ہوئے۔۔۔۔۔”
“مجھے “محبت” ہے آپ سے وجدان!” لمحے کے بعد آنکھیں بند کرتے کہہ ڈالا۔
زید جو قریب سے گزر رہا تھا چاہت خالد کی آخری بات سُن چکا تھا اور وجدان چوہدری کو طنزیہ مسکراہٹ دیتا چلا گیا۔
وجدان چوہدری سے وہ تمسخر اڑاتی نظریں برداشت نہیں ہوئی تھیں اسے کہاں عادت تھی خود کا یوں مزاق بنتے دیکھنے کی۔
“تمہارا دماغ درست ہے؟” آواز قدرے اونچی تھی۔
چاہت خالد کا خوبصورت فیری ٹیل کا تسلسل کسی عمارت کی طرح زمین بوس ہوا۔
“تم باقیوں کی طرح ایک عام امپلوئے ہو میرے لیے، اور ہزاروں لڑکیاں محبت کے دم بھرتی ہیں مجھ سے، کیا تم لڑکیوں میں تھوڑی بھی عزتِ نفس نہیں بچی کہ تم لوگ خود ہی محبت کا اظہار کرنے آ جاتی ہو۔”
وجدان چوہدری کو وہ لڑکیاں بے حد بری لگتی تھیں جو منہ اٹھا کر لڑکوں سے اظہارِ محبت کر ڈالتی تھیں۔
یہ نظریہ بالکل غلط تھا لیکن اس کا تھا۔
میں۔۔! چاہت خالد کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔
مجھے لگا آپ۔۔۔!
“تمہیں لگا مجھے بھی تم سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔۔صرف چند بار۔۔۔۔محض کچھ بار میں نے اچھے سے بات کی تو تمہیں لگا کہ مجھے بھی تم سے محبت ہے۔”
اب لوگ متوجہ ہونے لگے تھے۔۔۔۔چاہت نے نم آنکھوں کو اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
زید ان کے نزدیک آیا اور اس لڑکی کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھا۔
“تم جیسی ہر روز ہمیں اس فیلڈ میں ملتی ہیں تم خاص نہیں ہو لڑکی! لیکن ایسے سر پھاڑ منہ جھاڑ آ کر اپنے باس سے اظہارِ محبت کرتے وقت تمہیں شرم نہ آئی اپنی اور اس کی کلاس دیکھو۔۔۔۔۔۔وجدان چوہدری آسمان ہے اور تم۔۔۔۔”
“بس!”
میں نے مان لیا۔۔۔میں نے مان لیا کہ میں کچھ نہیں!” ایک آخری آنسو اس کی آنکھ سے ٹوٹ کر گِرا۔
اسے لگا وجدان چوہدری اس شخص کو چپ کروائے گا لیکن نہیں شاید اس شخص نے وجدان چوہدری کے خیالات کو زبان دی تھی اسے لیے وہ خاموش تھا۔
“چاہت چلو!” اسد نے آتے اس کا بازو تھاما اسے لے جانے کے لیے۔
نہیں! اس کی آواز رندھی۔
“وجدان چوہدری جس دن آپ ان جذبات سے آشنا ہو گئے اس دن آپ کو احساس ہو گا۔۔۔مجھے میری تربیت کسی کو بددعا دینے کی اجازت نہیں دیتی لیکن میں چاہوں گی کہ بھرے مجمعے میں آپ کو آپ کی محبت بھی یوں ہی رسوا کرے!” وہ کہتی اپنا گال رگڑنے لگی۔
وجدان چوہدری نے اسے دیکھا اور اس مجمعے کو جو خاموش تماشائی تھا۔۔۔اسے احساس نہ ہوا کہ وہ کیا کر چکا ہے۔
وہ جا چکی تھی لیکن پیچھے صرف لوگوں کے قہقہے اور طنز رہ گئے تھے۔
“چاہت تم ٹھیک ہو؟”
“میری بات سنو یہ اس کا حق ہے اگر وہ تم سے محبت نہیں کرتا تو منع کر سکتا ہے۔”
چاہت کے ہونٹوں پر زخمی مسکراہٹ چھا گئی۔
“اگر ان کو حق ہے مجھے دھتکارنے کا تو مجھے بھی حق ہے اپنے جذبات کو لفظ دینے کا انہوں نے کہا کہ ہم جیسی لڑکیوں میں شرم و حیا نہیں ہوتی۔۔۔۔کیا یہ معاشرہ صرف لڑکوں کو حق دیتا ہے اظہارِ محبت کا؟”
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے چلیں میں نے یہ بھی مان لیا” وہ ہاتھ اٹھاتی اونچی آواز میں بولی۔
انہوں نے یہ جان بوجھ کر کیا۔
“وہ چاہتے تو مجھے منع کر دیتے میں پیچھے ہٹ جاتی لیکن انہوں نے اپنی آواز اپنے ہتک آمیز لہجے سے اس مجمعے کو متوجہ کیا مجھے رسوا کرنے کے لیے، مجھے دھتکارنے کے لیے تاکہ لوگ سُن سکیں کہ چاہت خالد ایک عام لڑکی کس قسم کی لڑکی ہے جو اپنے بوس سے اظہارِ محبت کر رہی ہے۔”
چاہت! اسد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے اسے پُرسکون کرنا چاہا۔
“میں ٹھیک ہوں ٹھیک ہوں میں۔۔۔”
وہ خود کو باور کروا رہی تھی سارے آنسو پی لیے تھے جو قطرہ قطرہ اس کے دل پر گر رہے تھے اب۔
تم انمول ہو یاد رکھو۔۔۔اپنی قیمت مت کھونا۔۔۔تم لوگوں کے لیے بیشک بدل جاؤ لیکن میرے لیے وہی معصوم چاہت خالد رہو گی۔
چاہت روتے ہوئے مسکرا دی۔۔۔۔زندگی میں اسد جیسے مخلص لوگوں کا ہونا بے حد ضروری ہے اور جو شخص آپ کے بُرے وقت میں ساتھ رہا ہمیشہ اس کے احسان مند رہو۔۔۔۔۔یہ بات چاہت خالد نے جان لی تھی۔
“میں چھوڑ دیتا ہوں!” اسد نے کہتے اسے بیٹھنے کا کہا اور پھر اسے گھر چھوڑ دیا۔
وجدان چوہدری سب سُن چکا تھا جو باہر گھر جانے کے لیے آیا تھا۔۔۔۔وہ بلینک تھا نہیں جانتا تھا وہ کیا کر چکا ہے۔
احساس ہونے پر شاید وہ اپنے قابو میں نہ رہتا۔
لیکن احساسات مجروح کرنے کی سزا اسے ضرور ملنی تھی کیونکہ چاہت خالد کے آنسو رائگاں نہیں جانے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کہاں ہیں وہ اس وقت؟”
مجھ۔۔۔مجھے۔۔۔نہیں معلوم۔۔۔
لیکن پاؤں پر پڑنے والے راڈ سے اس کی چیخ بلند ہوئی۔۔
“اگلی بار آواز آہستہ۔۔۔۔۔”ڈارک ویزرڈ پھنکارا۔
اس شخص نے سرد آنکھوں والے ڈارک ویزردڈ کو دیکھا جو ظلم کرتے تو رحم نہ کرتا تھا لیکن اب آواز نکلنے سے بھی منع کر رہا تھا۔
مجھے نہیں معلوم!
وہ شخص کانپتا بولا۔۔۔۔کانپنا بنتا بھی تھا کیونکہ اس فیلڈ میں ڈارک ویزرڈ کا نام سنتے اچھے اچھے کانپ جاتے تھے۔
سپین کب آئیں گے؟
وہ نہیں بولا تو ڈارک ویزرڈ کے چہرے پر سرد سی مسکراہٹ پھیل گئی پھر دروازے کے پاس جاتے سوئچ لگایا اور اس کی طرف مڑا۔
اس شخص کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑا۔۔۔کیونکہ وہ شخص شاید پاگل تھا جو کرنٹ کی تاریں اس کے پاؤں کے پاس جال جس پر وہ کھڑا تھا اس پر پھینک چکا تھا۔
نہیں! وہ چِلایا تو ڈارک ویزرڈ مسکرایا۔
“جگہ کا نام بتا۔۔!”
وہ شخص خاموش رہا تو ڈارک ویزردڈ نے اس کے پاؤں پر پانی پھینکا اور پہلا جھٹکا اسے لگا تو وہ شخص چلایا۔
آواز دور دور تک گئی تھی لیکن جنگل کے بیچ و بیچ اس گھر میں کوئی نہیں آ سکتا تھا۔
“جگہ کا نام بس! اور تیری رہائی!”
ڈارک ویزرڈ نے کہا لیکن وہ شخص جانتا تھا کہ رہائی اب صرف موت کی صورت ہی ملے گی اسے ڈارک ویزردڈ سے لیکن شاید بتانے پر اس ازیت سے بچ جاتا۔
وہ جو دس منٹ گزرنے پر نیچے آرہی تھی۔۔۔۔اس نے وہ چیخ سنی تھی۔۔۔۔وہ تیزی سے نیچے آتی یہاں وہاں دیکھنے لگی لیکن اسے سمجھ نہ آئی کہ آواز کہاں سے آئی ہے۔
ڈارک ویزرڈ اس شخص کے قریب آیا اور اپنے ہاتھ کو آزمایا اور اس کا ایک ہاتھ جو اس شخص کے منہ پر پڑا تھا اس شخص کے منہ سے خون فوارے کی مانند نکلا۔
“یہ سب کر کے تم لوگوں کو لگتا ہے بچ جاؤ گے؟” ڈارک ویزدڈ سرد لہجے میں دھاڑا۔
حیات نے وہ جگہ ڈھونڈنی چاہیے۔۔۔اتنا اندازہ اسے ہو گیا تھا آواز کسی دور سی جگہ سے آرہی ہے شاید کوئی بیسمنٹ اور وہ ٹھیک تھی سیڑھیوں کے نیچے ہی ایک دروازہ تھا۔
وہ چونکی اور وہ دروازہ کھولتی زینے اترنے لگی۔۔۔۔وہ ڈری بھی تھی لیکن وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ نیچے کیا ہے کیونکہ اس نے اس سے پہلے ڈارک ویزرڈ کو وہ دروازہ استعمال کرتے نہیں دیکھا تھا۔
“جگہ کا نام آخری بار پوچھ رہا ہوں”
ڈارک ویزردڈ چِلایا تو اس شخص نے تیزی سے سر ناں میں ہلایا۔
اور ڈارک ویزردڈ نے کرنٹ کا بٹن اون کیا تھا اب کی بار اس شخص کی چیخیں دل دہلا دینے والی تھیں۔
اور اس نے تیزی سے اس جگہ کا نام بولا کیونکہ وہ اتنا جان گیا تھا کہ ڈارک ویزرڈ اسے نام جانے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
ڈارک ویزردڈ نے بٹن بند کیا اور اس کے ہاتھ کھولتے اسے وہیں پڑے رہنے دیا اور نمبر ملاتے فون کان سے لگایا۔
اسے نکالو اور آگے تم جانتے ہو اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔
وہ مُڑا تو سامنے ہی وہ وجود تھا جسے وہ ہرگز یہاں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
وہ کھڑی سفید چہرے کے ساتھ کانپ رہی تھی۔۔۔۔انسانیت کا یہ روپ دیکھ کر۔
ڈارک ویزرڈ کی دماغ کی رگیں تنی۔۔۔۔اپنے اشتعال کو بمشکل قابو کیا۔
حیات غازیان نے اس کمرے کی در و دیوار کو دیکھا جو کالے رنگ سے رنگی تھی کوئی سامان نہ تھا لیکن خون کی بدبو صاف محسوس کی جا سکتی تھی اور اس شخص کو کرنٹ لگتے اور تڑپتے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
“چلو!” حیات کا بازو پکڑتے وہ انتہائی سرد لہجے میں بولا۔
حیات غازیان نے اپنا بازو اس سے چھڑوایا اور اوپر بھاگ گئی تو وہ بھی تیزی سے اس کے پیچھے آیا۔
ڈیمممممم اٹ۔۔۔۔۔دروازے کو ہاتھ مار کر بند کیا اور اس کے پیچھے گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم واپس جانا چاہتی ہو؟”
غازیان نے اس سے دو دن بات نہیں کی تھی اب اسے کمزوری کچھ کم تھی تو وہ اس کے پاس گیا۔
جی! اس نے سیدھے بیٹھتے اپنی کتاب چھوڑی۔
ٹھیک ہے! لیکن امتحان دیتے ہی تمہیں یہاں واپس آنا ہے۔
الہام بدلے میں کچھ نہ بولی تھی۔
“میری جان! بابا کی بات مانو گی نا!”
مجھے افسوس رہے گا کہ میرے بابا جو مجھے بولنے سے پہلے سمجھ جاتے تھے اس بار میرے دل کی بات سمجھ نہیں پا رہے وہ دل میں بولی ایسے بول کر اپنے باپ کو جو اس کا سب کچھ تھا ناراض نہیں کر سکتی تھی۔
“یہ سب ہم امتحان کے بعد دیکھیں گے” وہ بولی تو بس اتنا۔۔۔شاید ابھی کہنے کو دونوں کے پاس کچھ نہ تھا۔
اس بار جو وہ آئی تھی تو کوئی رونق نہ تھی گھر میں سوگوار سا ماحول چھاپا تھا۔
دونوں سے ملتے وہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھی اور چلی گئی اس بار ہر بار کی طرح اس نے نا جانے پر شور نہیں کیا تھا۔
وہ روئی نہ تھی کہ اسے اپنے بابا کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔
“تم نے دیکھا آج وہ میری لیے روئی نہیں!” غازیان اعجاز نے بھاری لہجے میں رابیل سے کہا۔
یہ ڈرائیور واپس آئے گا تو اس سے پوچھیے گا رابیل کہتی اندر چلی غازیان کئی لمحے وہی کھڑا رہا۔
میری بیٹی ہے وہ میری جان!
الہام نے وہاں پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اس کے گھر کی طرف بھاگی۔
“آحل!”
آحل!
“میں آ گئی ہوں” وہ چِلا رہی تھی۔۔
اسلام علیکم! آحل نے اپنے کمرے سے نکلتے عام سے انداز میں کہا۔
وعلیکم السلام! الہام نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا۔
“آرام کریں جا کر الہام! ابھی لمبے سفر سے آئی ہیں۔”
تم ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ! وہ بے یقینی سے بولی۔
“ایک عام باڈی گارڈ کو ایسے ہی پیش آنا چاہیے” وہ بولا تو لہجہ لڑکھڑایا تھا یہ سب مشکل تھا۔
آحل اس نے قریب آتے اس کا گریبان تھاما تھا۔
ایسا نہیں کریں پلیز! آنسو لڑھک کر گال پر بہہ گیا اور پھر آنسو چہرہ بھگونے لگے۔
میں اس آفر کو ہاں کر چکا ہوں! اپنا مستقبل بنانا ہے مجھے آپ کے امتحانات کا انتظار ہے بس!
الہام نے اسے صدمے سے دیکھا اس نے تو کہا تھا وہ نہیں جائے گا۔۔۔۔شاید۔
اس نے اس کے پیچھے موجود کبڈ کی طرف بڑھتے گلاس اور کپ نکالے اور پھینکنا شروع کیے۔
تم۔۔۔
“تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔”
“مجھے یوں نہیں نظرانداز کر سکتے۔۔۔”
“آحل فیاض ایسا نہیں ہے۔۔۔”
میں۔۔۔۔۔!!
وہ روتی چِلا رہی تھی۔۔۔آحل نے اسے روکا نہیں تھا یہ شاید ان دونوں کے اندر کی حالت تھی۔
اس نے ان بکھرے کانچ کے ٹکروں کو دیکھا۔۔۔۔
“الہام ہوش میں آؤ!” اس کے ہاتھ سے خون نکلتے دیکھ وہ چِلایا۔۔۔۔وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی۔
اس کی شدت وہ دیکھ چکا تھا۔۔۔اسے اندازہ نہیں تھا الہام غازیان محبت اور پسند میں اتنی شدت رکھتی ہے۔
“الہام!”
“تم۔۔۔۔تم اچھے نہیں ہو!” وہ روتی اسے دھکا دیتی بولی۔
آواز سنتے گارڈ بھاگا آیا تھا اور حالات دیکھتے اس نے غازیان کو صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔
الہام!
آحل نے اسے جھنجھوڑتے ہوش دلائی اور اسے قریب صوفے پر بٹھایا لیکن وہ ہاتھ چھرواتی وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں بند ہو گئی۔
آحل نے اپنے بکھرے گھر کو دیکھا۔۔۔۔شاید ان کے دلّوں کا بھی یہی حال تھا۔
کاش اس دنیا میں محبت ذاتوں اور اسٹیٹس کی تفریق کے بغیر قبول کر لی جاتی۔
غازیان اعجاز نے کچھ فیصلہ کیا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔کل نجانے کون سا طوفان آحل فیاض پر برسنے والا تھا جس کی تباہی کی لپیٹ میں سب سے پہلے آنے والا وجود الہام غازیان کا تھا۔
